37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفہم القرآن

Ayahs 37:150–163

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

کیا ہم نے ملائکہ کو عورتیں بنایا ہے اور یہ اس وقت موجود تھے

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

سُن لو دراصل یہ لوگ جھوٹی باتیں کرتے ہیں

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ اللہ اولاد رکھتا ہے یقیناً یہ لوگ جھوٹے ہیں

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے اپنے لیے بیٹوں کی بجائے بیٹیاں پسند کرلیں ہیں ؟

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسے حکم لگا رہے ہو

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے نہیں ہو

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا پھر تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب لاؤ

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

انہوں نے اللہ اور جِنّوں کے درمیان رشتہ داری بنا رکھی ہے۔ حالانکہ جِنّخوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ ان باتوں سے پاک ہے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

جو اس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

پس تم اور تمہارے یہ معبود

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر صرف اس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھلسنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے شرک سے توبہ کی جس کے نتیجے میں عذاب سے بچ گئی۔ اہل مکہ کو اس واقعہ کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو شرک سے توبہ کرلو بصورت دیگر تباہی تمہارا مقدر ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ بات واضح نہیں فرمائی کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کس قسم کے شرک میں ملوث تھی۔ تاہم آیات کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دیگر اقسام کے ساتھ یونس (علیہ السلام) کی قوم میں یہ شرک بھی پایا جاتا تھا کہ وہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں خیال کرتے اور ان کے واسطے اور طفیل دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ جنّات کے بارے میں بھی ان کے ایسے ہی خیالات تھے جس طرح جنات کے بارے میں اہل مکہ کے خیالات تھے۔ مچھلی کے پیٹ سے نکل کر یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس گئے۔ جن کی اکثریت یا پھر تمام کے تمام لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کے حضور سچی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔” اٰمَنُوْا “ کا لفظ استعمال فرما کر ثابت کیا ہے کہ شرک کا عقیدہ رکھنے والا شخص ایماندار نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ جنہیں ایک مدت تک مہلت دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کے کتنے افراد تھے لیکن بات میں حسن پیدا کرنے کے لیے ” اَوْ یَزِیْدُوْنَ “ کے الفاظ ارشاد فرمائے جس میں حسن ہونے کے ساتھ بلاغت بھی پائی جاتی ہے تاکہ کلام سننے والے کے دل میں جستجو پیدا ہو۔ کلام کا رخ موڑکر اہل مکہ سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا ملائکہ کی پیدائش کے وقت یہ لوگ موجود تھے ؟ کہ یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو مؤنث (FEMAIL) پیدا کیا ہے۔ آگاہ رہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور جو ان کے منہ میں آتا ہے کہے جارہے ہیں۔ حالانکہ کسی کو ” اللہ “ کی اولاد قرار دینا سب سے بڑا جھوٹ اور بہتان ہے۔ کیا یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کی بجائے اپنے لیے بیٹیاں پسند کی ہیں ؟ ظاہر بات ہے کہ اگر اسے اولاد کی محبت اور اپنے لیے معاونین کی ضرورت ہوتی تو وہ بیٹیوں کی بجائے بیٹے پسند کرتا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی طرف سے ہی فیصلے کیے جاتے ہو۔ آخر فیصلہ کرنے کے لیے عقلی یا نقلی دلیل تو ہونی چاہیے۔ ہاں اگر تمہارے پاس عقلی یا مشاہداتی دلیل نہیں تو کسی مستند کتاب سے حوالہ پیش کرو۔ جس سے ثابت ہوسکے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی اولاد کے طور پر پیدا کیا ہے۔ یہی تمہارا عقیدہ جنّات کے بارے میں ہے جس بنا پر جنات کو اللہ کا رشتہ دار ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ جنّات بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا حسب و نسب جوڑا اسے پوچھاجائے گا۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے پوچھ لیا وہ مارا جائے گا۔ یاد رہے کہ اہل مکہ یہ بھی ہرزہ سرائی کرتے تھے کہ جنات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رشتہ داری ہے۔ جس سے ملائکہ کی شکل میں بیٹیاں پیداہوئی ہیں۔ اس سے اپنے آپ یہ بات نکلتی ہے کہ ” نعوذباللہ “ اللہ تعالیٰ بھی جنسی خواہش رکھتا ہے۔ یہ ایسی خرافات ہیں کہ جس کے تصور سے ایک شریف آدمی کا دل کانپ جاتا ہے اس لیے معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی پکار اٹھتا ہے کہ سبحان اللہ کہ ہمارا رب ہر خواہش اور کمزوری سے مبرا اور پاک ہے یہ باتیں تو مشرک کیا کرتے تھے۔ جو لوگ عقیدہ اور عمل میں مخلص ہیں یعنی شرک سے نفرت اور اجتناب کرتے ہیں ان سے یہ بات کوئی نہیں کہلواسکتا ایسی باتیں تو وہی لوگ کرتے ہیں جن پر جہنم واجب ہوچکی ہے۔ ” اے پیغمبر ﷺ ! فرما دیجیے کہ میری طرف اللہ تعالیٰ کی وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک بڑی جماعت نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے پس ہم اس پر ایمان لائے۔ ہم آئندہ اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہر ائیں گے۔ کیونکہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے۔ اس کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد، یقیناً ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں۔ “ (الجن : 1 تا 5) سنگین جرم : ” قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ اس بات پر کہ انہوں نے رحمٰن کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ رحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ “ (90، 91، 92) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں اور وہ میری تکذیب کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے لائق نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میری اولاد ہے اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ )] جس سے رب ذوالجلال نے سوال کرلیا وہ پکڑا جائے گا : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَیْسَ اَحَدٌ یُّحَا سَبُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّاھَلَکَ قُلْتُ اَوَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ فَسَوْفَ یُّحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا فَقَالَ اِنَّمَا ذٰلِکَ الْعَرْضُ وَلٰکِنْ مَّنْ نُوْقِشَ فِیْ الْحِسَابِ یَھْلِکُ ) [ رواہ البخاری : باب مَنْ سَمِعَ شَیْءًا فَرَاجَعَ حَتَّی یَعْرِفَہُ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لے لیا گیا وہ ہلاک ہوا میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں کہ ” عنقریب اس کا آسان حساب ہوگا۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو معمولی پیشی ہے جس شخص سے باز پرس ہوئی وہ ہلاک ہوگیا۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ملائکہ اللہ کی اولاد ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ 2۔ لوگ بلا دلیل جنات اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے رشتہ دار بناتے ہیں۔ 3۔ ایسا عقیدہ رکھنے والے جہنمی ہیں۔ 4۔ اللہ کے مخلص بندے ایسی بات نہیں کہتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اولاد اور ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔ (النحل : 1) 2۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ شریکوں سے بلند وبالا ہے۔ (النحل : 3) 3۔ اللہ تعالیٰ غائب اور حاضر کو جاننے والا ہے اللہ شریکوں کی شراکت سے بلند ہے۔ (المومنون : 92) 4۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے بالا ہے۔ (النمل : 63) 5۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا، رزق دیا، تمہیں مارے گا اور تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شرکا میں سے بھی کوئی ہے جو یہ کام کرسکے ؟ اللہ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔ (الروم : 40) 6۔ قیامت کے دن آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے شرک سے پاک و برتر ہے۔ (الزمر : 67) 7۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ (الانعام : 101) 8۔ عزیر (علیہ السلام) ” اللہ “ کے بیٹے نہیں اس کے بندے تھے۔ ( التوبۃ : 30) 9۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) اِلٰہ نہیں اللہ کے بندے تھے۔ (المائدۃ : 75) 10۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا سنگین ترین جرم ہے۔ (مریم : 91، 92)
Ayahs 37:164–166

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک متعیّن مقام ہے

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم صف بستہ حاضر رہتے ہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور تسبیح کرنے والے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : نیک جنّات اور مواحد بندوں کا عقیدہ بیان کرنے کے بعدملائ کہ کا عقیدہ اور ان کا اعتراف ذکر کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے نیک جنّات اور مخلص بندوں کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔ نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کی رشتہ داری ہے۔ جنّات، انسان اور ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔ وہ سب کا واحد خالق، مالک اور رازق ہے یہی عقیدہ تمام ملائکہ کا ہے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ ہماری کیا مجال ہے کہ جہاں ہماری ڈیوٹی لگائی گئی ہے اس سے ایک انچ آگے پیچھے ہوسکیں اور جو ہمیں حکم دیا جاتا ہے اس میں بال برابر سستی کریں۔ ہم تو اپنی اپنی جگہ پر کھڑے اپنے خالق کے حکم کے منتظر رہتے اور ہر وقت اپنے رب کے حضور صف بستہ حاضر رہتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن بھی ملائکہ کی یہی حالت گی۔ (الَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ) [ المومن : 7] ” عرشِ الٰہی کے حامل فرشتے اور جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں، وہ ” اللہ “ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمانداروں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی اتباع کی انہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔ “ (یَوْمَ یَقُوم الرُّوحُ وَالْمَلَاءِکَۃُ صَفًّا لَا یَتَکَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَہُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا) [ النبا : 38] ” جس دن جبرائیل امین اور دوسرے فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے اس دن صرف وہی بول سکے گا جس کو الرّحمن نے اجازت دی ہوگی۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللَّہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِہِمْ قَالُوا ماذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِی قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ جب آسمان پر کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اللہ کے فرمان کے جلال کی وجہ سے فرشتوں کے پروں میں آواز پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ہموار پتھر پر لوہے کی زنجیر کھینچنے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ جب ملائکہ کے دلوں سے گھبراہٹ دورہوجاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ اوپر والے ملائکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا ذکر کرتے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں اس اللہ کا یہ ارشاد ہے جو بلند وبالا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ملائکہ ایک انچ بھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتے۔ 2۔ ملائکہ اپنی ڈیوٹی ادا کرنے کے ساتھ ہر دم اپنے رب کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ 3۔ ملائکہ ہر وقت اپنے رب کے حضور صف بستہ رہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ملائکہ اور جنات بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند اور اس کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں : 1۔ یقیناً جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206) 2۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : 5) 3۔ قیامت کے دن تمام فرشتے اور جبرائیل (علیہ السلام) اپنے رب کے روبرو قطار میں کھڑے ہوں گے۔ (النباء : 38) 4۔ قیامت کے دن فرشتے صف بنا کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔ (الفجر : 22) 5۔ جن اور انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ (الذاریات : 56) 6۔ اے انسانوں اور جنوں اگر تم خدا کی خدائی سے نکل سکتے ہو نکل جاؤ۔ ( الرّحمن : 33)
Ayahs 37:167–173

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

یہ لوگ پہلے کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

کہ کاش ہمارے پاس وہ نصیحت ہوتی جو پچھلی قوموں کے پاس تھی

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم اللہ کے مخلص بندے بن جاتے

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ بہت جلد انہیں معلوم ہوجائے گا

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ اور دیگر لوگوں کا دعویٰ ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل مکہ کے پاس براہ راست کوئی نبی نہیں آیا۔ جس بنا پر اہل مکہ اپنے آپ میں یہ کمی محسوس کرتے اور کہتے تھے کہ کاش ! ہمارے ہاں بھی کوئی نبی مبعوث کیا جاتا۔ جس کی اتّباع کرکے ہم دوسری اقوام بالخصوص اہل کتاب پر برتری حاصل کرلیتے اور اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ اس خواہش اور نبی ﷺ کو پہنچاننے کے باوجود یہ لوگ انکار کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی کس طرح مدد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت ان کی مدد کرے گا۔ جس بنا پر وہ اپنے مخالفوں پر غالب آئیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ” اللہ “ کی فوج ہی غالب آیا کرتی ہے۔ چناچہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک تمام غزوات کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب ہمیشہ کفار پر غالب رہے۔ (اُحد میں پہلے غالب رہے اور بعد میں نقصان اٹھانا پڑا۔ ) یہاں تک مسلمانوں کی کامیابی کا تعلق ہے۔ آپ ﷺ کے بعد بھی تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمان دنیا میں واحد اخلاقی، سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر تسلیم کیے جاتے رہے۔ کفر پر غالب آنے کا اہل علم نے دوسرا مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ مخالف جو چاہیں اور جس قدر چاہیں دین اسلام کی مخالفت کریں۔ لیکن وہ اسلام کی سچائی اور حقانیت پر دلائل کی بنیاد پر کبھی غالب نہ آسکیں گے۔ کیونکہ اسلام غالب رہنے کے لیے آیا ہے۔ اگر کوئی حکمران خلوص نیت اور جرأت کے ساتھ اسلام کو اس کے تقاضوں کے ساتھ نافذ کرے گا تو اسلام کا نظام کامیاب ہوگا یہ کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ (کَتَبَ اللّٰہُ لاََغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) [ المجادلۃ : 21] ” اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ طاقت ور اور زور آور اور زبردست ہے۔ “ (اَلْاِسْلَامُ یَعْلَمُوْ وَلَا یَعْلیٰ ) [ ارواء الغلیل حدیث نمبر : 1268] ” اسلام غالب آئے گا اور اس پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔ “ مسائل 1۔ اہل مکہ نبی اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے آپ کی نبوت کے منتظر تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں سے وعدہ کیا کہ وہ غالب آئیں گے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی فوج ہی ہمیشہ غالب آیا کرتی ہے۔ تفسیر بالقرآن دین حق اور رسولوں کے غالب آنے کا وعدہ : 1۔ وہ ذات جس نے رسول کو مبعوث کیا تاکہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے۔ (الفتح : 28) 2۔ ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور دین خالصتاً اللہ کے لیے ہوجائے۔ (البقرۃ : 193) 3۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : 160) 4۔ اللہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21) 5۔ اگر تم ” اللہ “ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا۔ (محمد : 7) 6۔” اللہ “ کی فوج ہی غالب آیا کرتی ہے۔ ( المائدۃ : 56) 7۔ کتنی قلیل جماعتیں ” اللہ “ کے حکم سے غالب آئیں۔ ( البقرۃ : 249) 8۔ ” اللہ “ کا وعدہ ہے کہ میں اپنے رسولوں کو ضرور غالب کروں گا۔ (المجادلۃ : 21)
Ayahs 37:174–179

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

پس اے نبی کچھ مدّت تک انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور دیکھتے رہیں عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

جب وہ ان کے سامنے اترے گا تو وہ دن ان لوگوں کے لیے بہت برا ہوگا جنہیں خبردار کیا جا چکا ہے

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

بس انہیں کچھ مدّت کے لیے چھوڑ دیں

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہیں عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ کے ساتھ بھی اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا اس لیے آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے ایک وقتتک ان سے اعراض اور انتظار کرنا چاہیے۔ بے شک یہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ ان کو ایک وقت کے لیے صرف نظر فرمائیں کیونکہ عنقریب یہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیں گے کہ ہمارا عذاب ان کو کس طرح آلیتا ہے۔ جہاں تک دنیا کی پکڑ کا معاملہ ہے جب ہم نے انہیں ذلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔ لہٰذا جب اللہ کے وعدے کا وقت آن پہنچا تو نبی آخر الزمان ﷺ اس طرح اہل مکہ اور یہود ونصارٰی پر غالب آئے کہ کوئی دم مارنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ ﷺ نے دس ہزار کا لشکر جرار لے کر مکہ کا محاصرہ کیا تو چڑیا بھی پر نہیں مار سکی تھی اور دنیا جان گئی کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ سے معافی کے خواستگار ہوئے۔ اور آپ نے انہیں معاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ تم آزاد ہو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ جہاں تک یہودیوں کا معاملہ ہے۔ انہیں ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکال باہر کیا اور جب خیبرکا محاصرہ کیا تو شہر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی۔ (فَاِِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ) [ الصّٰفّٰت : 177] ” جب عذاب کا نزول کسی کے آنگن میں ہوتا ہے تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بڑی بھیانک ہوتی ہے۔ “ سلطنت رومہ کا اس طرح برا حال ہوا کہ جب آپ ﷺ تیس ہزار کا لشکر لے کرتبوک کے میدان میں اترے تو اس وقت کی واحد سیاسی اور عسکری طاقت روم بھی آپ کا سامنا کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے عسکری، اخلاقی اور دینی طور پر آپ ﷺ کو کامیابیوں سے سرافراز فرمایا اور صرف تیئس سال میں امن و سکون کا وہ انقلاب آیا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسائل 1۔ اے نبی ! کفار آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں آپ ان کی بات پر توجہ نہ دیں۔ 2۔ کافر اللہ تعالیٰ کے عذاب میں جلدی کرتے ہیں۔ 3۔ عنقریب کافر اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ تفسیر بالقرآن کفارکا انجام : 1۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : 35) 2۔ کفار کے چہرے کالے ہوں گے اور جنتیوں کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : 106۔ 107) 3۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : 74) 4۔ مجرم کے لیے جہنم ہے۔ (طٰہٰ : 74) 5۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : 26۔ 27) 6۔ زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (النحل : 36) 7۔ ہم نے ان سے انتقام لیا دیکھئے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الزخرف : 25) 8۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : 11) 9۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ : 92) 10۔ کفار سے فرما دیں کہ عنقریب تم مغلوب ہوگے اور تمہیں جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ (آل عمران : 12) 11۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ (النساء : 97) 12۔ کفار کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ اس میں انہیں موت نہیں آئے گی۔ (فاطر : 36) 13۔ مجرم لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ (الزخرف : 74) 14۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جب اس کی آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
Ayahs 37:180–182

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

آپ کا رب عزت والا اور ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور رسولوں پر سلام ہو

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور تمام تعریفات اللہ رب العالمین کے لیے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں مشرکین کو چیلنج کیا گیا ہے کہ بہت جلد تمہیں اپنے انجام اور نبی آخر الزمان ﷺ کی کامیابی کا علم ہوجائے گا اور یہ ہو کر رہے گا۔ کیونکہ ہر قسم کی عزت اور عظمت رب العالمین کے لیے ہے اس کی طرف سے مرسلین پر سلام ہو۔ سورۃ کا خاتمہ ان الفاظ پر ہو رہا ہے کہ اے کفار اور مشرکین ! کان کھول کر سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ نا صرف تمہارے غلیظ نظریات، شرکیہ عقائد اور تمہاری ہرزہ سرائی سے پاک ہے بلکہ وہ ہر قسم کی کمزوری سے بھی مبرّا ہے۔ وہ بڑی عزت و عظمت والا ہے۔ اس کی عزت و عظمت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہ جسے عزت اور عظمت دینا چاہے تو اسے کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اس نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ کو کامیاب کرے گا۔ کیونکہ اس کی رحمتیں نبی آخر الزمان ﷺ اور تمام مرسلین ( علیہ السلام) پر برستی ہیں جنہوں نے اس کی توحید اور دین کی سربلندی کے لیے تن من دھن قربان کیے۔ اے کفار اور مشرکین ! تم ایک بار نہیں ہزار بار ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرو۔ حقیقت یہ ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے زمین کا ذرہ ذرہ، آسمانوں کا چپہ چپہ اور کائنات کا ایک ایک حصہ ماضی، حال میں اس کی حمد و ستائش میں لگا ہوا ہے اور مستقبل میں لگا رہے گا۔ کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ ” ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بڑے محبوب ہیں اور زبان سے نہایت آسانی کے ساتھ ادا ہوجاتے ہیں اور ترازو میں بہت وزنی ہیں (سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ ) “ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ )] (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ حَدَّثَہُمْ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَاد اللَّہِ قَالَ یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَلِعَظِیمِ سُلْطَانِکَ فَعَضَّلَتْ بالْمَلَکَیْنِ فَلَمْ یَدْرِیَا کَیْفَ یَکْتُبَانِہَا فَصَعِدَا إِلَی السَّمَاءِ وَقَالاَ یَا رَبَّنَا إِنَّ عَبْدَکَ قَدْ قَالَ مَقَالَۃً لاَ نَدْرِی کَیْفَ نَکْتُبُہَا قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُہُ مَاذَا قَالَ عَبْدِی قَالاَ یَا رَبِّ إِنَّہُ قَالَ یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ فَقَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمَا اکْتُبَاہَا کَمَا قَالَ عَبْدِی حَتَّی یَلْقَانِی فَأَجْزِیَہُ بِہَا)[ رواہ ابن ماجۃ : باب فَضْلِ الْحَامِدِینَ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتلایا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یہ کلمات کہے اے میرے پروردگار تیرے لیے ہر قسم کی تعریف ہے ایسی تعریف جیسی تیرے پرجلال چہرے کے لیے زیبا اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ دو فرشتوں نے ان کلمات کا اجر لکھنے میں دقت محسوس کی کہ وہ کیا لکھیں ؟ دونوں آسماں کی طرف گئے اور اللہ کے سامنے عرض کی اے ہمارے پروردگار تیرے بندے نے ایسے کلمات کہے ہیں کہ جس کے اجر کے بارے میں ہمیں علم نہیں اللہ عزوجل نے ان سے پوچھا میرے بندے نے کیا کہا حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے یہ کلمات کہے ہیں (یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ ) اللہ عزوجل نے فرمایا تم یہی کلمات لکھ دو جو کلمات میرے بندے نے ادا کیے ہیں یہاں تک کہ وہ مجھے آملے تو پھر میں اسے ان کلمات کا صلہ عطا کروں گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بڑی عزت و عظمت والا ہے 2۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک اور ہر کمزوری سے مبرا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر وقت انبیائے کرام (علیہ السلام) پر برستی ہیں۔ 4۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔ 5۔ کائنات کا ہر جز اور فرد اپنے رب کی حمد و ستائش بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ تفسیر بالقرآن ساری کائنات اللہ رب العالمین کی حمد و ستائش اور پاکی بیان کر رہی ہے : 1۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : 1) 2۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 44) 3۔ رعد اس کی حمد و تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرّعد : 13) 4۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : 5) 5۔ مومن اللہ کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ (السجدۃ : 15)