37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفہم القرآن

Ayahs 37:112–117

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی کہ وہ صالحین میں سے ایک نبی ہے

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اسے اور اسحاق کو برکت دی اب ان دونوں کی اولاد میں کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر واضح طور پر ظلم کرنے والا ہے

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

ان کی مدد کی جس کی وجہ سے وہ غالب ہوئے

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

ان کو واضح کتاب عطا فرمائی

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اکبر ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف تحریف ہونے کے باوجود تورات کتاب پیدائش (باب 17، 24، 25) میں موجود ہے۔ اس تصریح کے ساتھ کہ جس وقت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو خلیل (علیہ السلام) کی عمر 86 سال کی تھی اور جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر ننانوے یا سو سال تھی۔ تحقیق کے مطابق آپ کنعان میں پیدا ہوئے اور آپ ( علیہ السلام) نے مکہ معظمہ میں 137 سال کی عمر میں وفات پائی۔ جناب اسحاق (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے تیرہ یا چودہ سال چھوٹے ہیں۔ حضرت اسحاق حضرت سائرہ ؓ کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے۔ جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں انہی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) عطا کیے اور اس کی نسل کو کتاب اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ آپ ( علیہ السلام) کی وفات : حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے 180 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سارہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ جب آپ نے انتقال کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) جوان ہوچکے تھے۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے دو بیٹے تھے ایک کا نام عیسو اور لقب اودم تھا انہی کی نسل سے ایوب (علیہ السلام) کا تعلق ہے۔ دوسرے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے اور ان کا لقب اسرائیل تھا ان کی اولاد سے حضرت یوسف، حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ہوئے گویا کہ اکثریت انبیاء کی اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو اور حضرت اسحاق کی اولاد کو بڑی برکات سے سرفراز فرمایا۔ ان میں نیکوکار بھی ہوئے اور اپنے آپ پر ظلم کرنے والے بھی تھے۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے جن کا اسرائیل لقب تھا۔ ان کی اولاد بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی جو صدیوں تک مصر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں برسر اقتدار رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہزاروں انبیاء کو مبعوث فرمایا۔ ان کے مقابلے میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل میں کوئی نبی پیدا نہیں ہوا تآنکہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا اور قیامت تک کے لیے ختم المرسلین کے اعزاز سے سرفراز فرمایا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت سے سرفراز فرمایا۔ 2۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) انبیاء کی جماعت میں سے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو بیشمار برکات سے ہمکنار کیا۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد سے نیکوکار بھی ہوئے اور برے لوگ بھی پیدا ہوئے۔ تفسیر بالقرآن حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد موسیٰ ، عیسیٰ اور دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) ۔ (البقرۃ : 136) 2۔ حضرت ابراہیم، لوط، اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کو زکوٰۃ کا حکم۔ (الانبیاء : 73) 3۔ حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے منتخب کردہ ہیں۔ (ص : 45 تا 47) 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے کی خوشخبری۔ (ھود : 71) 5۔ ہم نے اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) کو ہدایت سے نوازا۔ ( الانعام : 84) 6۔ حضرت اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) نیکوکار تھے۔ ( الانبیاء : 72) 7۔ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو نیکوکار نبی اسحاق کی بشارت دی۔ (الصّٰفّٰت : 112) حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی وصیّت : 1۔ ” ابراہیم اور یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند فرمایا لیا ہے تمہیں موت مسلمان ہونے کی حالت میں آنی چاہیے۔ “ (البقرۃ : 132)
Ayahs 37:118–122

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

ان کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرمائی

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

موسیٰ اور ہارون پر سلام ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ کرنے سے پہلے ارشاد ہوا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بہت احسان فرمایا جس کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو بڑی مصیبت سے نجات دی۔ ہم نے ان کی مدد فرمائی جس بنا پر وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئے۔ ہم نے انہیں کھلی کتاب سے سرفراز کیا اور ہم نے دونوں کی ٹھیک ٹھیک راہنمائی کی اور ہم نے ان کی سیرت اور جدوجہد کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ہمیشہ ہمیش ” اللہ “ کی رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ ہم اخلاص کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے باربار اپنے لیے ” ہم “ یعنی جمع کی ضمیر استعمال فرمائی ہے جس میں جلال اور دبدبہ پایا جاتا ہے۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ بیشک فرعون بڑا ظالم اور جابر حکمران تھا اور بنی اسرائیل بہت کمزور تھے۔ لیکن جب ہم نے فرعون کو ذلیل کرنے اور بنی اسرائیل کی مدد کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ہمارے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سے سرفراز فرمایا تھا۔ جس میں قدم قدم پر ان کی راہنمائی کی گئی اور انہیں صراط مستقیم پر چلنے کی ہمت اور توفیق عنایت فرمائی۔ قوموں کی راہنمائی کے لیے یہی دو بنیادی اصول ہیں جو قوم کتاب اللہ سے راہنمائی پائے اور اس کا قائد باکردار اور بہادر ہو تو وہ قوم دنیا میں ضرور کامیاب ہوتی ہے اور آخرت میں ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل ہوگی۔ سرور دوعالم ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : (عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہ ﷺ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلاَتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلاَثًا وَقَال اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ )[ روا مسلم : باب اسْتِحْبَاب الذِّکْرِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ وَبَیَانِ صِفَتِہِ ] ” حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے۔ ” اللَّہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَام) “ ُُُمسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا ہی احسان فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو بڑی طویل اور کربناک آزمائش سے نجات عطا فرمائی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی اور دونوں کو صراط مستقیم پر گامزن فرمایا۔ 4۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ ہمیش رحمتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی جزا دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دنیا و آخرت کی جزا سے سرفراز فرمایا : 1۔ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرجائے۔ (ابراہیم : 13۔ 14) 2۔ کفارنے حضرت نوح کو جھٹلایا ہم نے نوح اور اس کے ماننے والوں کو نجات دی۔ (الاعراف : 64) 3۔ ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (الشعرا : 65) 4۔ ہم نے شعیب اور ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (ہود : 94)
Ayahs 37:123–132

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور یقیناً الیاس بھی مرسلین میں سے تھا

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ڈرتے کیوں نہیں

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم احسن الخالقین کو چھوڑ کر بعل کو پکارتے ہو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

اس اللہ کو جو تمہارے اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

بس انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جائیں گے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

سوائے اللہ کے بندوں کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور الیاس کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

الیاس پر سلام ہو

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے ایک مرتبہ یہاں اور دوسری مرتبہ سورة انعام آیت 85 میں ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 ق م کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جلعاد کے رہنے والے تھے۔ قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) جنہیں اس مقام پر قرآن مجید نے الیاسین بھی کہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو انہی الفاظ کے ساتھ خطاب فرمایا جن الفاظ میں پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) اپنی اپنی قوم کو خطاب کرتے رہے۔ ارشاد فرماتے ہیں۔ اے میری قوم ! اللہ سے ڈرو اس کے ساتھ شرک کرنا چھوڑ دو اور اسکی نافرمانی سے باز آجاؤ ! تمہارا کردار یہ ہے کہ تم بعل کے سامنے رکوع، سجود کرتے اور نذرونیاز پیش کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑے ہوئے ہو۔ حالانکہ اس نے انسان اور ہر چیز کو اس کے ماحول کے مطابق بہتر سے بہتر پیدا فرمایا ہے۔ اللہ ہی تمہیں اور تمہارے آباؤ اجداد کو پیدا کرنے والا اور ہر چیز عطا کرنے والا ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم نے اس فطری اور سادہ دعوت کو جھٹلادیا۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انہیں حاضر کیا جائے گا یعنی دعوت توحید ٹھکرانے اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے انہیں ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی اس سزا سے وہی لوگ بچ پائیں گے جنہوں نے عقیدہ توحید اختیار کیا اور مخلصانہ طور پر اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ بیشک قوم نے حضرت الیاس (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرادیا لیکن اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کی محنت قبول کرتے ہوئے ان کے کام اور نام کو ہمیشہ کے لیے باقی رکھا۔ ان پر اللہ کی رحمتیں برستی رہیں گی۔ کیونکہ جو لوگ اخلاص اور اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کو یہ بھی اعزاز بخشا کہ انہیں دنیا اور آخرت میں اپنے مومن بندوں میں شامل فرمایا۔ مسائل 1۔ الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ کے پیغمبروں میں شامل ہیں۔ 2۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم نے بعل (بت) کے مقابلے میں عقیدہ توحید کو ٹھکرادیا۔ 3۔ قیامت کے دن ان کی قوم کو اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ 4۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) پر ہمیشہ ہمیش اللہ تعالیٰ کی رحمتیں برستی رہیں گی۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی رحمتیں انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ہمیشہ نازل ہوتی رہیں گی : 1۔ حضرت نوح، ابراہیم اور الیاس پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت برستے رہے گی۔ (الصّافّات : 79، 109، 123) 2۔ اگر انہوں نے آپ ﷺ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : 147) 3۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرتا ہے۔ (الانبیاء : 86) (الصّافّات : 130)
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر دوسروں کو تہس نہس کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

تم صبح کے وقت ان کے اجڑے گھروں پر گزرتے ہو

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کے وقت بھی۔ کیا پھر تمہیں عقل نہیں آتی ؟

فہم القرآن ربط کلام : حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے اہل کو ذلّت آمیز عذاب سے محفوظ رکھا البتہ ان کی بیوی اور دوسرے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اے عرب کے لوگو ! تم سفر کے دوران صبح و شام قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کے کھنڈرات کے قریب سے گزرتے اور انہیں دیکھتے ہو۔ لیکن پھر بھی عقل سے کام لینے کے لیے تیار نہیں ہو ؟۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے بارے میں قرآن مجید میں کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) مرسلین میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے ایمان دار ساتھیوں کو عذاب سے محفوظ رکھا۔ لیکن ان کی بیوی اور ان کی قوم کو آسمان کے قریب لے جا کر الٹ دیا گیا اور پھر ان پر پتھروں کی بارش برسائی جو نشان زدہ تھے۔ تفسیر بالقرآن حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ (العنکبوت : 26) 2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کے رسولوں میں سے تھے۔ (الصّٰفّٰت : 133) 3۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو لوگوں پر فضیلت دی۔ (الانعام : 86) 4۔ اللہ تعالیٰ نے لوط کو دانائی اور علم عطا فرمایا۔ (الانبیاء : 74)
Ayahs 37:139–149

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یقیناً یونس بھی رسولوں میں سے تھا

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

آخر کار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ ہوا

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

اگر وہ ذکر کرنے والوں میں نہ ہوتا

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو قیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے بڑی کمزور حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور اس پر ایک بیلدار درخت اگایا

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک معیّن وقت تک انہیں باقی رکھا

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

ان لوگوں سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے تو بیٹیاں ہوں اور ان کے لیے بیٹے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر گرامی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے برگزیدہ انبیائے کرام (علیہ السلام) میں شامل ہیں۔ انہیں نینوا کے علاقہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آبادی میں مبعوث کیا گیا۔ نہ معلوم حضرت یونس (علیہ السلام) نے کتنا عرصہ اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم سدھرنے کی بجائے بگڑتی چلی گئی۔ اس پر یونس (علیہ السلام) نے قوم کو انتباہ کیا کہ اگر تم راہ ہدایت پر نہ آئے تو فلاں دن تمہیں اللہ کا عذاب آلے گا لیکن اس دن عذاب نہ آیا جس پر قوم نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو طعنے دیئے اور جھوٹا قرار دیا جس پر یونس (علیہ السلام) پریشان ہو کر اللہ کی اجازت کے بغیر ہجرت کے لیے نکل کھڑے ہوئے جس کے لیے قرآن مجید نے ” اَبَقَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے آقا سے بھاگنے والا غلام۔ حضرت یونس (علیہ السلام) قوم سے ناراض ہو کر اپنے شہر سے نکلے اور دریا عبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے کشتی دریا میں تھوڑی دیر چلی تو ہچکولے کھانے لگی۔ ملاح نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ جب کشتی ہموار موسم میں ہچکولے کھانے لگے تو میرا تجربہ ہے کہ کشتی میں کوئی ایسا شخص ضرور سوار ہوتا ہے جو اپنے مالک سے بھاگ آکر آیا ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ آج بھی کوئی سوار اس طرح ہی اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے۔ اس پر قرعہ اندازی کی گئی بالآخر قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا جس پر یونس (علیہ السلام) نے کشتی کو بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ جونہی دریا میں کودے تو ایک مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ وہ نہایت افسردگی کے عالم میں مچھلی کے پیٹ میں جاکر ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگے،” لَا اِلٰہَ الاَّاَنْتَ سُُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ “ اے اللہ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں بیشک میں ظالموں میں سے ہوں۔ “ یونس (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کا نام لینے کی بجائے ” اَنْتَ “ کی ضمیر استعمال کی جس سے ان کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی ہوتی ہے کہ اتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہونے اور مچھلی کے پیٹ میں جانے کے باوجود ” اَنْتَ “ کی ضمیر استعمال کرتے ہیں جو واحد حاضر کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ گویا کہ انتہائی پریشانی کے باوجود اپنے رب کی قربت محسوس کرتے ہوئے یوں پکارتے ہیں گویا کہ رب تعالیٰ ان کے سامنے موجود ہیں یہی ذکر کا بہترین طریقہ ہے۔ جس طرح حدیث میں نماز کے بارے میں آیا کہ نماز اس طرح پڑھنی چاہیے جیسے نمازی اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ نہیں تو یہ تصور تو ہونا چاہیے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ (رواہ البخاری : کتاب الایمان) اس بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یونس (علیہ السلام) مجھے یاد نہ کرتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا اور مچھلی کے پیٹ سے ہی اٹھایا جاتا۔ گویا کہ مچھلی کی موت کے ساتھ ہی انہیں موت آجاتی۔ اور قیامت کو مچھلی کے پیٹ سے نکالے جاتے۔ یونس (علیہ السلام) کی فریاد کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ یونس (علیہ السلام) کو دریا کے کنارے اگل دے۔ یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تو اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ چلنے پھرنے کے قابل نہ تھے۔ اس حالت میں یونس (علیہ السلام) دریا کے کنارے بےسدھ ہو کر لیٹے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خوراک اور سائے کے لیے ایک بیل دار پودا اگا دیا جس کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ وہ کدو یا بڑے بڑے پتوں والا بیل دار درخت تھا۔ اس مقام پر ضرورت سے زیادہ عقل رکھنے والے حضرات یہ کہتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں جا کر کسی انسان کا زندہ نکل آنا غیر ممکن ہے۔ لیکن پچھلی ہی صدی کے اواخر میں انگلستان کے ساحل کے قریب ایک واقعہ پیش آچکا ہے جو ایسے لوگوں کے دعوے کی تردید کردیتا ہے۔ اگست 1891 ؁ء میں ایک جہاز پر کچھ مچھیرے وہیل کے شکار کے لیے گہرے سمندر میں گئے۔ وہاں انہوں نے ایک بہت بڑی مچھلی کو جو 20 فٹ لمبی 50 فٹ چوڑی اور سوٹن وزنی تھی شکاریوں نے سخت زخمی کردیا مچھلی کو قابو کرتے ہوئے جمیز بار ٹلے نامی ایک مچھیرے کو اس کے ساتھیوں کے سامنے مچھلی نے نگل لیا۔ دوسرے روز وہی مچھلی اس جہاز کے لوگوں کو مری ہوئی مل گئی۔ انہوں نے بمشکل ہی اسے جہاز پر چڑھایاجب اس کا پیٹ چاک کیا تو بارٹلے اس کے اندر زندہ برآمد ہوگیا۔ یہ شخص مچھلی کے پیٹ میں پورے 60 گھنٹے رہا تھا۔ (اردو ڈائجسٹ، فروری 1964 ؁ء) غور کرنے کی بات ہے کہ اگر معمولی حالات میں فطری طور پر ایسا ہونا ممکن ہے تو غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ کے معجزے کے طور پر ایسا ہونا کیوں غیر ممکن ہے ؟ 2005 رمضان المبارک میں آزاد کشمیر میں شدید زلزلہ آیا۔ اس زلزلہ میں پانچ اور چھ سیکنڈ کے اندر اسی ہزار افراد موت کا لقمہ بنے گھروں کے گھر ملیامیٹ ہوگئے۔ مواصلات کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوگیا۔ تقریباً ایک سال تک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں تک خوراک پہنچائی جاتی رہی اور کئی ماہ تک مکانوں سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مظفر آباد شہر میں ایک بلڈنگ کاملبہ صاف کیا جارہا تھا کہ ایک گھر سے چھ ماہ بعد جواں سال لڑکی زندہ ملی جس کا سرکاری طور پر اسلام آباد ہسپتال میں علاج کیا گیا جو دو مہینے کے بعد لڑکی چلنے پھرنے کے قابل ہوگئی۔ ذکر کے فائدے : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْا وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن) [ الانفال : 45] ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم کسی گروہ کا مقابلہ کرو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ‘ وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے اور جب اس کے ہونٹ میرے ذکر کے لیے حرکت کرتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول اور نبی تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کے لیے ایک بیلدار درخت اگادیا۔ 3۔ یونس (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی۔ (النساء : 163) 2۔ یونس (علیہ السلام) رسولوں میں سے تھے۔ (الصّٰفّٰت : 139) 3۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ (الانعام : 86) 4۔ یونس (علیہ السلام) کی اللہ نے دعا قبول فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ (الانبیاء : 88) 5۔ حضرت یونس کی قوم کے سوا کسی قوم کو عذاب کے وقت ایمان لانے کا فائدہ نہ ہوا۔ (یونس : 98)