Ayahs 19:1–2فہم القرآن
ربط کلام : سورة مریم بھی حروف مقطعات سے شروع ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حروف مقطعات کا حقیقی معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جن لوگوں نے بزرگوں کے اقوال سے ان کا معنٰی متعین کرنے کی کوشش کی ہے اسے فکری کاوش کے سوا کوئی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ حقیقت یہی ہے کہ اس کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
مکہ معظمہ میں مسلمانوں کے حالات اس قدر مخدوش ہوچکے تھے کہ دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی جس سے یہ واضح ہو کہ اللہ کی توحید کا غلبہ اور اسلام کی تحریک کامیاب ہو سکے گی۔ ان حالات میں سورة مریم نازل ہوئی جس کی ابتداء اس بات سے کی جا رہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم آپ کے سامنے زکریاکا واقعہ ذکر کرتے ہیں جو میرا بندہ تھا۔ آپ کے رب نے اس وقت اس پر اپنی رحمت اور شفقت کا نزول فرمایا جب وہ اپنی عمر کے اعتبار سے اولاد کے قابل نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑھاپے میں بیٹا عنایت فرمایا۔ آپ بھی میرے بندے اور رسول ہیں۔ اس لیے آپ کو اسباب کے فقدان اور ظاہری حالات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اسباب آپ کے رب کے محتاج اور حالات اس کے حکم کے تابع ہیں۔ عنقریب وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ توحید کے منکروں، اسلام کے مخالفوں اور آپ کے دشمنوں کو ناکام اور آپ کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز فرمائے گا۔
سیدنا زکریا (علیہ السلام)
قرآن حکیم حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر خیر چار سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے جن کے حوالے درج ذیل ہیں :
سورۂ آل عمران : 37 تا 41 الانعام : 85 مریم : 2 تا 11 الانبیاء : 89۔ 90
حضرت زکریا (علیہ السلام) کا پیشہ :
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ کَانَ زَکَرِیَّا نَجَّارًا) [ رواہ المسلم : کتاب الانبیاء ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا زکریا (علیہ السلام) نجاری کا پیشہ کرتے تھے۔ “
مسائل
1۔ حروف مقطعات کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
2۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والد گرامی اور اپنے وقت کے عظیم نبی تھے۔
Ayahs 19:3–4فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے جو خاص الخاص رحمت فرمائی اس کا ذکر۔
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک 120 سال کے قریب ہوچکی تھی اور ان کی زوجۂ مکرمہ 98 سال کے قریب اور جسمانی طور پر اولاد جنم دینے کے قابل نہ تھیں یعنی وہ کلیتاً بانجھ تھیں۔ ان حالات کے باوجود حضرت زکریا (علیہ السلام) ” اللہ “ کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ یہی انبیاء (علیہ السلام) اور نیک لوگوں کا شیوہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں وہ اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا کرتے۔ اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعائیں کیے جا رہے تھے۔ سورة آل عمران آیت 37 تا 39 میں ذکر ہے کہ ایک دن ان کے سامنے عجب واقعہ پیش آیا۔ جب وہ مسجد اقصیٰ کے ایک حجرہ میں اپنی اہلیہ کی بھانجی حضرت مریم جو زکریا (علیہ السلام) کی زیر کفالت تھیں۔ ان کے پاس تشریف لائے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ معصوم بچی کے پاس ایسے پھل موجود ہیں جن کا موسم نہیں تھا۔ فرمانے لگے۔ مریم ! یہ پھل کہاں سے آئے ؟ حضرت مریم [ نے عرض کیا خالو ! یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے یہ سنتے ہی زکریا (علیہ السلام) کے دل پر چوٹ لگی جس سے دل کے زخم تازہ ہوئے جذبات کا طلاطم بہہ نکلا اور اسی وقت دبی زبان میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے لگے الٰہی میں بوڑھا ہوں میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں میرے بال سفیدی سے چمک رہے ہیں، میری بیوی بانجھ ہے اس کے باوجود میں تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوا۔ الٰہی مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ میرے رب ! بیٹا نیک سیرت اور تیرا پسندیدہ ہونا چاہیے۔ میرے رب ! مجھے اپنی جناب سے صالح اولاد عنایت فرما اور تو ہی دعاؤں کو سننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت فرشتے کے ذریعے خوشخبری دی کہ تجھے بیٹا عنایت کیا جاتا ہے۔ جس کا نام یحییٰ ہوگا جو سردار، پاک باز اور نبی ہوگا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے تعجب سے پوچھا یہ بات کس طرح پوری ہوگی ؟ فرشتے نے جواب دیا میں صرف اسی قدر کہہ سکتا ہوں کہ حالات کچھ بھی ہوں تمہارے ہاں ضرور بیٹا ہوگا۔ کیونکہ اللہ کا فیصلہ ہے اس کا فرمان ہے کہ میرے لیے یہ بہت آسان ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی پروردگار کوئی نشانی عطا فرما جس سے بشارت کے ظہور کا علم ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین دن تک بات نہ کرسکو صرف اشاروں سے ہی اپنا مطلب ادا کر پاؤ گے۔ اس لیے ان ایام میں اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زیادہ مشغول رہنا۔ زکریا (علیہ السلام) کا انداز اور عاجزی اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئی کہ ہمیشہ ہمیش کے لیے اس کا تذکرہ قرآن مجید میں محفوظ کردیا گیا۔
دعا کرنے کے آداب :
(اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُےْفَۃً ) [ الاعراف : 55]
” اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارو۔ “
(وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًااِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) [ الاعراف : 56]
” اللہ کو خوف اور امید سے پکارو یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہوتی ہے۔ “
(قُلْ یٰعِبَا دِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ) [ الزمر : 53]
” اے پیغمبر ﷺ میرے بندوں سے فرما دیجیے جو گناہ کر بیٹھے ہیں اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا یقیناً اللہ تعالیٰ ہی سب گناہوں کو بخشتا ہے اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “
دعا کے آداب میں شکرو حمد، درود اور توبہ استغفار کے ساتھ فقیر کی شان اور اللہ تعالیٰ کی جلالت ومنزلت کا تقاضا ہے کہ رب کریم سے مانگتے وقت غایت درجے کی انکساری درماندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسکے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہیے۔
شاہ ولی اللہ ؓ نے لکھا ہے کہ دعا مانگنے والا اس بےبسی اور بےچارگی کا اظہار کرے جس طرح مردہ غساّل کے ہاتھ میں ہو۔
(رُوْحُ الدُّعَاءِ اَنْ یَّرَیٰ کُلَّ حَوْلٍ وَقُوَّۃٍ مِنَ اللّٰہِ وَےَصِےْرُ کَا لْمَیِّتِ فِیْ ےَدِ الْغُسَّالِ ) [ حجۃ اللّٰہ ]
” دعا کی روح یہ ہے کہ دعا کرنے والا ہر قسم کی طاقت وقوت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو تصور کرے اور اس کی قوت و عظمت کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح بےبس سمجھے جس طرح نہلانے والے کے ہاتھوں میت ہوتی ہے۔ “
(عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ رَبَّکُمْ حَیِیٌّ کَرِےْمٌ ےَسْتَحْیِیْ مِنْ عَبْدِہٖ إِذَارَفَعَ ےَدَےْہِ اَنْ یَّرُدَّھُمَا صِفْرًا) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب الدعاء ]
” حضرت سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارا رب نہایت ہی مہربان اور بڑا ہی حیا والا ہے۔ بندہ جب اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ کو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ “
مسائل
1۔ حضرت زکریا نے بڑی آہستگی کے ساتھ اپنے رب کو پکارا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بوڑھے اور بانجھ عورت کو اولاد عنایت کرسکتا ہے۔
3۔ دعا یقین اور اعتماد کے ساتھ مسلسل کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 19:5–6فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جیسا کہ اس سے پہلے عرض کیا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے مریم [ کے پاس بےموسم پھل دیکھ کر اسی وقت اور اسی جگہ نیک بیٹے کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو فرشتے کے ذریعہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ یہاں زکریا (علیہ السلام) کی دعا کے تذکرہ میں یہ اضافہ موجود ہے کہ انھوں نے جب دعا کی تو وہ آہستہ الفاظ یعنی دبی زبان میں دعا کر رہے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم [ کی موجودگی اور انتہائی غم، بےبسی کی وجہ سے انھوں نے دل ہی دل میں دعا کی۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کے انداز سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ دعا کرتے ہوئے آدمی کو اپنے رب کے حضور اپنی کم مائیگی اور بےبسی کا الفاظ میں بھی اظہار کرنا چاہیے۔ اس سے ایک طرف انسان کی طبیعت میں رقت پیدا ہوتی ہے اور دوسری طرف عقیدہ کی پختگی کا اظہار ہوتا ہے کہ میں محتاج ہوں اور میرا رب داتا ہے جس سے دعا کی قبولیت میں یقینی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے جب اس کیفیت کے ساتھ عاجزی اور بےبسی کی دعا کی الٰہی مجھے بیٹا عطا فرما جو تیرا محبوب اور میرا خلف الرشید بنے تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی زوجۂ مکرمہ کو صحت عطا کرتے ہوئے یحییٰ (علیہ السلام) عنایت فرمائے۔
جن کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے والے، اپنے رب کی انتہائی توجہ اور عاجزی کے ساتھ عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ سے بہت ہی ڈرنے والے تھے۔ دعا میں حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے اور آل یعقوب کے وارث کی حیثیت سے بیٹا طلب کیا تھا۔ وراثت پر بحث کرتے ہوئے اہل علم نے لکھا ہے یہاں وارثت سے مراد دنیوی وراثت نہیں ہے کیونکہ حضرت زکریا (علیہ السلام) محنت مزدوری کرکے اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک غریب پیغمبر کو اپنی دنیوی وراثت کی کیا فکر ہوسکتی ہے ؟ یہاں وراثت سے مراد نبوت کا علم اور مشن ہے۔ جس کے انبیاء (علیہ السلام) داعی اور وارث ہوتے ہیں۔ اسی لیے زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں آل یعقوب کا ذکر کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) خاندانی طور پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے تعلق رکھتے تھے۔
Ayahs 19:7–11فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انھیں فی الفور یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی گئی، حضرت زکریا کا نشانی طلب کرنا۔
سورۃ آل عمران میں ذکر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں اور زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملائکہ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی۔ اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کا نام یحییٰ رکھا۔ اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔
جب زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری ملی تو عرض کرنے لگے میرے رب ! میرے ہاں کس طرح بیٹا ہوگا جبکہ میں اور میری بیوی صحت کے اعتبار سے اولاد جنم دینے کے قابل نہیں ہیں۔ میں بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ چکا ہوں۔ یہاں تک کہ میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں اور میرے بال سفیدی سے چمک رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ اے میرے بندے زکریا ! کیا تو نے اپنے آپ پر غور نہیں کیا کہ میں نے تجھے پیدا کیا ہے جبکہ تیرا ذکر اور وجود ہی نہیں تھا۔ بیشک تو اور تیری بیوی بچہ جنم دینے کے قابل نہیں لیکن میرے لیے تجھے بچہ عنایت کرنا کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ میں خالق کل اور مسبب الاسباب ہوں۔ مخلوق اور اسباب میرے محتاج ہیں میں مخلوق اور اسباب کا محتاج نہیں ہوں۔ بیٹے کی خوشخبری دیتے۔ ہوئے ناصرف اللہ تعالیٰ نے اس کا نام یحییٰ بتلایا بلکہ یہ بھی وضاحت فرمائی کہ اس سے پہلے آج تک یہ کسی کا نام نہیں رکھا گیا۔ سَمِیًّا کا لفظ اوصاف کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کا نام بتلانے کے ساتھ اس کے بڑے بڑے اوصاف سے بھی آگاہ کردیا گیا۔ یاد رہے کہ عربی میں غلام کے چار مشہور معانی ہیں۔
1۔ بیٹا۔ 2۔ نوعمر لڑکا۔ 3۔ زر خرید آدمی غلام۔ 4۔ تابع دار
انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور انسان ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی ہونے کے ساتھ ایک انسان ہی تھے۔ جو کام انسان کی سوچ سے ماورا اور اس کے خیال میں ناممکن ہو۔ اس کے بارے میں اسے خوشخبری دی جائے تو وہ اس کے ظہور کے قرائن اور شواہد کا طلب گار ہوتا ہے تاکہ اس کی طبیعت اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ اور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اس پر یقین آجائے۔ اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے بھی موجود ہے۔ جب انھوں نے عرض کی کہ میرے رب ! آپ کس طرح مردوں کو زندہ کریں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے ابراہیم ! کیا تو بھی ایمان نہیں رکھتا ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواباً عرض کیا ” کیوں نہیں “ میرا پوری طرح ایمان ہے کہ آپ مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں اور کریں گے لیکن میں نے اپنے دل کے اطمینان کے لیے یہ عرض کی ہے۔ جس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چار مختلف پرندے اپنے ساتھ مانوس کرنے کے بعد انھیں ذبح کرکے ان کا گوشت پہاڑ کی مختلف جگہوں پر رکھنے کا حکم ہوا۔ جس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورة البقرۃ آیت 260 کی تلاوت کیجیے۔
ایسی ہی کیفیت میں حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی ولادت کی نشانی عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ بچے کی ولادت کی نشانی یہ ہے کہ آپ تین راتیں تندرست ہونے کے باوجود بات چیت نہیں کرسکیں گے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی صبح و شام خوب حمد وثناء کریں۔
سورة آل عمران میں تین ایام کا ذکر ہے کہ آپ تین دن رات تک اشارے کے سوا بات نہیں کر پائیں گے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ جب زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی گئی تو اسی رات اللہ تعالیٰ نے ان کی بیوی کو صاحب امید کردیا قرآن مجید کے الفاظ سے یہ مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے کہ جو نہی زکریا (علیہ السلام) کی اہلیہ صاحب امید ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا کی تین دن کے لیے زبان بند کردی تاکہ زکریا (علیہ السلام) بیٹے کی خوشخبری پاکر تین دن تک معمولات سے ہٹ کر اپنے رب کی غیر معمولی حمد وثناء اور اس کا شکر ادا کرسکیں۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر کی فضیلت :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی أَنَا مَعَ عَبْدِيْ حَیْثُمَا ذَکَرَنِيْ وَتَحَرَّکَتْ بِيْ شَفَتَاہُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ لاتحرک بہ لسانک الخ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب اس کے ہونٹ میرے ذکر میں حرکت کریں اور وہ جہاں کہیں بھی میرا ذکر کرے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کسی سبب کے بغیر سب کچھ کرسکتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی قدرت کی نشانی طلب کرنا جائز ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اولاد اور کوئی نعمت عطا فرمائے تو اس کی حمد وشکر کرنا چاہیے۔
4۔ انسان کو صرف اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنا چاہیے اس کے علاوہ کوئی کچھ نہیں دے سکتا۔
تفسیر بالقرآن
یحییٰ ( علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ :
1۔ ہم نے اسے لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی اور اپنی جناب سے پاکیزگی اور شفقت عطا فرمائی تھی وہ پرہیزگار تھے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے، سرکش اور نافرمان نہ تھے۔ (مریم : 12 تا 14)
2۔ یقیناً اللہ تجھے یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کریں گے، سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے، نیکوکاروں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : 39)
3۔ زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس سب کے سب نیکوکاروں میں سے تھے۔ (الانعام : 89)
Ayah 19:12فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو ہدایات :
قرآن مجید کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں نبوت کے منصب پر فائز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کتاب سے سرفراز فرمایا تھا۔ کیونکہ اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے اسے بچپن میں ہی حکمت و دانائی اور قوت فیصلہ عنایت کی تھی اور انھیں حکم دیا تھا کہ کتاب اللہ کو فکری اور عملی طور پر پوری قوت کے ساتھ پکڑے رکھنا یعنی اس کے ابلاغ، نفاذ اور اس پر عمل کرنے میں آپ سے دانستہ طور پر سستی اور کوتاہی سرزد نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن مجید کے ظاہری الفاظ سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں یہ چیزیں عنایت کی گئیں تھیں۔ قریب قریب اس طرح کے الفاظ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ ارشاد ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی رشد و ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا اور ہم ابراہیم کو اچھی طرح جاننے والے ہیں۔ (الانبیاء : 51) اس کا مفہوم نبی ﷺ کے فرمان سے سمجھنا چاہیے آپ نے فرمایا کہ مجھے اس وقت نبوت عطا کی گئی تھی جب آدم (علیہ السلام) کا خمیر اٹھایا جا رہا تھا۔ حالانکہ نبی اکرم ﷺ پر پہلی وحی 40 سال کے بعد نازل ہوئی تھی۔ لہٰذا یہ بات حقیقت کے قریب لگتی ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن کی عمر میں نہیں، بلکہ باضابطہ طور پر بھرپور جوانی کے عالم میں نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے میں روایات موجود ہیں کہ انھیں 35 سال کے بعد کتاب عنایت کی گئی تھی۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی کتاب میں انہی باتوں پر زور دیا گیا تھا جو ہمیشہ سے آسمانی کتب اور ہر نبی کی نبوت کا مرکزی پیغام رہا ہے۔ کیونکہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبی ہیں جن کی شریعت کے بنیادی اصولوں کا تذکرہ سورة البقرۃ میں یوں کیا گیا ہے۔
(وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ إِلَّا اللّٰہَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتَامٰی وَالْمَسَاکِیْنِ وَقُوْلُوا للنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِیمُوْا الصَّلَاۃَ وَاٰتُوا الزَّکَاۃَ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ إِلَّا قَلِیْلاً مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُوْنَ ) [ البقرۃ : 83]
” اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا کہ نہ عبادت کرنا اللہ کے سوا۔ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا نیز رشتہ داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں سے بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا، لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا مگر سب نے منہ موڑ لیا صرف چند آدمی تم سے ثابت قدم رہے۔ تم تو رو گردانی کرنے والے ہو۔ “
جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو منصب نبوت پر فائز کیا گیا تو انہیں کتاب پر پوری تندہی سے عمل کرنے کی تلقین کی گئی آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ آپ نے اس حکم خداوندی کی تعمیل کا حق ادا کردیا۔ دورافتادہ آبادیوں، صحراؤں اور دشوار گزار پہاڑوں میں جا جا کر لوگوں کو پیغام حق سنایا اور انہیں گناہوں سے تائب ہونے کی ترغیب دی۔ بیشمار لوگ آپ کی تبلیغ کی برکت سے راہ حق پر آگئے۔ فسق وفسجور کی زندگی ترک کرکے زہدو تقویٰ کو اپنا شعار بنایا۔ قوم کے ہر طبقہ کو آپ نے ان کی کوتاہیوں اور خامیوں پر متنبہ کیا۔ بنی اسرائیل کے جو علماء دنیا کی محبت میں گرفتار ہوچکے تھے اور احکام الٰہی کی تحریف میں کوئی جھجک محسوس نہ کرتے تھے انہیں بڑی سختی سے جھنجھوڑا۔
(أَنَّ الْحَارِثَ الأَشْعَرِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللَّہَ أَمَرَ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ أَنْ یَعْمَلَ بِہَا وَیَأْمُرَ بَنِی إِسْرَاءِیلَ أَنْ یَعْمَلُوا بِہَا وَإِنَّہُ کَادَ أَنْ یُبْطِءَ بِہَا فَقَال عیسَی إِنَّ اللَّہَ أَمَرَکَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ لِتَعْمَلَ بِہَا وَتَأْمُرَ بَنِی إِسْرَاءِیلَ أَنْ یَعْمَلُوا بِہَا فَإِمَّا أَنْ تَأْمُرَہُمْ وَإِمَّا أَنَا آمُرُہُمْ فَقَالَ یَحْیَی أَخْشَی إِنْ سَبَقْتَنِی بِہَا أَنْ یُخْسَفَ بِی أَوْ أُعَذَّبَ فَجَمَعَ النَّاسَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَامْتَلأَ الْمَسْجِدُ وَقَعَدُوا عَلَی الشُّرَفِ فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ أَمَرَنِی بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِہِنَّ وَآمُرَکُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِہِنَّ أَوَّلُہُنَّ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّہَ وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْءًا وَإِنَّ مَثَلَ مَنْ أَشْرَکَ باللَّہِ کَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ بِذَہَبٍ أَوْ وَرِقٍ فَقَالَ ہَذِہِ دَارِی وَہَذَا عَمَلِی فَاعْمَلْ وَأَدِّ إِلَیَّ فَکَانَ یَعْمَلُ وَیُؤَدِّی إِلَی غَیْرِ سَیِّدِہِ فَأَیُّکُمْ یَرْضَی أَنْ یَکُونَ عَبْدُہُ کَذَلِکَ وَإِنَّ اللَّہَ أَمَرَکُمْ بالصَّلاَۃِ فَإِذَا صَلَّیْتُمْ فَلاَ تَلْتَفِتُوا فَإِنَّ اللَّہَ یَنْصِبُ وَجْہَہُ لِوَجْہِ عَبْدِہِ فِی صَلاَتِہِ مَا لَمْ یَلْتَفِتْ وَآمُرُکُمْ بالصِّیَامِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ فِی عِصَابَۃٍ مَعَہُ صُرَّۃٌ فیہَا مِسْکٌ فَکُلُّہُمْ یَعْجَبُ أَوْ یُعْجِبُہُ ریحُہَا وَإِنَّ ریح الصَّاءِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ ریحِ الْمِسْکِ وَآمُرُکُمْ بالصَّدَقَۃِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَأَوْثَقُوا یَدَہُ إِلَی عُنُقِہِ وَقَدَّمُوہُ لِیَضْرِبُوا عُنُقَہُ فَقَالَ أَنَا أَفْدِیہِ مِنْکُمْ بالْقَلِیلِ وَالْکَثِیرِفَفَدَی نَفْسَہُ مِنْہُمْ وَآمُرُکُمْ أَنْ تَذْکُرُوا اللَّہَ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ خَرَجَ الْعَدُوُّ فِی أَثَرِہِ سِرَاعًا حَتَّی إِذَا أَتَی عَلَی حِصْنٍ حَصِینٍ فَأَحْرَزَ نَفْسَہُ مِنْہُمْ کَذَلِکَ الْعَبْدُ لاَ یُحْرِزُ نَفْسَہُ مِنَ الشَّیْطَانِ إِلاَّ بِذِکْرِ اللَّہِ قَال النَّبِیُّ ﷺ وَأَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ اللَّہُ أَمَرَنِی بِہِنَّ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ وَالْجِہَادُ وَالْہِجْرَۃُ وَالْجَمَاعَۃُ فَإِنَّہُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ قیدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الإِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِہِ إِلاَّ أَنْ یَرْجِعَ وَمَنِ ادَّعَی دَعْوَی الْجَاہِلِیَّۃِ فَإِنَّہُ مِنْ جُثَا جَہَنَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللَّہِ وَإِنْ صَلَّی وَصَامَ قَالَ وَإِنْ صَلَّی وَصَامَ فَادْعُوا بِدَعْوَی اللَّہِ الَّذِی سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِینَ الْمُؤْمِنِینَ عِبَاد اللَّہِ ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی مَثَلِ الصَّلاَۃِ وَالصِّیَامِ وَالصَّدَقَۃِ ]
” حارث الاشعری نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو پانچ کلمات پر عمل کرنے کا اور بنی اسرائیل کو عمل کروانے کا حکم دیا ہے۔ قریب تھا کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس میں تاخیر کرتے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو پانچ کلمات سونپے ہیں اور ان پر عمل کرنے کا اور عمل کروانے کا حکم دیا ہے۔ یا تو ان کلمات سے آپ لوگوں کو آگاہ کریں یا میں کرتا ہوں مجھے ڈر ہے کہیں سستی کی بنیاد پر اللہ کا عذاب ہم پر مسلط نہ ہوجائے یا اللہ ہمیں زمین میں نہ دھنسا دے۔ انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا جب مسجد لوگوں سے بھر گئی تو بلند مقام پر بیٹھ کر انہیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا اللہ نے مجھے پانچ کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور ذمہ داری عائد کی ہے کہ تمہیں بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔ وہ پانچ باتیں یہ ہیں۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی ہے جس نے اپنے خالص مال سونے اور چاندی سے ایک غلام خریدا اور اسے کہا یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا کام ہے۔ کام کرو اور اس کا معاوضہ مجھے دو ۔ وہ غلام مزدوری کر کے مزدوری اپنے مالک کے سوا کسی اور آدمی کو دیتا ہے۔ تم میں ایسے غلام پر کون راضی ہوگا ؟ اسی طرح اللہ نے تمہیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ جب تم نماز پڑھو تو نماز میں ادھر ادھر نہ جھانکو۔ جب تک کوئی انسان پوری توجہ سے نماز پڑھتا رہتا ہے اللہ اس کی طرف پوری طرح متوجہ رہتے ہیں، اور میں تمہیں روزے رکھنے کا حکم دیتا ہوں روزہ رکھنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو کسی جماعت کے ساتھ ہو اور اس کے پاس کستوری کی ایک تھیلی ہو۔ جماعت میں سے ہر آدمی اس کی خوشبو کو پسند کرے گا اور وہ بھی اسے پسند کرے گا اور بیشک روزے دار کے منہ کی خوشبو۔ اللہ کے ہاں کستوری سے بڑھ کر ہے۔ میں تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیتا ہوں بیشک جو آدمی صدقہ دیتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کو دشمن نے قید کرلیا اور مضبوطی سے اس کے ہاتھ اس کی گردن پر باندھ دیے اور اس کی گردن تن سے جدا کرنے کے لیے آگے بڑھے تو اس نے کہا میں تمہیں تھوڑا بہت فدیہ دیتا ہوں۔ وہ اس سے فدیہ قبول کرلیتا ہے۔ اور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم ہر حال میں اللہ کو یاد رکھو بیشک جو آدمی اللہ کے ذکر میں مصروف رہتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کی کھوج میں دشمن لگا ہوا ہے یہاں تک کہ وہ قلعے میں داخلہ ہو کر اپنے اپنا کو بچا لیتا ہے اسی طرح انسان اپنے آپ کو اللہ کے ذکر کے بغیر شیطان سے نہیں بچا سکتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں بھی تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور یہ پانچ چیزوں وہ ہیں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے 1 امیر کی بات سننا 2 اطاعت امیر 3 جہاد 4 ہجرت 5 جماعت کے ساتھ منسلک رہنا۔ جو آدمی جماعت کو چھوڑ کر ایک بالشت ادھر ادھر ہوا اس نے اپنی گردن سے اسلام کے طوق کو اتار دیا الا کہ وہ جماعت میں واپس آجائے اور جس نے جاہلیت کا دعویٰ کیا وہ جہنم کا انگارا بنے گا۔ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو۔ آپ نے فرمایا اگرچہ نماز روزے کا پابند ہو۔ میں تمہیں ان چیزوں کی دعوت دیتا ہوں جن کی دعوت دینے کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہارا نام مسلمان، مؤمن اور اللہ کے بندے رکھا ہے۔ “
کتاب اللہ کے بارے میں سرور دوعالم ﷺ کی اپنی امت کو ہدایت :
” حضرت مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری اس کے نبی کی سنت۔ “ [ موطا امام مالک : باب النَّہْیِ عَنِ الْقَوْلِ بالْقَدَرِ ]
Ayahs 19:13–14فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ جاری ہے۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو کتاب، حکمت ودانشمندی اور قوت فیصلہ عطا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے بھی متصف فرمایا تھا۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے اسے اپنی طرف سے طبیعت کی نرمی، فکر و عمل کی پاکیزگی اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی توفیق دی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔ یہی باتیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کا جوہر ہوتی ہیں اور انھیں باتوں کی اپنی امت کو تلقین فرمایا کرتے تھے۔
مسائل
1۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور انتہائی پاکباز شخصیت تھے۔
2۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نبی ہونے کے باوجود اپنے والدین کے انتہا درجہ کے فرمانبردار تھے۔
تفسیر بالقرآن
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم :
1۔ ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (البقرۃ : 83)
2۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔ (النساء : 36)
3۔ فرما دیجیے آؤ ! میں تمہیں ایسی باتیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں، اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (الانعام : 151)
4۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (بنی اسرائیل : 23)
5۔ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرے۔ (الاحقاف : 15)
6۔ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ اگر والدین شرک پر ابھاریں تو ان کی اطاعت نہ کی جائے۔ (العنکبوت : 8)
Ayah 19:15فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پر پیدائش سے لے کر تادم واپیس اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں۔
یہ مسلمّہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر دنیا میں جلوہ گر فرمائے ان کی پیدائش سے لے کر وفات تک اور قبر سے لے کر حشر تک، حشر سے لے کر جنت الفردوس میں پہنچنے تک ہر لمحہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول رہتا ہے۔ لیکن بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کے خصوصی حالات کے پیش نظر ان کے بارے میں خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ ان پر ان کی پیدائش سے لے کر ان کی موت اور دوبارہ زندہ ہونے تک اللہ کی رحمت ان کے شامل حال رہی اور رہے گی۔ ان میں بالخصوص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے کہ سلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا۔ جس دن اسے موت آئے گی اور جس دن وہ اٹھایا جائے گا۔ یاد رہے کہ انسانی زندگی میں تین مرحلے ایسے ہیں جن میں کسی نبی، ولی، امیر، فقیر، شاہ و گدا، اعلیٰ اور ادنیٰ کو اختیار نہیں ہوتا ان اوقات میں وہ ناتواں اور بالکل بےبس ہوتا ہے۔
1۔ ولادت کے وقت ہر نومولود اس قدر نازک اندام، ناتواں اور بےبس ہوتا ہے کہ پھول کی پنکھڑی کی طرح معمولی سے معمولی سختی بھی برداشت نہیں کرسکتا۔
2۔ موت کا وقت اس قدر شدید اور سخت ہوتا ہے کہ بہادر سے بہادر انسان گھبراہٹ میں مبتلا ہوجاتا ہے
(وَعَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ اِنَّ مِنْ نِّعَمِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ تُوُفِّیَ فِیْ بَیْتِیْ وَفِیْ یَوْمِیْ وَبَیْنَ سَحْرِیْ وَنَحْرِیْ ۔۔ فَجَعَلَ یُدْخِلُ یَدَیْہِ فِی الْمَاءِ فَیَمْسَحُ بِھِمَا وََجْہَہٗ وَیَقُوْلُ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ اِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٌ ثُمَّ نَصَبَ یَدَہٗ فَجَعَلَ یَقُوْلُ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی حَتّٰی قُبِضَ وَمَالَتْ یَدُہٗ ۔ ) [ رواہ البخاری : باب مَرَضِ النَّبِیِّ ﷺ وَوَفَاتِہِ ]
” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر بےپناہ انعامات میں سے ایک یہ ہے ‘ کہ رسول اکرم میرے گھر میں ‘ میری باری کے دن ‘ میرے سینے اور حلق کے درمیان فوت کیے گئے۔۔ آپ پانی میں اپنے ہاتھ ڈالتے اور اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ ملتے رہے اور کہتے لاَ اِ لٰہ اِ لَّا اللّٰہ بلا شبہ سکرات موت برحق ہیں۔ پھر اپنا ہاتھ بلند کیا اور رفیق اعلیٰ کی دعا کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی اور آپ کا دست مبارک جھک گیا۔
3۔ حشرکا دن سخت ہوگا۔
” کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہوگا۔ حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہونگے۔ گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹے اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھا۔ اور جتنے آدمی زمین میں ہیں غرض سب کچھ دے دے اور اپنے آپ کو عذاب سے چھڑا لے۔[ المعارج : 10 تا 14]
Ayahs 19:16–17فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا انتہائی بڑھاپے کے عالم میں زکریا (علیہ السلام) کے ہاں پیدا ہونا غیر معمولی پیدائش اور مشکلات کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ گہری مماثلت اور ان کے خالہ زاد بھائی ہونے کی وجہ سے حضرت مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ دوسری شخصیات کے ذکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرور دو عالم ﷺ اور آپ کی امت کے لوگوں کی ڈھارس بندھائی جائے۔
(وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أَنْبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ وَجَاءَ کَ فِیْ ہَذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) [ ھود : 120]
” رسولوں کی خبروں میں سے ہر وہ خبر جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ اس سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کریں اور آپ کے پاس اس سلسلہ میں حق آگیا جو مومنوں کے لیے باعث نصیحت اور یاد دہانی ہے۔
اس مقصد کے پیش نظر بعض انبیاء (علیہ السلام) اور شخصیات کا تذکرہ کرنے سے پہلے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ اے پیغمبر ﷺ ! وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ ۔ قرآن مجید میں سے حضرت مریم (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ کا بیان کریں تاکہ حضرت مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا جزو ٹھہرانے والوں کو معلوم ہو کہ مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے۔ حضرت مریم [ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ہیں۔ جن کی سوانح یہ ہے کہ ان کی والدہ حضرت عمران کی بیوی ہیں وہ میاں بیوی انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے۔ بڑھاپے کے عالم میں حضرت مریم [ کی والدہ نے منت مانی کہ میرے رب ! اگر تو مجھے بیٹا عطا فرمائے تو میں اسے تیرے لیے وقف کردوں گی لیکن ہوا یہ کہ بیٹے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے اسے بیٹی عنایت فرمائی جس کا نام اس نے مریم رکھا، مریم کا معنی ہے (بلند وبالا) حضرت مریم [ کی والدہ نے عرض کی کہ بار الہا ! یہ تو بیٹی پیداہوئی ہے۔ ظاہر ہے بیٹی، بیٹے کی مانند نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اس بات کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں (آل عمران، آیت : 36) حضرت مریم [ بڑی ہوئی تو والدہ نے اپنی منت کے مطابق اسے مسجد اقصیٰ میں اللہ کی عبادت کے لیے وقف کردیا۔ کیونکہ وہاں مردوں سے الگ مقام میں عورتیں اعتکاف، انجیل کی تلاوت اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی تھیں۔ ایک دن مریم [ پردہ میں بیٹھ کر جس طرح اعتکاف کیا جاتا ہے اللہ کے ذکر و فکر میں مشغول تھی کہ اچانک ان کے حجرہ میں نہایت ہی خوبصورت آدمی وارد ہوا۔ یہاں پردہ کا ذکر ہے لیکن تیسرے پارہ میں حضرت مریم [ کے حجرہ کا ذکر موجود ہے جس میں بیٹھ کر وہ اللہ کی عبادت کیا کرتی تھیں۔ (آل عمران : 37) دونوں آیات کی تطبیق کرتے ہوئے اہل علم نے لکھا ہے کہ حضرت مریم [ ماہواری کی وجہ سے مسجد اقصیٰ سے باہر پردے میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ ان کے پاس خوبصورت انسانی شکل میں فرشتہ آیا۔ یہ بات اس لیے دل کو لگتی ہے کہ حدیث میں حائضہ عورت کو مسجد میں آنے سے روکا گیا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ اس وقت کی شریعت میں بھی یہی اصول ہوگا۔
مسائل
1۔ انبیاء (علیہ السلام) کی سیرت اور صلحاء کے اچھے واقعات کا ذکر کرنا چاہیے۔
2۔ حضرت مریم [ مسجد اقصیٰ کے مشرقی جانب پردہ میں تشریف فرما تھیں جب ان کے پاس فرشتہ آیا۔
تفسیر بالقرآن
ملائکہ کا انسانی شکل میں آنا :
1۔ ہم نے اس کی طرف (مریم) فرشتہ بھیجا تو وہ ان کے سامنے ٹھیک انسانی شکل اختیار کر گیا۔ (مریم : 17)
2۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر آئے۔ (ھود : 69)
3۔ جب ہمارے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے تو وہ ان کی آمد سے غمناک اور تنگ دل ہوئے۔ (ھود : 77)
4۔ جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو انھوں نے کہا تم تو نا آشنا سے لوگ ہو۔ (الحجر : 61۔ 62)
5۔ انھیں ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے متعلق خبر دیں جب وہ سلام کہتے ہوئے داخل ہوئے تو ابراہیم نے کہا ہم تم سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ (الحجر : 51۔ 52)
Ayahs 19:18–21فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم (علیہ السلام) نے حجرہ میں وارد ہونے والے انسان سے سختی کے ساتھ پوچھا تم کون ہو ؟ میں تجھے رب رحمن کا واسطہ دے کر کہتی ہوں اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو تو یہاں سے نکل جاؤ۔ فرشتہ نے جواب دیا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو پاکباز بیٹے کی خوشخبری دوں۔ حضرت مریم [ پہلے سے زیادہ حیران اور سراسیمگی کے عالم میں پوچھتی ہیں کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ نہ کسی مرد نے مجھے چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ اسی حالت میں تجھے بیٹا عطا کیا جائے گا کیونکہ تیرے رب کا فرمان ہے اس طرح بیٹا عطا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے اپنی قدرت کی نشانی ظاہر کرنا چاہتا ہے سمجھ لو کہ یہ کام ہوچکا ہے۔ یہاں روح کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کے کئی معانی ہیں جن میں ایک معنٰی جبرائیل امین (علیہ السلام) ہے۔ کیونکہ ان کا دوسرا نام روح الامین ہے۔ (الشعراء : 193)
مسائل
1۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ کو بتلا دیا گیا تھا کہ تیرے ہاں پاکباز بیٹا پیدا ہوگا۔
2۔ حضرت مریم [ پاکدامن بی بی تھیں اور انھیں زندگی بھر کسی مرد نے نہیں چھوا۔
3۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بن باپ پیدا فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنی انوکھی قدرت کا ثبوت دیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے لیے بن باپ بیٹا پیدا کرنا مشکل نہیں ہے۔
تفسیر بالقرآن
تخلیق انسان کے طرق :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بن باپ اور ماں کے پیدا کیا۔ ( ص : 70)
2۔ حضرت حوّاماں کی بجائے حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا ہوئیں۔ (النساء : 1)
3۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ ( آل عمران : 46)
Ayahs 19:22–26فہم القرآن
ربط کلام : فرشتے نے حضرت مریم [ کے جسم پر پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔
اٹھائیسویں پارہ سورة التحریم کی آخری آیت میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کی پھونک کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عمران کی بیٹی مریم [ جس نے اپنی شرم و حیاء کی حفاظت فرمائی۔ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔
جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں۔ جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ تکلیف اور ولادت کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی ہائے کاش ! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ اس مشکل وقت میں کھجور کے نیچے سے فرشتے نے آواز دی اے مریم [! تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے رب نے تیرے پاؤں کے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے اور کھجور کے تنے کو ہلاؤ تیرے سامنے ترو تازہ کھجوریں آگریں گی۔ کھجوریں کھاؤ، پانی پیو اور بیٹے سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر اپنی طرف کسی آدمی کو آتے ہوئے دیکھو تو اسے کہو کہ میں نے رب رحمن کے لیے روزے کی منت مانی ہے اس لیے میں آج کسی مرد و زن سے بات نہیں کروں گی۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ حضرت مریم [ زچگی کے وقت مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں چلی گئی تھیں۔ جس کے متعلق مفسرین نے مختلف باتیں لکھیں ہیں جن میں اقرب ترین بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہی وہ مقام ہے جسے تاریخ میں بیت لحم کہا جاتا ہے۔ معراج کے واقعے میں سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ رسول اکرم ﷺ جب اس مقام سے گزرے تو جبرئیل امین (علیہ السلام) نے آپ کو توجہ دلائی یہ وہ بیت اللحم ہے جہاں عیسیٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے براق سے اتر کر یہاں دو نفل ادا کیے۔ اسی مقام پر حضرت مریم [ کو یہ ہدایات دی جا رہی ہیں کہ آپ تازہ کھجوریں کھائیں، ٹھنڈا پانی پئیں اور بیٹے سے پیار کرکے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔ اگر کوئی آپ سے بات کرنا چاہے تو کہیں کہ میں نے نہ بولنے کی منت مانی ہوئی ہے۔ بنی اسرائیل کی شریعت میں چپ کا روزہ رکھنا جائز تھا مگر ہماری شریعت میں چپ کا روزہ رکھنا اور ایسی نذر ماننا جائز نہیں، یہاں تک کہ مصیبت کے وقت موت مانگنا یا خود کشی کرنا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت مریم [ نے ارادتاً نہیں بلکہ لوگوں کی طعنہ وتشنیع کے خوف سے انتہائی کرب کے عالم میں یہ الفاظ کہے تھے۔ مصیبت کے وقت ایسے الفاظ بڑے بڑے نیک لوگوں کی زبان سے بےساختہ نکل جایا کرتے ہیں۔ ان الفاظ کا معنٰی موت مانگنا نہیں ہوتا بلکہ انتہا درجہ کے غم کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔
نذر کے مسائل :
(عَنْ عَاءِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیع اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ باب النَّذْرِ فِی الطَّاعَۃِ یَعْصِیَہُ فَلاَ یَعْصِہِ )[ رواہ البخاری : باب النَّذْرِ فِی الطَّاعَۃِ ]
” سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ بیان کرتی ہیں جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانتا ہے اس چاہیے کہ وہ نذر پوری کرے اور جس نذر میں اللہ کی نافرمانی ہو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ بَیْنَا النَّبِیُّ ﷺ یَخْطُبُ إِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ قَاءِمٍ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا أَبُو إِسْرَاءِیلَ نَذَرَ أَنْ یَقُومَ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یَسْتَظِلَّ وَلاَ یَتَکَلَّمَ وَیَصُومَ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ مُرْہُ فَلْیَتَکَلَّمْ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَقْعُدْ وَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ ) [ رواہ البخاری : باب النَّذْرِ فیمَا لاَ یَمْلِکُ وَفِی مَعْصِیَۃٍ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا ہے آپ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھالوگوں نے عرض کی کہ یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں نہ سایہ میں جائے گا، نہ کلام کرے گا اور ہمیشہ روزے کی حالت میں رہے گا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے کہو کلام کرے سایہ میں جائے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ ہُرَیْرَۃَنَذَرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَعْتَکِفَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ أُرَاہُ قَالَ لَیْلَۃً قَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَوْفِ بِنَذْرِکَ ) [ رواہ البخاری : باب إِذَا نَذَرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَعْتَکِفَ ثُمَّ أَسْلَمَ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے راوی کہتا ہے میرا خیال ہے انہوں نے ایک رات کی نذر مانی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ہُرَیْرَۃَقَال النَّبِیُّ ﷺ لاَ یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ ، فَإِنْ کَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَلْیَقُلِ اللَّہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِی) [ رواہ البخاری : باب تَمَنِّی الْمَرِیضِ الْمَوْتَ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا تکلیف کی وجہ سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ دعا کریں۔ اے اللہ ! جب تک میرا زندہ رہنا بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب میرا فوت ہونا بہتر ہو تو مجھے فوت فرما لے۔ “
کون سی نذر نہیں ماننا چاہیے :
(حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ ہُرَیْرَۃَ قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ إِنِّيْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِيُّ ﷺ ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر ]
” مجھے ثابت بن ضحاک ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ وَ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا تَنْذُرُوْا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْقَدْرِ شَیْءًا وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہٖ مِنَ الْبَخِیْلِ ) [ رواہ مسلم : باب النَّہْیِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّہُ لاَ یَرُدُّ شَیْءًا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا تم نذر نہ مانا کرو ‘ اس لیے کہ نذر تقدیر کو نہیں ٹال سکتی اس طرح صرف بخیل سے کچھ نہ کچھ مال نکلوایا جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ حضرت مریم [ زچگی کے عالم میں مسجد اقصیٰ سے دور چلی گئیں تھیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے زچگی کے وقت حضرت مریم [ کو چشمہ کا پانی اور تازہ کھجوریں عنایت فرمائی تھیں۔
3۔ نذر شریعت کے مطابق ماننا اور اسے پورا کرنا چاہیے۔ 4۔ ہارون سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون نہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کی نظر میں نذر :
1۔ میں نے رحمٰن کے لیے نذر مانی ہے میں کسی سے کلام نہیں کروں گی۔ (مریم : 26 )
2۔ جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہو یا تم نذر مانتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (البقرۃ : 270)
3۔ عمران (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا جو کچھ میرے بطن میں ہے میں اس کی نذر مانتی ہوں۔ (آل عمران : 25)
Ayahs 19:27–29فہم القرآن
ربط کلام : حضرت مریم [ کا عیسیٰ ( علیہ السلام) کو گود میں اٹھا کر اپنے خاندان کے لوگوں کے پاس آنا۔
قرآن مجید یہ بتلا رہا ہے کہ حضرت مریم [ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ قوم نے انھیں طعنے دیے۔ یہاں قوم سے مراد ان کے خاندان کے لوگ ہیں۔ خاندان کے لوگوں نے حضرت مریم [ کی گود میں معصوم بچہ دیکھا تو حیران رہ گئے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت مریم [ عام لوگوں کی بجائے پہلی مرتبہ قریبی رشتہ داروں میں آئی ہوں گی پھر خاندان کے ذریعے بات محلے اور معاشرے کے لوگوں تک پہنچی ہوگی۔ جنھوں نے حضرت مریم [ کو ایسی ویسی باتیں کیں اور طعنے دیے۔ یہاں تک کہا کہ اے ہارون کی بہن !” نہ تیری ماں بری تھی اور نہ ہی تیرا باپ بدکار تھا تو نے یہ کیا کر دکھایا ؟ “ حضرت مریم [ جواب دے تو کیا ؟ کیونکہ بچہ گود میں ہے۔ نکاح کسی کے ساتھ ہوا نہیں تھا مریم [ لوگوں کو کیسے مطمئن کرسکتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ کے دل میں القاء کیا اور جرأت عطا فرمائی۔ انھوں نے صرف اتنی بات کہی یا اپنے منہ کی طرف انگلی کی کہ میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی معصوم بچے کی طرف اشارہ کیا کہ میری بجائے میرا بیٹا جواب دے گا۔ نہ معلوم کہ دل ہی دل میں حضرت مریم [ کسی طرح دعا کرتی ہوگی کہ میرے لاڈلے تیرے سوا میری کوئی صفائی پیش کرنے والا نہیں بیٹا بول تاکہ انھیں میری پاکدامنی کا یقین ہوجائے۔ حضرت مریم [ قوم کو یہ بات کہہ ہی پائی تھی کہ ان کی قوم شور مچانے لگی یہ گود کا بچہ ہمیں کیا جواب دے گا۔ نہ معلوم لوگ کس انداز اور زبان میں طعنے دے رہے ہوں گے۔
Ayahs 19:30–33فہم القرآن
ربط کلام : ابھی لوگوں کا شور و غل ختم نہیں ہوا تھا کہ والدہ کا اشارہ پاکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دیتے ہیں۔
حضرت مریم [ کا اشارہ ہوا ہی تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا ہے۔ میں جہاں کہیں ہوں اس نے اپنی برکات سے نوازا ہے۔ میرے رب نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تک زندہ رہوں نماز پڑھوں اور زکوٰۃ ادا کروں۔ مجھے یہ بھی وصیت کی گئی ہے کہ میں اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرتا رہوں اور میرے رب نے مجھے باغی اور منحوس نہیں بنایا۔ میرے رب نے میری پیدائش، موت اور موت کے بعد اٹھنے کے دن مجھے اپنی رحمت کے دامن میں لے لیا ہے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ جب حضرت مریم [ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بولنے کا اشارہ کیا تھا تو وہ ان کی گود میں دودھ پی رہے تھے۔ جونہی ان کی والدہ نے اشارہ کیا تو دودھ چھوڑ کر پیغمبرانہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ جس میں ان کی شریعت کے بنیادی اور مرکزی مسائل کا بیان ہے۔ جسے قرآن مجید نے اپنے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ یہاں دو باتیں غور طلب ہیں کہ چند دنوں کے بچے کو اپنی ماں کے اشارے کا کس طرح علم ہوا ؟ دوسری بات یہ کہ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنی چھوٹی عمر میں صاحب کتاب نبی بنا دیا گیا تھا ؟ جہاں تک چھوٹی عمر میں نبوت ملنے کا تعلق ہے اس کے بارے میں سب اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ گفتگو تھی۔ نبوت انھیں جوانی میں عطا کی گئی تھی۔ رہی بات اپنی والدہ کا اشارہ پاکر شہادت دینے کی تو یہ بھی ایک معجزہ ہے ورنہ اتنا چھوٹا بچہ اشارہ کیا اپنی ماں کی زبان بھی نہیں سمجھ سکتا۔
Ayahs 19:34–35فہم القرآن
ربط کلام : خلاصہ کلام یہ ہے کہ عیسیٰ ابن مریم [ ایک بندہ تھے۔ خدا نہیں تھے۔
یہاں سارے خطاب کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے ذَالِکَ کا لفظ استعمال ہوا۔ جو دور اور نزدیک کے لیے اشارہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور جن کو لوگ خدا یا خدا کا جزء ٹھہراتے ہیں اور جہاں تک کہ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ انھیں قرآن مجید کی بتلائی ہوئی حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہیے۔ کہ اللہ تعالیٰ بیوی، اولاد اور کسی قسم کی حاجت اور کمزوری سے بےنیاز۔ پاک ہے اور وہ ہر قسم کی شراکت اور لوگوں کی یاوا گوئی سے مبرّا ہے اسے اولاد اور کسی سے شراکت کی کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ اولاد یا کسی کو اپنے کام میں شریک بنانا کمزوری کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ کسی کام کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ” ہوجا “ تو وہ اس کی منشاء کے مطابق ہوجاتا ہے۔ اس نے عیسیٰ کے متعلق ” کُنْ “ فرمایا اور عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوگئے۔
مسائل
1۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے متعلق لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت نہیں وہ اس سے مبّرا اور پاک ہے۔