37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفہم القرآن

Ayahs 37:40–47

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے مخلص بندے برے انجام سے محفوظ ہوں گے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

ان کے لیے جانا پہچانا رزق ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

ہر طرح کے پھل ہونگے

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

صوفوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب کے چشموں سے پیالے بھر بھر کر ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

شفاف شراب جو پینے والوں کے لیے لذت دار ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ انہیں اس سے چکر آئے گا اور نہ ہی ان کی عقل میں فتور پیدا ہوگا

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنت میں داخل ہونے والوں کا مقام اور احترام۔ قرآن مجیدنے اپنے دلنشین اسلوب کے تحت یہاں بھی دو قسم کے افراد اور ان کے انجام کا تقابل پیش کیا ہے۔ جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کے لیے اللہ کے مخلص بندوں کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے۔ مخلصین کے القاب سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنت میں وہی لوگ داخل ہو پائیں گے جن کے عقیدہ اور کردار میں شرک کی ملاوٹ نہ ہوگی اور نہ ہی وہ نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کے مرتکب ہوں گے بلکہ یہ لوگ انتہائی فرمانبردار اور آپ ﷺ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ ان کے لیے انواع و اقسام کا رزق ہوگا جو بڑے اہتمام اور تکریم کے ساتھ انہیں پیش کیا جائے گا۔ وہ نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے اور اس میں بہترین صوفوں پر ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہو کر شراب کے جام لوٹا رہے ہوں گے۔ یہ شراب رنگت کے اعتبار سے دودھ سے زیادہ سفید اور انتہائی لذت دار ہوگی اس میں نہ نشہ ہوگا اور نہ کسی قسم کی تلخی پائی جائے گی۔ جب جنت کے پھل جنتیوں کے سامنے پیش کیے جائیں گے تو وہ ایک دم پکاراٹھیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو ہمیں دنیا میں عطا کیے گئے تھے۔ شکل و صورت اور رنگت کے اعتبار سے جنت کے پھل اس لیے دنیا کے پھلوں کی مانند ہوں گے تاکہ جنتیوں کو پہچاننے میں کسی قسم کی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ جنتیوں کو دنیا کے پھلوں کے متشابہ پھل دیئے جائیں گے (البقرۃ : 25) یاد رہے کہ جنت میں مشروبات کی چار قسم کی نہریں ہوں گی۔ 1 صاف اور شفاف پانی نہ اس کا رنگ بدلے گا اور نہ اس میں بو ( SMELL) پیدا ہوگی۔ 2 دودھ جس کا ذائقہ کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔ 3 شہد اتنا شفاف اور روشن ہوگا جس میں پینے والے کو اپنا چہرہ نظر آئے گا۔ 4 شراب جس میں نشہ نہیں ہوگا۔ جنتیوں کے لیے ہر قسم کے میوہ جات ہوں گے اور ہمیشہ کے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہوگی۔ مسائل 1۔ جنت میں داخل ہونے والے لوگ عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے خالص اور نہایت مخلص ہوں گے۔ 2۔ جنتیوں کو بڑی تکریم کے ساتھ ان کی چاہت کے مطابق پھل اور میوہ جات پیش کیے جائیں گے۔ 3۔ جنتی صوفوں پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے شراب کے جام اڑا رہے ہوں گے۔ 4۔ جنت کی شراب میں کسی قسم کی تلخی اور نشہ نہیں پایاجائے گا۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور وہ ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرّعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30) 4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31) 6۔ ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس ہے۔ (الکہف : 107) 7۔ یقیناً متقین سایوں اور چشموں اور پسندیدہ میوہ جات میں رہیں گے۔ (المرسلات : 41۔ 42)
Ayahs 37:48–49

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کی ازواج مطہرات کا ذکر۔ دنیا میں شراب اور شباب کا لفظ جب استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں بےحیائی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی شریف آدمی اپنے لیے ان الفاظ کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن جنت میں شراب اور شباب اپنی کامل اور اکمل پاکیزگی کے ساتھ جنتیوں کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔ شراب کے بارے میں پچھلی آیت میں ذکر ہوا کہ اس میں کسی قسم کی غنودگی اور تلخی نہیں پائی جائے گی۔ جنت کی ازواج کا تعارف ان الفاظ میں کروایا جارہا ہے کہ وہ اس قدر پاکباز اور شرم و حیا کا پیکر ہوں گی کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی دوسرے جنتی کی طرف نگاہ اٹھانے کا تصور بھی نہ کر پائیں گی۔ ان کے حسن و جمال کا عالم یہ ہوگا کہ پُر جمال چہرے، بہترین نقش ونگار اور حیا سے بھری موٹی موٹی آنکھیں گویا کہ وہ چمکتے ہوئے محفوظ انڈے ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی ہاتھ نے چھوا ہوگا۔ خوبصورت چہرے اور حسن و جمال کے پیکر کو ہر زبان میں انڈے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اور انڈوں میں سب سے خوبصورت انڈہ شتر مرغ کا سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے بعض مفسرین نے جنتیوں کی ازواج مطہرات کو شترمرغ کے انڈوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اس کا یہ معنٰی نہیں کہ ان تشبیہات سے جنت کی عورتوں کے حسن کا تصور انسان کے احاطہ خیال میں سما سکتا ہے۔ یہ تشبیہ تو محض انسان کے تصور کو جلا بخشنے کے لیے دی گئی ہے ورنہ جنت کی بیویوں کا حسن دنیا کی عورتوں سے ہزاروں گنا بڑھ کر ہوگا۔ (وَلَوْ اَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ نِّسَآءِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ اطَّلَعَتْ اِلَی الْاَرْضِ لَاَضَآءَ تْ مَا بَیْنَھُمَا وَلَمَلَاَتْ مَا بَیْنَھُمَا رِیْحًا وَلَنَصِیْفُھَا یَعْنِی الْخِمَارَ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا) [ رواہ البخاری : باب صفۃ الجنۃ والنار ] ” اگر اہل جنت کی عورتوں سے کوئی زمین کی طرف جھانک لے تو مشرق و مغرب اور جو کچھ اس میں ہے روشن اور معطر ہوجائے۔ نیز اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے قیمتی ہے۔ “ (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اَوَّلَ زُمْرَۃٍ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ کَاَشَدِّ کَوْکَبٍ دُرِّیٍٍٍٍّ فِیْ السَّمَاءِ اِضَاءَ ۃً قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ لَا اخْتِلَافَ بَیْنَھُمْ وَلَا تَبَاغُضَ لِکُلِّ امْرِیئ مِّنْھُمْ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ یُرٰی مُخُّ سُوْ قِھِنَّ مِنْ وَّرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ مِنَ الْحُسْنِ یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا لَایَسْقَمُوْنَ وَلَا یَبُوْلُوْنَ وَلَا یَتَغَوَّطُوْنَ وَلَایَتْفُلُوْنَ وَلَا یَمْتَخِطُوْنَ اٰنِیَتُھُمُ الذَّھَبُ وَالْفِضَّۃُ وَاَمْشَاطُھُمُ الذَّھَبُ وَوُقُوْدُ مَجَامِرِھِمُ الْاُلُوَّۃُ وَرَشْحُھُمُ الْمِسْکُ عَلٰی خَلْقِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ عَلٰی صُوْرَۃِ اَبِیْھِمْ اٰدَمَ سِتُّوْنَ ذِرَاعًا فِیْ السَّمَاءِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَءِکَۃِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الأَرْضِ خَلِیفَۃً )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے۔ ان کے بعد داخل ہونے والے، آسمان پر بہت تیز چمکنے والے ستارے کی طرح ہوں گے۔ تمام جنتیوں کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان کے درمیان اختلاف ہوگا اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی۔ جن کے حسن کی وجہ سے ان کی پنڈ لیوں کا گودا ‘ ہڈی اور گوشت کے پیچھے دکھائی دے گا۔ اہل جنت صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے نہ وہ بیمار ہوں گے اور نہ ہی پیشاب کریں گے ‘ نہ رفع حا جت کریں گے اور نہ ہی تھوکیں گے اور نہ ہی ناک سے رطوبت بہائیں گے ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے۔ اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن عود ہندی ہوگا اور ان کا پسینہ کستوری کی طرح ہوگا۔ سب کا اخلاق ایک جیسا ہوگا نیز وہ سب شکل و صورت میں اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے آدم کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ “ تفسیر بالقرآن جنت کی بیویوں کے حسن و جمال کی ایک جھلک : ا۔ حوریں نوجوان، کنواریاں اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : 25 تا 38) 2۔ یا قوت و مرجان کی مانند ہوں گی۔ (الرّحمن : 58) 3۔ خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔ (الرّحمن : 70) 4۔ جنت کی حوریں خیموں میں چھپی ہوئی ہوں گی۔ (الرّحمن : 72) 5۔ شرم و حیا کی پیکر اور انہیں کسی نے چھوا نہیں ہوگا۔ (الرّحمن : 56) 6۔ جنت کی حوریں ایسی دیکھائی دیں گی جیسے چھپائے ہوئے موتی ہوں۔ (الواقعہ : 23) 7۔ جنتیوں کو خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں عطا کی جائیں گی۔ (الصّٰفٰت : 48، 49) 8۔ جنتیوں بیویاں ان کی ہم عمر ہوں گی۔ (صٓ: 52) 9۔ جنتیوں کے لیے پاک صاف بیویاں ہوں گی۔ (البقرۃ : 25)
Ayahs 37:50–61

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہے گا دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

جو مجھ سے کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی تصدیق کرتے ہو

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کہ جب ہم مرچکے ہوں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا وسزادی جائے گی

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

پوچھا جائے گا کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کہاں ہے

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

یہ کہہ کر جونہی وہ متوجہ ہوگا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

اور اسے مخاطب کر کے کہے گا اللہ کی قسم تو مجھے ہلاک کردینے والا تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو جہنم میں ہیں

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

اب ہم مرنے والے نہیں ہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

جو موت ہمیں آنی تھی وہ پہلے آچکی اب ہمیں کسی قسم کا عذاب نہیں ہوگا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

یقیناً یہ عظیم الشان کا میابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی کامیابی کے لیے ہر عمل کرنے والے کو عمل کرنا چاہیے

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں بیٹھے ہوئے جنتیوں کا جہنمیوں کے ساتھ ہم کلام ہونا۔ جنتی حضرات جنت میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ہوں گے۔ اس ماحول میں اچانک ایک جنتی دوسرے سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو مجھے کہا کرتا تھا کہ کیا تو بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گی تو ہمیں اٹھا کر سزا یا جزا دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ساتھیوں سے کہے گا کیا اسے دیکھنا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے کے بعد وہ نظر اٹھائے گا تو اسے اس کا ساتھی جہنم میں جلتا ہوا دکھائی دے گا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ کیا اپنے ساتھی کو دیکھنا چاہتے ہو تب جنتی اس جہنّمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا کہ اللہ کی قسم۔ اگر مجھ پر میرے رب کا کرم نہ ہوتا تو تو مجھے بھی ہلاک کرچکا ہوتا۔ جس طرح تم سزا پا رہے ہو اس طرح میں بھی تیرے ساتھ اس عذاب میں مبتلا ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہے گا کہ ہم نے ایک دفعہ مرنا تھا سو مرچکے اب ہمیں نہ موت آئے گی اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف پہنچے گی۔ یہ ہم پر اللہ کا عظیم فضل ہوا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ فضل اور کامیابی پانے کے لیے ہر کسی کو اس جیسے اعمال کرنے چاہییں۔ قرآن مجید نے یہ بات دو ٹوک انداز میں بتلائی ہے کہ جنتی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور جہنمی جہنم میں ابدی سزا پائیں گے۔ کیونکہ موت کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ جہاں تک کہ آخری آیت کے مفہوم کا تعلق ہے یہ جنتی کی زبان میں ایک پیغام ہے جو لوگوں کو دیا گیا ہے تاکہ لوگ جنت کے لیے صحیح عقیدہ اور صالح اعمال اختیار کریں۔ (عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یُجَاٗٗءُ بالْمَوْتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہُ کَبْشٌ أَمْلَح۔۔ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَیُقَالُ یَا أَہْلَ النَّارِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا قَالَ فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَیُؤْمَرُ بِہِ فَیُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ یُقَالُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ وَیَا أَہْلَ النَّارِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ] ” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا موت قیامت کے دن مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو کریب نے کچھ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ پھر جنتیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو تو وہ اسے پہچاننے کی کوشش کریں گے۔ اس کی طرف دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ جہنمیوں سے کہا جائے گا کیا تم بھی اسے پہچانتے ہو وہ بھی پہچاننے کی کوشش کریں گے غور سے دیکھ کر کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر حکم ہوگا۔ اسے ذبح کردیا جائے گا پھر کہا جائے گا اے جنتیوتم جنت میں ہمیشہ رہو تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو ! تم بھی جہنم میں ہمیشہ رہو تمہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی انہیں حسرتوں والے دن سے ڈرائیں جب فیصلہ کیا جائے گا جس کے بارے میں وہ غفلت میں ہیں اور یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہنم طول و عرض، گہرائی اور بالا خانوں کے اعتبار سے لا محدود ہوگی لیکن جونہی جنتی کسی جہنمی سے ہم کلام ہونے کی خواہش کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی یہ خواہش بھی پوری فرما دے گا تاکہ جنتی کو اللہ کی رحمت اور اس کے انعامات کا احساس ہو اور جہنمی کی اذیت میں اضافہ ہوجائے جہنمی کہے گا کاش ! میں ” لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھتا اور اس کے تقاضے پورے کرتا تو آج اپنے ساتھی کی طرح جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا۔ جنتیوں کی جہنمیوں کے ساتھ گفتگو : ” جنتی باغوں میں ہوں گے مجرموں سے پوچھیں گے کہ تم جہنم میں کس وجہ سے داخل ہوئے ؟ وہ کہیں گے ہم نماز ادا نہیں کرتے تھے اور ہم مسا کین کو کھانا نہ کھلاتے تھے اور کاموں میں لگے رہتے تھے اور ہم یوم جزا کا انکار کرتے تھے یہاں تک کہ ہمیں اس کا یقین ہوگیا۔ “ (المدثر : 40 تا 48) مسائل 1۔ جنتیوں کو جہنمیوں سے ہم کلام ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ 2۔ جنتیوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے گی۔ 3۔ جنت میں داخلہ نصیب ہونا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ 4۔ سب لوگوں کو جنتیوں والے اعمال کرنے چاہییں۔ 5۔ قیامت کو زندہ ہونے کے بعد موت نہیں آئے گی۔ تفسیر بالقرآن سب سے بڑی کامیابی : 1۔ ” اللہ “ کا انسان کو ہمیشگی والی جنت میں داخل فرمانابڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 89) 2۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو باغات عطا کرنا اور اپنی رضا مندی کا سر ٹیفکیٹ عطا فرمانابڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 72) 3۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کے ساتھ ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا فرمانا۔ (التوبۃ : 111) 4۔ اللہ تعالیٰ پہ ایمان لانا اور اسی سے ڈرنا اور اللہ تعالیٰ کا انھیں بشارت سے نوازنا۔ (یونس : 63 تا 64) 5۔ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے برائی سے بچ جانا کامیابی ہے۔ (المومن : 9) 6۔ ہمیشہ رہنے والے باغات اور رہائش گاہوں کا وعدہ فرمانا۔ (الصف : 12)
Ayahs 37:62–74

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

کیا جنت کی مہمان نوازی اچھی ہے یا زقوم کا درخت

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سرہوتے ہیں

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کی واپسی دوزخ کی طرف ہوگی

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

اور انہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گئے

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ان میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسول بھیجے تھے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

اب دیکھ لو کر جن کو تنبیہ کی گئی تھی ان کا کیا انجام ہوا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی نعمتوں اور عیش و عشرت کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی بدترین خوراک۔ جنتیوں کی تکریم و تعظیم اور اس کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم کی بدترین خوراک بتلا کر استفسار فرمایا ہے کہ بتاؤ ! جنت کے انواع و اقسام کے کھانے اور پھل بہتر ہیں یا کہ تھوہر کا درخت ؟ جسے اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے یہ درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے۔ جہنمی اس کو کھائیں گے اور اپنے پیٹ بھرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کو نگلنے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا اور پھر انہیں جہنم کے ایک اور گڑھے کی طرف دھکیلا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کیونکہ یہ لوگ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنے کی بجائے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی پیروی کرتے رہے اور اسی طرح نسل در نسل گمراہ ہوتے چلے گئے۔ حالانکہ انہیں انتباہ کرنے کے لیے ان کی طرف رسول بھیجے تھے لیکن مخلص بندوں کے سوا باقی تمام لوگ گمراہ ہوئے۔ جس کے نتیجہ میں ان کا دنیا میں بھی انجام بدتر ہوا۔ اگر دیکھنا چاہو تو تاریخ کے اوراق اور جغرافیائی نشانات سے ان کا انجام دیکھ سکتے ہو۔ جہنم کی تہہ سے اگنے والے شجرۃ الزّقوم جسے اردو زبان میں تھوہر کا درخت کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر یہ درخت قبرستانوں میں پایا جاتا ہے جس کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جو بالکل شیطان کے سر دکھائی دیتے ہیں۔ شیطان کا سر ایک محاورہ بھی ہے۔ لوگ ہر اس بری اور پراگندہ چیز کو شیطان کے سر سے تشبیہ دیتے ہیں جسے دیکھتے ہی آدمی کی طبیعت میں کراہت اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ ” شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ “ اسی قسم کا درخت ہوگا جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوگا جسے کفار مکہ نے یہ کہہ کر مذاق کا نشانہ بنایا کہ آگ میں درخت کس طرح پیدا ہوسکتا ہے۔ در حقیقت یہ ان کے دماغ کا فتور اور قرآن مجید کے انکار کرنے کا انداز تھا ورنہ وہ بھی جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے یہ مشکل کام نہیں کہ وہ آگ کی تہہ سے درخت پیدا کرے۔ کیونکہ ان کا یہ ایمان تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نمرود کی آگ سے محفوظ رکھا تھا۔ ” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ جنتیوں کو فرمائے گا کہ اے جنتیو ! جنتی عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہو ؟ جنتی کہیں گے ہم کیوں راضی نہ ہوں۔ کیونکہ آپ نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا ہے جو آپ نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دینا چاہتا ہوں۔ جنتی کہیں گے اے ہمارے رب ! اس سے افضل چیز کون سی ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تم پر راضی ہوگیا ہوں اور اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ “ [ رواہ البخاری : باب صفۃ الجنۃ والنار ] (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ ] ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا ؓ سے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ مسائل 1۔ جہنمیوں کو کھانے کے لیے تھوہر کا درخت اور پینے کے لیے ابلتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ 2۔ جہنمیوں کا جہنم میں جانے کا ایک بنیادی سبب یہ ہوگا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں اپنے آباء اجداد کے رسم و رواج کو دین سمجھتے تھے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ کرنے کے لیے انبیائے کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کے اور جہنمیوں میں فرق : 1۔ قیامت کے دن جنتیوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہ ہوگی اور وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : 26) 2۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامۃ : 22) 3۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کہیں گے۔ (الزمر : 73) 4۔ جنتیوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : 73) 5۔ جنتیوں کو ملائکہ سلام کریں گے۔ (الفرقان : 75) 6۔ جہنمیوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ (یونس : 27) 7۔ جہنمیوں کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : 73) 8۔ جہنمیوں کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : 40) 9۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : 27) 10۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اور اوندھے ہوں گے۔ (الغاشیۃ : 2) 11۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامۃ : 24) 12۔ جہنمیوں پر ملائکہ لعنت کرینگے۔ (لزمر : 72)