Ayah 18:1فہم القرآن
ربط کلام : سورة بنی اسرائیل کا اختتام اس حکم کے ساتھ ہوا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ کی حمد وثناء کیجیے۔ جس کا کسی حوالے سے بھی کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات اور شان کے اعتبار سے ہر کسی سے بلند وبالا ہے۔ سورة الکھف کی ابتداء اللہ کی حمد سے ہورہی ہے جس نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس میں کوئی نقص اور جھول نہیں ہے۔
تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ جس میں کسی قسم کی جھول، تضاد اور پچیدگی نہیں پائی جاتی۔ جس کے فرمان واضح، ٹھوس، سیدھے سادھے، صراط مستقیم کے ترجمان اور ہر قسم کے الجھاؤ، عیب اور نقصان سے پاک ہیں۔ قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا تاکہ لوگوں کو عذاب شدید سے ڈرایا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس میں صالح کردار مومنوں کے لیے بہترین اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔ جن کا صلہ جنت ہے جس میں صالح اعمال کرنے والے لوگوں کو داخل کیا جائے گا وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہاں قرآن مجید کے تین اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے۔
1۔ قرآن مجید میں برے اعمال کی نشاندہی اور اس کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔
2۔ قرآن مجید صالح کردار ایمان داروں کو جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی خوشخبری دیتا ہے۔
3۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے۔ کہ اس کے احکام اور مضامین میں کسی قسم کی پیچیدگی، الجھاؤ ،
Ayahs 18:2–3تضاد اور تعارض نہیں پایا جاتا۔ ناصرف اس میں الجھاؤ اور تعارض نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی یہ بھی صفت ہے کہ اس کے ارشادات سادہ اور ٹھوس ہیں جن پر عمل پیرا ہونا آسان ہے اور اس کے بدلے دنیا اور آخرت کی کا میابی نصیب ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ حقیقی تعریفات کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
2۔ قرآن مجید میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی۔
4۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کا موثر ذریعہ ہے۔
5۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے باعث رحمت اور بشارت ہے۔
6۔ اعمال صالحہ کرنے والے مومنین کے لیے بہترین اجر اور خوشیوں کا پیغام ہے۔
تفسیر بالقرآن
عمل صالح کا صلہ :
1۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے لیے خوشخبری اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ (الکھف : 2)
2۔ جو بھی مومن صالح عمل کرے گا اس کی محنت کو رائیگاں نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء : 94)
3۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الحج : 5)
4۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے گناہوں کو اللہ ختم کردیں گے۔ (العنکبوت : 7)
5۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں والی جنت ہے۔ (لقمان : 8)
6۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس میں مہمانی کا اہتمام ہوگا۔ (الکھف : 107)
Ayahs 18:4–5فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں مومنوں کو خوشخبری دی گئی ہے اور اب ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے جو مخلوق میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہیں۔
قرآن مجید ان لوگوں کو سخت ترین انتباہ کرتا ہے جو ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ حالانکہ ان کے پاس نہ اس کی دلیل ہے اور نہ ہی ان کے آباؤ اجداد علم کی بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے تھے گویا کہ یہ عقیدہ اور بات سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ نہیں سوچتے کہ جو بات اپنی زبان سے نکال رہے ہیں یہ جھوٹ ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی گستاخی ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تشریح میں عرض کیا جا چکا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور کفار میں سے ایک گروہ ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کی شراکت سے مبرّا اور اولاد کی حاجت سے بےنیاز ہے۔ کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد یا شریک ٹھہرانا مشرکوں کی ذہنی پستی اور فکری دیوانگی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے باطل تصور ات اور ہر قسم کی یاوا گوئی سے پاک اور مبرّا ہے۔ کائنات کی تخلیق کے لیے بدیع کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا کہ جس اللہ نے بغیر کسی پہلے سے موجود نقشے اور میٹریل کے اوپر نیچے سات آسماں اور تہ بہ تہ سات زمینیں پیدا کی ہیں اسے اولاد کی کیا حاجت ہے ؟
اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، قلبی سکون کا باعث، اس کی زندگی کا سہارا، معاملات میں اس کی معاون اور اس کے سلسلۂ نسب قائم رہنے کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ان باتوں میں سے کسی بات کی ضرورت نہیں ہے۔
اولاد ہونے کا منطقی نتیجہ ہے کہ اس کی بیوی ہو کیونکہ بیوی کے بغیر اولاد کا تصور محال ہے۔ فرشتوں اور جنات کو خدا کی بیٹیاں، انبیاء کو خدا کا بیٹا قرار دینے سے اللہ تعالیٰ کی بیوی ثابت کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ اولاد کسی نہ کسی طرح باپ کے مشابہ اور اس کی ہم جنس اور ہم نسل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان حاجات اور تمثیلات سے پاک ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہُ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہُ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا)[ رواہ البخاری : باب وقالوا اتخذاللہ ولدا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اسے ہرگز جائز نہیں۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کریگا جیسا کہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔
مسائل
1۔ ایسے لوگوں کو ڈرانا چاہیے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے۔
2۔ مشرکین اور ان کے آباؤ اجداد کے پاس اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کی کوئی دلیلنہ تھی اور نہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ پر کفار جھوٹ باندھتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہے :
1۔ ان لوگوں کو ڈرائیے جو کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے۔ (الکھف : 4۔ 5)
2۔ انہوں نے کہا کہ رحمٰن کی اولاد ہے یہ تم بہت ہی بری بات کہتے ہو۔ (مریم : 88 تا 89)
3۔ اللہ کے لیے لائق نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اولاد سے پاک ہے۔ (مریم : 35)
4۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں۔ (الفرقان : 2)
5۔ انہوں نے کہا اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ اولاد سے پاک اور بےنیاز ہے۔ (یونس : 68)
Ayahs 18:6–8فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کی ہرزہ سرائی اور کفر و شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کا غم زدہ ہونا۔
رسول کریم ﷺ مشرکین کو دن رات بڑی دلسوزی اور محنت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے مگر ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ کی جان کے دشمن ہونے کے ساتھ کفر و شرک میں آگے ہی آگے بڑھتے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ اس قدر دل گرفتہ ہوجاتے کہ قریب تھا کہ آپ کو کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوجائے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اطمینان دلاتے کہ اے نبی ! اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات کے حوالے سے ایک ماننے اور اس کے ارشادات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا آپ ان پر اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے۔ کبھی آپ کی ان الفاظ کے ساتھ ڈھارس بندھائی جاتی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں آپ کو ان پر کو توال بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ لہٰذا آپ انہیں نصیحت کرتے جائیں۔ آپ کو نصیحت کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (الغاشیہ : 21، 22)
آپ کو ان الفاظ کے ساتھ بھی تسلی دی گئی :
” کچھ لوگوں پر آپ جس قدر چاہیں محنت کرلیں وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ کفر و شرک اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑچکا ہے۔ ان کے لیے بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے۔ “ (البقرۃ : 6۔ 7)
سورۃ کہف میں آپ کو اطمینان دلانے کے ساتھ لوگوں کے کفرو شرک کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ یہ دنیا کی زیب وزینت میں محو ہو کر رہ گئے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر جو آسائش اور زیب وزینت کا سامان پیدا کیا ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ لوگوں کی آزمائش کرتا ہے کہ کون دنیا کی آلائش سے بچ کر اچھے اعمال کرتا ہے۔ جہاں تک دنیا اور زمین کی زیب وزینت کا تعلق ہے بالآخر اللہ تعالیٰ سب کچھ نیست ونابود کرکے زمین کو چٹیل مید ان بنا دے گا۔ اگر کوئی چیز باقی رہنی ہے تو وہ انسان کے اچھے اور برے اعمال ہیں۔ ہر کسی کو اس کو اس کے اچھے اور برے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی۔
(عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ مَا سَقٰیکَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَاءٍ )[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد وہو حدیث صحیح ]
” حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر دنیا کی وقعت اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی کا بھی نہ دیتا۔ “ (یعنی آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ )
مسائل
1۔ لوگوں کی آزمائش کے لیے زمین کو باعث رونق بنایا گیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے۔
3۔ قیامت کے دن زمین کو چٹیل مید ان بنادیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
دنیاکی حقیقت :
1۔ جو کچھ زمین میں ہے وہ باعث آزمائش ہے۔ (الکہف : 7)
2۔ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں قلیل اور حقیر ہے۔ (التوبۃ : 38)
3۔ دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے۔ (العنکبوت : 64)
4۔ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے۔ (آل عمران : 185)
5۔ لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر معمولی فائدہ۔ (الرعد : 26)
6۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے۔ (الحدید : 20)
7۔ دنیا کی زندگی کی مثال آسمان سے نازل ہونے والی کی طرح ہے۔ (یونس : 24)
Ayahs 18:9–12فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ دنیا کی بدولت رسول معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی مخالفت کررہے تھے۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا ہے۔ جس میں اہل کفر کو یہ بتلایا ہے کہ اس طرح کا سلوک اصحاب کہف کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بالآخر ان کی دعوت کو شہرت عام اور دوام بخشا۔
اصحاب کہف کے واقعہ میں سب سے بڑی تعجب خیز بات یہ ہے کہ چند نوجوان اپنی جان اور ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سونو سال تک سلائے رکھا۔ جو انسانی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ایک سو سال تک موت کی آغوش میں رکھا تھا۔
(أَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا قَالَ أَنّٰی یُحْیِی ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِہَا فَأَمَاتَہُ اللّٰہُ مِاَءَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہُ قَالَ کَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا أَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِءَۃَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ وَانْظُرْ إِلٰی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً للنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا ثُمَّ نَکْسُوْہَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ )[ البقرۃ : 259] ” یا اس شخص کی طرح جس کا گزر ایک بستی سے ہوا جو اپنی چھتوں کے بَل گری ہوئی تھی۔ اس نے کہا اللہ تعالیٰ اس کو فنا کے بعد کس طرح زندہ کرے گا۔ اللہ نے اس کی روح سو سال تک کے لیے قبض کرلی، پھر اس کو اٹھایا اور پوچھا تم کتنی دیر ٹھہرے ہو۔ اس نے جواب دیا ایک دن یا اس سے کم اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ تم سو برس ٹھہرے رہے ہو اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو، وہ خراب نہیں ہوئیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے نشانی بنائیں اور ہڈیوں کو دیکھو ہم انھیں کس طرح جوڑتے اور ان پر گوشت چڑھاتے ہیں جب یہ بات اس کے مشاہدے میں آئی تو بول اٹھا یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “
اس لیے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے سے پہلے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا آپ خیال کرتے ہیں ؟ کہ اصحاب کہف اور الرقیم والے ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے عجب نشانی ہیں۔ جن کا واقعہ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چند نوجوان تھے جب توحید کا عقیدہ اپنانے اور اس کی تبلیغ کرنے پر ان کا عرصہ حیات تنگ کردیا گیا تو وہ یہ دعا کرتے ہوئے غار میں داخل ہوئے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر اپنی رحمت فرما اور ہمیں کامیابی کے لیے اسباب عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سونو سال تک سلائے رکھا۔ یہاں ان کے سونے کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کے کانوں کو تھپکائے رکھا۔ شدید آندھیاں، موسلادھار بارشیں، پرندوں کی آوازیں اور درندوں کی دھاڑیں غرض کہ کوئی چیز ان کو بیدار نہ کرسکی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سو نو سال کے بعد اٹھایا۔ تاکہ آپس میں معلوم کریں کہ وہ کتنی مدت غار میں رہے ہیں۔ قرآن مجید تاریخ کی کتاب نہیں اسی وجہ سے قرآن ان جزئیات اور تفصیلات کا ذکر نہیں کرتاجن کا تعلق براہ راست ہدایت کے ساتھ نہ ہو۔ اس لیے یہ نہیں بتلایا کہ وہ کون لوگ تھے اور کس علاقے کے رہنے والے تھے۔ البتہ یہ بات اس واقعہ میں کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ یہ عمر کے لحاظ سے جوان لوگ تھے اور عقیدہ توحید کی بنیاد پر ان کا لوگوں کے ساتھ شدید اختلاف ہوا۔ وقت کی حکومت نے انہیں گرفتار اور سنگسار کرنے کی کوشش کی وہ اپنا ایمان اور جان بچانے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غار میں تین سو نو سال تک سلائے رکھا ایک کتا جو راستے میں ان کے ساتھ مانوس ہو اوہ ان کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ جب یہ نوجوان دعا کرتے ہوئے غار میں لیٹ گئے تو کتا غار کے دھانے پر بیٹھ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتے کو بھی تین سو نو سال تک اسی حالت میں وہاں بٹھائے رکھا کبھی کبھار اگر کوئی شخص اس غار کے قریب جاتا تو پہاڑوں کے درمیان عجیب قسم کی غار، اس میں لیٹے اور کروٹیں لیتے ہوئے انسان اور غار کے دہانے پر بیٹھے ہوئے کتے کو دیکھ کر ڈر کے مارے قریب جانے کی کوشش نہ کرتا تھا۔ قرآن مجید نے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اتنی دیر کتا زندہ رہا یا مرنے کے باوجود اس حالت میں بیٹھا رہا۔ بہر حال دیکھنے والا یوں محسوس کر تاکہ اگر اس نے غار کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو کتا اس پر حملہ آور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سو نو سال سلانے کے بعد اٹھایا تاکہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ ہم کتنی دیر تک سوئے رہے ہیں ؟ ان جوانوں کو اصحاب کہف اور الرقیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔” الرَّقِیْمُ “ کے بارے میں اہل علم کے دو خیال ہیں۔ ایک جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ” الرَّقِیْمُ “ اس بستی کا نام ہے جہاں کے یہ لوگ رہنے والے تھے دوسرے فریق کا کہنا ہے۔” الرَّقِیْمُ “ اس تختی کا نام ہے جو تین سو نو سال کے بعد ایک بادشاہ نے غار کے دھانے پر آویزاں کی تھی۔
مسائل
1۔ اصحاب کہف اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے تھے۔ 2۔ اصحاب کہف نے غار میں پناہ لی۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے غار میں ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور ہدایت کا طلبگا ررہنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
رحمت اور ہدایت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
1۔ انہوں نے دعا کی اے اللہ ! ہمیں رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں آسانی فرما۔ (الکھف : 10)
2۔ اے ہمارے پرو ردگار ! ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں رحمت عطا فرما۔ (آل عمران : 8)
3۔ تیر ارب بےپرواہ اور رحمت والا ہے۔ (الانعام : 133) 4۔ اللہ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ (الاعراف : 156)
5۔ اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف : 56)
6۔ وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے۔ (العنکبوت : 21)
7۔ فرما دیجیے اے میرے رب ! معاف فرما اور رحم فرماتو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : 118)
8۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ (الزمر : 53)
Ayahs 18:13–15فہم القرآن
ربط کلام : تمہید کے بعد اب واقعہ کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسے نبی ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور احکام کی مرکزیت اور اہمیت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔
اس واقعہ میں توحید کے اثبات اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کرنے، شرک کے ابطال اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے موقف کو بےحیثیت اور بعث بعد الموت ثابت کرنے کے لیے اس بات کو اپنی ذات اقدس کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ایمان اور ہدایت میں مزید آگے بڑھادیا۔ ان کے دلوں کو مضبوط کیا۔ جب وہ عزم بالجزم کے ساتھ اس دعوت کو لے کر اٹھے اور کہا کہ لوگو ! ہمارا رب وہ رب ہے جو زمین آسمان کا خالق ہے۔ ہم اس کے سوا کسی دوسرے کو خالق، مالک اور عبادت کے لائق نہیں سمجھتے۔ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں۔ تو ہمارا اس طرح سمجھنا پرلے درجے کی حماقت ہوگا۔ ہماری قوم کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے زمین و آسمان کے خالق ومالک کے سوا دوسروں کو معبود بنا کر حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیا ہے۔ یہ لوگ ان کے بارے میں کوئی ٹھوس، شرعی، اور عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا اور اسے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ ایسے شخص سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس واقعہ میں پہلی حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان کا خالق، مالک صرف ایک اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنا اور کہنا پرلے درجے کا ظلم اور حماقت ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کے پاس شرعی اور عقلی لحاظ سے کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اسی طرح دوسری حقیقت یہ واضح کی گئی ہے کہ جب کوئی جواں مرد اللہ پر ایمان اور اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے توحید کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جذبہ ایمان میں کئی گنااضافہ فرماکر اس کے کام کو آسان کردیتا ہے۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ نوجوان طبقہ نیکی اور برائی میں ہر اول دستہ کا کام دیتا ہے۔ انبیاء کرام کے ابتدائی ساتھی ہمیشہ نوجوان طبقہ ہی ہوا کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے دوٹوک انداز میں فرمایا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے جوانوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ کیونکہ وہ فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے مظالم سے ڈرتے تھے۔ فرعون ملک میں بڑا متکبر اور کفر میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔ (یونس : 83) دوسرے مقام پر فرمایا کہ فرعون کی قوم اس سے ڈر کر اس کی تابع دار ہوگی۔ حقیقت میں یہ لوگ نافرمان تھے۔ (الزخرف : 54)
رسول معظم ﷺ کی سیرت طیبہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ میں آپ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ سیرت نگار لکھتے ہیں بزرگوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ ایمان لائے۔ غور فرمائیں حالانکہ حضرت ابوبکر ؓ کی عمر پونے اٹھتیس سال کے قریب تھی۔ جب حضرت عمر ؓ نے کلمہ پڑھا تو وہ ستائیس اور اٹھائیس سال کے درمیان تھے۔ حضرت سعد ؓ انیس سال کی عمر میں مسلمان ہوئے۔ حضرت عثمان ؓ ستائیس سال کے قریب تھے۔ حضرت علی ؓ دس بارہ سال کے تھے۔ اصحاب کہف کی عمر کے بارے میں ” فتیۃ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت کے لحاظ سے اس کا معنیٰ ہے ” چودہ سال سے لے کر اٹھائیس سال کے جوان تک بولا جاتا ہے “۔
جوانی کی عبادت کا مقام :
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَبْعَۃٌ ےُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ ےَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ اِمَامٌ عَادِلٌ وَّشَآبٌّ نَشَأَ فِیْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ بالْمَسْجِدِ اِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتّٰی ےَعُوْدَ اِلَےْہِ وَرَجُلَانِ تَحَآبَّا فِی اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلَےْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَےْہِ وَرَجُلٌ ذَکَرَاللّٰہَ خَالِےًا فَفَاضَتْ عَےْنَاہُ وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَاَۃٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَّجَمَالٍ فَقَالَ اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَاَخْفَاھَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ ےَمِےْنُہٗ )[ رواہ البخاری : باب من جلس فی المسجد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے جس دن کوئی چیز سایہ فگن نہ ہوگی۔ (1) عدل کرنے والا حکمران (2) اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ذوق وشوق رکھنے والا جوان (3) وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ منسلک رہے جب وہ مسجد سے باہر جاتا ہے تو واپس مسجد میں جانے کے لیے فکر مند رہتا ہے (4) دو آدمی جو باہم اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہی ایک دوسرے سے میل جول رکھتے اور الگ ہوتے ہیں (5) جس آدمی نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے (6) ایسا شخص جس کو ایک خاندانی حسین و جمیل عورت نے گناہ کی دعوت دی مگر اس نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو بچائے رکھا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور (7) وہ جس نے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوپائی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید میں جو قصص بیان ہوئے ہیں وہ برحق ہیں۔ 2۔ اصحاب کہف چند نوجوان تھے جو ایمان لائے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو ہدایت میں آگے بڑھایا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے دل مضبوط کردیئے۔
5۔ اصحاب کہف نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں پکارنا چاہیے۔
7۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا بڑے گناہ اور ظلم کی بات ہے۔
تفسیر بالقرآن
نو جوانوں کا کردار :
1۔ وہ کچھ جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہم نے انکی ہدایت میں اضافہ کردیا۔ (الکہف : 13)
2۔ ہم نے ایک نوجوان کا تذکرہ سنا ہے جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ (الانبیاء : 60)
3۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا۔ (القصص : 14)
4۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم عطا کیا۔ (یوسف : 22)
Ayah 18:16فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، بالآخر مجبور ہو کر نوجوانوں کا قوم سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ۔
نامعلوم نوجوانوں نے کتنی مدّت اور کس قدر مظالم برداشت کیے ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ یقیناً انہوں نے با ربا رسوچا ہوگا کہ جائیں تو کہاں جائیں ؟ سلطنت رومہ میں ہر جگہ شرک کا غوغہ مچ رہا ہے۔ وقت کی حکومت ان کی دشمن ہوچکی ہے۔ جب حکومت اور عوام اس بات پر متفق ہوگئے کہ ان کو پتھر مارمار کر جان سے مار دینا چاہیے تو اس صورت حال میں اللہ کی توحید کے متوالوں اور اس کی عظمت پر سب کچھ قربان کردینے والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ان لوگوں سے اپنی جان اور ایمان بچانا چاہیے۔ جو اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ بات طے کرنے اور ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے غار میں داخل ہوئے کہ تمہارا رب تم پر کرم فرمائے گا اور ہمارے کام میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اسباب مہیا فرمائے گا۔ بعض مفسرین نے ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں یہ بات القاء کردی تھی۔ جس بناء پر انہیں یقین ہوگیا کہ ہمارا رب اپنے کرم سے ہماری مشکلات کو ضرور آسان فرمائے گا کیونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب وہ توحید کی دعوت لے کر اٹھے تو ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا۔ کیونکہ مواحد کا اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے اور وہ اسی سے مدد کا طلبگار ہوتا ہے۔
مسائل
1۔ اصحاب کہف نے معبودان باطل کو چھوڑ کر غار میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
2۔ جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ اللہ کی رحمت کا حقدار ہوجاتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔
Ayah 18:17فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، جس غار میں نوجوان داخل ہوئے اس کا نقشہ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رہنمائی سے انہیں ایسی غارکا انتخاب کرنے کی توفیق عنایت فرمائی کہ جس کا اندرونی اور بیرونی نقشہ یوں بیان فرمایا ہے کہ صبح کے وقت سورج غار کے دہانے پر دائیں طرف مڑجاتا اور غروب کے وقت دہانے سے بائیں سمت ہوجاتا۔ اس طرح وہ دوپہر اور پچھلے پہر سورج کی تمازت سے محفوظ کردیئے گئے۔ اس غار کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ گویا کہ غار ہر اعتبا رسے محفوظ ہونے کے ساتھ تازہ ہوا اور مناسب روشنی کی مرکز بنادی گئی۔ غار اندر سے اس قد رکشادہ اور ہموار تھی جس کے لیے ” فجوۃ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کا معنیٰ ہے ” چٹیل میدان “۔ اسکے ساتھ ہی غار پر اس قدر اللہ تعالیٰ نے اپنی جلالت وجبروت کا رعب ڈال دیا تھا۔ کہ عام شخص تو درکنار رسول اکرم ﷺ کو فرمایا ہے کہ آپ بھی اس غار کی ہیبت دیکھ کر اس کے اندر جانے کی ہمت نہیں کرسکیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کرم فرمائی ہے کہ جو اس سے ہدایت کا طالب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور جو گمراہی کو پسند کرتا ہے اسے وہ گمراہ رہنے دیتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ ہدایت اور گمراہی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ کیونکہ ہدایت اور گمراہی بھی اسی کی ملک ہیں۔ لہٰذا جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے وہ اپنے لیے کسی کو ولی اور مرشد نہیں پائے گا۔ سبحان اللہ یہاں کیسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ دنیا میں گمراہ لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ولی اور مرشد سمجھتے ہیں جو حقیقتاً ان کے دشمن اور خود گمراہ ہوتے ہیں۔ وہ ولایت کے پردے اور مرشد ہونے کی آڑ میں لوگوں کے مال، جان اور ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
یہ غار نہ صرف اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ بلکہ اس میں آرام کرنے والے توحید کے علمبرداروں کی حالت یہ ہے کہ مدت تک وہ پر سکون نیند میں محو خواب رہے۔ مگر دیکھنے والا ان کے چہروں کی تروتازگی دیکھ کر سمجھتا کہ یہ جاگ رہے ہیں نہ صرف وہ جاگ رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی کروٹیں بھی تبدیل کرتارہا۔
مسائل
1۔ اصحاب کہف اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ 2۔ جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت پاتا ہے۔
3۔ جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
ہدایت و گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
1۔ جسے اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یافتہ ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی دوست اور راہ بتانے والا نہیں پاؤ گے۔ (الکہف : 7 1)
2۔ جس کو آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جسے اللہ ہدایت دیتا ہے۔ (القصص : 56)
3۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پر ہے۔ جس کو وہ گمراہ کردے وہ نقصان اٹھائیں گے۔ (الاعراف : 178)
4۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (ابراہیم : 4)
Ayahs 18:18–20فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب کہف کا اٹھایا جانا، ان کا ایک دوسرے سے اپنے قیام کے بارے میں پوچھنا اور اپنی قوم کے ظلم سے ڈرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھایا۔ تاکہ یہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اس بات کو منکرین آخرت کے لیے حجت قرار دیا ہے۔ اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اٹھایا، جونہی وہ لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ بھائی ! ہم کتنی دیر یہاں ٹھہرے رہے ہیں ؟ ہر کسی نے سورج کا حساب لگا کر بتایا کہ ہم چند گھنٹے یا ایک دن سوئے رہے ہیں۔ اس اندازے کی دو وجہ تھیں۔ جب وہ سورج کو دیکھتے تو انہیں گمان ہوتا کیونکہ سورج غروب ہونے میں ابھی وقت باقی ہے اس بناء پر کچھ ساتھی کہتے ہیں کہ ہم چند گھنٹے سوئے ہیں۔ لیکن جب اپنی طبیعت کے سکون اور جسمانی آرام پر توجہ دیتے تو کہتے ہیں نہیں ہم ایک دن سوئے ہیں۔ گویا کہ ان کا اس بات پر اتفاق نہ ہوسکا کہ وہ کتنی دیر سوئے ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی برادرانہ بحث کو من وعن اسی طرح نقل فرمایا ہے۔ اس کے بعد انہیں بھوک محسوس ہوئی اور انہوں نے فیصلہ کیا۔ اپنے میں سے ایک ساتھیکو کچھ رقم دے کر قریب کے شہر میں بھیجاجائے اور اسے سمجھایا کہ وہ صاف ستھراکھا نا لانا اور آنے جانے میں بھی احتیاط کرنا تاکہ ہمارے بارے میں کسی شخص کو کوئی خبر نہ ہونے پائے اگر لوگوں کو خبر ہوگئی تو وہ ہمیں پکڑ کر سنگسار کردیں گے۔ یا ہمیں شرک کرنے پر مجبور کریں گے۔ شرک کرنے اور مرتد ہونے کی صورت میں ہم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ غار میں اصحاب کہف کی گفتگو کے چند نکات۔
1۔ اصحاب کہف اس بات پر متفق نہ ہوئے کہ ہم کتنی دیر تک سوئے رہے ہیں۔ یہی حالت حضرت عزیر (علیہ السلام) کی بیان کی گئی ہے کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک سو سال سلائے رکھا۔ جس کے بارے میں موت کا لفظ استعمال کیا ہے۔
اصحاب کہف کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ ہم کتنی دیرتک سوئے رہے ہیں۔
2۔ اصحاب کہف کا اپنے ساتھی کو صاف ستھرا کھانا لانے کی تاکید کرنا، ان کی نفاست اور رزق حلال کھانے کی ترجمانی کرتا ہے۔
3۔ ساتھی کو آنے جانے میں احتیاط کا پہلو اختیار کرنے کی تلقین کرنا، ان کی سمجھداری اور جن حالات میں انہوں نے اپنا علاقہ چھوڑا تھا۔ اس سے نازک ترین حالات اور شدید خطرات کا پتہ چلتا ہے۔
4۔ جن حالات کے پیش نظر انہوں نے اپنا وطن چھوڑا تھا کہ اگر وہ غار میں پناہ نہ لیتے تو مشرک انہیں سنگسار کردیتے یا انہیں شرک میں مبتلا کردیتے جو ہلاکت کا راستہ ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نوسال کے بعد اٹھایا۔ 2۔ کھانا پاکیزہ کھانا چاہیے۔
4۔ اہم کام میں راز داری کا خیال رکھنا چاہیے۔ 5۔ مشرک اور مرتد کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
Ayah 18:21فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب کہف کو تین سو نو سال کے بعد اٹھانے کی حکمت اور عقیدہ آخرت کا ایک اور ٹھوس ثبوت۔
یہ حقیقت پہلے بھی کئی بار عرض کی جاچکی ہے کہ عقیدہ آخرت اسلام کا تیسر ابنیادی عقیدہ اور اصول ہے جس کے لیے ناصرف قرآن مجید نے عقلی اور نقلی دلائل دیئے ہیں۔ بلکہ اس حقیقت کے اثبات کے لیے انسانی تاریخ میں پھیلے ہوئے ایسے واقعات بیان فرمائے ہیں کہ جن سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ضرور انسان کو پیدا فرمائے گا۔ اصحاب کہف کو بھی تین سونو سال کے بعد اس لیے جگایا اور اٹھایا گیا تاکہ انہیں اور ان کے حوالے سے لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت قیامت برپا کرنے کا وعدہ پور اکرے گا۔ جس کے برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اصحاب کہف نے مشورہ کرنے کے بعد جس ساتھی کو شہر میں کھانے کے لیے بھیجا تھا جب وہ شہر گیا۔ تو اس نے شہر اور لوگوں کو بالکلبدلا ہو اپایا۔ جب اس نے تین سو نو سال پہلے کی کرنسی پیش کی تو دکان دار کا کیا ردعمل تھا۔ وہ کھانا لے کر غار میں واپس آیا اور اسکے ساتھ کیا کیا واقعات پیش آئے۔ اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ کیونکہ ان باتوں پر رد عمل کا ہونا ایک فطری بات ہے۔ لہٰذا اس کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں تھی جس پر اس کی تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔ البتہ مفسرین اور مؤرخین نے یہ واقعات درج کیے ہیں کہ جب وہ غار سے نکلا، شہر میں داخل ہو اتو شہر کی حالت، لوگوں کا رہن سہن اور ان کے نظریات میں تبدیلی محسوس کی۔ جب اس نے کھانے کی قیمت پیش کی تو دکاندارنے کہا یہ کرنسی تو بہت پرانی ہے۔ اس نے کہا کل تو یہ کرنسی استعمال ہوتی تھی راتوں رات اسے کیا ہوگیا ہے۔ ان کی آپس میں ہونے والی تکرار سن کر لوگ اکٹھے ہوئے۔ مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے۔ بالآخر لوگوں نے عجوبہ سمجھ کر غار تک اس کا پیچھا کیا وہ لوگوں کے سامنے غار میں داخل ہوا لیکن اس کا پیچھا کرنے والوں کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر غار میں جھانک سکیں۔ جب یہ بات حکمرانوں تک پہنچی تو ذمّہ داران حکومت غار کے دہانے پر پہنچے بعدازاں ان میں اس بات پر تنازعہ ہوا کہ ان کی یادگار کیسی ہونی چاہیے ؟ بالآخر جو طبقہ اپنی رائے میں غالب رہا انہوں نے فیصلہ کیا کہ غار کے قریب مسجدتعمیر کی جائے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہ ﷺ قَالَ قَاتَلَ اللَّہُ الْیَہُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَاءِہِمْ مَسَاجِدَ ) [ رواہ البخاری : باب حدثنا ابو الیمان ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یھودیوں کو ہلاک کرے انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ “
مسائل
1۔ قیامت آنے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔
2۔ اصحاب کہف کے غار کے پاس ایک مسجد تعمیر کی گئی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے :
1۔ ہم نے ان کو ان کے حال سے خبردار کردیا تاکہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ (الکھف : 21)
2۔ اللہ کا وعدہ یقیناً پوراہو کر رہے گا۔ (بنی اسر ائیل : 108)
3۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات سے کس کی بات سچی ہوسکتی ہے ؟ (النساء : 122)
4۔ آگاہ رہو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (یونس : 55)
5۔ بلاشبہ اللہ کا وعدہ برحق ہے لہٰذا تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے۔ (لقمان : 33)
6۔ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (المومن : 55۔ 77)
7۔ قیامت کے دن شیطان کہے گا یقیناً اللہ نے تمہارے ساتھ برحق وعدہ فرمایا تھا۔ (ابراہیم : 22)
8۔ اے لوگو ! یقیناً اللہ کا وعدہ برحق ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے۔ (فاطر : 5)
Ayah 18:22فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کے درمیان اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اختلاف رہا ہے، اس بارے میں خصوصی ہدایت۔
اصحاب کہف کے بارے میں شروع سے لوگوں میں یہ اختلاف رہا ہے کہ ان کی تعداد کتنی تھی ؟ یہی اختلاف نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بھی تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ دوسروں کا خیال تھا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ تیسرے گروہ کا خیال تھا کہ وہ سات جوان تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آپ ﷺ کو یہ کہہ کر اس بحث سے لاتعلق رہنے کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ فرمائیں کہ میرا رب ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ ان کی صحیح تعداد کو بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں لہٰذا آپ کو اس معاملے میں سرسری گفتگو سے بڑھ کر زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اصحاب کہف کے بارے میں کسی سے جاننے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نوجوان تھوڑے ہوں یا زیادہ اصل بات تو ان کا عقیدہ اور کردار ہے۔
(مَایَعْلَمُھُمْ الاَّ قَلِیْلٌ)[ الکھف : 22]
” چند لوگوں کے سوا اصحاب کہف کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ “
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں جو جانتے ہیں کہ ان کی اصل تعداد کیا تھی۔ اپنے موقف کی تائید کے لیے وہ یہ دلیل دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں پہلی دو تعداد کا یہ کہہ کر رد فرمایا ہے کہ اس کے بارے میں لوگ اٹکل پچو سے باتیں کرتے ہیں۔ اصحاب کہف کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا یہ بتلاکر اس کی تردید نہیں کی گئی۔ اس بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ (واللہ اعلم)
اس آیت مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جن باتوں کا براہ راست شریعت اور عمل کے ساتھ تعلق نہ ہو۔ انکے بارے میں بحث مباحثہ اور پوچھ گچھ کرنا مناسب نہیں کیونکہ جن لوگوں کو لایعنی باتوں میں پوچھ گچھ اور بحث و مباحثہ کرنے کی عادت ہوجائے۔ دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت بےعمل ہوتی ہے۔ بلکہ ان کی غالب اکثریت گمراہ ہوجایا کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔
’ حضرت علی ؓ کہتے ہیں جب میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کروں تو اللہ کی قسم ! مجھے آسمان سے گرنا زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں آپ ﷺ پر جھوٹ بولوں۔ جب میں تمہارے اور اپنے درمیان بات کرتا ہوں تو یقیناً جنگ دھوکہ ہے۔ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ آخری زمانے میں لوگ ہوں گے، چرب زبان، نادان ہوں گے، اچھی اور بھلائی کی بات کرنے والے ہوں گے، ان کا ایمان ان کی حلقوم سے تجاوز نہیں کرے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ جہاں بھی تم انہیں پاؤقتل کردو۔ یقیناً ان کو قتل کرنے والے آدمی کے لیے قیامت کے دن اجر ہوگا۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب استتابۃ المرتدین ]
(عَنْ عَلِیِّ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ سَےَخْرُجُ قُوْمٌ فِی اٰخِرِ الزَّمَانِ حُدَّاثُ الْاَنْسنَانِِ سُفَھَآءُ الْاَحْلَامِ ےَقُولُوْنَ مِنْ قَوْلِ خَےْرِ الْبَرِیَّۃِ لَا ےُجَاوِزُ اِےْمَانُھُمْ حَنَاجِرَھُمْ ےَمْرُقُوْنَ مِنَ الَّدِےْنَ کَمَا ےَمْرُقُ السُّھْمُ مِنَ الرَّمْےَۃِ ) [ رواہ ا لبخاری : کتاب استتابۃ المرتدین باب قتل الخوارج ]
” حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نوعمر، عقل و دانش کے لحاظ سے نادان، کتاب وسنت کو پیش کریں گے مگر حقیقتاً نور ایمان سے ایسے خالی ہوں گے کیونکہ ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہوجاتا ہے۔ “
تفسیر بالقرآن
ہر چیزکا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے :
1۔ فرما دیجیے ! میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کا علم رکھتا ہے۔ (الکھف : 22)
2۔ اصحاب کہف نے کہا تمہارا رب جانتا ہے تم کتنی دیر ٹھہرے ہو ؟ (الکھف : 19)
3۔ اللہ جانتا ہے رسالت کسے عطا کرنی ہے ؟ (الانعام : 124) 4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (ھود : 5)
5۔ اللہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے۔ (ھود : 31) 6۔ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ (القلم : 7)
Ayahs 18:23–24فہم القرآن
ربط کلام : نبی کریم ﷺ کو دوسری تلقین۔
سورۃ الکہف کے تعارف میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اہل مکہ نے مدینہ کے یہودیوں کے پاس ایک وفد بھیجا۔ یہودیوں نے انہیں تین سوالات بتلائے کہ اگر محمد نے ان سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیا تو وہ حقیقی نبی ہے۔ اگر ٹھیک جواب نہ دے سکا تو نبوت کے دعوی میں جھوٹا ہے۔ وفد نے مکہ سے واپس آکر آپ ﷺ سے یہ سوالات کیے۔ آپ نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا لیکن کئی دن تک وحی نہ آئی۔ جس پر کفار نے بغلیں بجائیں اور پروپیگنڈہ کیا کہ یہ شخص جھو ٹا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان جاری کیا ” اے نبی ! کسی کام کے بارے میں آئندہ اس طرح نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا ایسی بات کہتے وقت انشاء اللہ کہا کریں۔ جب اپنے رب کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر فوراً انشاء اللہ کہا کرو۔ اور فرما دیں عنقریب میر ارب میری اس سے زیادہ رہنمائی کرے گا۔ “ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر کو اور آپ کے حوالے سے آپ کی امت کو یہ ہدایت فرمائی ہے۔ مستقبل کے بارے میں کسی سے عہد کرنا ہو تو اس وقت انشاء اللہ کہہ لینا چاہیے۔ کیونکہ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔
(وَمَا تَشَاءُ وْنَ إِلَّا أَنْ یَشَاء اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ )[ التکویر : 29]
” اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ جہانوں کا رب چاہے۔ “
(وَمَا تَشَاءُ وْنَ إِلَّا أَنْ یَشَاء اللّٰہُ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا)[ الدھر : 30]
” اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ کو منظور ہو، بیشک اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ “
انشاء اللہ کا مقام اور احترام :
انشاء اللہ میں دو باتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف انشاء اللہ پڑھنے والا اس لیے پڑھتا ہے کہ میرا کام کوشش کرنا ہے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ گویا کہ وہ اپنے عقیدے کا اظہار کرتا ہے کہ کام کرنے کی اصل طاقت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ دوسرے الفاظ میں انشاء اللہ کہنے والا اللہ کو گواہ بنا کر دوسرے کو یقین دلاتا ہے کہ میں یہ کام کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ لیکن افسوس آج کئی علماء اور مسلمان انشاء اللہ تاکید کے طور پر نہیں بلکہ تعلیق کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تعلیق کا معنٰی ہے کسی بات کو لٹکانا حالانکہ وعدہ کرتے ہوئے انہیں یقین کی حد تک معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام میں نہیں کرپاؤں گا لیکن وقت ٹالنے کے لیے انشاء اللہ کہتے ہیں۔ جو شخص اس طرح انشاء اللہ کہتا ہے اسے خود ہی سوچنا چاہیے کہ وہ کس قدر ظالم ہے ؟ اپنے اور اپنے بھائی پر ظلم کرنے کے ساتھ اللہ کے مقدس نام کو کس نیت کے ساتھ استعمال کررہا ہے۔
مسائل
1۔ کسی کام کے متعلق یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں کل کروں گا۔
2۔ جب اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائیں تو یا دآنے پر انشاء اللہ کہنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی حق کی جانب رہنمائی کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے :
1۔ اپنے رب کو یاد کرو جب اس کا نام لینابھول جاؤ۔ (الکھف : 24)
2۔ اے ایمان والو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور اس کی صبح وشام تسبیح بیان کرو۔ (الاحزاب : 41)
3۔ جب نماز پوری کرچکو تو اللہ کا کھڑے، بیٹھ اور لیٹ کر ذکر کرو۔ (النساء : 103)
4۔ اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور انکساری سے یاد کرو۔ (الاعراف : 205)
5۔ خبردار اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد : 28)
Ayahs 18:25–26فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اصحاب کہف کی غار میں مدت قیام تین سونو سال بتلانے کے بعد پھر یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کو بتلا دیں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اس میں کتنی مدت ٹھہرے رہے۔ وہی زمین و آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ وہ ہر چیز کو خوب دیکھتا اور ہر بات کو اچھی طرح سننے والا ہے۔ پھر ارشاد فرمایا کہ ایسی باتوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہاں یہ یاد رکھیں کہ اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک ہے اسی طرح کائنات کا خالق ومالک ہونے کے ساتھ واحد حاکم ہے۔ اس کے ہر حکم میں حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ زمین و آسمانوں میں کوئی ہستی نہیں جو اس کے حکم میں مداخلت کرسکے وہ حاکم مطلق ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ اس کے بندوں پر اسی کا حکم چلنا چاہیے۔
(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَءِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ )[ المائدۃ : 44]
” جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ “
(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ )[ المائدۃ : 45]
” جو اس کے حکم کو نافذ نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے وہ ظالم ہے۔ “
(وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ )[ المائدۃ : 47]
” جو اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ کے حکم کے نفاذ کے فوائد :
(عَنِ ابِنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِی بلاَدِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو قائم کرنا۔ زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے چالیس راتیں بارش نازل کرنے سے بہتر ہے۔ “
مسائل
1۔ اصحاب کہف غار میں تین سو نو سال ٹھہرے رہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کے غائب کو جانتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کار ساز نہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے حکم میں کسی کو شریک نہیں بنانا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کی زمین پر اللہ ہی کا حکم نافذہونا چاہیے :
1۔ اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (الکھف : 26)
2۔ اللہ جیسا چاہتا ہے حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کو رد کرنے والا نہیں۔ (الرعد : 41)
3۔ آپ ان کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں۔ (المائدۃ : 49)
4۔ خبردار اسی کے لیے حکم ہے اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ (الانعام : 62)
5۔ حکم صرف اللہ ہی کا ہے وہ حق بیان کرتا ہے۔ (الانعام : 57)
6۔ نہیں ہے حکم مگر اللہ کا اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (یوسف : 40)
7۔ اچھی طرح سنو ! کہ ساری کائنات کا خالق اللہ ہی ہے اور وہی حاکم مطلق ہے۔ (الاعراف : 54)