Ayahs 25:25–26فہم القرآن
ربط کلام : جس دن کفار کے عمل ریت کی طرح اڑ رہے ہوں گے اور ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو بہترین قیام اور آرام دیا جائے گا۔ اس دن کی ابتداء اس طرح ہوگی۔
قیامت کے دن زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور ان کی جگہ نئی زمین اور نیا آسمان معرض وجود میں لایا جائے گا۔ (ابراہیم : 48) محشر کے میدان میں رب کبریا کی عدالت قائم ہوگی تو اس سے پہلے آسمانوں سے گروہ در گروہ ملائکہ اتارے جائیں گے۔ جو رب ذوالجلال کے جلوہ گر ہونے سے پہلے اس کی عدالت میں قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔
تمام جن و انس رب ذوالجلال کے جلوہ افروز ہونے کے منتظر ہوں گے۔ اچانک آسمان پھٹ جائے گا اور ملائکہ کا نزول شروع ہوگا ہر فرشتہ حکم الٰہی کے مطابق اپنی اپنی ڈیوٹی پر کھڑا ہوجائے گا۔ باقی ملائکہ قطار اندر قطار دست بستہ حاضر ہونگے۔ اسی دوران آٹھ (8) فرشتے رب ذوالجلال کا عرش اٹھائے ہوئے نمودار ہوں گے۔ (الحاقۃ : 17) جونہی خالق کائنات جلوہ نما ہوں گے تو زمین بقعہ نوربن جائے گی۔ اس طرح عدالت کبریٰ کی کارروائی کا آغاز ہوگا۔ اس دن کی ہولناکیاں اور رب ذوالجلال کی جلالت وہیبت دیکھ کر انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی نَفْسِیْ ، نَفْسِیْکی درخواست کر رہے ہوں گے۔ اس وقت اعلان ہوگا کہ آج صرف رب رحمن کی بادشاہی ہے یہ دن کفار کے لیے نہایت ہی سخت ہوگا۔ لیکن یہاں یہ نہیں فرمایا کہ قیامت کے دن ” اللہ کی “ بادشاہی ہوگی اور ” اللہ “ اس دن کا مالک ہوگا۔ ” اللہ “ کی بجائے الرّحمن کا اسم استعمال فرمایا، تاکہ معلوم ہو کہ الرّحمن کی طرف سے کفار پر بھی کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ اسم ” اللہ “ میں جلال ہے اور اسم الرّحمن میں رحمت اور شفقت پائی جاتی ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَقْبِضُ اللّٰہُ الْاَرْضَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ وَیَطْوِی السَّمَاءَ بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ اَنَا الْمَلِکُ اَیْنَ مُلُوْکُ الْاَرْضِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (مَلِکِ النَّاسِ )]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے گا اور آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ أُتِیَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمًا بِلَحْمٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ یَجْمَعُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ فِی صَعِیدٍ وَاحِدٍ ، فَیُسْمِعُہُمُ الدَّاعِی، وَیُنْفِدُہُمُ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْہُمْ فَذَکَرَ حَدِیث الشَّفَاعَۃِ فَیَأْتُونَ إِبْرَاہِیمَ فَیَقُولُونَ أَنْتَ نَبِیُّ اللَّہِ وَخَلِیلُہُ مِنَ الأَرْضِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَی رَبِّکَ فَیَقُولُ فَذَکَرَ کَذَبَاتِہِ نَفْسِی نَفْسِی اذْہَبُوا إِلَی مُوسَی) [ رواہ البخاری : باب النَّسَلاَنُ فِی الْمَشْیِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں آپ کے پاس ایک دن گوشت لایا گیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہلوں پچھلوں کو ایک جگہ جمع فرمائے گا ہر آدمی پکارنے والے کی آواز کو سنے گا اور اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ سورج قریب تر ہوگا۔ اس کے بعد آپ نے شفاعت والی حدیث کا تذکرہ کیا کہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے۔ آپ اللہ کے نبی ہیں اور زمین میں اس کے خلیل ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری سفارش کیجیے، وہ اپنے کذب کا عذرپیش کرتے ہوئے کہیں گے (نَفْسِی نَفْسِی) اے اللہ میرے نفس کو بچا لے، میرے نفس کو بچا لے تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن صرف رب رحمن کی بادشاہی ہوگی۔ 2۔ قیامت کا دن کفار کے لیے بہت بھاری ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کا دن بہت بھاری ہوگا :
1۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187)
2۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : 1)
3۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعۃ : 1)
4۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1)
5۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 4)
6۔ قیامت کے دن پہاڑ اون کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 5)
7۔ قیامت کا دن انتہائی خوف ناک ہوگا۔ (ھود : 26)
8۔ زمین کو ہلا کر تہہ وبالا کردیا جائے گا۔ (واقعۃ : 3، 4)
9۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑتی گرد کی طرح ہوجائیں گے۔ (الواقعۃ : 5، 6)
Ayahs 25:27–28فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیاں دیکھ کر ظالموں کا اپنے آپ پر اظہار افسوس۔
قیامت کا دن ظالموں کے لیے اس قدر بھاری ہوگا کہ جس سے ظالم حواس باختہ ہوجائیں گے دیکھنے والا انھیں یوں محسوس کرے گا جیسے یہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش ہوچکے ہیں حالانکہ وہ کسی نشہ کی وجہ سے مدہوش نہیں ہوں گے۔ لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے حواس باختہ ہوں گے۔ (الحج : 1)
ظالم اس قدر دہشت زدہ ہوں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے واویلا کریں گے اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے ہائے افسوس ہم ادھر ادھر کے راستے اختیار کرنے کی بجائے رسول کا راستہ اختیار کرتے۔ ہائے افسوس ہم نے رسول کو چھوڑ کر فلاں فلاں کو اپنا دوست اور خیر خواہ نہ سمجھا ہوتا۔ جس نے ہمیں قرآن مجید کی نصیحت سے دور رکھا اور گمراہ کیا یہ سب کچھ شیطان نے ہم سے کروایا۔ شیطان انسان کو بھرپور امید دلانے کے بعد دھوکہ دینے والا ہے۔ ظالموں کے اس اقرار کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی حالت میں ان کے سامنے گواہ لائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ ہر امت کا رسول اس کے سامنے لایا جائے گا اور رسول محترم ﷺ اپنے رب کے حضور شکایت کریں گے کہ اے میرے رب میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا تھا۔ قرآن مجید کو چھوڑدینے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ سرے سے قرآن مجید کا انکار کردیا جائے یا پھر قرآن مجید پر ایمان لانے کے باوجود اس پر عمل نہ کیا جائے۔
Ayahs 25:29–30شیطان کی بےوفائی کا اظہار :
” اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو، یقیناً میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا۔ بیشک جو لوگ ظالم ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “ [ ابراہیم : 22]
(عَنْ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَالْکِتَابِ اَقْوَامًاوَیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ]
” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ بہت سی قوموں کو بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو قعر مذلّت میں گرادے گا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے کہے گا کہ کاش میں رسول کا راستہ اختیار کرتا۔
2۔ رسول اکرم ﷺ رب کی بارگاہ میں شکایت کریں گے کہ میری قوم نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا تھا۔
3۔ شیطان انسان کو دھوکہ دینے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کو چھوڑ دینے کے نقصانات :
1۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : 57)
2۔ ظالموں کو اعراض اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ : 100، 101) 3۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 99)
4۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ : 124، 125)
5۔ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اپنے رب کی نصیحت آموز باتوں سے منہ پھیرتا ہے۔ ایسے مجرموں سے ہم انتقام لیں گے۔ (السجدۃ : 22)
6۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 75)
Ayah 25:31فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو چھوڑ نے کا بنیادی سبب
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ پر قرآن اس لیے نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو قرآن کی طرف بلائیں۔ لوگ اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں اور دنیا وآخرت میں کامیاب ہوجائیں۔ لیکن نبی کے دشمن اس بات کو گوارہ نہیں کرتے کہ لوگ آپ پر ایمان لائیں۔ یہاں رسول اکرم ﷺ کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ اے رسول پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجرموں میں سے بڑے مجرموں کو ہر نبی کا مخالف بنایا تھا۔ تاکہ حق و باطل کی کشمکش میں نبی اور اس کی امت کا امتحان لیا جائے۔ اسی اصول کے تحت یہ مجرم لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ آپ کو ان کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ مجرم آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ آپ کا رب ہر اعتبار سے آپ کے لیے کافی ہے۔ وہی راہنمائی اور مدد کرنے والا ہے۔
مسائل
1۔ مجرم لوگ ہر دور میں انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے اور مدد کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ ہی مدد فرمانے والا ہے :
1۔ غار ثور میں نبی ﷺ اور ابوبکر ؓ کی مدد فرمائی۔ (التوبۃ : 40) 2۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (آل عمران : 123)
3۔ ابرہہ کے مقابلے میں بیت اللہ کا تحفظ فرمایا۔ (الفیل : مکمل) 4۔ غزوہ خندق میں اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ ( الاحزاب : 9)
5۔ بنی اسرائیل کے کمزوروں کی مدد فرمائی۔ (القصص : 5) 6۔ حنین کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ (التوبہ : 25)
7 اللہ کی طرف سے ہی مدد حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران : 126) 8۔ فتح مکہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ ( النصر : 1)
9۔ اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے۔ (الروم : 5)
10۔ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 150)
Ayahs 25:32–33فہم القرآن
ربط کلام : مجرمانہ کردار رکھنے والوں کا رسالت مآب ﷺ پر ایک اور اعتراض۔
کفار کو رسالت مآب ﷺ پر یہ بھی اعتراض تھا کہ آپ پر پورے کا پورا قرآن ایک ہی بار کیوں نہیں نازل ہوا ؟ جس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن مجید کو اس لیے تھوڑا تھوڑا نازل کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ساتھ آپ ﷺ کا دل مضبوط ہو اور قرآن اچھی طرح آپ کے ذہن پر نقش ہوجائے، اس پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ کفار آپ پر جو بھی اعتراض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اتنا جامع اور مدّلل جواب دیتے کہ کفار لاجواب ہو کر رہ جاتے۔ لیکن اس کے باوجود کفار اپنی ضد سے باز آنے والے نہیں تھے اس وجہ سے وہ وقفے وقفے کے بعد مختلف الفاظ اور انداز میں سوال دہراتے رہتے تھے۔ قرآن مجید کفار کے سوالات کا کبھی مفصل جواب دیتا ہے اور کبھی اجمال کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کا تھوڑا، تھوڑا اور وقفے وقفے سے نازل ہونے کا تعلق ہے اس طرح قرآن نازل ہونے سے نبی ﷺ کے دل کو ڈھارس ملتی اور مسلمانوں کو عمل کرنے میں سہولت حاصل ہوتی تھی۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ غَدَوْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ رَجُلٌ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَۃَ فَقَالَ ہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَ ۃَ وَإِنِّی لأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِی کَانَ یَقْرَأُ بِہِنَّ النَّبِیُّ ﷺ ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ سُورَۃً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَیْنِ مِنْ آلِ حم) [ رواہ البخاری : باب التَّرْتِیلِ فِی الْقِرَاءَ ۃِ ]
” حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں چاشت کے وقت حاضر ہوئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے پوری کی پوری مفصل سورتیں پوری پڑھ ڈالیں۔ اس پر ابن مسعود ؓ نے فرمایا : جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں ویسے پڑھ لی ہوں گی۔ ہم نے قرأت سنی ہے۔ مجھے ( طویل اور مختصر سورتوں کی) وہ نظائر یاد ہیں۔ جن کی تلاوت نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے اٹھارہ سورتیں مفصل ہوتی اور دو سورتیں جن کے شروع میں حٰم ہے۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید اس لیے تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا تاکہ رسول کریم ﷺ کو حفظ اور ضبط کرنے میں آسانی ہو۔
2۔ قرآن مجید اس لیے وقفے وقفے سے نازل کیا گیا تاکہ لوگوں تک پہنچانے میں آسانی ہو۔
3۔ قرآن مجید اس لیے وقفے وقفے سے نازل کیا گیا تاکہ اس پر مسلمانوں کو عمل کرنا آسان رہے۔
4۔ قرآن مجید اس لیے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا تاکہ کفار کو اس کے ناسمجھنے کا بہانہ ہاتھ نہ آئے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے :
1۔ آپ ﷺ پڑھیے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔ (الکھف : 27)
2۔ ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ (بنی اسرائیل : 105)
3۔ قرآن کو تر تیل کے ساتھ پڑھا جائے۔ (المزمل : 4)
4۔ جن کو کتاب دی گئی وہ اس کی تلاوت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے۔ (البقرۃ : 131)
5۔ جب قرآن پڑھاجائے تو اسے خاموشی سے سنو۔ (الاعراف : 204)
6۔ ہم آپ پر تمام انبیاء کے واقعات آپ کے دل کو مضبوط کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں۔ ( ہود : 120)
7۔ قرآن بڑی شان والا ہے اور لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (الواقعۃ : 77 تا 79)
Ayah 25:34فہم القرآن
ربط کلام : نبی کے دشمنوں اور قرآن پر اعتراض کرنے والوں کا انجام :
جو لوگ تعصّب اور ہٹ دھرمی کی بناء پر رسالت مآب ﷺ پر اعتراض اور قرآن مجید کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں چہروں کے بل جہنم میں اکٹھا کرے گا یہ لوگ اپنے مقام اور انجام کے لحاظ سے بدترین ہوں گے۔ کیونکہ یہ پرلے درجے کے گمراہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا ہے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے اور اس پر غور کرے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے سرفراز کرے گا۔ ہاں وہ شخص کبھی ہدایت نہیں پاسکتا جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت پر اعتراض کرے اور اس کا انکار کرتا ہو۔ ایسا شخص گمراہی میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے ہدایت پانے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ جو لوگ قرآن مجید کے بارے میں الٹی سوچ رکھیں اور اس کے خلاف چلنا ان کا وطیرہ ہوجائے۔ انھیں اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔
( عَنْ قَتَادَۃَ ؓ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ کَیْفَ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِی أَمْشَاہُ عَلٰٰی رِجْلَیْہِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰٰٰی أَنْ یُمْشِیَہُ عَلٰٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلَی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا) [ رواہ مسلم، کتاب القیامۃ والجنۃ والنار، باب یحشر الکافر علی وجھہ ]
” حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ایک شخص نے استفسار کیا اے اللہ کے رسول ! کافروں کو قیامت کے دن چہرے کے بل کس طرح اکٹھا کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا جو ذات سب کو دنیا میں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہوگی۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں ہمیں اپنے رب کی عزت کی قسم ایسا ہوگا۔ “
مسائل
1۔ مجرموں کو الٹے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔
2۔ رسالت مآب ﷺ پر اعتراض اور قرآن مجید کا انکار کرنے والا حد درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔
Ayahs 25:35–36فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے دشمن اور آسمانی کتابوں کا انکار کرنیوالی اقوام میں سے ایک قوم کا انجام۔
جن قوموں نے انبیاء (علیہ السلام) کی مخالفت اور آسمانی کتابوں کا انکار کیا ان میں سرفہرست حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے تورات عنایت فرمائی اور ان کی درخواست پر ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون نامزد فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اس قوم کی طرف جاؤ جنھوں نے ہمارے احکام اور ارشادات کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ (1) موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے دین ابراہیم حضرت یوسف کے دور مصر میں پہنچ چکا تھا۔ (2) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ فرعون اور اس کے حواری موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلیم نہیں کرینگے اس لیے پہلے ہی ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جناب ہارون (علیہ السلام) نے ایک طویل مدت تک فرعون اور اس کے حواریوں کو سمجھایا، بڑے بڑے معجزات پیش کیے، فرعون نے ہر میدان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا مگر ناکام رہا۔ یہاں تک کہ پورے ملک کے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے مقابلے میں لاکھڑ کیا۔ جب جادوگروں نے حقیقت حال کو براہ راست دیکھا اور آزمایا تو انھوں نے سرعام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانے کا اعلان کیا اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اتنی بڑی حقیقت آشکارا ہونے کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیکفر و شرک پر قائم رہے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سمندر میں ڈبکیاں دے دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان آیات میں اسی بات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو ان کا معاون نبی نامزد فرمایا۔
3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے پے درپے اللہ تعالیٰ کی آیات کو ٹھکرایا جس کے نتیجہ میں انھیں تباہ و برباد کردیا گیا۔
Ayahs 25:37–38فہم القرآن
ربط کلام : قوم موسیٰ کی تباہی کے بعد قوم نوح کے انجام کا مختصر بیان۔
حضرت آدم اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہزاروں سال کا وقفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت سے سرفراز فرمایا جب ان کی قوم کے لوگ مجسموں کے پجاری بن چکے تھے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نیک لوگ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولاد کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جہاں تمہارے بزرگ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے تراش کر رکھ دیے جائیں تاکہ ان کا نام اور عقیدت باقی رہے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا جب مجسمے رکھنے والے لوگ فوت ہوگئے تو ان کے بعد آنے والے لوگوں نے ان مجسموں کو اللہ تعالیٰ کی قربت کا وسیلہ بناناشروع کردیا اور پھر ان کی بالواسطہ عبادت اور ان کے حضور نذرانے پیش کیے جانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سورة نوح میں ودّ ، سواع، یغوث اور یعوق کے نام سے جن بتوں کا تذکرہ ہے وہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح لوگوں کے نام ہیں۔ (بخاری : کتاب التفسیر)
سورۃ العنکبوت آیت 14 میں بیان کیا گیا ہے کہ جناب نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کی اصلاح کرنے میں صرف فرمائے۔ سورة نوح : 5۔ 6 میں یہ وضاحت فرمائی گئی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ فریاد کی کہ میرے رب میں نے اپنی قوم کو رات اور دن انفرادی اور اجتماعی طور پر سمجھانے کی کوشش کی لیکن میری سر توڑ کوشش کے باوجود قوم شرک اور برائی میں آگے ہی بڑھتی جارہی ہے۔ قوم نہ صرف جرائم میں آگے بڑھتی گئی بلکہ الٹا انھوں نے نوح (علیہ السلام) کے خلاف گمراہ ہونے کا پراپیگنڈہ کرنے کے ساتھ بار بار مطالبہ کیا کہ اے نوح ! اگر تو واقعی اللہ کا سچا نبی ہے تو ہمارے لیے عبرت ناک عذاب کی بددعا کیجیے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت مجبور ہو کر ان کے لیے بد دعا کی ” اے میرے رب میں ان کے مقابلے میں بالکل بےبس اور مغلوب ہوچکا ہوں تو میری مدد فرما۔ “ (القمر : 10)
حضرت نوح (علیہ السلام) نے بد دعا کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ بھی درخواست کی کہ میرے رب اب زمین پر کافروں کا ایک شخص بھی نہیں بچنا چاہیے کیونکہ ان میں سے جو بھی پیدا ہوگا وہ برا اور کافر ہی ہوگا۔ ( نوح 25 تا 27)
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی بد دعا قبول کرتے ہوئے انھیں حکم دیا کہ آپ میرے سامنے ایک کشتی بنائیں۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو ان کی قوم نے ان کو بار بار تمسخر کا نشانہ بنایا۔ جس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) انھیں یہی فرماتے کہ آج تم مجھے استہزاء کا نشانہ بنا رہے ہو لیکن کل تم ہمیشہ کے لیے مذاق اور عبرت کا نشان بن جاؤ گے۔ ( ھود : 37 تا 39)
قوم نوح پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا ایسا عذاب نازل فرمایا کہ جس کے بارے میں سورة القمر آیت 11، 12 ا میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کے دروازے کھل گئے زمین سے چشمے پھوٹ نکلے یہاں تک کہ تنور پھٹ پڑا۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) کے نافرمان بیٹے سمیت ان کی قوم کو پانی میں ڈبکیاں دے دے کر ختم کردیا گیا۔
عذاب کی کیفیت :
قوم نوح پر چالیس دن مسلسل دن رات بےانتہا بارش برستی رہی یہاں تک کہ جگہ جگہ زمین سے چشمے پھوٹ پڑے۔ حتٰی کہ تنور پھٹ پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے طوفان کے آغاز میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اللہ کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں اور اپنے ساتھ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا یعنی نر اور مادہ دو دو کشتی میں اپنے ساتھ سوار کرلیں۔ البتہ کسی کافر اور مشرک کو کشتی میں سوار کرنے کی اجازت نہیں۔ (ہود : 40 تا 42)
مفسرین نے لکھا ہے جس کی تائید موجودہ دور کے آثار قدیمہ کے ماہرین بھی کرتے ہیں کہ طوفان نوح نے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کو بھی ڈھانپ لیا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے کہ سیلاب بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں سے 15 فٹ اوپر بہہ رہا تھا۔ امام طبری سورة الحاقۃ آیت 11 کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سیلاب اس قدر بےانتہا تھا کہ مشرق سے مغرب تک کوئی جاندار چیز باقی نہ رہی۔
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال قوم کو سمجھایا لیکن قوم نے ان کی تکذیب کی۔
1۔ قوم کے مطالبہ اور نوح (علیہ السلام) کی بد دعا کے نتیجہ میں ان کی قوم کو سیلاب کے ذریعہ تباہ کردیا گیا۔
3۔ مغضوب قوموں کی تاریخ لوگوں کے لیے عبرت کا نشان ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے ظالموں کے لیے اذیّت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے انجام کی ایک جھلک :
1۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم ظالم تھی۔ (النجم : 52) 2۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136)
3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (ہود : 43)
4۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : 37)
Ayah 25:39فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد قوم عاد، ثمود اور کنویں والوں کا انجام۔
یہاں چند الفاظ میں قوم عاد، ثمود، کنویں والوں اور ان کے بعد نامعلوم اقوام کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کے بیان کا مقصد ان کے بعد آنے والی اقوام بالخصوص امت مسلمہ اور دیگر لوگوں کے لیے عبرت کے دلائل مہیا کرنا ہے تاکہ لوگ اپنے آپ کو ان جرائم سے بچانے کی کوشش کریں جن جرائم کی بنیاد پر ان قوموں کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ان کی تاریخ رہتی دنیا کے لیے حسرت کا پیغام بنا دی گئی۔ یہاں قرآن مجید نے ان قوموں کی تاریخ کو چند الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ اسی اختصار کے پیش نظر اِ ن اقوام کی تباہی کی ایک جھلک پیش کی جاتی ہے تاکہ ان قوموں کے بیان کا مقصد ہمارے سامنے رہے۔
قوم عادجسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہوا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ بھی کہا گیا ہے۔ کیونکہ ان کی سرمین پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے تھے جس وجہ سے انہیں احقاف والے کہا گیا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔
قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم :
1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : 69)
2۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر 6 تا 8 )
انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : 133)
3۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء 129 تا 133) [ تفصیل جاننے کے لیے فہم القرآن، جلد 2 : سورة الاعراف، آیت 65 تا 73 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ]
قوم ثمود کا کردار اور انجام :
اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ آئے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرتے کہ تم ہمارے لیے نحوست کا سبب ہو اور حضرت صالح (علیہ السلام) پر جادو کا اثر ہوچکا ہے۔ (الشعراء : 142 تا 153) انھوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے گابھن اونٹنی نمودار نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ اس طرح معجزہ طلب نہ کرو۔ اگر تمہارا منہ مانگا معجزہ ظاہر کردیا گیا اور تم نے اس کا انکار کیا تو پھر تمہارا بچنا مشکل ہوگا۔ لیکن قوم ثمود اپنے مطالبہ پر مصر رہی۔ چناچہ انہیں اونٹنی کا معجزہ دیا گیا مگر انہوں نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ جسکے سبب عذاب نا زل ہوا۔ جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں فہم القرآن، جلد 2: سورة الاعراف، آیت 73 تا 84 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں)
اصحاب الرّس کون لوگ تھے ان کے متعلق مفسرین نے بہت سے اقوال نقل کیے ہیں لیکن کسی نے یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا۔ ابن جریر ؓ نے کہا ہے کہ اس سے مراد اصحاب الاخدود ہیں جن کا تذکرہ سورة البروج میں ہوا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ الرّس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نبی کو قتل کرکے ویران کنویں میں پھینک دیا تھا۔ ان پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ ہلاک کر دئیے گئے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے عاد، ثمود اور کنویں والوں کو ان کے جرائم کی وجہ سے تباہ و برباد کیا۔
2۔ تباہ ہونے والی قوموں کی تاریخ آئندہ نسلوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔
تفسیر بالقرآن
عاد، ثمود کی تباہی کا ایک منظر :
1۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6)
2۔ قوم عاد وثمود کے برے اعمال کو شیطان نے انکے لیے فیشن بنا دیا تھا۔ (العنکبوت : 38)
3۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139) 4۔ قوم عاد کو تند وتیز آندھی کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : 6)
5۔ قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : 22) 6۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
7۔ ہم نے قوم ثمود کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت کے بدلے جہالت کو پسند کیا۔ (حم السجدۃ : 17)
Ayah 25:40فہم القرآن
ربط کلام : عاد، ثمود اور دیگر قوموں کی تباہی کے ذکر کے بعد قوم لوط کی تباہی کا ذکر۔
جن قوموں کی عبرت ناک تاریخ کا ذکر کیا گیا ہے ان کی اکثریت کا تعلق سرزمین عرب کے ساتھ ہے جس بناء پر عام لوگوں کے ساتھ بالخصوص اہل مکہ کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ان اقوام کی تاریخ تمہارے سامنے ہے اور ان کے علاقے تمہاری راہ گزر پر واقع ہیں۔ یاد رہے کہ اہل مکہ کی تجارت کا عام طور پر دار و مدار انہی علاقوں کی منڈیوں پر تھا جس وجہ سے وہ قافلوں کی صورت میں مغضوب قوموں کی سرزمین سے گزرتے اور ان کے آثار قدیمہ کو دیکھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ عبرت حاصل کرنے کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان موت کے بعد زندہ ہونے پر ایمان لائے اور محشر کے دِن حساب اور احتساب پر یقین رکھے لیکن لوگوں کی غالب اکثریت مرنے کے بعد جی اٹھنے پر حقیقی اور عملی ایمان نہیں رکھتی۔
قوم لوط کا کردار :
قوم لوط کے لوگ نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے پوری کرتے تھے۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ ان سے عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔
تفسیر بالقرآن
قوم لوط کی تباہی کا حال :
1۔ قوم لوط ایسی برائی کے مرتکب ہوئے جو ان سے پہلے کسی قوم نے نہیں کی۔ ( الاعراف : 80)
2۔ ہم نے اس بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : 74)
3۔ ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے ہی بدکاریاں کیا کرتے تھے۔ (ھود : 78)
4۔ لوط نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : 80)
5۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82)
Ayah 25:41فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کا انکار کرنے والوں کا رسول معظم ﷺ کے ساتھ رویہّ ۔
رسول معظم ﷺ کی عظیم اور پرخلوص جدوجہد کے باوجود مکہ کے ابتدائی دور میں چند لوگوں کے سوا کوئی شخص آپ پر ایمان نہ لایا۔ ایمان لانے والوں میں ایک دو حضرات کو چھوڑ کر باقی حضرات انتہائی غریب تھے اور کچھ ان میں مکہ والوں کے زرخرید غلام تھے۔ ان حالات کے باوجود نبی معظم ﷺ دو ٹوک اور کھلے الفاظ میں اعلان کرتے کہ لوگو ! لا الہ الا اللہ پڑھو اور اس کے تقاضے پورے کرو میں تمہیں معاشی خوشحالی، سیاسی اقتدار کی کامیابی اور دنیا و آخرت کی فلاح کی ضمانت دیتا ہوں۔ اس پر اہل مکہ آپ ﷺ کا استہزاء اڑاتے کہ یہ کس قدر ناعاقبت اندیش شخص ہے کہ خود ناکام ہونے کے باوجود لوگوں کو کامیابیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ کفار یہ کہہ کر بھی آپ ﷺ کو مذاق کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی ہی کسی انقلاب کا ارادہ کیا ہے تو وہ انسان کی بجائے کسی مافوق الفطرۃ ہستی کو رسول منتخب کرتا۔ یا یہ حقیقتاً اللہ کا رسول ہوتا تو اسے دنیا کے وسائل سے سرفراز کیا جاتا۔ اس کی باتیں دیوانے کی بھڑ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔
مسائل
1۔ قیامت کے منکر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو استہزاء کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
گمراہ اقوام کا انبیاء کرام کو مذاق کرنا :
1۔ یقیناً رسولوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی مذاق کیا گیا ہے۔ (الرعد : 22)
2۔ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں سے مذاق کرتے ہو۔ (التوبہ : 65)
3۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ (الحجر : 11)
4۔ افسوس ہے لوگوں پر جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ (یٰس : 30)
5۔ نہیں آیا ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ ان سے مذاق کرتے تھے۔ (الزخرف : 7)
Ayahs 25:42–43فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی مخالفت اور استہزاء کے باوجود رسول معظم ﷺ کی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے اثرات۔
دور نبوت کے ابتدائی سالوں میں کفار کو یہ خوش فہمی تھی کہ ہم توحید و رسالت کی دعوت کو روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے جس کے لیے انھوں نے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی تھی جس کے لیے انھوں نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ یہاں کفار کی انہی کوششوں کا ذکر ہے جس سے حق و باطل کے درمیان ہونے والی کشمکش کا پتہ چلتا ہے۔ قرآن مجید نے آپ ﷺ کو آگاہ فرمایا کہ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ نور ہدایت دنیا پر پھیل کر رہے گا۔ (الصف : 8۔ 9)
اس کے ساتھ ہی قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اور اس کا رسول ہر صورت غالب آئیں گے کیونکہ اللہ بڑا طاقت ور اور غالب آنے والا ہے۔ (المجادلہ : 21)
اس لیے کفار کو یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی مذموم کوششوں سے باز آجائیں کیونکہ وہ کسی صورت بھی اللہ کے دین کے پھیلاؤ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ اگر پھر بھی باز آنے کے لیے تیار نہیں تو انھیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھے راستے سے گمراہ ہوچکا اور کس کا انجام بدترین ہوگا ؟ بالخصوص جب جہنم کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ تو سوائے حسرت کے ان کے پلے کچھ نہیں ہوگا۔ مذکورہ آیت کے الفاظ سے نبی اکرم ﷺ کی بےمثال جدوجہد اور کفار کی طرف سے شدید ردّ عمل کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نبی اکرم ﷺ نے اپنی جدوجہد جاری رکھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب فرمایا اور کافر ناکام ہوئے یہ آخرت میں اذّیت ناک عذاب میں مبتلا ہونگے۔
Ayah 25:44فہم القرآن
ربط کلام : دین حق کی مخالفت اور انسان کی گمراہی کا بنیادی سبب نفس پرستی ہے۔ اس لیے نفس پر ستی کی نفی کی گئی ہے۔
انسان جب بھی حق بات کی مخالفت کرتا ہے یا کسی گناہ میں ملّوث ہوتا ہے تو اس کے پیچھے اس کی نفسانی خواہش کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس حد تک اپنے نفس کے بندے بن چکے ہوتے ہیں کہ ان کے ہر کام کے پیچھے اپنی منشاء اور مفاد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کے بارے میں آپ ﷺ کو ارشاد ہوا ہے کیا آپ نے اس شخص کے کردار پر غور نہیں کیا جس نے اپنی خواہش کو خدا کا درجہ دے دیا ہے ؟ ایسے شخص کو راہ راست پر لانا کسی کے بس کا روگ نہیں ہوتا لہٰذا آپ کو ارشاد ہوا کہ آپ ایسے شخص کے فکر وعمل پر وقت صرف کرنے کی بجائے اپنا کام کیے جائیں کیونکہ آپ کسی کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گئے۔ نفس کے بندوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ دیکھنے والا انھیں انسان سمجھتا ہے لیکن حقیقت میں وہ حیوان سے بدتر ہوتے ہیں۔ بیشک وہ انسان کی طرح سنتے اور عقل رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے نفس کے غلام ہونے کی وجہ سے چوپاؤں سے بدتر ہوچکے ہیں بلکہ بےراہ روی کے اعتبار سے ڈنگروں سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔ چوپائے میں اللہ تعالیٰ نے یہ خوبی رکھی ہے کہ وہ اپنے مالک کا وفادار اور اس کی زبان نہ سمجھنے کے باوجود اس کی آواز کے انداز اور لب و لہجہ کا اندازہ لگا کر مالک کی تابعداری کرتا ہے۔ کتے کو دیکھیں جانوروں میں حقیر اور پلید ہونے کے باوجود کس طرح اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے لیکن انسان اشرف المخلوقات ہونے اور عقل و فکر رکھنے کے باوجود خالق حقیقی کی تابعداری اور بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ دنیا میں کسی جانور اور چوپائے کی ایسی مثال موجود نہیں کہ جو اپنے مالک کو چھوڑ کر دوسرے کی غلامی کرتا ہو۔ لیکن انسان اس قدر جاہل اور ظالم ہے کہ یہ ناصرف اپنے مالک حقیقی کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ دوسروں کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جانوروں سے بدتر نہ کہا جائے تو اور انھیں کس نام سے پکارا جائے ؟
نفس کی پیروی کا نقصان :
عَنْ شَدَّادٌ فَإِنِّی قَدْ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ مَنْ صَلَّی یُرَاءِی فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَاءِی فَقَدْ أَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَاءِی فَقَدْ أَشْرَکَ ) [ رواہ احمد : مسند شداد ]
حضرت شداد ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا جس نے دکھلاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا جس نے دکھلاوے کا روزہ رکھا اس نے شرک کیا جس نے دکھلاوے کا صدقہ دیا اس نے شرک کیا۔
(إِنَّ اللَّہَ لاَ یَنْظُرُ إِلَی أَجْسَادِکُمْ وَلاَ إِلَی صُوَرِکُمْ وَلَکِنْ یَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِہِ إِلَی صَدْرِہِ ) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ وَخَذْلِہِ وَاحْتِقَارِہِ وَدَمِہِ وَعِرْضِہِ وَمَالِہِ ]
” بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور شکل و صورت کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے اور آپ نے اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ “
مسائل
1۔ دین کے مقابلے میں اپنے نفس کی بات ماننا، نفس کو خدا بنانے کے مترادف ہے۔
2۔ جو لوگ اپنے نفس کے پجاری بن جاتے ہیں وہ چوپاؤں سے بدتر ہوتے ہیں۔
3۔ نفس کا پجاری انسان پر لے درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
چوپاؤں سے بدتر انسان :
1۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی انھیں بہرے اور اندھے کردیا ہے۔ (محمد : 23)
2۔ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں وہ رجوع نہیں کرتے۔ (البقرۃ : 18)
3۔ ہماری آیات کا انکار کرنے والے بہرے اور گونگے ہیں۔ (الانعام : 39)
4۔ بہروں کو آپ نہیں سنا سکتے کیونکہ وہ بےعقل ہیں۔ (یونس : 42)
5۔ آپ مردوں اور بہروں کو اپنی پکار نہیں سنا سکتے۔ (النمل : 80)
6۔ کفار چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ (الاعراف : 179) 7۔ عقل سے کام نہ لینے کا انجام۔ ( الملک : 10)
8۔ ہدایت کے لیے ضروری ہے کہ انسان دل، کان اور توجہ سے کام لے۔ ( ق : 37)
Ayahs 25:45–46فہم القرآن
ربط کلام : نفس کی پیروی کرنے والا شخص اپنے گردوپیش کو دیکھے اور اس پر غور کرے تو اپنے نفس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے رب کا تابعدار بن جائے گا۔
ارشاد ہوتا ہے کہ اے انسان کیا تو اس بات پر غور نہیں کرتا کہ تیرا رب سائے کو کس طرح زمین پر بچھاتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو سائے کو ایک ہی جگہ جامد کردیتا۔ اس نے سورج کو اس پر دلیل بنایا ہے وہی رب سورج کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیتا ہے۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور سائے کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ سورج ایک مقررہ وقت کے مطابق طلوع ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت اپنے شباب کو پہنچنے کے بعد آہستہ آہستہ ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے بالآخر غروب ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں دنیا کے ایک حصہ کو رات اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ لیتی ہے۔ سورج کی رفتار کے ساتھ ساتھ ہر چیز کا سایہ زمین پر پھیلتا ہے سورج مشرق کی جانب ہو تو سایہ مغرب کی جانب ہوتا ہے۔ سورج مغرب کی جانب ہو تو ہر چیز کا سایہ سورج کی الٹی جانب چلتا ہے۔ جس سائے سے انسان، چوپائے اور جانور فائدہ اٹھاتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ سورج کا مدار اس طرح بنا دیتا کہ جس سے چیزوں کا سایہ ختم ہوجائے تو انسان اور دیگر جانوروں کا کیا حال ہوتا ؟ کیونکہ اس طرح گھر سے باہر انسان کے آرام کی کوئی جگہ نہ رہتی۔ جس سے ناصرف انسان کی زندگی دوبھر ہوجاتی بلکہ دنیا کی ترقی ناممکن ہوجاتی یا سورج کی گردش اس طرح مقرر کی جاتی کہ جس سے سایہ زمین پر پھیلنے کی بجائے ایک ہی جگہ پر قائم رہتا تو اس سے فصلوں کو اور پھلوں کے پکنے کی کوئی صورت باقی نہ رہتی۔ اس کا اس قدر نقصان ہوتا کہ تلافی ناممکن ہوجاتی۔ کیونکہ بیشمار فصلیں اور پودے ایسے ہیں جو زیادہ مدت تک سائے میں نہیں رہ سکتے۔ ایک طرف سائے سے لوگوں کو فوائد پہنچ رہے ہیں اور دوسری طرف ہر چیز کا سایہ اپنے حال کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے یہاں سورج کو دلیل کے طور پر بنایا گیا ہے۔ عربی زبان میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو سمندر میں ملاحوں کو راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔ گویا کہ سورج باالفاظ دیگر سائے کے پھیلنے میں دلیل کا کام دیتا ہے۔ اس طرح سورج اور سایہ لازم ملزوم بنا دئیے گئے ہیں۔
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے اس کو اجازت نہ ملے۔ اسے حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا سایہ پیدا فرمایا جس سے انسان، حیوانات اور نباتات مستفید ہوتے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ سائے کو ایک جگہ جامد کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سورج اور سائے کی رفتار پر کنٹرول کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کو ہر چیز اور اس کا سایہ بھی سجدہ کرتا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا سایہ بنایا ہے۔ (النحل : 48) 2۔ ہر چیز کا سایہ اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : 48)
3۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : 46) 4۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : 6)
5۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الر عد : 15)
6۔ یقیناً جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206)
7۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سے انسان سجدہ کرتے ہیں۔ (الحج : 18)
Ayah 25:47فہم القرآن
ربط کلام : نظام شمسی کے ساتھ رات اور دن کا آنا جانا لازم وملزوم ہے۔ اس لیے رات اور دن کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بار بار اس بات کی دعوت دی ہے کہ وہ رات اور دن کے آنے جانے، ان کے گھٹنے اور بڑھنے پر غور کرے تاکہ اسے علم یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کس قدر قدرت والا ہے۔ وہ رات اور دن کے نظام کو کس ترتیب کے ساتھ چلا رہا ہے ؟ رات اور دن میں سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ کروڑوں اور اربوں انسان سال ہا سال سے دیکھ رہے ہیں۔ رات اور دن کے آنے جانے کا سلسلہ اس قدر منظم ہے کہ آج تک دنیا کے کسی خطے میں ان کے آنے جانے میں نقص واقع نہیں ہوا۔ کیا انسان نے اس بات پر غور کیا ہے ؟ کہ پوری دنیا کے سائنسدان اور حکمران مل کر بھی دن اور رات کے اوقات میں ایک سیکنڈ کا آگا پیچھا نہیں کرسکتے۔ رات اور دن کے اوقات ابد سے چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہیں یہ ازل تک چوبیس گھنٹے ہی رہیں گے۔ رات میں ان گنت فوائد ہیں۔ جن میں ایک ایسا فائدہ ہے جس سے ہر ذی روح مستفید ہوتا ہے۔ بالخصوص انسان سب سے زیادہ بہتر طریقے سے مستفید ہوتا ہے۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے لباس قرار دیا ہے جس میں انسان کو خود بخود نیند آجاتی ہے۔ جس طرح لباس انسان کے جسم کو ڈھانپتا ہے اسی طرح ہی رات میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خصوصیت رکھی ہیں جو دماغ کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ جس سے انسان کو نیند آتی ہے اور نیند سے انسان کی دن بھر کی تھکاوٹ اس طرح دور ہوجاتی ہے کہ صبح کے وقت وہ اپنے آپ کو قوت کار کے لیے تازہ دم پاتا ہے۔ یہاں تک کہ نیند انسان کے غم کو ہلکا کردیتی ہے۔ گویا کہ نیند سے انسان ہر طرح پُر سکون ہوجاتا ہے۔ نیند ایسی نعمت ہے کہ اگر انسان کسی وجہ سے نیند سے محروم ہوجائے تو ناصرف اس کا جسم تناؤ کا شکار ہوگا، بلکہ انسان کا زیادہ دیر زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ انسان ہی نہیں بلکہ ہر ذی روح رات کے وقت سکون پاتی ہے۔ یہاں تک کہ نباتات میں بیشمار فصلیں اور پودے ایسے ہیں جو صرف رات کو ہی بڑھتے ہیں اور ان کے پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔ رات کے مقابلے میں دن ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے کام کاج اور چلنے پھرنے کے لیے بنایا ہے۔ دن کے فوائد بھی ان گنت ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کو چھوٹا اور بڑا کرتا ہے اسی طرح ہی دن کو طویل اور چھوٹا کرتا ہے۔ اگر لیل ونہار وقت کے اعتبار سے یکساں ہوتے تو ناصرف انسان کے لیے مسائل پیدا ہوتے بلکہ انسان اپنی زندگی کو اپنے آپ پر بوجھ محسوس کرتا۔ اگر رات اور دن پر غور فرمائیں تو یہی انسان اور پوری کائنات کی زندگی کا نظام ہے اگر ان میں خلل واقع ہوجائے تو پورا نظام درہم برہم ہوجائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں قرار دیا ہے۔
(ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ النَّھَارَ مُبْصِرًااِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنََ )
[ یونس : 67]
” وہ ذات جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سچی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات سکون کے لیے پیدا کی اور دن کو کام کاج کے لیے بنایا۔
2۔ کائنات کا پورا نظام رات اور دن کے آنے جانے پر قائم ہے۔
3۔ اگر رات اور دن کے نظام میں خلل واقع ہوجائے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
تفسیر بالقرآن
رات اور دن کے فوائد کی ایک جھلک :
1۔ رات اور دن کو اللہ نے نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : 12)
2۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : 37)
3۔ رات دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ (الاعراف : 54)
4۔ رات دن کو اور دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (الزمر : 5)
5۔ رات آرام اور دن کام کے لیے ہے۔ (الفرقان : 47)
6۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، دن اور رات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : 190)
7۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6)
Ayahs 25:48–50فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید دلائل۔
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ہواؤں پر اختیار نہیں وہی ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے جس سے لوگ بارش کی آمد آمد محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے بارش کی صورت میں پاک پانی نازل کرتا ہے، پھر بارش سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو پائے اور انسان پیدا کیے ہیں وہی بارش کے ذریعے انھیں پانی پلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور انداز میں لوگوں کو نصیحت فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمودات کا انکار کرتی ہے۔ اس آیت میں ” اَلرِّیٰحٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا واحد رِیْحٌہے جس کا معنی ہے ہوا ہے۔ یہاں ہوا کی بجائے ہواؤں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اسی وجہ سے موسمیات کا علم رکھنے والے سائنس دانوں نے ہواؤں کے مختلف نام رکھے ہیں اور ان کی خصوصیات کا الگ الگ ذکر کرتے ہیں۔
ہوا اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے کہ جس کے بیشمار فوائد ہیں۔ ہوا کے بغیر کوئی جاندار زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہوا ہی نباتات کے بیج ایک سے دوسرے تک منتقل کرتی ہے۔ ہوا کے ذریعے ہی پودوں میں نر اور مادہ کا ملاپ ہوتا ہے۔ ہوا ہی بخارات آسمان کی طرف لے جاتی ہے جو بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ہوا ہی بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہانک کرلے جاتی ہے۔ ہوا تیز آندھی کی شکل اختیار کرلے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ ہوا کے ذریعے ہی بارش کا نظام چلتا ہے اور ایک خاص مقدار اور رفتار میں آسمان سے پانی زمین کی طرف اترتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہوا کو رنگ دار بنا دے تو روشنی کے باوجود انسان اندھوں جیسے ہوجائیں۔ بارش کے پانی کو پاک پانی قرار دیا گیا ہے زمین سے اٹھنے والے پانی کے بخارات میں بیشک کتنی ہی کثاقت اور غلاظت کیوں نہ ہو۔ ہوا بخارات کو ہر قسم کی غلاظت اور بدبو سے پاک کردیتی ہے۔
بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس کے برسنے سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں جس سے فضا میں انسان دشمن جراثیم کا خاتمہ ہوتا ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں ٹھنڈی ہوا چلنے سے نہ صرف لوگوں کی طبیعتیں بہل جاتی ہیں بلکہ درختوں کے پتے بھی خوشی سے لہلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بارش آب رسانی کا اس قدر جامع مؤثر ذریعہ ہے جس سے آبادیوں اور صحراؤں میں رہنے والے انسان اور ہر قسم کے جاندار بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہاں تک درختوں کا ایک ایک پتہ دھل جاتا ہے۔ کیا ایسا کرنا کسی حکومت کے بس کی بات ہوسکتی ہے ؟
مسائل
1۔ بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے۔ 2۔ بارش کا پانی ہر قسم کی کثافت اور غلاظت سے پاک ہوتا ہے۔
3۔ بارش حیوانوں اور انسانوں کے لیے آب رسانی کا جامع اور مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ 4۔ بارش سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
بارش کس طرح برستی ہے :
2۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164)
4۔ تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ آسمان سے تمہارے لیے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ فرما دے گا۔ (ہود : 52)
6۔ اللہ سے بخشش طلب کرو وہ معاف کردے گا اور بارش نازل فرمائے گا اور تمہارے مال و اولاد میں اضافہ فرمائے گا۔ (نوح : 10۔ 12)
7۔ ہوائیں بخارات اٹھاتی اور بادلوں کو چلاتی ہیں۔ (النحل : 22)