35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsفہم القرآن

Ayahs 35:15–17

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو ! تم اللہ کے محتاج ہو۔ اللہ، غنی اور حمید ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

وہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر نئی مخلوق لے آئے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

ایسا کرنا اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ ہی کی بادشاہی ہے۔ اس کی باشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ طالب اور مطلوب سب کے سب اسی کے در کے فقیر ہیں۔ اے لوگو ! تم تمام کے تمام اپنے رب کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ غنی ہے۔ ساری کائنات اسی کی ثناء خواں اور محتاج ہے۔ وہ چاہے تو تمہیں ختم کرکے نئی مخلوق پیدا کردے وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے اور اسے نافذ کرنے پر قادر ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی بڑی قدرتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جن کو ” اللہ “ کی خدائی میں شریک سمجھتے ہو وہ تو ایک چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب ارشاد فرمایا کہ جن سے تم مانگتے ہو یا جنہیں تم اپنے رب کی ذات اور اختیار ات میں شریک سمجھتے ہو وہ اور تم سب کے سب اپنے رب کے در کے فقیر اور محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غنی ہے۔ اس کے خزانوں میں نہ کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ اسے نہ کسی کے تعاون کی ضرورت ہے اور نہ ہوگی۔ تمام کی تمام مخلوق اس کے خزانوں سے فیض یاب ہورہی ہے اور اس کی شکر گزار ہے۔ اے انسانو ! اگر تم اس کے شکر گزار نہیں بنتے تو اسے تمہاری نافرمانی اور ناقدری کرنے کی کوئی پروا نہیں۔ کیونکہ وہ ہر ضرورت سے بےنیاز ہے اور اس کی ہر کوئی تعریف کررہا ہے۔ ہاں ! اگر وہ تمہیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق لے آئے تو تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر کلی طور پر غالب ہے۔ تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھو ! اس نے تم سے پہلے کتنی اقوام کو صفحۂ ہستی سے مٹایا اور ان کی جگہ پر دوسروں کو بسایا۔ مٹنے والوں کو بچانے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی وہ خود اپنے آپ کو بچا سکے۔ ” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جس کو میں ہدایت سے سرفراز کروں بس تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جس کو میں کھلاؤں پس تم مجھ سے مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں پہناؤں پس تم مجھ سے پہناوا طلب کرو میں تمہیں پہناؤں گا۔ میرے بندو ! تم رات دن گناہ کرتے ہو ‘ میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہوں۔ مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ میرے بندو ! تم مجھے نقصان اور نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میرے بندو ! تمہارے تمام اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب سے زیادہ متّقی انسان کے دل کی طرح ہوجائیں تو یہ میری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے جن وانس بدترین فاسق وفاجر انسان کی طرح ہوجائیں تو یہ میری حکومت میں کوئی کمزوری پیدا نہیں کرسکتے۔ میرے بندو ! تمہارے اگلے پچھلے ‘ جن وانس سب کھلے میدان میں اکٹھے ہوجائیں پھر وہ مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر کسی کی منہ مانگی مرادیں پوری کر دوں تو میرے خزانوں میں اتنی کمی بھی واقع نہیں کرسکتے جتنی سوئی کو سمندر میں ڈبونے سے کمی واقع ہوتی ہے۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ و الآداب، باب تحریم الظلم ] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے تمام لوگ اس کے محتاج اور فقیر ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے تعریف کے لائق ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے نافذ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے کتنی اقوام کو نیست و نابود کیا : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ (الانعام : 6) 2۔ آل فرعون نے ” اللہ “ کی آیات کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کیوجہ سے ہلاک کردیا۔ (الانفال : 54) 3۔ بستی والوں نے جب ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا۔ (الکہف : 59) 4۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139) 5۔ قوم تُبَّعْ اور ان سے پہلے مجرموں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا۔ (الدخان : 37) 6۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : 6) 7۔ کیا وہ نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی بڑے مجرموں کو ہلاک کردیا۔ (القصص : 78) 8۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی طرف وحی کی کہ ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : 13)
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور اگر کوئی بوجھ اٹھانے والا اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو کہے گا تو اس کے بوجھ کا ایک معمولی حصہ بھی اٹھانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، آپ صرف انہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہیں جو اَن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز قائم کرتے ہیں، جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنے لیے ہی کرتا ہے۔ سب کو اللہ کی طرف ہی پلٹ کر جانا ہے

فہم القرآن ربط کلام : جو دنیا میں اپنے آپ کو نہیں بچاسکتے وہ آخرت میں کسی کی ذمہ داری کیا اٹھائیں گے۔ مشرکین کا عقیدہ ہے کہ جن بزرگوں کے حضور ہم نذرو نیاز دیتے ہیں وہ قیامت کے دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے چھڑا لیں گے۔ ایسا عقیدہ رکھنے والوں پر یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ اس دن کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا جو شخص بوجھ تلے دبا ہوگا وہ بڑی آہ وزاری کے ساتھ اپنے اقرباء اور احباب کو آواز پر آواز دے گا لیکن اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ باپ بیٹے سے، بھائی اپنے بھائی سے، ماں اپنے جگر گوشوں سے، بیٹیاں اپنی مامتا سے دور بھاگ جائیں گی۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ بالخصوص ان لوگوں کو قیامت کے دن کی پکڑ سے ڈرائیں جو اپنے رب سے اس کو دیکھے بغیرڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ جس نے اپنے آپ کو گناہ کی نحوست سے پاک رکھا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور بالآخر ہر کسی نے اپنے رب کی طرف ہی پلٹ کرجانا ہے۔ قرآن مجید نے گناہوں کے لیے بوجھ کا لفظ استعمال کیا ہے یہ ایسا بوجھ ہوگا کہ جس کے تلے مجرم دبا ہوا ہوگا۔ وہ اپنے عزیز و اقرباء اور جاننے والوں کو اپنی مدد کے لیے باربار پکارے گا لیکن کوئی بھی اس کی مدد کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ اس صورت حال سے وہی لوگ بچ سکیں گے جو اپنے رب پر فی الحقیقت ایمان رکھنے والے اور نماز کی پابندی کرنے والے ہیں۔ یاد رہے کہ گناہوں کا آخرت میں ہی بوجھ نہیں ہوگا۔ دنیا میں بھی اس کا بوجھ ہوتا ہے جس وجہ سے انسان پریشان ہوتا ہے اور کئی انسان گناہ کے بوجھ اور شرمندگی کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں۔ جو پہلے گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ ” حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ سردیوں کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پتے گر رہے تھے آپ نے درخت کی دو ٹہنیوں کو پکڑا جس سے ٹہنی کے پتے زمین پر گرپڑے پھر فرمایا : ابوذر ! میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! حاضر ہوں آپ نے فرمایا : مسلمان جب اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی گرجاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے گرگئے ہیں۔ “ [ مسند احمد : کتاب مسند الأنصار، باب حدیث أبی ذر ؓ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس بات کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ روز قیامت یہ مال اس کی گردن میں گنجا سانپ بنا کر ڈالے گا۔ پھر آپ نے کتاب اللہ سے اس آیت کی تلاوت کی (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) “ [ رواہ الترمذی : کتاب : تفسیر القرآن، باب ومن سورة آل عمران ] مسائل 1۔ انسان کے گناہ قیامت کے دن بوجھ بن جائیں گے۔ 2۔ قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے اور نماز قائم کرنے والے ہی گناہوں سے بچا کرتے ہیں۔ 4۔ بالآخر ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : 1۔ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (بنی اسرائیل : 10۔ فاطر : 18) 2۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الزّمر : 7) 3۔ خبر دار کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (النجم : 38) 4۔ انسان جو بھی کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پہ ہے۔ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164) 5۔ ہر ایک اپنے معاملے کا خود ذمہ دار ہے۔ (البقرہ : 141) 6۔ قیامت کے دن دوست کام نہیں آئیں گے۔ (البقرہ : 254)
Ayahs 35:19–21

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

نہ اندھیرے اور روشنی برابر ہیں

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

نہ چھاؤں اور دھوپ ایک جیسی ہے

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید اور دین سے انحراف کرنے والا در حقیقت اندھا ہوتا ہے۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بصیرت اور بصارت اس لیے عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو پہنچانے اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرے۔ جو انسان اپنے رب کو فراموش کردیتا ہے در حقیقت وہ اندھا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور ضمیر کی آواز فراموش کرکے دل کی روشنی کھو بیٹھتا ہے۔ ضمیر کی روشنی اور کائنات کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور رازق کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرے۔ پہلی بات کا نام عقیدہ توحید اور دوسری بات کا نام دین ہے۔ جو اس پر عمل کرتا ہے وہ بینا ہے اور جس نے اس حقیقت کو فراموش کردیا وہ اندھا ہے بینا نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی بجائے اپنے توہمات اور معاشرے کی رسومات کی تاریکی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ استفسار ہوا ہے کہ بتاؤ اندھا اور بینا، اندھیرے اور روشنی، چھاؤں اور دھوپ برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ برابر نہیں ہوسکتے۔ جب برابر نہیں ہوسکتے تو آدمی کو اندھے پن کی بجائے بصیرت کیساتھ، اندھیروں سے نکل کر روشنی میں چلنا چاہیے اور اسے دھوپ کی بجائے سائے کو ترجیح دینا چاہیے۔ یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے اس کا ہر شخص کو خیال اور احترام کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں در در کی ٹھوکروں سے بچ جائے اور آخرت میں اپنے رب کی بارگاہ میں سروخرو ہوجائے۔ یہاں اندھا پن، اندھیرے اور دھوپ سے پہلی مراد شرک ہے اور ” التوحید “ کو بصیرت، النور اور ٹھنڈا سایہ قرار دیا گیا ہے جس سے انسان کو دنیا میں سکون، روشنی اور بصیرت حاصل ہوتی ہے اور موت کے بعد لمحہ بہ لمحہ اسے اپنے رب کی دست گیری اور نور میسّر ہوگا۔ تفسیر بالقرآن التوحید اور شرک کا موازنہ : 1۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ : 119، النساء : 87، 122) 2۔ شرک سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ھود : 18) 3۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : 18، الانعام : 19، الروم : 30) 4۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : 18) 5۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : 13) 6۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : 39) 7۔ شرک بیوقوفی ہے۔ (الجن : 4)
Ayahs 35:22–24

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندہ اور مردے برابر ہیں اللہ جسے چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اے نبی جو قبروں میں مدفون ہیں۔ آپ ان کو نہیں سنا سکتے

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ تو بس خبردار کرنے والے ہیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو

فہم القرآن ربط کلام : شرک اور التوحید کا ایک اور موازنہ۔ جس طرح اندھا اور بینا، اندھیرے اور روشنی، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ توحید اور شرک کے درمیان موازنہ فرما کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنے والے زندہ ہیں اور شرک میں مبتلا ہونے والے مردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے سننے کی توفیق بخشتا ہے۔ اے حبیب ﷺ ! آپ قبروں میں دفن لوگوں کو نہیں سنا سکتے۔ آپ تو لوگوں کو ان کے برے اعمال کے نتیجہ سے ڈرا نے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے کہ آپ حق قبول کرنے والوں کو خوشخبری سنائیں اور انکار کرنے والوں کو ان کے انجام سے ڈرائیں۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی امت ایسی نہیں چھوڑی جن میں ڈرانے والا مبعوث نہ کیا ہو۔ یہ بات ” فہم القرآن “ کے کئی مقامات پر بیان ہوچکی ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت دو نتائج پر مبنی ہے۔ تسلیم کرنے والوں کے لیے آپ ﷺ بشیر تھے اور انکار کرنے والوں کے لیے آپ نذیر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ اس نے ہر زمانے کے لوگوں میں اپنا رسول مبعوث فرمایا جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا اور ایمان والوں کو ان کے روشن مستقبل کی خوشخبری دیا کرتا تھا۔ ہر زمانے اور ہر امت میں رسول بھیجنے کا یہ مفہوم ہے کہ جہاں اور جب تک نبی کی شریعت اصل حالت میں موجود رہتی ہے۔ اس وقت تک وہاں نبی مبعوث نہیں کیا جاتا۔ جب پہلے نبی کی شریعت اپنی حالت میں نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ اس نبی کے دور اور علاقے میں ایک اور نبی مبعوث فرماتارہا۔ تاآنکہ خاتم المرسلین مبعوث کردئیے گئے۔ اب قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ دین مکمل ہوا جو اصل حالت میں ہمیشہ رہے گا اور آپ ﷺ کی امت کے علماء یہ فرض ادا کرتے رہیں گے۔ آیت 22 میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ نبی مکرم ﷺ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے تھے۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ جسے چاہے سنوا سکتا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بدر کے مردوں کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ أَخَذَ یُحَدِّثُنَا عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَیُرِینَا مَصَارِعَہُمْ بالْأَمْسِ قَالَ ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاء اللّٰہُ غَدًا قَالَ عُمَرُ وَالَّذِی بَعَثَہُ بالْحَقِّ مَا أَخْطَءُوا تیکَ فَجُعِلُوا فِی بِءْرٍ فَأَتَاہُمْ النَّبِیُّ ﷺ فَنَادٰی یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ یَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ہَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّی وَجَدْتُّ مَا وَعَدَنِی اللّٰہُ حَقًّا فَقَالَ عُمَرُ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاح فیہَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنائز، باب أرواح المؤمنین ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ہم حضرت عمر ؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر میں تھے وہ ہمیں اہل بدر کے متعلق بتانے لگے۔ رسول معظم ﷺ نے وہ جگہیں ہمیں دکھائیں جہاں اگلے دن کافروں نے قتل ہونا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے چاہا تو فلاں فلاں کے قتل ہونے کی یہ یہ جگہ ہے۔ عمر ؓ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ کافر مقررہ جگہوں سے ذرا برابر بھی ادھر ادھر نہیں قتل ہوئے انہیں کنویں میں پھینک دیا گیا۔ کنویں کے پاس نبی معظم ﷺ آئے اور انہیں آواز دیتے ہوئے فرمایا اے فلاں بن فلاں، اے فلاں بن فلاں کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پایا ہے۔ بلاشبہ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچ پا یا ہے۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں آپ ﷺ نے لاشوں کو مخاطب فرمایا حالانکہ یہ مرچکے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو ان سے کہہ رہا ہوں یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں۔ “ تفسیر بالقرآن مردے نہیں سنتے : 1۔ اللہ جسے چاہے سنا سکتا ہے جو قبروں میں ہیں آپ ﷺ ان کو نہیں سنا سکتے۔ (فاطر : 22۔ النمل : 80) 2۔ آپ ﷺ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔ (یونس : 42) 3۔ مدفون نہیں سنتے وہ قیامت کے دن اپنے پکارنے والوں کا انکار کریں گے۔ (فاطر : 14)
Ayahs 35:25–26

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے بھی جھٹلا چکے ہیں، ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل، صحیفے اور واضح ہدایات دینے والی کتاب لے کر آئے تھے

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نہ مانا ان کو میں نے پکڑ لیا اور دیکھ لو کہ میری پکڑ کیسی سخت تھی

فہم القرآن ربط کلام : توحید و رسالت کا پیغام واضح ہوجانے کے باوجود اگر کفار آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اے پیغمبر ﷺ ! یہ واقعہ صرف آپ کے ساتھ ہی پیش نہیں آیا۔ آپ سے پہلے لوگوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ جس قدر محنت اور دلسوزی کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتے۔ لوگ اسے قبول کرنے کی بجائے اتنی سختی کے ساتھ مخالفت کا اظہار کرتے۔ اس صورت حال پر دل گرفتہ ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے جس بنا پر آپ ﷺ افسردہ خاطر ہوجاتے۔ قرآن مجید میں آپ کی ڈھارس اور تسلی کے لیے کئی انداز اختیار کیے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک انداز یہ بھی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو حد سے زیادہ دل گر فتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی منکرین حق نے تکذیب کا رویہ اختیار کیا تھا۔ حالانکہ یہ رسول بڑے بڑے معجزات، بھر پور دلائل، صحیفے اور روشن کتاب دے کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن حق کا انکار کرنے والوں نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان کی دعوت کو مسترد کیا۔ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی سخت گرفت کی اور انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیا۔ اہل علم نے کتاب سے مراد تورات لی ہے جو نزول قرآن سے پہلے آسمانی کتابوں میں سب سے واضح اور مدلّل کتاب ہے۔ مسائل 1۔ نبی کریم ﷺ سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا تھا۔ 2۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) معجزات واضح، دلائل، اور روشن کتابوں کے ساتھ مبعوث کیے گئے تھے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو ان کے انکار اور استکبار کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا۔
Ayahs 35:27–28

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس سے ہم طرح طرح کے پھل نکالتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور پہاڑوں میں بھی سفید، سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں۔ جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں بیشک اللہ زبردست درگزر کرنے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : توحید کا انکار کرنے اور حق بات کو ٹھکرانے والوں کو غوروفکر کی دعوت۔ کیا توحید کا انکار اور حق بات کو ٹھکرانے والے اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح آسمان سے بارش برساتا ہے پھر اس کے ذریعے مختلف قسم کے پھل پیدا کرتا ہے جن کے رنگ آپس میں نہیں ملتے۔ اسی ذات نے پہاڑ پیدا کیے جن میں سفید، سرخ اور نہایت ہی کالے رنگ کے پہاڑ ہوتے ہیں۔ اسی ذات نے انسانوں، جانوروں اور چوپاؤں کے مختلف رنگ اور جسم بنائے جو اس کی قدرت کا پتہ دیتے ہیں۔ لوگوں میں وہی لوگ اپنے رب سے زیادہ ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر کام پر غالب اور بخشنے والا ہے۔ سورۃ الرّعدکی آیت 3، 4 میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر پھل کے جوڑے پیدا کیے اور زمین کو مختلف قطعات میں تقسیم فرمایا ہے جو اپنے مزاج کے مطابق مختلف قسم کے پھل پیدا کرتی ہے۔ حالانکہ ان کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے لیکن انگور اور کھجور رنگ اور ذائقہ کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کسی قدر مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح پہاڑ ہیں جو مختلف رنگ لیے ہوئے ہیں۔ بعض پتھر قیمت کے اعتبار سے اس قدربیش بہا ہیں کہ غریب آدمی ان کے حصول کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے رنگ اور مزاج کی طرف توجہ کریں تو انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ ایک ہی ماں باپ کی اولاد شکل و صورت، عادات اور خصائل کے اعتبار سے آپس میں مختلف ہوتے ہیں یہی صورت حال چوپایوں اور جانوروں میں پائی جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم مظاہر ہیں جن کا ادراک وہی لوگ کرپاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی علم سے سرفراز فرمایا ہو۔ حقیقی علم سے مراد وہ معرفت ہے جس کے سبب انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ ایسے شخص سے بتقاضأ بشریت کوتاہی سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمانے والا ہے۔ ان آیات میں لوگوں کے مزاج کی نشاندہی کی گئی ہے بارش اور نباتات کا ذکر فرما کر ثابت کیا ہے کہ بارش کا پانی تو ایک ہی ہوتا مگر اس کے ذریعے اگنے والی نباتات مختلف ہوتی ہیں۔ یہی معاملہ ہدایت کا ہے ہدایت تو ایک ہے مگر اس کے رد عمل مختلف ہوتے ہیں کچھ لوگ اس سے صراط مستقیم پاتے ہیں اور کچھ مزید گمراہ ہوجاتے ہیں۔ اس بات کو مزید سمجھنے کے لیے پہاڑوں پر غور فرمائیں کچھ سخت ہوتے اور کچھ نرم کچھ کالے ہوتے اور کچھ سفید جس طرح پہاڑوں کے رنگ مختلف اور ان میں نرم اور سخت ہوتے ہیں اسی طرح ہدایت کے مقابلے میں لوگوں کے مزاج اور ردّعمل مختلف ہوتے ہیں۔ البتہ جو لوگ حقیقی علم رکھتے ہیں وہ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ (عَنْ سُفْیَانَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِکَعْب مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ بِمَا یَعْلَمُون قالَ فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ ؟ قَال الطَّمَعُ )[ رواہ الدارمی : باب صِیَانَۃِ الْعِلْمِ ] ” حضرت سفیان ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت کعب احبار ؓ سے استفسار کیا کہ حقیقی عالم کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا وہ لوگ جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ کون سی چیز علماء کے دلوں سے علم کو نکال دے گی۔ کعب ؓ نے جواب دیا لالچ۔ “ تفسیر بالقرآن حقیقی علم کا تقاضا اور اس کے فضائل : 1۔ اس بات کا علم حاصل کریں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ (محمد : 19) 2۔ کیا علم والا اور علم نہ رکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں۔ (الزمر : 9) 3۔ اللہ تعالیٰ علم کی بنیاد پر لوگوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : 11)
Ayahs 35:29–30

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں علانیہ اور خفیہ طور پر خرچ کرتے ہیں یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز نقصان نہیں ہے

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کو پورے کا پورا اجر دے اور مزید اپنے فضل سے بھی ان کو عطا فرمائے بیشک اللہ بخشنے والا اور قدردان ہے

فہم القرآن ربط کلام : حقیقی علم کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے رب کو پہچانے اور اس سے ڈر کر زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔ علم اور تقویٰ ! کتاب اللہ کی تلاوت سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ انسان یقین اور غور و فکر کے ساتھ کتاب اللہ کی تلاوت کرے۔ حقیقی عالم وہ ہوتا ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت کرتا اور اس پر غوروفکر کرتا ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کا منطقی نتیجہ ہے اور ہونا چاہیے، کہ وہ شخص پانچ وقت نماز ادا کرے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس سے پوشیدہ اور ظاہری طور پر خرچ کرتا رہے۔ اس امید اور یقین کیساتھ کہ وہ انفاق فی سبیل اللہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ لین دین کررہا ہے یہ ایسی سودا گری ہے جس میں اسے کبھی نقصان نہیں ہوگا۔ اخلاص اور سنت نبوی کے مطابق خرچ کرنے والے لوگ اپنے اعمال اور انفاق کا نہ صرف پورا پورا اجر پائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عظیم فضل اور اجر سے سرفراز فرمائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی کمی، کوتاہی کو معاف کرنے والا اور اس کی نیکی کا قدر دان ہے۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو ! میں تمہیں ایسی سوداگری بتلائے دیتا ہوں جو تمہیں ” عذاب الیم “ سے نجات دے گی وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کے لیے اپنے مال اور جان سے اس کے دین کی سر بلندی کے لیے محنت کرتے رہو۔ تو یہ تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے بشرطیکہ تم اسے جان لو۔ اس تجارت کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرمائے گا اور تمہیں ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کے نیچے سے نہریں جارہی ہیں۔ انہیں جنت عدن کے بہترین محلات میں ٹھہرایا جائے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے تم دنیا میں بھی کامیاب ہو گے جو تمہارے لے پسندیدہ بات ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کو خوشخبری ہے۔ (الصف : 10 تا 13) اس بات کو ایک اور انداز میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں اور ان کے مالوں کے بدلے میں جنت کا سودا کرلیا ہے۔ مومن اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں جن میں کچھ شہید ہوتے ہیں اور باقی غازی بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن میں کیا ہے جسے وہ ہر صورت پورا کرے گا۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی وعدہ ایفاء کرنے والا نہیں۔ اے مومنو ! تمہیں اس تجارت پر خوش ہونا چاہیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 111) نماز کا فائدہ : (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَال الصَّلَوَاۃُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَۃُ إِلَی الْجُمْعَۃِ کَفَّارَۃٌ لِّمَا بَیْنَھُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْکَبَاءِرُ ) [ رواہ مسلم : باب الصلواۃ الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے تو پانچ نمازیں اور پہلا جمعہ دوسرے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ “ صدقہ کرنے کا فائدہ : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ اِنَّ الصَّدَ قَۃَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّ بِّ وَ تَدْفَعُ مِےْتَۃَ السَّوْءِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ الصَّدَقَۃِ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچا تا ہے۔ “ تفسیر بالقرآن صاحب علم کے اوصاف : 1۔ صاحب علم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے۔ (الزّمر : 9) 2۔ یقیناً اللہ سے علماء ہی زیادہ ڈرتے ہیں۔ (فاطر : 28) 3۔ اللہ تعالیٰ ایمانداروں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (المجادلۃ : 11) 4۔ اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا کیا۔ (النمل : 15) 5۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں انہیں علم والے ہی سمجھتے ہیں۔ (العنکبوت : 43) 6۔ راسخ العلم اللہ تعالیٰ کی آیات انکار کرنے کی بجائے ان پر ایمان لاتے ہیں۔ (آل عمران : 7)
Ayahs 35:31–32

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے، ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے تھیں، یقیناً اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا، اب کوئی ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی درمیانی راہ پر چلنے والا ہے، اور کوئی اللہ کے حکم سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہ بہت بڑا فضل ہے

فہم القرآن ربط کلام : یہ اللہ تعالیٰ کی قدر افزائی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں کچھ بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا جس کے ” من جانب اللہ “ ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قرآن واقعتا حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا یہ حقیقی اور ٹھوس دلائل پر مبنی ہے۔ اس کے ارشادات سچے ہیں اس کی تعلیمات پہلی آسمانی کتابوں کی تائید کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہر بات سے باخبر اور ان کے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔ وہی لوگوں میں سے اپنے بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنانے والا ہے جن میں سے کچھ اپنے آپ پر زیادتی کرنے والے ہیں۔ کچھ ان میں میانہ رو ہیں اور کچھ ان میں سے اپنے رب کی توفیق سے نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکل جانے والے ہیں۔ جن لوگوں کو نیکی میں سبقت کرنے کی توفیق مل جائے ان پر اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید نبی آخر الزمان ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ اسے لوگوں تک پہنچانا آپ ﷺ کی ذمہ داری تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کی وفات کے بعد اس پر عمل کرنا اور لوگوں تک پہنچانا امّتِ محمدیہ کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا حکم بھی دیا ہے۔ جس معاشرے اور قوم میں نیکی اور اچھائی کے کاموں میں مسابقت کا جذبہ مفقود ہوجائے وہ معاشرہ اور قوم بالآخر مردہ ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو مردگی سے بچانے اوراقوام عالم کی قیادت پر فائز کرنے کے لیے کئی بار حکم دیا کہ اچھائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو یہی ترقی کا راز اور اجتماعی زندگی کا جوہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تین طبقات میں شمار فرمایا ہے۔ 1 مسلمان ہیں مگر ان سے کبیرہ گناہ بھی سرزد ہوجاتے ہیں نبی ﷺ کے کتاب مبین کے وارث ہونے کے باوجود انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یہاں ظلم سے مراد چھوٹے بڑے گناہ ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے 2 مسلمانوں میں دوسرا طبقہ وہ ہے جو فرائض پورے کرتا ہے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے لیکن نفلی کاموں میں بڑھ چڑھ کر زیادہ حصہ نہیں لیتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے بندوں میں شمار فرمایا ہے۔ 3 امت محمدیہ کا آخری اور بہترین طبقہ وہ ہے جو فرائض کو بطریق احسن انجام دینے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے نفلی کاموں میں بھی دوسرے مسلمانوں سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے لوگ نیکی کے معاملہ میں امت محمدیہ کا سرخیل اور ہر اوّل دستہ ہیں۔ جن میں صحابہ کرام ] پوری امت کے امام اور پیش رو ہیں اور ان کے بعد ان کی اولادیں پوری امت سے افضل ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ عَنِ النَّبِی ﷺ قَالَ خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ، ثُمَّ یَجِیءُ مِنْ بَعْدِہِمْ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَتُہُمْ أَیْمَانَہُمْ وَأَیْمَانُہُمْ شَہَادَتَہُمْ )[ رواہ البخاری : باب مَا یُحْذَرُ مِنْ زَہْرَۃِ الدُّنْیَا وَالتَّنَافُسِ فیہَا ] ” حضرت عبداللہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا، بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر ان کے بعد والے، پھر جو ان کے بعد والے۔ اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن کی گواہی ان کی قسم پر اور قسم ان کی شہادت پر سبقت لے جائے گی۔ “ (یعنی انہیں قسم اور گواہی کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ ) کچھ مفسرین نے تین طبقات سے مراد اہل کتاب لیے ہیں ان میں سے ایک طبقہ کھل کر دین کی مخالفت کرکے اپنے آپ پر ظلم ڈھارہا ہے۔ دوسرا طبقہ مسلمانوں کی مخالفت تو کرتا ہے لیکن اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو تمام قسم کے تحفظات اور مخالفتوں کی پروا کیے بغیر دین اسلام کو قبول کرتا ہے۔ (عَنْ مُّعَاوِےَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَےْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّےْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ ےُعْطِیْ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین ] ” حضرت معاویہ ؓ رسول اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر خواہی کرنا چاہتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ مجھے عنا یت فرمانے والا ہے۔ “ (یُؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ أُوتِیَ خَیْرًا کَثِیرًا وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ) [ البقرۃ : 269] ” وہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت عطا کی گئی اسے خیر کثیر عطا کردی گئی نصیحت تو صرف عقل مندہی قبول کرتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں اپنے بندوں کو اپنی کتاب کا وارث بنایا ہے۔ 2۔ مسلمانوں میں سب سے بہترین طبقہ وہ ہے جو نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنیوالا ہے۔ 3۔ نیکی میں سبقت کرنیوالے پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن نیکیوں میں سبقت کرنے کا حکم اور سبقت کرنے والوں کی فضیلت : 1۔ اللہ کی مغفرت اور جنت کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرو۔ (الحدید : 21) 2۔ نیکی کے حصول میں جلدی کرو۔ (البقرۃ : 148) 3۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے سب سے اعلیٰ ہوں گے۔ (فا طر : 32) 4۔ سبقت کرنے والے اللہ کے مقرب ہوں گے۔ (الواقعۃ : 10، 11) 5۔ اللہ کی جنت اور بخشش میں سبقت کرو۔ ( آل عمران : 133)
Ayahs 35:33–35

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے، وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا، یقینا ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر کرنے والا ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کی جگہ ٹھہرایا ہے، یہاں ہمیں نہ کوئی مشقت پیش ہے اور نہ کسی قسم کی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں فضل کبیر اور آخرت میں اجرِعظیم۔ جن لوگوں نے کتاب الٰہی کی وراثت کا قولاً اور عملاً حق ادا کرنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ ان کو اجرِعظیم سے سرفراز کرتے ہوئے سدابہار جنت میں داخل فرمائے گا۔ ان کی کلائیوں میں موتیوں سے سجے ہوئے سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کالباس جنت کی ریشم سے تیار کیا ہوگا۔ جونہی وہ جنت کے محلات میں داخل ہوں گے۔ تو بےساختہ پکار اٹھیں گے کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے بچا لیا۔ وہ اس بات کا بھی اقرار اور اظہار کریں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم سے بیشمار کوتاہیاں ہوئیں لیکن ہمارے رب نے ہمیں معاف فرماکر ہمیں جنت کے عیش و آرام سے سرفراز فرما دیا ہے۔ یقیناً ہمارا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان کے اعمال کی قدر کرنے والا ہے۔ رب شکور نے ہمیں اپنے خاص فضل سے ہمیشہ رہنے والے گھر میں ٹھہرایا جہاں نہ ہمیں کسی قسم کا رنج پہنچے گا اور نہ ہی ہمیں کوئی نقاہت اور تھکان ہوگی۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو بندہ جنت میں داخل ہوگا وہ عیش میں ہوگا، بدحال نہیں ہوگا اور اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہوگی۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ؓ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) [ رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....] ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا دوسرا انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ “ مسائل 1۔ جنتی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ 2۔ جنتی جنت میں ہر دم اپنے رب کا شکر ادا کریں گے۔ 3۔ جنتیوں کو موتیوں سے جڑے ہوئے سونے کے کنگن اور ریشمی لباس پہنایا جائے گا۔ 4۔ جنت میں جنتیوں کو کسی قسم کا غم، مشقت اور تھکاوٹ نہیں ہوگی۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : 1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48) 2۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرّعد : 35) 3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30) 5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کریں گے۔ (حٰم السجدۃ : 31) 6۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں شہد، دودھ، شراب اور شفاف پانی کی نہریں ہوں گی۔ ( محمد : 15)
Ayahs 35:36–37

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کو موت آئے گی کہ وہ مرجائیں اور نہ ان کے لیے جہنم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی اس طرح ہم ہر اس شخص کو بدلہ دیتے ہیں جو کفر کرنے والا ہو

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک عمل کریں ان اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے ہیں، انہیں جواب دیا جائے گا کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی نصیحت لینا چاہتا تو نصیحت حاصل کرسکتا تھا اور تمہارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا تھا اب مزہ چکھو ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے مقابلے میں جہنمیوں کی سزا اور ان کی آہ زاریاں۔ جو لوگ کفر وشرک، بدعت و رسومات پر قائم رہے انہیں جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ نہ ان کو موت آئے گی اور نہ ہی ان پر جہنم کا عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ٹھیک، ٹھیک سزا دیں گے وہ جہنم میں چیختے چلاتے ہوئے اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں کریں گے کہ اے ہمارے رب ! تیرے حضور ہم فریاد پر فریاد کرتے ہیں کہ ہمیں ایک دفعہ جہنم سے نکال دے اور ہمیں دنیا میں جانے کا موقعہ عنایت فرما ہم واپس جا کر بدی کی بجائے نیکی اور برائی کی جگہ اچھائی کریں گے۔ جہنمیوں کی آہ زاری کے جواب میں اس موقعہ پر صرف اتناارشاد ہوگا کہ کیا ہم نے دنیا میں رہنے کے لیے تمہیں ایک عرصہ نہیں دیا تھا ؟ اور تمہارے پاس برے انجام سے ڈرانے والے نبی نہیں بھیجے تھے ؟ لیکن تم نے ان کی نصیحت کو درخور اعتناء نہ سمجھا لہٰذا جہنم کی سزائیں بھگتتے رہو۔ ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ ” حضرت ابی دردا ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی۔ وہ بھوک اس عذاب کے برابر ہوگی جس میں وہ مبتلا ہوں گے اور کھانا طلب کریں گے تو انہیں کھانے میں سوکھی گھاس پیش کی جائے گی جس سے نہ تو وہ موٹے ہو پائیں گے اور نہ ان کی بھوک دور ہوگی وہ کھانا طلب کریں گے تو انہیں ایسا کھانا دیا جائے گا جو ان کے حلق میں اٹک جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ دنیا میں کھانا حلق میں اٹک جاتا تھا تو ہم پانی کے ساتھ اسے نیچے اتارتے تھے۔ پانی طلب کریں گے تو انہیں گرم پانی لوہے کے پیالوں میں دیا جائے گا جب اسے اپنے چہروں کے قریب کریں گے تو ان کے چہرے جھلس جائیں گے۔ جب اسے اپنے پیٹ میں داخل کریں گے تو ان کے پیٹ کٹ جائیں گے۔ وہ کہیں گے جہنم کے داروغے کو بلاؤ انہیں جواب دیا جائے گا۔ کیا تمہارے پاس معجزات لے کر رسول نہیں آئے تھے ؟ وہ جواب دیں گے ہاں ! فرشتے کہیں گے تم چیختے چلاتے رہو ! تمہاری فریاد رائیگاں جائے گی۔ وہ کہیں گے مالک کو پکارو ! تو جہنمی جہنم کے کنٹرولر مالک فرشتے کو پکاریں گے کہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرو کہ ہمارے مرنے کا فیصلہ فرما دے جواب دیا جائے گا تم ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ اعمش نے کہا ان کو مالک کی طرف سے ایک ہزار سال کے بعد جواب دیا جائے گا۔ جہنمی کہیں گے کہ اپنے پروردگار کو پکارو ! تمہارے رب سے بہتر کوئی سننے والا نہیں۔ وہ فریاد کریں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ ہوگئے اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس جہنم سے نکال دے اگر ہم دوبارہ ایسے اعمال کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔ انہیں جواب دیا جائے گا۔ اسی دوزخ میں رہو اور کسی قسم کی کلام نہ کرو ! اس وقت وہ ہر بھلائی سے ناامید ہوجائیں گے، وہ آہ وزاریاں کریں گے اور کھانے پے حسرت کا اظہار کرتے ہوئے واویلا کریں گے۔ “ [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ طَعَامِ أَہْلِ النَّارِ ] مسائل 1۔ جہنمیوں کو جہنم میں موت نہیں آئے گی۔ 2۔ جہنم کا عذاب کبھی ہلکا نہیں ہوگا۔ 3۔ جہنمی جہنم میں چیخ چیخ کر آہ و زاریاں کریں گے مگر ان کی فریادیں مسترد کردی جائیں گی 4۔ جہنم میں جہنمیوں کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔
Ayahs 35:38–39

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے، وہ تو سینوں کے چھپے ہوئے راز بھی جانتا ہے

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور کافروں کا کفر ان کے رب کے غضب میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ کفار کا کفر ان کے نقصان میں اضافہ ہی کرتا ہے

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور جہنمی فریاد پر فریاد کریں گے کہ ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں جانے کا موقع دیا جائے ہم صالح اعمال کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کی فریاد کو مستر کردے گا۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کے غیب ہی نہیں جانتا بلکہ وہ تو لوگوں کے سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کے ماضی، حال اور مستقبل سے پوری طرح واقف ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جہنمی دنیا میں واپس جاکر وہی اعمال کریں گے جن سے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور دین کے مبلغین منع کیا کرتے تھے اس لیے ان کی آہ وزاریوں کو مسترد کردیا جائے گا۔” اللہ “ ہی لوگوں کو ایک دوسرے کا جانشین بنانے والا اور ان تک اپنے احکام پہنچانے والا ہے۔ لیکن انکار کرنے والے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ یہ لوگ اپنے انجام کو پالیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ جس نے اس کی ذات اور بات کا انکار کیا اس کا بوجھ اسی پر ہوگا۔ کفارکا کفر اللہ تعالیٰ کے غضب کو زیادہ ہی کرتا ہے۔ ” خَلِیْفَۃٌ“ کی جمع ” خَلَا ءِفٌ“ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک نسل ختم ہونے کے بعد دوسری نسل کا وارث بننا۔ بعض لوگوں نے خلیفہ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ قرار دیا ہے۔ جس کے لیے ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں۔ آدم (علیہ السلام) سے پہلے زمین پر جنات بستے تھے اس لیے بہتر ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ قرار دینے کی بجائے جنوں کا خلیفہ قرار دیا جائے۔ کچھ اہل علم نے خلیفہ کا معنٰی حکمران لیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک زمین میں حکمرانی عطا فرمائی ہے۔ اسی بنیاد پر ارشاد فرمایا : (وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) [ الانعام : 165] ” اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا جانشین بنایا اور تمہیں ایک دوسرے پر درجات میں بلند کیا تاکہ ان چیزوں میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تمہیں دی ہیں بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بےحد بخشنے والا، مہربان ہے۔ “ (اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ) [ الحج : 41] ” یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی ہر بات اور لوگوں کے دلوں کے راز کو جانتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا ہے۔ 3۔ کفار کا کفر انہی کے نقصان میں اضافہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن خلیفہ اور اس کی ذمہ داریاں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ ( البقرۃ : 30) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو خلیفہ بنایا۔ (ص : 26) 3۔ ہم نے زمین میں ان کے بعد تمہیں خلافت دی تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (یونس : 14) 4۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں لے جاتا اور تمہارے بعد کسی اور کو خلیفہ بنا دیتا۔ (الانعام : 133) 5۔ میرا رب تمہارے سوا کسی اور کو خلافت دے دے تو تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ہود : 57) 6۔ عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین کی خلافت عطا کرے گا۔ (الاعراف : 129)
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

اے نبی ان سے فرمائیں کہ کبھی تم نے دیکھا ہے اپنے ان شریکوں کو جنہیں تم ” اللہ “ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو ؟ مجھے بتاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا آسمانوں میں ان کی کیا شراکت ہے۔ یا ہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ دی ہے ؟ جس بنا پر یہ لوگ کوئی واضح ثبوت رکھتے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ ظالم ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے جا رہے ہیں

فہم القرآن ربط کلام : انسان نے نا صرف اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے بلکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا کر اپنے خلیفہ ہونے کی بھی توہین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں حکمرانی عطا فرمائی اور زمین و آسمانوں کی ہر چیز کو اس کی خدمت پر لگایا (الجاثیۃ : 31) اور اسے حکم دیا کہ میرے سوا تو نے کسی کے سامنے نہ جھکنا ہے اور نہ ہی کسی کو اپنے نفع و نقصان کا مالک سمجھنا۔ مگر بیشمار لوگوں نے صرف ایک ” اللہ “ کو پکارنے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی بجائے اس کے شریک بنائے، اور ذات کبریاء کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے اپنی فریادیں رکوع و سجود اور نذر ونیاز پیش کیے اور ان کا حکم مانا۔ ایسے لوگوں کو چیلنج کے انداز میں مخاطب کیا جارہا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ کے سواپکارتے ہو۔ دکھاؤ انہوں نے پوری دھرتی میں کونسی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں کی بناوٹ اور ان کے درمیان بسنے والی مخلوق میں سے کس کی تخلیق میں وہ شامل تھے ؟ یا ان کے پاس کوئی ایسی آسمانی کتاب ہے جس میں ان کے باطل عقیدہ اور طریقہ کی کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ دلیل موجود ہو ؟ اگر کوئی دلیل ہے تو اسے پیش کرو۔ ظاہر ہے کہ ان کے شریکوں نے زمین و آسمانوں اور پوری مخلوق میں سے نہ کسی چیز کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی یہ آسمانوں کی ساخت اور پرداخت میں شریک ہوئے اور نہ ہی ان کے پاس کسی آسمانی کتاب کی کوئی ایک دلیل ہے۔ ان کے شرکیہ عقائد اور اعمال کا اس کے علاوہ کوئی وجود نہیں کہ یہ جھوٹی داستانوں، من گھڑت کہانیوں اور کرامات کے ساتھ ایک دوسرے کو دھوکادیتے ہیں۔ قبروں کے مجاور اور بتوں کے پرستار اپنے اپنے بتوں اور مزارات کے بارے میں جھوٹی کرامات، بےبنیاد داستانیں اور من گھڑت مشکل کشائی کے واقعات بیان کرتے ہیں۔ تاکہ بتوں کے پوجنے والوں اور قبروں کے پرستاروں سے اپنے اپنے انداز میں نذر و نیاز وصول کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ آخرت کے بارے میں بھی دھوکا دیتے ہیں کہ یہ بزرگ ” اللہ “ کے ہاں آپ کے سفارشی ہوں گے۔ مسائل 1۔ مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کا زمین و آسمانوں میں کوئی حصہ اور اختیارات نہیں ہیں۔ 2۔ مشرک کے پاس اپنے باطل عقیدہ کی تائید میں کسی آسمانی کتاب سے کوئی دلیل نہیں۔ 3۔ باطل عقیدہ رکھنے والے پیر اور مرید جھوٹی داستانوں اور کرامتوں کے ذریعے ایک دوسرے کو دھوکا دیتے ہیں۔ 4۔ مشرک دنیا کے معاملات میں کتنا ہی منصف مزاج کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا شمار ظالموں میں ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نے کوئی چیز پیدا کی ہے تو اس کی دلیل پیش کرو ؟ 1۔ جو ” اللہ “ کے علاوہ کسی غیر کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ (المؤمنون : 117) 2۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کئی معبود بنالیے ہیں آپ فرمائیں کوئی دلیل لاؤ۔ (الانبیاء : 24) 3۔ اس کے سوا کوئی اور الٰہ ہے تو دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل : 64) 4۔ وہ ” اللہ “ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی گئی۔ (الحج : 71) 5۔ تم ” اللہ “ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے نہیں ڈرتے جس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (الانعام : 81) 6۔ انہوں نے اللہ کے سوا ان کو الٰہ بنا لیا ہے جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الفرقان : 3) 7۔ کیا تم ان کو شریک بناتے ہو جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف : 191) 8۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے وہ تو خود مخلوق ہیں۔ (النحل : 20) 9۔ اے لوگو ! تمہارے پاس رب کی طرف سے اس کی توحید کی دلیل آچکی ہے۔ (النساء : 175)
Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی انہیں تھامنے والا نہیں ہے، بیشک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار، ان کے قائم رکھنے میں بھی کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور وہی انہیں تھامے ہوئے ہے۔ تاکہ اپنے مقام سے ہلنے نہ پائیں اگر وہ اپنی جگہ سے ہل جائیں تو پھر کون ہے جو انہیں اسی جگہ پر لے آئے ؟ آسمان کو تھامنا تو درکنار، پوری دنیا کے حکمران اور عوام مل کر زمین کو ہلنے یعنی زلزلہ سے نہیں بچا سکتے۔ زلزلہ سے بچانا تو دور کی بات ہے ارضیات کے سائنسدان یہ پتہ نہیں چلا سکے کہ زمین میں کہاں اور کب زلزلہ واقع ہوگا۔ تاریخ انسانی میں کتنی بار زلزلہ آیا جس نے چند لمحوں کے اندر نہ صرف انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ اس علاقے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اب تک نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی زلزلوں کو روک سکے اس کی قوت وقدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دے رکھا ہے۔ جس وجہ سے انسان زمین و آسمانوں کے خالق اور مالک کو بھول کر اس کی مخلوق میں سے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتا ہے۔ ظلم اور سرکشی کی حد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا مشرک انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتا ہے اور جن قبروں اور مورتیوں کو اپنے ہاتھ سے بناتا ہے۔ انہیں کے سامنے جھکتا ہے اور دنیا میں ایسے جاہل اور ظالم بھی ہیں جو اپنے مقابلے میں حقیر مخلوق سانپ، بچھو اور اس سے بھی کم تر مخلوق کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ زمین کی چھاتی اور آسمان کے سائے تلے ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے باوجود کفر، شرک اور ظلم پر لوگوں کو فی الفور نہیں پکڑتا وہ مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ انسان اپنے گناہوں سے تائب ہوجائے۔ یا پھر گناہ کرنے میں اسے کوئی حسرت نہ رہے یہ مہلت اس لیے بھی دی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عظیم حوصلے والا، بہت ہی زیادہ معاف کرنے والا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ ؓ قَالَ قَال النَّبِی ﷺ یَقُول اللَّہُ شَتَمَنِی ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِی، وَتَکَذَّبَنِی وَمَا یَنْبَغِی لَہُ ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِی کَمَا بَدَأَنِی) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں۔ وہ میری تکذیب کرتا ہے اور یہ بھی اسے زیب نہیں دیتا۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد بنا رکھی ہے۔ اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کو تھامے ہوئے ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو حرکت دے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ 3۔ یقیناً اللہ تعالیٰ عظیم حوصلے والا اور بڑا ہی معاف کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کی حفاظت : 1۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : 117) 2۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ (البقرۃ : 29) 3۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ : 29) 4۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ بنائے تاکہ زمین ہل نہ سکے۔ (فاطر : 41) 5۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : 22) 6۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا۔ ( الرعد : 2) 7۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : 54) 8۔ اگر آپ ﷺ ان سے زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں گے تو اللہ ہی کا نام لیں گے۔ (لقمان : 25) 9۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا “ اللہ “ ہے کیا اس کے ساتھ کوئی اور برسانے والا ہے ؟ (النمل : 60) 10۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : 21)