22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsفہم القرآن

Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

” جن لوگوں نے کفر کیا اور جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس مسجد حرام کی طرف آنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے جس میں مقامی اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں۔ مسجد میں جو بھی گمراہی اور ظلم کا راستہ اختیار کرے گا اسے ہم دردناک عذاب دیں گے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : جنت میں جانے والوں نے ” اللہ “ کی توحید کو قبول کیا ہے اور صراط مستقیم پر گامزن ہوئے ان کے مقابلے میں جہنمیوں کا کردار اور انجام۔ جہنم میں جانے والے کفر کے مرتکب ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے اور بیت اللہ سے روکتے تھے۔ جو لوگ دوسروں کو اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکتے ہیں انھیں اذّیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ اس فرمان کے پہلے مخاطب اہل مکہ ہیں جو ناصرف لوگوں کو دین اسلام سے منع کرتے تھے بلکہ مسلمانوں کو حرم میں آنے سے روکتے تھے۔ اہل مکہ نے مسجد حرام کو ذاتی ملکیت سمجھ رکھا تھا۔ جس بنا پر وہ مسلمانوں کو بالخصوص نبی معظم ﷺ کو حرم میں پریشان کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ سجدہ کی حالت میں تھے تو انھوں نے اونٹ کی اوجڑی لاکر آپ کے سرمبارک پر رکھ دی۔ دوسری دفعہ آپ طواف کر رہے تو ایک ظالم نے آپ کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑا اور کہا کہ کیا تو لا الہ الا اللہ کی کی دعوت دیتا ہے۔ آپ نے پوری جُرأت اور اعتماد کے ساتھ فرمایا : ” نَعْمَ اَنَا اَقُوْلُ ذَالِکَ “ ہاں ! میں ہی یہ دعوت دیتا ہوں۔ (ابن ہشام) اس طرح جب آپ حرم میں نماز پڑھتے تو اہل مکہ تالیاں اور سیٹیاں بجایا کرتے تھے۔ اس صورتحال میں اہل مکہ کو یہ بات یاد کروائی گئی ہے کہ حرم کی تولیّت کا حق بجا لیکن اس میں کسی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پوری دنیا کے انسانوں کے لیے برابر ٹھہرا دیا ہے۔ اس کے رہنے والوں اور مسافروں کے مابین کوئی امتیاز نہیں ہے۔ جو شخص اس کی حرمت پامال کرے گا اور اس میں ظلم و تعدّی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اذّیت ناک عذاب دے گا۔ ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک فوج خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوگی۔ جب وہ بیدا مقام میں پہنچے گی تو فوج کا اوّل و آخر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! فوج کے اول و آخر کو کیوں دھنسا دیا جائے گا۔ حالانکہ ان میں کاروباری بھی ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جو ان کے ساتھی نہیں ہوں گے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ان کے اوّل و آخر سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ لیکن قیامت کے دن اپنی اپنی نیّتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ “ [ رواہ البخاری : باب مَا ذُکِرَ فِی الأَسْوَاقِ ] کیا مکہ کھلا شہر قرار دیا جاسکتا ہے ؟ پاکستان میں شرک و بدعت کے دلدادہ لوگ وقفے وقفے سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حرم سب کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے اس لیے مکہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ اس مطالبہ کا مقصد یہ ہے کہ جو چاہے مکہ میں جا کر شرک و بدعت کا پرچار کرئے اور وہاں مستقل رہائش اختیار کرلے۔ اس مطالبہ کی حقیقت اہل توحید کے ساتھ حسد و بغض کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سعودی حکومت کی اجارہ داری کا معاملہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ کوئی مشرک اور غیر مسلم حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک بیت اللہ کے انتظامی امور کا تعلق ہے اس کا حق مسلمانوں میں اہل مکہ کا بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول معظم ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو آپ نے اس کی تولیّت کا اس حد تک احترام فرمایا کہ حضرت علی ؓ کے مطالبہ کے باوجود چابی عثمان بن طلحہ کو واپس کی اور فرمایا کہ تجھ سے کوئی ظالم ہی چابی واپس لے سکتا ہے۔ حالانکہ یہ وہی عثمان بن طلحہ ہے جب آپ مکہ میں مقیم تھے ایک دن آپ ﷺ کا دل چاہا کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر دو نفل نماز پڑھوں۔ آپ ﷺ نے عثمان بن طلحہ سے چابی طلب فرمائی۔ اس نے کہا کہ میں تجھے چابی نہیں دوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی اور جسے چاہوں گا عنایت کروں گا۔ اس پر عثمان بن طلحہ نے کہا کہ کیا ہم مرچکے ہوں گے ؟ فرمایا نہیں تم زندہ ہو گے۔ (ابن ہشام) الحمد اللہ آج تک بیت اللہ کے دروازے کی چابی اسی خاندان میں چلی آرہی ہے۔ (عَنْ اَبِیْ شُرَیْحِ نِ الْعَدَوِیِّ اَنَّہُ قَالَ لِعَمْرٍو ابْنِ سَعِیْدٍ ؓ وَھُوَ یَبْعَثُ الْبُعْوثَ اِلٰی مَکَّۃَ اِءْذَنْ لِیْ اَیُّھَا الْاَمِیْرُ اُحَدِّ ثُکَ قَوْلاً قَامَ بِہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہُ اُذُنَایَ وَ وَعَاہُ قَلْبِیْ وَاَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حِیْنَ تَکَلَّمَ بِہٖ حَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْھَا النَّاسُ فَلَا یَحِلُّ لِا مْرِ ءٍ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِاَنْ یَّسْفِکَ بِھَا دَمًا وَلَا یَعْضُدَ بِھَا شَجَرَۃً فَاِنْ اَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْھَا فَقُوْلُوْا لَہٗ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَذِنَ لِرَسُوْلِہٖ وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ وَاِنَّمَا اَذِنَ لِیْ فِیْھَا سَاعَۃً مِنْ نَّہَارٍ وَقَدْعَادَتْ حُرْمَتُھَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِھَا بالْاَمْسِ وَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَاءِبَ فَقِیْلَ لِاَبِیْ شُرَیْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ اَنَا اَعْلَمُ بِذَالِکَ مِنْکَ یَا اَبَا شُرَیْحٍ اِنَّ الْحَرَمَ لَا یُعِیْذُعَاصِیاً وَلَا فَآراًّ بِدَمٍ وَلَا فَآرًّا بِخَرْبَۃٍ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب لِیُبَلِّغِ الْعِلْمَ الشَّاہِدُ الْغَاءِبَ ] ” حضرت ابوشریح عدوی ؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے عمرو بن سعید ؓ جو مکہ مکرمہ کی طرف لشکر بھیج رہے تھے ‘ سے کہا ‘ اے امیر ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کو رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سناؤں۔ یہ بات آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی جسے میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یادرکھا۔ جب آپ ﷺ خطاب فرما رہے تھے تو میری دونوں آنکھیں آپ پر جمی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت بخشی ہے کسی شخص نے اسے حرمت نہیں دی۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس میں خون ریزی کرے اور حرم میں کسی درخت کو کاٹے۔ اگر کوئی اللہ کے رسول ﷺ کے مکہ مکرمہ میں قتال کو مثال بنا کر اس میں لڑائی جائز سمجھے تو اسے بتادو۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول کو اجازت عطا فرمائی لیکن تمہیں اجازت نہیں دی گئی۔ مجھے بھی بس دن کے قلیل وقت میں اجازت دی گئی اور اب اس کی حرمت ہمیشہ کی طرح ہے۔ یہ بات غیر موجود لوگوں تک پہنچا دو ۔ اس پر ابوشریح سے دریافت کیا گیا کہ پھر آپ کو عمرو نے کیا کہا ؟ ابوشریح نے بتایا ‘ اس نے جواب دیا ‘ ابوشریح مجھے تم سے زیادہ اس بات کا علم ہے۔ حرم نہ کسی گنہگار کو پناہ دیتا ہے اور نہ ہی مفرور قاتل اور نہ خیانت کر کے بھاگنے والے کو پناہ دیتا ہے۔ اور بخاری میں الخربۃ کا معنٰی ہے جرم کرنا۔ “ مسائل 1۔ جو شخص لوگوں کو دین اسلام اور مسجد حرام سے روکتا ہے وہ ظلم کرتا ہے۔ 2۔ مسجد حرام پر اہل مکہ اور مسافروں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ 3۔ جو شخص مسجد حرام میں الحاد اور ظلم کرے اللہ تعالیٰ اسے اذّیت ناک عذاب دے گا۔ تفسیر بالقرآن مسجد حرام کا احترام : 1۔ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ مکہ مکرمہ میں ہے اس میں دنیا والوں کے لیے ہدایت ہے۔ (آل عمران : 96) 2۔ مسجد حرام میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے روکنا بہت بڑا جرم ہے۔ (البقرۃ : 217) 3۔ کافر اللہ کے راستہ اور مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ (الحج : 25) 4۔ تم جہاں بھی ہو نماز پڑھتے وقت اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کرو۔ (البقرۃ : 150) 5۔ ان سے مسجد حرام کے پاس لڑائی نہ کرو۔ (البقرۃ : 191) 6۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو حرمت والا گھر قرار دیا ہے۔ (المائدۃ : 98)
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

” وہ وقت یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کے لیے خانہ کعبہ کی جگہ کی نشاندہی کی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام، رکوع اور سجود کرنے والوں کے لیے اسے پاک رکھو۔ “ (26)

فہم القرآن ربط کلام : بیت اللہ کی تعمیر نو اور اس کے چاروں طرف تعمیر ہونے والی مسجد حرام کے آداب اور حقوق۔ تاریخ کعبۃ اللہ حافظ ابن حجر عسقلانی ؓ نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں ایک روایت ذکر کی ہے جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بیت اللہ کی سب سے پہلی اساس حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاتھوں رکھی گئی اور فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس جگہ کی نشاندہی کی جسے بعدازاں طوفان نوح اور ہزاروں سال کے حوادث نے بےنشان کردیا تھا۔ البتہ بیت اللہ کے کچھ نشان باقی تھے جن پر حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) نے بنیاد رکھی تھی۔ یہی وہ مقام بنیاد ہے جس کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے : اور یہی وہ مقام ہے جس کا ذکر حضرت خلیل (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ[ اور اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں چھوڑتے وقت کیا تھا : (رَبَّنَا إِنِّیْ أسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَےْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَےْتِکَ الْمُحَرَّمِ ) [ ابراہیم : 37 ] ” اے ہمارے رب ! میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تبلیغ دین کے لیے اردن ‘ شام اور حجاز مقدس کو پیغامِ حق کا مرکز بنایا اور گاہے گاہے ان مراکز کا دورہ کرتے اور ہدایات دیتے رہتے تھے۔ اس طرح آپ حسب حکم الٰہی ہاجرہ[ اور اسماعیل (علیہ السلام) کی خبر گیری کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے اسی اثناء میں تعمیر کعبہ کا حکم ہوا جس کی تفصیل نبی رحمت ﷺ نے یوں بیان فرمائی ہے : (ثُمَّ لَبِثَ عَنْھُمْ مَّا شَاء اللّٰہُ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِکَ وَإسْمَاعِےْلُ ےُبْرِئُ نَبَلًالَہٗ تَحْتَ دَوْحَۃٍ قَرِےْباً مِنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَاٰہٗ قَامَ إِلَےْہِ فَصَنَعَا کَمَا ےَصْنَعُ الْوَالِدُ بالْوَلَدِ ثُّمَ قَالَ ےَا إِسْمَاعِےْلُ إنَّ اللّٰہَ أمَرَنِیْ أَنْ اَبْنِیَ ھٰھُنَا بَےْتًا وَأشَارَ إِلٰی اَکْمَۃٍ مُرْتَفِعَۃٍ عَلٰی مَا حَوْلَھَا قَالَ فَعِنْدَ ذٰلِکَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَےْتِ فَجَعَلَ إسْمَاعِےْلُ ےَأْتِیْ بالْحِجَارَۃِ وَ إبْرَاھِےْمُ ےَبْنِیْ حتّٰی إِذَا إِرْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَآءَ بِھٰذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَہٗ لَہَ فَقَامَ عَلَےْہِ وَھُوَ ےَبْنِیْ وَإِسْمَاعِےْلُ ےُنَاوِلُہُ الْحِجَارَۃً ) [ رواہ البخاری : باب (یَزِفُّونَ ) النَّسَلاَنُ فِی الْمَشْیِ ] ” جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ملک (فلسطین) میں ٹھہرے رہے اس کے بعد جب اسماعیل (علیہ السلام) کے پاس تشریف لائے تو اسماعیل (علیہ السلام) زمزم کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تیر ٹھیک کر رہے تھے۔ جب اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے والد محترم کو دیکھا تو اٹھ کر استقبال کیا دونوں اسطرح ملے جس طرح باپ بیٹے سے ملتا ہے ابراہیم (علیہ السلام) فرمانے لگے : بیٹا ! مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس اونچی جگہ پر بیت اللہ تعمیر کروں اسماعیل (علیہ السلام) نے عرض کی میں حاضرخدمت ہوں۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں اسی جگہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے جا رہے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر فرما رہے تھے۔ جب دیواریں اونچی ہوگئیں یعنی زمین پر کھڑے ہو کر پتھر لگانا مشکل ہوگیا تو جبرائیل (علیہ السلام) پتھر لے کر آئے جس کو مقام ابراہیم کہا جاتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس پتھر پر چڑھ کر کعبہ کی تکمیل فرمائی اور اسماعیل (علیہ السلام) معاونت کرتے رہے۔ “ (وَإِذْ ےَرْفَعُ إِبْرَاھِےْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَےْتِ وَ إِسْمَاعِےْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِےْعُ الْعَلِےْمُ ) [ البقرۃ : 127] ” اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل گھر (بیت اللہ) کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے اے ہمارے پرو ردگار ! ہماری یہ خدمت قبول فرما۔ تو سب کی سننے اور جاننے والا ہے۔ “ کعبۃ اللہ کی عظمت و فضیلت : اس جہان رنگ وبو میں بیشمار خوبصورت سے خوبصورت ترین عمارات ومحلات موجود ہیں جن کے حسن و جمال میں اضافہ کرنے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے لگائے گئے اور مزیدخرچ کیے جارہے ہیں۔ ان کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن کوئی ایسی جگہ یا عمارت نہیں جس کے دیدار کو اہل جہاں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہو اور جس کے لیے اتنی دنیا کے دل تڑپتے ہوں۔ یہ اکرام ومقام صرف ایک عمارت کو نصیب ہوا جس کو عام پتھروں سے اٹھایا گیا ہے، اللہ رب العزت نے اسے بیت اللہ قرار دیا ہے۔ مرکز ملت اسلامیہ : اسے قبلہ بنا کر ملت اسلامیہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے تاکہ جس طرح ان کے احساسات و جذبات کا رخ ایک ہی طرف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اسی طرح ان کا جسمانی زاویہ بھی ایک ہی رخ اختیار کرے تاکہ ملت کی مرکزیت قائم رہ سکے : (وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ ) [ البقرۃ : 150] ” اور جہاں سے نکلیں تو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور مسلمانو ! تم جہاں بھی ہو مسجد حرام کی طرف منہ کرلو۔ “ بیت اللہ میں حاضری کے آداب اور احرام کا فلسفہ : حج اور عمرہ کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ بیت اللہ میں حاضری دینے والے اپنے روز مرہ کے لباس میں آنے کی بجائے فقیرانہ لباس میں حاضر ہوں جو کفن سے مشابہت رکھتا ہے۔ رب کریم کا کرم ہے کہ اس نے موسم اور لوگوں کی کمزوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے گھروں سے احرام باندھنے کا حکم دینے کی بجائے میقات یعنی حدود حرم مقرر فرمائے تاکہ یہاں پہنچ کر زائرروزمرہ کا لباس اتار کر اپنے اپ کو دو چادروں میں لپیٹ لے۔ وہ قیمتی لباس جس کے رنگ ڈھنگ اور ڈیزائن پر یہ اترایا کرتا تھا، وہ دستار فضیلت جس کو سر پر سجاتے ہوئے سر بلند کیا کرتا تھا، وہ کیپ جو کمانڈر انچیف ہونے کی علامت تھی، وہ تاج جو بادشاہی کی جلالت وتمکنت کا نشان تھا یکایک اس کو اتارنے کا حکم ہوا اور اب بندہ مؤمن عاجزی کا پیکر بن چکا ہے۔ یہاں واقعتا شاہ و گدا ایک ہی مقام اور انداز میں کھڑے ہیں، حکم ہوا کہ اس وقت تک قدم آگے نہ اٹھنے پائیں جب تک اپنی زبان سے اللہ کے حضور پیشی اور اس کی بلا شرکت غیرے بادشاہی اور اس کی نعمتوں کا برملا اعتراف نہ کرلیا جائے پھر یہ حاضری اور تلبیہ اس صدا کا جواب ہے جو ہزاروں سال پہلے معمار کعبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کردی تھی : حرم کو پاک صاف رکھنے کا صرف یہ معنٰی نہیں کہ اس کو کوڑے کرکٹ سے پاک صاف رکھا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اصل صفائی یہ ہے کہ اس کو شرک کی گندگی سے محفوظ رکھا جائے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام میں واضح ارشاد موجود ہے کہ مشرک کو حرم میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ مشرک روحانی طور پر گندہ اور پلید ہوتا ہے۔ (التوبہ : 28) نبی محترم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو تمام بتوں کو مسمار کرتے ہوئے ان تصویروں کو بھی مٹادیا جو مشرکین نے دیواروں پر ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی بنا رکھی تھیں۔ ( رواہ البخاری : باب أَیْنَ رَکَزَ النَّبِیُّ ﷺ الرَّایَۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ ) مسائل 1۔ کعبۃ اللہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا۔ 2۔ بیت اللہ توحید کا مرکز اور ترجمان ہے۔ اس میں شرکیہ کام نہیں ہونے چاہئیں۔ 3۔ بیت اللہ طواف، قیام، رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن بیت اللہ کے آداب : 1۔ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھا جائے۔ (الحج : 26) 2۔ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لے پاک صاف رکھیں۔ (البقرۃ : 12) 3۔ کفار کے ساتھ مسجد حرام کے پاس لڑائی نہ کرو۔ (البقرۃ : 191) 4۔ مشرک پلید ہے وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔ (لتوبہ : 28)
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

” اور لوگوں میں حج کے لیے اعلان کرو کہ وہ تمہارے پاس ہر دوردراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلانِ حج کا حکم۔ حضرت خلیل (علیہ السلام) تعمیرکعبہ سے فارغ ہوئے اور رب جلیل کے حضور اپنی مناجات پیش کرلیں تو حکم ہوا ‘ اے ابراہیم (علیہ السلام) پہاڑ پر چڑھ جاؤ اور چاروں طرف اعلان کرو کہ اے لوگو ! تمہارے رب کا گھر تیار ہوچکا ہے لہٰذا اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے حاضر ہوجاؤ۔ ابراہیم (علیہ السلام) عرض کرنے لگے : اے اللہ ! میں کمزور ہوں ‘ میری آواز ساری دنیا میں کس طرح پہنچے گی۔ حکم ہوا ‘ اے ابراہیم (علیہ السلام) تیرا کام آواز دینا ہے ہمارا کام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ” عَلَےْکَ الإِْذْنُ وَعَلَےْنَا الْبَلاَغُ “ علامہ ابن کثیر ؓ نے لکھا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے ابو قیس پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی آپ کی آواز دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچی یہاں تک کہ جن لوگوں کے مقدر میں حج تھا اور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز ان کی ماؤں کے رحم تک پہنچا دی ہے۔ حج عبادات کا مرقع، دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی ہے جو مقررہ ایام میں متعین اور مقدس مقامات پر ادا ہوتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع و عریض پلیٹ فارم ہے۔ شریعت نے امت مسلمہ کو اپنے اور دنیا بھر کے تعلقات و معاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار، ذاتی اصلاح اور اجتماعی معاملات کی درستگی کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ جہاں اپنے کردار و گفتار کا جائزہ لینا ہے وہاں ملت کافرہ کے حالات واقعات اور ان کے فکرو عمل پر کڑی نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ یہ احتساب و عمل کی ایسی تربیت گاہ ہے جس سے مسلمانوں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہی حکمت ہے جس کے لیے سیدنا عمر فاروق ؓ حج کے موقع پر مملکت کے گورنروں اور اعلیٰ حکام کا اجلاس منعقد کرتے اور ان علاقوں کے عمائدین سے وہاں کے حالات و واقعات اور حکام کے طرز عمل کے بارے میں استفسار فرماتے اور موقع پر ہدایات جاری کرتے تھے۔ حج صرف چند مناسک کی ادائیگی اور فقط بڑا اجتماع منعقد کرنے کا نام نہیں بلکہ اس میں تو افکار و اعمال کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا پروگرام دیا گیا ہے اسی کے پیش نظر نبی کریم ﷺ نے جب حجاج کرام کو دھکم پیل اور حج کے مقصد سے ہٹتے ہوئے محسوس کیا تو آپ ﷺ ہاتھ میں کوڑا لہراتے ہوئے لوگوں سے فرماتے جارہے تھے : (عَلَیْکُمْ بالسَّکِیْنَۃِ فَإنَّ الْبِرَّ لَیْسَ فِیْ الْاِیْضَاعِ ) [ رواہ البخاری : باب أَمْرِ النَّبِیِّ ﷺ بِالسَّکِینَۃِ عِنْدَ الإِفَاضَۃِ ] ” اے حجاج کرام ! سنجیدگی اور وقار اختیار کیجیے، نیکی اچھلنے کودنے کا نام نہیں۔ “ حج شوکت اسلام کے بھرپور مظاہرے کا نام ہے۔ اس لیے اسلام کی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لیے امت مسلمہ کو اپنے کردار کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے۔ “ حجِمبرور : ” جناب ابوہریرہ ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ ارشاد ہوا ‘ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھنے والے نے پھر پوچھا اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے عرض کیا جہاد کے بعد ؟ آپ نے ارشاد فرمایا حج مبرور یعنی ایسا حج جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے جس میں فسق وفجور نہ ہو (اور سنت کے مطابق کیا جائے ) ۔ “ [ رواہ البخاری : باب فضل الحج المبرور ] حضرت ابوہریرہ ؓ ہی فرماتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کی رضا کے لیے حج کیا۔ اور اس نے دورانِ حج کوئی شہوانی فعل اور فسق وفجور نہ کیا تو وہ ایسے لو ٹے گا گویا اسی دن اس کی والدہ نے اسے جنم دیا ہے۔ [ رواہ البخاری : باب فی فضل حج المبرور ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے اقرع بن حابس تمیمی ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا حج ہر سال فرض کیا گیا ہے آپ خاموش رہے آپ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہوجاتا پھر تم اس پر عمل کی طاقت نہ رکھتے۔ حج ایک ہی بار فرض ہے۔ “ [ رواہ النسائی : باب وجوب الحج ] مسائل 1۔ تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حج کا اعلان کرنے کا حکم ہوا۔ 2۔ حج اور زیارت کعبہ کے لیے قیامت تک زمین کے نشیب و فراز سے لوگ پیدل اور اپنی سواریوں پر آتے رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن حج کے آداب : 1۔ ان لوگوں پر حج فرض ہے جو حج کے اخراجات اور سفر کی استطاعت رکھتے ہیں۔ (آل عمران : 97) 2۔ حج کے مہینے معلوم ہیں لہٰذا حج کے ایام میں گناہ کے کام نہ کیے جائیں۔ (البقرۃ : 197) 3۔ اللہ کے لیے حج اور عمرہ مکمل کرو۔ (البقرۃ : 196) 4۔ حج میں ہر کسی قسم کی بےحیائی، نافرمانی اور جھگڑا کرنے سے بچنا چاہیے۔ ( البقرۃ : 197)
Ayahs 22:28–29

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

” تاکہ فوائد حاصل کریں جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر ایّام میں ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں دیے ہیں خود بھی کھائیں اور تنگ دست لوگوں کو بھی کھلائیں۔ (28)

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر اپنی میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : ایّام تشریق میں کرنے کے کام۔ حج مسلمانوں کی اجتماعی تربیت گاہ اور عالم اسلام کے مسلمانوں کے درمیان ہر قسم کے رابطہ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ مسلمان حج سے روحانی فائدے اٹھانے کے ساتھ، ساتھ ایک دوسرے سے معاشی فوائد بھی حاصل کریں۔ اس لیے ایام تشریق یوم عرفہ کے بعد منٰی میں گزارنے والے دو یا تین ایام کو ایام تشریق کہا جاتا ہے جن میں تجارت کرنا جائز قرار دیا۔ اسلام سے پہلے عرب میں عمومی طور پر حج کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک گروہ وہ تھا جنھوں نے حج کو تجارتی منڈی بنانے کے ساتھ خاندانی تفاخر کا اسٹیج بنا لیا تھا۔ بالخصوص ایّام تشریق کے دوران کھیل تماشا، لین دین کے دھندے، داستان گوئی اور شعر و شاعری کے ذریعے خاندانی تفاخر کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کرتے تھے۔ دوسرا گروہ وہ تھا جو حج کا زاد سفر لینا گناہ اور اپنے گھر کے کپڑے پہننا دنیا داری سمجھتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ ذاتی لباس اتار کر مکہ والوں سے مانگ تانگ کر کپڑے پہنتے، جسے کپڑے نہ مل پاتے وہ برہنہ بدن حج ادا کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے برہنہ بدن حج کرنے والوں کو حکم دیا کہ وہ اچھا لباس پہن کر مسجد حرام میں آیا کریں۔ (الاعراف : 31) حج ادا کرنے کے بعد کاروبار کی کھلی اجازت عنایت فرمائی تاکہ مسلمان حج کے موقعہ پر روحانی فوائد کے ساتھ مادی طور پر ایک دوسرے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ لیکن شرط یہ ہے اول و آخر نیت حج کی ہو نہ کہ تجارت کی۔ ایام تشریق میں حج تمتع اور حج افراد میں قربانی کرنا لازم ہے اس لیے قربانی کے مسائل ذکر فرمائے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ قربانی خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ قربانی ذبح کرتے ہوئے۔ ” بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرْ ‘ پڑھنا لازم ہے۔ اسلام سے پہلے قربانی کا گوشت کھانا لوگ جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حکم دیا کہ قربانی کے گوشت سے خود بھی کھاؤ فاقہ کش فقیر کو بھی دو ۔ ان الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے بعض صحابہ ؓ کا موقف ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہییں۔ خود کھانا، عزیز و اقرباء کو کھلانا اور غرباء میں تقسیم کرنا۔ عام حالات میں اس اصول کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے لیکن اگر کسی معاشرے میں غرباء کی تعداد زیادہ ہو تو اس تقسیم کا خیال کرنا لازم نہیں۔ حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد حجاج کرام میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت اللہ کا طواف کریں۔ یہاں بیت اللہ کو بیت العتیق کہا گیا ہے جس کا معنی ہے ” قدیم ترین گھر۔ “ اس سے یہودیوں کے اس دعویٰ کی نفی کی گئی جو مسجد اقصیٰ کو بیت اللہ سے پہلے کی تعمیر قرار دیتے ہیں۔ ” اَلْعَتِیْقَ “ کا دوسرا معنی آزاد ہے بیت العتیق کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا گھر جو کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔ بیت العتیق کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اس پر کسی ظالم اور جابر حکمران کا قبضہ نہیں ہوسکتا ہے۔ (عَنْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنِ الزُّبِیْرِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّمَا سُمِیَّ الْبَیْتُ الْعَتِیْقِ لِاَنَّہُ لَمَ یُظْہَرْ عَلَیْہِ جَبَّارٌ) [ رواہ الترمذی : باب ومن سورة الحج ] ” حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیت العتیق کا نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ اس پر کوئی ظالم حکمران غالب نہیں آسکا۔ “ (وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃٍ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ الْعَبْدُ ) [ رواہ مسلم : باب لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلا فیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ] ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جس کام میں نافرمانی پائی جائے اس نذر کو پورا کرنا جائز نہیں اور جو چیز انسان کی ملک نہیں اسکی نذر نہ مانی جائے۔ “ حضرت عقبہ بن عامر ؓ رسول کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نذر کا کفارہ وہی ہے ‘ جو قسم کا کفارہ ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب فِی کَفَّارَۃِ النَّذْرِ ] مسائل 1۔ حج ادا کرنے کے بعد کاروبار کیا جاسکتا ہے۔ 2۔ نذر پوری کرنا ضروری ہے۔ 3۔ قربانی کا گوشت خود کھانے کے ساتھ عزیز و اقربا اور مسکینوں کو کھلایا جائے۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

” جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے۔ یہ اس کے رب کے نزدیک اور اس شخص کے لیے بھی بہتر ہے اور تمہارے لیے چوپائے حلال کیے گئے ہیں سوائے ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں پس بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔ “ (30)

فہم القرآن ربط کلام : قربانی اور بیت اللہ کے طواف کے بعد اللہ کی مقرر کردہ حرمتوں کا احترام کرنے کا اشارہ۔ حج کی ادائیگی کے بعد ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمات کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ جنھیں سورة البقرۃ میں شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ ان حرمتوں میں بیت اللہ کا احترام، صفا اور مروہ، مزدلفہ میں مشعر حرام، قربانی کا جانور اور اس کا گوشت، مسلمان کا احترام و اکرام یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتیں ہیں، ان کا احترام کرنے کا حکم ہے۔ اس لیے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتوں کا احترام کیا۔ حرمتوں کا خیال رکھنے والے کے لیے اس کے رب کے ہاں خیر ہے۔ اس سے پہلے قربانی کا ذکر ہو رہا تھا اس لیے یہ وضاحت کردی کہ تمہارے لیے وہی جانور حلال ہیں جن کا ذکر تمہارے سامنے کردیا گیا ہے۔ لہٰذا بتوں کی نجاست سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ بتوں کو ناپاک قرار دے کر ان کے متعلقات تمام امور کو ناجائز قرار دیا گیا ہے نہ ان کے نام پر کوئی چیز ذبح کرنی چاہیے اور نہ ہی بتوں کا احترام اور ان کے وسیلے سے مانگنا چاہیے۔ اسی طرح قول زور سے بھی بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ الزوّر سے مراد جھوٹ ہے بیشک اسے کتنا ہی بنا سنوار کر بولا جائے۔ غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز دینے والوں کو جب اس کام سے روکا جاتا ہے تو وہ بڑے خوبصورت الفاظ میں اپنے موقف کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ” قَوْلَ الزُّوْرِ “ کے الفاظ لا کر یہ باور کروایا گیا ہے کہ یہ جھوٹ ہے اور جھوٹ کو جس قدر اچھے الفاظ کا جامہ پہنایا جائے وہ جھوٹ ہی رہتا ہے اس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ رسول کریم ﷺ نے جھوٹی گواہی کو بھی ” قَوْلَ الزُّوْرِ “ قرار دیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلْکَبَاءِرُ الْاِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَےْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْےَمِےْنُ الْغَمُوْسُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَفِی رِوَاے َۃِ اَنَسٍ وَّشَھَادَۃُ الزُّوْرِ بَدَلَ الْےَمِےْنِ الْغَمُوْسِ ) [ رواہ البخاری : باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ ذکر کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا یہ بڑے گناہ ہیں۔ (1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا (2) والدین کی نافرمانی کرنا ‘ (3) ناحق کسی کو قتل کرنا (4) اور جھوٹی قسم اٹھانا (بخاری) حضرت انس ؓ کی روایت میں جھوٹی قسم کی جگہ جھوٹی شہادت دینے کے الفاظ ہیں۔ “ مسلمانوں کا مال، جان اور عزت محترم ہے : (عَنْ أَبِيْ بَکْرَۃَ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ یَوْمَ النَّحْرِ فَإِنَّ دِمَآءَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِيْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِيْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا إِلٰی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ ۔۔ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب الخطبۃ أیام منی ] ” حضرت ابو بکرہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے حج کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا یقیناً تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسا کہ تمہارے لیے آج کا دن، مہینہ اور یہ شہر قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کیا میں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمتوں کا احترام کرنا لازم ہے۔ 2۔ وہی جانور حلال ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔ 3۔ بتوں ور ان کے متعلقات سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ 4۔ جھوٹ اور ملمع سازی سے بچنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمات : 1۔ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو حرمت والا گھر قرار دیا ہے۔ (المائدۃ : 97) 2۔ اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ (التوبۃ : 36) 3۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے۔ (النمل : 91) 4۔ اے ایمان والو ! حرمت والے مہینوں، حرم کو بھیجی ہوئی قربانیاں اور جن کے گلے میں علامتیں آویزاں ہیں اور ان کا مال اور آبرو جو عزت والے گھر کا قصد کرکے آئیں انھیں حلال نہ ٹھہراؤ۔ (المائدۃ : 2) 5۔ حرمت والی اشیاء کی حرمت کی پاسداری کرنی میں خیر ہے۔ ( الحج : 31) 6۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کا احترام کرنے کو تقویٰ قرار دیا ہے۔ ( الحج : 32)
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

” یکسو ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شریک بنائے گا گویا وہ آسمان سے گرپڑا۔ اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمات کا تقاضا تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ انسان تمام معاملات میں اپنے رب کے لیے یکسو ہوجائے۔ حَنِیْفَ کی جمع ” حُنَفَاءَ “ ہے جس کا معنٰی ہے کسی کام کے لیے پوری طرح یکسو ہوجانا۔ یہاں حنفاء للّٰہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ اے لوگو ! تمہیں نہ صرف ہر قسم کی ناپاکی، بتوں اور جھوٹ سے بچنا ہے بلکہ پوری طرح اللہ کے بن کر رہنا ہوگا۔ تمہارے عقیدہ اور عمل میں شرک کی ذرہ برابر آمیزش نہیں ہونا چاہیے۔ جس نے اعتقاداً یا عملاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گویا کہ وہ آسمان سے نیچے گرا۔ اس کے زمین پر آتے ہی پرندوں نے نوچ لیا۔ یا اسے تیز ہوا نے ایسے مقام پر جا پھینکا جس سے وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ ” سَحِیْقٍ “ پہاڑ کے درمیان ایسی کھڈ کو کہتے ہیں جس میں گرنے والا پتھروں پر لڑھکتا ہوا اس طرح نیچے گرئے کہ اس کے جسم کے چیتھٹرے اڑ جائیں۔ شرک کرنے والے کی حقیقتاً یہی حالت ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید انسان کو فکری اور عملی طور پر بلندیوں سے سرفراز کرتا ہے۔ شرک انسان کو فکری اور عملی طور پر ذلت اور زوال سے دو چار کرتا ہے۔ مواحد انسان ہر حال میں اپنی خودی کو قائم رکھتا ہے۔ اگر وہ کسی کے ساتھ تعلق جوڑتا ہے تو اس کے پیچھے مفاد کی بجائے اللہ کا حکم اور اس کی رضا مقصود ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مشرک فکری اور عملی طور پر اس قدر گھٹیا بن جاتا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کو چھوڑ کر بتوں، پتھروں اور مزاروں کے سامنے ماتھا رگڑتا ہے۔ اس کے عمل اور تعلق کے پیچھے جلد بازی اور مفاد پرستی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حتی کہ وہ ” اللہ “ کی عبادت بھی صرف دنیوی فائدے کے لیے کرتا ہے۔ جس وجہ سے مشرک اپنے رب کا وفادار نہیں ہوتا جو اپنے رب کا وفادار نہیں وہ دوسروں کا کس طرح وفادار ہوسکتا ہے۔ جس طرح آسمان سے گرنے والے کا وجود ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اسی طرح مشرک فکر و عمل کے اعتبار سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے۔ وہ اعتقادی طور پر منتشر اور خوداری کے حوالے سے انتہائی تہی دامن ہوتا ہے۔ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ اچھا بھلا پڑھا لکھا انسان کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے آدمی سے قسمت دریافت کرتا ہے، اور کبھی بت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے۔ ایک قبر کے سامنے سجدہ کر رہا ہے اور دوسرا قبر کے پاس بیٹھے ہوئے مجاور کے سامنے فریاد کر رہا ہوتا ہے اس طرح در در کی ٹھوکریں کھانے کو ثواب سمجھتا ہے۔ ان کے مقابلے میں مومن غریب ہو یا امیر، پڑھا ہوا ہو یا اَن پڑھ وہ اپنے رب کو چھوڑ کر کہیں جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ] ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب پانے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اگر تیرے پاس ہو۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پر دینے کے لیے تیار ہے وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تجھ سے اس سے بھی ہلکی بات کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا وہ یہ کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ راوی کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہ کرتا لیکن تو شرک سے باز نہ آیا۔ “ مسائل 1۔ مسلمان کا فکر و عمل صرف اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ 2۔ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ بلندیوں سے پستیوں میں گرجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کی ذلّت اور اس کے نقصانات : 1۔ شرک سے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : 65) 2۔ اللہ مشرک کو معاف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا۔ (النساء : 48) 3۔ شرک کرنے والا راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔ (النساء : 116) 4۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : 31) 5۔ شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72) 6۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذّمہ ہے۔ (التوبۃ : 3) 7۔ مشرکین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (ابراہیم : 30) 8۔ اللہ تعالیٰ نے مشرک اور زانی کو ایک جیسا قرار دیا ہے۔ ( النور : 3)
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

” حقیقت یہ ہے کہ جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے پرہیزگار ہونے کا ثبوت ہے۔ “ (32)

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کے لیے یکسو ہونے اور شرک سے بچنے کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حرمات کا اعتقاداً اور عملاً احترام کیا جائے۔ ” شَعَاءِرْ “ شِعَارُ کی جمع ہے جس کا معنٰی ہے ایسی جگہ یا نشانی۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کی توجہ مبذول ہوتی ہو اور اس کا ” شعاءِرَ اللّٰہ “ ہونا قرآن اور حدیث رسول سے ثابت ہو۔ اس لیے شعائر اللہ کی تعظیم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا احترام کرنا اور اس کا تقو ٰی اختیار کرنا ہے۔ یا در ہے کہ جو شخص بھی دل کی گہرائی کے ساتھ نیکی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی نیکی کو جانتا اور اس کی قدر افزائی فرمانے والا ہے۔ شعائر اللہ کا احترام اس کی تعظیم کرنا لازم ہے لیکن اس کی حقیقی تعظیم وہی شخص کرے گا جس میں اللہ کا خوف اس کی عظمت کا اعتراف اور اس کی صفات کی معرفت موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت انسان کو کفر و شرک اور دوسرے گناہ کرنے سے روکتی ہے اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت انسان کے دل سے اٹھ جائے تو انسان شعائر اللہ کے نام پر بھی شرک و بدعت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اپنی طرف سے بعض چیزوں اور کاموں کو شعائر اللہ بنا لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہندؤ بتوں، مسلمان مزارات اور باقی اقوام نے اپنے اپنے شعائر بنا رکھے ہیں اور وہ ان کے سامنے جھکتے، نذر ونیاز پیش کرتے ہیں اور وہاں پہنچ کر جوتے اتار دیتے ہیں اور الٹے پاؤں واپس پلٹتے ہیں اس طرح کی بیشمار حرکتیں ہیں جو شرک و بدعت کے زمرے میں شامل ہیں۔ اس لیے یہاں شعائر اللہ کی تعظیم کا نتیجہ بتلایا ہے کہ اس کے دل میں گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم وہی شخص کرے گا جس کے دل میں اللہ کا خوف موجزن ہوگا۔ جس دل سے خوف خدا نکل جائے تو اس کے دل سے شعائر اللہ کی تعظیم اٹھ جاتی ہے اور وہ من ساختہ تعظیم کرنے کے درپے رہتا ہے۔ مسائل 1۔ شعائر اللہ کی تعظیم کرنے والے کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے۔ 2۔ شائر اللہ کی تعظیم کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ اور اس کے فوائد : 1۔ اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبۃ : 123) 2۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (النباء : 31) 3۔ اللہ سے ڈرو اور جان لو بیشک اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 194)
Ayahs 22:33–34

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

” تمہیں ایک وقت مقرر تک ان سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ قدیم گھر کے پاس ہے۔ (33)

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

ہرامّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اور اسی کے فرماں بردار ہوجاؤ۔ اور اے نبی عاجزی کرنے والوں کو بشارت دیجیے۔ “ (34)

فہم القرآن ربط کلام : دل کے تقویٰ کا تقاضا ہے کہ شعاء اللہ کا احترام کیا جائے۔ شعائر اللہ کا وہی احترام کرے گا جو اپنے ” اللہ “ کے سامنے قلباً اور عملاً عاجزی کرنے والا ہوگا۔ اللہ کے حضور انسان جب کسی جانور کی قربانی پیش کرتا ہے تو اس میں نیت رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ دین اسلام کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر کام میں آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا کا فائدہ پایا جاتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ اصول تھا کہ قربانی پیش کرنے والا اس کا گوشت نہیں کھا سکتا تھا۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اس نے نہ صرف ہمیں قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت عنایت فرمائی ہے بلکہ ہم قربانی کے جانور کی اون چمڑی اور ہڈیوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اسی طرح دیگر چوپاؤں میں ہمارے لیے فوائد رکھے گئے ہیں۔ جہاں تک قربانی کے واجب ہونے کا تعلق ہے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کرنا لازم قرار دیا اور انھیں ہدایت کی تھی کہ قربانی صرف اللہ کے نام پر ہونی چاہیے اسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لینا فرض ہے۔ کیونکہ اسی نے تمہیں چوپائے عطا فرمائے ہیں لہٰذا وہ اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ یہاں عبادت سے پہلی مراد نذونیاز ہے جو صرف اور صرف ’ ’ اللہ “ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا ہر حال میں اپنے رب کے تابع فرماں رہو۔ جو لوگ اپنے رب کے حضور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ مطیع ہوں گے انھیں خوشخبری کا پیغام دیا جاتا ہے۔ قربانی کی تاریخ : جب سے حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے اسی وقت سے لے کر ” اللہ “ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے قربانی کرنا مشروع ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں واقعہ بیان ہوا ہے : (وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَأَ ابْنَیْ اٰدَمَ بالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِ ھِمَاوَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخِرْ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ لَءِنْ م بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ أَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِأَقْتُلَکَ اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ) [ المائدۃ : 27، 28] ” آپ ان کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا واقعہ سنائیں۔ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہیں کی گئی۔ جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اس نے دوسرے بھائی کو کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا۔ پہلے نے جواب دیا اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ “ قربانی کی فضیلت : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا عَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ اِہْرَاق الدَّمِ وَاِنَّہٗ لَیَاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلَافِھَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ الْاَرْضَ فَطِیْبُوْبِھَا نَفْسًا) [ رواہ ابن ماجۃ : ابواب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ ] ” ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ پسند کوئی عمل نہیں۔ قربانی کا جانور اپنے سینگوں ‘ کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اس لیے قربانی دل کی خوشی کے ساتھ کیا کرو۔ “ قربانی کا اجر : (عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ مَاھٰذِہٖ الْاَضَاحِیْ قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ قَالُوْا فَمَالَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : ابواب الاضاحی ‘ باب ثواب الاضحیۃ ] ” زید بن ارقم کا بیان ہے کہ اصحاب رسول نے آپ سے سوال کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! قربانی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کی کہ ہمیں اس میں کیا ملے گا ؟ ارشاد ہوا قربانی کے بالوں کے برابر ثواب ملے گا۔ رفقائے رسول ؓ پھر عرض کرتے ہیں اللہ کے نبی بھیڑ کی اون کے برابر بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ! بھیڑ کی اون کے ایک ایک بال کے برابر نیکیاں ملیں گی۔ “ (عَنْ جُنْدُبِ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْبَجَلِی ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَلْےَذْبَحْ مَکَانَھَا اُخْرٰی وَمَنْ لَّمْ ےَذْبَحْ حَتّٰی صَلَّےْنَا فَلْےَذْبَحْ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ ) [ رواہ البخاری : باب قول النبی ﷺ فلیذبح علی اسم اللہ ] ” حضرت جندب بن عبداللہ البجلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح کیا اسے اور قربانی کرنا پڑے گی جو نمازعید کے بعد قربانی کرے اسے اللہ کے نام پر قربانی ذبح کرنی چاہیے۔ “ (حج کرنے والا قربانی کے اونٹ پر سواری کرسکتا ہے۔ البتہ جب قربانی کا وقت آئے تو اسے قربانی کرنا ہوگا۔ ) مسائل 1۔ قربانی کرنے میں دینی اور دنیاوی فوائد ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لے قربانی مقرر کی ہے۔ 3۔ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا (بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ ) لازم ہے۔ 4۔ اللہ ایک ہی معبود حقیقی ہے اسی کا مطیع ہونا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن قربانی کے مسائل : 1۔ قربانی (ذوالحجہ) کے چند مخصوص دنوں میں کرنی چاہیے۔ (الحج : 28) 2۔ قربانی اللہ کے نام پر ذبح کرنی چاہیے۔ (الحج : 34) 3۔ اونٹ کو گھٹنا باندھ کر کھڑے کھڑے قربانی کرنا چاہیے۔ (الحج : 36) 4۔ قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے اور فقیروں اور قناعت کرنے والوں کو بھی دینا چاہیے۔ ( الحج : 36) 5۔ گوشت اور خون کی بنیاد پر قربانی قبول نہیں ہوتی قربانی تقویٰ کی بنیاد پر قبول ہوتی ہے۔ (الحج : 37) 6۔ قربانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ (الصّٰفٰت : 108)
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

” جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا فرمان سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ ان پر مصیبت آئے تو اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے بندے صرف جانور ذبح کرتے وقت ہی اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ جب بھی ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا یعنی اس کی توحید اور فرمان کا تذکرہ ہو تو ان کے دل لرز جاتے ہیں۔ اللہ سے ڈرنے کے تقاضے ہیں کہ جب جانور ذبح کیا جائے تو اس پر دوسروں کا نام لینے کی بجائے صرف ” اللہ “ ہی کا نام یعنی بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا جائے۔ اس کا دوسرا تقاضا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے ” اللہ “ ہی کا مال ہے اسی کے حکم اور اس کی خوشنودی کے لیے ذبح کر رہا ہوں اس میں کسی بت یا بزرگ کا کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ذکر کا یہ بھی تقاضا ہے کہ صاحب ایمان کے سامنے جب اللہ کی ذات اور صفات کا بیان ہو تو اس کی جلالت و جبروت کے سامنے اس کا دل لرز جائے۔ دل لرزنے کا حقیقی معنی یہ ہے کہ بتوں اور مزارات کے سامنے نذ ونیاز پیش کرنے کی بجائے صرف اللہ کے حضور پیش کرئے اور غیر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر اللہ کی اطاعت میں آجائے۔ اگر اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے مشکلات پیش آئیں تو انھیں صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرے۔ صبر و تحمل کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز ادا کرئے اور جو کچھ اسے اس کے رب نے عطا کر رکھا ہے۔ اس میں سے دین کی بالادستی اور اللہ کے بندوں پر خرچ کرتا رہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ سے ڈرنے کے چار اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ مسائل 1۔ اللہ کے ذکر سے مومنوں کے دل نرم ہوتے ہیں۔ 2۔ مشکلات کے وقت صبر کرنا چاہیے۔ 3۔ نماز کی پابندی کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ کے دیے ہوئے رزق سے صدقہ کرنا چاہیے۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

” اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ بنایا ہے تمہارے لیے ان میں خیر ہے پس انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو اور جب ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور ان کو بھی جو سوالی ہیں۔ ان جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے تاکہ تم شکر یہ ادا کرو۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : سلسلہ کلام کے درمیان چند نصائح فرما کر اب پھر قربانی کے مسائل اور فضائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ذمہ یہ بات لگا رکھی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ پر اونٹ کا گوشت حرام کر رکھا تھا اس لیے ہم اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے اور نہ اس کی قربانی کرنا جائز نہیں سمجھتے۔ یہودیوں کے نظریہ کی تردید کے لیے سورة آل عمران، آیت : 93 میں وضاحت فرمائی کہ یعقوب (علیہ السلام) کے لیے سب چیزیں حلال تھیں۔ البتہ انہوں نے جو چیز بیماری کی وجہ سے پرہیز کے طور پر چھوڑ دی وہ الگ مسئلہ ہے۔ چناچہ وہ اونٹ بھی تمہارے لیے شعائر اللہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ جنہیں نذر یا قربانی کے لیے مخصوص کردیا گیا ہو۔ اونٹ کو کھڑا کرکے اس پر اللہ کا نام لو یعنی تکبیر پڑھ کر ذبح کرو۔ جب وہ زمین پر گرپڑے تو اس کا گوشت بناؤ۔ جس میں خود کھاؤ، اس شخص کو بھی کھلاؤ جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور اس کو بھی دو جو تم سے قربانی کا گوشت مانگتا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے اونٹ جیسے طاقتور جانور کو تمہارے تابع کردیا ہے۔ حالانکہ اونٹ وہ جانور ہے کہ اگر بگڑ جائے تو اسے قابو میں لانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اونٹ جس کے خلاف دل میں کینہ رکھ لے موقعہ پاتے ہی اس سے بدلہ لیتا ہے۔ چاہے طویل عرصہ کے بعد اس سے بدلہ لینا پڑے۔ اس لیے اونٹ کا کینہ ضرب المثل اختیار کرچکا ہے۔ محاورہ ہے کہ فلاں شخص شتر کینہ ہے، یہ اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے کہ ایک بچہ بھی اسے نکیل سے پکڑ کر جدھر چاہتا ہے لیے پھرتا ہے۔ خیر کا لفظ بول کر یہ بھی وضاحت کردی ہے کہ اونٹ حلال ہے حرام نہیں۔ اس میں دنیوی فوائد بھی بیشمار ہیں۔ بالخصوص صحرا میں رہنے والوں کے لیے یہ بہترین سواری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اونٹ کی تخلیق اور اس کے صبر و شکر کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے۔ (الغاشیہ : 13) گائے اور اونٹ میں کتنے شریک ہوں ؟ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْ سَفَرٍ فَحَضَرَ الْاَضْحٰی فَاشْتَرَکْنَافِیْ الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃٌ وَفِی الْبَعِیْرِ عَشَرَۃٌ) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی الاشتراک فی البدنۃ والبقرۃ ] ” ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ایّام قربانی شروع ہوگئے ہم گائے میں سات آدمی شریک ہوئے اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے۔ “ ( عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ اَنَّہُ اَتٰی عَلٰی رَجُلٍ قَدْ اَنَاخَ بَدَنَتَہُ ےَنْحَرُھَا قَالَ ابْعَثْھَا قِےَامًا مُّقَیَّدَۃً سُنَّۃَ مُحَمَّدٍ ﷺ [ رواہ البخاری : باب نَحْرِ الإِبِلِ مُقَیَّدَۃً ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ایک شخص کے پاس آئے جس نے اپنے اونٹ کو نحر کرنے کے لیے بٹھایا ہوا تھا۔ آپ نے اسے ہدایت کی کہ اس کو کھڑا کر کے ذبح کرو۔ یہی آپ ﷺ کی سنت ہے۔ “ (نحر کا معنی : سینہ پر مارنا، یعنی ذبح کرنا ہے۔ ) انسان کو اللہ تعالیٰ نے جن انعام و اکرام سے نوازا ہے اس کا شکر انتہائی ضروری ہے۔ جس طرح نعمتیں مختلف شکلوں میں ہیں اسی طرح ان کے شکرانے کے لیے مختلف صورتیں مقرر کی گئی ہیں۔ جسم اور اس کی توانائی کا شکر، نماز، روزے کی صورت میں مقرر کیا گیا ہے۔ سیم و زر کے تشکر کے لیے زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی لازم قرار دی۔ جانوروں پر تصرف ‘ گوشت ‘ دودھ ‘ سواری ‘ بار برداری کا شکر زکوٰۃ و صدقات اور قربانی کرنا ہے تاکہ اظہار تشکر کے ساتھ یہ اعتراف بھی ہو کہ اس کا مالک میں نہیں اصل مالک وہ ذات ہے جس نے یہ عطا فرمائے ہیں۔ اسی کے نام پر اس کو ذبح کر رہا ہوں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ” ہم نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کردیا تاکہ اللہ کی کبریائی کا اعتراف کرو جس طرح اس نے تمہاری راہنمائی فرمائی اور خوشخبری دیجیے نیکی کرنے والوں کو۔ “ [ الحج : 37] مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے اونٹ میں بہت سے فوائد رکھے ہیں۔ 2۔ قربانی کے اونٹ بھی شعائر اللہ میں شامل ہیں۔ 3۔ اونٹ کو کھڑا کرکے ذبح کرنا چاہیے۔ 4۔ قربانی کا گوشت سائل کو بھی دینا چاہیے۔ 5۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔