Ayah 29:26فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پرخلوص اور طویل جدوجہد کے باوجود حضرت لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکومت وقت اور ان کی قوم نے آگ میں پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بسلامت آگ سے نکال لیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت اور بزرگی دیکھ کر قوم بالاتفاق ان پر ایمان لے آتی لیکن حکومت کے رعب اور ذاتی مفادات کی خاطر کوئی شخص حضرت پر ایمان نہ لایا۔ صرف آپ کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے۔ جن کے بارے میں مفسرین نے وضاحت فرمائی ہے کہ لوط (علیہ السلام) کے ایمان لانے کا یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے مشرک یا مشرکوں کے حمایتی تھے۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ابتداہی سے شرک و رسومات سے محفوظ رکھتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ایمان لانے سے مراد ان کا اپنے ایمان کا اعلان کرنا ہے۔ عین ممکن ہے کہ لوط (علیہ السلام) ایمان پہلے لا چکے ہوں لیکن اس موقعہ پر انھوں نے اپنے ایمان کا برملا اعلان کیا ہو۔ یہی جوان ہے جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حمایت اور ایمان کی خاطر اپنا گھر اور عزیز و اقرباء کو چھوڑا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت سارہ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق کی سرزمین چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے سب کچھ چھوڑ رہا ہوں۔ میرا رب بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ یعنی اگر میری دعوت یہاں نہیں پھیلی تو اس میں بھی میرے رب کی حکمت پنہاں ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ دنیا میں میری دعوت پھیل کر رہے گی کیوں کہ میرا رب غالب اور حکمت والا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ارشاد سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انسان کو ہجرت بھی اپنے رب کی رضا کے لیے کرنی ہے۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے :
(عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِاِمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ الی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلَی دُنْےَا ےُصِےْبُھَا اَوِامْرَاَۃٍ ےَتَزَوَّجُھَا فَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَےْہِ ) [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی ]
” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔ “
Ayah 29:27فہم القرآن
ربط کلام : ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارتوں سے نوازا جانا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی بیوی حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کی تو اس وقت ان کی عمر مبارک تقریباً اسی سال کے قریب ہوچکی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے وقت جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ میرے رب مجھے نیک بیٹا عطا فرما۔ ہجرت کے دوران ایک ظالم حکمران نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رفیقہ حیات حضرت سارہ کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ نے اسے معجزانہ طور پر ناکام کیا۔ اس سے متاثر ہو کر اس نے اپنی بیٹی ہاجرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقد میں دی۔ حضرت ابراہیم حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ کو لے کر فلسطین کی سرزمین میں آباد ہوئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت کو پہلے حضرت اسماعیل عنایت کیا اور پھر حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ بیٹے اور پوتے کی خوشخبری کے ساتھ یہ بھی خوشخبری دی گئی کہ ابراہیم تیری اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کردیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں عظیم صلہ دینے کے ساتھ قیامت کے دن صالحین میں شامل فرمایا لیا۔
چنانچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث کیے وہ حضرت اسحاق کی اولاد میں تھے۔ حضرت اسماعیل کی پوری نسل میں صرف نبی آخر الزماں ﷺ ہی مبعوث کیے گئے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق جس دور سے ہے۔ اس دور کو معاشی تاریخ میں گلہ بانی کا دورشمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت کی سب سے بڑی دولت بھیڑ بکریاں تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اتنا مال تھا کہ بڑے سے بڑا جنگل بھی تنگی واماں کی شکایت کرتا دکھائی دیتا تھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا تھا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منفر اعزاز :
(وَ اِذِابْتَلآی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنََ ) [ البقرۃ : 124]
” جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابراہیم میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے عرض کی کہ میری اولاد کو بھی۔ فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں ہے۔ “
تمام مؤرخین نے تحریر فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر سو سال اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ ( علیہ السلام) کی عمر نوّے سال تھی۔ قرآن مجید نے ولادت اسحاق (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ فرشتے انسانوں کی شکل میں جناب خلیل (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑابھون لائے لیکن انسانی شکل میں آنے والے ملائکہ کھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ میں ایک خوف محسوس کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ کیفیت دیکھ کر فرشتوں نے فورا اصل حقائق سامنے رکھ دے ئے ساتھ ہی جناب اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی اور اسکے ساتھ ہی پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری بھی سنا دی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کے بعد اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) اور پوتا یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمائے۔
2۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری فرمایا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھی بلند مقام عطا فرمایا۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آخرت میں صالح لوگوں میں شامل فرما لیا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتیازات :
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل اور بردبار تھے۔ (التوبۃ : 114) 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت راست باز نبی تھے۔ (مریم : 41)
3۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم، بڑے خیر خواہ اور نرم دل تھے۔ (ہود : 75)
4۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ (الصٰفت : 111) 5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو پوری دنیا کا پیشوا بنایا۔ ( البقرۃ : 124)
6۔ ابراہیم (علیہ السلام) معبودان باطل کے انکاری اور براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : 4)
7۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے ابتداء سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا۔ (الانبیاء : 51)
Ayahs 29:28–29فہم القرآن
ربط کلام : حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی قوم کا مختصر ذکر۔
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردارلوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔
قوم لوط کا کردار :
انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے کی بجائے حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کا سمجھانا :
قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں، اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمے ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ (الشعراء : 160 تا 166)
قوم کا جواب :
(قَالُوْا لَءِنْ لَمْ تَنْتَہِ یَالُوطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِینَ قَالَ اِِنِّی لِعَمَلِکُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَ ) [ الشعراء : 167 تا 168]
” کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے کام کا سخت مخالف ہوں۔ “
” لوط (علیہ السلام) نے اس وقت اپنی قوم سے کہا تم یہ بےحیائی کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی۔ “ (الاعراف : 80)
” ان کی قوم سے اس کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا وہ کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ “ (الاعراف : 80 تا 82)
قوم کا جواب :
” اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ “ (العنکبوت : 29)
تفسیر بالقرآن
ظالم اقوام کا اپنے انبیاء سے عذاب کا مطالبہ :
1۔ حضرت نوح کو قوم نے کہا کہ جو ہمارے ساتھ عذاب کا وعدہ کرتا ہے وہ لے آ۔ (ہود : 32)
2۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77)
3۔ مدین والوں نے شعیب (علیہ السلام) سے عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کیا۔ (الشعرا : 187)
4۔ قوم عاد نے ہود سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : 22)
5۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑاگرادے۔ (بنی اسرائیل : 92)
Ayah 29:30فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مجبور کرنے پر حضرت لوط کی اللہ کے حضور فریاد۔ اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔
حضرت لوط کی بددعا قبول ہوئی جس کے نتیجے میں قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے حضرت ابراہیم کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی، جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا، لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے، خوشخبری دینے کے بعد ملائکہ نے حضرت ابراہیم سے ذکر کیا کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حوصلہ مند اور نرم خو تھے، ملائکہ نے انہیں عرض کی اس بات کو جانے دیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوچکا ہے لہذا اس عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (ہود : 69 تا 76) اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کی قوم پر عذاب نازل کیا اور انہیں عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔
مسائل :
1۔ حضرت لوط کی قوم ہم جنسی کے جرم میں ملوث تھی۔
تفسیر بالقرآن
قوم لوط کا انجام :
1۔ ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے ہی بدکاری کے عادی تھے۔ (ھود : 78)
2۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : 80)
3۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی جو تہہ بہ تہہ خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82)
4: ہم نے اس بستی کو الٹ دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : 74)
Ayahs 29:31–32فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کو تباہ کرنے والے ملائکہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تکرار۔
قوم لوط کو تباہ کرنے سے پہلے یہی ملائکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ جس کا تذکرہ سورة ھود، آیت : 69 تا 73 میں اس طرح ہوا ہے۔ ملائکہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دے کر رخصت ہونے لگے تو انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھی بھیجے گئے، اس لیے اب ہم اس بستی کی طرف جا رہے ہیں تاکہ اسے نیست و نابود کردیا جائے کیونکہ اس میں رہنے والے بڑے ظالم لوگ ہیں۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) فرمانے لگے کہ ان میں لوط ( علیہ السلام) بھی موجود ہیں۔ ملائکہ نے فرمایا کہ ہاں ہمیں معلوم ہے کہ اس بستی میں لوط بھی موجود ہیں۔ لیکن ہم لوط (علیہ السلام) اور اس کے ایمان دار ساتھیوں کو وہاں سے نکلنے کا موقعہ دیں گے۔ البتہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی تباہ ہونے والوں میں شامل ہوگی۔
Ayahs 29:33–35فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط تباہی کے دہانے پر۔ عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں
قرآن مجید بتلارہا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑی ہوئی آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ (ہود : 78)
بے حیا کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کیا سروکار، تو جانتا ہے کہ ہم کس ارادہ سے آئے ہیں اس مشکل ترین وقت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آج کا دن میرے لیے بڑا بھاری دن ہے۔ کاش تمہارے مقابلے میں میرا کوئی حمایتی ہوتا یا کوئی پناہ گاہ جہاں میں تم سے بچ نکلتا۔ (ہود : 79، 80)
ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرکے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں :
عذاب کے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ اے اللہ کے نبی دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ بےحیا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس آپ اہل ایمان کو لے کر رات کے پچھلے پہر ہجرت کر جائیں۔ ہاں یاد رہے کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جاسکیں گے کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا ہے جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہوں گے اور یہ عذاب ٹھیک صبح کے وقت نازل ہوگا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) گھبراہٹ کے عالم میں فرمانے لگے کہ صبح کب ہوگی ؟ ملائکہ نے مزید تسلّی دیتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صبح تو ہونے ہی والی ہے چناچہ صبح کے وقت رب ذوالجلال کا حکم صادر ہوا تو ملائکہ نے اس دھرتی کو اٹھا کر نیچے پٹخ دیا گیا، پھر ان پر مسلسل نامزد پتھروں کی بارش کی گئی۔ (ھود : 69 تا 83)
سورۃ القمر 37 تا 38 میں فرمایا کہ ظالموں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں پر زیادتی کرنا چاہی تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مسخ دیا۔
یقیناً لوط (علیہ السلام) مرسلین میں سے تھے ہم نے انھیں اور اس کے اہل کو نجات دی۔ البتہ ایک بڑھیا کو پیچھے رہنے دیا باقی سب کو ہم نے ہلاک کیا۔ اے اہل مکہ تم صبح شام ان بستیوں سے گزرتے ہو لیکن اس کے باوجود عقل نہیں کرتے۔ (الصّٰفٰت : 135 تا 8 13)
(فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَ مَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ ) [ ھود : 82، 83]
” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے (تہس نہس) کردیا۔ پھر تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا یہ سزا ظالموں سے دور نہیں ہے۔ “
بحرمردار (میت):
بحر مردار کے بارے میں پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے البتہ عبرت کی خاطر پھر تحریر کیا جاتا ہے۔
دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اسکی سطح کا کل رقبہ 351 مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اور اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل بن چکی ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب لوط (علیہ السلام) سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ اللہ کے عذاب کی وجہ سے جب اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ “
مسائل
1۔ حضرت لوط (علیہ السلام) ملائکہ کو نہ پہچان سکے۔ (کیونکہ وہ لڑکوں کی شکل میں آئے تھے)
2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) قوم کے کردار کی وجہ سے اپنے مہمانوں سے خوفزدہ اور پریشان ہوگئے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط اور ان کی بستی کو تباہ و برباد کردیا۔
4۔ قوم لوط اور ان کی بستی کو نشان عبرت بنا دیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
قوم لوط کی تباہی کا منظر :
1۔ ہم نے اس بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : 74)
2۔ لوط (علیہ السلام) کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے ہی بدکار تھے۔ (ھود : 78)
3۔ لوط نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : 80)
4۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا پھر ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ اور نشان زدہ۔ (ھود : 82)
Ayahs 29:36–37فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کی تباہی کے بعد قوم مدین کی تباہی کا تذکرہ۔
1۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شرک جیسے غلیظ اور بد ترین عقیدہ میں مبتلا تھی۔ شرک وہ بیماری ہے جسے امّ الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین کے اندر وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیمار یوں نے جنم لیا۔ جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوط کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ اس امّ الامراض کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ (الاعراف، آیت : 85)
2۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ وزن اور پیمائش سے کم دیتے۔ دوسروں سے لیتے تو طے شدہ وزن سے زیادہ لینے کی مجرمانہ کوشش کرتے۔ (الاعراف، آیت : 85)
3۔ یہ لوگ پیشہ ور ڈاکو تھے ان کے علاقے سے گزرنے والے مسافروں کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ نہیں تھے۔ (الاعراف : 86، ھود : 85)
4۔ یہ لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت اور نافرمانی کرنے والے تھے۔ (ھود : 89)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحتیں :
1۔ اے میری قوم ایک اللہ کی عبادت کرو، ماپ تول میں کمی ڈاکہ زنی اور فساد فی الارض سے توبہ کرو۔ اگر میری بات مان جاؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ہر لحاظ سے تھوڑے اور کم تر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کثرت سے نوازا۔ (الاعراف : 86، 85)
” اے میری قوم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور میری بات مانو۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور اس پر میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے۔ “ (الشعراء : 176 تا 180)
قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب :
اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی کہتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقۂ عبادت کو چھوڑ دیں اور اپنے کاروبار کو اپنے طریقہ کے مطابق نہ کریں ؟ ھود : 87۔ تم پر اے شعیب ( علیہ السلام) کسی نے جادو کردیا ہے۔ (الشعراء : 185)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید نصیحت :
” اے میری قوم میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے وافر رزق عطا فرمایا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں وہی کچھ کروں جس سے تمہیں منع کرتا ہوں۔ میں اللہ کی توفیق سے صرف اصلاح کی غرض سے یہ بات کہتا ہوں۔ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور میں ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ (ھود : 88)
قوم کا جواب :
” اے شعیب ! تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے آپ میں کمزور دیکھتے ہیں، اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے پتھر مار مار کر رجم کردیتے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکتا۔ “ (ھود، آیت : 91)
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ارشاد :
” میری قوم کیا تم اللہ تعالیٰ سے میری برادری کو بڑا سمجھتے ہو اور تم برے اعمال سے باز نہیں آتے۔ لہٰذا تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو اور عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ “ (ھود : 90 تا 95)
قوم حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے :
” اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں بس تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے اگر تو سچا ہے۔ “ (الشعراء : 185 تا 187)
قوم شعیب پر اللہ تعالیٰ کا عذاب :
قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان پر بلاشبہ عذاب عظیم نازل ہوا۔ ( الشعراء : 189)
ظالموں کو ایک کڑک نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو۔ یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پر پھٹکاری کی گئی۔ مفسرین نے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سات راتیں، آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ نہ وہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے سکون پاسکتے تھے۔ وہ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوا۔ جب سب کے سب لوگ بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے۔ زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور پھر ایسی دھماکا خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا لاشوں کو خطاب :
(فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ) [ الاعراف : 93]
حضرت شعیب (علیہ السلام) ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اے میری قوم میں نے نہایت خیر خواہی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ لہٰذا اللہ کے نافرمانوں پر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔
مسائل
1۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ” اللہ “ کی عبادت اور آخرت کی جوابدہی کی تلقین فرمائی۔
تفسیر بالقرآن
قوم مدین کی تباہی کے اسباب :
1۔ قوم مدین شرک جیسے سنگین جرم میں ملوث تھی۔ (ھود : 84) 2۔ ناپ تول میں کمی و بیشی کرنے والے لوگ تھے۔ (ھود : 85)
3۔ ڈاکو اور راہ زن تھے۔ (الاعراف : 85) 4۔ ایمان والوں کو کفر پر مجبور کرتے تھے۔ (الاعراف : 89)
5۔ حضرت شعیب پر جھوٹا ہونے کا الزام لگایا۔ ( الشعراء : 186) 6۔ حضرت شعیب کو سحر زدہ قرار دیا۔ ( الشعراء : 185)
7۔ حضرت شعیب کی پیروی کو نقصان کا باعث قرار دیا۔ (الاعراف : 90)
8۔ حضرت شعیب کی نماز کو ان کے لیے طعنہ بنایا۔ ( ھود : 87)
9۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم مخالفت برائے مخالفت کرتی تھی۔ ( ھود : 89)
10۔ شعیب (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکیاں دیں۔ (ھود : 91)
11۔ اے شعیب تو ہمارے جیسا انسان ہے اور ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں بس اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ (الشعراء : 185 تا 187)
Ayah 29:38فہم القرآن
ربط کلام : قوم مدین کی تباہی کے بعد قوم عاد کی تباہی کا بیان۔
عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ اب جو احقاف، یمن اور حضرت موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اہل عرب اس کو اچھی طرح جانتے تھے، حجاز کی شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار زیادہ نمایاں تھے۔
قوم عاد اور قوم ثمود کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ دنیوی اعتبار سے بڑے ترقی یافتہ اور سیاسی لوگ تھے۔ مگر ان کی ترقی اور سیاسی سوج بوجھ ان کے کسی کام نہ آئی ان کی عیاسی اور عیش و عشرت ہی ان کے لیے تباہی کا سبب بنی۔
حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور قوم عاد کا انجام :
1۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنوں : 39)
2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : 7۔ الشعراء : 20)
3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24)
4۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : 7)
5۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41، 42)
6۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : 16، ھود : 59)
7۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72)
8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : 58)
مسائل
1۔ قوم عاد اور ثمود کے لیے شیطان نے ان کے اعمال کو خوبصورت بنادیا تھا۔
2۔ قوم عاد کے گھروں کو عبرت گاہ بنا دیا گیا۔
3۔ قوم عاد کے لوگ ترقی یافتہ اور بڑے ہوشیار لوگ تھے۔
تفسیر بالقرآن
قوم ثمود اور قوم عاد کی تباہی :
1۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
2۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 68)
3۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 95)
4۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78)
5۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
6۔ قوم ثمود نے ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی کو ترجیح دی تو انہیں رسوا کردینے والی آواز نے آلیا۔ ( حٰم السجدۃ : 18)
7۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ ( النجم : 51)
8۔ قوم ثمود کو ان کی سرکشی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ ( الحاقۃ : 5)
9۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6)
10۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
11۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : 6)
Ayah 29:39فہم القرآن
ربط کلام : قوم نوح، قوم ابراہیم، قوم لوط، قوم عاد، قوم ثمود کی طرح آل فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت اور حق کے خلاف تکبر اختیار کیا۔
پہلی اقوام کے کردار اور ان کی تباہی کا ذکر کرنے کے بعد نہایت مختصر الفاظ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تین افراد کا نام لیا ہے جو پوری قوم کی تباہی کا باعث بنے ان میں قارون نے اپنی دولت کی بنیاد پر فرعون اپنے اقتدار کی خاطر اور ہامان نے اپنی سیاست کی بناء پر حقائق کو جھٹلایا اور تکبر کرنے کی انتہاء کردی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اِ ن پر گرفت کی۔ تو قارون کی دولت، فرعون کا اقتدار اور ہامان کی سیاست اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔
(اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
” تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “
مسائل
1۔ قارون، فرعون اور ہامان نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور اپنی قوم کو گمراہ کیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے تکبر کی وجہ سے نیست و نابود کردیا۔
تفسیر بالقرآن
متکبرّین کا انجام :
1۔ سب سے پہلے شیطان نے تکبر کیا۔ (ص : 74) 2۔ تکبر کرنا فرعون اور اللہ کے باغیوں کا طریقہ ہے۔ (القصص : 39)
3۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (المؤمن : 35) 4۔ متکبر کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : 23)
5۔ تکبر کرنے والے جہنم میں جائیں گے۔ (المؤمن : 76)
Ayah 29:40فہم القرآن
ربط کلام : متکبرین کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کیا گیا ان میں سے کسی ایک کو بھی ” اللہ “ کی گرفت سے کوئی نہ بچا سکا۔
قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کے دوسرے جرائم کے ساتھ سب سے بڑا جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔
قوم عاد کو شدید ترین آندھی کے ساتھ پٹخ پٹخ کر زمین پردے مارا۔ قوم ثمود کو کلیجہ پھاڑ دینے والی دھماکہ خیز آواز اور شدید زلزلے نے آلیا اور پھر ان پر نامزدپتھر برسائے گئے۔ قارون کو اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قوم نوح کو طوفان بادو باراں اور ہولناک سیلاب کے ساتھ تباہ کیا گیا۔ فرعون اور اس لشکر کو بحر قلزم میں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا گیا۔ سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے اپنے آپ پر خود ہی ظلم کیا تھا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا۔۔ ) [ رواہ البخاری : باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوذر نبی کریم ﷺ سے حدیث قدسی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے آپ پر ظلم حرام قرار دیا ہے اور تم بھی، آپس میں ظلم نہ کیا کرو۔ “
(مَا یَفْعَلُ اللَّہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآَمَنْتُمْ وَکَان اللَّہُ شَاکِرًا عَلِیمًا) [ النساء : 147]
اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ اگر تم شکر گزار ہوجاؤ اور ایمان لاؤ۔ اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ 2۔ لوگ اپنے ظلم کی وجہ سے ہی پکڑے جاتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
پہلی اقوام پر مختلف قسم کے عذابوں کا نزول :
1۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : 45)
2۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
3۔ قوم عاد کو تیز و تند ہوا نے ہلاک کیا۔ (الحاقۃ : 6)
4۔ قوم لوط کی بستی کو الٹاکر دیا اور ان پرکھنگر والے پتھر برسائے گئے۔ (الحجر : 74)
5۔ آل فرعون کو غرق کردیا گیا۔ (البقرۃ : 50)
6۔ بنی اسرائیل کو اللہ نے ذلیل بندر بنا دیا۔ (البقرۃ : 65)
7۔ ان کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا کسی پر تند ہوا بھیجی، کسی کو ہولناک آواز نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو غرق کردیا۔ (العنکبوت : 40)
Ayah 29:41فہم القرآن
ربط کلام : غیر اللہ سے مدد طلب کرنے والے شخص کے عقیدہ کی مثال۔
تباہ ہونے والی اقوام نے اللہ تعالیٰ کے سوا فوت شدہ بزرگوں، پتھر اور مٹی کی مورتیوں اور دنیا کے مختلف اسباب کو ” اللہ “ کا درجہ دے رکھا تھا۔ یہ اقوام سمجھتی تھیں کہ ہمارے بزرگ اور اسباب ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس لیے انہوں نے انبیاء کی دعوت کو قابل توجہ نہ جانا اس جرم کی وجہ سے ان پر رب ذوالجلال کا عذاب آیا تو ان کو بچانے والا کوئی نہ تھا۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے خداؤں اور بزرگوں کو مشکل کشا اور دستگیر سمجھتے تھے۔ ان کے مشرکانہ عقیدے کو مکڑی کے جالے کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے جو دنیا کے گھروں میں سب سے کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ جس طرح مکڑی مضبوط چھت کے نیچے جالا بن کر اپنے لیے الگ گھر تیار کرتی ہے اور اس وہم کا شکار ہوتی ہے کہ وہ اس گھر میں وہ ہر طرح سے محفوظ ہے۔ لیکن ہوا کا معمولی جھونکا یا کوئی تنکا لگنے کی وجہ سے مکڑی کا گھر ختم ہوجاتا ہے یہی حال مشرک کے عقیدے کا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آتی ہے تو مشرک نے جس، جس کو سہارا بنایا ہوتا ہے وہ ” اللہ “ کی گرفت کے مقابلے میں مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ ناپائیدار ثابت ہوتے ہیں جس طرح مکڑی کا گھر تباہ ہوتا ہے اور مکڑی اپنے بنائے ہوئے تانے بانے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے یہی حال مشرک کا ہے کہ اس نے بھی اپنے لیے ایک تانا بانا بنا رکھا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مشکل کے وقت مجھے فلاں اور فلاں بچالے گا۔ باطل عقیدہ کی بنا پر جب مشرک پر ” اللہ “ کی گرفت آتی ہے تو اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اسے بہت جلد اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ اس کے تصورّات اور جھوٹے عقیدہ پر مبنی خیالات کی کوئی حیثیت نہ ہے۔
باالفاظ دیگر شرک کی بنیاد کسی عقلی اور نقلی دلیل پر نہیں ہوتی۔ شرک کی بےثباتی اور ناپائیداری کے باوجود مشرک اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا کیونکہ وہ حقیقی علم سے ناآشنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے شریک کی تائید کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی جب ” اللہ تعالیٰ “ نے شرک کے تائید کے لیے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو اسے ثابت کس طرح کیا جاسکتا ہے۔
(قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْٓ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْن) [ الاعراف : 71]
” اس نے کہا یقیناً تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب آپڑا ہے کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے خودرکھ لیے ہیں جن کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ “
مسائل
1۔ مشرکانہ عقیدہ مکڑی کے جالے کی مانند ناپائیدار ہوتا ہے۔
2۔ دنیا کے گھروں میں سب سے ناپائیدار ٹھکانہ مکڑی کا ہوتا ہے۔
3۔ مشرک حقیقی علم سے ناآشنا ہوتا ہے۔
4۔ مشرکانہ عقیدہ کی علمی اور فکری بنیاد نہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں :
1۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو فرمایا کہ آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ (ھود : 43)
2۔ کافروں کے چہروں پر ذلّت و رسوائی چھا جائے گی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ (یونس : 27)
3۔ اس دن تم پیٹھیں پھیر کر بھاگو گے لیکن تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔ (المومن : 33)
4۔ اگر آپ ﷺ ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے تو آپ کا نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی اللہ سے بچانے والا ہوگا۔ (الرعد : 37)
5۔ جب اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں پکڑ اتو انہیں کوئی بچانے والا نہ تھا۔ (المومن : 21)
6۔ فرما دیجیے کون ہے جو تمہیں اللہ کے عذاب سے بچائے گا اگر وہ تمہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہے۔ (الاحزاب : 17)
7۔ اگر آپ اس کے لیے ستر بار بھی بخشش طلب کریں اللہ نے اسے معاف نہیں کرنا۔ ( التوبۃ : 80)
Ayahs 29:42–44فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ شرک کا انکار کرتے ہیں اس لیے ارشاد ہوا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے سوا وہ جس جس کو پکارتے ہیں۔
مشرک اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مشرک قوم دوچار خداؤں پر مطمئن نہیں ہوتی۔ اہل مکہ نے بیت اللہ میں تین سو ساٹھ جھوٹے خدا سجا رکھے تھے۔ ہندوستان کی مذہبی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس قوم کے خداؤں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے کچھ تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ ان کے خداؤں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ عیسائیوں نے مستقل طور پر تین خدا بنائے ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت عزیز کو ” اللہ “ کا بیٹا ٹھہرایا ہوا ہے اور ایرانیوں نے یزداں اور ابرہمن کو خدا بنایا ہوا تھا یہی حال دوسری اقوام کا ہے کہ ان کے خداؤں کو شمار کرنا مشکل ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اللہ “ جانتا ہے کہ مشرک اس کے سوا کس کس کو پکارتے اور کس کس کی عبادت کرتے ہیں۔ حالانکہ مشرکانہ عقیدہ مکڑی کے تانے بانے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو اِ ن لوگوں کو شرک سے زبردستی روک دے کیونکہ وہ ہر بات پر غالب ہے۔ لیکن اس کی حکمت یہ ہے کہ لوگ عقل وفکر سے کام لے کر شرک سے اجتناب کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں مختلف امثال کے ساتھ عقیدہ توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے لیکن اہل دانش اور حقیقی علم رکھنے والوں کے سوا دوسرے لوگ شرک کی بےثباتی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان کی تخلیق اور وجود میں اس کی قدرت کی بیشمار نشانیاں ہیں لیکن علم رکھنے والے لوگ ہی ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ علم سے مراد حقیقی علم ہے۔ عقیدہ توحید اختیار کرنا اور اس کے تقاضے پورا کرنا علم اور عقل مندی کی دلیل ہے۔ اس کے مقابلے میں شرک پرلے درجے کی بیوقوفی اور جہالت ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کے شرک کو اچھی طرح جانتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔
3۔ قرآن مجید کے دلائل اور امثال سے صاحب دانش اور علم والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
عقیدہ توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید کی امثال :
1۔ ایک غلام کے دو مالک ہوں تو ؟۔ (الزمر : 29)
2۔ ناکارہ اور باصلاحیت غلام میں فرق۔ (النحل : 76)
3۔ مشرک کی تباہی کی مثال۔ (الحج : 31)
4۔ باطل معبودوں اور مکھی کی مثال۔ (الحج : 73)
5۔ دھوپ اور سایہ کی مثال۔ (فاطر : 21)
6۔ اندھیرے اور روشنی کی مثال۔ (فاطر : 20)
7۔ اندھے بہرے، دیدے اور سننے والے کی مثال۔ (ھود : 24)
8۔ علم اور بےعلم کی مثال۔ ( الزمر : 9)
Ayah 29:45فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید سمجھانے کے بعد نبی ﷺ کی نبوت کے عقلی اور تاریخی دلائل۔
نبی معظم ﷺ کے ساتھ مشرکین کا سب سے بڑا اختلاف عقیدہ توحید پر تھا۔ ان کا آخری مطالبہ یہ تھا کہ قرآن مجید کی ان آیات کو خارج از قرآن کیا جائے جن میں ہمارے معبودوں کی نفی کی گئی ہے۔ اس پر آپ ﷺ کو حکم ہوا آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید کی تبلیغ کرتے رہیں اور یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کے فرمان کبھی تبدیل نہیں ہوا کرتے۔ “
” اُتُلُ مَا اُوْحِیَ “ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اے رسول ﷺ ! آپ پر قرآن کی صورت میں جو بھی وحی کی جا رہی ہے اس کی تلاوت کیا کریں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے ایمان میں اضافہ اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ ایمان میں مضبوط شخص ہی مشکلات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اور نماز قائم کریں بیشک نماز انسان کو بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے اور یہ اللہ کا بہت بڑا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ یہاں ” اللہ “ کے ذکر کو سب سے بڑا عمل قرار دیا گیا ہے جس کے اہل علم نے تین مفہوم لیے ہیں۔
1 نماز سب سے بڑا ذکر ہے۔
2 نماز سب سے بڑی عبادت اور یاد الٰہی ہے۔
3 اللہ تعالیٰ کا کسی کو یاد کرنا سب سے بڑی بات ہے۔
اب تینوں باتوں کو قدر تفصیل کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور یاد کا سب سے مؤثر اور قریب ترین ذریعہ ہے۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اے موسیٰ ! میری یاد کے لیے نماز قائم رکھنا۔ ( طٰہٰ : 14) نماز کے بیشمار فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر نماز کے تقاضے پورے کیے جائیں تو یقیناً یہ انسان کو بےحیائی سے بچاتی ہے اس حقیقت کو جاننے کے لیے چند اشارے کافی ہیں۔
نماز میں انسان اپنے رب کی بارگاہ میں ہاتھ جوڑ کر قیام کرتا ہے اس کے بعد رکوع اور پھر سجدہ بجا لاتا ہے۔ اگر انسان پوری توجہ کے ساتھ یہ ارکان ادا کرے تو نمازی میں غرور اور تکبر پیدا نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ پانچ وقت عاجزی کا اظہار کرتا ہے اور بار، بار اللہ اکبر کہہ کر اپنے رب کی کبریائی کا اعتراف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اخلاص کے ساتھ اپنا کبریا ماننے والا شخص متکبر نہیں ہوسکتا۔ نماز میں آدمی کو نگاہیں نیچی اور سجدہ کی جگہ پر مرکوز رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مسجد سے باہر اسے حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچی اور کنٹرول میں رکھے جس سے نہ صرف آدمی کی نگاہیں پاک اور اس کا دل بےحیائی سے محفوظ رہتا ہے۔ بلکہ معاشرے میں بےحیائی ختم کرنے کا یہ مؤثر ترین طریقہ ہے۔ نماز میں انسان تمام مسلمانوں کے لیے خیر اور سلامتی کی دعائیں کرتا ہے اگر ان جذبات کا نماز کے بعد بھی خیال رکھا جائے تو مسلمان ایک دوسرے کی شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ نماز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نماز سے انسان کو روحانی سکون ملتا ہے۔ اس لیے اس موقع پر یہ حکم نازل ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ نماز قائم کریں۔ تاکہ مخالفوں کی مخالفت سے پریشان ہونے کی بجائے آپ پُر سکون رہیں اور یقین رکھیں کہ جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔
نماز دل کا سکون ہے :
(یَابِلَالُ ! اَرِحْنَا بالصَّلَاۃِ ) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند الانصار ]
نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ” اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں سکون پہنچاؤ۔ “
نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا :
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا افضل ہے۔ “
(عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ سَاَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی قَال الصَّلٰوۃُ لِوَقْتِہَا قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بِہِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُّہٗ لَزَادَنِیْ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ الصَّلاَۃِ لِوَقْتِہَا ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی محترم ﷺ سے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو اعمال میں کون ساعمل زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ فرض نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کون سا عمل بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا والدین کے ساتھ بہترسلوک کرنا۔ میں نے پھر عرض کی اس کے بعد کون ساعمل بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں اگر میں اس موقعہ پر مزید سوال کرتا تو آپ اس کا بھی جواب عنایت فرماتے۔ “
تلاوت قرآن کی برکت :
(یَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ مَنْ شَغَلَہُ الْقُرْاٰنُ وَذِکْرِیْ عَنْ مَسْأَلَتِيْ اَعْطَیْتُہٗ اَفْضَلَ مَآ اُعْطِیَ السَّآءِلِیْنَ )
[ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء کیف کانت قراء ۃ النبی ]
” اللہ رب العزت فرماتے ہیں جسے قرآن پاک کی تلاوت اور میرے ذکر نے مجھ سے مانگنے سے روکے رکھا میں اسے مانگنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا۔ “
(عَنْ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَالْکِتَابِ اَقْوَامًاوَیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ]
” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو جو اس پر عمل کریں گی بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو جو اس کو چھوڑ دیں گی انہیں ذلیل کر دے گا۔ “
ذکر کی فضیلت :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے اور جب اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں۔ “
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ صُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورة (ویل للمطففین)]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی جب بھی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا نکتہ لگادیا جاتا ہے جب وہ بےچین ہو کر توبہ و استغفار کرتا ہے تو اس کے دل کو پالش کردیا جاتا ہے اور اگر پھر وہ گناہ کرتا ہے تو وہ نکتہ بڑھادیا جاتا ہے حتٰی کہ وہ پورے دل پر غالب آجاتا ہے اور یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ جو وہ کرتے ہیں اس کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے) ۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ إِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ صِقَالَۃً وَإِنَّ صِقَالَۃَ الْقُلُوْبِ ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجٰی مِنْ عَذَاب اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ۔۔ ) [ صحیح الترغیب للألبانی : 1495]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ فرمایا کرتے تھے ہر چیز کی پالش ہوتی ہے دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے اور اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔ “
نبی کریم ﷺ کی دعا :
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب فی الإستغفار ]
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ مسلمان کو قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ 2۔ نماز کو اس کے آداب اور تقاضوں کے ساتھ قائم کرنا چاہیے۔
3۔ نماز انسان کو برائی اور بےحیائی سے بچاتی ہے۔ 4۔ نماز اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا ذکر ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ 6۔ ” اللہ “ کا ذکر بڑی نیکی ہے۔
تفسیر بالقرآن
نماز کے فوائد :
1۔ وہ لوگ جو کتاب اللہ پر کار بند رہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ہم ان کے اجرکو ضائع نہیں کریں گے۔ (الاعراف : 170)
2۔ اگر لوگ توبہ کریں اور نماز قائم کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ (التوبہ : 5)
3۔ بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت : 45)
4۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی ان پر کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا۔ (البقرۃ : 277)
5۔ اے ایمان والو ! نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کرو یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153)
6۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے جنت کے وارث ہوں گے۔ (المومنون : 9۔ 10)
7۔ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کیلئے صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ہم ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ (الرعد : 22)
Ayah 29:46فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین مکہ کے ساتھ اکثر اہل کتاب بھی نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے پر اتر آتے۔ اس لیے اہل کتاب کے بارے میں آپ ﷺ کو خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔
اے نبی ﷺ اور مسلمانوں ! اگر تمہارے ساتھ اہل کتاب بحث و تکرار اور جھگڑا کرنے پر اتر آئیں تو تمہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے بحث و تکرار سے بچا جائے۔ اگر تکرار کی صورت ناگزیر ہو تو دلائل کی روشنی میں اچھے انداز میں بحث کرو، کیونکہ جن لوگوں نے کفر و شرک کا روّیہ اختیار کر رکھا ہے وہ بحث و تکرار کے ذریعے تمہیں الجھانا چاہتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں۔ انہیں یہی کہنا کافی ہے کہ تم مانو یا نہ مانو ہم تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔ یعنی جو کچھ ہم کہتے اور کرتے ہیں وہ اسی کے حکم کے مطابق ہے۔ سمجھانا مقصود یہ ہے کہ جب ہم سب ایک الٰہ کے ماننے والے ہیں تو ہمیں آپس میں جھگڑنا نہیں چاہیے۔ اسی بات کی دوسرے انداز میں اہل کتاب کو یوں دعوت دی گئی ہے تاکہ شرک کے مقابلے میں توحید کے ماننے والے ایک ہوجائیں۔
(قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْءًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْن) [ آل عمران : 64]
” آپ فرما دیں کہ اے اہل کتاب ! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے نہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں اور نہ تم اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ اور نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنائیں پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو آپ فرمادیں کہ گواہ رہنا ہم تو ماننے والے ہیں۔ “
(وَ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ) [ البقرۃ : 163]
” تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ‘ اس نہایت رحم کرنے والے اور بڑے مہربان کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
مسائل
1۔ اہل کتاب سے بحث کرنا ناگزیر ہو تو اچھے انداز میں بحث کرنا چاہیے۔
2۔ مسلمان وہ ہے جو قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتا ہے۔
3۔ مسلمانوں اور اہل کتاب کا ایک ہی ” الٰہ “ ہے جس کی سب کو تابعداری کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
سب کا ایک ہی ” الٰہ “ ہے :
1۔ ” الٰہ “ ایک ہی ہے اس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ (البقرۃ : 163)
2۔ ” الٰہ “ تمہارا ایک ہے لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔ (النحل : 22)
3۔ آپ ﷺ فرما دیں میں تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ (الکہف : 110)
4۔ آپ ﷺ فرمادیں میری طرف وحی کی جاتی ہے تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ (الانبیاء : 108)
5۔ تمہارا صرف ایک ہی الٰہ ہے اسی کے تابع ہوجاؤ۔ (الحج : 34)
6۔ ہمارا الٰہ اور تمہارا الٰہ صرف ایک ہی ہے۔ ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ (العنکبوت : 46)
7۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو میں تلاش کروں۔ (الاعراف : 140)
8۔ یقیناً ” اللہ “ ہی ایک الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ 171)
9۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور وہ اکیلا ہے ( المائدۃ : 73)
10۔ تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے وہ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ ( البقرۃ : 163)