Ayahs 25:51–52فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت کفر اختیار کرتی ہے۔ حالانکہ انھیں سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اس قدر واضح اور جامع ہیں کہ اگر انسان ان کی طرف تھوڑی سی توجہ بھی مبذول کرے تو وہ اپنے رب کو پہچان اور ہدایت پاسکتا ہے۔ لیکن انسانوں کی اکثریت حقیقت کی نگاہ سے ” اللہ “ کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ نشانیاں بتلانے اور دکھلانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ جنھوں نے اپنی اپنی قوم کو یہ بات بار، بار سمجھنانے کی کوشش کی کہ لوگو ! اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان کا انکار کرنے کی بجائے اس پر ایمان لاؤ اور اس کی بندگی اختیار کرو۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نے کفر ہی اختیار کیے رکھا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر بستی کے لیے ایک رسول مبعوث کرتا جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ اگر ایک ایک بستی میں رسول مبعوث کردیا جائے تو پھر بھی لوگ کفر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت مختلف علاقوں اور زمانوں میں پہ درپہ وقفہ وقفہ کے بعد رسول مبعوث فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے سرور دو عالم حضرت محمد ﷺ کو قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے رسول منتخب فرمایا تاکہ پوری دنیا میں فکری وحدت پیدا ہونے کے ساتھ سرور دو عالم ﷺ کا پیغام عام ہوجائے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ لہٰذا اے رسول آپ کو کافروں کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنا جہاد جاری رکھنا چاہیے۔ یہاں جہاد کبیرہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنٰی ہے کفر و شرک کے خلاف ہر جانب سے بھرپور جدوجہد کرنا۔ اس لیے آپ ﷺ نے نہ صرف قتال فی سبیل اللہ کو جہاد قرار دیا ہے بلکہ دین کی سربلندی کے لیے مال اور زبان کے ساتھ کوشش کرنے کو بھی جہاد قرار دیا۔ یہی جہاد اکبر ہے جو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی جہاں قتال سے منع کیا گیا تھا جس کی اجازت مدینہ میں دی گئی۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ أَفْضَلُ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَاءِرٍ أَوْ أَمِیرٍ جَاءِرٍ )[ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہ ﷺ إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَی بَنِی إِسْرَاءِیلَ کَان الرَّجُلُ یَلْقَی الرَّجُلَ فَیَقُولُ یَا ہَذَا اتَّقِ اللَّہِ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّہُ لاَ یَحِلُّ لَکَ ثُمَّ یَلْقَاہُ مِنَ الْغَدِ فَلاَ یَمْنَعُہُ ذَلِکَ أَنْ یَکُونَ أَکِیلَہُ وَشَرِیبَہُ وَقَعِیدَہُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِکَ ضَرَبَ اللَّہُ قُلُوبَ بَعْضِہِمْ بِبَعْضٍ ثُمَّ قَالَ (لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَاءِیلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ )إِلَی قَوْلِہِ (فَاسِقُونَ ) ثُمَّ قَالَ کَلاَّ وَاللَّہِ لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَی یَدَیِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّہُ عَلَی الْحَقِّ قَصْرًا) [ رواہ ابو داؤد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں نقائص واقع ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو برائی کرتے ہوئے دیکھتے تو اسے کہتا اللہ سے ڈرو اور اس گناہ کو چھوڑ دو یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ اگلے دن ملتا تو برائی سے نہ روکتا بلکہ اس کے کھانے، پینے اور مجلس میں شریک ہوجاتا۔ جب انہوں نے اس طرح کرنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے انکے بعض کو بعض پر مسلط کردیا پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی (بنی اسرائیل پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبانی لعنت کی گئی فاسقون تک) پھر فرمایا کہ مجھے اللہ کی قسم تم نیکی کا حکم دیتے رہو گے اور برائی سے روکتے رہو گے اور ظالم کا ہاتھ روکو گے حق کو حق اور ناحق کو ناحق سمجھو گے۔ “
(عَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ حینَ أَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ أَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ اِنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَدْ أَنْزَلَ فِی الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَکَیْفَ تَرَی فیہِ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاہِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ ) [ رواہ احمد : مسند کعب بن مالک ]
” حضرت کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے شعراء کے متعلق یہ آیت نازل کی تو کعب بن مالک نبی ﷺ کے پاس آکر عرض کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے شاعروں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے جس کا آپ کو علم ہے اور آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے۔ “
مسائل
1۔ دین کی سربلندی کے لیے تبلیغ کرنا جہاد کبیرا ہے۔ 2۔ کفر و شرک کے خلاف ہر طرح کا جہاد کرنا چاہیے۔
Ayah 25:53فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کو کفر کے خلاف جہاد کبیر کرنے کا حکم دینے کے بعد اب پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ اشارۃً یہ بھی سمجھا دیا کہ جس طرح سمندر کا پانی کڑوا اور میٹھا ہوتا ہے اور اس کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ اسی طرح لوگوں کا معاملہ ہے کچھ نیک ہوتے ہیں اور کچھ برے ہوتے ہیں۔
وہی ذات کبریا ہے جس نے دو سمندروں کو باہم ملا رکھا ہے۔ ایک طرف نہایت میٹھا پانی چل رہا ہے اور اس کے ساتھ، ساتھ نہایت کڑوا پانی بہہ رہا ہے۔ ایک ہی سمندر میں چلنے والے دونوں پانیوں کے درمیان ایک غیرمری پردہ حائل کردیا گیا ہے۔ نہ میٹھا پانی کڑوے کے ساتھ ملتا ہے اور نہ کڑوا میٹھے پانی میں دخل انداز ہوتا ہے۔ دونوں پانی اپنی اپنی رفتار کے ساتھ صدیوں سے ایک ہی جانب رواں دواں ہیں۔ کیا مجال کہ وہ آپس میں تحلیل ہو سکیں۔ ایک سائنسدان زیادہ سے زیادہ یہ توجیہہ کرسکتا ہے کہ ایک پانی بھاری اجزاء پر مشتمل ہے اور دوسرا اپنے اندر ہلکے اجزاء لیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے ان کا آپس میں ملنا دشوار ہے۔
کیا سائنسدانوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ایک ہی سمندر میں چلنے والے دو پانیوں کے اجزاء میں یہ فرق قائم کرنے والی ذات کون ہے ؟ پھر ہر علاقے کے سمندر میں اس بات کے بھی مشاہدات موجود ہیں کہ سمندر کے مخصوص علاقے میں دونوں پانی الگ الگ چل رہے ہیں جبکہ اس علاقہ میں داخل ہونے سے پہلے یہی پانی اکٹھا بہہ رہا ہوتا ہے اور مخصوص علاقہ سے گزرنے کے بعد ددنوں پانی پھر آپس میں تحلیل ہوجاتے ہیں جس کا مظاہرہ پاکستان میں اٹک کے قریب دریائے سندھ، بنگلہ دیش میں چٹاگانگ کے قریب دیکھا جاسکتا ہے۔
پھر یہ بھی مشاہدات ہیں سینکڑوں میل تک چلنے والا سمندر کا پانی اوپر سے کڑوا ہے اور اس کی نچلی سطح میں بہنے والا پانی نہایت ہی میٹھا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس قسم کے چشمے کئی مقامات پر پائے جاتے ہیں کہ ایک ہی پہاڑ اور زمین میں ایک جگہ سے گندھک کا چشمہ ابل رہا ہے اور بالکل اس کے قریب ہی پانی کا ایسا چشمہ ہے جو برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ آخر وہ کون سا دست قدرت ہے جو دونوں پانیوں کو ایک دوسرے میں تحلیل نہیں ہونے دیتا ؟ غور کیجیے ! کہ کڑوئے پانی میں رہنے والی مچھلی کا گوشت کڑوا نہیں ہوتا۔
وہ ایک ہی ذات کبریاء ہے جس نے دو پانیوں کے درمیان ایک نہ دکھائی دینے والا پردہ حائل کر رکھا ہے۔ اگر کوئی حقیقت کی نگاہ سے دیکھنے والا ہو تو وہ اس ذات کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا لہٰذا اسی حقیقت پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ ) [ الرّحمٰن : 19۔ 20]
” اسی نے دو دریا رواں کیے۔ دونوں میں ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتے۔ “
(وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآءِغٌ شَرَابُہٗ وَ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَ مِنْ کُلٍّ تَاْکُلُوْنَ لَحْمًاطَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَۃً تَلْبَسُوْنَھَا وَتَرَی الْفُلْکَ فِیْہِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن) [ فاطر : 12]
” اور دونوں دریا برابر نہیں ہیں ایک شیریں پیاس بجھانے والا ہے اس کا پینا آسان اور ایک شور تلخ ہے۔ ہر ایک سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو اس میں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتے دیکھتا ہے تاکہ تم اس کی (دی ہوئی) روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار ہو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہی دو پانیوں کے درمیان پردہ حائل کرنے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی میٹھا اور کڑوا پانی پیدا کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
پانی کی اہمیّت اور اس کی ضرورت :
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پانی سے پید افرمائی ہے۔ (الانبیاء : 30)
2۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تاکہ تم طہارت حاصل کرو۔ (الانفال : 11)
3۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11)
4۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99)
5۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
6۔ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے مختلف انواع کے پھل پیدا فرمائے۔ (فاطر : 37)
7۔ اللہ تعالیٰ پانی کو زیادہ گہرا کر دے تو کون ہے جو اسے اوپر لے آئے۔ (الملک : 30)
Ayah 25:54فہم القرآن
ربط کلام : دو سمندروں کے مختلف پانیوں کے ذکر کے بعد اس پانی کا تذکرہ جس سے اشرف المخلوق انسان پیدا کیا گیا ہے۔
دو سمندروں کے مختلف پانی کے ذکر کے بعد جس پانی کے قطرہ سے انسان پیدا ہوتا ہے اس کا ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ انسان بھی بنیادی طور پر پانی کے دو قسم کے قطروں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک قطرہ مرد کے صلب سے اور دوسرا قطرہ عورت کی چھاتی سے نکلتا ہے دونوں قطرے الگ الگ اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جنھیں میڈیکل سائنس میں جرثومے کہا جاتا ہے۔ جرثوموں کا دست قدرت کے اشارے سے رحم مادر میں ملاپ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ مختلف شکلیں اختیار کرتے ہوئے ایک بچہ کی صورت اختیار کرتا ہے پھر زندگی کے مختلف مراحل سے گزر کر باپ کا درجہ حاصل کرتا ہے اور اس کے بعد بنیادی طور پر اس کی نسل دو خاندانوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک طرف اپنی اولاد کا باپ اور پوتے پوتیوں کا دادا بنتا ہے اور دوسری طرف سسر کے رشتہ میں منسلک ہو کر نواسوں اور نوسیوں کا نانا بن جاتا ہے۔ اسی طرح یہی آدمی ایک کا بیٹا ہوتا ہے اور دوسرے کا داماد بنتا گویا پانی کی بوند سے اکیلا پیدا ہونے والا انسان کئی رشتوں سے منسلک ہوجاتا ہے۔ کئی انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک یا دونوں رشتہ سے محروم رہتے ہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ آپ کا رب اس بات پر قدرت رکھنے والا ہے یعنی وہ چاہے تو کسی کا نسب بڑھائے اور اسے باپ دادا اور سسرال کے رشتوں کے ساتھ منسلک کرے اور نہ چاہے تو اس کا نسب اسی پر ختم ہوجائے۔
(فَلْیَنْظُرِ الْإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ ۔ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاءِبِ ۔ إِنَّہُ عَلَی رَجْعِہِ لَقَادِرٌ) [ الطارق : 5۔ 8]
” انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا ہوا ہے۔ وہ اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے کے درمیان میں سے نکلتا ہے۔ بیشک اللہ اسے دوبارہ لوٹانے پر قادر ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ لَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ کِتَابُہٗ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ النَّارِ وَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے جو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم دیتے ہیں پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتٰی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔ “
تفسیر بالقرآن
انسان کی پیدائش اور اس کی زندگی کے مختلف مراحل :
1۔ آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59)
2۔ حضرت حوا کو آدم ( علیہ السلام) سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1)
3۔ اے انسان کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : 37)
4۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26)
5۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12)
6۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
7۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر انسان بنایا۔ (الحج : 5)
8۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67)
9۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20)
10۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
Ayahs 25:55–56فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو اس کی تخلیق یاد کروا کے بتلایا گیا ہے کہ تیرا خالق ” اللہ “ ہے لہٰذا تجھے صرف اسی کی عبادت کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیات سے پہلی آیت میں اپنے رب ہونے کے 18 دلائل دیے ہیں۔ ان دلائل میں اس کے خالق، رازق اور مالک ہونے کے اس قدر ٹھوس ثبوت ہیں جن میں سے کوئی ایک صفت اور ثبوت اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی ذات میں نہیں پایا جاتا۔ اس حقیقت کے ناقابل تردید دلائل دینے کے بعد انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے زبردست مالک، خالق اور رازق کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو انھیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقتاً کافر ہیں اور کافر اپنے رب کا مخالف ہے۔ خود ساختہ حاجت رواؤں کی حمایت میں جھگڑا کرتا ہے اور رب کی توحید کے خلاف دلائل دیتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں کے ساتھ جھگڑا کرنے کی بجائے آپ انھیں سمجھاتے رہیں کیونکہ ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور برے کاموں سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے لائق نہیں اور وہ میری تکذیب کرتا ہے۔ یہ بھی اس کے لیے جائز نہیں اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد بنا رکھی ہے۔ اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ نہیں پیدا کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا۔ “ [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِی یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیدُہُ )]
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا عملاً کافر ہوتا ہے۔ 2۔ کافر ان کی پوجا کرتا ہے جو اسے نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
3۔ مشرک درحقیقت اپنے رب کے مدمقابل کھڑا ہوتا ہے۔
Ayahs 25:57–58فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کو دو باتوں کی تلقین۔
یہ اعلانِ حق آپ ﷺ کی زبان سے کروایا گیا کہ آپ اپنی قوم کو دو ٹوک انداز میں فرما دیں کہ میں نبوت کی ذمہ داریوں کے بدلے تم سے کسی قسم کا اجر اور معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ اس میں ایک طرف کفار اور مشرکین کے لیے پیغام ہے کہ سوچو اور غور کرو ! کہ جس شخصیت کا نبوت سے پہلے اس قدر احترام اور مقام تھا کہ ہر کوئی اس کا اعتراف کرتا تھا۔ لیکن اس نے اپنے مقام اور احترام کو جس مشن پر قربان کیا ہے اسے اس کے بدلے میں کیا مل رہا ہے ؟ اس کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ ان سے کسی قسم کے اجر کے طالب نہیں۔ جسے بوجھ سمجھ کر یہ آپ کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ آپ تو ان کی اصلاح اور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے مصائب اور مشکلات برداشت کرر ہے ہیں۔ جب سب کچھ آپ اپنے رب کی وجہ سے کر رہے ہیں تو اس رب پر بھروسہ کیجیے جو ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ وہ ہمیشہ سے زندہ اور قائم و دائم ہے اور قائم ودائم رہے گا بس زندہ اور قائم و دائم رہنے والے رب کی حمد و ستائش کرتے رہیں۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خوب واقف ہے۔ اس میں بھی آپ کو تسلّی دی گئی ہے کہ آپ یہ خیال نہ فرمایں کہ آپ کا رب آپ کے مخالفوں کے جرائم سے غافل ہے ایسا ہرگز نہیں وہ لوگوں کے جرائم سے پوری طرح آگاہ ہے، لیکن اس نے جبر کرنے کی بجائے لوگوں کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ چاہیں تو اپنے رب کا راستہ اختیار کریں، اگر نہ چاہیں تو اس کے مخالف چلتے رہیں تاہم انھیں یہ بات ہر لمحہ یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا رب ان کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ ان الفاظ میں مجرموں کے لیے ایک تنبیہ ہے۔
آپ ﷺ کی دعا :
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ إِذَا کَرَبَہُ أَمْرٌ قَالَ یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیثُ )
[ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی عَقْدِ التَّسْبِیح بالْیَدِ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ دعا کرتے اے ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والے میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں۔ “
مسائل
1۔ تمام انبیاء نبوت کا کام بلامعاوضہ کیا کرتے تھے۔
2۔ نبی اکرم ﷺ کو حکم تھا کہ آپ ہر حال میں اپنے رب کی حمد و ستائش کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والا ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔
4۔ ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والے رب پر ہی توکل کرنا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اچھے اور برے راستے پر چلنے کا اختیار دے رکھا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) بلامعاوضہ نبوت کا کام اور لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے :
1۔ حضرت نوح نے فرمایا میں تم سے تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : 29)
2۔ حضرت ہود نے فرمایا کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعرا : 127)
3۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ (الشعرا : 145)
4۔ میرا اجر اللہ پر ہے اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : 47) 5۔ میرا اجر اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ہود : 51)
6۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تجھ سے نہ تم سے اجر چاہتا ہوں اور نہ کسی قسم کا تکلف کرتا ہوں۔ (ص : 86)
Ayahs 25:59–60فہم القرآن
ربط کلام : جس زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والی ذات پر توکل کرنے کا حکم ہے وہ بڑا ہی مہربان ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے دلائل دیتے ہوئے یہ بات کئی مرتبہ بیان فرمائی ہے کہ اس نے زمینوں، آسمانوں کو چھ دن میں پیدا فرمایا، زمین و آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد وہ عرش معلی پر اپنی شان کے مطابق مستوی ہوا۔ وہی رحم و کرم کا مالک اور خالق ہے۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ کسی جاننے والے سے پوچھ لے۔ یہ جملہ کفار مکہ کے لیے بولا گیا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام الرّحمن کا انکار کرتے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کو الرّحمن کہہ کر پکارتے تو مشرکین مکہ اعتراض کرتے کہ ہمیں ایک خدا کو پکارنے کا حکم دیتا ہے اور خود دو خداؤں کو پکارتا ہے۔ کفار مکہ کو کہا جاتا ہے کہ الرّحمن کو سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہوتا ہے۔” کیا ہم الرّحمن کو سجدہ کریں جسے ہم نہیں جانتے۔ “ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو الرّحمن جان کر اس کے قریب ہوتے لیکن وہ الرّحمن کی دشمنی میں آکر نفرت میں مزید دور چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے نام میں جلال اور تمکنت پائی جاتی ہے اور الرّحمن کے لفظ اور نام میں رحم و کرم کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنا جلال اختیار فرمائے تو کوئی چیز زمین پر باقی نہ رہے۔ یہ توالرّحمن کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ جس وجہ سے وہ ہر قسم کی بغاوت اور نافرمانی کو صرف نظر کرتا ہے۔ الرّحمن اور الرّحیم کے نام اور صفات ” اللہ “ کو اس قدر پسند ہیں کہ قرآن مجید میں الرحمن کا نام 57 مرتبہ اور الرحیم کا 116 مرتبہ لیا گیا ہے۔
سورۃ الاعراف آیت : 180 میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بہترین نام ہیں تم اسے کسی نام کے ساتھ بھی پکار سکتے ہو۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ )[ رواہ البخاری : کتاب الدعوات، باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی انہیں یاد کرلے گا جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “ (نام یاد کرنے سے مراد ان کے مطابق عقیدہ بھی ہونا چاہیے۔ )
رحمن فعلان کے وزن پر مبالغہ یعنی سپر ڈگری (Super degree) اور رحیم فعیل کے وزن پر اسم صفت مشبہ کے صیغے ہیں۔ اہل علم کے نزدیک رحمن کی صفت سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کا رحیم ہونا صرف مومنوں کے لیے خاص ہے۔
الرحمن : لامتناہی اور رحمت مجسم کا ترجمان ہے جب کہ لفظ ” الرحیم “ کائنات پر نازل ہونے والی مسلسل اور دائمی رحمت کی ترجمانی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیشہ معافی اور درگزر سے کام لیتا ہے کیونکہ اس نے ابتدائے آفرینش سے لکھ رکھا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ویحذرکم اللہ نفسہ ]
مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری رحمت و شفقت ہر آن ان کے قریب رہتی ہے۔
(رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ) [ الأعراف : 156]
” میری رحمت سب پر محیط ہے۔ “
(کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ )
[ الأنعام : 54]” تمہارے رب نے اپنے آپ رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا دوسرا عظیم نام الرّحمن ہے۔ 2۔ مکہ کے مشرک ” الرّحمن “ کو نہیں مانتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
” الرحمن “ کی رحمت کا ایک منظر :
1۔ اللہ ایک ہے ‘ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ( البقرۃ : 163) 2۔ اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ (الاعراف : 156)
3۔ سب کچھ جاننے کے باوجود نہایت ہی مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ (الحشر : 22)
4۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر مہربانی کرنا از خود اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے۔ (الانعام : 54)
5۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53) 6۔ اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہوا کرتی ہے۔ (الاعراف : 56)
Ayahs 25:61–62فہم القرآن
ربط کلام : الرّحمن کا انکار کرنے والوں کو نصیحت کرنے کے بعد اب پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرتیں یاد کرواتا ہے۔
اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اس نے آسمان میں سورج اور چمکتا ہوا چاند بنایا۔ اسی ذات کبریا نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا۔ اس کی قدرتوں میں اس کی ذات پر ایمان لانے کے بڑے ہی ٹھوس دلائل موجود ہیں۔ بشرطیکہ کوئی شخص اس کا شکر گزار بندہ بن کر نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ یہاں نصیحت کے لیے شکر گزار ہونے کی شرط ذکر کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت اور شکر آپس میں لازم ملزوم ہیں۔ شکر کی ابتداء اعتراف نعمت سے ہوتی ہے جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف پیدا ہوجائے وہ اپنے رب کا شکرگزار ہونے کے ساتھ اس کی نصیحت پر عمل کرنا اپنے لیے لازم سمجھتا ہے۔ شکر کے مقابلے میں کفر اور ناشکری ہے۔ جس میں یہ بات پیدا ہوجائے وہ نصیحت حاصل کرنے کی بجائے ناشکری اور نافرمانی میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ نصیحت حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر کرنا واجب ہے۔ اگر انسان چاند اور سورج کے فوائد، رات اور دن کے آنے جانے کے بارے میں غور کرے تو وہ اپنے رب کی ناشکری اور اس کی نصیحتوں سے روگردانی نہیں کرسکتا۔ چاند، سورج، رات اور دن کے فوائد جاننے کے لیے اسی سورة کی آیت 45 تا 47 کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں صرف اتنا ذکر کیا جاتا ہے۔ بروج کا ذکر قرآن مجید میں 3 مرتبہ آیا ہے۔ تیسویں پارہ میں ایک سورة کا نام سورة بروج رکھا گیا ہے۔
( وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ ) [ البروج : 1]
” برجوں والے آسمان کی قسم ! “
برج کی جمع بروج ہے۔ مفسرین اور صاحب لغات حضرات نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے مشہورتابعی مجاہد ؓ کے حوالے سے لکھا کہ بروج سے مراد سورج اور چاند کی منازل ہیں۔ جن میں وہ مقررہ رفتار سے چلتے ہیں جس سے سال کے بارہ مہینے متعین ہوتے ہیں۔
کچھ مفسرین اور اہل لغت کا خیال ہے بروج وہ مقامات ہیں جن میں چوکیدار ملائکہ مقرر ہیں۔ جو آسمان کے دروازوں کے پاس جاکر ملائکہ کی جاسوسی کرنے والے شیاطین کا تعاقب کرتے ہیں۔
(اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ ۔ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطَانٍ مَّارِدٍ ۔ ) [ الصافات : 6۔ 7]
” یقیناً ہم نے آسمان کو ستاروں سے مزین اور ہر سرکش شیطان سے بچاؤ کے لیے ٹکایا۔ “
n سورج کا وزن دس کھرب 19889x کھرب ٹن ہے یعنی زمین سے تقریباً سوا تین لاکھ گنا زیادہ اور درجۂ حرارت تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اس میں 40 لاکھ ٹن ہائیڈروجن گیس فی سکینڈ استعمال ہوتی ہے اور اس کی سطح کا درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ سورج کی حرارت ابھی مزید 5 اَرب سال کے لیے کافی ہے۔
سورج کی اہمیت :
سورج جو ہماری زندگی کا سرچشمہ ہے، اس کی حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہوجائیں مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلے پر ہے کہ یہ ” کائناتی انگیٹھی “ ہمیں ہماری ضرورت سے ذرا بھی زیادہ گرمی نہ دے سکے۔ اگر سورج دگنے فاصلے پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہوجائے کہ ہم سب لوگ جم کر برف بن جائیں اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آجائے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہوگی کہ تمام جاندار اور پودے جل بھن کر خاک ہوجائیں گے۔
چاند کی حقیقت :
چاند ہم سے تقریباً 384, 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کی بجائے اگر وہ صرف پچاس ہزار کلومیٹر دور ہوتا تو سمندروں میں مد و جزر کی لہریں اتنی بلند ہو تیں کہ تمام کرۂ ارض دن میں دو بار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے رگڑ کر ختم ہوجاتے۔ چاند کی اس مناسب کشش کی وجہ سے سمندروں کا پانی متحرک رہتا ہے اسی وجہ سے پانی صاف ہوتا رہتا ہے۔
سورج اپنی غیر معمولی کشش سے ہماری زمین کو کھینچ رہا ہے اور زمین ایک مرکز گریز قوت کے ذریعے اس کی طرف کھنچ جانے سے اپنے آپ کو روکتی ہے۔ اس طرح وہ سورج سے دور رہ کر فضا کے اندر اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر کسی دن زمین کی یہ قوت ختم ہوجائے تو وہ تقریباً 6000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھنچنا شروع ہوجائے گی اور چند ہفتوں میں سورج کے اندر اس طرح جا گرے گی جیسے کسی بہت بڑے الاؤ کے اندر کوئی تنکا گرجائے۔ (بحوالہ : سائنس اور قرآن از ہارون یحییٰ )
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُکَوَّرَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ لیا جائے گا۔ “
(أَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب فی الإستغفار ]
” الٰہی ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین طریقے سے عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے لیے برج قائم فرمائے ہیں۔
2۔ سورج اور چاند، رات اور دن کے آنے جانے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ٹھوس دلائل موجود ہیں۔
3۔ نصیحت حاصل کرنے والے شکر گزار ہوتے ہیں اور شکر گزار نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
شکرکی اہمیت اور فضیلت :
1۔ اللہ کے عطا کردہ رزق پر اس کا شکریہ ادا کرو۔ (الانفال : 26)
2۔ اللہ نے سمندر کو تمہارے تابع کیا جس سے تازہ مچھلی، زیبائش کا سامان نکلتا ہے اس پر اللہ کا شکریہ ادا کرو۔ (النحل : 14)
3۔ اللہ نے رات کو باعث سکون اور دن کو کسب معاش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ (القصص : 73)
4۔ شکر کے بارے میں حضرت داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کی دعائیں۔ (صٓ: 35، النمل : 19)
5۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار لوگوں کو زیادہ دیتا ہے۔ (ابراہیم : 7)
6۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کا قدر دان ہے۔ (النساء : 147)
7۔ شیطان کا مقصد انسان کو ناشکرا بنانا ہے۔ (الاعراف : 17)
8۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔ (سبا : 13)
9۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ ‘ کان اور دل اس لیے دیئے ہیں کہ اس کا شکر ادا کیا جائے۔ (السجدۃ : 9)
Ayah 25:63فہم القرآن
ربط کلام : شکر گزار لوگ رحمن کے بندے ہوتے ہیں یہاں الرّحمن کے بندوں کی چند صفات کا بیان ہوتا ہے۔
اس آیت سے تین آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم نام ” الرحمن “ کا یہ کہہ کر تعارف کروایا کہ الرّحمن وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔ اس کے بعد چاند اور سورج، رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ قدرت کی نشانیوں سے وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو اپنے رب کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ شکر گزار ہونے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں اور مہربانیوں کا احساس اور ادراک پیدا کرے۔ جس نے اپنے رب کی مہربانیوں کا شعور اور ادراک پالیا وہ الرّحمن کا بندہ بن جائے گا۔ الرّحمن کے بندوں کے اوصاف میں پہلا اخلاقی وصف یہ ہے کہ ان کی چال ڈھال میں وقار اور عاجزی پائی جاتی ہے۔ ان کی گفتار میں سنجیدگی اور اخلاق نمایاں ہوتا ہے۔ انسان کی چال ڈھال، اس کی طبیعت اور کردار کی ترجمان ہوتی ہے۔ گفتار سے آدمی کی فہم و فراست اور اس کے نظریات کا علم ہوتا ہے، طبیعت میں عاجزی اور کردار میں پاکیزگی ہو تو انسان کی چال ڈھال میں اس کی عاجزی اور حسن کردار کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ طبیعت میں غرور اور تکبر ہو تو چال ڈھال متکبرانہ ہوجاتی ہے۔ انسان حسن کردار سے تہی دامن ہوگا تو چال ڈھال میں چھچھوراپن اور آوارگی نظر آئے گی۔ ” عباد الرّحمن “ میں مسلمان مردوں کے ساتھ مسلم خواتین بھی شامل ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی چال ڈھال کا ایک معیار قائم فرمایا ہے۔ حکم ہے کہ اے انسان ! زمین پر اکڑ اکڑ کر نہ چل، اکڑ اکڑ کر چلنے سے نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ ہی پہاڑوں کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 37)
حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو یوں نصیحت کی تھی : بیٹا ! درمیانہ چال چلو اور اپنی گفتگو میں میانہ روی اختیار کرو۔ سب سے مکروہ آواز گدھے کی آواز ہے۔ (لقمان : 19)
درمیانہ چال یہ ہے کہ نہ اس میں مریضانہ اور تکلّفانہ عاجزی کا اظہار ہو اور نہ ہی اس میں فخر و غرور پایا جائے۔ خواتین کے لیے مزید اصول یہ ہے کہ وہ اپنے سنگھار بناؤ کو ایڑیاں مار مار کر ظاہر نہ کریں۔ (الاحزاب : 33)
مردوں اور عورتوں کے لیے ہدایت ہے کہ وہ اپنی نگاہیں ادھر ادھر اٹھانے کی بجائے نیچی رکھا کریں۔ (النور : 30، 31)
خواتین کی پسندیدہ چال کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی کی ان الفاظ میں تعریف کی گئی ہے کہ وہ بڑی حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی اور اس نے حیا دار لہجے میں کہا، میرے باپ آپ کو اپنے ہاں بلا رہے ہیں جو آپ نے ہماری خدمت کی ہے تاکہ اس کا بدلہ دیا جائے۔ (القصص : 25)
جہاں تک انسان کی گفتار اور آواز کا معاملہ ہے اگر وہ امام اور خطیب ہے تو اسے اپنے مقتدی اور سامعین کی تعداد کے مطابق آواز نکالنی چاہیے۔ کوئی استاد ہے تو اسے چاہیے نہ اس قدر دھیمی آواز بات کرئے کہ شاگرد کو سنائی نہ دے اور نہ اتنی بلند آواز سے بولے کہ اس کی آواز میں کراہت محسوس کی جائے۔ نبی کریم ﷺ بولنے میں اس قدر احتیاط فرماتے کہ اگر گھر میں دیر سے تشریف لے جاتے اور گھر والے سو رہے ہوں تو ایسے لہجے میں سلام کہتے۔ کہ جاگنے والا سن لیتا اور سوئے ہوئے کی نیند میں خلل واقعہ نہ ہوتا۔ (صحیح الادب المفرد : باب التسلیم علی النائم)
خواتین کو ہدایت ہے کہ غیر محرم سے بات کرتے ہوئے نسوانہ آواز میں قدرے بیگانگی کا لہجہ اختیار کریں تاکہ جس کے دل میں بےحیائی کا مرض ہو وہ کسی قسم کی امید قائم نہ کرے۔ (الاحزاب : 32)
مرد ہو یا عورت جب کسی جاہل کے ساتھ واسطہ پڑے تو اس کے ساتھ الجھنے کی بجائے اچھی بات کہہ کر بات کا رخ بدل دے۔ جاہل کو ترکی بہ ترکی جواب دینے سے آدمی کے اپنے اخلاق میں گراوٹ پیدا ہوتی ہے اور بسا اوقات آپس میں الجھاؤ پیدا ہوجاتا ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ لغت کے اعتبار سے ” ھُوْنًا “ کا معنی ” عاجزی اور وقار “ ہے۔
مسائل
1۔ ” عباد الرّحمن “ کی چال ڈھال میں سنجیدگی اور وقار ہوتا ہے۔ 2۔ ” عباد الرّحمن “ کی گفتگو میں اخلاق ٹپکتا ہے۔
3۔ عبادالرّحمن جاہلوں سے الجھنے کی بجائے اچھی بات کہتے ہوئے چل دیتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
عباد الرّحمن کی چال ڈھال کی ایک جھلک :
1۔ عباد الرّحمن عاجزانہ چال چلتے ہیں۔ ( الفرقان : 63)
2۔ مومن بیہودہ حرکتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ (المومنون : 3)
3۔ مومن بیہودہ بات سنتے ہیں تو با وقار طریقہ سے گذر جاتے ہیں۔ (الفرقان : 72)
4۔ اللہ کے بندے میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ (الفرقان 67)
Ayahs 25:64–65فہم القرآن
ربط کلام : عباد الرّحمن کے اوصاف کا تذکرہ جاری ہے۔
الرّحمن کے بندے پوری رات سونے کی بجائے رات کا کچھ حصہ آرام کرنے کے بعد اٹھ کھڑتے ہوتے ہیں۔ ان کے اٹھنے کی کیفیّت قرآن مجید نے یوں بیان کی ہے کہ الرّحمن کے بندے اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے رب کو امید اور خوف کی کیفیت میں پکارتے ہیں۔ (السجدۃ : 16) وہ رات کے وقت اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام کرتے ہیں اپنے رب سے فریاد پر فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمانا۔ بیشک جہنم کا عذاب چمٹ جانے والا ہے یقیناً جہنم ٹھہرنے اور قیام کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان کے لیے ایسا وقت ہے کہ لیل و نہار کا کوئی لمحہ ان لمحات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ زمین و آسمان کی وسعتیں نورانی کیفیت سے لبریز دکھائی دیتی ہیں۔ ہر طرف سکون و سکوت انسان کی فکر و نظر کو جلابخشنے کے ساتھ خالق حقیقی کی طرف متوجہ کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف رات اپنے سیاہ فام دامن میں لے کر ہر ذی روح کو سلائے ہوئے ہے اور دوسری طرف بندۂ مومن اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے کروٹیں بدلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کہیں نیند کی غفلت میں یہ پرنور لمحات گذرنہ جائیں۔ وہ ٹھنڈی راتوں میں یخ پانی سے وضو کرکے رات کی تاریکیوں میں لرزتے ہوئے وجود اور کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ شکر و حمد اور فقروحاجت کے جذبات میں زار و قطار روتا ہوا فریاد کناں ہوتا ہے۔ وہ آنسوؤں کے قطروں سے اس طرح اپنی ردائے عمل کو دھو ڈالتا ہے کہ اس کا دامن گناہوں کی آلودگی سے پاک اور وجود دنیا کی تھکن سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ طویل ترین قیام اور دیر تک رکوع و سجود میں پڑارہنے سے تہجد بندۂ مومن کو ذہنی اور جسمانی طور پر طاقت و توانائی سے ہمکنار کردیتی ہے اگر خوردو نوش میں مسنون طریقوں کو اپنائے تو اس کو کسی قسم کی سیر و سیاحت حتیٰ کہ معمولی ورزش کی حاجت بھی نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تہجد کا اس طرح تذکرہ فرماتے ہیں :
(تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّمِمَّارَزَقْنَاھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) [ السجدۃ : 16]
” وہ اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔ “
(اِنَّ نَاشِءَۃَ اللَّیْلِ ھِیَ اَشَدُّ وَطْأً وَّ اَقْوَمُ قِیْلاً ) [ المزمل : 6]
” حقیقتاً رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے اور قرآن پاک پڑھنے کے لیے موزوں ترین وقت ہے۔ “
(اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ اٰخِذِیْنَ مَااٰتٰھُمْ رَبُّھُمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ کَانُوْا قَلِیْلًا مِنَ اللَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) [ الذّاریات : 15 تا 17]
” یقیناً متقی لوگ اس دن باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ جو کچھ ان کا رب انہیں عطاکرے گا وہ بڑی خوشی کے ساتھ لے رہے ہوں گے۔ کیونکہ وہ اس دن کے قائم ہونے سے پہلے نیک اعمال کیا کرتے تھے۔ راتوں کو کم ہی سویا کرتے تھے اور رات کے پچھلے حصے میں اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرتے تھے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِالْمَکْتُوْبَۃِ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ )
[ مشکوٰۃ : باب صیام النطوع ]
” جناب ابوہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز درمیانی رات کی نماز ہے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآء الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَاَسْتَجِیْبَ لَہُ مَنْ یَّسْاَلُنِیْ فَاُعْطِیْہِ مَنْ یَّسْتَغْفِرُنِیْ فَاَغْفِرُ لَہُ ) [ مشکوۃ : باب التحریض علی قیام اللیل ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتے ہیں کون ہے مجھے پکارنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں اور کون ہے مجھ سے طلب کرنے والا میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اس کو بخشتا چلا جاؤں۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ اِفْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ بِرَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ )
[ مشکوٰۃ : باب صلاۃ اللیل ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول پاک ﷺ جب رات کو نماز تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے دو رکعتیں ہلکی پڑھا کرتے تھے۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ بَعْدَ التَّشَہُّدِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ ) [ رواہ ابوداؤد : باب مایقول بعد التشھد ]
” حضرت ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ تشھد کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میں عذاب جہنم، عذ اب قبر، دجال کے فتنہ، زند گی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ اَوْصَانِیْ خَلِےْلِیْ بِثَلٰثٍ صِےَامِ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَکْعَتَیِ الْضُّحٰی وَاَنْ اُوْتِرَ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ ) [ رواہ البخاری : باب صِیَامِ أَیَّامِ الْبِیضِ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ وَأَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَخَمْسَ عَشْرَۃَ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب یعنی نبی معظم ﷺ نے تین کاموں کی وصیت فرمائی کہ ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور چاشت کے وقت دو نفل ادا کرنا اور رات کو سونے سے پہلے وتر ادا کرنا۔ “
(عَنْ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ نَّامَ عَنْ حِزْبِہٖ اَوْ عَنْ شَئٍ مِنْہُ فَقَرَأَہُ فِےْمَا بَےْنَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الظُّہْرِ کُتِبَ لَہُ کَاَنَّمَا قَرَاَہُ مِنَ اللَّےْلِ ) [ رواہ مسلم : باب جامِعِ صَلاَۃِ اللَّیْلِ وَمَنْ نَامَ عَنْہُ أَوْ مَرِضَ ]
” حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں آپ ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص رات کی نیند کی وجہ سے اپنا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ مکمل نہ کرسکے اسے فجر اور ظہر کے درمیان مکمل کرلینا چاہیے۔ اس کے لیے ایسے ہی لکھا جائے گا جیسے اس نے رات کے وقت قیام کیا ہو۔ “
مسائل
1۔ ” الرحمن “ کے بندے رات کے وقت اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام کرتے ہیں۔
2۔ ” الرحمن “ کے بندے اپنے رب سے جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔
3۔ جہنم کا عذاب جہنمیوں کے ساتھ چمٹ جانے والا ہوگا۔ 4۔ جہنم رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنّم کے عذاب کا ایک منظر :
1۔ آنتوں اور کھالوں کا بار بارجلائے جانا۔ (النساء : 56) 2۔ دوزخیوں کی کھال کا بار بار بدلنا۔ (الحج : 20)
3۔ کانٹے دار جھاڑیوں کا کھانادیا جانا۔ (الغاشیہ : 6) 4۔ لوہے کے ہتھوڑوں سے سزا پانا۔ (الحج : 21، 22)
5۔ کھانا گلے میں اٹک جانا۔ (المزمل : 13) 6۔ دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی دیا جانا۔ (الانعام : 70)
7۔ دوزخیوں کو پیپ پلایا جانا۔ (النبا : 25) 8۔ آگ کا لباس پہنایا جانا۔ (الحج : 19)
Ayahs 25:66–67فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ” عباد الرحمن “ کے اوصاف۔
اس سے پہلے ” عباد الرحمن “ کی چال ڈھال، گفتار اور رات کے وقت ان کی اپنے رب کے حضور آہ و زاریوں کا تذکرہ ہوا۔ اب مالی معاملات میں ان کے کردار کا ذکر ہوتا ہے۔ ” الرحمن “ کے بندے جس طرح گفتار اور رفتار میں اعلیٰ معیار رکھتے ہیں اسی طرح ہی وہ خرچ میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ خرچ کرتے وقت نہ وہ بےجا خرچ کرتے ہیں اور نہ وہ بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ دین اسلام کی یہ بھی خوبی ہے کہ دین عبادات اور معاملات دونوں میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ فضول خرچی سے بچنے کے ساتھ بخیلی سے بھی مکمل اجتناب کیا جائے۔ کیونکہ یہ معیشت کو متوازن رکھنے کا بنیادی اصول ہے اسی اہمیت کے پیش نظر رسول مکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ (اپنا ہاتھ نہ گردن کے ساتھ لٹکائیں اور نہ اسے کلی طور پر کھول دیں اگر آپ اپنا ہاتھ پورے کا پورا کھول دیں گے تو ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ رہنمائی بھی کی گئی کہ اگر آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو۔ تو سائل کو نرمی کے ساتھ جواب دیں۔ )
(وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْھُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ تَرْجُوْھَا فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا) [ بنی اسرائیل : 28]
اور اگر آپ اپنے رب کی رحمت کی تلاش میں جس کی آپ امید رکھتے ہیں تو سائل سے بےتوجہگی کرتے وقت ان سے نرم بات کریں۔ “
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میانہ روی اختیار کی وہ کنگال نہیں ہوگا “ [ رواہ أحمد : مسند عبداللہ بن مسعود ]
(عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لاَ تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہِ حَتَّی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ عَنْ عُمْرِہِ فیمَا أَفْنَاہُ وَعَنْ شَبَابِہِ فیمَا أَبْلاَہُ وَمَالِہِ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہُ وَفِیمَ أَنْفَقَہُ وَمَاذَا عَمِلَ فیمَا عَلِمَ ) [ رواہ الترمذی : باب فی القیامۃ ]
” حضرت ابن مسعود ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا آد م کا بیٹا اس وقت تک قدم نہیں اٹھا پائیگا جب تلک پانچ سوالوں کے جواب نہ دے لے۔ اس کی عمر کے متعلق پوچھا جائیگا کہ کیسے گذاری، بالخصوص جوانی کے متعلق سوال ہوگا کہ شباب کیسے گزارا۔ مال کے متعلق سوال ہوگا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ علم کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اس پر کس قدر عمل کیا۔ “
پورا مال صدقہ کرنا ٹھیک نہیں :
” حضرت سعد ؓ فتح مکہ کے موقع پر سخت بیمار ہوئے۔ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کی کہ میرے پاس بہت سا مال ہے ایک بیٹی کے علاوہ کوئی وارث نہیں۔ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اجازت نہ دی۔ انہوں نے نصف کی اجازت مانگی۔ آپ نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی اجازت مانگی۔ آپ نے یہ فرماکر اجازت دی کہ یہ بھی زیادہ ہے۔ اپنی اولاد کو مال دار چھوڑناان کو محتاج چھوڑنے سے بہتر ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الفرائض، میراث البنات ]
کنجوسی کی مذمت :
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْبَخِےْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَےْنِ عَلَےْھِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِےْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ اَےْدِےْھِمَا اِلٰی ثُدِیِّھِمَا وَتَرَاقِےْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ وَجَعَلَ الْبَخِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَاَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا) [ رواہ البخاری : باب مَثَلِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِیلِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے زرہ پہن رکھی ہو۔ اس کے ہاتھوں کو اس کی چھاتیوں اور سینے کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہو۔ صدقہ دینے والا جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کشادہ ہوجاتی ہے اور بخیل جب صدقہ کرنے کا خیال کرتا ہے تو زرہ سمٹ جاتی اور ہر کڑی اپنی اپنی جگہ کس جاتی ہے۔ “
مسائل
1۔ ” الرّحمن “ کے بندے فضول خرچی اور بخیلی سے اجتناب کرتے ہیں۔
2۔ الرّحمن کے بندے خرچ اخراجات میں اعتدال کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
صدقہ کرنے اور بخیلی سے بچنے کا حکم :
1۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : 11)
2۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کو دوگنا تین گنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : 17)
3۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کو سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 261)
4۔ رحمن کے بندے جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخیلی اختیار کرتے ہیں۔ بلکہ درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں۔ (الفرقان : 67)