Ayahs 38:41–44فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا شان و شکوہ بیان کرنے کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بےبسی اور تکلیف کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ایوب ہمارا پسندیدہ بندہ تھا۔ اے نبی ﷺ ! ان کی بیماری اور کمزوری کا لوگوں کے سامنے تذکرہ کریں کہ انتہا درجہ کی بیماری اور کمزوری کے باوجود اس نے اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کی رضا پر راضی رہا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) اس قدر بیمار ہوئے کہ چلنے پھرنے سے بھی عاجز آگئے۔ مفسرین نے لکھا کہ اس دوران ان کا مال بھی تباہ ہوا اور ایک بیوی کے سوا باقی بیویاں ان سے الگ ہوگئیں۔ شدید بیماری اور شدید ترین آزمائشوں کے باوجود ایوب (علیہ السلام) کی زبان پر کوئی حرف شکایت نہ آیا جب بھی ہونٹ ہلے تو اپنے رب کے حضور فریاد کی کہ میرے رب ! مجھے شیطان نے سخت تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔ صبر اور ادب کا انذازہ کیجیے کہ بیماری کی نسبت اپنے رب کی طرف کرنے کی بجائے شیطان کی طرف کی ہے کیونکہ ہر تکلیف اور نقصان کا بنیادی سبب شیطان کی شیطنت کا نتیجہ ہوتا ہے اگر کسی بد پرہیزی کی وجہ سے انسان بیمار ہو تو اس بدپرہیزی کے پیچھے بھی شیطان ہی ہوتا ہے۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) کی دعا مستجاب ہوئی اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم فرمایا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو جونہی انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا تو اللہ تعالیٰ نے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ جاری کیا اور حکم فرمایا کہ اے ایوب (علیہ السلام) اس میں غسل کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں شفا کاملہ عطا فرمائی۔ ایک طرف حضرت ایوب (علیہ السلام) صحت یاب ہوئے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے انہیں نیک اہل و عیال عطا فرمائے اور ان کے ساتھ اور بہت کچھ دیا۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ سخت بیماری کی وجہ سے جو بیویاں چھوڑ گئی تھیں وہ بھی بچوں سمیت واپس آگئیں جن سے اللہ تعالیٰ نے مزید اولاد عنایت فرمائی اور تباہ ہونیوالے مال کے بدلے بہت سا مال بھی عطا فرمایا۔ اس میں بہت سی نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو صاحب عقل ہیں۔ اسرئیلی روایات کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ بیماری کے دوران حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کے پاس انسان کی شکل میں شیطان آیا اور اس نے کہا کہ میں آپ کے خاوند کا اس شرط پر علاج کرتا ہوں کہ اگر وہ صحت یاب ہوجائے۔ تو پھر تو نے یہ الفاظ کہنا ہوں گے یہی میرے علاج کا معاوضہ ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے آپ ( علیہ السلام) کی خاطر وہ الفاظ کہنے کا وعدہ کرلیا بعد ازاں اس کا ذکر حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کیا تو وہ اس بات پر سخت نالاں ہوئے اور فرمایا کہ یہ انسان نہیں بلکہ شیطان تھا جس نے تجھ سے ایسے الفاظ کہلوانے کا وعدہ لیا ہے۔ جن میں شرک پایا جاتا ہے جن مفسرین نے اس روایت کو تسلیم نہیں کیا ان کا خیال ہے کہ حضرت ایوب کسی اور بات سے اپنی بیوی پر خفا ہوئے تھے۔ اس پر ایوب (علیہ السلام) نے قسم اٹھائی کہ جب میں صحت مند ہوں گا تو تجھے سو کوڑے ماروں گا جب ایوب (علیہ السلام) چشمہ سے غسل کرنے کے بعد صحت یاب ہوگئے تو انہوں نے اپنی قسم پوری کرنے کا عزم کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ قسم توڑنے کی بجائے اسے اس طرح پورا کرو کہ سو تنکے کا جھاڑو لے کر اپنی بیوی کو ایک ضرب لگاؤ جس سے ہمارے ہاں تمہاری قسم پوری ہوجائے گی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو خراج تحسین سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اسے بڑے حوصلے والا پایا وہ بہت ہی اچھا انسان اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا۔ اس واقعہ میں ایک طرف نبی ﷺ کو شکر ادا کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے اور دوسری طرف آپ کو سمجھایا ہے کہ آپ کے رب نے آپ کو مثالی صحت سے ہمکنار فرمایا ہے لہٰذا خدمت دین کا کام کرتے رہیں اور مشکلات پر صبر کرتے جائیں۔ امت مسلمہ کو یہ سبق دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر نعمت دینے والا ہے اور وہی اس سے محروم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اللہ کا بندہ وہ ہے جو مشکل کے وقت صبر سے کام لے اور آسانی کے وقت اس کا شکر ادا کرے۔ گویا کہ ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والاہی اس کا پسندیدہ بندہ ہوتا ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ بَیْنَمَا أَیُّوبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَہَبٍ ، فَجَعَلَ یَحْثِی فِی ثَوْبِہِ ، فَنَادَی رَبُّہُ یَا أَیُّوبُ ، أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی قَالَ بَلَی یَا رَبِّ ، وَلَکِنْ لاَ غِنَی لِی عَنْ بَرَکَتِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الانبیاء ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا حضرت ایوب غسل فرما رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے سونے کی ٹڈیاں آسمان سے برسائیں۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں پکڑ پکڑ کر کپڑے میں ڈالنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) سے استفسار فرمایا کہ ایوب ! کیا ہم نے سب کچھ دے کر تجھے غنی نہیں کردیا ؟ ایوب (علیہ السلام) کہنے لگے کیوں نہیں لیکن میں آپ کی رحمت سے لا پروا نہیں ہوسکتا۔ “
قسم کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان :
” حضرت زھدم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس تھے وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم ﷺ کے پاس اشعری قبیلہ کے کچھ افراد کے ہمراہ اس وقت حاضر ہوا جب آپ غصہ میں تھے۔ ہم نے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ نے قسم اٹھائی کہ میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا۔ پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کی مشیّت شامل حال ہو تو جس کام پر میں قسم کھاتا ہوں اگر میں اس کے بجائے دوسرے کام کو بہتر سمجھوں تو میں افضل کام کرنا پسند کرتا ہوں اور قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب الیمین فیما لایملک الخ ]
(وَعَنْ عُقْبَۃَ ابْنِ عَامِرٍ ؓ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ کَفَّارَۃُ النَّذْرِ کَفَّارَۃُ الْیَمِیْنِ )[ رواہ مسلم : باب فِی کَفَّارَۃِ النَّذْرِ ]
حضرت عقبہ بن عامر ؓ رسول کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نذر کا کفارہ وہی ہے ‘ جو قسم کا کفارہ ہے۔ “
مسائل
1۔ ایوب (علیہ السلام) نے بیماری کو شیطان کی طرف منسوب فرمایا۔ 2۔ ایوب (علیہ السلام) نے صرف اپنے رب سے شفا طلب کی۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دوبارہ اہل و عیال عطا کیے اور بہت سی نعمتوں سے نوازا۔
4۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنے رب کے بہترین بندے اور ہر حال میں اس کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی مشکلات دور کرنے والا ہے :
1۔ اللہ ہی کو پکارو وہی تکلیف دور کرتا ہے۔ (الانعام : 41) 2۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف دور کرنے والا نہیں۔ (الاسراء : 56)
3۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوجائے تو سوائے اللہ کے اسے کوئی نہیں دور کرسکتا۔ (یونس : 107)
4۔ کون ہے جو اللہ کے سوا مجبور کی دعا سننے والا اور مصیبت دور کرنے والا ہے ؟ (النمل : 62)
5۔ کہہ دیجیے اگر اللہ تعالیٰ نقصان پہچانے پر آئے کیا تو اس نقصان سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ (الفتح : 11)
6۔ کیا تم ایسے لوگوں کو معبود مانتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : 16)
Ayahs 38:45–49فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد ان کے جدّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور کچھ دوسری شخصیات کا مختصر بیان۔
سورة ہود کی آیت 71 میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ جس طرح یہ حضرات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ان میں یکساں طور پر ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ یہ حضرات ہاتھوں اور آنکھوں والے یعنی صاحب قوت، سخی اور صاحب بصیرت تھے۔ یہ بات حقیقت ہونے کے ساتھ ہر زبان میں محاورہ کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے کہ فلاں شخص آنکھیں اور ہاتھ رکھتا ہے۔ جس کا معنٰی ہے کہ یہ شخص ہوشیار، طاقتور اور فیاض ہے۔ جو کام کرنا چاہیے کرسکتا اور اسے اندھو وں کی طرح نہیں بلکہ سوچ، سمجھ کر کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ طاقت اور بصیرت رکھنے والا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طاقت رکھنے والے لوگ فہم و بصیرت سے کورے ہوتے ہیں اور صاحب بصیرت لوگ قوت کے استعمال میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان شخصیات کو بصیرت کے ساتھ قوت فیصلہ بھی دی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دعوت دین کے لیے وسائل بھی دیئے اور بصیرت سے سرفراز بھی فرمایا۔ ان کی بصیرت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کسی کام کے پیچھے دنیا کی غرض نہ تھی۔ وہ جو کام کرتے قیامت پر نظر رکھتے ہوئے کرتے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں آخرت میں بھی پسند فرما لیا اور دنیا میں بھی وہ ” اللہ “ کے بہت ہی پسندیدہ اور نیک بندے تھے۔
ذالا ید کا مفہوم :
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں بعض نے آپ سے پوچھا کہ ہم میں سے کون سی بیوی آپ سے جنت میں پہلے ملے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ چناچہ انہوں نے چھڑی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو ناپنا شروع کیا تو سودہ ؓ کے ہاتھ سب سے لمبے تھے لیکن ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ہاتھ لمبے ہونے سے مراد زیادہ صدقہ دینا تھا۔ چناچہ ہم سے جو پہلے آپ ﷺ سے ملیں وہ زینب ؓ تھی جو صدقہ و خیرات کرنے کو بہت پسند کرتی تھی۔ (بخاری) مسلم کی روایت میں ہے حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا رسول معظم ﷺ نے فرمایا جنت میں مجھے سب سے پہلے وہ بیوی ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کی بیویاں اندازہ لگاتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں چناچہ ہم میں سے زینب کے ہاتھ لمبے ثابت ہوئے اس لیے کہ وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی صدقہ و خیرات کردیا کرتی تھیں۔ “ [ متفق علیہ : باب الانفاق وکراھیۃ الامساک ]
مسائل
1۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیر معمولی اقتدار اور اختیارات رکھنے کے باوجود اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
2۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) شدید بیماری اور سخت ترین آزمائشوں میں صابر رہے اور صرف اپنے رب سے فریاد کرتے رہے۔
3۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے نعمتیں چھن جانے کے وقت صبر کیا اور نعمتیں ملنے کے بعد شکر ادا کیا۔
4۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت اسماعیل حضرت الیاس اور ذوالکفل اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور آخرت پر نظر رکھنے والے تھے۔
5۔ پرہیزگاروں کے لیے آخرت میں بہترین مقام ہوگا۔
Ayahs 38:50–54فہم القرآن
ربط کلام : متقین کو جہاں رکھا جائے گا اس کی سہولیات اور انعامات کا مختصر بیان۔
متقین کے لیے ہمیشہ ہمیش کے باغات اور محلات ہوں گے۔ جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے ہوں گے۔ یعنی جنت کی حوریں اور نعمتیں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ یہ ہر زبان میں ایک محاورہ بھی ہے۔ جو مہمان کے لیے میزبان کی طرف سے بولا جاتا ہے کہ آپ جب آنا چاہیں ہمارے دروازے ہر وقت آپ کے لیے کھلے ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ جنتی جنت میں ایک دوسرے کے سامنے تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے اور ان کے کھانے پینے کے لیے کثیر تعداد میں ہر قسم کے پھل اور مشروبات ہوں گے جس میں شراب طہور بھی ہوگی، جنہیں جنتی طلب فرمایں گے جو فی الفور ان کے سامنے پیش کر دئیے جائیں گے ان کے پس ان کی ہم عمر اور ہم مزاج بیویاں ہوں گی جن کی حیا کا عالم یہ ہوگا کہ وہ اپنے خاوندوں کو اس طرح دیکھیں گی جس طرح ایک باحیا بیوی سہاگ کی رات اپنے خاوند کو دیکھتی ہے۔ اسی طرح ہی نیک عورتوں کو ان کے ہم عمر اور ہم مزاج خاوند ملیں گے۔ لیکن قرآن مجید حیا دارانہ اسلوب کی وجہ سے عورتوں کے لیے کھلے الفاظ میں یہ بات بیان نہیں کرتا ہے کہ انہیں ان کی پسند کے خاوند دیئے جائیں گے۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا إِنْ شِءْتُمْ (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآاُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں، جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال پیدا ہوا۔ اگر چاہو تو اس آیت کی تلاوت کرو۔ (کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے) ۔ “
مسائل
1۔ جنتیوں کے لیے جنت کے دروازے کھول دئیے جائیں گے۔
2۔ جنتی جنت میں تکیوں پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے کھانے پینے میں مصروف ہوں گے۔
3۔ جنت کی عورتیں بےانتہا حیادار ہوں گی۔ 4۔ جنت میں میاں بیوی ہم عمر اور ہم مزاج ہوں گے۔
تفسیر بالقرآن
جنت کی بیویاں اور نعمتیں :
1۔ جنت کی بیویاں پاک ہونگی۔ (البقرۃ : 25) 2۔ خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں والیاں ہونگی۔ (الصّٰفّٰت : 48، 49)
3۔ جنتیوں کی ہم عمر ہوں گی۔ (ص ٓ: 52) 4۔ یاقوت و مونگے کی طرح خوبصورت ہونگی۔ (الرّحمن : 58)
5۔ چھپائے ہوئے موتی کی طرح ہونگی۔ (الواقعہ : 23)
6۔ کنواری اور ہم عمر ہوں گی۔ (الواقعہ : 36، 37)
7۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34)
8۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15)
9۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17)
10۔ جنت میں جنتیوں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33)
11۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرّحمن : 52)
12۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21)
13۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرّحمن : 76)
Ayahs 38:55–58فہم القرآن
ربط کلام : متقین کے مقابلے میں نافرمانوں اور باغیوں کا ٹھکانہ اور سزائیں۔
قرآن مجید کا تسلسل کے ساتھ یہ اسلوب ہے کہ جنتیوں کے انعامات کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزاؤں کا ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پڑھنے والا اس بات پر غور کرے کہ اسے کونسا عقیدہ اور کیا کردار اختیار کرنا چاہے۔ لہٰذا جنتیوں کے انعامات کے بیان کے بعد جہنمیوں کی سزا کا ذکر ہوتا ہے۔ باغیوں اور نافرمانوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جو رہنے کے اعتبار سے بد ترین جگہ ہوگی۔ انہیں پینے کے لیے گرم ترین پانی اور پیپ دی جائے گی اس کے ساتھ ہی انہیں مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِنَّ الْحَمِیمَ لَیُصَبُّ عَلَی رُءُ وسِہِمْ فَیَنْفُذُ الْحَمِیمُ حَتَّی یَخْلُصَ إِلَی جَوْفِہِ فَیَسْلِتَ مَا فِی جَوْفِہِ حَتَّی یَمْرُقَ مِنْ قَدَمَیْہِ وَہُوَ الصَّہْرُ ثُمَّ یُعَادُ کَمَا کَانَ )[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ شَرَابِ أَہْلِ النَّارِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بیشک گرم پانی جہنمیوں کے سروں میں ڈالا جائیگاتو وہ پانی ان کے سروں کو چھیدتے ہوئے انکے پیٹوں میں پہنچے گا تو ان کی آنتیں پاؤں کے راستے پگھل کر نکل جائیں گی پھر انہیں اسی طرح لوٹا دیا جائے گا۔ “
(عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ )
[ رواہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار ]
” حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردن تک پہنچی ہوگی۔ “
” حضرت ابی درداء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی اور وہ بھوک اس عذاب کے برابر ہوگی جس میں وہ مبتلا ہوں گے اور کھانا طلب کریں گے تو انہیں کھانے میں سوکھی گھاس پیش کی جائے گی جس سے نہ تو وہ موٹے ہو پائیں گے اور نہ ان کی بھوک دور ہوگی وہ کھانا طلب کریں گے تو انہیں ایسا کھانا دیا جائے گا جو ان کے حلق میں اٹک جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ دنیا میں جب کھانا حلق میں پھنس جاتا تھا تو ہم پانی کے ساتھ اسے نیچے اتارتے تھے۔ وہ پانی طلب کریں گے تو انہیں گرم پانی لوہے کے پیالوں میں پیش کیا جائے گا جب وہ اسے اپنے چہروں کے قریب کریں گے تو ان کے چہرے جھلس جائیں گے اور جب اسے اپنے پیٹ میں داخل کریں گے تو ان کے پیٹ کٹ کر رہ جائیں گے۔[ باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ طَعَامِ أَہْلِ النَّارِ ]
مسائل
1۔ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔
2۔ جہنم رہنے کے اعتبار سے بد ترین جگہ ہے۔
3۔ جہنمیوں کو پینے کے لیے گرم ترین پانی اور پیپ دی جائے گی۔
4۔ جہنمیوں کو جہنم میں مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں مختلف قسم کے عذاب :
1۔ آنتوں اور کھالوں کا بار بار گلنا۔ (النساء : 56) 2۔ دوزخیوں کی کھال کا بار بار بدلا جانا۔ (الحج : 20)
3۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانادیا جانا۔ (الغاشیہ : 6) 4۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا پانا۔ (الحج : 21، 22)
5۔ کھانا گلے میں اٹک جانا۔ (المزمل : 13) 6۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جانا۔ (الانعام : 70)
7۔ دوزخیوں کو پیپ پلایا جانا۔ (النّبا : 25) 8۔ آگ کا لباس پہنایا جانا۔ (الحج : 19)
9۔ دوزخیوں کو پیپ پلایا جانا۔ (النبا : 25) 10۔ قیامت کے دن مجرم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے۔ (الفرقان : 27)
Ayahs 38:59–65فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے عذابوں میں ایک عذاب یہ بھی ہوگا کہ جہنمی آپس میں لڑتے رہیں گے۔
جہنمیوں کا ایک گروہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوگا تو دوسرا گروہ پہنچ جائے گا۔ آنے والا گروہ پہلے کھڑے ہوئے گروہ کو طعنہ دے گا کہ اگر تم ٹھیک ہوتے تو ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ تمہاری وجہ سے جہنم کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بد ترین ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے فریاد کریں گے کہ اے اللہ ! ہم سے پہلے آنے والوں کو جہنم میں دوگنا عذاب دیجیے۔ پھر کہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ ہمیں یہاں نظر نہیں آتے جن کو ہم شرارتی سمجھا کرتے تھے۔ کیا ہم نے انہیں مذاق سمجھا یا ہماری آنکھوں کو ان سے پھیر دیا گیا ہے۔ جہنمیوں کا آپس میں لڑناجھگڑنا ہر صورت ہوگا۔ دنیا میں جنہیں کمزور اور برے سمجھتے تھے ان کو دیکھ کر حسرت کا اظہار کریں گے کہ ہائے افسوس ! جن لوگوں کو ہم اپنے سے کمزور سمجھتے تھے اور عقیدہ و عمل کے لحاظ سے برا جانتے تھے وہ تو ہم سے بہتر ثابت ہوئے۔ حق کا انکار کرنے والوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ معلم اور نیک لوگوں کو شرارتی قرار دیتے ہیں۔
” اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف منہ کریں گے اور آپس میں بحث و تکرار شروع کردیں گے۔ پیروی کرنے والے اپنے پیشیواؤں سے کہیں گے تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے۔ وہ جواب دیں گے تم تو خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا کیونکہ تم خود ہی سرکش تھے۔ آخر کار ہم اپنے رب کے اس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔ سو ہم نے تمہیں بہکایا ہم خود بہکے ہوئے تھے۔ اس طرح وہ سب اس دن عذاب میں اکٹھے ہوں گے۔ ہم مجرموں کے ساتھ یہی سلوک کیا کرتے ہیں۔ “ (الصافات : 37 تا 34)
مسائل
ُ 1۔ جہنم میں داخل ہونے والی ہر جماعت اپنے سے پہلے لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرے گی۔
2۔ بعد میں داخل ہونے والے جہنمی پہلے لوگوں کے بارے میں بد دعائیں کریں گے۔
3۔ دنیا میں نیک لوگوں کے ساتھ مذاق کرنے والے کفار اور مشرکوں کو حسرتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کا آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینا اور جھگڑنا :
1۔ دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کو بھی لگی رہے گی (ھود : 99)
2۔ دنیا میں بھی ان پر لعنت ہے اور قیامت کو بھی ان پر لعنت ہوگی۔ (ھود : 60)
3۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو لعنت سے دوچار فرما۔ (الاحزاب : 68)
4۔ قیامت کے دن جہنمی ایک دوسرے کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ (العنکبوت : 25)
5۔ اللہ کی کافروں پر لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کو بھڑکا رکھا ہے۔ (الاحزاب : 64)
Ayahs 38:66–74فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ ﷺ نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار کرو۔ اس کے بعد چند انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مختلف قسم کی آزمائشوں کا ذکر فرما کر نبی محترم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کے راستے میں مشکلات ضرور آیا کرتی ہیں۔ آپ ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں کفار اور مشرکین سے کھلے انداز میں کہہ دیں کہ میرا کام تمہیں برے فکر وعمل کے برے انجام سے انتباہ کرنا ہے۔ جسے میں کھلے الفاظ میں سر انجام دے رہا ہوں۔ کان کھول کر سن لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور مسائل حل کرنے والا نہیں۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے اکیلا اور قہار ہے۔ جب وہ اپنی قہاریت کا مظاہرہ کرنے پر آئے گا تو کوئی زندہ اور مردہ اس کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔ وہ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے۔ وہ ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود معاف کرنے والا ہے۔ میں نے تمہیں اللہ کی توحید، اس کے تقاضوں اور قیامت کی ہولناکیوں سے آگاہ کردیا ہے۔ قیامت آنے ہی والی ہے مگر تم اس سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ مجھے خبر نہیں کہ ملاء الاعلیٰ کس بات پر جھگڑا کررہے تھے۔ میں آسمان کے بارے میں وہی باتیں جانتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتیں ہیں۔ جن تمہیں کھلے الفاظ میں آگاہ کررہا ہوں۔
(عَنْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَطْوِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ثُمَّ یَطْوِی الأَرَضِینَ بِشِمَالِہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ )[ رواہ مسلم : باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کو قیامت کے دن لپیٹ لے گا پھر اس کو دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر لوگ ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ پھر زمین کو بائیں ہاتھ میں لپیٹ کر اعلان کرے میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ ؟ اور کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ “
(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَل ؓ قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُول اللَّہ ﷺ ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ حَتَّی کِدْنَا نَتَرَاءَی عَیْنَ الشَّمْسِ فَخَرَجَ سَرِیعًا فَثُوِّبَ بالصَّلاَۃِ فَصَلَّی رَسُول اللَّہ ﷺ وَتَجَوَّزَ فِی صَلاَتِہِ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِہِ قَالَ لَنَا عَلَی مَصَافِّکُمْ کَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَیْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنِّی سَأُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِی عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ إِنِّی قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِی فَنَعَسْتُ فِی صَلاَتِی حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی أَحْسَنِ صُورَۃٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبّ قَال فیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَی قُلْتُ لاَ أَدْرِی قَالَہَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِہِ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَتَجَلَّی لِی کُلُّ شَیْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ یَا مُحَمَّد قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبِّ قَال فیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَی قُلْتُ فِی الْکَفَّارَاتِ قَالَ مَا ہُنَّ قُلْتُ مَشْیُ الأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِی الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِی الْمَکْرُوہَات قال فیمَ قُلْتُ إِطْعَام الطَّعَامِ وَلِینُ الْکَلاَمِ وَالصَّلاَۃُ باللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ قَالَ سَلْ قُلْتُ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَۃَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلَی حُبِّکَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوہَا ثُمَّ تَعَلَّمُوہَا)[ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ ص ]
” حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کی نماز کا وقت تھا اور نبی ﷺ معمول کے مطابق تشریف نہ لائے۔ قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجائے۔ پھر آپ (علیہ السلام) تیزی سے تشریف لائے تکبیر ہوئی اور نماز پڑھائی۔ سلام کے بعد ارشاد فرمایا اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہیں دیر سے آنے کی وجہ بتاتا ہوں۔ میں نے آج رات یاد الٰہی میں قیام کیا جتنا مقدور تھا۔ نماز پڑھی پھر مجھے نماز میں ہی اونگھ آگئی۔ یہاں تک کہ مجھے گرانی محسوس ہونے لگی۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا رب بڑی پیاری صورت میں تشریف فرما ہے اور ارشاد فرمایا محمد ﷺ ! میں نے عرض کی۔ اے میرے رب ! میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھایہ آسمان کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی۔ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں محسوس کیا۔ اس کی برکت سے میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے اس کو پہچان لیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں تھا میں نے اسے جان لیا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا۔ اے محمد ﷺ ! میں نے عرض کی یا رب حاضر ہوں۔ پوچھا آسمان کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی درجات اور کفارات کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا درجات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی کھانا کھلانا، سلام کو عام کرنا اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں اٹھ کر نماز پڑھنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ نے سچ کہا ہے۔ اب بتاؤ ! کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی کہ تکلیف کی حالت میں مکمل وضو کرنا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور جماعت میں شریک ہونے کے لیے چل کر جانا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی تو نے سچ کہا۔ اب مانگو جو مانگنا چاہتے ہو۔ میں نے عرض کی۔ الٰہی ! میں تجھ سے نیک کام کرنے کی تو فیق اور برے کاموں کو چھوڑنے کی طاقت اور مسکینوں سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ میں التجا کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے۔ مجھ پر رحم فرما اور جب اپنے بندوں کو کسی فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنہ سے بچا کر اپنی طرف بلا لے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت، اور جو تجھ سے محبت کرتا ہے اس کی محبت اور اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھ کو تیری محبت کے قریب کردے۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو فرمایا۔ اس دعا کے الفاظ تم بھی سیکھ لو ! کیونکہ یہ بہت ہی بہتر ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر اعتبار سے غالب ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا خالق اور مالک ہے
3۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود اپنے بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔
4۔ نبی آخر الزمان ﷺ نے کھلے الفاظ میں لوگوں کو اللہ کی توحید اور قیامت کی ہولناکیوں سے آگاہ فرمایا۔
5۔ نبی آخر الزمان ﷺ وہی کچھ جانتے تھے جس کے بارے میں آپ کو وحی کی جاتی تھی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اکیلا اور غالب ہے :
1۔ ” اللہ “ ہی رب ہے۔ ( لانعام : 102) 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ ( الرعد : 16)
3۔ اللہ کی ذات ہی ازلی اور ابدی ہے۔ (الحدید : 3) 4۔ اللہ ہی مشرق ومغرب کا مالک ہے۔ (البقرۃ : 142)
5۔ ” اللہ “ غنی ہے تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : 35) 6۔ زمین و آسمان پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : 189)
7۔ قیامت کو بھی ” اللہ “ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان : 26)
8۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189)
9۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : 107)
10۔ ” اللہ “ سخت عذاب دینے والا۔ ( البقرۃ : 165) 11۔ ” اللہ “ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ( النساء : 16)
12۔ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والا۔ ( الحج : 54) 13۔ ” اللہ “ غیب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ ( الحشر : 22)
14۔ اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے۔ ( البقرۃ : 255)
15۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر شفقت اور نرمی کرنے والا ہے۔ ( آل عمران : 30) 16۔ اللہ ایک ہے اور زبردست طاقت والا ہے۔ ( ص 65)