37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفہم القرآن

Ayahs 37:75–82

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح نے پکارا تو ہم نے اسے بہت اچھا جواب دیا

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑے کرب سے بچا لیا

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور اسی کی نسل کو باقی رکھا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں اس کی اچھی شہرت رکھ دی

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

تمام دنیا والوں میں نوح پر سلام ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسرے گروہ کو غرق کردیا

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں مخلص بندوں کا انجام ان میں حضرت نوح (علیہ السلام) بھی شامل ہیں لہٰذا ان کا واقعہ سماعت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی اقوام میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ مگر لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کی انہیں دنیا کے عذاب سے بچا لیا گیا اور آخرت میں وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان مخلصین میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقائے کرام سر فہرست ہیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے یکسر طور پر ٹھکرادیا اور باربار ان سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور ان الفاظ میں فریاد کی۔ بارِالٰہا میں اپنی قوم کے سامنے بےبس ہوگیا ہوں اس لیے میری مدد فرما۔ (المومنون : 26) اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی فریاد کو قبول فرمایا جس کے نتیجے میں آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور زمین سے پانی کے چشمے ابل پڑے۔ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں کے اوپر سے بہنے لگا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے سوا سب لوگوں کو غرقاب کردیا گیا۔ جس کا تذکرہ سورة ہود، سورة شعراء، سورة قمر اور سورة نوح میں موجود ہے۔ یہاں اختصار کے ساتھ صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے اہل کو کرب عظیم سے نجات دی اور ان کی اولاد کو باقی رکھا اور رہتی دنیا تک ان کا ذکر خیر جاری فرمایا۔ نوح (علیہ السلام) پر ہمیشہ اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نجات بخشی اور ان کے مخالفوں کو ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ بحث سورة ہود میں گزر چکی ہے کہ طوفان نوح پوری دنیا میں آیا تھا یا کہ زمین کے اس حصہ پر جہاں نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم آباد تھی۔ البتہ یہ وضاحت کردی گئی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور ان کا بیٹا غرق ہونے والوں میں شامل تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے باقی بیٹے ان پر ایمان لائے جن کی نسل کو اللہ تعالیٰ نے بڑی افزائش سے نوازا جس کا ذکر یہاں خصوصی طور پر کیا گیا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کرب عظیم سے بچا لیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی حضرت نوح (علیہ السلام) پر ہمیشہ رحمتیں ہوتیں رہیں گی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو ہر قسم کی برکات سے سرفراز فرمایا۔ 4۔ نوح (علیہ السلام) کے مخالفوں کو غرق کردیا گیا۔ تفسیر بالقرآن طوفان نوح (علیہ السلام) کا ایک منظر : 1۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136) 2۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43) 3۔ عذاب کے وقت تندور نے ابلنا شروع کردیا۔ ( ہود : 40) 4۔ قوم نوح پر عذاب کی صورت میں آسمان سے پانی برسا اور جگہ جگہ زمین پھٹ پڑی۔ (ہود : 44) 5۔ قوم نوح کو تباہ کرنے کے لیے آسمان سے موسلاد ھار بارش کے دھانے کھول دئیے گئے۔ ( القمر : 11) 6۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔ (الشعراء : 120)
Ayahs 37:83–84

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور نوح کی جماعت کے ساتھ ہی ابراہیم کا تعلق تھا

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد کئی پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت گرامی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی دعوت کے ساتھ مبعوث کیے گئے جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار انبیاء کرام دیا کرتے تھے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف یوں کروایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسی مقدس جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ جن کا تعلق حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ہے۔ حضرت ابراہیم کو جب بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم دیا یا کسی آزمائش میں ڈالا تو وہ دل وجان سے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں خراج تحسین سے نوازا ہے جب ابر اہیم قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جس میں اللہ کے سوا کسی کی محبت غالب نہ ہو اور وہ ہر حال میں بلا شرکت غیرے اپنے رب کی سمع و اطاعت کے لیے تیار رہے۔ قلب سلیم کی بنا پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ، قوم اور حکمرانوں کی مخالفت مول لی اور آگ میں جانا گوارا کرلیا۔ مگر اپنے رب کے ساتھ کسی قسم کا شرک گوارا نہ کیا قلب سلیم کی بدولت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا وطن چھوڑا۔ قلب سلیم کی بنیاد پر ہی انہوں اپنی رفیقہ حیات اور نونہال کو عرب کے ویرانے میں چھوڑا تھا اور اسی قلب سلیم کی بنیاد پر ہی انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے حل قوم نازک پر چھری چلائی۔ اسی قلب سلیم کی وجہ سے انہوں نے بتوں کو پاش پاش کیا تھا۔ (عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ کَانَ یَقُولُ فِی صَلاَتِہِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا وَلِسَانًا صَادِقًا)[ روا النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ ] ” شدّاد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : اے اللہ ! میں تجھ سے قلب سلیم، صدق لسان کا سوال کرتا ہوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سے قلب سلیم کی دعا کرنی چاہیے۔ 2۔ قلب سلیم والاشخص ہی جنت میں داخل ہوگا۔
Ayahs 37:85–87

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹے معبود چاہتے ہو

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ اور قوم کو مشتر کہ خطاب۔ سورۃ مریم آیت 42 تا 45 میں موجود ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے وا لد گرامی کو سمجھایا کہ اے میرے والد گرامی ! جن کے سامنے آپ اپنی حاجات اور نذر ونیاز پیش کرتے ہیں نہ یہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں۔ اسی بات کو ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ اور قوم سے مشترکہ خطاب میں یوں بیان فرمایا۔ اے والد گرامی اور میری قوم کے لوگو ! اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور جن کے سامنے تم اپنی حاجات پیش کرتے ہو ان کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں۔ یہ بتاؤ ! کہ رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ یعنی جو عبادات اور آداب اللہ کے حضور بجالانے چاہییں وہ تم اس کے سوا دوسروں کے سامنے کرتے ہو۔ قرآن مجید کی تلاوت سے یہ بات آشکارہ ہوتی ہے کہ ہر دور کے کلمہ پڑھنے والے مشرک زندہ اور فوت شدہ بزرگوں اور غیر مسلم اپنے دیوتاؤں کے بارے میں ایسے ہی تخیلات رکھتے اور باتیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں رکھنے اور کرنی چاہییں۔ ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں کے عقیدہ اور خیالات کے لیے ” اِفْکًا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی جھوٹ اور بناوٹی عقائد اور خیالات ہیں۔ اسی بنا پر ایک مشرک کہتا ہے کہ فلاں قبر والا یا دیوتا اولاد دیتا ہے۔ دوسرا کہتا ہے کہ فلاں بزرگ فلاں کام کرتا ہے۔ یہ لوگ جھوٹی کرامات اور من گھڑت افسانے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے رہتے ہیں حالانکہ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ قرآن مجید نے ایسے خیالات اور آداب کو بزرگوں اور دیوتاؤں کی عبادت کرنے کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ یہاں تک کہ زندہ یا فوت شدہ بزرگ یا بت وغیرہ کے سامنے ادب سجدہ کرنا، جھکنا اور نذرونیاز پیش کرنا ہے یہ تو ہر مذہب میں عبادت شمار کیے جاتے ہیں۔ بیشک اسے تعظیم اور ثواب کے طور پر ادا کیا جائے یا عادتاً یا سیاسی اور سماجی رسم کے طور پر کیا جائے۔ حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرنا ہے۔ جس سے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) منع کرتے رہے ہیں۔ مزارات پر چڑھاوا چڑھانا اور میّت کے لیے نذرماننا حرام ہے : بریلوی مکتبہ فکر کے مفتی علامہ غلام رسول سعیدی تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص اولیاء اللہ کی نذر ونیاز اس طرح مانتا ہے ” اے سیدی ! اگر میرا گم شدہ شخص لوٹ آئے یا میرا بیمار تندرست ہوگیا یا میری حاجت پوری ہوگئی تو میں آپ کو اتنا سونا، چاندی، کھانا، موم بتیاں یا تیل دوں گا۔ یہ نذرونیاز بالاجماع باطل اور حرام ہے اور اس پر متعدد دلائل ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ مخلوق کی نذر ہے اور مخلوق کی نذر جائز نہیں ہے کیونکہ نذر عبادت ہے اور مخلوق کی عبادت جائز نہیں ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ نذر ماننے والے کا یہ گمان ہے کہ اشیاء میں اللہ نہیں میّت کا تصرّف ہے تو اس کا یہ اعتقاد کفر ہے۔[ شرح صحیح مسلم ازغلام رسول سعیدی : کتاب النذر ] شرکیہ مقام سے بچنا بھی لازم ہے : ” مجھے ثابت بن ضحاک ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کروں گا آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “ [ رواہ أبوداؤد : کتاب الأیمان والنذور ] مسائل 1۔ مشرک اپنے من ساختہ معبودوں کے بارے میں جھوٹی کرامات اور من گھڑت واقعات بیان کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی بجائے مشرک غیروں پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام کی دعوت کا مرکزی پیغام : 1۔ نوح (علیہ السلام) کا فرمان کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور دوسروں کو چھوڑ دو ۔ (ھود : 26) 2۔ ھود (علیہ السلام) نے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا۔ (الاعراف : 65) 3۔ صالح (علیہ السلام) نے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ اور غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا۔ (الاعراف : 73) 4۔ شعیب (علیہ السلام) نے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی طرف بلایا اور غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا۔ (الاعراف : 85) 5۔ یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کی طرف بلایا۔ (یوسف : 40) 6۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ (المائدۃ : 72) 7۔ تمام انبیاء کو صرف اللہ کی عبادت کرنے کا حکم۔ (البینۃ : 5)
Ayahs 37:88–93

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر اس نے ستاروں پر ایک نظر ڈالی

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا میری طبیعت خراب ہے

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

چناچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

ان کے پیچھے ابراہیم ان کے معبودوں کے پاس گئے اور کہا تم کھاتے کیوں نہیں ہو

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا ہوگیا کہ تم بولتے نہیں ہو

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور دائیں ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معبودان باطل کے خلاف اقدام۔ نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کتنا عرصہ باپ اور قوم کو سمجھاتے رہے۔ طویل عرصہ تک سمجھانے کے باوجود جب قوم سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوئی تو آپ نے سوچا کہ اگر دلائل انکی سمجھ میں نہیں آرہے اور یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان مورتیوں پر مرے جا رہے ہیں۔ تو اب ان کے معبودوں کی عملی طور پر خبر لینی چاہئے، تب بلا خوف وخطر فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ مجسمے میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔ (الانبیاء : 57) اتفاق کی بات دیکھیے اسی کشمکش میں قوم کا میلہ آجاتا ہے۔ مشرک قوم ایسے میلوں میں نہ صرف خود جاتی ہے۔ بلکہ ہر کسی کو ان خرافات میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی شوق غلیظ کے ساتھ انہوں نے جناب ابراہیم (علیہ السلام) کو دعوت دی آئیں آپ بھی چلیں، لیکن انہیں کیا معلوم کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو ایسی خرافات کو مٹانے کے لیے دن رات پیچ و تاب کھا رہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا۔ (فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوم۔ فَقَالَ إِنِّی سَقِیْمٌ)[ الصّٰفٰت 88، 89] ” تاروں کی طرف دیکھا اور کہا میں بیمار ہوں۔ “ اس جملے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ بیمار ہوں یا اس لیے آسمان کی طرف دیکھا ہو کہ اے مالک ! اب میرے اعلان پر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے تو میری مدد فرما۔ یا پھر اس حیرانگی سے دیکھا ہو جیسا کہ بعض موقعوں پر آدمی حیران ہو کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے کہ عجب لوگ ہیں میرے عقیدے کو جاننے کے باوجود مجھے دعوت میلہ دے رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ لکھا ہے کیونکہ آپ کی قوم ستاروں سے شگون لیتی تھی اس لئے آپ نے اوپر دیکھ کر ”إِ نِّیْ سَقِےْمٌ“ کہا تاکہ یہ اصرار نہ کریں اور اپنے عقیدہ کے مطابق تاثر لے کر بغیر تکرار کے چلے جائیں (واللہ اعلم) بہرحال وہ آپ کو چھوڑ کر عوامی میلے کی طرف چل دے ئے۔ (فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ )[ الصّٰفٰت : 90] ” چناچہ وہ انہیں پیچھے چھوڑ گئے۔ “ دن گنے جاتے تھے جس دن کے لیے اب وہ وقت آیا ہے جو کہا تھا اسے کر دکھایا جائے چناچہ مندر میں گھس گئے اور غیرت و جلال میں آکر فرمانے لگے۔ (فَرَاغَ اِِلٰی آلِہَتِہِمْ فَقَالَ اَلاَ تَاْکُلُوْنَ ۔ مَا لَکُمْ لاَ تَنْطِقُوْنَ ) [ الصّٰفٰت : 91، 92] ” ابراہیم چپکے سے ان کے معبودوں میں جا گھسے اور کہا تم کھاتے کیوں نہیں ؟ تم بولتے کیوں نہیں ہو ؟ اللہ اللہ ! آپ کی غیرت و جلالت کا عجیب منظر ہوگا۔ معلوم تھا اور خود ہی تو اعلان کیا کرتے تھے یہ نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی بول سکتے ہیں۔ لیکن آج خود ہی بلائے جا رہے ہیں۔ کبھی مومن پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ غیرت توحید سے لبریز اور دوسروں کو درس توحید دینے کے لیے ایسا بھی کرتا ہے، جیسا کہ فاروق اعظم ؓ نے طواف کعبہ کے وقت حجر اسود کو کہا تھا ” میں جانتا ہوں تیری حقیقت کو کہ تو ایک پتھر کا ٹکڑا ہے۔ میں تو تجھے اس لیے چوم رہا ہوں کیونکہ میں نے سرور گرامی ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے دیکھا تھا۔ دیکھتے جائیے اب باطل معبودوں کی شامت آنے والی ہے۔ “ (فَرَاغَ عَلَیْہِمْ ضَرْبًا بالْیَمِیْنِِ )[ الصّٰفٰت : 93] ” پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پھوڑنا شروع کیا۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) بڑے ذہین تھے : (فَجَعَلَہُمْ جُذَاذًا إِلَّا کَبِیْرًا لَہُمْ لَعَلَّہُمْ إِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ ) [ اأانبیاء : 58] ” پھر بتوں کو توڑ پھوڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اسکی طرف رجوع کریں۔ “ جتنے بھی نبی اپنے اپنے زمانے میں تشریف لائے وہ اپنے دور کے سب سے بڑے ذہین اور فطین تھے۔ دیکھیے ابراہیم (علیہ السلام) کتنے زیرک اور فطین ہیں کہ سب بتوں کو توڑا مگر بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ جب قوم واپس آکر دیکھے گی تو اس حادثے پر غور وفکر کرتے ہوئے یقیناً اس کی طرف رجوع کرے گی۔ اگر ” اِلَیْہِ “ کی ضمیر (اشارہ) بڑے بت کی طرف ہو تو مطلب یہ ہے کہ لوگ واپس آکر سوچیں گے کہ بڑے میاں نے کسی بات پر ناراض ہو کر چھوٹوں کا تیا پانچہ کردیا ہے۔ یا کم ازکم یہ تو ان کے دلوں میں خیال آئے گا کہ واقعی ابراہیم سچ کہتا تھا کہ یہ سب بےکار ہیں۔ نہ انہوں نے اپنے آپ کو بچایا اور نہ یہ بڑے میاں ہی روک سکے ہاں اگر ” اِلَیْہِ “ کا اشارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف ہو تو معنی بالکل صاف ہے کہ جب میرے پاس آئیں گے تو بات کرنے کا مزید موقعہ مل جائے گا۔ میں کہونگا مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے عقیدے کے مطابق ان سے پوچھو اگر واقعی بت بولتے ہیں تو ان کا بڑا تو موجود ہے اس سے پوچھ لیجئے۔ (قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰ لِہَتِنَا إِنَّہُ لَمِنَ الظَّالِمِیْنَ ۔ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَّذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیْمُ )[ الانبیاء : 59، 60] ” کہنے لگے ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کیا ہے ؟ وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ کچھ کہنے لگے ہم نے ان کے خلاف ایک ابراہیم نامی نوجوان کو چیلنج کرتے سنا ہے۔ “ نبی معظم ﷺ کی سنت اور فرمان : (2) (عَنْ أَبِی الْہَیَّاجِ الأَسَدِیِّ قَالَ قَالَ لِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ؓ أَلاَّ أَبْعَثُکَ عَلَی مَا بَعَثَنِی عَلَیْہِ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَہُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہُ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنائز ] ” ابو الھیاج اسدی کہتے ہیں مجھے علی بن ابی طالب ؓ نے کہا : کیا میں تجھے اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا کہ ہر تصویرکو مٹادے اور جو اونچی قبر دیکھے اسے برابر کردے۔ “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے انتہائی نفرت کرنے والے تھے۔ 2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) میلوں ٹھیلوں میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑے بت کے سوا سب کو توڑدیا۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے غیرت توحید میں آکر بتوں کو مخاطب کیا حالانکہ ان کا عقیدہ تھا کہ بت نہ سنتے ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ 5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کو توڑ کر ثابت کردیا کہ یہ اپنے یا کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔
Ayahs 37:94–96

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

واپس آکر وہ لوگ بھاگے بھاگے ابراہیم کے پاس آئے

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

اس نے کہا کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ ” اللہ “ ہی نے تم کو اور ان چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو پیدا کیا ہے

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا شدید ردعمل۔ قوم جب واپس پلٹی تو ان کی خوشی، غم اور پریشانی میں تبدیل ہوگئی زبردست اضطراب اور شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہوا اجلاس پہ اجلاس بلائے جا رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اپنی کارکردگی دکھا کر فوری طور پر مطمئن کیا جائے، چناچہ دفعتًا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ (قَالُوْا فَاْتُوْا بِہٖ عَلٰٓی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ )[ الانبیاء : 61] ” انھوں نے کہا کہ ابراہیم کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ لوگ گواہ ہوں۔ “ (فَأَقْبَلُوْا إِلَیْہِ یَزِفُّونَ ) [ الصّٰفٰت : 94] ” وہ ابراہیم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔ “ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ لوگ کس غیظ وغضب کے ساتھ آپ (علیہ السلام) کو پکڑ کر لائے ہوں گے۔ کتنے آوازے کسے ہوں گے اور کتنی گستاخیاں کی ہوں گی ؟ لیکن ابراہیم ہجوم مشرکین کو زمین کے ذرات سے بھی حقیر تصور کرتے ہوئے ایسی جرأت اور مردانگی سے جواب دیتے ہیں کہ ان کی کئی کئی گز لمبی زبانیں اس طرح گنگ ہوگئیں، جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ ان میں نام نہاد دانشور، پڑھے لکھے اور ان پڑھ ہر قسم کے لوگ موجود ہیں لیکن کوئی بولنے کی جرأت نہیں کر پاتا۔ کیوں بولیں اور کس بنیاد پر بات بولیں۔ (وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ فَاِِنَّمَا حِسَابُہُ عِنْدَ رَبِّہٖ اِِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ ) [ المؤمنون : 117] ” جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارتے ہیں ان کے پاس ان کو پکارنے کی کوئی دلیل نہیں ان کا حساب رب کے ذمہ ہے۔ یقین جانئیی کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ “ اسی لیے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ تم سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ لیکن قوم ایمان لانے کی بجائے ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انہوں نے آپس میں کہا اس کے لیے آگ کا ایک الاؤ تیار کرو اور اسے اس میں پھینک دو

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

انہوں نے اس کے خلاف کارروائی کی تھی مگر ہم نے انہیں ذلیل کردیا

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف فیصلہ۔ (قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ہٰذَا بِاٰ لِہَتِنَا إِنَّہُ لَمِنَ الظَّالِمِیْنَ ۔ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًی یَذْکُرُہُمْ یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیْمُ ۔ قَالُوْا فَأْتُوْا بِہِ عَلٰی أَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَشْہَدُوْنَ ) [ الانبیاء : 59 تا 61] ” کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ جس نے یہ زیادتی کی ہے واقعتا وہ بڑا ظالم شخص ہے (مجمع سے آواز آئی) ہم نے سنا ہے ایک نوجوان ان بتوں کے خلاف گفتگو کرتا ہے۔ اس کا نام ابراہیم ہے۔ سردار کہنے لگے اس کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ لوگ بھی اس کی شکل دیکھ لیں۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مجمع میں بلانے کا مقصد یہ تھا کہ عوام بھی گواہ اور مطمئن ہوجائیں کہ جو سزا اس کو دی جا رہی ہے واقعی یہ اسی سزا کا مستحق ہے۔ ” کہنے لگے اگر کچھ کر گزرنا چاہتے ہوتوا سے زندہ جلا دو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو۔۔ “ [ الانبیاء : 68] امن عامہ کے تحت گرفتاری حکمران نے فوراً حکم دیا کہ امن عامہ کے تحت ابراہیم (علیہ السلام) کو گرفتار کرلیا جائے۔ چناچہ آپ کو دس دن تک جیل میں رکھا گیا اور پھر بادشاہ کی کونسل نے انہیں زندہ جلاد ینے کا فیصلہ کیا بالفاظ دیگر عوام اور حکمران سب کے سب اس بات پر متفق ہوئے کہ اسکو زندہ نہ چھوڑا جائے بلکہ عبرتناک سزا دی جائے۔” اس کے لیے ایک بڑا گہرا گڑھا بناؤ اور اس کو آگ سے بھر کر ابراہیم (علیہ السلام) کو دہکتے ہوئے انگاروں میں پھینک دو ۔ “ شا ہی آرڈنینس کے تحت پوری مشینری آگ کو بھڑ کا نے میں لگی ہوئی ہے۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ لوگوں کے جذ بات کا عالم یہ تھا کہ عورتیں نذریں ما نتی تھی۔ اگر میری فلاں مشکل یا بیماری رفع ہوجائے تو میں اتنی لکڑیاں آگ میں پھینکوں گی مؤ رخین نے تحریر کیا ہے۔ عراق میں آج تک آگ کا اتنا بڑا الاؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ جب آگ میں پھینکنے کا وقت آیا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اتنی بڑی آگ میں کس طرح پھینکا جائے۔ شاہی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔ زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ ابر اہیم (علیہ السلام) کو آگ میں کس طرح پھینکا جائے ؟ فیصلہ ہوتا ہے کہ ایسی کرین تیار کی جائے جس کے ذریعے ابراہیم کو آگ کے درمیان میں پھینکا جائے لہٰذا اس طرح کیا گیا ( اس تجویز دینے والے کو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ زمین میں دھنستا جائے گا۔ ) (تفسیر ابن کثیر سورة الانبیاء : 68) آز مائش کے آخری لمحات اُف خدا یا یہ کیسا منظر ہے جو آج تک تیرے فرشتوں نے بھی نہیں دیکھاہو گا نظر اٹھائی تو جبرا ئیل (علیہ السلام) نمو دار ہوئے۔ روح الا میں عرض کرتے ہیں جناب میں حا ضر ہوں کوئی خد مت ہو تو فرمائیں ابرا ہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کو رب العزت کی طرف سے کوئی حکم ہے جبریل (علیہ السلام) جواب دیتے ہیں کہ نہیں۔ فرمایا پھر جا میں مجھے آپ کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر سورة الانبیاء : 68) ابرا ہیم (علیہ السلام) نے ” حَسْبِیَ اللّٰہُ “ کہہ کر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کیا۔ اب کا رروائی زمین پر نہیں عرش پر ہوگی۔ (وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہُ )[ الطلاق : 3]” جس نے اللہ پر توکل کیا اللہ اسے کافی ہوگا۔ “ اب دیکھیے ادھر حاکم وقت کا اشارہ ہوا کہ پھینک دو ، کرین کا بٹن دبادیا گیا۔ مجمع سے آواز آتی ہے اچھاہو تا اگر معافی مانگ لیتا خو اہ مخواہ جان گنوائی۔ انہیں کیا خبر آسما نوں میں کیا فیصلہ ہوچکا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بارش کافر شتہ ہمہ تن گوش تھا کہ کب حکم ہو اور میں اتنی بارش کروں کہ ایک لمحہ میں آگ بھسم ہو کر رہ جائے۔ لیکن فرشتے کی بجائے آج حکم بر اہ راست آگ کو پہنچتا ہے : (قُلْنَا یَا نَارُکُونِی بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاہِیمَ )[ الانبیاء : 69] ” ہم نے حکم دیا اے آگ ابر اہیم کے لئے ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا۔ “ تفسیر ابن ابی حا تم میں ہے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) چا لیس دن تک آگ میں رہے۔ ابرا ہیم (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے جتنا آرام میں نے چالیس دن آگ کے اندر پا یا ساری زندگی اتنا آرام میسر نہیں آیا۔ (تفسیر ابن کثیر سورة الانبیاء : 69) یاد رہے کہ ابرا ہیم (علیہ السلام) کو آگ میں برہنہ کرکے پھینکا گیا تھا۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (أَوَّلُ مَنْ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیمُ )[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء، باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی وَاتَّخَذَ اللَّہُ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلاً ] ” قیا مت کے دن جس خوش نصیب کو سب سے پہلے جنت کا لباس پہنا یا جائے گا وہ ابرا ہیم (علیہ السلام) ہوں گئے۔ “
Ayahs 37:99–100

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہی میری راہنمائی کرے گا

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے پروردگار مجھے بیٹا عطا کر جو صالح لوگوں سے ہو

فہم القرآن ربط کلام : آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہجرت کرنے کا فیصلہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ پہلے سے آپ کو معلوم نہ تھا کہ مجھے کدھر جانا ہے وطن چھوڑتے وقت آپ نے کہا۔ بس میں اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں وہ جدھر رہنمائی کرے گا میں چلا جاؤں گا۔ صاحب قصص القرآن نے لکھا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے دوران ہجرت پہلا قیام کلدانین میں فرمایا۔ کچھ عرصہ جہاں قیام کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) بمعہ حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے حاران نامی بستی میں قیام پذیر ہوئے۔ کچھ عرصہ تک حاران نامی بستی میں ٹھہرے۔ یہاں بھی دین حنیف کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ بالآخر آپ اپنی رفیقہ حیات اور بھتیجے کے ساتھ ارض فلسطین میں تشریف لے گئے۔ (وَنَجَّیْنَاہُ وَلُوْطًا إِلَی الْأَرْضِ الَّتِی بَارَکْنَا فِیْہَا لِلْعَالَمِیْنَ ) [ الانبیاء : 71] ” پھر ہم لوط (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو ظالموں سے نکال کر ارض مقدس کی طرف لے گئے جو اس دنیا کے لیے برکت والی ہے۔ “ فلسطین میں قیام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن میں تبلیغ کے لئے مقرر فرمایا اور فلسطین کے مغربی اطراف میں خود سکونت پذیر ہوئے۔ اس زمانے میں یہ علاقہ کنعانیوں کے زیر اقتدار تھا۔ یہاں کچھ عرصہ قیام فرمانے کے بعد آپ مصر کی طرف چلے گئے۔ (از قصص القرآن) نازک ترین آزمائش : حضرت امام بخاری (رح) نے تفصیل کے ساتھ ایک حدیث صحیح بخاری میں نقل فرمائی ہے۔ جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک ایسی آزمائش کا ذکر ہے کہ ایسے موقعہ پر بڑے بڑے لوگوں کے اوسان خطا ہوجایا کرتے ہیں لیکن جناب خلیل (علیہ السلام) بڑے حوصلہ کے ساتھ اپنی رفیقہ حیات کو ایک تجویز سمجھاتے ہیں۔ ” جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور بی بی سارہ ایک ظالم حکمران کے ملک سے گزرے تو اسکے نوکر چاکروں نے بادشاہ کو کہا کہ ہمارے شہر میں ایک مسافر آیا ہے جس کی عورت بہت ہی خوبصورت ہے۔ ظالم بادشاہ نے حکم دیا، ابراہیم کو فوراً میرے سامنے پیش کرو۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یہ عورت کون ہے ؟ ابراہیم نے کہا یہ میری بہن ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بادشاہ سے فارغ ہو کر حضرت سارہ کے پاس آئے اور کہا اے سارہ ! اس سرزمین میں میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور ظالم بادشاہ نے مجھے پوچھا ہے کہ تیرے ساتھ عورت کون ہے ؟ میں نے تجھے اپنی بہن کہا ہے۔ تو بھی اس کے سامنے بہن بتلانا۔ ایسا نہ ہو میں جھوٹا ہوجاؤں۔ اس ظالم بادشاہ نے حضرت بی بی سارہ کو جبرا منگوایا۔ جب وہ اس کے پاس پہنچائی گئیں تو ظالم نے دست اندازی کی کوشش کی لیکن دھڑام نیچے گرا۔ فریاد کرنے لگا اے نیک خاتون اپنے رب سے میری عافیت کی دعا کر میں تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ آپ کی دعا سے وہ اچھا ہوگیا پھر دوسری مرتبہ زیادتی کی کوشش کی۔ دوبارہ پھر پہلے کی طرح یا اس سے بھی زیادہ اللہ کی گرفت میں آیا۔ التجا کی۔ اے نیک عورت۔ اب پھر دعا کر میں اچھا ہوجاؤں تو تجھے کچھ نہیں کہوں گا۔ حضرت سارہ ( علیہ السلام) نے دعا کی۔ اللہ کے فضل وکرم سے وہ پھر تندرست ہوا۔ اس بار اس نے اپنے نوکر کو بلا کر کہا تم اچھی عورت میرے پاس لائے ہو یہ عورت ہے یا شیطان ؟ ( بےشرم اپنی بےشرمی کو مٹانے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا حالانکہ شیطان لعین وہ خود تھا اس نے ہاجرہ[ کو سارہ (علیہ السلام) کی خدمت میں دے دیا۔ جب سارہ [ جناب ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں آئیں تو آپ اللہ کے حضور نماز میں مصروف تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نماز کی حالت میں اشارہ کرتے ہیں کیا کہ معاملہ ہوا ؟ حضرت سارہ (علیہ السلام) نے عرض کیا، اللہ ذوالجلال نے کافر وفاجر کی شرارت کو اس کے اوپر الٹ دیا ہے۔ سارا ماجرا ذکر کیا اور کہا بالآخر اس نے اپنی اس لڑکی کو خادمہ کے طور پر میرے حوالے کردیا ہے۔ جناب ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث مبارکہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ اے بارش پر پلنے والو۔ یعنی اے عرب قوم یہی تو تمہاری والدہ ہاجرہ[ ہیں۔ “ [ رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا ] تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی راہنمائی کرنے والا ہے اسی سے راہنمائی طلب کرنی چاہیے : 1۔ اللہ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : 43) 2۔ اللہ مومنوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ (الانعام : 161) 3۔ ” اللہ “ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والا۔ ( الحج : 54) 4۔ ہم نے قوم ثمود کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت کے بدلے جہالت کو پسند کیا۔ (حٰآ السجدۃ : 17) 5۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : 120) 6۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : 56) 7۔ وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213) 8۔ ہدایت جبری نہیں اختیاری چیز ہے۔ (الدھر : 3) 9۔ نبی اکرم ﷺ بھی کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے تھے۔ (القصص : 56)
Ayahs 37:101–111

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

ہم نے اس کو ایک حوصلہ مند بیٹے کی بشارت دی

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

جب وہ اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو ابراہیم نے اس سے کہا بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تیرا کیا خیال ہے اس نے کہا ابا جان جو کچھ آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر ڈالیں آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

اور ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے فدیے میں ایک عظیم قربانی دے کر اس بچے کو چھڑا لیا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور اس کی تعریف بعد والے لوگوں میں رکھ دی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

ابراہیم پر سلام ہو

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے دوران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے گھر بار، باپ اور اپنی قوم کو چھوڑا تو اس وقت ان کو بڑی شدت کے ساتھ بیٹے کی کمی محسوس ہوئی اور دعا کی اے اللہ اگر یہ قوم تیرے دین کو نہیں مانتی تو کم از کم نیک اولاد عنایت کردے جو میرا سہارا اور غمخوار بننے کے ساتھ تیرے دین کا پر چار کرتی رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اسی وقت قبول نہیں ہوئی۔ بلکہ قرآن حکیم میں یہ بات انہی کی زبان اطہر سے بیان کی گئی ہے۔ کہ دعا بہت مدت کے بعد بلکہ عمر کے آخری حصے میں مستجاب ہوئی۔ ” سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے بلاشبہ میرا رب دعا سننے والا ہے۔ “ [ ابراہیم : 39] تمام مفسرین نے لکھا ہے جناب خلیل (علیہ السلام) کو 86 سال کی عمر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عطا کئے گئے۔ اللہ پاک کی عجب سنت ہے کہ جب کسی بندے کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ساتھ ہی نیک لوگوں کی آزمائش بھی شروع کرتا ہے۔ جن کے مرتبے بلند ہوتے ہیں ان کی آزمائش بھی بڑی ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ میں بیٹے کو ذبح کررہا ہوں۔ فلسطین سے مکہ آئے اور خواب کا بیٹے سے ذکر کیا اور پوچھا۔ بیٹا تیرا کیا خیال ہے ؟ بیٹے سے پوچھنے کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں کہ اگر بیٹے نے خوشی سے اپنے آپ کو تعمیل حکم کے لئے پیش کیا تو وہ بھی ثواب کا مستحق ہوجائے گا ورنہ حکم خداوندی کی تعمیل تو بہر حال کی جائے گی۔ شاید وہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ جس صالح بیٹے کی میں نے آرزو کی تھی کیا واقعتا وہ صالح ہے۔ تیسری وجہ ظاہر ہے کہ خواب کا تعلق بیٹے سے بھی ہے لہٰذابیٹے سے پوچھنا مناسب سمجھا۔ اسماعیل نے عرض کی ابو جان آپ کو جو حکم ہوا ہے اس کے مطابق عمل فرمائیں انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ مند پائیں گے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا جواب آداب فرزندی کی معراج ہے۔ باپ اور بیٹا بڑے اعتماد سے میدان منٰی کی طرف جارہے ہیں۔ شیطان کا اضطراب : اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کا عظیم الشان اور عدیم المثال مظاہرہ شیطان مردود کس طرح دیکھ سکتا تھا۔ چناچہ شیطان بھاگم بھاگ حضرت ہاجرہ[ کے پاس گیا اور کہنے لگا اے ام اسماعیل آپ کا بیٹا کدھر گیا ہے۔ حضرت ہاجرہ [ نے فرمایا وہ اپنے والد کے ساتھ گیا ہے۔ شیطان نے کہا اے ہاجرہ تجھے خبر نہیں اسے ابراہیم (علیہ السلام) ذبح کرنے کے لیے لے گیا ہے۔ حضرت ہاجرہ[ حیران ہو کر پوچھتی ہیں کہ کبھی ایسے بھی ہوا ہے کہ باپ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور خاص کر اتنے خوبصورت اور نیک سیرت بیٹے کو ؟ شیطان نے سوچا شاید اب میرا داؤ چل جائے گا کہنے لگا اے ام اسماعیل ! آج ابراہیم اسے ضرور ذبح کر دے گا۔ کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ مجھے ایسا کرنے کا ” اللہ “ نے حکم دے رکھا ہے۔ حضرت ہاجرہ[ نے فرمایا اگر اللہ پاک نے یہ حکم دیا ہے تو جاؤ چلے جاؤ۔ میں اپنے اللہ کی رضا پر راضی ہوں۔ [ رواہ احمد : مسند عبداللہ بن عباس ؓ ] حضرت ہاجرہ[ سے مایوس ہو کر شیطان جمرہ عقبہ (آج کل جس کو بڑا شیطان کہا جاتا ہے) کے پاس کھڑا ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کو پھسلانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) نے سات پتھر مارے۔[ رواہ احمد : مسند ابن عباس ] ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور بےمثال قربانی : آج سے ہزاروں سال پیشتر دنیا کے ایک گوشے میں عجیب و غریب واقعہ رونما ہورہا ہے کہ وادی ” غَیْرِذِیْ زَرْعٍ “ پر دومخلص ترین بندے جمع ہیں۔ باپ کی زبان پر ! (إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ) [ الانعام : 79] ” میں سب کو چھوڑ چھاڑ کر ایک ہی ذات کبریا کا ہوگیا ہوں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور میں مشرکوں سے نہیں ہوں۔ “ بیٹا آنکھیں موند کر چہرہ زمین کے ساتھ لگائے ہوئے کہہ رہا ہے۔ (سَتَجِدُنِی إِنْ شَاء اللَّہُ مِنَ الصَّابِرِینَ )[ الصّافّات : 102] ” آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔ “ پھر دوسری جگہ جمرہ وسطی کے پاس آکر اور اس کے بعد تیسری دفعہ جمرہ اولی کے پاس شیطان نے آخری کوشش کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تینوں جگہ سات سات کنکریاں ماریں۔ نبی پاک ﷺ نے کنکریاں مارنے کو بھی حجاج کے لئے شعائر قرار دے دیا۔ چشم فلک نے ایسا نظارہ نہ پہلے کبھی کیا اور نہ ہی کبھی آئندہ کرے گی۔ کہ حکم الٰہی کی تعمیل میں جناب خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے جگر گوشے کو پیشانی کے بل کنکریلی زمین پر لٹایا تاکہ پیارے اور معصوم رخ زیبا کو دیکھ کر پدری جذبہ استقامت کی راہ میں حائل نہ ہوجائے۔ (فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّہُ لِلْجَبِیْنِ )[ الصّٰفّٰت : 103] ” جب باپ اور بیٹے نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔ “ جس بیٹے کے لیے مدت مدید دعائیں مانگیں تھیں۔ جس کی خبر گیری کے لیے میلوں سفر کیا تھا جس کو ہاجرہ[ نے پیار کی لوریاں دی تھیں اور جس چہرے کو چوم کر اپنے دل کو تنہائی میں تسلی دیا کرتی تھیں آج وہی چہرہ مٹی میں لتھڑا ہوا الٹاپڑا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو زمین پر لٹا کر یہ ثابت کردیا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے اور یہی راستہ ہے جس سے آدمی اصل نیکی تک پہنچتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ لیکن اللہ کا فضل وکرم کہ اس نے اسمعیل (علیہ السلام) کو بچا کر ایک دنبے کی قربانی قبول کی۔ کیونکہ مقصود امتحان تھا نہ کہ جان !” ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ہے۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی جزا دیا کرتے ہیں یقیناً یہ ایک بڑی آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی دے کر اسمعیل کو چھڑا لیا ہم نے اس کا ذکر خیر بعد میں آنے والوں میں ہمیشہ کے لئے رکھ دیا۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ “ [ الصّٰفّٰت : 104 تا 111] بعض لوگوں نے عقل پرستی کی بنا پر لکھا کہ چھری کا پھل، چھری کے دستے میں داخل ہوگیا۔ کسی نے کہا جناب اسماعیل (علیہ السلام) کی گردن تا نبے کی بن گئی اور کچھ تو عقل کے آگے لگ کر بھا گنے لگے اور کہا کہ لٹانے کا معنٰی ہے کہ دونوں اللہ کے سامنے جھک گئے۔ حا لان کہ قرآن حکیم نے ” فَلَمَّا اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِےْنِ “ کے الفاظ کہہ کر آگلی کیفیت کو اہل دل پر چھوڑ دیا ہے۔ (سَلَامٌ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ )[ الصّافّات : 109]” ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے نیک بیٹے کی دعا کی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسماعیل (علیہ السلام) کی صورت میں نیک اور باحوصلہ بیٹا عطا فرمایا۔ 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل سے اپنے خواب کا ذکر کیا تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کی کہ آپ اپنے خواب پر عمل پیرا ہوجائیں۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا خواب سچ کردکھایا تو اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ایک دنبے کی قربانی قبول فرمائی۔ 5۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس سنت کو آنے والے لوگوں کے لیے نمونہ قرار دیا گیا۔ 6۔ ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔