Ayah 22:37فہم القرآن
ربط کلام : قربانی کے مسائل کا بیان جاری ہے۔
عربوں میں یہ بھی جہالت پائی تھی کہ جب وہ قربانی ذبح کرتے تو اس کا خون اپنے جسم اور کپڑوں پر مل لیتے تھے۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا کہ ہماری قربانی قبول ہوچکی ہے۔ قرآن مجید نے اس رسم کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا نہ خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت۔ اسے دلوں کا اخلاص اور تمہاری پرہیزگاری درکار ہے کہ تم کس جذبے اور نیت کے ساتھ قربانی کرتے ہو۔ جس میں پہلا جذبہ یہ درکار ہے کہ قربانی کرنے والا یہ احساس دل میں لائے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے وسائل اور طاقت سے یہ جانور میرے تابع ہوا ہے۔ دوسرا یہ جذبہ پیدا کرے کہ اسی کی ہدایت اور توفیق سے میں اسے ذبح کررہا ہوں۔ اگر وہ مجھے ہدایت اور توفیق نہ بخشتا تو مجھ میں کب ہمت تھی کہ میں قربانی کرتا۔ ہدایت سے مراد وہ توفیق اور راہنمائی ہے جس بنا پر آدمی دوسروں کی بجائے صرف اور صرف اپنے رب کے حضور اور اس کی رضا کے لیے نذونیاز اور قربانی پیش کرتا ہے۔ جو لوگ اس اخلاص کے ساتھ قربانی ذبح کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہی کی قربانی قبول کرتا ہے اسی لیے قربانی کے وقت آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے۔
(قُلْ إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) [ الانعام : 162]
” اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِِ ﷺ اَمَرَ بِکَبْشٍ اَقْرَنَ ےَطَأُ فِیْ سَوَادٍ وَّےَبْرُکُ فِیْ سَوَادٍ وَےَنْظُرُ فِیْ سَوَادٍ فَاُتِیَ بِہٖ لِےُضَحِّیَ بِہٖ قَالَ ےَا عَآءِشَۃُ ھَلُمِّی الْمُدْےَۃَ ثُمَّ قَالَ اشْحَذِےْھَا بِحَجَرٍ فَفَعَلْتُ ثُمَّ اَخَذَھَا وَاَخَذَ الْکَبْشَ فَاَضْجَعَہُ ثُمَّ ذَبَحَہُ ثُمَّ قَالَ (بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ) ثُمَّ ضَحّٰی بِہ) [ رواہ مسلم : باب اسْتِحْبَاب الضَّحِیَّۃِ وَذَبْحِہَا مُبَاشَرَۃً بلاَ تَوْکِیلٍ وَالتَّسْمِیَۃِ وَالتَّکْبِیرِ ]
” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے سینگوں والا مینڈھا جس کی ٹانگیں ‘ پیٹ اور آنکھیں سیاہ تھیں مجھے لانے کا حکم دیا۔ جب یہ جانور ذبح کے لیے لایا گیا تو آپ نے مجھے چھری لانے کے لئے فرمایا ساتھ ہی فرمایا کہ پتھر پر چھری تیز کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا آپ نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو لٹا کر ذبح کرنے کے وقت بسم اللہ پڑھی اور یہ الفاظ ادا کیے۔ الٰہی محمد ﷺ ‘ آل محمد اور محمد ﷺ کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ “
بعض نام نہاد دانشور اور کچھ لوگ آسمانی آفت زلزلہ ‘ سیلاب ‘ غربت یا جہاد کے جذبہ کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ہر سال قربانی کرنے کے بجائے قربانی کی رقم جہاد اور فلاح و بہبود کے کاموں پر صرف ہونی چاہیے۔ ایسے احباب کو یاد رکھنا چاہیے کہ نبی محترم ﷺ نے مدینہ طیبہ کے دس سالہ دور میں قربانی بھی کی اور جہاد بھی جاری رکھا۔
جہاں تک غربت کا معاملہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کے دور سے زیادہ مسلمانوں پر کبھی بھی غربت کا دور نہیں آیا۔ لہٰذا لوگوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہر حال میں نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی قربانی کرتے رہیں۔ کیونکہ ارشاد ہے :
” ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ پسند کوئی عمل نہیں۔ قربانی کا جانور اپنے سینگوں ‘ کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اس لیے قربانی کرنے پر خوش ہوا کرو۔ “
(رواہ ابن ماجۃ : ابواب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ)
مسائل
1۔ اللہ کو قربانی کا گوشت پوست اور خون نہیں پہنچتا۔ 2۔ اللہ کو قربانی کرنے والے کا اخلاص درکار ہے۔
3۔ قربانی پر تکبیر پڑھنا چاہیے۔ بسم اللہ واللہ اکبر۔ 4۔ اخلاص کے ساتھ قربانی دینے والے کے لیے خوشخبری ہے۔
تفسیر بالقرآن
محسنین کے اوصاف :
1۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ( ھود : 115)
2۔ احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (البقرۃ : 195)
3۔ انھیں معاف کیجیے اور در گزر کیجیے یقیناً اللہ محسنین کو پسند فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 13)
4۔ محسنین تنگی اور کشادگی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ (آل عمران : 134)
Ayahs 22:38–39فہم القرآن
ربط کلام : قربانی کے جذبہ کا منطقی نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنا تن، من، دھن ” اللہ “ کی راہ میں نچھاور کر دے اس لیے قربانی کے مسائل بیان کرتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
مکہ معظمہ میں تیرہ سال تک مسلمان ہر قسم کے مظالم برداشت کرتے رہے۔ مقابلے میں جب کبھی لڑنے کی اجازت طلب کی گئی تو مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنے سے روک دیا گیا۔ ہجرت کے بعد یہ پہلا فرمان ہے جس میں مظلوم مسلمانوں کو نہ صرف لڑنے کی اجازت دی گئی بلکہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ مسلمانوں اب تمہیں ظلم کے خلاف لڑنے کی اجازت ہے۔ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرنے پر قادر ہے۔ باالفاظ دیگر تمہاری ضرور مدد کی جائے گی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا دفاع کرتا ہے کیونکہ وہ کسی خائن اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔ چناچہ جب کفار کے ساتھ قتال کا سلسلہ شروع ہوا تو بدر سے لے کر تبوک تک نہتے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے وہ کامیابیاں عنایت فرمائیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّاتَ وَلَمْ ےَغْزُ وَلَمْ ےُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِّنْ نِّفَاقٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃِ ، باب ذم من مات ولم یغزولم یحدث نفسہ بالغزو ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : جس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی دل میں جہاد کا خیال لایا تو وہ منافقت کی ایک قسم پر فوت ہوا۔ “
Ayah 22:40فہم القرآن
ربط کلام : مکہ کے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے اس لیے نکلنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔
حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جس دور میں بھی۔ اللہ والوں نے اپنے رب پر ایمان لانے کا اظہار کیا اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی تو کفار اور مشرکین نے ان کا جینا حرام کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو کفار اور مشرکین کے مقابلے میں لڑنے کی اجازت دی تو کفار اور مشرکین نے یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ کلمہ گو لوگ جنگجو اور ظالم ہیں۔ بالخصوص اسلام کے بارے میں مخالفین کا پرا پیگنڈہ ہے کہ مسلمان جہاد کے نام پر جارحیت کرتے ہیں۔ اس بات کا یہ جواب دیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مظلوم لوگوں کو ظالموں کے خلاف لڑنے کی اجازت نہ دی جاتی تو دنیا میں عیسائیوں کے گرجے اور خلوت خانے یہودیوں کی عبادت گاہیں اور مسلمانوں کی مساجد جن میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے وہ مسمار کردیے جاتے۔ مساجد کا آخر میں ذکر فرما کر دو اشارے دیے ہیں۔ 1 اللہ تعالیٰ کی حقیقی اور سچی عبادت صرف مساجد میں ہوتی ہے۔ 2 دوسری حقیقت یہ ہے کہ دوسرے معبد خانوں کی نسبت مساجد میں اللہ کا ذکر اور عبادت زیادہ ہوتا ہے۔ چناچہ آپ ہندؤں کے مندر، عیسائیوں کے گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے دیکھ لیں ان کی نسبت مساجد میں کتنی بھرپور حاضری ہوتی ہے۔ دوسرے پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ ہٹائے تو زمین کا نظام درہم برہم ہوجائے۔ (البقرۃ : 251) زمین کے نظام کو بچانے اور چلانے کے لیے ضروری ہے کہ جب کوئی قوم ظلم و ستم کی حدود پھلانگنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہٹا کر کسی دوسروں کو اقتدار دے دیتا ہے۔ جو ” اللہ “ کی مددکرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی طاقت والا اور ہر حال میں غالب رہنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کرنے سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کی مدد کا محتاج ہے اس سے مراد اس کے دین اور مظلوم لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے جب مسلمان متحد اور طاقتور تھے اس وقت دنیا کے کسی خطہ میں ظلم ہوا تو مسلمانوں نے آگے بڑھ کر مظلوم کی مدد کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت و حمایت سے انھیں کامیاب فرمایا۔
قتال فی سبیل اللہ جارحیّت نہیں :
(کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَمَرَاُمَرَاؤَہٗ اَن لَّا ےَقْتُلُوْا اِلَّامَنْ قَاتَلَھُمْ ) [ فتح الباری ]
” رسول اکرم ﷺ نے فوجی افسروں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان لوگوں کے خلاف جنگ نہ کریں جو تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ “
” بوڑھوں، کم عمر بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔ “ [ مشکوٰۃ : باب القتال فی الجہاد ]
آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اس بات کا خیال رکھا کہ نہ صرف پُر امن آبادی پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہونے پائے بلکہ جانوروں اور کھیتوں کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے چناچہ جب شام پر فوج کشی کا ارادہ کیا تو فوجوں کو رخصت کرتے وقت سپہ سالار فوج کو یہ ہدایات فرمائیں :
(اِنَّکَ تَجِدُ قَوْمًا عَمُوْا اِنَّھُمْ حَبَسَ اَنْفُسَھُمْ اللّٰہُ فَذَرْھُمْ وَاِنِّی مُوْصِےْکَ بِعَشْرِ خِلَالٍ لَا تَقْتُلُوْا اِمْرَاۃٌ وَّلَا صَبِیًّا وَّلَا کَبِےْرًا ھَرِمًا وَّلَا تَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا وَّلَا تُخَرِّبِنَّ عَامِرًا وَّلَا تَعْقِرَنَّ شَاۃًوَ لاَ بَعِےْرًا اِلَّا لِمَا کِلَۃًوَلَا تُفَّرِقَنَّ نَخْلًا وَّلَا تُحَرِّقَنَّہٗ وَلَا تَغْلُلْ وَلَا تَجْبُنْ ) [ تاریخ الخلفاء : سیوطی ]
” تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر رکھا ہے ان کو چھوڑ دینا۔ میں تم کو دس وصیتیں کرتا ہوں کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آبادیوں کو ویران نہ کرنا، بکری اور اونٹ کو کھانے کے سوا بےوجہ نہ مارنا، نخلستان کو نہ جلانا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور بزدلی نہ دکھانا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو دوسری کے ذریعے پسپا کرتا ہے۔ 2۔ اگر ظالموں کو نہ بٹایا جائے تو عبادت خانے تباہ ہوجائیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ طاقتور اور ہر چیز پر غالب ہے۔
Ayah 22:41فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کا قتال اور اقتدار کشور کشائی یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ان کے قتال اور اقتدار کا مقصد ” اللہ “ کے دین کی سر بلندی اور مظلوموں کی مدد کرنا ہے اور دنیا میں امن وامان قائم رکھنا ہے۔
برسر اقتدار لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے بچتے ہوئے اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کریں۔ جس میں اوّل نماز قائم کرنا اور لوگوں کو پابند نماز بنانا، زکوٰۃ ادا کرنا اور نظام زکوٰۃ نافذ کرنا۔ حکمران خود نیکی کے کام کریں اور لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور خود برائی سے بچیں لوگوں کو برائی سے منع کریں اور یہ عقیدہ رکھیں کہ ہر کام کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس فرمان کے شروع میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اقتدار عطا فرمائے انھیں یہ کام کرنے چاہییں۔ آخر میں فرمایا کہ انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر کام کا انجام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ گویا کہ حکمرانوں کو ہر حال میں فکر آخرت کے ساتھ یہ تصور بھی رکھنا چاہیے، کہ حکمرانی کے نشہ میں آکر مغرور اور متکبر نہیں بننا کیونکہ حقیقی اقتدار اور اختیار اللہ ہی کے پاس ہے۔
تمام امور کا انجام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں کہہ کر مسلمانوں کو یہ عقیدہ دیا گیا ہے کہ اقتدار اور اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض ہوتا ہے۔ جو ہمیشہ کسی ایک کے پاس نہیں رہتا۔” اللہ “ جسے چاہے اقتدار سے نوازتا ہے اور جس کو چاہے محروم کردیتا ہے۔ البتہ اس کا اصول یہ ہے کہ وہ لوگوں کے افکار اور اعمال کے مطابق ان پر حکمران مقرر کرتا ہے جیسے لوگ ہونگے ویسے حکمران ہوں گے۔ نیک حکمران اس سے ڈرنے والے ہوتے ہیں اور وہ اپنے فرائض میں بالخصوص نظام صلوٰۃ اور زکوٰۃ کا اجتماعی طور پر نفاذ کرتے ہیں اور لوگوں کو ہر قسم کی برائی اور بےحیائی سے روکنے کے ساتھ ساتھ نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں، اگر حکمران ظالم اور برے ہیں تو انہیں یہ فکر کرنی چاہیے کہ بیشک دنیا میں انہیں روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں مگر ایک دن ایسا ضرور آئے گا جس دن انہیں اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا۔ اگر حکمران نیک ہیں تو انہیں اس سوچ کے ساتھ بلا خوف وخطر اپنی جدوجہد میں لگے رہنا چاہیے کہ ہمارا کام تو اپنی اور لوگوں کی اصلاح کرنا ہے۔ نتیجہ ہمارے رب کے ہاتھ میں ہے۔ یاد رہے کہ انفرادی اصلاح انفرادی کوشش سے ہوا کرتی ہے اور اجتماعی اصلاح اور ترقی صرف اور صرف اجتماعی کوشش سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ جس کے لیے اجتماعی جدوجہد اور نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو صالح حکمران اور ان کے اچھے ساتھیوں کے بغیر ممکن نہیں اس لیے حضرت عمر ؓ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرے دل کی آرزو ہے کہ میرے پاس ابو عبیدہ جیسے عمّال ہونے چاہیں۔ (از مؤلف مولانا عبدالروف جھنڈا نگری)
نظام صلوٰۃ
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلَاۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً ) [ رواہ البخاری : کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الجماعۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔ “
(وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَیُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بالصَّلَاۃِ فَیُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَیَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلٰی رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَیْھِمْ بُیُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ یَعْلَمُ أَحَدُھُمْ أَنَّہٗ یَجِدُعَرْقًا سَمِیْنًا أَوْ مِرْمَاتَیْنِ حَسَنَتَیْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الاذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ ]
” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں جب اکٹھی ہوجائیں۔ میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان دی جائے پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کروائے اور میں جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کردوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کوئی جانتا کہ اسے نماز کے بدلے موٹی ہڈی یا دو بہترین پائے ملیں گے تو ضرورعشاء کی نماز میں وہ حاضر ہوتا۔ “
نظام زکوٰۃ
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ لَمَّا تُوُفِّیَ النَّبِیُّ ﷺ وَاسْتُخْلِفَ اَبُوْ بَکْرٍ بَعْدَہُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ لِاَبِیْ بَکْرٍ ؓ کَیْفَ تُقَاتِلُ النّٰاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَاِ الٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَمَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَصَمَ مِنِّیْ مَالَہُ وَنَفْسَہُ اِلَّا بِحَقِّہٖ وَحِسَابُہُ عَلَی اللّٰہِ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ وَاللّٰہِ لَاُ قَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ فَاِنَّ الزَّکٰوۃَ حَقُّ الْمَالِ وَاللّٰہِ لَوْمَنَعُوْنِیْ عَنَاقًاکَانُوْا یُؤَدُّوْنَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ لَقَاتَلْتُھُمْ عَلٰی مَنْعِھَا قَالَ عُمَرُ فَوَاللّٰہِ مَا ھُوَ اِلَّا رَاَیْتُ اَنَّ اللّٰہَ شَرَحَ صَدْرَاَبِیْ بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ اَنَّہُ الْحَقُّ ۔ )
[ رواہ البخاری : باب الأَمْرِ بِقِتَال النَّاسِ حَتَّی یَقُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ مُحَمَّدٌ رَسُول اللَّہِ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی مکرم ﷺ وفات پاگئے اور آپ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیفہ منتخب کیا گیا اور عرب کے کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ابوبکر صدیق ؓ سے عرض کیا کہ آپ کیسے ان لوگوں سے جنگ کریں گے جبکہ نبی معظم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اسوقت تک جنگ کروں جب تک وہ یہ گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جس نے اس کا اقرار کرلیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال کو بچالیا البتہ اسلام کے حق کی وجہ سے اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے ضرور لڑائی کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں۔ کیونکہ زکوٰۃ مال پر فرض ہے اللہ کی قسم اگر لوگ مجھ سے بھیڑ کے بچے کو روک لیں گے جس کو وہ رسول اللہ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر ان سے قتال کروں گا۔ حضرت عمر ؓ نے اعتراف کیا کہ اللہ کی قسم ! مجھے اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق ؓ کے سینے کو جہاد کے لیے کھول دیا ہے۔ میں نے سمجھا کہ لڑنا حق ہے۔ “
قتال فی سبیل اللہ
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جو امیر کی اطاعت کرے گا اس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ بلا شبہ امام ڈھال کی طرح ہے۔ اس کے حکم سے جہاد کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے تحفظ حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل کرے تو اس کے لیے یہ باعث اجر ہوگا۔ اور اگر وہ اس کے برخلاف چلے تو اس کی سزا اس پر ہوگی۔
[ رواہ البخاری : باب یُقَاتَلُ مِنْ وَرَاءِ الإِمَامِ وَیُتَّقَی بِہِ ]
برائی کے خلاف کوشش کرنا فرض ہے :
(عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ ؓ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُولُ مَنْ رَأَی مُنْکَرًا فَغَیَّرَہُ بِیَدِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَغَیَّرَہُ بِلِسَانِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِلِسَانِہِ فَغَیَّرَہُ بِقَلْبِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الإِیمَانِ ) [ رواہ النسائی : باب تَفَاضُلِ أَہْلِ الإِیمَانِ ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے برائی کو دیکھا تو اس نے اسے اپنے ہاتھ سے ختم کیا تو وہ بری ہوگیا اور اگر اس میں برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں تو اسے اپنی زبان سے تو روکے تو وہ بھی بری ہوگیا اگر اس نے زبان سے روکنے کی ہمت نہیں تو اسے دل سے ناپسند جانے تو وہ بھی بری ہوگیا اور یہ سب سے کمتر ایمان ہے۔ “
حدود اللہ کے نفاذ کی برکات :
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِيْ بِلَاد اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب إقامۃ الحدود ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی حدود میں سے کسی ایک حد کو نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ “
آپ ﷺ نے چالیس دن مسلسل بارش کی بات نہیں بلکہ اس بارش سے مراد حسب ضرورت اور بروقت چالیس مرتبہ بارش کا ہونا مراد ہے جس ملک میں اس طرح بارشوں کا سلسلہ جاری رہے تو وہاں کے لوگوں کی صحت، پھلوں اور اناج کی کثرت اور برکات کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ اور موجودہ دور میں فی گھنٹہ بجلی کی بچت کا فائدہ اس سے الگ ہوگا جو کروڑوں روپے سے متجاوز ہے۔
مسائل
1۔ حکمرانوں کو ملک میں نماز، زکوٰۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
صاحب اقتدار لوگوں کے فرائض :
1۔ وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں۔ (النور : 55)
2۔ خلافت کی ذمہ داریاں۔ (ص : 26‘ الحج : 41)
3۔ حکمرانوں کو زمین میں نماز، زکوٰۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنا چاہیے۔ ( الحج : 41)
4۔ فیصلے انصاف کے ساتھ انصاف کرنا۔ (المائدہ : 42)
5۔ حضرت داؤد کو حکم کہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنا۔ (ص : 26)
Ayahs 22:42–45فہم القرآن
ربط کلام : جن اقوام نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور ” اللہ “ کے دیے ہوئے ضابطۂ حیات کو اختیار نہ کیا ان کا انجام۔
اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء اکرام کے ذریعے لوگوں کو ایک ضابطہ حیات عطا فرمایا جس کے بنیادی اصول یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے اپنا معبود اور حاکم تسلیم کریں اور اس کے دیے ہوئے نظام حیات کو خود اپناؤ اور اس کے بندوں پر اس کا نفاذ کریں۔ جس کے بنیادی اصولوں کا پچھلی آیت میں بیان ہوچکا ہے۔ کا مل اور جامع ہدایات کے باوجود دنیا کی بڑی بڑی اقوام نے اللہ کی توحید کا انکار کیا اور اس کے دئیے ہوئے ضابطہ حیات کو ٹھکرایا۔ جن میں سر فہرست قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط، قوم شعیب اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے، جنہوں نے اپنے رب کی توحید کا انکار کیا اور اس کے نازل کردہ دین کو ٹھکرایا، جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی اور انہیں اس طرح نیست و نابود کیا کہ ان کی ترقی ان کے لیے وبال جان ثابت ہوئی۔ ان کے محلاّت ان کے لیے قبرستان بنا دیے گئے۔ کھیتیاں اور باغات اجڑ گئے کنویں ناکارہ ہوئے اور بستیاں اس طرح ویران ہوئیں کہ دیکھنے والا گمان کرے کہ یہاں کبھی کوئی رہنے والا نہ تھا۔
( فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہٖ فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ وَ مِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَاوَ مَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلَمُوْنَ ) [ العنکبوت : 40]
” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہوں کی وجہ سے پکڑا ان میں سے کسی پر ہم نے پتھر برسانے والی آندھی بھیجی کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو ہم نے غرق کردیا۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا وہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ “
متمول اقوام کی تباہی :
تاریخ عالم کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تباہ ہونے والی اقوام دنیا کے اعتبار سے غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ نہ تھیں بلکہ وہ اپنے اپنے دور کی مہذّب اور ترقی یافتہ اقوام تھیں۔
(فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) [ الانعام : 44]
” پھر جب وہ اس کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں کے ساتھ خوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تھیں ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا تو وہ اچانک ناامیدہوگے۔ “
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ کی پکڑ کی مختلف شکلیں :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 2۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13)
3۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5) 4۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6)
5۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136)
6۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : 82)
Ayah 22:46فہم القرآن
ربط کلام : اقوام کی تباہی کی بنیادی وجہ۔
بڑی بڑی اقوام کی تباہی کا تذکرہ کرنے کے بعد اہل دنیا کو دعوت فکر دی ہے کہ کیا انھوں نے دنیا کا جغرافیہ نہیں دیکھا اور تاریخ عالم کو نہیں پڑھا کہ تباہ و برباد ہونے والے لوگ زمین پر اس طرح دندناتے پھرتے تھے کہ ان کے دبدبہ کی وجہ سے مخلوق کانپتی تھی۔ ان کی زبان جنبش کرتی تو لشکر و سپاہ حرکت میں آجاتے۔ یہ لوگ اپنے محلات سے باہر نکلتے تو ہٹو بچو کی صدائیں بلند ہوتی تھیں جس راستہ سے گزرتے لوگ ان کا جاہ و جلال دیکھ کر ساکت وجامد رہ جاتے تھے۔ ان کو دیکھ کر کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ یہ کبھی زوال پذیر اور تباہ ہوں گے۔ لیکن جب رب ذوالجلال کے عذاب کا کوڑا حرکت میں آیا تو اس طرح نیست و نابود کردیے گئے کہ آج ان کے محلات میں الوؤں کے ڈیرے اور ان کی بستیاں ویرانیوں کا خوفناک منظر پیش کررہی ہیں۔ ان میں عبرت کا سامان ہے مگر ان لوگوں کے لیے جن کے سینے میں سوچنے والے دل، جن کے کان حقیقت سننے والے اور عبرت کی نگاہ سے دیکھنے والی آنکھیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی۔ لوگوں کے دل اندھے ہوجاتے ہیں۔ جب دل اندھے ہوجائیں تو دیکھنے والی آنکھیں، سننے والے کان اور دھڑکنے والے دل کچھ کام نہیں آتے۔ جب کسی قوم کی اجتماعی صورت ایسی ہوجائے تو ان کو نہ اقتدار بچا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی سہارا کام دیتا ہے، مذکورہ بالا اقوام کا یہی حال تھا جس وجہ سے انھیں نشان عبرت بنا دیا گیا۔
مسائل
1۔ دل سوچنے، کان سننے اور آنکھیں دیکھنے کے لیے ہیں۔ 2۔ دل اندھا ہوجائے تو انسانی اعضاء حقیقتاً بےکار ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 22:47–48فہم القرآن
ربط کلام : انسان کا دل کا اندھا ہوجائے تو اچھائی کے مقابلے میں برائی اختیار کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس لیے تباہ ہونے والی اقوام اپنے پیغمبروں سے عذاب کا مطالبہ کرتی تھیں۔
سرورِ دو عالم ﷺ مشرکین کو بار بار عقیدہ توحید کی دعوت دیتے۔ لیکن وہ اس قدر دل کے اندھے ہوچکے تھے کہ دعوت حق قبول کرنے کی بجائے آپ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس قیامت یا عذاب کی آپ دھمکی دیتے ہیں وہ ہم پر کیوں نازل نہیں ہوتا ؟ اس کا جواب انھیں یہ دیا گیا کہ جس عذاب کا تم بار بار مطالبہ کرتے ہو اسے نازل کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے جس عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے اگر تمہارا یہی حال رہا تو وہ ضرور آکر رہے گا اس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں ہونے پائے گی۔ البتہ اگر سمجھنا چاہو تو تاریخ کا مطالعہ کرو اور تباہ ہونے والی اقوام کے کھنڈرات دیکھو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ظالم بستیوں کو ایک مدت تک مہلت دی۔ جب انھوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر ان پر ایسی گرفت کی کہ وہ دنیا میں عبرت کا نشان بنا دئیے گئے۔ جہاں تک قیامت کا معاملہ ہے اس کا پہلا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ اور دوسرا دن تمہارے ایک ہزار سال کی گنتی کے مطابق ہوگا۔ اس دن ہر شخص اپنے رب کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اہل مکہ کا مطالبہ :
(وَ اِذْ قَالُوا اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِاءْتَنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) [ الانفال : 28]
” اور جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَال النَّبِیُّ ﷺ لاَ یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ ، فَإِنْ کَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَلْیَقُلِ اللَّہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِی )
[ رواہ البخاری : باب تَمَنِّی الْمَرِیضِ الْمَوْتَ ]
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کسی تکلیف کی وجہ سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ دعا کریں۔ اے اللہ ! جب تلک میرا زندہ رہنا بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب میرا فوت ہونا بہتر ہو تو مجھے فوت فرما لینا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا عذاب مانگنے کی بجائے خیر مانگنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ خیر اور عذاب کے بارے میں کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی ظالم بستیوں کو نیست و نابود کیا۔
تفسیر بالقرآن
عذاب میں مبتلا ہونے والی اقوام :
1۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6)
2۔ جب تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13)
3۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : 5)
4۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : 6)
5۔ فاسق ہلاک کردیے گئے۔ (الاحقاف : 35)
6۔ قوم نوح طوفان کے ذریعے ہلاک ہوئی۔ (الاعراف : 136)
7۔ قوم لوط کو زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب لے جاکر الٹا دیا گیا۔ (ھود : 82)
Ayahs 22:49–51فہم القرآن
ربط کلام : عذاب کا بار بار مطالبہ کرنے پر کفار کو دوسرا جواب۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے بارے میں دی گئی ڈھیل پر اہل مکہ اس قدر دلیر ہوئے کہ وہ سرورگرامی ﷺ کو الزام دیتے کہ تم جھوٹے ہو اس لیے ہم پر عذاب نازل نہیں ہوا ؟ اس پر ایک طرف سرور گرامی ﷺ کو آپ کے منصب کے حوالے سے سمجھایا گیا کہ عذاب نازل کرنا آپ کے اختیار میں نہیں آپ کا کام فقط یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے برے کردار کے نتیجہ میں بھیانک مستقبل کے بارے میں کھلے الفاظ میں ڈرائیں۔ یہ کام آپ پوری تندہی سے کر رہے ہیں جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں نا وہ ہماری آیات کو دلائل کی بنیاد پر غلط ثابت کرسکتے ہیں اور نہ ہی عذاب نازل کرنے یا اسے ٹالنے میں ہمیں بےبس کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جس میں انھیں داخل کیا جائے گا۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح اعمال اختیا رکیے ان سے جو کوتاہیاں سرزد ہونگی۔ اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرتے ہوئے باعزت اور بہترین رزق عطا فرمائے گا۔ یہاں رزق کریم کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ جس سے مراد دنیا میں حلال و طیب روز ی اور آخرت میں جنت کی نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُول اللَّہِ ﷺ فَصَلَّی، قَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ ، رَأَیْنَاکَ تَنَاوَلُ شَیْءًا فِی مَقَامِکَ ، ثُمَّ رَأَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ قَالَ إِنِّی أُرِیتُ الْجَنَّۃَ ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْہَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُہُ لأَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا) [ رواہ البخاری : باب رفع البصر الی الامام فی الصلوٰۃ ]
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیْان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے اس جگہ کسی چیز کو پکڑا پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹ گئے۔ آپ نے فرمایا : میں نے جنت کو دیکھا تو اس کے انگوروں کے ایک خوشے کو پکڑ لیا اور اگر میں اسے پکڑے رہتا تو تم قیامت تک اسے کھاتے رہتے۔
(فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَظِلٍّ مَمْدُوْدٍ ۔ وَمَاءٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ) [ الواقعہ : 28 تا 33]
” وہ وہاں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی، اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے، اور لمبا سایہ ہوگا۔ اور چلتا ہوا پانی ہوگا۔ اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ جو نہ ختم ہوں گے۔ اور نہ ان کی روک ٹوک ہوگی۔ “
(عَنْ سَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ )
[ راہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار ]
” حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردن تک پہنچی ہوگی۔ “
مسائل
1۔ سرور دو عالم ﷺ کا کام برے لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرانا تھا۔
2۔ کوئی زندہ یا مردہ شخصیت اللہ تعالیٰ کو کسی معاملے میں مجبور نہیں کرسکتی۔
3۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے اور ٹھکراتے ہیں ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے۔
4۔ صالح کردار ایمانداروں کی کوتاہیوں کو اللہ تعالیٰ معاکرے گا اور انھیں رزق کریم عطا فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
کفار اور مومنوں کے انجام کا فرق :
1۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ (السجدۃ : 18) 2۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوسکتے۔ (الحشر : 20)
3۔ سیدھا اور الٹا چلنے والا برابر نہیں ہوسکتا۔ (الملک : 22) 4۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتا۔ (الانعام : 50)
5۔ روشنی اور اندھیرا برابر نہیں ہوسکتے۔ (فاطر : 20)
Ayah 22:52فہم القرآن
ربط کلام : رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ یہ بتلایا گیا ہے کہ شیطان اور اس کے چیلے ہمیشہ سے ہی شرارتیں کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
رسول کریم ﷺ کو مخصوص انداز میں تسلی دی گئی ہے کہ میرے رسول ! آپ کو دل نہیں ہارنا۔ اس لیے کہ آپ سے پہلے جتنے نبی اور رسول مبعوث کیے گئے ان کی ذات اور کام کے ساتھ شیطانی قوتوں نے یہی رویہ اختیار کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ شیطان کی شیطنت کو ہمیشہ سے مٹاتا رہا ہے اور اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کو محکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ اس آیت میں تمنا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہل تفسیر نے اس کے دو مفہوم لیے ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ ہر رسول اور نبی اس بات کی خواہش اور تمنا رکھتا تھا کہ اس کی دعوت عام ہوجائے لیکن شیطان اور اس کے چیلے اس دعوت کو مٹانے کے درپے رہتے تھے۔ یہی معاملہ آپ ﷺ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے شیطانی قوتوں کو مٹا کر اپنے ارشادات کو استحکام دیتا رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ کی دعوت کو بھی پھیلاؤ اور استحکام دیا جائے گا۔ دوسرا مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ جب کسی رسول اور نبی نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کی تلاوت اور اس کے ابلاغ کی کوشش کی تو شیطان نے ہر پیغمبر کو الجھانے اور اس پر نازل ہونے والی وحی کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کو شیطان کے اختلاط اور وسوسے سے محفوظ رکھا اور اس پیغمبر کے ذہن میں وہی کچھ مستحضر فرمایا۔ جو اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے ذریعے نازل فرمایا تھا۔ کچھ مفسرین نے بعض روایات سے متاثرہو کر لکھا ہے کہ ایک موقع پر شیطان نبی اکرم ﷺ کی زبان سے خلط، ملط الفاظ نکلوانے میں کامیاب ہوا جس وجہ سے یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ یہ ایسی بات ہے کہ اگر اس پر اعتماد کرلیا جائے تو قرآن مجید اور احادیث کا سارا ذخیرہ تشکیک کی نظر ہوجاتا ہے۔ ان حضرات کی اسی بات کا فائدہ اٹھا کر دشمنان اسلام نے یہ پراپیگنڈہ کیا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی پر نازل ہونے والی وحی میں کبھی نہ کبھی شیطان بھی داخل انداز ہوجایا کرتا تھا۔ حالانکہ یہ بات عقل و نقل کے حوالے سے غلط ہے۔ اس آیت میں رسول اور نبی کے منصب کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ ہر رسول نبی ضرور ہوتا تھا لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوا کرتا تھا۔ جس کی سادہ تشریح یہ ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے رسول کی شریعت کی اتباع کرتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی (رح) کی تحریر من و عن نقل کی جاتی ہے۔
” علماء نے نبی اور رسول میں درج ذیل فرق بیان فرمائے ہیں۔ یاد رہے یہ غالب احوال کے لیے ہیں ورنہ نبی اور رسول کو متبادل اصطلاح کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ آنے والے رسول کی بشارت پہلے سے دے دی جاتی ہے جب کہ نبی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ رسول پر اللہ کی کتاب اور صحیفے نازل ہوتے ہیں اور وہ اپنی الگ امت تشکیل دیتا ہے جب کہ نبی اپنے سے پہلی کتاب ہی کی اتباع کرتا ہے۔ رسولوں کی حفاظت کی ذمہ داری براہ راست اللہ تعالیٰ لے لیتے ہیں۔ آپ ﷺ پر سترہ دفعہ قاتلانہ حملے ہوئے۔ اللہ نے بچایا ہے جب کہ کئی انبیاء کو ان کی قوم نے قتل کردیا۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ (تیسیر القرآن۔ جلد 3)
مسائل
1۔ شیطان نے ہر رسول اور نبی کی دعوت میں رکاوٹ پیدا کی۔
2۔ اللہ تعالیٰ شیطان کے وسوسہ سے وحی کو محفوظ رکھتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کی بات کو مستحکم فرمایا۔
4۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کا علم رکھتا ہے اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے :
1۔ اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔ (ہود : 5) 2۔ جوا للہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : 216)
3۔ اللہ کا علم فرشتے بھی نہیں جانتے۔ (البقرہ : 30) 4۔ ہر گرنے والا پتہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ (الانعام : 59)
5۔ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (المومن : 19) 6۔ اللہ خشکی اور تری کی پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔ (الانعام : 59)
Ayah 22:53فہم القرآن
ربط کلام : پہلی بات کا تتمہّ
شیطان کو شیطنت کا اس لیے اختیار دیا گیا تاکہ جن کے دلوں میں کسی قسم کی کھوٹ اور جن کے دل حق کے بارے میں سخت ہوگئے ہیں شیطان اپنی شیطنت کے ذریعے ان کو فتنہ میں ڈالے رکھے۔ جو لوگ شیطان کے فتنہ میں مبتلا ہوئے وہ ظالم ہیں وہ حق کی مخالفت میں بہت دور جا چکے ہیں۔ یہ بات سورة البقرۃ کی آیت دس کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ جس طرح انسان کے جسم کو بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح انسان کا دل روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جن میں نفاق اور دل کی سختی شامل ہے۔ دل میں منافقت پیدا ہوجائے تو آدمی حق بات کے بارے میں بھی شک کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص حق بات کے قریب ہونے کی بجائے ہر قدم دور ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ ان کے دل پر گمراہی کی مہر ثبت کردیتا ہے۔
(عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَقُولَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دینِکَ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِءْتَ بِہِ فَہَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ أَصْبُعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّہِ یُقَلِّبُہَا کَیْفَ یَشَاءُ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ أَصْبُعَیِ الرَّحْمَنِ ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے دلوں کو پھیرنے والے ” اللہ “ میرے دل کو دین پر ثابت فرما۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ پر ایمان لائے اور جو کچھ آپ لے کر آئے اسے تسلیم کیا۔ کیا آپ ہمارے بارے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! بیشک دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ جدھر چاہتا ہے اسے پھیرتا ہے۔ “
دل کو نیکی اور اخلاق کے حوالے سے نرم رکھنے کا طریقہ :
(عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنِّی کُنْتُ نَہَیْتُکُمْ عَنْ ثَلاَثٍ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَزُورُوہَا وَلْتَزِدْکُمْ زِیَارَتُہَا خَیْرًا وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِی بَعْدَ ثَلاَثٍ فَکُلُوا مِنْہَا وَأَمْسِکُوا مَا شِءْتُمْ وَنَہَیْتُکُمْ عَنِ الأَشْرِبَۃِ فِی الأَوْعِیَۃِ فَاشْرَبُوا فِی أَیِّ وِعَاءٍ شِءْتُمْ وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْکِرًا) [ رواہ النسائی : باب الإِذْنِ فِی ذَلِکَ ]
” حضرت ابن بریدہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا قبر کی زیارت سے اب اس کی زیارت کرلیا کرو۔ بیشک اس کی زیارت آدمی کو نیکی میں بڑھاتی ہے۔ میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب کھا اور بچا لیا کرو جس قدر چاہو۔ میں نے تمہیں بعض برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا اب جونسے برتن میں چاہو پی لو۔ البتہ کوئی نشہ آور چیز پینے کی اجازت نہیں پینی۔ “
یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) [ مسند احمد : باب مسند أبی ہریرہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل کی سختی کے متعلق شکایت کی آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر۔ “
اللہ کے ذکر سے دل نرم ہوتا ہے :
(اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْن) [ الانفال : 2]
” مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ جن کے دلوں میں حق کے بارے میں کھوٹ اور سختی ہو وہ شیطان کی شیطنت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
2۔ ظالم اور منافق کا دل حق کے بارے میں سخت ہوجاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
روحانی بیماریاں :
1۔ ریاکاری روحانی بیماری ہے۔ ( البقرۃ : 264، الماعون : 4 تا 6) 2۔ دل کی سختی۔ (المائدۃ : 13، الزمر : 22)
3۔ کفر۔ (البقرۃ : 10) 4۔ تکبر۔ (النحل : 22، لقمان : 18، النساء : 172)
5۔ کجی۔ ( التوبۃ : 117، آل عمران : 7، الصف : 5)
6۔ دل کا زنگ آلود ہونا۔ ( المطففین : 14)
Ayah 22:54فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کے مقابلے میں ایمانداروں کے دل اور کردار۔
اللہ تعالیٰ اس لیے شیطان کی شیطنت کو دباتا اور مٹاتا ہے تاکہ حقیقی علم رکھنے والے لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ اور حق ہے۔ حقیقی علم رکھنے والے لوگ ” اللہ “ کے فرمان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل حق بات کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ضرور رہنمائی کرتا اور انھیں سیدھے راستے پر گامزن رہنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں علم سے مراد شریعت کا وہ علم ہے جس سے ایماندار لوگ رہنمائی حاصل کرکے شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ” اُوْتُوْ العِلْمَ “ سے مراد وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو پہلے عیسائی اور یہودی تھے۔ جب ان کے سامنے قرآن و سنت پیش کیے جاتے ہیں تو انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ وہی حق ہے جس کا ذکر انھوں نے تورات، انجیل میں پڑھا تھا۔ پھر وہ حق کو قبول کرنے میں کسی قسم کا تامل نہیں کرتے۔ ” اللہ “ سے ڈرنے والے علماء اُوْتُوا الْعِلْمَ میں شامل ہیں۔
(عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُولُ فِی دُبُرِ الْفَجْرِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً وَرِزْقاً طَیِّباً ) [ رواہ احمد : مسند ام سلمہ زوج النبی ]
” حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ بیشک نبی ﷺ فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے ( الٰہی ! میں تجھ سے نفع مند علم اور قبول ہونے والا عمل اور رزق حلال کا طلبگار ہوں۔ “
(حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ بِمَا یَعْلَمُونَ قَالَ فَمَا یَنْفِی الْعِلْمَ مِنْ صُدُور الرِّجَالِ ؟ قَال الطَّمَعُ )
[ رواہ دارمی : باب صِیَانَۃِ الْعِلْمِ ]
” عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں بیشک عمر بن خطاب ؓ نے عبداللہ بن سلام ؓ سے سوال کیا کہ علم والے کون ہیں ؟ عبداللہ ؓ بن سلام نے جواب دیا جو علم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے دریافت کیا لوگوں کے دلوں سے علم کو ختم کرنے والی کون سے چیز ہے ؟ اُنہوں نے کہا دنیا کا لالچ۔ “
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اے الٰہی ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب، تو ہی زمین و آسمانوں کا پیدا کرنے اور حاضر و غائب کا علم رکھنے والا ہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اختلافی معاملات میں حق اور سچ کے ساتھ میری رہنمائی فرما۔ یقیناً تو جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا کرتا ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب الدعاء فی الصلوۃ اللیل ]
مسائل
1۔ حقیقی علم وہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرے۔ 2۔ حق کی رہنمائی پانے کے بعد ایمان دار کا دل اس کی جانب جھک جانا چاہیے۔
3۔ جو لوگ حق کے سامنے جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
صراط مستقیم کے سنگ میل :
1۔ اللہ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج : 54)
2۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یٰسٓ: 61)
3۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213)
4۔ اللہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ (الشوریٰ : 52)
5۔ اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51، مریم : 36)
6۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : 87)
7۔ نبی اکرم ﷺ صراط مستقیم کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ (الشوریٰ : 52)
8۔ صراط مستقیم کی ہی پیروی کرو۔ (الانعام : 153)
Ayah 22:55فہم القرآن
ربط کلام : حق کے سامنے جھکنے والوں کے مقابلے میں انکار کرنے والوں کا رویہّ ۔
اس سے پہلی آیت کی تشریح میں یہ اشارہ کیا ہے کہ ” اَلْعِلْم “ سے مراد قرآن و سنت کا علم ہے اور جو لوگ قرآن و سنت کا انکار کرتے ہیں وہ حق بات کے بارے میں ہمیشہ شک کا شکار رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے یا ان پر منحوس دن وارد ہوجائے۔ یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات کا ذکر فرما کر مومن اور کافر کے دل کی کیفیت کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ مومن کے سامنے حق بات آئے تو اس کا دل اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔ کافر کے سامنے حق پیش کیا جائے تو اس کا دل مزید شک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے بارش کی مثال سامنے رکھنی چاہیے بارش پھول پر ہو تو وہ اور زیادہ خوبصورت دکھائی دیتا ہے اور اس کی مہک چار سو پھیلتی ہے۔ بارش گندگی کے ڈھیر پر برستی ہے تو اس کے تعفن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ حق کے انکاری کے دل کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ وہ حق کو تسلیم کرنے کی بجائے اور دور ہوجاتا ہے۔” یوم عقیم “ کا معنی ہے ” منحوس دن “۔ حقیقتاً کوئی دن اور وقت منحوس نہیں ہوتا یہ بات اس حوالے سے کہی گئی ہے کہ کفار کے لیے وہ گھڑی یا دن منحوس بنا دیا جاتا ہے۔ اسی لیے قوم عاد پر مسلسل آٹھ دن آندھی کی صورت میں عذاب نازل کیا گیا۔ ان ایام کو اللہ تعالیٰ نے اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جن کا معنٰی ہے منحوس دن۔ ( حٰم السجدۃ : 16)
(وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا عَدْوٰی وَلَا طِےْرَۃَ وَ لَا ھَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْاَسَدِ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب الْجُذَامِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا ‘ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں۔ بد شگونی بھی نہیں ہے۔ نہ الوبد روح ہے اور نہ صفر کا مہینہ نحوست والا ہے۔ البتہ کوڑھے شخص سے اس طرح بھاگوجس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ “
(وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ یَاْتُوْنَ النَّبِیَّ ﷺ فَیَسْءَلُوْنَہُ عَنِ السَّاعَۃِفَکَانَ یَنْظُرُ اِلٰی اَصْغَرِھِمْ فَیَقُوْلُ اِنْ یَّعِشْ ھٰذَا لَا یُدْرِکُہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ عَلَیْکُمْ سَاعَتُکُمْ ) [ رواہ البخاری : باب سَکَرَاتِ الْمَوْتِ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کچھ دیہاتی نبی مکرم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے قیامت کے بارے میں سوال کیا آپ ﷺ نے ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف دیکھا اور فرمایا ‘ اگر یہ شخص زندہ رہا اس پر بڑھاپا نہیں آئے گا کہ تم پر قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَثَوْبُہُمَا بَیْنَہُمَا لَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَا یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَہٗ لَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَہٗ إِلٰی فیہٖ وَلَا یَطْعَمُہَا وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَلِیطُ حَوْضَہٗ لَا یَسْقِی مِنْہٗ ) [ رواہ احمد : مسند ابی ہریرہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا کپڑا بیچنے اور خریدنے والے ابھی سمیٹ نہیں سکیں گے کہ قیامت آجائے گی۔ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا اور وہ اس کو پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا۔ اس کو کھا نہیں سکے گا تو قیامت قائم ہوجائے گی۔ ایک آدمی اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا وہ اس سے پانی پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
مسائل
1۔ کفر کرنے والے کا دل حق بات کے بارے میں متذبذب رہتا ہے۔
2۔ کفر پر قائم رہنے والا دنیا میں عذاب کے وقت اور قیامت قائم ہونے کے دن حق کا اعتراف کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت اچانک برپا ہوجائے گی :
1۔ بیشک قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کسی کو جزا یا سزا دی جائے۔ (طہٰ : 15)
2۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ (الحجر : 85) 3۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے اور اللہ قبروالوں کو اٹھائے گا۔ (الحج : 7)
4۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف : 21)
5۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑا ہے۔ (الحج : 1)
6۔ کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اچانک آجائے۔ (الحج : 55)
7۔ ہم نے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب تیار کیا ہے۔ (الفرقان : 11)