20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsفہم القرآن

Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

” حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور پیش ہوگا اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ موت ہے اور نہ زندگی۔ (74)

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے حضور مومن بن کر حاضر ہوگا اور جس نے نیک عمل کیے ہوں گے ان لوگوں کے لیے اعلیٰ درجات ہیں۔ (75)

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا اس شخص کی ہے جو پاکیزگی اختیار کرے گا۔ “ (76)

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح ذات کبریا نے باقی رہنا ہے اسی طرح ہی اس کے فیصلے باقی رہیں گے۔ ایمان لانے والے حضرات فرعون کے سامنے یہ کہہ کر ڈٹ گئے کہ تیری سزائیں صرف دنیا تک ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور اجر عطا فرمانے میں سب سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ایمانداروں کی اس گفتگو کو قرآن مجید حسب دستور نصیحت کے طور پر یوں بیان کرتا ہے۔ جو شخص اپنے رب کی بارگاہ میں مجرم بن کر پیش ہوا۔ اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ موت ہوگی اور نہ ہی زندگی گویا کہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں رہے گا۔ جو خوش نصیب سچے ایمان اور پاکیزہ کردار کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوا اس کے لیے اعلیٰ درجات اور ہمیشہ ہمیش رہنے والے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جنتی لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اس شخص کا صلہ ہے جس نے اپنے آپ کو کفر و شرک اور برے کاموں سے بچائے رکھا۔ ” عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو (مینڈھے کی شکل میں) لایا جائے گا ‘ یہاں تک کہ اسے جنت اور دوزخ کے درمیان لٹا کر ذبح کردیا جائے گا۔ اس کے بعد منادی کرنیوالا اعلان کرے گا ‘ اے جنت والو ! اب موت نہیں آئے گی اے دوزخ والو ! اب تمہیں بھی موت نہیں ہے اس اعلان سے اہل جنت کی خوشیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ اور اہل دوزخ کے غموں میں بےپناہ اضافہ ہوگا۔ “ [ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ] ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی اور انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں پہلا گروہ جنت میں چودھویں رات کے چاند کی صورت میں داخل ہوگا ان کے بعد کے لوگ آسمان میں چمکدار اور حسین ستارے کی مانند ہوں گے ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے ان کے درمیان نہ کوئی بغض ہوگا اور نہ ہی حسد۔ جنتی کے لیے حور العین میں سے دو بیویاں ہوں گی جن کی ہڈیوں کا گودا، گوشت اور ہڈیوں کے درمیان سے نظر آئے گا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء في صفۃ الجنۃ وأنھا مخلوقۃ ] مسائل 1۔ کافر اور مشرک ہمیشہ جہنم میں موت وحیات کی کشمکش میں رہیں گے۔ 2۔ مومنوں کے لیے اپنے رب کے ہاں اعلیٰ درجات ہوں گے۔ 3۔ مومن جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کا بدترین انجام : 1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : 35) 2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97) 3۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 43) 4۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس طرح پیئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55) 5۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : 29)
Ayahs 20:77–79

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

” ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ اور ان کے لیے سمندر میں سے خشک راستہ بناؤ۔ تجھے فرعون کے پیچھے آنے کا ڈر اور خوف نہیں ہونا چاہیے۔ (77)

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

فرعون اپنے لشکر لے کر پیچھے پہنچا اور سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھانا چاہیے تھا۔ (78)

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا تھا اور اس نے ان کی صحیح رہنمائی نہیں تھی۔ “ (79)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے مظالم کی انتہا اور بنی اسرائیل کا مصر سے ہجرت کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مؤثر ترین خطاب اور ان کے عظیم معجزہ کی وجہ سے ہزاروں لوگ ایمان لائے۔ جس بناء پر فرعون نے مظالم کا نیا سلسلہ شروع کیا۔ جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کیا جاتا اور ان کی عورتوں کو باقی رہنے دیا جاتا۔ مظالم کا یہ دور اس قدر اذّیت ناک اور سنگین تھا کہ مظلوم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے ان الفاظ میں فریاد کرتے ہیں کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم پر مظالم کیے گئے اور آپ کے نبی بننے کے بعد بھی ہم پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا اور تمہیں زمین پر حکمرانی دے گا۔ پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسا کردار پیش کرتے ہو۔ (الاعراف : 129) جب موسیٰ (علیہ السلام) کی پیش گوئی کا وقت آن پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ میرے بندوں کو رات کے وقت لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ جب تم دریا کے کنارے پہنچو تو پانی پر لاٹھی مار نا جس سے دریا عبور کرنے کے لیے تمہارے لیے خشک راستے بنائے جائیں گے۔ ہاں فرعون اور اس کے لشکر تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ فرعون اور اس کے لشکر و سپاہ کو غرق کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری رازداری کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو ناصرف ہجرت سے آگاہ فرمایا بلکہ انھیں یہ بھی بتلا دیا کہ ہم فلاں وقت اور فلاں مقام پر دریا عبور کریں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا تعاقب کرتے ہوئے فرعون بھی اس مقام پر پہنچ گیا۔ جہاں بنی اسرائیل دریا عبور کر رہے تھے۔ نامعلوم فرعون نے اپنے ساتھیوں کو کیا کچھ کہہ کر دریا میں اترنے کا حکم دیا ہوگا۔ جونہی فرعون کی قیادت میں لشکر دریا میں داخل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا کی موجوں نے انھیں آلیا اور انھیں ڈبکیاں دے دے کر مار ڈالا۔ فرعون نے بار بار اس بات کی دہائی دی کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لاتا ہوں لیکن اس کے ایمان کو یہ کہہ کر مسترد کیا گیا۔ تیرے ایمان لانے کا تجھے کیا فائدہ ؟ اب تیرے وجود کو عبرت کے طور پر رہتی دنیا کے لوگوں کے لیے باقی رکھا جائے گا۔ (یونس : 92) اس موقع پر قرآن مجید صرف یہ بیان کرتا ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور اس نے کسی صورت بھی قوم کو راہ راست پر نہ آنے دیا۔ جس وجہ سے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ غرق ہوا۔ مسائل 1۔ فرعون خود بھی گمراہ تھا اور اس نے اپنی قوم کو بھی گمراہ کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لاؤ ولشکر کو غرق کردیا۔ تفسیر بالقرآن فرعون اور اس کے حواریوں کا انجام : 1۔ آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنایا جائے۔ (یونس : 92) 2۔ ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ (الاعراف : 164) 3۔ ہم نے فرعونیوں سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا۔ (الزخرف : 55) 4۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103) 5۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الشعراء : 66) 6۔ قیامت کے دن (فرعون) اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور وہ انہیں دوزخ میں لے جائے گا۔ (ہود : 98)
Ayahs 20:80–82

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

” اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے بچایا اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من سلویٰ اتارا۔ (80)

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

ہمارا دیا ہوا پاک رزق کھاؤ اور سرکشی نہ کرو۔ ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ برباد ہوگیا۔ (81)

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

ہاں جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر سیدھا چلتا رہے میں اسے معاف کرنے والا ہوں۔ “ (82)

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کے احوال کا ذکر۔ اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے دشمن سے تمہیں نجات دی اور اور پر اپنی طرف سے من اور سلویٰ نازل کرنے کے بعد تمہیں حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں حلال طیب عطا فرمایا ہے۔ اسے کھاؤ اور حد سے گزرنے کی کوشش نہ کرو۔ اگر تم حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کروگے تو میرا غضب تم پر نازل ہوگا۔ جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ پہلی آیت میں نہایت اختصار کے ساتھ تین واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ 1۔ بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کے ساتھیوں سے نجات دلانا۔ دیگر مقامات پر اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! اپنے رب کے اس احسان کو یاد کرو جب اس نے تمہیں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مظالم سے نجات دی۔ فرعون تمہیں بدترین سزائیں دینے کے ساتھ تمہارے بیٹوں کو قتل کرتا اور تمہاری بیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ یہ تمہارے لیے بہت بڑی آزمائش تھی۔ ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا تاکہ تم سلامتی کے ساتھ اس سے گزر جاؤ اور تمہارے سامنے فرعون اور اس کے لاؤ و لشکر کو غرق کردیا۔ (البقرۃ : 49۔ 50) 2۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ بیت المقدس میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی فتح تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ لیکن تم نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ہم بیت المقدس میں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ وہاں بڑے طاقتور لوگ رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تمہیں بار بار سمجھایا لیکن تم نے ان کا حکم ماننے کی بجائے اس حد تک گستاخی کی کہ اے موسیٰ تو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے۔ تفصیل کے لیے المائدۃ : 20 تا 24 آیات کی تلاوت کریں۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تم پر من وسلویٰ نازل کیا اور حکم فرمایا اللہ کے دیے ہوئے حلال و طیب کو کھاؤ اور سرکشی اختیار نہ کرنا۔ جس نے سرکشی اختیار کی اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا اور جس پر اس کا غضب نازل ہوا وہ دنیا میں برباد ہوا اور آخرت میں اسے اذیّت ناک عذاب ہوگا۔ جس نے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور صالح اعمال کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ اسے معاف کرتے ہوئے ہدایت سے سرفراز کرے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اے موسیٰ ! طورپہاڑ کی دائیں جانب فلاں جگہ پر پہنچ جاؤ تاکہ تمہیں تورات عنایت کی جائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ذمہ داری دے کر کوہ طور کے دامن میں مقررہ وقت اور مقام پر پہنچے تو ان کے پیچھے بنی اسرائیل نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر من وسلویٰ نازل کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کے دامن میں تورات عطا فرمائی۔ 4۔ اللہ کے باغیوں کے لیے دنیا میں بربادی اور آخرت میں ذلت ہوگی۔ 5۔ جو اپنے رب کے حضور تائب ہوگا وہ مزید ہدایت پائے گا۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک : 1۔ اے بنی اسرائیل میری نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام فرمائیں۔ (البقرۃ : 47) 2۔ بنی اسرائیل کو ساری دنیا پر فضیلت دی گئی۔ (البقرۃ : 47) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دی۔ (البقرۃ : 49) 4۔ بنی اسرائیل کے لیے سمندر کو پھاڑا گیا۔ ( البقرۃ : 50) 5۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر من وسلویٰ نازل کیا۔ ( طٰہٰ : 86) 6۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے جاری فرمائے۔ (الاعراف : 160)
Ayahs 20:83–85

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

” اے موسیٰ تجھے کس بات نے اپنی قوم کے پاس سے جلدی آنے پر آمادہ کیا ؟ (83)

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کی وہ میرے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ میں جلد آپ کے حضور آگیا اے میرے رب تاکہ آپ مجھ سے خوش ہوجائیں۔ (84)

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا یقیناً ہم نے تیرے بعد تیری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا۔ “ (85)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور کی طرف جانا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کی قوم کا گمراہ ہونا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوہ طور کی دائیں جانب فلاں مقام پر فلاں وقت حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ان کی نیابت کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے رہیں یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے کوہ طور کی دائیں جانب پہنچ کر عبادت میں مصروف ہوگئے۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو چھوڑ کر کوہ طور کے دامن میں معتکف ہوئے تو پیچھے سے ان کی قوم کے لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو استفسار فرمایا کہ اے موسیٰ ! آپ نے اس قدر یہاں آنے کی کیوں جلدی کی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب آپ کی ملاقات کی خواہش نے مجھے بےتاب کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ ! ہم نے آپ کے بعد آپ کی قوم کی آزمائش کی جنہیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔ ثابت ہوا کہ بنی اسرائیل بڑے ہی متلون مزاج اور طوطا چشم لوگ تھے۔ کیونکہ جب دریا عبور کرنے کے بعد بیت المقدس کی طرف سفر کر رہے تھے تو راستے میں انھوں نے ایسی قوم دیکھی جو اپنے بتوں کے سامنے اعتکاف کر رہی تھی۔ انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ اے موسیٰ ہمارے لیے بھی ایسے خدا بنا دیجیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ (وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّھُمْ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْن۔ اِنَّ ھآؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ھُمْ فِیْہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰھًا وَّ ھُوَ فَضَّلَکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) [ الاعراف : 138] ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پاراتارا۔ وہ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں پر جمے بیٹھے تھے کہنے لگے اے موسیٰ ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنادے، جیسے ان کے معبود ہیں ! اس نے کہا تم تو جاہل لوگ ہو۔ بیشک یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ کیا جانے والا ہے اور جو کچھ کرتے آرہے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہیں پوری دنیا پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ “ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے دیگر احسانات کے ساتھ یہ احسان بھی فراموش کردیا اور لمحہ بھر سوچنے کی زحمت نہ کی کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دشمن سے نجات دی ہے اور ہمارے دشمن کو ذلیل و خوار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سامری کے بارے میں اہل قلم نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق سامرہ قبیلہ کے ساتھ تھا۔ جس کی وجہ سے اسے سامری کہا گیا ہے۔ اس کا تعلق سامرہ شہر کے ساتھ نہیں تھا۔ جو بہت مدّت بعدفلسطین کا دارالحکومت بنا تھا۔ مسائل 1۔ رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے جلدی کرنا چاہیے۔ 2۔ بنی اسرائیل کو سامری نے راہ راست سے بھٹکا دیا۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل کی جلد بازیاں : 1۔ بنی اسرائیل نے کھانے کی چیزیں طلب کرنے میں جلدبازی سے کام لیا۔ ( البقرۃ : 61) 2۔ بنی اسرائیل نے اپنے رب کے حکم میں جلدی کی اور بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ ( الاعراف : 150) 3۔ بنی اسرائیل نے جلد بازی میں مطالبہ کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ( البقرۃ : 55) 4۔ بنی اسرائیل سوالات کرنے میں بڑے جلد باز تھے۔ ( البقرۃ : 68 تا 70) 5۔ اللہ تعالیٰ کے احکام پامال کرنے میں بنی اسرائیل جلد باز تھے۔ ( الاعراف : 166)
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

” موسیٰ سخت غصے اور پریشانی کے عالم میں اپنی قوم کی طرف پلٹے اور فرمایا اے میری قوم کیا تمہارے رب نے تم سے بہت اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا یہ وعدہ طویل ہوگیا تھا ؟ یا تم اپنے رب کا غضب چاہتے تھے پس تم نے میرے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ “ (86)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع پا کر کہ قوم گمراہ ہوچکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فوری طور پر اپنی قوم کی طرف پلٹنا۔ مدّت پوری ہوتے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فی الفور اپنی قوم کی طرف آئے اور غضب ناک ہو کر پے درپے ان سے تین سوال کیے۔ کیا تمہارے رب نے تمہاری ہدایت اور بھلائی کے لیے مجھے تورات دینے کے لیے طور پہاڑ پر نہیں بلایا تھا اور میں تمہیں بتلا کر نہیں گیا تھا ؟ کیا میرے جانے کی مدت بہت طویل ہوگئی تھی ؟ یا پھر تم نے دانستہ طور پر چاہا کہ تم پر اللہ کا غضب نازل ہو ؟ بہر حال تم نے میرے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔ گمراہ ہونے والے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلمہ پڑھا تھا۔ کلمہ کا معنی ہی یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس وقت کے مطابق موسیٰ اللہ کے رسول تھے۔ رسول کا معنی ہے جس کی پوری یکسوئی کے ساتھ تابعداری کی جائے۔ اس کے باوجود بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے موسیٰ (علیہ السلام) کی صرف چالیس دن کی غیر حاضری پر اس عہد کو توڑ دیا حالانکہ ان کی رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو چھوڑ گئے تھے۔ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاون اور نبی تھے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی سرتوڑ کوشش کے باوجود یہ لوگ گمراہ ہوگئے۔ مسائل 1۔ بنی اسرائیل بہت ہی تھوڑی مدت میں گمراہ ہوگئے۔ 2۔ بنی اسرائیل نہایت احسان فراموش اور جلد بازقوم ہے۔
Ayahs 20:87–88

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

” انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کی۔ دراصل لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے ان کو پھینک دیا۔ (87)

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا اور ایک بچھڑے کی صورت بنا کر ہمارے سامنے لایا جس سے گائے جیسی آواز نکلتی تھی لوگ کہنے لگے یہی ہے تمہارا اور موسیٰ کا الٰہ بس موسیٰ اس الٰہ کو بھول گیا ہے۔ “ (88)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہودہ جواب۔ چاہیے تو یہ تھا بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معذرت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرتے لیکن انھوں نے حسب عادت بہانہ سازی سے کام لیتے ہوئے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ اے موسیٰ دراصل ہم اپنی مرضی سے اس سنگین جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اے موسیٰ ہوا یوں کہ ہمارے پاس لوگوں کے زیورات تھے وہ ہمارے لیے بوجھ بن چکے تھے۔ ہم نے سوچا ان سے جان چھڑائی جائے ہم نے انھیں پھینک دیا۔ ہمارے ساتھ سامری نے بھی اپنا زیور پھینک دیا۔ پھر سامری نے انھیں آگ میں ڈال کر ایک ایسا بچھڑا بنایا۔ جس کے منہ سے عجب آوازیں آنے لگیں۔ سامری نے ہمیں کہا یہی تو تمہارا اور موسیٰ کا رب ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اسی کی تلاش میں کوہ طور کی جانب گئے ہیں۔ ہمارا رب تو خود بخود ہمارے پاس چل کر پہنچا ہے۔ ہم اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے لہٰذا ہم نے مجبور ہو کر اس کی پرستش شروع کی ہے اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو کوہ طور پر تشریف لے گئے آپ کی غیر حاضری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے اللہ تعالیٰ کی توحید سے ہی منہ موڑ لیا، جس خالق نے فرعون کی غلامی سے ان کو آزادی دی۔ جس کی قدرت سے سمندر کی موجوں نے سمٹ کر ان کے لیے راستے بنا دئیے تھے، جس مالک نے ان کے سامنے ان کے دشمن کو ذلیل کر کے مارا اس وحدہ لا شریک کو بھول گئے۔ اس محسن حقیقی سے بندگی کا رشتہ توڑ کر ایک بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ ان کی عقلیں اتنی اندھی تھیں کہ الٰہ بنانے کے لیے ان کی نظر انتخاب جس چیز پر پڑی وہ دھات کی بنی ہوئی بچھڑے کی مورتی تھی جو نہ بول سکتی تھی اور نہ کچھ سن سکتی تھی یہ اس کے سامنے شورو غل مچاتے ہیں اس کے منہ سے ایک بےمعنی آواز کے بغیر کچھ سنائی نہ دیتا۔ جس قوم نے ہر قدم پر آیات الٰہی کا مشاہدہ کیا تھا اس نیے یہ کیسے باور کرلیا کہ یہ ہمارا الٰہ ہے جس کا ڈھانچہ ان کے سامنے سامری نے تیار کیا تھا ؟۔ اس کی توجیہہ بجز اس کے اور کیا کی جاسکتی ہے کہ غلامانہ زندگی کا طویل عرصہ جو انہوں نے سر زمین مصر میں بسر کیا تھا۔ وہاں وہ اپنے قبطی آقاؤں کو گائے کی پوجا کرتے ہوئے اور ان کی مورتیوں کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ اس چیز نے گائے کے تقدس کا ایسا نقشہ ان کو لوح ذہن پر کندہ کردیا تھا کہ جہاں گائے یا بچھڑے کی کوئی مورتی نظر آئی وہاں وہ بےساختہ اس کے سامنے بچھتے چلے گئے۔ اور عقل وفہم کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو الٰہ تسلیم کرلیا۔ موجودہ تورات میں بچھڑا بنانے کا الزام حضرت ہارون (علیہ السلام) پر لگایا گیا ہے لیکن قرآن جو تمام سابقہ انبیاء کی صداقت اور ان کی عظمت و پاکیزگی کا نقیب ہے۔ اس نے ہمیں صراحت سے بتادیا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا دامن اس الزام سے بالکل پاک ہے یہ کارستانی سامری کی تھی جس نے بنی اسرائیل سے سونے کے زیور جمع کیے انہیں گلایا اور اس سے بچھڑے کا ڈھانچہ تیار کرلیا اور اپنی فنی مہارت سے اس میں یہ بات پیدا کردی کہ جب اس میں ہوا کا گزر ہوتا تو ایک بےمعنی سی بیں بیں کی آواز نکلتی اور یہ کوئی مشکل نہیں آج ہم بیسیوں کھلونے ایسے دیکھتے ہیں جو بےجان ہوتے ہوئے طرح طرح کی حرکتیں کرتے ہیں اور مختلف نوعیت کی آوازیں نکالتے ہیں۔ “ (ماخوذ از ضیاء القرآن ) مسائل 1۔ بنی اسرائیل احسان فراموش اور جلد باز قوم ہے۔ 2۔ بنی اسرائیل کی وجہ سے دنیا میں گائے پرستی کا شرک پھیلا۔ تفسیر بالقرآن الٰہ کے اوصاف : 1۔ الٰہ کا معنٰی معبود وہ ایک ہی ہے۔ ( البقرۃ : 163) 2۔ الٰہ کا معنٰی مشکل کشا، حاجت روا۔ ( المؤمن : 65) 3۔ اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام : 102) 4۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ الٰہ ایک ہی ہے (النحل : 51) 5۔ الٰہ تمہارا ایک اللہ ہی ہے۔ (طہ : 98) 6۔ کیا اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ شراکت داری سے پاک ہے۔ (الطور : 43)
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ بچھڑا ان کی بات کا نہ جواب دیتا ہے اور نہ انہیں نفع اور نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ “ (89)

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے بےہودہ بہانے کا جواب۔ بنی اسرائیل کی خدا فراموشی اور جہالت کا اندازہ لگائیں کہ انہیں کے زیورات سے ایک شخص بچھڑا بنا کر کہتا ہے کہ یہ ہے وہ الٰہ جس کی تلاش کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر گئے ہیں۔ جاہل قوم نے یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ یہ تو سامری کے کرتب کا کرشمہ ہے اور اس نے ہمارے زیورات سے اسے بنایا ہے۔ انھوں نے آنکھیں بند کرکے اس کی پوجا شروع کردی۔ درحقیقت گمراہ اقوام کا ابتدا ہی سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ سوچا ہی نہیں کرتے کہ ہمارے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بت اور ہم نے جن بزرگوں کو غسل دے کر اپنے ہاتھوں قبر میں اتارا ہے۔ دفن ہونے کے بعد اب کس طرح مدد کرسکتے ہیں۔ اگر وہ اس قابل ہوتے تو خود غسل کرکے اپنے قدموں پر چل کر قبر میں جاکر لیٹ جاتے۔ اسی طرح بت پرستوں کا معاملہ ہے جن بتوں اور مجسموں کو اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہیں۔ ان کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ مدفون بزرگوں کی روح ان میں حلول کرگئی ہے جس وجہ سے ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے، اعتکاف اور سجدہ کرتے اور نذرانے پیش کرتے ہیں۔ کہاں سے ثابت ہوا کہ ان میں بزرگوں کی روح حلول کرگئی ہے۔ اور پھر روحوں کے بارے میں کیا ثبوت ہے کہ یہ سنتے اور مدد کرتے ہیں ؟ سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود لوگ انھیں داتا، دستگیر، حاجت روا، مشکل کشا کہتے اور مانتے ہیں۔ افسوس کس قدر جہالت کی انتہا ہے۔ اسی جہالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے نہ انھیں نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی فائدہ دے سکتا ہے۔ پھر یہ کیسا معبود ہے ؟ افسوس جب انسان شرک میں مبتلا ہوجائے تو اس کی عقل کام نہیں کرتی اسی حقیقت کی قرآن مجید نے نشاندہی فرمائی ہے۔ ” کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں ؟ اے پیغمبر ﷺ فرما دیجیے تم اپنے شرکاء کو بلاؤ اور میرے بارے میں تدبیر کرو اور مجھے مہلت نہ دو “ [ الاعراف : 195] مسائل 1۔ بت اور مدفون بزرگ کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے ہیں اور نہ قیامت تک جواب دے سکیں گے۔ 2۔ بت اور مدفون بزرگ کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔
Ayahs 20:90–94

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

” ہارون پہلے ہی انہیں سمجھا چکے تھے کہ لوگو ! تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو تمہارا رب تو رحمن ہے پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ (90)

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے ہاں واپس نہ آجائے۔ (91)

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ نے فرمایا اے ہارون کس بات نے جب آپ نے دیکھا تو انہیں منع کیوں نہ کیا ؟ (92)

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کس چیز نے تمہیں روکا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ؟ کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ؟ (93)

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون نے جواب دیا اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور میرے سر کے بال نہ کھینچو مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ آپ آکر کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔ “ (94)

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے جھوٹے معبود کی حقیقت بتلانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تلخی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم اور ان کے نمائندوں کو انتباہ کرنے کے بعد فارغ ہوئے تو انھوں نے توحید کی غیرت میں آکر اپنے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی داڑھی اور سر کے بالوں کو کھینچتے ہوئے کہا اے ہارون ! جب یہ لوگ آپ کے سامنے شرک کر رہے تھے تو آپ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ ان کو شرک کرنے سے نہ روکے اور تجھے کون سی رکاوٹ پیش آئی کہ نیابت کرنے کی بجائے میری نافرمانی کرے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے مادر زاد بھائی ! میری داڑھی اور سر کے بال چھوڑ کر میری بات سنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس بات سے ڈر گیا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ میں نے آپ کا انتظار کرنے کی بجائے بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ پیدا کردیا ہے۔ میں نے اپنی حد تک انھیں بچھڑے کی پوجا سے بہت روکا مگر یہ رکنے کی بجائے اور زیادہ بڑھ گئے۔ قریب تھا کہ یہ مجھے جان سے مار ڈالتے۔ لہٰذا آپ یہ انداز اختیار کرکے مجھے ظالموں کے ساتھ شریک نہ کریں اور نہ ہی دشمنوں کو مجھ پر خوش ہونے کا موقع دیں۔ بعض لوگوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے اس فرمان کہ میں اس بات سے ڈر گیا کہ قوم میں تفرقہ پیدا نہ ہو سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ قوم کے اتحاد کی خاطر کچھ عرصہ کے لیے شرک بھی گوارا کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایسا استدلال ہے کہ جس سے پورے دین کی بنیاد منہدم اور نبوت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) کی تشریف آوری کا مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید کا ابلاغ کرنا اور لوگوں کو شرک سے روکنا تھا اسی لیے قرآن مجید میں اتحاد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے : کہ اللہ کی رسّی کے ساتھ چمٹے رہو گویا توحید ہی اتحاد کی بنیاد ہے۔ سب کے سب انبیاء ( علیہ السلام) اسی غرض کے لیے مبعوث کیے گئے اور یہی انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں کا بنیادی اختلاف تھا۔ (وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُوْلٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) [ الانبیاء : 25] ” اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر یہ کہ ہم نے وحی بھیجی اس کی طرف کہ بلاشبہ نہیں ہے کوئی الٰہ نہیں میرے سوا بس میری عبادت کیا کرو۔ “ یہاں تفرقہ سے مراد عام قسم کے اختلافات اور فرقہ بندی نہیں بلکہ قتل و غارت ہے۔ جس سے حضرت ہارون (علیہ السلام) خوفزدہ ہوئے اور انھوں نے سوچا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چند دنوں کے لیے کوہ طور سے واپس آجائیں گے۔ جونہی واپس تشریف لائیں گے تو ہم مل کر ان لوگوں کو شرک سے روکیں گے۔ چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے تو انھوں نے فرمایا کہ اے میری قوم ! تمہارا بچھڑے کو معبود بنانا بہت بڑا ظلم ہے۔ جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو۔ تمہارے لیے تمہارے رب کے ہاں یہی توبہ ہے۔ اس پر عمل کرو یہی تمہارے رب کے نزدیک بہتر ہے۔ (البقرۃ : 54)
Ayahs 20:95–96

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

” موسیٰ نے کہا اور سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ (95)

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے جواب دیا میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں کو نظر نہ آئی پس میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی اور اس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے ایسا ہی سمجھایا۔ “ (96)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ہارون (علیہ السلام) سے وضاحت طلب کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری کو مخاطب کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ یہ سامری نے جرم کیا ہے۔ انھوں نے بڑے جلال میں آکر سامری سے استفسار فرمایا کہ اے سامری ! تو نے بنی اسرائیل کو کیوں گمراہ کیا ؟ سامری نے کہا میں نے ایک ایسی چیز دیکھی جسے لوگ نہ دیکھ پائے۔ میں نے وہاں سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اسے پگھلے ہوئے زیورات میں ڈال کر بچھڑا بنایا اور یہ سب کچھ میرے اپنے دل و دماغ کا کیا دھرا ہے۔ سامری کے الفاظ اور انداز سے معلو ہوتا ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جلال سے ڈر کر اس بات کا اعتراف کیا کہ اس جرم میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں بلکہ یہ میرے ہی نفس کی شرارت ہے۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مفسرین نے بڑی معرکہ آراء بحث کی ہے۔ ایک طبقہ کا خیال ہے ” اَثَرَ الرُّسُوْلِ “ سے مراد حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) کے نقش قدم ہیں۔ جب انھوں نے ڈوبتے ہوئے فرعون کے منہ میں مٹی ڈالی تھی تو جبرئیل امین (علیہ السلام) کی سواری جہاں قدم رکھتی وہاں سبزہ اگ آتا۔ سامری نے یہ منظر دیکھ کر وہ مٹی اٹھائی اور بعد ازاں بنی اسرائیل کے زیورات کو پگھلا کر ایک بچھڑا بنایا جس کے منہ میں یہ مٹی ڈالی تو وہ بولنے لگا۔ دوسرا طبقہ اس معاملے میں اس حد تک آگے گزر گیا کہ انھوں نے اسرائیلی روایات کو بنیاد بنا کر حضرت ہارون کو اس کام میں ملوث کر ڈالا حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ بنی اسرائیل کے زیورات سے سامری نے بچھڑا بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ اس مٹی کی نسبت جوڑی جس کو اس نے بچھڑے کے منہ میں ڈالا تھا۔ اس میں مٹی کا کوئی کمال نہ تھا یہ سامری کی فنکاری کا نتیجہ تھا کہ اس نے زیورات کو ڈھال کر اس تکنیک کے ساتھ بچھڑے کا پتلا تیار کیا کہ جب اس کی ناک کی طرف سے ہوا داخل ہوتی تو اس کے منہ سے مختلف قسم کی آوازیں آتی۔ جس سے متاثر ہو کر جاہل اور ضعیف الاعتقاد لوگوں نے اسے معبود سمجھ لیا۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

” موسیٰ نے کہا اچھا تو جا اب زندگی بھر یہی کہتا رہے گا کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور دیکھ اپنے اس خدا کو جس پر تو جم کر بیٹھا ہوا تھا اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے سمندر میں پھینک دیں گے۔ “ (97)

فہم القرآن ربط کلام : سامری اور اس کے بنائے ہوئے بچھڑے کا انجام۔ جب سامری نے اعتراف جرم کرلیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے بد دعا دی کہ تو زندگی بھر یہ کہتا پھرے گا۔ کہ لوگو ! میرے قریب نہ آنا۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے آخرت کے عذاب کی تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسا دن اور ایسا عذاب ہوگا جو ٹلنے والا نہیں پھر اسے کہا کہ اب اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے اپنے معبود کی طرف دیکھ جس کے سامنے تو اعتکاف کرتا تھا۔ ہم اسے ہر صورت جلا کر راکھ بنا دیں گے اور پھر اس راکھ کو تیرے سامنے سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ جہاں تک سامری کی سزا کا تعلق ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے اس کی یہ حالت ہوگئی کہ پہلے تو کوئی شخص اس کے قریب نہیں جاتا تھا اگر کوئی بھول کر اس کے قریب جاتا تو سامری چیخ چیخ کر کہتا کہ خدارا میرے قریب نہ آنا کیونکہ تیرے قریب آنے سے میری اذّیت میں اضافہ ہوجاتا ہے بالآخر سامری اسی اذّیت ناک تکلیف میں مرا۔ قیامت کے دن جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اس نے مشرک کو کبھی معاف نہیں کرنا۔ مسائل 1۔ سامری اور اس کے پیروکار بچھڑے کے سامنے اعتکاف کی شکل میں بیٹھتے تھے اور شروع سے مشرکین کا یہی طریقہ رہا ہے۔ 2۔ جھوٹے اِلٰہ کو جب نیست و نابود کیا گیا تو وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔
Ayahs 20:98–101

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

” لوگو تمہارا معبود تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (98)

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اے نبی اس طرح ہم گزرے ہوئے حالات کی خبریں آپ کو سناتے ہیں اور ہم نے اپنی طرف سے آپ کو ایک ” ذکر “ عطا کیا ہے۔ (99)

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی اس سے منہ موڑے گا۔ وہ قیامت کے دن بھاری بوجھ اٹھائے گا۔ (100)

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن ان کے لیے بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا۔ “ (101)

فہم القرآن ربط کلام : معبود باطل کی حیثیت بتلانے اور اس کا انجام دکھلانے کے بعد سچے معبود کا تعارف کر وایا گیا ہے۔ یہ کتنی عظیم حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایک واقعہ بھی داستاں گوئی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو اجزاء کی شکل میں مختلف مقامات پر بیان کرتے ہوئے موقع اور مضمون کی مناسبت سے ایسی نصیحت کی جاتی ہے جو انسان کے دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں پہلے معبود باطل یعنی بچھڑے کے بارے میں بتلایا کہ ناعاقبت اندیش لوگوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ بچھڑے کا مجسمہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔ جس کے ثبوت کے لیے یہ بھی وضاحت کردی گئی کہ اسے موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری کے سامنے ہی ریزہ ریزہ کرتے ہوئے سمندر میں پھینک دیا۔ جسے لوگ حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر پکار رہے تھے وہ اپنا وجود بھی نہ بچا سکا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا تعارف کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! اللہ ہی تمہارا حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ! یہ گزرے ہوئے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں کیونکہ اس میں نصیحت ہے اور اس نصیحت کو قرآن مجید کی صورت میں ہم نے آپ پر نازل کیا ہے۔ جس نے اس نصیحت سے اعراض کیا وہ قیامت کے دن اس گناہ کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ یہ لوگ ہمیشہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے بدترین سزاؤں میں مبتلا ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہاں ذکر سے پہلی مراد عقیدۂ توحید ہے جو قرآن مجید کی اولین بنیادی نصیحت ہے۔ باقی نصیحتیں اور اعمال اسی کی تفصیل اور تقاضے ہیں (وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ اَتَےْتُ النَّبِیَّ ﷺ وَعَلَےْہِ ثَوْبٌ اَبْےَضُ وَھُوَ نَآءِمٌ ثُمَّ اَتَےْتُہُ وَقَدِ اسْتَےْقَظَ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ عَلٰی رَغْمِ اَنْفِ اَبِی ذَرٍّ وَّکَانَ اَبُوْ ذَرٍّ اِذَا حَدَّثَ بِھٰذَا قَالَ وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ ) [ رواہ البخاری : باب الثیاب البیض ] ” حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت سفید چادر لیے ہوئے آرام فرما رہے تھے۔ میں دوبارہ حاضر ہوا تو آپ جاگ چکے تھے۔ ارشاد ہوا جس شخص نے لا الہ الا اللہ پڑھا اور پھر اسی عقیدے پر فوت ہوا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے عرض کیا چاہے وہ چور ہو یا زانی ؟ فرمایا ہاں چور ہو یا بدکار۔ میں نے دوبارہ تعجب سے پوچھا اگر وہ چور اور بدکار ہو تب بھی ؟ فرمایا اگرچہ وہ زانی اور چور ہو تب بھی میرے تیسری دفعہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے انہیں الفاظ کا اعادہ کرتے ہوئے یہ محاورہ استعمال فرمایا۔ اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ توحید والا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا) ۔ حضرت ابوذر ؓ جب بھی آپ کا فرمان نقل کرتے تو اعزاز کے طور پر یہ الفاظ دہرایا کرتے تھے کہ اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہوجائے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ حق نہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ذکر اور نصیحت کے طور پر نازل فرمایا ہے۔ 4۔ جس نے اس ذکر سے انحراف کیا وہ اس جرم کی قیامت کے دن سزا پائے گا۔
Ayahs 20:102–104

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

” اس دن صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں پتھرائی ہوئی ہوں گی۔ (102)

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ دنیا میں تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔ (103)

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے۔ اس وقت ان میں سے سے پختہ یقین کے ساتھ کہنے والا کہے گا کہ تمہاری دنیا کی زندگی صرف ایک دن کی تھی۔ “ (104)

فہم القرآن ربط کلام : جس دن مجرموں نے اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہے اس دن کے برپا ہونے کی کیفیت اور مجرموں کا حال۔ مجرموں کے لیے قیامت کا دن اس قدر سخت اور بھاری ہوگا کہ اس دن ان کی آنکھوں کی سفیدی نیلی ہوجائے گی۔ اور ان کے ڈیلیپتھرا جائیں گے وہ سرگوشی اور گنگناہٹ کے انداز میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم دس دن سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ جو ان میں سب سے زیادہ اعتماد کے ساتھ بات کرے گا وہ دوسروں کو کہے گا کہ ہم صرف ایک ہی دن دنیا میں ٹھہرے تھے۔ جو کچھ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ قیامت کا آغاز صور میں پھونک مارنے سے ہوگا جونہی اسرافیل (علیہ السلام) فرشتہ صور میں پھونک مارے گا تو لوگ جہاں جہاں دفن اور دبے ہوئے ہوں گے اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف اس طرح دوڑیں گے جس طرح شکاری اپنے شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ (یٰس : 51) جب لوگ محشر کے میدان میں اکٹھے کیے جائیں گے تو رب ذوالجلال کی جلالت اور تمکنت کے خوف کی وجہ سے مجرموں کی آنکھیں نیلی ہونے کے ساتھ پتھرا جائیں گی۔ مجرم اپنے اپنے گناہوں کے مطابق اپنے پسینے میں ڈبکیاں لے رہے ہوں گے۔ اس حالت میں نہ صرف وہ دنیا کی عیش و عشرت کو بھول جائیں گے بلکہ انھیں یہ بھی یاد نہیں ہوگا کہ وہ دنیا میں کتنی مدت ٹھہرے ہیں۔ خوف کی حالت میں سرگوشی اور کنگناہٹ کے انداز میں ایک دوسرے سے کہیں گے ہم دنیا میں دس دن ٹھہرے ہونگے لیکن ان میں جس کی بات قابل اعتماد سمجھی جائے گی وہ کہے گا کہ دس دن کی بجائے ہم صرف ایک دن ٹھہرے ہیں۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ یُحْشَرُالنَّا سُ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب کَیْفَ الْحَشْر ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس دن معاملہ اس کے برعکس ہوگا کہ کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھ نہیں سکے گا۔ “ مسائل 1۔ محشر کے دن کی سختی کی وجہ سے مجرموں کی آنکھیں نیلی اور پتھرا جائیں گی۔ 2۔ مجرم خوف کی حالت میں نہایت ہی آہستہ آواز میں کہیں گے ہم دنیا میں دس دن یا صرف ایک ہی دن ٹھہرے تھے۔ تفسیر بالقرآن محشر کے دن کی ہولناکیاں : 1۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعۃ : 1) 2۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : 1) 3۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187) 4۔ لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ قیامت کا زلزلہ بہت سخت ہے۔ (الحج : 1) 5۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 4) 6۔ قیامت کے دن پہاڑ اون کی طرح ہوں گے۔ (القارعۃ : 5) 7۔ قیامت کا دن انتہائی دردناک ہوگا۔ (ھود : 26) 8۔ زمین کو ہلا کر تہہ وبالا کردیا جائے گا۔ (واقعۃ : 3، 4) 9۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر غبار کی طرح ہوجائیں گے۔ (الواقعۃ : 5، 6)
Ayahs 20:105–107

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

” یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ یہ پہاڑکہاں چلے جائیں گے فرمادیں کہ میرا رب ان کو دھول بناکر اڑا دے گا۔ (105)

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ (106)

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

اس میں تم کوئی اونچ نیچ نہ دیکھ پاؤ گے۔ “ (107)

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کی غلط فہمی کا ازالہ۔ رسول کریم ﷺ نے کفار کے سامنے حشر کی ہولناکیوں کا تذکرہ کیا تو انھوں نے سوال اٹھایا۔ بتائیں کہ پہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ اور جن کی بلندیاں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اتنے بڑے، بڑے پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ جس کا جواب دینے کے لیے آپ ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ میرا رب انھیں دھول کی طرح اڑا دے گا اور زمین کو اس طرح ہموار اور چٹیل میدان بنائے گا کہ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھ پاؤ گے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ یہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے، اور یہ روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑنا شروع کردیں گے۔ (القارعۃ : 5) اس دن اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو بدل ڈالیں گے اور ہر کسی کو اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہوگا۔ ( ابراہیم : 48) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پہاڑوں کو ریت کے ذرات بنا کر اڑا دے گا۔ 2۔ زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ 3۔ دیکھنے والا زمین میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھ پائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن پہاڑوں کی کیفیّت : 1۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : 47) 2۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : 14) 3۔ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند گہنا دیا جائے گا اور سورج چاند کو جمع کردیا جائے گا۔ (القیامۃ : 6 تا 8) 4۔ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ تارے بےنور ہوجائیں گے۔ پہاڑچلائے جائیں گے۔ (التکویر : 1 تا 3)
Ayahs 20:108–110

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

” اس دن سب لوگ منادی کی پکار پر چلے آئیں گے کوئی اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ رحمان کے آگے آوازیں دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ (108)

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن سفارش کارگر نہ ہوگی الّایہ کہ کسی کو رحمان سفارش کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے۔ (109)

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا حال جانتا ہے اور دوسروں کو اس کا علم نہیں۔ “ (110)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ محشر کے دن لوگوں کی حالت۔ جونہی اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو جن و انس اس آواز کی طرف بھاگے جا رہے ہوں گے۔ اس آواز میں اس قدر کشش اور خوف ہوگا کہ کوئی شخص دائیں، بائیں جانے اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف اس آواز کی طرف ہی سرپٹ چلا جا رہا ہوگا۔ لوگوں پر محشر کا خوف اس قدر حاوی ہوگا کہ کوئی بھی رب رحمٰن کے سامنے اونچی بولنے کی سکت نہیں کر پائے گا۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوں گے کہ ان کے چلنے اور بولنے کی آواز ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اس دن مشرک اور کافر کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہیں دے گی اور نہ کوئی ان کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے سفارش کرنے والے کی سفارش مفید ثابت ہوگی جن سے بتقاضائے بشریت چھوٹے بڑے گناہ ہوئے ہوں گے مگر ان کے لیے بھی وہی شخص سفارش کر پائے گا جس کو رب رحمٰن اجازت دے گا اور سفارشی وہی انداز اور الفاظ اختیار کرے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سننا پسند فرمائیں گے۔ اس فرمان میں ایک طرف یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اے لوگو ! آج تم داعی حق کی بات سننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ لیکن ایساوقت آنے والا ہے کہ جب تم ایک داعی کی آواز پر بےچوں و چراں اپنے رب کے حضور دوڑے چلے آؤ گے۔ لیکن مجرموں کو اس دن داعی کی دعوت قبول کرنے کا عذاب کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ یہاں مجرموں کے اس عقیدہ کی نفی بھی کردی گئی ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمارے معبود اور بزرگ ہمیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو مسترد نہیں کر پائے گا۔ ان کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، بزرگ ہو یا اللہ کا رسول۔ کوئی بھی رب رحمٰن کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ سفارش وہی کرسکے گا جسے رحمٰن اپنے کرم سے اجازت عطا فرمائے گا۔ اجازت ملنے کے باوجود سفارش کرنے والا اسی کے حق میں سفارش کرپائے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائے گا۔ اس کے لیے یہ شرط بھی لازم ہوگی کہ وہ وہی الفاظ اور انداز اختیار کرے جو انداز اور الفاظ آداب خداوندی کے مطابق ہوں گے۔ کسی کو سفارش کرنے کی اجازت دینے کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ مجرم کے حالات سے بیخبر ہوگا۔ وہ تو لوگوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔ غلط سفارش کی نفی کرتے ہوئے قرآن مجید نے گفتگو کا ایسا پر جلال اور دو ٹوک انداز اختیار فرمایا ہے جس میں ابہام کا دور دور تک تصور نہیں پایا جاتا۔ اس نفی میں اس قدر انتباہ اور خوف کا انداز پایا جاتا ہے کہ جس کے دل میں کھوٹ اور اس کے سامنے کوئی مفاد نہیں وہ اس عقیدہ کے خلاف زبان کھولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آئیں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے ان پر ایمانداری کے ساتھ غور کریں۔ (مَنْ ذَالَّذِیْ ےَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلَّا بِإِذْنِہٖ ) [ البقرۃ : 255] کون ہے جو اسکی جناب میں اسکی اجازت کے بغیرسفارش کرے۔ (ےَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إلِاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الَّرحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلًا۔ ) [ طہ : 109] ” اس روز شفاعت فائدہ مندنہ ہوگی، اِلا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔ “ (ےَوْمَ ےَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰءِکَۃُ صَفًّا لَّا ےَتَکَلَّمُوْنَ إِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ ذَالِکَ الْےَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ با۔ ) [ النبا : 38 تا 39] ” جس دن جبریل اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔ وہ دن برحق ہے اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے۔ “ (ےَوْمَءِذٍ ےَتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہُ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا ھَمْسًا۔ ےَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلًا۔ ) [ طہ : 108، 109] ” اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ اس روز شفاعت فائدہ مندنہ ہوگی إلا یہ کہ کسی کو رحمٰن اسکی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔ “ (اَ ےُشْرِکُوْنَ مَا لَا ےَخْلُقُ شَےْأً وَّ ھُمْ ےُخْلَقُوْنَ وَلَا ےَسْتَطِےْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ ےَنْصُرُوْنَ وَإِنْ تَدْعُوْھُمْ إِلَی الْھُدٰی لَا ےَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآءٌ عَلَےْکُمْ اََدَعَوْتُمُوْ ھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ إِنَّ الَّذِےْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْےَسْتَجِےْبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِےْنَ ) [ الاعراف : 191 تا 194] ” کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہودونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے۔ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے مانگ کردیکھو یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔ “ روز محشر نیک لوگوں کی سفارش گنہگاروں کے بارے میں سوفیصد برحق ہے۔ شفاعت کا انکار کرنا کسی صاحب علم کے لیے ممکن نہیں مگر کچھ علما یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے شعوری یا غیر شعوری طور پر ان اصولوں کو فراموش کردیتے ہیں حالانکہ سفارش کرنے والا بال برابر بھی ان سے انحراف نہیں کرسکے گا۔ مسائل 1۔ قیامت کے دن لوگ داعی کی آواز پر بےچوں و چراں اکٹھے ہوں گے۔ 2۔ کوئی شخص رب رحمٰن کے سامنے اونچی آواز سے بولنے کی سکت نہیں پائے گا۔ 3۔ قیامت کے دن کوئی بھی رب رحمٰن کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکے گا۔ 4۔ سفارش کرنے والا رب رحمٰن کی اجازت کے مطابق ہی سفارش کرے گا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن سفارش کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے : 1۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ : 255) 2۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : 38) 3۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : 109)
Ayahs 20:111–112

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

” لوگوں کے چہرے اس ہمیشہ زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والے کے آگے جھک جائیں گے یقیناً وہ شخص ناکام ہوگا جو ظلم کا بار اٹھائے ہوئے ہوگا۔ (111)

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور اس شخص کو کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہیں ہوگا جو نیک عمل کرے اور وہ مومن ہو۔ “ (112)

فہم القرآن ربط کلام : محشر کے دن لوگوں کی جسمانی کیفیت۔ حشر کے دن ناصرف لوگوں کی آواز پست ہوگی بلکہ ہر کوئی ” رَبِّ نَفْسِیْ ، رَبِّ نَفْسِیْ “ کہتا ہوا رب ذوالجلال کے سامنے جھکا جا رہا ہوگا۔ لیکن اس وقت جھکنے اور معافی مانگنے کا ظالم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ لوگو ! تم قیامت کا انکار کرو یا اقرار۔ بہر صورت تمہیں اس رب کے حضور پیش ہونا ہے جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم رہنے والا ہے۔ اس کی ذات، صفات اور اقتدار میں کبھی کمزوری واقع ہوئی اور نہ ہوگی۔ بالآخر تمہیں اسی ذات کے سامنے جھکنا اور پیش ہونا ہے۔ لیکن یاد رکھو جو شخص دنیا میں اس کی ذات اور حکم کے سامنے نہ جھکا اسے قیامت کے دن جھکنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہر ظالم اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا۔ ہاں جس شخص نے حقیقی ایمان کے ساتھ صالح اعمال اختیار کیے اسے کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہیں ہوگا۔ گویا کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور نیک کو اس کی نیکی کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ یہاں ظلم سے پہلی مراد کفر اور شرک ہے جو کسی صورت بھی معاف نہیں ہوگا۔ اسی بات کو قرآن مجید نے اس طرح بھی بیان فرمایا کہ جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے پائے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی وہ بھی اسے اپنے سامنے پائے گا۔ (الزلزال : 7۔ 8) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ اور قائم و دائم ہے اور وہ ہمیشہ زندہ اور قائم دائم رہے گا۔ 2۔ جس نے ظلم کیا وہ نامراد ہوگا۔ 3۔ جس نے حقیقی ایمان کے ساتھ نیک اعمال کیے اسے کسی زیادتی یا حق تلفی کا اندیشہ نہیں ہوگا۔