Ayahs 18:85–88فہم القرآن
ربط کلام : ذوالقرنین کی پہلی مہم اور اس کی فتوحات۔
قرآن مجید نے ذوالقرنین کی مملکت اور اس کے اسباب و وسائل کا ذکر کرتے ہوئے یہ لفظ استعمال فرمائے ہیں۔” فَأَتْبَعَ سَبَبًا “ اس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں۔ ایک جماعت نے اس کا معنیٰ کیا ہے کہ وہ اسباب کے پیچھے چلا جس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اس نے اپنی مملکت میں وسائل کے حصول کے لیے ٹھیک ٹھیک اقدامات کیے اور وسائل کی خوب منصوبہ بندی کی۔ ترقی یافتہ مملکت اور کامیاب حکمران کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ وسائل کے حصول کے ساتھ اس کی پلاننگ میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دیتا۔
” فَأَتْبَعَ سَبَبًا “ کا دوسرا معنٰی یہ لیا گیا ہے کہ اس نے ایک راہ اختیار کی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے فتح حاصل کرنے کے لیے ایک علاقے کو سامنے رکھا اور اس کے بارے میں بڑی حکمت عملی کے ساتھ فوجی مہم کا نقشہ تیار کیا۔ یہی بات فتح کی کلید ہوا کرتی ہے۔ اس پیش بندی کے ساتھ جدید اسلحہ، تربیت یافتہ اور منظم فوج، بہترین منصوبہ بندی اور مصمم ارادہ کے ساتھ لشکر جرار کی کمان کرتا ہے۔ ان وسائل کے ساتھ ذوالقرنین علاقے پر علاقہ اور بڑی بڑی حکومتوں کو فتح کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتا گیا۔ یہاں تک اپنی مملکت کے مغرب میں اس مقام پر جاپہنچا جس سے آگے سمندر ہی سمندر تھا۔ اس نے ساحل سمندر پر کھڑے ہو کر فتح یاب آنکھوں کے ساتھ سورج کا نظارہ کیا۔ جو مغرب کے وقت یوں دکھائی دیا جیسے وہ سمندر کی دلدل میں غوطہ زن اور دھنس رہا ہے۔ اس علاقہ کے لوگ ذوالقرنین کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گذار ہوتے ہیں کہ اے بادشاہ سلامت آپ غالب ہیں اور ہم مغلوب ہیں۔ لہٰذا ہم کلی طور پر سرنگوں اور آپ کے سامنے تابع فرماں ہیں۔ ہم اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرتے ہیں آپ چاہیں ہمارے ساتھ حسن سلوک کریں اگر چاہیں تو ہمیں گرفتار کریں اور سزا دیں۔ اگلی گفتگو کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ذوالقرنین کو یہ ارشاد فرمایا کہ تو ان لوگوں کو سزا دے یا ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اس نے کہا جس نے کسی کے ساتھ ظلم کیا تو بہت جلد اسے ” اللہ “ دنیا میں سزا دے گا، پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا وہ اسے سخت ترین عذاب دے گا۔ لیکن جو شخص ایمان لایا اور اس نے صالح اعمال کیے اس کے لیے بہترین بدلہ ہے اور عنقریب اس کے لیے ان کے کام کو آسان کردیں گے۔ اس گفتگو کے بارے میں اہل علم کا استدلال ہے کہ ذوالقرنین حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کا پیغمبر بھی تھا۔ لیکن جید اہل علم کا خیال ہے کہ فقط ان الفاظ سے ذوالقرنین کا پیغمبر ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن شخصیات اور شہد کی مکھی کے بارے میں بھی یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ ہم نے ان کی طرف وحی کی، ظاہر ہے کہ ساری شخصیات اور شہد کی مکھی پیغمبر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اہل علم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ! للہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کے دل میں یہ الفاظ القاء فرمائے جس کے نتیجہ میں اس نے خود کلامی کی یا اس کے عقیدہ کی ترجمانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے تاکہ لوگ بالخصوص حکمرانوں کو اس کے عقیدہ اور کردار کی اہمیّت جتلائی جائے۔ ہر دو صورتوں میں بات کا خلاصہ یہ ہے کہ نیک حکمران کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہونی چاہیے کہ وہ جو اقدام اٹھائے اس کے پیچھے یہ عقیدہ کار فرما ہو کہ اگر وہ کسی پر ظلم کرے گا تو اسے آخرت میں اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ اگر وہ مفتوح قوم اور اپنی رعایا کے ساتھ حسن سلوک کرے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اسے نیک نامی اور آخرت میں اجر عظیم سے سرفراز فرمائے گا۔ یہی وہ نصیحت ہے جو ذوالقرنین کے بارے میں معلومات دینے سے پہلے اہل مکہ کو کی گئی ہے کہ اے سوال کرنے والو ! اس واقعہ میں تمہارے لیے بڑی ہی نصیحت کا سامان ہے۔ غور کرو کہ ذوالقرنین اتنا بڑا بادشاہ اور فاتح ہونے کے باوجود مفتوح اور کمزور لوگوں کے ساتھ کس قدر رحم دل اور مہربان تھا لیکن تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں لیکن اس کے باوجود اپنے عزیز اقرباء پر ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہو۔ یاد رکھو عنقریب تمہیں اس ظلم کا انجام دیکھنا پڑے گا۔ اور یہ بھی عقیدہ رکھو کہ جو نیک اعمال کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا میں بھی آسانی پیدا کرے گا۔
مشفق اور ظالم بادشاہ کا فرق :
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَدْنَاہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَأَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللَّہِ وَأَبْعَدَہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَاءِرٌ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی الإِمَامِ الْعَادِلِ ]
” حضرت ابی سعید ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے ہاں لوگوں میں سے محبوب اور قریب ترین شخص عادل بادشاہ ہوگا۔ لوگوں میں سے مبغوض اور اللہ سے دور شخص ظلم کرنے والا بادشاہ ہوگا “
سورج ڈوبتا نہیں :
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ ہُرَیْرَۃَقَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لأَبِی ذَرٍّ حینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِی أَیْنَ تَذْہَبُ قُلْتُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّہَا تَذْہَبُ حَتَّی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَسْتَأْذِنَ فَیُؤْذَنَ لَہَا، وَیُوشِکُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ یُؤْذَنُ لَہَا، یُقَالُ لَہَا ارْجِعِی مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَذَلِکَ قَوْلُہُ تَعَالٰی (وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا ذَلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ )
[ رواہ البخاری : باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے کہا ‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے اسے اجازت مل جاتی ہے۔ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو۔ وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اور اس کو اجازت نہ ملے اسے حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔ “ ( الحمد اللہ آج سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ واقعتاً سورج نہیں ڈوبتا)
مسائل
1۔ ذوالقرنین دنیا کے عظیم حکمرانوں میں سے ایک حکمران تھا اس نے وسائل جمع کیے اور ان کی خوب منصوبہ بندی کی۔
2۔ ذوالقرنین اپنے ملک کے مغرب میں پیش قدمی کرتے ہوئے ساحل سمندر تک پہنچ گیا۔
3۔ وہ ظلم کرنے کی بجائے رعایا پر احسان اور نرمی کرنے والا تھا۔
4۔ ذوالقرنین صحیح العقیدہ اور آخرت کی جزا و سزا پر یقین رکھنے والا بادشاہ تھا۔
Ayahs 18:89–91فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ذوالقرنین کی مشرق کی جانب دوسری فوجی مہم۔
ذوالقرنین نے دوسری فوجی مہم کے لیے بھی پہلے کی طرح ٹھیک ٹھیک منصوبہ بندی کرتے ہوئے فوج کو اپنے ملک کے مشرقی علاقوں پر یلغار کرنے کا حکم دیا اور پہلے کی طرح فوج کی خود کمان سنبھالی۔ وہ ملک پر ملک زیر نگیں کرتا ہوا زمین کی اس حد تک پہنچا کہ جہاں سے آگے کوئی ملک باقی نہ رہا۔ گویا کہ سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان اس کی فرمانروائی کا پرچم لہرانے لگا۔ زمین کی مشرقی سرحد پر اس کا واسطہ ایسی قوم کے ساتھ پڑا جو اس قدر غیر ترقی یافتہ اور غیر مہذب تھی کہ انھیں بودوباش اور رہن سہن کا بھی علم نہیں تھا۔ جس طرح آج بھی افریقہ کے کچھ علاقوں کے لوگ نیم برہنہ اور درختوں کے نیچے رہتے ہیں۔ حرام و حلال کی تمیز کے بغیر اور کھانا پکانے کی بجائے جانوروں کا کچا گوشت کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ نہ ملنے کی صورت میں اپنے بچے بھی کھا جاتے ہیں۔ 2005 ء میں میرے قریبی ساتھی صدر کرنل قذافی کی دعوت پر لیبیا گئے انھیں لیبیا کے ملحقہ ملک کے ایسے علاقے میں لے جایا گیا جہاں انھوں نے ایسے انسان دیکھے جو صحراؤں اور جنگلوں میں رہتے ہیں۔ ان کے جسم اور شکلیں دیکھ کر انسان کو یقین نہیں آتا کہ آدم زاد ہیں۔ صرف ہاتھ، منہ اور انسانی اعضاء کے ناطے سے انسان معلوم ہوتے ہیں۔ یہ تو ترقی یافتہ دور کے انسان کی حالت ہے۔ آج سے ہزاروں سال پہلے جن لوگوں سے ذوالقرنین کو واسطہ پڑا۔ وہ کس طرح کے انسان اور کس قدر غیر مہذب ہوں گے۔ ذوالقرنین نے ایسے لوگوں کے ساتھ شریفانہ اور ہمدردانہ رویہ اختیار کیا ان پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ذوالقرنین کو خراج تحسین سے نوازتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم اس کے حالات اور کردار کو خوب جانتے ہیں۔
Ayahs 18:92–98فہم القرآن
ربط کلام : ذوالقرنین کی تیسری عسکری مہم۔
مفسرین کا خیال ہے کہ مشرق و مغرب کو فتح کرنے کے بعد ذوالقرنین اپنے ملک سے ملحقہ اس زمانے کی موجود دنیا کے شمال مشرقی علاقے میں پہنچا جسے بعض مؤرخ ترکستان کے قریب کا علاقہ شمار کرتے ہیں۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد آباد تھی۔ جہاں بحرقرز اور بحر اسود کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے یہاں کے لوگوں کو مؤرخ منگول قوم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ قریب قریب وہی علاقے ہیں جہاں چائینہ کا ملک ہے۔ کیونکہ یہاں کوہ قفقاز کے دامن میں آہنی دیوار موجود ہے۔
ذوالقرنین کی تعمیر کردہ دیوار کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد مشہور دیوار چین ہے۔ حالانکہ دراصل یہ دیوار قفقاز (Caucasus) کے علاقہ داغستان میں دربند اور داریاں (Darial) کے درمیان بنائی گئی تھی۔ قفقاز اس ملک کو کہتے ہیں جو بحیرۂ اسود (Black Sea) اور بحیرۂ خَزر (Caspian Sea) کے درمیان واقع ہے۔ اس ملک میں بحیرۂ اسود سے داریال تک تو نہایت بلند پہاڑ ہیں اور ان کے درمیان اتنے تنگ درے ہیں کہ ان سے کوئی بڑی فوج نہیں گزر سکتی۔ البتہ در بند اور داریال کے درمیان جو علاقہ ہے اس میں پہاڑ بھی زیادہ بلند نہیں ہیں اور ان میں کوہستانی راستے بھی خاصے وسیع ہیں۔ قدیم زمانے میں شمال کی وحشی قومیں اسی طرف سے جنوب کی طرف غارت گرانہ حملے کرتی تھیں اور ایرانی فرمانرواؤں کو اسی طرف سے اپنی مملکت پر شمالی حملوں کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔ انہی حملوں کو روکنے کے لیے ایک نہایت مضبوط دیوار بنائی گئی تھی جو 50 میل لمبی 290 فٹ بلند اور دس فٹ چوڑی تھی۔ ابھی تک تاریخی طور پر یہ تحقیق نہیں ہوسکی ہے کہ یہ دیوار ابتداً کب اور کس نے بنائی۔ مگر مسلمان مؤرخین اور جغرافیہ نویس اسی کو سدِّ ذوالقرنین قرار دیتے ہیں۔
ابن جریر طبری اور ابن کثیر نے اپنی تاریخوں میں یہ واقعہ لکھا ہے اور یاقوت نے بھی مُعْجم البلدان میں اس کا حوالہ دیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آذر بائیجان کی فتح کے بعد 22 ہجری میں سُرَاقہ بن عمرو کو باب الابواب ( دربند) کی مہم پر روانہ کیا اور سراقہ نے عبدالرحمن بن ربیعہ کو مقدمۃ الجیش کا افسر بنا کر آگے بھیجا۔ عبدالرحمن جب رمینیہ کے علاقے میں داخل ہوئے تو وہاں کے فرمانروا شہر براز نے جنگ کے بغیر اطاعت قبول کرلی۔ اس کے بعد انہوں نے باب الابواب کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر شہر براز نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے ایک آدمی کو سدِّ ذوالقرنین کا مشاہدہ اور اس علاقے کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجا تھا، وہ آپ کو تفصیلات سے آگاہ کرسکتا ہے۔ چناچہ اس نے عبدالرحمن کے سامنے اس شخص کو پیش کیا۔
(طبری، ج، 3 : البدایۃ والنہایہ ج 7 : معجم البلدان، ذکر باب الابواب)
اس واقعہ کے دو سو سال بعد عباسی خلیفہ واثق (227۔ 233 ھ) نے سدّ ذوالقرنین کا مشاہدہ کرنے کے لیے سلام الترجمان کی قیادت میں 50 آدمیوں کی ایک مہم روانہ کی جس کے حالات یاقوت نے معجم البلدان اور ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں خاصی تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں لکھتے ہیں کہ یہ وفد سامَرّہ (سُرَّمَنْ رَأیٰ ) سے تفلیس وہاں سے السر یر وہاں سے اللان ہوتا ہوا فیلان شاہ کے علاقے میں پہنچا، پھر خَزَر کے ملک میں داخل ہوا۔ اس کے بعد دربند پہنچ کر اس نے سدّ کا مشاہدہ کیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی ہجری میں بھی مسلمان عام طور پر قفقاز کی اس دیوار ہی کو سدّ ذوالقرنین سمجھتے تھے۔
یاقوت نے معجم البلدان میں متعدد دوسرے مقامات پر بھی اسی امر کی تصریح کی ہے۔ (ہِیَ بِلَاد التُرَکِ خَلَفَ بَابِ الْاَبْوَابِ الْمَعْرُوْفِ بالدَّْرْ بَنْدَ قَرِیْبٌ مِنْ سَدِّ ذِی الْقَرْنَیْنِ ) یہ ترکوں کا علاقہ ہے جو سد ذوالقرنین کے قریب باب الابواب کے پیچھے واقع ہے جسے دربند بھی کہتے ہیں۔ “ اسی سلسلہ میں خلیفہ المقتدر باللہ کے سفیر، احمد بن فضلان کی ایک رپورٹ نقل کرتا ہے جن میں مملکت خزر کی تفصیلی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خزر ایک مملکت کا نام ہے جس کا صدر مقام اتل ہے۔ دریائے اِتِل اس شہر کے درمیان سے گزرتا ہے اور یہ دریا روس اور بلغار سے آکر بحر خزر میں گرتا ہے۔ باب الابواب کے زیر عنوان لکھتا ہے کہ اس کو الباب اور دربند بھی کہتے ہیں، یہ بحر خزر کے کنارے واقع ہے۔ بلاد کفر سے بلاد مسلمین کی طرف آنے والوں کے لیے یہ راستہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ ایک زمانہ میں یہ نوشیروان کی مملکت میں شامل تھا اور شاہان ایران اس سرحد کی حفاظت کو غایت درجہ اہمیت دیتے تھے۔ (تفہیم القرآن : جلد، 3)
یہاں ذوالقرنین نے ایسی قوم کو پایا۔ جن کی زبان سے وہ واقف نہ تھا۔ ظاہر ہے اس قوم کے نمائندوں نے کسی ترجمان یا اشاروں کی زبان سے اپنی صورت حال بادشاہ سلامت کے سامنے پیش کی ہوگی یہاں یا جوج ماجوج قوم رہتی ہے۔ جو اس علاقے پر شب و خون مارتے اور ہر قسم کا دنگا فساد کرتے ہیں انھوں نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ان سے ہماری حفاظت کا کوئی بندوبست فرمائیں۔ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی رکاوٹ کھڑی کریں۔ ہم اس کے لیے آپ کی خدمت میں ٹیکس بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کی گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے ان پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کے مال میں تصرف کیا جس وجہ سے وہ از خود مال کی پیشکش کرتے ہیں۔
رحم دل بادشاہ نے کہا کہ مجھے آپ کے مال کی ضرورت نہیں۔” اللہ “ کا مجھ پر کرم ہے اس نے مجھے سب کچھ دے رکھا ہے۔ آپ صرف افرادی قوت مہیا کریں یعنی لیبر دیں میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک بند بنائے دیتا ہوں۔ تم لوہے کی چادریں اٹھا اٹھا کر لاؤ۔ میں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوارکھڑی کردیتا ہوں۔ چناچہ اس نے پہاڑوں کے دونوں جانب لوہے کی موٹی موٹی دیواریں کھڑی کرکے ان کو آگ سے تپا یا جب وہ ایک خاص ڈگری تک گرم ہوگئیں تو حکم دیا ان کے درمیان پگھلا ہوا تانبا بھر دیا جائے۔ اس طرح دونوں پہاڑوں کے درمیانی حصے کو لوہے اور تانبے کے کنکریٹ سے بند کردیا۔ اس موقعہ پر بادشادہ نے اختتامی کلمات کہتے ہوئے فرمایا کہ یاجوج ماجوج نہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکتے ہیں ظاہر ہے اتنے بڑے منصوبہ کی تکمیل پر لوگوں نے ذوالقرنین کی تعریف کی ہوگی۔ نیک دل بادشاہ اس پر اترانے کی بجائے کہتا ہے کہ یہ میرے رب کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ البتہ جب میرے رب کا وعدہ آن پہنچے گا تو وہ اسے پیوندِخاک کر دے گا اور اس کا وعدہ حق اور سچ ہے۔ وعدہ سے مراد قیامت یا دیوار کی مدّتِ عمر ہے۔ یہاں پھر ذوالقرنین کے حسن کردار اور عقیدہ کی پختگی کا پتہ چلتا ہے کہ عظیم فاتح اور بلاشرکت غیرے دنیا کا حکمران ہونے کے باوجود رعایا کے ساتھ کس قدر مہربان اور قیامت پر کتنا پختہ عقیدہ رکھنے والا شخص تھا جس کی کلام حمید میں تعریف کی گئی ہے۔
Ayah 18:99فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ
مفسرین نے یاجوج ماجوج کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں۔ ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ ماضی اور موجودہ زمانے میں اس کا کون سی قوم کے ساتھ تعلق بنتا ہے اور یہ قوم کس ملک اور علاقے میں پائی جاتی تھی بہرحال اللہ “ کا حکم نافذ ہوگا تو نہ صرف سدِّ ذوالقرنین ٹوٹ جائی گی بلکہ پوری دنیا الٹ پلٹ ہوجائے گی، اس دن تمام لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔
یاجوج ماجوج سے مراد ایشیا کے شمالی مشرقی علاقے کی وہ قومیں ہیں جو قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر غارت گرانہ حملے کرتی رہی ہیں اور جن کے سیلاب وقتاً فوقتاً اٹھ کر ایشیاء اور یورپ دونوں طرف رخ کرتے رہے ہیں۔ بائیبل کی کتاب پیدائش (باب 10) میں ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی نسل میں شمار کیا گیا ہے اور یہی بیان مسلمان مؤرخین کا بھی ہے حزتی ایل کے صیحفے ( باب 38، 39) میں ان کا علاقہ روس اور توبل ( موجودہ تو بالسک) اور مسک ( موجودہ ماسکو) بتایا گیا ہے۔ اسرائیلی مؤرخ یوسیفوس ان سے مراد سیتھیئن قوم لیتا ہے جس کا علاقہ بحراسود کے شمال اور مشرق میں واقع تھا۔ جیروم کے بیان کے مطابق ماجوج کا کیشیا کے شمال میں بحر خزر کے قریب آباد تھے۔
یاجوج ماجوج کے بارے میں مفسرین نے بہت ہی رطب یا بس جمع کیا اور لکھنے والوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ یاجوج ماجوج قد کے لحاظ سے فٹ ڈیڑھ فٹ لمبے اور ان کے کان اتنے بڑے بڑے ہیں کہ ایک نیچے اور دوسرا کان اوپر لے کر سوتے ہیں ایک مادہ کم ازکم سو بچے جنم دیتی ہے۔ حدیث کی بعض کتب میں یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ وہ سارا دن اس دیوار کو چاٹتے رہتے ہیں۔ جب مغرب کا وقت ہوتا تو تھک ہار کر کہتے ہیں کہ کل ہم اس دیوار کو چاٹ چاٹ کر ختم کردیں اور اس حصار سے باہر نکل آئیں گے یہ بھی ایک روایت میں درج ہے کہ قرب قیامت جب باہر نکلیں گے تو آسمان کی طرف تیر چلائیں گے جو خون آلود ہو کر نیچے آئیں گے۔ جن کو دیکھ کر یاجوج ماجوج کہیں گے کہ ہم نے مسلمانوں کے رب کو قتل کردیا ہے وہ اتنی تعداد میں ہوں گے کہ ان کا پہلا قافلہ بڑے بڑے دریاؤں کا پانی پی جائے گا۔ بعد کے قافلے دریاؤں اور چشموں کی مٹی بھی چاٹ جائیں وغیرہ وغیرہ۔
یاجوج ماجوج کی اصلیّت اور ان کے بارے میں روایات کی حقیقت :
(عَنْ زَیْنَبَ ابْنَۃِ جَحْشٍ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ دَخَلَ عَلَیْہَا یَوْمًا فَزِعًا یَقُولُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ ہَذِہِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعَیْہِ الإِبْہَامِ وَالَّتِی تَلِیہَاقَالَتْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ جَحْشٍ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ أَفَنَہْلِکُ وَفِینَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ ) [ رواہ البخاری : باب یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ]
حضرت زینب بنت جحش بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول محترم ﷺ گھبراہٹ کے عالم میں ان کے ہاں تشریف لائے اور فرمانے لگے۔” اللہ “ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں عربوں کے لیے ایک بڑا ہلاکت خیز فتنہ بالکل قریب آپہنچا ہے۔ یا جوج وماجوج کی دیوار میں اس قدر سوراخ ہوگیا ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت کے لیے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی سے حلقہ بنایا۔ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت زینب ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا ‘ اے اللہ کے رسول ا ! کیا ہم ہلاک کردیے جائیں گے ‘ جبکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! جب خباثتیں زیادہ ہوجائیں گی۔
(عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ ہُرَیْرَۃَ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذَاکَرُونَ قَالُوا نَذْکُرُ السَّاعَۃَقَالَ إِنَّہَا لَنْ تَقُومَ حَتَّی تَرَوْنَ قَبْلَہَا عَشْرَ آیَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّۃَ وَطُلُوع الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَنُزُول عیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَیَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلاَثَۃَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَی مَحْشَرِہِمْ )[ رواہ مسلم : باب فِی الآیَاتِ الَّتِی تَکُونُ قَبْلَ السَّاعَۃِ ]
” حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے آپ نے استفسار فرمایا کہ کس چیز کا ذکر کرر ہے ہو۔ ہم نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں ‘ آپ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی ‘ جب تک تم اس کی دس نشایناں نہ دیکھ لو پھر آپ نے یہ نشانیاں ذکر فرمائیں : دھواں ‘ دجال ‘ دابۃ الارض ‘ سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ‘ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نزول، یا جوج وماجوج کا خروج اور لوگوں کا تین دفعہ دھنسائے جانا 249 ان میں سے ایک بار دھنسنا مشرق میں ‘ ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ ان کے آخر میں یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو میدان محشر کی طرف دھکیلے گی۔ ایک اور روایت میں ہے آگ عدن کے آخری کنارے سے نکلے گی جو لوگوں کو میدان حشر کی طرف دھکیل کرلے جائے گی تیسری روایت میں دسویں علامت کے طور پر آندھی کا ذکر ہے جو لوگوں کو سمندر میں گرا دے گی۔ “
صور کا پھونکا جانا :
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا میں کیسے نعمتوں سے لذّت اٹھاؤں ؟ جبکہ سینگ والے نے سینگ منہ میں ڈالا ہوا ہے اور اجازت کا منتظر ہے کب اس کو پھونکنے کا حکم ملے تو وہ پھونک مار دے۔ نبی محترم ﷺ کے صحابہ ؓ پر یہ بات گراں گزری نبی معظم ﷺ نے ان سے فرمایا تم کہو ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے اور ہم اپنے اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیا مۃ، باب ما جاء فی صفۃ الصور ]
Ayahs 18:100–101فہم القرآن
ربط کلام : یاجوج ماجوج اور اللہ کے منکروں کا انجام۔
جب قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہوں گی تو اسرافیل کو پہلا صور پھونکنے کا حکم ہوگا۔ جس سے تمام مخلوق مرجائے گی صرف رب ذوالجلال کی ذات باقی رہے گی نہ معلوم کتنے عرصہ تک لوگ مرے رہیں گے۔ اس عرصہ میں پوری کائنات بدل دی جائے گی۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے اسرافیل زندہ ہوگا اور پھر دوسری مرتبہ صور پھونکے گا۔ جس سے تمام لوگ حتیٰ کہ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ جانور بھی زندہ کردیے جائیں گے جنہیں ایک دوسرے سے بدلہ کا دلوایا جائے گا۔ یہاں تک سینگ والی بکری جس نے دوسری کو مارا ہوگا وہ اس سے بدلہ لے گی۔ لوگوں کو محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا اور جنت اور جہنم سامنے لا کھڑی کی جائے گی۔
(عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “
قیامت کے دن لوگوں کو آگ اکٹھا کرے گی :
(عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوق ﷺ حَدَّثَنِی أَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُونَ ثَلاَثَۃَ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاکِبِینَ طَاعِمِینَ کَاسِینَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلاَءِکَۃُ عَلَی وُجُوہِہِمْ وَتَحْشُرُہُمُ النَّارُ وَفَوْجٌ یَمْشُونَ وَیَسْعَوْنَ یُلْقِی اللَّہُ الآفَۃَ عَلَی الظَّہْرِ فَلاَ یَبْقَی حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَکُونُ لَہُ الْحَدِیقَۃُ یُعْطِیہَا بِذَاتِ الْقَتَبِ لاَ یَقْدِرُ عَلَیْہَا) [ رواہ النسائی : باب البعث ]
حضرت حذیفہ بن اسید حضرت ابوذر ؓ سے بیان کرتے ہیں بیشک کائنات میں سے سچے انسان نے مجھے خبر دی کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین طریقوں سے جمع کیا جائیگا۔ ان میں سے ایک جماعت سوارہو گی، کھانا کھاتے ہوئے کپڑے پہنچے ہوئے، ایک جماعت کو فرشتے چہروں کے بل گھسیٹیں گے اور آگ ان کو اکٹھا کرے گی اور ایک جماعت بھاگ دوڑ میں مصروف ہوگی اللہ تعالیٰ ان پر آفت مسلط فرمائیں گے اس سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا حتیٰ کہ ایک آدمی کا باغ ہوگا وہ اس باغ کو ایسی سواری کے بدلے میں دے گا جس پر اسے کچھ اختیار نہیں ہوگا۔
(وَعَنِ ابْنْ مَسْعُوْدٍ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُوؤتٰی بِجَھَنَّمَ یَوْمَءِذٍ لَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَّجُرُّوْنَھَا۔ ) [ رواہ مسلم : باب فِی شِدَّۃِ حَرِّ نَارِ جَہَنَّمَ ۔۔]
” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخ کو لایا جائے گا اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے ‘ جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِینَ جُزْءً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ قیلَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْہِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَسِتِّینَ جُزْءً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّہَا)
[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے سترویں درجے پر ہے۔ رسول معظم ﷺ سے عرض کیا گیا جلانے کے لیے آگ یہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا وہ اس سے انہتر درجے زیادہ تیز ہے اس کا ہر درجہ ایک دوسرے کے برابر ہے۔ “
مسائل
1۔ محشر کے میدان میں جہنم کفار کے سامنے لاکھڑی کی جائے گی۔
2۔ جہنم کو دیکھ کر کفار کی آنکھوں سے غفلت کے پردے اٹھ جائیں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت سے لاپرواہی کرنے والوں کی سزا جہنم ہے۔
Ayah 18:102فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور اللہ تعالیٰ کو بھول جانے والوں کا انجام۔
جس طرح پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ سورت اہل مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔ اہل مکہ کے سوالات کا جواب دینے کے بعد سورة کے اختتام میں انھیں براہ راست مخاطب کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے بندوں کو حاجت روا، اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کو مہمان نوازی کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔ اس مختصر فرمان میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1۔ شرک کرنے والوں کو کافر کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔
2۔ جن فوت شدگان کو یہ لوگ حاجت روا، اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن مجید میں کئی مرتبہ اولیاء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کے مشہور اور مستند معانی ہیں۔ نگران، مددگار، دوست اور محبوب آقا۔ ظاہر ہے کہ جن فوت شدگان کو پکارا جاتا ہے ان کے بارے میں مشرکین ایسا ہی عقیدہ رکھتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے جو قیامت کے دن اپنی عبادت کا صاف طور پر انکار کریں گے۔ یعنی ایسے بزرگ جو مواحد تھے اور اپنی زندگی میں شرک کی مذمت کرتے تھے لیکن ان کے بعد مشرک انہیں مشکل کشا، حاجت روا کہہ کر پکارتے رہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کو شرک کے ساتھ اس قدر نفرت ہے کہ اس نے مشرکین کے لیے جہنم کو میزبانی کے طور پر تیار کر رکھا ہے۔ ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے ہاں مشرکین کا کیا مقام ہے اس لیے اس کا فرمان ہے۔
(إِنَّ اللَّہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُشْرِکْ باللَّہِ فَقَدِ افْتَرَی إِثْمًا عَظِیمًا)[ النساء : 48]
” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کرنے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہتان باندھا اور بہت بڑا گناہ کیا۔ “
(إِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا باٰ یَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَاب السَّمَاءِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ) [ الاعراف : 40]
” بیشک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انہیں قبول کرنے سے تکبر کیا ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ “
(إِنَّہُُ مَنْ یُشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہ النَّارُ وَمَا للظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنْصَارٍ )
[ المائدۃ : 72]
” بیشک جو بھی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا اس پر جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ “
(عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ )
[ راہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار ]
” حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردن تک پہنچی ہوگی۔ “
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا مشرک جن کو پکارتے ہیں :
1۔ کیا کافر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ میرے بندوں کو میرے سوا کار ساز بنا لیں گے۔ (الکہف : 102)
2۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے ہی بندے ہیں۔ (الاعراف : 194)
3۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (الاعراف : 197)
4۔ سوال کیجیے کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو انھوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے ؟ (الاحقاف : 4)
5۔ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ (الحج : 73)
6۔ کیا تم بعل (بت) کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑتے ہو۔ (الصّٰفٰت : 125)
Ayahs 18:103–104فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کے اعمال کی دنیا اور آخرت میں حیثیت۔
اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے ساتھ اس قدر نفرت ہے کہ انھیں براہ راست مخاطب کرنے کی بجائے رسول معظم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ استفسار کرنے کی صورت میں انہیں بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کے بندوں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھنے والو ! کیا میں تمہیں یہ نہ بتلاؤں کہ فکر و عمل کے اعتبار سے کون لوگ سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔ ہاں یہ وہی لوگ ہیں جن کے دنیا اور آخرت میں تمام اعمال ضائع ہوئے حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے نیکی کے کام کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں جو ہمیں اچھی شہرت اور مال و اسباب دیے گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر راضی ہے۔ یہ وہ بات ہے جو کافر، مشرک، حرام خو اور باغی انسان اپنی زبان سے اکثر کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ کا بڑا ہی فضل و کرم ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ فراوانی اس لیے عنایت کی ہوتی ہے تاکہ یہ لوگ کھل کر برے اعمال کرسکیں۔ دنیا میں ان کے اعمال ضائع ہونے کا یہ بھی ایک مفہوم ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، مشرک کو ان کے اچھے اعمال کا قیامت کے دن کوئی صلہ نہیں ملے گا کیونکہ ان کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں تھا۔ جس طرح دنیا کی ہر چیز بالآخر فنا ہوجائے گی اسی طرح ہی ان کے اعمال اس دنیا میں ہی مٹ جائیں گے۔ یعنی ان کا نیکی کے حوالے سے ذکر خیر کرنے والا کوئی نہیں ہوگا یہی وجہ ہے کہ جن غیر مسلموں نے کار خیر کے جو کام کیے ان کا ذکر نیکی کے طور پر نہیں بلکہ محض یاد گار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بظاہر نیکی کے کام کرتے ہیں لیکن ان کے اعمال سنت رسول ﷺ سے ثابت نہیں ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں بتلایا گیا ہے۔
(عَامِلَۃٌ نَاصِبَۃٌ۔ تَصْلَی نَارًا حَامِیَۃً )[ الغاشیہ : 3۔ 4]
” سخت محنت کرنے والے تھکے ہوں گے۔ لیکن دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہُ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ إِنَّہٗ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیءَتِی یَوْمَ الدِّینِ )
[ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ابن جدعان زمانہء جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اس کو اس کے اعمال کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، کیونکہ اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطائیں معاف کرنا۔ “ گویا کہ وہ آخرت کا منکر تھا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَےْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ)
[ رواہ مسلم : باب نَقْضِ الأَحْکَامِ الْبَاطِلَۃِ وَرَدِّ مُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا جس نے ہمارے دین میں نئی بات ایجاد کی جو اس میں نہیں ہے وہ ردّ کردی جائے گی۔ “
(عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْمًا وَلاَ صَلاَۃً وَلاَ صَدَقَۃً وَلاَ حَجًّا وَلاَ عُمْرَۃً وَلاَ جِہَادًا وَلاَ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً یَخْرُجُ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَۃُ مِنَ الْعَجِینِ )
[ رواہ ابن ماجہ : باب اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ ]
” حضرت حذیفۃ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بدعتی کا روزہ، نماز، حج، عمرہ، جہاد، اور کوئی چھوٹی بڑی نیکی قبول نہیں کرتا ایسا شخص اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ بعض لوگوں کے دنیا اور آخرت میں اعمال ضائع کردیے جاتے ہیں۔
2۔ جن کے دنیا اور آخرت میں اعمال ضائع ہوئے وہ بڑا ہی نقصان پائیں گے۔
3۔ بد قسمت ہے وہ انسان جو برائی کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے۔
Ayahs 18:105–106فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرکین کے ساتھ کفار کا انجام ذکر کیا جاتا ہے۔
اس آیت میں بظاہر کفار کا تذکرہ اور ان کی سزا کا بیان ہے لیکن اس کی ابتداء ” اُوْلٰٓءِکَ “ کے لفظ سے کی گئی ہے۔ جس کا معنیٰ ” وہ “ یا ” یہی لوگ “ گویا کہ کفار کے ساتھ مشرکین کا ایک ایسا گروہ بھی ہے جو اپنے رب کی آیات کا انکار کرنے کے ساتھ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ ان کے اعمال تو اس طرح ضائع ہوں گے کہ ان کے لیے قیامت کے دن ترازو ہی نہیں رکھا جائے گا۔ یہ سزا اس لیے ہوگی کہ انھوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ مذاق کیا تھا۔
حساب و کتاب کے حوالے سے تین قسم کے لوگ :
قرآن مجید سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قیامت کے دن حساب و کتاب کے حوالے سے لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ان میں ایک خوش نصیب جماعت ایسی ہوگی جنھیں بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ دوسرے وہ لوگ ہوں گے جن کے لیے ترازو ہی نہیں رکھا جائے گا انہیں یوں ہی جہنم داخل کردیا جائے گا۔ تیسری قسم کے لوگوں سے ان کے اعمال کے مطابق ہلکا یا بھاری حساب لیا جائے گا۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَیْسَ اَحَدٌ یُّحَا سَبُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّاھَلَکَ قُلْتُ اَوَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ فَسَوْفَ یُّحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا فَقَالَ اِنَّمَا ذٰلِکَ الْعَرْضُ وَلٰکِنْ مَّنْ نُوْقِشَ فِیْ الْحِسَابِ یَھْلِکُ ) [ رواہ البخاری : باب مَنْ سَمِعَ شَیْءًا فَرَاجَعَ حَتَّی یَعْرِفَہُ ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لے لیا گیا وہ ہلاک ہوا میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں ” عنقریب اس کا آسان حساب ہوگا “ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو معمولی پیشی ہے جس شخص سے باز پرس ہوئی وہ ہلاک ہوگیا۔ “
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنِّی لَاَعْلَمُ اٰخِرَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلاَ نِ اَلجَنَّۃَ وَاٰخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِّنْھَا رَجُلٌ یُؤْتٰی بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ اَعْرِضُوْ عَلَیْہِ صِغَارَ ذُنُوْبِہٖ وَارْفَعُوْاعَنْہٗ کِبَارَھَا فَتُعْرَضُ اعَلَیْہِ صِغَارُ ذُنُوْبِہٖ فَیُقَالُ عَمِلْتَ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا ‘ کَذَ ا وَکَذَا وَعَمِلْتَ یَوْمَ کَذَا ‘ کَذَا کَذَا وَکَذَا فَیَقُوْلُ نَعَمْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّنْکِرَ وَھُوَمُشْفِقٌ مِّنْ کِبَارِ ذُنُوْبِہٖ اَنْ تُعْرَضَ عَلَیْہِ فَیُقَالُ لَہٗ فَاِنَّ لَکَ مَکَانَ کُلِّ سَیِّءَۃٍحَسَنَۃً فَیَقُوْلُ رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ اَشْیَاءَ لَا اَرٰھَا ھٰھُنَا وَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہٗ ۔ ) [ رواہ مسلم : باب أَدْنَی أَہْلِ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَۃً فیہَا ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا : بلا شبہ میں جانتا ہوں کہ اہل جنت میں سے سب سے آخر میں جنت میں کون داخل ہوگا ؟ اور اہل جہنم میں سے سب سے آخر میں جہنم میں سے کون نکالا جائے گا ؟ وہ ایسا شخص ہوگا ‘ جسے قیامت کے دن پیش کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے سامنے اس کے صغیرہ گناہ پیش کرو اور اس کے کبیرہ گناہوں کو چھپائے رکھوچنانچہ اس کے سامنے صغیرہ گناہ پیش کئے جائیں گے اور اسے کہا جائیگا کہ تو نے فلاں دن ‘ فلاں کام کیا ؟ اور فلاں دن فلاں عمل کیا ؟ وہ اقرار کرے گا ‘ اس میں انکار کرنے کی جرأت نہ ہوگی البتہ وہ اپنے کبیرہ گناہوں سے خائف ہوگا کہ کہیں وہ اس کے سامنے نہ لائے جائیں تب اس سے کہا جائے گا ‘ بیشک تیرے لیے ہر برائی کے بدلہ میں ایک نیکی ہے وہ عرض کرے گا ‘ اے میرے پروردگار ! میں نے بہت سے اور بھی گناہ کیے تھے جن کو میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔ ابوذر ؓ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ یہ بیان کرتے ہوئے اتنا ہنسے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ “
تفسیر بالقرآن
حساب و کتاب کے حوالے سے تین قسم کے لوگ :
1۔ یقیناً صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر عطا کیا جائے گا۔ (الزمر : 10)
2۔ مذکر و مؤنث میں سے جو بھی نیک اعمال کرے گا اسے جنت میں داخل کیا جائے گا اور اسے بغیر حساب کے رزق عطا ہوگا۔ (المومن : 40)
3۔ جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگیا وہ کامیاب ہوا۔ (المومنون : 102)
4۔ وہ لوگ جو اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کے منکر ہیں ہم ان کے لیے ترازو قائم نہیں کریں گے۔ (الکہف : 105)
5۔ جس کا نیکیوں والا پلڑا ہلکا ہوا یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کیا۔ (الاعراف : 9)
Ayahs 18:107–108فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کے انجام کے ذکر کے بعد ایماندار اور صاحب کردار لوگوں کا تذکرہ۔
اللہ اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر سچا ایمان والے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کی مہمان نوازی جنت الفردوس میں کی جائے گی۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور ان کو کبھی اس سے نکالا نہیں جائے گا۔ نہ ہی وہ خود نکلیں گے۔ جنت کی ایک جھلک اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی نعمت ” دنیا و ما فیھا “ سے کھرب ہا درجہ بہتر ہے۔
” جنت الفردوس “ جنت کا وہ اعلیٰ حصہ اور مقام ہے جس کے مقابلہ میں باقی جنت کی نعمتیں معمولی تصور ہوں گی۔ اس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) ، ان کے اصحاب، شہدآء، صدیقین، صلحآء اور وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر نیکی کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ رسول کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لوگو ! جب اپنے رب کے حضور جنت کی التجاء کرو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَأَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْجَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا فَقَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ : إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ قَالَ وَ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجھاد والسیر ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ و رسول پر ایمان لایا، اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے۔ اسے جنت میں داخل کرنا اللہ پر حق ہے اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنے گھر بیٹھا رہا صحابہ نے عرض ! کی اللہ کے رسول ! تو کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت میں سو درجات بنائے ہیں ہر دو درجے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کے درمیانی فاصلہ کے برابر ہے۔ جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا وسط اور اعلیٰ جگہ ہے راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کے اوپررحمان کا عرش ہے اور وہاں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “ (روایت میں اختصار ہے ورنہ اسلام کے پانچ ارکان پر عمل کرنا فرض ہے)
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَاأتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْا اِنْ شِءْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ‘ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں ‘ جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا اگر تمہیں پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “
(عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَوْضِعُ سَوْطٍ فِی الْجَنَّۃِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی صِفَۃِ الْجَنَّۃِ وَأَنَّہَا مَخْلُوقَۃٌ ]
حضرت سہل بن ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک کوڑے کے برابر (گزبھر) جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ‘ سب سے بہتر ہے۔
تفسیر بالقرآن
جنت اور اس کی نعمتوں کی ایک جھلک :
1۔ ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس ہے۔ (الکہف : 107)
2۔ تمہارے لیے جنت میں وہ کچھ ہوگا جو تم چاہو گے۔ (حٰم السجدۃ : 31)
3۔ یقیناً متقیّن سایوں اور چشموں اور پسندیدہ میوہ جات میں رہیں گے۔ (المرسلات : 41۔ 42)
4۔ اللہ کے مخلص بندے نعمتوں والی جنت میں ہوں گے ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے۔ (الصٰفٰت : 43۔ 44)
5۔ پرہیزگاروں کے لیے عمدہ مقام ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے اور ان میں تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (ص : 49 تا 50)
Ayah 18:109فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح جنت کی نعمتوں کا تصور اور اس کا شمار کرنا محال ہے اسی طرح ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں، نعمتوں اور اس کی تعریفات کا شمار کرنا ناممکنات میں سے ہے۔
سورۃ ابراہیم آیت 34 میں ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ ظاہر بات ہے کہ جب کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا تو اس کی حمد وثناء اور تعریفات کا شمار اور حق کس طرح ادا کرسکتا ہے۔
اس لیے نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ مومنوں کے ساتھ بالخصوص کفار کو فرمائیں کہ تم اپنے رب کی ذات، صفات اور اس کی تعریفات کرو یا نہ کرو۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ جس کی قدرتوں، نعمتوں اور تعریفات کو احاطۂ تحریر میں نہیں لایا جاسکتا۔
(وَلَوْ أَنَّمَا فِی الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ سَبْعَۃُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَات اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ )[ لقمان : 27]
” اور اگر زمین کے درخت قلمیں اور سمندر سیاہی بن جائیں اور اس کے بعد سات سمندر اور بھی ہوں تو اللہ کی تعریفات ختم نہیں ہوسکتی بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ “
اسی حقیقت کے پیش نظر رسول اکرم ﷺ اپنے رب کی تعریف اس طرح کیا کرتے تھے۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ حَدَّثَہُمْ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَاد اللَّہِ قَالَ یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَلِعَظِیمِ سُلْطَانِکَ فَعَضَّلَتْ بالْمَلَکَیْنِ فَلَمْ یَدْرِیَا کَیْفَ یَکْتُبَانِہَا فَصَعِدَا إِلَی السَّمَاءِ وَقَالاَ یَا رَبَّنَا إِنَّ عَبْدَکَ قَدْ قَالَ مَقَالَۃً لاَ نَدْرِی کَیْفَ نَکْتُبُہَا قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُہُ مَاذَا قَالَ عَبْدِی قَالاَ یَا رَبِّ إِنَّہُ قَالَ یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ فَقَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمَا اکْتُبَاہَا کَمَا قَالَ عَبْدِی حَتَّی یَلْقَانِی فَأَجْزِیَہُ بِہَا) [ رواہ ابن ماجۃ : باب فَضْلِ الْحَامِدِینَ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بتلایا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یہ کلمات کہے اے میرے پروردگار تیرے لیے تعریف ہے ایسی تعریف جیسی تیرے پرجلال چہرے کے لیے زیبا اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہو، پس دو فرشتوں نے ان کلمات کا اجر لکھنے میں تنگی محسوس کی کہ وہ کیسے لکھیں ؟ تو وہ دونوں آسماں کی طرف گئے اور اللہ کے سامنے عرض کی اے ہمارے پروردگار تیرے بندے نے ایسے کلمات کہے ہیں کہ جن کا اجر لکھنا ہم نہیں جانتے۔ اللہ عزوجل نے ان سے پوچھا میرے بندے نے کیا کہا حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس نے کیا کہا فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے یہ کلمات کہیں (یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ ) اللہ عزوجل نے فرمایا تم یہی کلمات لکھ دو جو کلمات میرے بندے نے ادا کیے ہیں یہاں تک کہ وہ مجھے آملے تو پھر میں اسے ان کلمات کا صلہ عطا کروں گا۔ “
(عَنْ اَبِیْ سَعِےْدنِ الْخُدْرِیِّ ہُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَالَ (اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْأُالسَّمٰوٰتِ وَمِلْأُ الْاَرْضِ وَمِلْأُ مَا شِءْتَ مِنْ شَئٍ بَعْدُ اَھْلَ الثَّنَآءِ وَالْمَجْدِ اَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَا الْجَدِّمِنْکَ الْجَدُّ ) [ رواہ مسلم : باب اعْتِدَالِ أَرْکَان الصَّلاَۃِ وَتَخْفِیفِہَا فِی تَمَامٍ ]
” حضرت ابو سعیدخدری ؓ آپ ﷺ کے رکوع کے متعلق ذکر کرتے ہیں کہ آپ رکوع میں یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے اے اللہ تیری حمدوستائش اس قدر ہے جس طرح زمین و آسمان اور ہر چیز کو تو نے بھرپور وجود بخشا ہے۔ تو ہی تعریف و توصیف اور عظمت کے لائق ہے۔ تو اپنے بندے کی تعریف کا زیادہ حقدار ہے ہم سب تیرے ہی بندے ہیں۔ الٰہی جو چیز تو روک لے وہ کوئی نہیں دے سکتا اور جس کو تو عطا کرنا چاہے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ کسی کا حسب ونسب اور مال ومتاع تیرے حکم کے بغیر فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُول اللَّہ ﷺ لَیْلَۃً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُہُ فَوَقَعَتْ یَدِی عَلَی بَطْنِ قَدَمَیْہِ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ وَہُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَہُوَ یَقُول اللَّہُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لاَ أُحْصِی ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ ) [ رواہ مسلم : باب مَا یُقَالُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ]
حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں میں نے رسول محترم ﷺ کو ایک رات ان کے بستر سے الگ پایا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو ٹٹولا میرے ہاتھ آپ کے دونوں قدموں کے درمیان آپ ﷺ کے پاؤں کو لگے آپ کے دونوں پاؤں مصلّے پر کھڑے تھے اور آپ دعا کر رہے تھے۔” اے اللہ ! میں تیری ناراضگی کی بجائے تیری رضاکا طلب گار ہوں۔ “ سزا کی بجائے معافی کا خواست گار ہوں اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ میں تیری شایان شان تعریف کرنے کی طاقت و صلاحیت نہیں۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَال النَّبِیُّ کَلِمَتَانِ حَبِیبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ ، خَفِیفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ، ثَقِیلَتَانِ فِی الْمِیزَانِ سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ )]
” ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بڑے محبوب ہیں، نہایت آسانی سے ادا ہوجاتے ہیں اور ترازو میں بہت وزنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمد اور عظمت کے ساتھ پاک ہے۔ “
تفسیر بالقرآن
زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کے ہاں سربسجود رہتی ہے :
1۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتی ہے۔ ( الصٰفٰت : 1)
2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الرعد : 15)
3۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا اللہ کی مخلوق میں سے ہر چیز اسے سجدہ کرتی ہے اور وہ عاجزی کرتے ہیں اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز چوپائے اور فرشتے سجدہ کرتے ہیں۔ (النحل : 48۔ 49)
4۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟ کہ زمین و آسمان کی ہر چیز، چاند، سورج اور ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الحج : 18)
5۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمن : 6)
6۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : 45)
7۔ اے ایمان والو ! رکوع و سجدہ کرو اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الحج : 77)