Ayahs 38:1–3فہم القرآن
سورۃ الصّٰفّٰت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کی یا وہ گوئی سے مبّرا ہے۔ اس کی طرف سے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ہمیشہ رحمت کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورة صٓ ابتدا میں قرآن مجید کو الذّکر قراردیا گیا ہے۔ الذّکر کا معنٰی نصیحت اور خیرخواہی ہے۔ کافر اور مشرک خیر خواہی قبول کرنے کی بجائے اس کی مخالفت میں آکر کہتے ہیں کہ یہ نبی کذّاب اور جادوگر ہے۔
” ص “ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس حرف کا بھی مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس کی بھی وہی حقیقت ہے جو دوسرے حروف مقطعات کی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے بغیر اس کا حقیقی مفہوم کوئی نہیں جانتا۔ حرف ” و “ قسم کے لیے لا یا گیا ہے۔ معنٰی یہ ہوگا کہ اس پیکر نصیحت قرآن مجید کی قسم ! یہ لوگ اس قرآن کا انکار اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں قرآن سمجھ نہیں آرہا ہے یا قرآن کوئی انوکھی بات کررہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ غرور اور تکبر کی بنا پر اس کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے سامنے تفصیل کے ساتھ باربار بیان ہوچکا ہے کہ ان سے پہلے جس جس نے حق کے ساتھ تکبر اور اپنے نبی کا انکار کیا اس کا انجام کیا ہوا ؟ جب ان کے تکبر اور انکار کی وجہ سے اللہ کا عذاب نازل ہوا تو وہ چیخ و پکار اور آہ وزاریاں کرتے رہے لیکن اس وقت انہیں مہلت نہ دی گئی۔ لہٰذا مکہ والو ! سوچ لو ! کہ جب تم پر عذاب کا کوڑا برسے گا تو تمہیں بھی مہلت نہ مل سکے گی نہ ہی تمہیں کوئی بچانے والا ہوگا۔
” کیا ان کو صرف یہی انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آئے۔ نشانی سے مردار عذاب ہے جس دن ” اللہ “ کے عذابوں میں سے کوئی عذاب آئے گا تو جو شخص اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی نیکی کا کام کیا ہوگا اس کا ایمان اسے ہرگز فائدہ نہیں دے گا۔ فرما دیجیے کہ تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “ (الانعام : 159)
تکبر کیا ہے ؟
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کی کہ ایک شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ خوبصورت ہے خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “
لغت کے مطابق ” عِزَّۃٍ “ کا معنٰی طاقتور ہونا ،” شِقَاقٍ “ کا معنٰی مخالفت اور دشمنی ہے۔” مَنَاصٍ “ کا معنٰی جھگڑا کرنے کے ہیں۔ گویا کہ قرآن کے مخالفوں میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی تھیں جس شخص میں یہ تینوں عیب پائے جائیں اس کا ہدایت قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید نصیحت کا مرقع ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی متکبر قوموں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔
3۔ قرآن کا انکار کرنے والے کسی معقول عذر کی وجہ سے نہیں بلکہ تکبر کی بنا پر اس کا انکار کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک :
1۔ قرآن مجید لاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 1) 2۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
3۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلی کتاب ہے۔ (ھود : 1) 4۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقر ۃ : 185)
6۔ قرآن مجید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : 1)
5۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174)
Ayahs 38:4–10فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔
کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ اس بنا پر وہ نبی آخر الزمان ﷺ کو جھوٹا اور جادو گر قرار دیتے تھے۔ جادو گر کہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کی زبان میں غضب کی تاثیر تھی پھر آپ کی شخصیت اتنی پُر کشش تھی کہ جو آپ کا کلام سنتا وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا اور جس نے آپ کی شخصیت کو نظر بھر کر دیکھا وہ آپ کا گرویدہ ہو کر رہ گیا۔ کیونکہ کفار کے دل میں تکبر تھا جس وجہ سے وہ آپ کے کلام اور شخصیت سے متاثر ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے کے لیے تیارنہ تھے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی وحدت کا معاملہ ہے یہ عقیدہ ان کے لیے اس لیے تعجب کا باعث تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے ہر مشکل اور ضرورت کے لیے الگ الگ خدا بنا رکھے ہیں اتنے خداؤں کے باوجود ہماری حاجات پوری نہیں ہوتیں اور انفرادی اور اجتماعی مشکلات کا مداوا نظر نہیں آتا تو ایک الٰہ ہماری مشکلات کس طرح حل کرسکتا ہے ؟
یہ عجب عقیدہ ہے جس کی یہ رسول دعوت دیتا ہے۔ اس دعوت کی مخالفت میں انہوں نے یہ بات طے کی کہ ہر قبیلے کا سردار اور اپنے اپنے خاندان میں لوگوں کو سمجھائے کہ لوگو ! اپنے اپنے خداؤں اور دیوتاؤں پر پکے رہو ! اگر تم نے کسی قسم کی غفلت اور سستی کا مظاہرہ کیا تو یہ شخص تم پر برتری حاصل کرلے گا۔ یہی اس کا مقصد ہے۔ جہاں تک اس کی دعوت کا تعلق ہے ہم نے کسی مذہب میں یہ بات نہیں سنی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ من گھڑت دعوت اور خود ساختہ عقیدہ ہے۔ مکہ والوں کی یہ بات بھی پہلی دو باتوں کی طرح بےبنیاد تھی۔ کیونکہ مکہ ہی میں ایسے لوگ موجود تھے جو پوری طرح سمجھتے تھے کہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) میں ایک الٰہ کی عبادت کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں۔ اسی بنا پر زید بن عمرو نے کعبۃ اللہ میں بیٹھ کر فی البدیع یہ اشعار کہے تھے۔
أَرَبّا وَاحِدًا أَمْ أَلْفَ رَبّ أَدِینُ إذَا تُقُسّمَتْ الْأُمُورُ
ایک خدا کو مانوں یا ہزاروں کو ؟ جب کہ تقدیر کے فیصلے ہوچکے ہیں
عَزَلْتُ اللّاتَ وَالْعُزّی جَمِیعًا کَذَلِکَ یَفْعَلُ الْجَلْدُ الصّبُورُ
میں نے لات اور عزیٰ سب کو چھوڑ دیا ہے۔ سمجھ دار آدمی ایسا ہی کیا کرتے ہیں
وَلَکِنْ أَعْبُدُ الرّحْمَنَ رَبّی لِیَغْفِرَ ذَنْبِی الرّبّ الْغَفُورُ
میں اپنے رب ” رحمن “ کی بندگی کرتا ہوں تاکہ وہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے اور وہ بڑا بخشنہار ہے۔
فَتَقْوَی اللّہِ رَبّکُمْ احْفَظُوہَا مَتَی مَا تَحْفَظُوہَا لَا تَبُورُوا
اللہ کا خوف اختیار کرو تم نے اسے اپنا لیا تو کبھی ناکام نہیں ہو گے [ سیرۃ ابن ہشام : باب شعر زیدحین یستقبل القبلۃ ]
نبوت کے انکار کے لیے اہل مکہ مختلف بہانے بنایا کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ نبوت کے منصب جلیلہ کے لیے معاشی اعتبار سے خوشحال، سیاسی لحاظ سے طاقتور اور خاندانی اعتبار سے کسی بڑے قبیلے کا سردار ہونا چاہیے تھا۔ پھر مکہ میں ابو الحکم بن ہشام یعنی ابوجہل اور کبھی طائف کے مختلف سرداروں کے نام لیتے تھے حالانکہ لوگوں کی نظروں میں آپ کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا نام جچتاہی نہیں تھا۔ کیونکہ سیرت و صورت کے حوالے سے آپ کا پلہ سب پر بھاری تھا۔ جب اس میں ناکامی کا منہ دیکھتے تو پروپیگنڈہ کرتے کہ روم کے فلاں شخص سے خفیہ پیغام رسانی کے ذریعہ یہ کلام پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید نے پہلے اور دوسرے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ نبوت تو سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انتخاب ہوتا ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا دل نور الٰہی کا اہل، کونسی زبان اس کے بیان کرنے پر قادر، اور کون سے کندھے اس بار گراں کو اٹھانے کے متحمل ہوسکتے ہیں۔[ الانعام : 124]
اہل مکہ اپنے دل میں یہ حقیقت تسلیم کرتے تھے کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کا رسول ہے لیکن محض تعصبات کی وجہ سے آپ پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ جس کا اس موقعہ پر یہ جواب دیا گیا ہے کہ دراصل انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا نہیں پایا جب اس کا عذاب نازل ہوگا تو ان کے بل درست ہوجائیں گے۔
مسائل
1۔ کفار تکبر کی بنیاد پر نبی آخر الزمان ﷺ کو جھوٹا اور جادوگر کہتے تھے۔
2۔ کفار نے منظم طریقے کے ساتھ دعوت توحید کو روکنے کی کوشش کی مگر سو فیصد ناکام رہے۔
تفسیر بالقرآن
الٰہ صرف ایک ہی ہے :
1۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
2۔ اللہ نے زمین کو جائے قرار بنایا اس میں پہاڑ اور دو سمندروں کے درمیان پردہ بنایا کیا اس کے ساتھ اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 61)
3۔ کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62)
4۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سواکون رہنمائی کرتا ہے کیا کوئی اور بھی اس کے ساتھ الٰہ ہے۔ (النمل : 63)
5۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنا اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ ہے کیا اس کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
6۔ آپ فرما دیں سوائے ایک الٰہ کے آسمان وز میں کے غیب کو کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
7۔ کیا کوئی ہے اس الٰہ کے سوا جو رات ختم کرکے دن لائے ؟ (القصص : 71)
8۔ الٰہ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ (البقرۃ : 163)
9۔ ا لٰہ تمہارا ایک ہی ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : 22)
10۔ آپ ﷺ فرما دیں میں تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف : 110)
11۔ الٰہ تمہارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ : 98)
12۔ آپ ﷺ فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ (الانبیاء : 108)
13۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : 24)
14۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے لیے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : 46)
15۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو میں تلاش کروں۔ (الاعراف : 140)
16۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73)
17۔ اعلان کردیں اللہ ہی ایک الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
Ayahs 38:11–16فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس سے پہلی اقوام پر اس لیے عذاب آئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے والے تھے۔ اہل مکہ ! تم بھی وہی وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہو جب کہ تم ایک جھٹکے کی ما رہو اور ناکامی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے مکہ والے اس قدر دلیر ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ کو بار بار کہتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ یہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ وہ لوگ تمرد میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ایک دن اپنے لیے ان الفاظ میں بد دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب قیامت کی بجائے دنیا میں ہی ہمارا حساب چکادے۔ انہوں نے اس طرح بھی دعا کی کہ ” کافروں نے کہا کہ اللہ اگر یہ قرآن حقیقت میں تیری طرف سے ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی دکھ کی مار نازل کر دے۔ “ (الانفال : 32)
انہیں ایک بار پھر سمجھایا اور موقعہ دیا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم بداخلاقی اور بغاوت کی تمام حدودپھلانگ چکے۔ مگر سوچ لو ! کہ جب اللہ کا عذاب یا قیامت نازل ہوگی تو پھر اس میں نہ کوئی وقفہ ہوگا اور نہ ہی مہلت دی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں محمد ﷺ کی صداقت پر شک نہیں۔ انہیں تو یہ شک ہے کہ اس غریب اور یتیم پر وحی کیوں نازل ہوئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں میری قدرت اور انتخاب پر شک کرتے ہیں۔ یہ شک کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے پیچھے ان کا تکبرچھپا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک بیت اللہ کے پڑوسی اور متولی ہونے کی وجہ سے میری نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جوں ہی میرا عذاب انہیں آلے گا تو ان کا سارا غرورخاک میں مل جائے گا۔ یا پھر ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں کہ یہ جسے چاہیں عنایت کریں اور جسے چاہیں محروم رکھیں ؟ یہ اس قدر تکبر کا اظہار کرتے ہیں کیا انہیں زمین و آسمان کی بادشاہت حاصل ہے ؟ کہ جب چاہیں آسمان پر چڑھ جائیں اور جب چاہیں زمین کے خزانے نکال لائیں ؟ ظاہر بات ہے کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ البتہ یہ بزعم خود اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لوگ قوم نوح کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہی ان کی حالت قوم عاد کے مقابلے میں ہے۔ قوم ثمود اور قوم شعیب اہل مکہ سے تعداد اور اسباب میں زیادہ تھیں لیکن جب ربِّ ذوالجلال نے گرفت فرمائی تو انہیں کوئی بچانے اور چھڑانے والا نہ تھا۔ جہاں تک فرعون کا معاملہ ہے وہ اتنے بڑے لاؤ لشکر رکھنے اور ظلم کرنے والا تھا کہ اپنے مخالفوں کو زمین پر لٹاکر ان پر میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔ مظلوم سسکیاں لے لے کر مرجاتے لیکن اسے تر س نہیں آیا کرتا تھا۔ جب اس پر اللہ کی گرفت آئی تو دہائی دیتا رہا ہے کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ لیکن اس کا ایمان مسترد کردیا گیا۔
اس موقعہ پر اہل مکہ کے سامنے فرعون اور بڑی بڑی اقوام کا ذکر کرکے انہیں بتلایا گیا ہے کہ سمجھ جاؤ اب بھی موقعہ ہے ورنہ جس عذاب کا تم باربار مطالبہ کرتے ہو جب وہ آجائے گا تو آہ وزاریاں کر وگے لیکن بےسود ثابت ہوں گی۔ اس کے ساتھ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو تسلی دی گئی ہے کہ اطمینان خاطر رکھو۔ اللہ کے ہاں نہ دیر اور نہ اندھیر ہے جب مقررہ وقت آپہنچے گا تو آپ کے مخالفوں کا پورا پورا حساب چکا دیا جائے گا جس طرح فرعون اور اس سے پہلی اقوام کا حساب چکایاجا چکا ہے۔
مسائل
1۔ اہل مکہ غرور کی بنیاد پر آپ ﷺ کی نبوت پر شک کرتے تھے۔
2۔ اہل مکہ اپنے سے پہلی اقوام سے بڑھ کر نہیں تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے تکبر کی انتہا کردی تھی۔
Ayahs 38:17–20فہم القرآن
ربط کلام : حالات سے دل گرفتہ ہونے کی بجائے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو صبر کرنے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذہن میں رکھنے اور ان کی طرح حوصلہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
کفار مکہ نے عجب صورت حال اختیار کر رکھی تھی۔ ایک مجلس میں کہتے کہ آپ ﷺ جادوگر ہیں۔ دوسری مجلس میں پروپیگنڈہ کرتے کہ آپ ﷺ پر جادو ہوچکا ہے۔ آپ توحید کی دعوت دیتے تو کہتے کہ یہ شخص کذّاب ہے۔ اندازہ کیجیے کہ جس شخص کا جادو اور جادوگروں سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو۔ جس نے زندگی بھر جھوٹ بولنا تو دور کی بات کبھی مغالطہ دینے والی بات نہ کی ہو۔ اس کے خلاف گھر گھر اور ہر مقام پر الزامات لگائے جارہے ہوں بحیثیت انسان اس کی کیا حالت ہوگی۔ اس صورت حال میں یہ فرمان نازل ہوا کہ اے محبوب ﷺ ! آپ اور آپ کے ساتھی صبر کا دامن نہ چھوڑیں اور داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ یاد کریں جو ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ اس کی قوت کا عالم یہ تھا کہ ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کردیا تھا ان کی زبان اس قدر پُر تاثیر تھی کہ جب وہ صبح شام زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ جھوم پڑتے ان کی تلاوت کے دوران اڑتے ہوئے پرندے رک کر ان کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی حکومت اور مملکت کو ہر اعتبار سے مضبوط کر رکھا تھا۔ بےمثال اقتدار اور اختیار کے ساتھ انہیں دانائی اور قوت فیصلہ کی صلاحیت سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اس کے سامنے دم مارنے اور اس کے فیصلے کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ آپس میں جھگڑنے والے دو شخص بلا اجازت اور اچانک ان کی عبادت گاہ میں دیوار پھلانگ کر گھس گئے۔ ان کے دیوار پھلانگنے اور اچانک اندرگھس آنے پر داؤد (علیہ السلام) گھبرائے اور خوف زدہ ہوگئے۔ گھس آنے والوں نے حضرت داؤد (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ہم سے خوف زدہ نہ ہوں۔ ہم تو آپ کی خدمت میں اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے استدعا ہے کہ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ صادر فرما دیں اور ہم میں سے کسی کیساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) جلیل القدر پیغمبر اور بہت بڑے حکمران تھے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہونے والوں نے زیادتی کی حد کردی تھی لیکن اس کے باوجود حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ان سے درگزر کرتے ہوئے ٹھنڈے دل سے ان کی بات سنی اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ فرمایا اور اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ ان میں سے ایک نے کہا یہ میرا بھائی ہے جو مجھ پر زیادتی کرنے پر تلا ہوا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے یہ مجھ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ اپنی دنبی بھی میرے حوالے کردے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کی بات سنکر فرمایا کہ اس کا تجھ سے دنبی کا مطالبہ کرنا سرا سر ظلم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر شراکت دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان دار اور صالح کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ یہ بات کرتے ہی داؤد (علیہ السلام) کو احساس ہوگیا کہ میرے رب نے مجھے اس مقدمہ میں آزمایا ہے۔ یہ احساس ہوتے ہی داؤد (علیہ السلام) اپنے رب سے معافی کے خواستگار ہوئے اور نہایت ہی عاجزانہ انداز میں اپنے رب کے حضور گڑ گڑ انے لگے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے اسے معاف کردیا۔ بلا شبہ وہ ہمارے ہاں بڑی شان اور بڑے مقام والا تھا۔ اس مقام پر داستان گوئی سے دلچسپی رکھنے والے مفسرین نے اسرائیلی روایات سے کچھ بےہودہ قسم کی باتیں درج کی ہیں۔ حالانکہ پیغمبر کے بارے میں ایسی باتیں سوچنا اور لکھنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اسی لیے مشہور مفسرامام ابن کثیر نے یہ کہہ کر خاموشی اختیار کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خطا ذکر کیے بغیر انہیں معاف فرما دیا تو ہمیں بھی اس خطا کی کھوج میں نہیں پڑنا چاہیے۔
(عَنْ نَافِعٍ ؓ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ؓ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ دُعِیَ فَلَمْ یُجِبْ فَقَدْ عَصَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَمَنْ دَخَلَ عَلَی غَیْرِ دَعْوَۃٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِیرًا۔ (قَالَ الْاَلْبَانِیُّ لَمْ تَتَمَّ دِرَاسَتُہٗ ) [ رواہ ابوداوٗد : باب مَا جَاءَ فِی إِجَابَۃِ الدَّعْوَۃِ ]
” نافع ؓ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی کی دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور جو بغیر اجازت کے دوسرے کے گھر میں داخل ہو اوہ چور بن کر داخل ہوا اور غاصب بن کر نکلا۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ﷺ لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَیْکَ بِغَیْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَہُ بِعَصَاۃٍ ، فَفَقَأْتَ عَیْنَہُ ، لَمْ یَکُنْ عَلَیْکَ جُنَاحٌ )[ رواہ البخاری : باب مَنْ أَخَذَ حَقَّہُ أَوِ اقْتَصَّ دُون السُّلْطَانِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی بندہ اجازت طلب کیے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا لاٹھی کے ساتھ اس کی آنکھ پھوڑ دے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ “
مسائل
1۔ ایک داعی اور مبلغ کو لوگوں کی ہرزہ سرائی پر صبر کرنا چاہیے۔
2۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) قوت والے ہونے کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتے تھے۔
3۔ حضرت داؤد کے ساتھ صبح، شام پہاڑ بھی اپنے رب کی حمد کرتے تھے۔
4۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سامنے پرندے بھی حاضر ہوتے تھے۔
5۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت بڑی مستحکم تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دانائی عطا فرمائی تھی۔
6۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بہت ہی اچھا خطاب فرمانے والے اور صحیح فیصلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی فضیلت اور صابر کا مقام و مرتبہ :
1۔ اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنے والوں کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 152)
2۔ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کرو۔ (البقرۃ : 153)
3۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ (الزمر : 10)
4۔ بیشک جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کا اظہار کرتے ہوئے صبر و استقامت کا ثبوت دیا انھیں کوئی خوف اور حز ن وملال نہیں۔ (الاحقاف : 13) 5۔ اللہ تعالیٰ صابر لوگوں کو ان کے صبر کی بہترین جزا دے گا۔ (النحل : 96)
6۔ جو لوگ صبر اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور اجرعظیم ہے۔ (ہود : 11)
7۔ صبر کرنے والوں کا انجام بہترین ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5) 8۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153)
Ayahs 38:21–25فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ کا اہم واقعہ۔
قرآن مجید کا یہ بھی انداز تکلم ہے کہ وہ بعض دفعہ اہم ترین واقعات کو سوالیہ انداز میں شروع کرتا ہے تاکہ سننے والا ہمہ تن گوش ہو کر بات سنے اسی بنا پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے پہلے نبی محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ کیا آپ کے پاس جھگڑنے والے دو آدمیوں کی خبر پہنچی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کے خلوت خانہ میں دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے تھے۔ یہاں سرمایہ دارانہ ذہن کی عکاسی کرتے ہوئے بتلا یا گیا ہے کہ ایک کے پاس ننانوے دنبیاں تھیں اور اس کے بھائی کے پاس ایک تھی ننانوے دنبی رکھنے والے کی حرص کا یہ عالم تھا کہ اسے اپنے بھائی کے ہاں ایک دنبی بھی گوارا نہ تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ سو دنبی رکھنے والے کا آپ کی دنبی کا مطالبہ کرنا ظلم ہے اور ایمانداروں کے سوا اکثر شراکت دار ایسا ہی کیا کرتے ہیں اس کے ساتھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے اپنے رب سے معافی طلب کی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ کیونکہ وہ اپنے رب کے بہت مقرب اور بہترین مقام کے حامل تھے اس کی تفصیل پہلی آیت کے تفسیر میں گزر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص دولت کا پجاری اور سرمایہ پرستی کا شکار ہوجائے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں مارکیٹ کے سارے کاروبار پر قبضہ کرلوں اور جب چاہوں لوگوں کو بلیک میل کروں اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ کہ ہمارے ملک میں کبھی اناج کے لوگوں کو چینی میسر نہیں ہوتی اور کبھی ایک ایک دانے کے پیچھے سرگرداں دکھائی دیتے ہیں اور یہی صورتحال بین الاقوامی مارکیٹ میں دکھائی دیتی ہے کہ سرمایہ دار طبقہ ہوس پرستی کی وجہ سے جب چاہتا ہے کسی چیز کا قحط پیدا کردیتا ہے۔ نبی آخر الزمان ﷺ نے ایسے لوگوں کی ہوس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَوْ أَنَّ لِإِبْنِ آدَمَ وَادِیًا مِّنْ ذَھَبٍ أَحَبَّ أَنْ یَکُوْنَ لَہٗ وَادِیَانِ وَلَنْ یَمْلَأَ فَاہُ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ ) [ رواہ البخاری : باب مایتقی من فتنۃ المال ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر آدم کے بیٹے کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اللہ جس پر چاہتا ہے توجہ فرماتا ہے۔ “
سرمایہ رکھنے والے حضرات میں اکثر طور پر رعونت پیدا ہوجاتی ہے وہ دولت کے بل بوتے پر ہر کسی پر حکم چلانا چاہتا ہے۔ اسی ذہن کی بدولت اہل مکہ نبی معظم ﷺ پر یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ آپ مال کے اعتبار سے کمزور اور سماجی حوالے سے یتیم ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ضرور ہی کسی شخص کو نبی بنانا تھا تو وہ طائف اور مکہ میں سے کسی سردار کو بناتا۔
(وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ )[ الزخرف : 31]
” کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی ایک پر کیوں نہ نازل کیا گیا۔ “
اسی ذہنیت کی بنیاد پر سو دنبی رکھنے والا شخص اپنے بھائی سے تحکمانہ انداز میں مطالبہ کرتا تھا کہ تجھے اپنے دنبی میرے حوالے کر دینی چاہیے۔ اس زیادتی کے باوجود غریب آدمی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ننانوے دنبی رکھنے والے کو بھائی کے لفظ سے پکارتا ہے۔ غریب اور امیر کی زبان میں یہ فرق ہے جو ہر دور میں دکھائی دیتا ہے۔
مسائل
1۔ لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔ 2۔ حکمران کو لوگوں کی صحیح راہنمائی کرنی چاہیے۔
3۔ بڑے لوگوں کو چھوٹے لوگوں کے حقوق غصب نہیں کرنے چاہیے۔
4۔ اکثر شراکت دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں۔
5۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے رب کے حضور استغفار کیا۔
6۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔
7۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے رب کے ہاں بڑے مقام والے تھے۔
Ayah 38:26فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) دنیا میں بڑے مرتبے اور مقام کے حامل تھے اور قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے مقرب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں خلیفہ بنا کر خصوصی ہدایات فرمائیں۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں بڑے بڑے حکمران اور ذیشان انبیائے کرام (علیہ السلام) ہوئے لیکن ان کی اولاد میں صرف حضرت داؤد (علیہ السلام) ایسی شخصیت ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے بعد خلیفہ فی الارض ہونے کا اعزاز بخشا۔ اس لیے انہیں ارشاد ہوا کہ اے داؤد (علیہ السلام) ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا تیرا فرض بنتا ہے کہ تو لوگوں کے درمیان حق اور سچ کے ساتھ فیصلے کرے۔ تجھے کسی صورت بھی حق بات چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر تو اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑے گا۔ تو اللہ کے راستے سے بھٹک جائے گا جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہوگا کیونکہ انہوں نے آخرت کے حساب کو فراموش کردیا تھا۔
” خَلِیْفَۃٌ“ کا معنٰی ہے ” دوسرے کے پیچھے آنے والا “ البقرۃ کی آیت 30 کی تشریح میں عرض کیا جا چکا ہے کہ خلیفہ کا معنٰی اللہ تعالیٰ کا نائب نہیں بلکہ اس کا معنٰی حکمران کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے پہلے زمین میں جنات رہتے تھے ان کے بعد دنیا کا نظام کے حوالے کیا گیا جس بنا پر آدم (علیہ السلام) کو خلیفہ فی الارض کے لقب سے نوازا گیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بکریوں کے چرواہے تھے۔ اپنے دور کے ایک جرنیل طالوت کی فوج میں شامل ہوئے جن کا مقابلہ جالوت کے ساتھ ہوا۔ داؤدنے اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے جس کی وجہ سے فوج کے کمانڈر کے مقبول نظر ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حسن و جمال اور کمال صلاحیتوں سے سرافراز فرمایا تھا اس لیے بہت جلد اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز کیا اور بےمثال حکمران بنایا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) کو خلیفہ فی الارض ہونے کا شرف بخشا۔
2۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) خلیفہ ہونے کے ساتھ عظیم حکمران بھی تھے۔
3۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا گمراہ ہوجاتا ہے۔
4۔ قیامت کے دن گمراہ لوگوں کو شدید عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ زمین میں لوگوں کو ایک دوسرے کا خلیفہ بنا تا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30)
2۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے ضرور خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا۔ (النور : 55)
3۔ اللہ چاہے تو تمہیں اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا خلیفہ بنادے۔ (الانعام : 133)
4۔ تمہارا رب جلد ہی تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور ان کے بعد تم کو خلیفہ بنائے گا۔ (الاعراف : 129)
5۔ پھر ہم نے زمین میں ان کے بعد تمہیں خلافت دی تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (یونس : 14)
6۔ میرا رب تمہارے سوا کسی اور کو خلافت دے دے تو تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ہود : 57)
اپنی یا لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے والے گمراہ ہوجاتے ہیں :
1۔ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے لگنے والا گمراہ ہوجاتا ہے۔ (صٓ: 26)
2۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا تباہ ہوجاتا ہے۔ (طٰہٰ : 16)
3۔ سب سے بڑا گمراہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے والا ہے۔ (القصص : 50)
4۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا خواہشات کو اِلٰہ بنا لیتا ہے۔ (الفرقان : 43)
5۔ حق کو چھوڑ کر خواہشات کی پیروی کرنے سے زمین و آسمان میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ (المومنون : 71)
Ayahs 38:27–28فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ آخرت کے حساب کو بھول گئے اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں وہ زینًا یا عملاً سمجھتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو بےمقصد پیدا کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے ذمے کچھ ذمہ داریاں لگائیں ہیں جن کا حساب دینا پڑے گا۔
اس سے پہلی آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حوالے سے ہر شخص کو بتلایا اور سمجھایا ہے کہ اپنی خواہش کے پیچھے نہیں لگنا۔ جو اپنی خواہش کے پیچھے چلا وہ گمراہ ہوا۔ اس کی گمراہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ قیامت کے حساب و کتاب کو بھول چکا ہے۔ جو قیامت کے حساب کو بھول گیا وہ زبان سے کہے یا نہ کہے اس کا عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس دنیا کے بعد کوئی جہان نہیں جو کچھ دنیا میں ہوا سو ہوا۔ اس سے آگے کچھ نہ ہوگا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں میں کوئی چیز بےکار اور بےمقصد پیدا نہیں کی۔ ایسا تو وہ لوگ سوچتے اور کہتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے انکاری ہیں۔ انکار کرنے والوں کے لیے آگ کا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ کیا ایمان داروں اور نیک اعمال کرنے والوں کو دنیا میں فساد کرنے والوں کے برابر کردیا جائے گا ؟ کیا اللہ سے ڈر کرز ندگی گزارنے والوں اور فسق وفجور کرنے والوں کو ایک جیسا سمجھاجائے گا ؟ ظاہر بات ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہاں کفار کو مفسدین کہا گیا ہے اسے لیے کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کا نظام یوں ہی چلتا رہے گا اور قیامت قائم نہیں ہوگی گویا کہ وہ اپنے اعمال کی جوابدہی کا انکار کرتے ہیں اس عقیدہ کی بنا پر یہ لوگ دنیا میں فساد کا موجب ہوتے ہیں۔ کائنات کو پیدا کرنے کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہیں ایک مقصد تو یہ ہے کہ ہر چیز اپنے خالق کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کی عبادت اور اطاعت کرتی رہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اپنے خالق کے حکم کے مطابق انسان کی خدمت کرے۔ جو شخص آخرت کو فراموش کردیتا ہے وہ نہ تو اپنے خالق کا تابعدار رہتا ہے اور نہ ہی ٹھیک طور پر بندوں کے حقوق پورے کرتا ہے۔ ظاہر بات ہے جب حقداروں کے حقوق پورے نہیں ہوں گے تو اس کا نتیجہ فساد ہوگا۔ سوچیں کہ فساد کرنے اور فساد نہ کرنے والے کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟
(ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ قُلْ سِیْرُوْا فِے الْاَرْضَ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّشْرِکِیْنَ ) [ الروم : 41، 42]
” لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے تاکہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھایاجائے شاید کہ وہ باز آجائیں۔ اے نبی ان سے کہو کہ زمین میں چل کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا ہے، ان میں سے اکثر مشرک تھے۔ “ (الرّوم : 41، 42)
مسائل
ُ 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور کسی چیز کو بےمقصد پیدا نہیں کی۔
2۔ دنیا کو بےمقصد سمجھنے والے کافر ہیں کفار کو جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔
3۔ کافر فی الحقیقت فساد کرنیوالے ہیں اور مؤمن امن پسند ہوتے ہیں۔ 4۔ متقی اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔
تفسیر بالقرآن
مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے :
1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ (السجدۃ : 18) 2۔ کیا اندھا اور بینا، بہرا اور سننے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ (ہود : 24)
4۔ اللہ تعالیٰ مجرموں اور مومنوں کو برابر نہیں کرے گا۔ (القلم : 35۔ 36)
5۔ کتاب اللہ پر ایمان لانے والا اور نہ لانے والا برابر نہیں ہوسکتے۔ (الرّعد : 19)
6۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والا اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔ (المومن : 58)
7۔ نیک اعمال کرنے والے اور فساد کرنے والے اور متقین اور گنہگار برابر نہیں ہوسکتے۔ (صٓ: 28)
Ayah 38:29فہم القرآن
ربط کلام : فساد سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے ارشاد ات پر عمل کیا جائے۔
فساد سے امن وامان تباہ ہوتا ہے جہاں امن وامان تباہ ہوگا وہاں سے برکات اٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا دنیا کی برکات اور آخرت کے ثمرات حاصل کرنے کے کا واحد راستہ اور طریقہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید پر غور و فکر کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ یہی عقل مندی ہے اور عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ یہی بات جنت سے نزول کے وقت آدم (علیہ السلام) کو بتلائی گئی تھی۔ سب نیچے اتر جاؤ۔ میری طرف سے تمہیں ہدایت پہنچے گی جو لوگ میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کو نہ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غم زدہ ہوں گے۔ “ ( البقرۃ : 38)
” اور اگر بستیوں والے واقعی ایمان لے آتے اور ڈرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکات کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے جھٹلایا ہم نے انہیں اس وجہ سے پکڑ لیا جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (الاعراف : 96)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا جو بابرکت کتاب ہے۔
2۔ قرآن مجید پر غور کرنا چاہیے۔ 3۔ عقل مندوں کو قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
غوروفکر کرنے کا حکم :
1۔ حق پہچاننے کے لیے آفاق پر غور کرنے کی دعوت۔ (حٰمٓ السجدۃ : 53)
2۔ اپنی ذات پر غور وفکر کی دعوت۔ (الذاریات : 21) 3۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص : 72)
4۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون : 80) 5۔ شہد کی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت۔ (النحل : 69)
6۔ ہم نے بابرکت کتاب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ (ص : 29)
Ayahs 38:30–33فہم القرآن
ربط کلام : اولوالباب میں سے دو عظیم عقل مندوں کا کردارپیش کیا جاتا ہے۔
اسی سورة میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے محبوب ﷺ ! ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد فرمائیں جو طاقت ورہونے کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے اس کے لیے پہاڑ اور پرندے مسخر کیے تھے۔ ہم نے اس کی مملکت کو مضبوط کیا اور اسے فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ ہم نے ہی اسے سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا۔ سلیمان (علیہ السلام) بھی بہترین بندہ اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا تھا، اس کا اہم واقعہ یہ ہے کہ جب شام کے وقت اس کے سامنے سکھلائے ہوئے تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے تو اس نے کہا کہ میں نے اللہ کے لیے ان گھوڑوں سے محبت کی ہے۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے اس کی نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔ حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو میرے سامنے پیش کیا جائے۔ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے تو سلیمان (علیہ السلام) پیار سے گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ اس آیت کریمہ کی تشریح میں مفسرین نے دو آراء کا اظہار فرمایا ہے۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کی دوڑ لگوائی۔ دوڑ کے بعد حکم دیا کہ گھوڑے میرے سامنے پیش کیے جائیں۔ جب گھوڑے ان کی خدمت میں پیش کیے گئے تو وہ پیار کرتے ہوئے گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی عصر کی نماز یا خاص ذکر جو غروب آفتاب سے پہلے کرتے تھے وہ بھول گئے۔ اس مصروفیت میں نماز مغرب کا وقت ہوگیا۔ اس پر انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ پر افسوس ! کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اللہ کا ذکر بھول گیا ہوں۔ اس پر انہوں نے تمام گھوڑوں کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹ دیں۔ یہ تفسیر کرنے والے حضرات میں سے کچھ کا خیال ہے کہ گردنیں اور ٹانگیں کاٹنے سے مراد انہوں نے تمام گھوڑے اللہ کی راہ میں ذبح کردئیے۔ یاد رہے کہ گھوڑا ہماری شریعت میں بھی حلال ہے آج بھی انڈونیشیا، قازقستان، ترکستان اور وسطی ریاستوں میں گھوڑے اس طرح ہی ذبح کیے جاتے ہیں جس طرح پاکستان اور دوسرے ممالک میں گائے، اونٹ، دبنے، چھترے اور بکرے ذبح کیے جاتے ہیں۔
جن بزرگوں نے اس آیت کا ترجمہ درج ذیل کیا ہے ان میں ماضی قریب کے مفسر شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ اور مفکرمولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی شامل ہیں۔ ان بزرگوں کا خیال ہے کہ عربی گرائمر کے لحاظ سے یہ ترجمہ کیا جائے کہ ” میں نے اس مال یعنی گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کے لیے کی ہے “ تاکہ گھوڑوں پر سوار ہو کر جہاد کیا جائے جس سے دین کو غلبہ حاصل ہو اس لیے انہوں نے گھوڑوں کی دوڑلگوائی۔ یہاں تک کہ وہ دور نکل گئے اور سلیمان (علیہ السلام) کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔ تب انہوں نے حکم دیا کہ گھوڑوں کو واپس لایا جائے۔ جب گھوڑے ان کے حضور پیش کیے گئے تو پیار کرتے ہوئے گھوڑوں کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مغرب ہوگئی اور عصر کی نماز یا خاص ذکر بھول گئے۔ اس تفسیر کے مطابق اس آیت مبارک کا ترجمہ یوں ہوگا ” انہوں نے کہا میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے۔ “ (ص : 32، 33)
مسائل
1۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی اپنے باپ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرح اللہ تعالیٰ کے نبی اور محبوب ترین بندے تھے۔
2۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی اپنے باپ کی طرح ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
تفسیر بالقرآن
انبیائے کرام (علیہ السلام) ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے تھے :
1۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور رحم نہیں فرمائے گا تو ہم یقیناً نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : 23)
2۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اپنی بےقراری اور غم کی شکایت صرف اللہ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ (یوسف : 86)
3۔ زکریا (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ (الانبیاء : 89)
Ayahs 38:34–35فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا واقعہ۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی آزمائش کے لیے بہت سے طریقے ہیں جن میں دو بڑے طریقے یہ ہیں۔ کبھی اپنے بندے کو نعمت دے کر آزماتا ہے اور کبھی اس سے نعمت چھین کر آزمائش کرتا ہے۔ پہلے واقعہ میں سلیمان (علیہ السلام) کو گھوڑوں کے ذریعے آزمایا گیا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائے تھے۔ اس واقعہ میں ان سے نعمت چھین کر آزمایا گیا جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا اور کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔ اس حال میں سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور دعا کی کہ اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔
کچھ مفسرین نے حضرت سیلمان (علیہ السلام) کی دعا کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ ایک پیغمبر کی یہ شان نہیں کہ وہ اقتدار کی خواہش کرے۔ اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ کسی شخض کے سامنے منصب اور اقتدار کی خواہش کرنا جائز نہیں اور نہ ہی پیغمبر کی یہ شان ہے کہ وہ منصب اور اقتدار کے لیے کوشش کرے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اقتدار کی خواہش کا اظہار کسی انسان کے سامنے تو نہیں کیا۔ انہوں نے اقتدار کی خواہش اور دعا اپنے رب کے حضور کی ہے جس سے ہر وقت اور ہر چیز کا سوال کیا جاسکتا ہے۔ وہی اقتدار اور سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔ اس کے بغیر تو کہیں سے کچھ بھی نہیں مل سکتا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے وقت کے نبی تھے۔ ان سے بڑھ کر کس کی خواہش ہوسکتی ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو اور لوگ خوشحال ہوں۔ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے دین کے غلبہ اور لوگوں کی فلاں کے لیے ہی اللہ کے حضور یہ درخواست کی تھی کہ مجھے ایسا اقتدار نصیب فرما جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔ جہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کا معاملہ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک ناقص جسد رکھ دیا۔ اس آزمائش کے بارے میں مفسرین نے تین قسم کی تفسیر کی ہے۔ 1 حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس بنا پر وہ جن و انس، پرندوں اور ہواؤں پر کنٹرول کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انگوٹھی گم ہوگئی جو شیطان کے ہاتھ چڑھ گئی۔ شیطان حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل اختیار کرکے کچھ دن ان کی کرسی پر براجمان ہو کر حکومت کرتا رہا لیکن اس کی عادتیں دیکھ کر لوگوں کو شک پڑا کہ یہ سلیمان (علیہ السلام) نہیں ہیں۔ پھر کسی طریقہ سے انگوٹھی سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ آئی اور وہ دوبارہ حکومت کرنے لگے۔ 2 حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک دن اپنے دل میں یہ بات کہی کہ میں ایک ہی رات میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کروں گا۔ ان سے بیٹے پیدا ہوں گے جو میدان کارزار میں میرے شانہ بشانہ ہو کر جہاد کریں گے۔ لیکن یہ بات کہتے ہوئے انشاء اللہ کہنا بھول گئے انہوں نے حسب ارادہ اپنی تمام بیویوں سے جماع کیا جن کی تعداد ستر سے زائد تھی ایک کے سوا کوئی بیوی بھی حاملہ نہ ہوئی جس نے بچہ جنم دیا وہ بھی ناقص الوجود تھا جسے ملازم نے اٹھا کر کرسی پر رکھ دیا۔ جہاں تک بیویوں کے ساتھ ہم بستری کا معاملہ ہے اس سے بعض مفسرین نے یہ بات سمجھ لی کہ یہ حدیث اسی آیت کی تفسیر ہے اس لیے انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اس آیت میں جس جسدِناقص کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی واقعہ ہے حالانکہ محدثین کے سرخیل حضرت امام بخاری (رح) نے کتاب التفسیر میں اس آیت کے ضمن میں یہ حدیث نقل نہیں کی۔
جہاں تک کثرت ازواج کا معاملہ ہے پہلے زمانہ میں لوگ اس قابل ہوتے تھے کہ وہ بیک وقت اتنی بیویوں کے حقوق ادا کرلیں۔ اس ضمن میں کئی غیرمسلم حکمرانوں کی مثالیں بھی موجود ہیں لیکن نزول قرآن کے بعد یہ پابندی عائد کردی گئی کہ کوئی آدمی بیک وقت چاربیویوں سے زائد بیوی نہیں رکھ سکتا اگر اس میں غیر معمولی طاقت ہو تو وہ شریعت کے اصول و ضوابط پورے کرتے ہوئے چار بیویوں کے ساتھ لونڈیاں رکھ سکتا ہے۔ ایک رات میں بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کے بارے میں کچھ لوگوں نے اس بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے جس وجہ سے انہوں نے مستند حدیث کو ماننے سے انحراف کیا ہے۔ حالانکہ وہ بھی مانتے ہیں کہ پیغمبر میں عام لوگوں کی نسبت غیر معمولی صلاحیتیں ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو مختلف قسم کے معجزات سے سرافراز فرمایا تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ بات بھی معجزات میں شامل ہو۔
3 امام رازی ؓ نے یہ تفسیر کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک دفعہ شدید بیمار ہوئے جس وجہ سے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے اس حالت میں اپنی کرسی پر تشریف فرما تھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی کہ بار الہا ! مجھے ایسا اقتدار نصیب فرما جو میرے بعد کسی کو نہ مل سکے۔ اس دعا کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت اور ایسا اقتدار عنایت کیا جو قیامت تک کسی شخص کو حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری تفاسیر کی نسبت امام رازی ؓ کی تفسیر صائب لگتی ہے۔ اللہ اعلم
یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد :
یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جس کی ابتدا میں کفار کی منفی سوچ اور سر گرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جونہی نبی آخر الزمان ﷺ نے ” لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ کی دعوت پیش کی تو مکہ کے سرداروں نے کہا کہ اے لوگو ! اپنے اپنے خداؤں پر جمے رہنا یہ شخص جادو گر اور جھوٹا ہے اس لیے ہمیں اس کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی اور نہ ہی ہم نے اس سے پہلے کبھی یہ بات سنی ہے۔ اس طرح مکہ میں حق و باطل کی کشمکش اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دونوں واقعات سے نبی ﷺ کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ آپ کو یہ فکر لاحق نہیں ہونی چاہیے کہ میرے پاس اقتدار اور وسائل ہوتے تو کفار یہ رویہ اختیار نہ کرتے۔ اے محبوب ﷺ ! لازم نہیں کہ کسی مبلّغ کے پاس اقتدار اور اختیارہی ہو تو وہ کامیاب ہو۔ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے۔ یاد رہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ” اللہ “ کے نبی ہونے کے ساتھ بےمثال حکمران بھی تھے لیکن ان کے دور میں بھی تمام لوگوں نے ان کا حکم نہیں پڑھا تھا۔ (البقرۃ : 103)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی آزمائش کی جس میں انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور پورے اترے۔
2۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے آزمائش کے وقت اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی۔
3۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے غیر معمولی اقتدار کی دعا کی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز عطا فرمانے والا ہے :
1۔ اللہ ہی خلافت عطا کرتا ہے۔ (الانعام : 133، الاعراف : 129) 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء : 125)
3۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30) 4۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : 35)
5۔ ادریس (علیہ السلام) کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : 57) 6۔ داؤد (علیہ السلام) کو اللہ نے دانائی عطا فرمائی۔ (ص : 20)
7۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ : 12 تا 14) 8۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (النساء : 171)
9۔ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے حکمرانی اور انتہا درجہ کی پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف : 31)
Ayahs 38:36–40فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایسے اختیارات دیئے جو کسی حکمران کو حاصل نہیں ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا وہ ملک کے جس حصے کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ ہوا انہیں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی وہ دو ماہ کا سفر صبح و شام طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے دیو ہیکل جِنّات کو ان کے تابع کردیا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جِنّوں کو مختلف کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ ایک جماعت کو تعمیرات کے کام پر لگایا اور دوسری جماعت کو سمندر پر مامور کیا جو غوطہ زنی کرتے ہوئے سمندر سے ہیرے جواہرات نکالا کرتے تھے۔ ان میں سے کوئی سرکشی کرتا تو انہیں بڑی بھاری بھرکم زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا اور سخت سزا دی جاتی تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان کو اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو انہیں معاف کردیں اگر چاہیں تو انہیں سزا دیں۔ اس پر آپ پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے ایک طرف انہیں عظیم ترقی یافتہ مملکت کا فرما نروا بنایا اور دوسری طرف اپنے ہاں قرب حضوری بخشا اور اعلیٰ مقام سے سرفراز کیا۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے جنات اور ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا۔ 2۔ اللہ کے ہاں سلیمان (علیہ السلام) بڑے مرتبہ کے حامل تھے۔