18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsفہم القرآن

Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

” اور تلاوت کرو جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے آپ پر کتاب میں وحی کی گئی ہے، اس کے ارشادات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا آپ جائے پناہ پائیں گے۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ حاکم ہے اور اس کا حکم قرآن مجید کی صورت میں مکمل ہوا، اس لیے اس کے حکم کو جاننے کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر وحی کے ذریعے قرآن مجید نازل فرمایا جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا۔ اس میں ردو بدل اور ترمیم واضافہ کرنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں یہاں تک کہ رسول اکرم ﷺ بھی اس کی زیر زبر میں تبدیلی نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے احکام حق پر مبنی، حق کے ترجمان اور قیامت تک قائم دائم رہنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔ (الحجر : 9) اللہ کے کلام میں تبدیلی نہ ہونے کا یہ بھی مقصد ہے کہ اے نبی ﷺ ! لوگ اسے پسند کریں یا نہ کریں آپ نے ہر حال میں انہیں قرآن سنانا ہے۔ دنیا میں یہ واحد کتاب ہے جو شخص ایمان کی حالت میں اس کی تلاوت کرے گا۔ اسے ایک ایک حرف کے بدلے اجروثواب دیا جائے گا۔ (عَنْ أَبِی مُوسَی ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْمُؤْمِنُ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیَعْمَلُ بِہِ کَالأُتْرُجَّۃِ ، طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِی لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَیَعْمَلُ بِہِ کَالتَّمْرَۃِ ، طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَلاَ رِیْحَ لَہَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَالرَّیْحَانَۃِ ، رِیحُہَا طَیِّبٌ وَطَعْمُہَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِی لاَ یَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ کَالْحَنْظَلَۃِ ، طَعْمُہَا مُرٌّ أَوْخَبِیْثٌ وَرِیحُہَا مُرٌّ) [ رواہ البخاری : کتاب فضائل القرآن، باب مَنْ رَایَا بِقِرَاءَ ۃِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَکَّلَ بِہِ أَوْ فَخَرَ بِہِ ] ” حضرت ابو موسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مومن وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ سنگترے کی طرح ہے اس کا کھانا بھی پاکیزہ ہے اور اس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا لیکن اس پر عمل کرتا ہے وہ اس کھجور کی طرح ہے۔ اس کا ذائقہ اچھا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہے مگر اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا۔ وہ اندرائن کے پھل کی طرح ہے اس کا ذائقہ گندہ ہے اور اس کی بو بھی بڑی ہے۔ “ (عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہُ بِہِ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا لاَ أَقُول الم حَرْفٌ وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِیمٌ حَرْفٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اسکے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں یہ نہیں کہ تاکہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، میم دوسرا حرف اور لام تیسراحرف ہے۔ “ قیامت کے دن حافظ قرآن کا اعزاز : (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا فَإِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ اٰخِرِ اٰیَۃٍ تَقْرَؤُہَا )[ رواہ ابوداود : باب اسْتِحْبَاب التَّرْتِیلِ فِی الْقِرَاءَ ۃِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حافظ قرآن کو کہا جائے گا قرآن کو پڑھتے جاؤ اور اوپر چڑھتے جاؤ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جس طرح دنیا میں پڑھا کرتے تھے۔ قرآن مجید کی آخری آیت کے اختتام پر تیری منزل ہوگی۔ “ مسائل 1۔ کتاب اللہ کی تلاوت کرنی چاہیے۔ 2۔ کتاب اللہ میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے آداب : 1۔ آپ ﷺ پڑھیے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے۔ (الکھف : 27) 2۔ ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا تاکہ آپ ﷺ لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں۔ (بنی اسرائیل : 105) 3۔ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھیں۔ (المزمل : 4) 4۔ جب قرآن پڑھاجائے تو اسے خاموشی سے سنو۔ (الاعراف : 204) 5۔ قرآن بڑی شان والا ہے اور لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ (الواقعۃ : 77 تا 79) 6۔ جن کو کتاب دی گئی وہ اس کی تلاوت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے۔ (البقرۃ : 131)
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

” اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھیں جو اپنے رب کو صبح شام یاد کرتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہیں، آپ کی آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہو اور اس شخص کا کہنا مت مانیں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے بےجا اعتراضات اور مطالبات پر آپ ﷺ کو صبر کی تلقین اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم : کفار مکہ کا مسلسل مطالبہ تھا کہ اگر قرآن مجید میں ردوبدل کردیا جائے تو ہم تجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔ جب یہ مطالبہ کلیتاً مسترد کردیا گیا تو انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ جب ہم آپ کے پاس حاضر ہوں تو جو لوگ معاشی اور معاشرتی اعتبار سے کمزور ہیں وہ آپ کی مجلس میں نہیں ہونے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ اس میں ردوبدل کا خیال کریں کہ یہ لوگ اس پر راضی ہوجائیں تو یادرکھنا ایسی صورت میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ جہاں تک ان لوگوں کا یہ مطالبہ ہے کہ آپ اپنی مجلس میں کمزور مسلمانوں کو نکال باہر کریں۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ رکھیں جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ جو لوگ دنیا کی زیب وزینت میں محو ہو کر اپنے رب کی یاد سے غافل ہوچکے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بات کبھی نہیں ماننا اور نہ ہی ان کی جاہ، شوکت دیکھ کر کسی حسرت کا اظہار کرنا چاہیے۔ سورة آل عمران کی آیت 196، 197 میں فرمایا کہ اے نبی ! شہروں میں کفار کا چلنا پھرنا آپ کو دھوکہ میں مبتلانہ کردے۔ یہ تو دنیا کا معمولی سامان ہے بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، جو بدترین رہنے کی جگہ ہے۔ یہ انجام اس لیے ہوگا کہ ایسے لوگوں نے اپنے نفس کو خدا بنا رکھا ہے اور دنیا کے بندے ہو کر رہ گئے ہیں یہ پرلے درجے کی گمراہی ہے حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے۔ دنیا کی حقیقت : (إِنَّمَا مَثَلُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا کَمَاءٍ أَنْزَلْنَاہُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِہِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا یَأْکُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتّٰی إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ أَہْلُہَا أَنَّہُمْ قَادِرُوْنَ عَلَیْہَا أَتٰہَا أَمْرُنَا لَیْلًا أَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنَاہَا حَصِیْدًا کَأَنْ لَمْ تَغْنَ بالْأَمْسِ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیَاتِ لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُوْنَ )[ یونس : 24] ” دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی سے (اگنے والی چیزیں) خوب گنجان ہوگئیں، جس سے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین شاداب اور خوب مزین ہوگئی اور اس کے رہنے والے گمان کر بیٹھے کہ یقیناً وہ اس پر قادر ہیں رات یا دن کے وقت اس پر ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اسے جڑ سے کاٹی ہوئی کردیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے نشانیاں مفصل بیان کرتے ہیں جو سوچتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ آپ ﷺ کو نیک لوگوں کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ 2۔ دنیا عارضی ہے۔ 3۔ اللہ کے نافرمانوں کی تابعداری نہیں کرنی چاہیے۔ 4۔ اپنی یا لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اپنی یا کسی کی غلط خواہش کے پیچھے نہیں لگنا چاہیے : 1۔ اس شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے۔ (الکھف : 28) 2۔ آپ ﷺ ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خوا ہش کے پیچھے نہ لگیں۔ (ص : 26) 3۔ اس سے بڑا گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اپنی خواہشات کے تابع ہوچکا ہے۔ (القصص : 50) 4۔ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو گمراہ ہوچکے ہیں۔ (المائدۃ : 77) 5۔ فرما دیجیے ! میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا اگر پیروی کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا۔ (الانعام : 56) 6۔ آپ ﷺ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ کیونکہ آپ کے پاس حق آچکا ہے۔ (المائدۃ : 49)
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

” اور فرما دیں یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے۔ بیشک ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتوں نے انھیں گھیر رکھا ہے اور اگر پانی مانگیں گے تو انھیں تیل کی مانند پانی دیا جائے گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا نہایت برا پینا ہے اور نہایت بری رہنے کی جگہ ہے۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ تو پھر دنیا کی عیش و عشرت کی خاطر حق سے تغافل نہیں کرنا چاہیے۔ حق سے تغافل کرنے والوں کا انجام بدترین ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے حق نازل کرنے اور اس پر ایمان لانے کا حکم دینے کے باوجود حق کو انسان پر مسلط نہیں فرمایا۔ بلکہ اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو حق پر ایمان لے آئے نہ چاہے تو کفر اختیار کیے رکھے کیونکہ اس کا اصول ہے۔ (لَا إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَہَا وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ )[ البقرۃ : 256] ” دین میں کوئی زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے اس لیے جو شخص باطل معبودوں کا انکار کر کے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے، جاننے والا ہے۔ “ (إِنَّا ہَدَیْنَاہ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِرًا وَّإِمَّا کَفُوْرًا)[ الدھر : 3] ” ہم نے (انسان) کو راستہ دکھلادیا خواہ وہ شکر گزار ہوجائے اور خواہ ناشکرا۔ “ البتہ کفر اختیار کرنیوالے کو یہ بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کفر کا راستہ پسند نہیں ہے جو لوگ کفر اختیار کریں گے وہ ظالم شمار ہوں گے۔ ظالموں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں اسے گھیرے ہوئے ہوں گی وہ پیاس کے مارے پانی کے لیے فریاد کریں گے لیکن انہیں گرم ترین تیل کی مانندابلتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ جس سے ناصرف ان کے ہونٹ زخمی ہوں گے بلکہ ان کے چہرے جھلس کر بدترین شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کا کھانا پینا اور رہنا سہنابدترین صورت میں ہوگا۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام میں جہنمیوں کو دیئے جانے والے پانی کا ان الفاظ میں ذکر ہوا ہے۔ (مِنْ وَرَاءِہِ جَہَنَّمُ وَیُسْقٰی مِنْ مَاءٍ صَدِیْدٍ یَتَجَرَّعُہُ وَلَا یَکَادُ یُسِیْغُہُ وَیَأْتِیْہِ الْمَوْتُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَمَا ہُوَ بِمَیِّتٍ وَمِنْ وَرَاءِہِ عَذَابٌ غَلِیْظٌ )[ ابراہیم : 16۔ 17] ” جہنم میں جہنمیوں کو خون اور پیپ سے ملا ہوا مشروب دیا جائے گا۔ جہنمی اس کا ایک گھونٹ لینے کی کوشش کرے گا لیکن وہ پی نہ سکے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ 2۔ ایمان کے معاملے میں کسی پر زبر دستی نہیں کی جاسکتی۔ 3۔ ظالموں کے لیے آگ ہے۔ 4۔ ظالموں کو جہنم کی آگ گھیرے ہوئے ہوگی۔ 5۔ جہنمیوں کو پانی کی بجائے پگھلے ہوئے تانبے کا سیال دیا جائے گا۔ 6۔ جہنم بہت ہی بد ترین جگہ ہے۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں عذاب کی مختلف شکلیں : 1۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : 35) 2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مذید بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97) 3۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 43) 4۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پیئیں گے اور اس طرح پیئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پانی پیتا ہے۔ (الواقعہ : 54 تا 55) 5۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکھف : 29) 6۔ جہنمیوں کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزامل سکے۔ (النساء : 56)
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بلاشبہ جو اچھا عمل کرتے ہیں ہم ان کا اجرضائع نہیں کرتے۔ “ (30) ”

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، ان میں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور گہرے ریشم کے سبز کپڑے پہنیں گے تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے یہ اچھا بدلہ اور اچھی آرام گاہ ہے۔ “ (31)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بعد جنتیوں کے انعام کا ذکر۔ فہم القرآن میں یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوئی ہے کہ قرآن مجید کا اصول ہے کہ وہ نیک لوگوں کے بعد برے لوگوں کا، جنت کے ساتھ جہنم کا اور سزا کے ساتھ نیک لوگوں کے انعام کا ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنم کے عذاب کیساتھ نیک لوگوں کے بہترین اجر، جنت میں ان کے مقام اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنتیوں کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہن کر اونچی جگہوں پر تکیہ لگاکر بیٹھا کریں گے۔ کتنا ہی اچھا ان کا صلہ اور آرام گاہیں ہوں گی۔ یاد رہے کہ دنیا میں مرد کے لیے سونا پہننا حرام ہے۔ لیکن جنت میں سونا پہننا اور شراب پینا ان کے لیے جائز ہوگا لیکن شراب میں نشہ نہیں ہوگا۔ (عَنْ أَبِی حَازِمٍ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ أَبِی ہُرَیْرَۃ َ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ للصَّلاَۃِ فَکَانَ یَمُدُّ یَدَہُ حَتّٰی تَبْلُغَ إِبْطَہُ فَقُلْتُ لَہُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ مَا ہَذَا الْوُضُوءُ فَقَالَ یَا بَنِی فَرُّوخَ أَنْتُمْ ہَا ہُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکُمْ ہَا ہُنَا مَا تَوَضَّأْتُ ہَذَا الْوُضُوءَ سَمِعْتُ خَلِیلِی ﷺ یَقُولُ تَبْلُغُ الْحِلْیَۃُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ یَبْلُغُ الْوَضُوءُ ) [ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب تَبْلُغُ الْحِلْیَۃُ حَیْثُ یَبْلُغُ الْوَضُوءُ ] ” حضرت ابوحازم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے تھا اور آپ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو پھیلایا یہاں تک کہ ان کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوگئی (یعنی بازوؤں کو کہنیوں سے آگے تک دھویا۔ یاد رہے یہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا اپنا استدلال ہے۔ حدیث سے ثابت نہیں) میں نے ان سے کہا ابوھریرہ یہ کیسا وضو ہے ؟ ابوہریرہ کہنے لگے اے ابو فروخ ! تم یہاں کھڑے ہو اگر مجھے اس بات کا علم ہو تاتو میں ایسا وضو نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ مومن کو اس کے وضو کے پانی کی جگہ تک زیور پہنایا جائے گا۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَنْعَمُ لاَ یَبْأَسُ لاَ تَبْلَی ثِیَابُہُ وَلاَ یَفْنَی شَبَابُہُ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو بندہ جنت میں داخل ہوگا وہ نر م ونازک ہوگا، بدحال نہ ہوگا اور نہ ہی اس کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہوگی۔ “ مسائل 1۔ ایمان دار اور صالح عمل کرنے والوں کے اعمال ضائع نہیں کیے جائیں گے۔ 2۔ ایمان والوں کے لیے ہمیشگی کے باغات ہوں گے۔ 3۔ ایمان والوں کو جنت میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ 4۔ ایمان والوں کو جنت میں سبز رنگ کے ریشم کے کپڑے پہنچائیں جائیں گے۔ 5۔ جنت بڑی اعلیٰ اور بہترین جگہ ہے۔ 6۔ جنت میں جنتی ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر ٹیک لگائے تشریف فرما ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کا مقام اور ان کے انعامات کی ایک جھلک : 1۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : 34) 3۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : 15) 4۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : 17) 5۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : 33) 6۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 52) 7۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمٰن : 76) 8۔ جنتیوں کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : 21)
Ayahs 18:32–36

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

” اور ان کے لیے دو آدمیوں کی مثال بیان فرما دیں جن میں ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ہم نے ان دونوں کے گرد کھجوروں کی باڑ لگائی اور دونوں کے درمیان کھیتی اگائی۔ “ (32) ”

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغوں نے اپنا پھل دیا اور اس سے کچھ کمی نہ کی اور ہم نے دونوں کے درمیان ایک نہر جاری کردی۔ “ (33) ”

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اسے اس کی پیداوار ملتی تھی وہ اپنے ساتھی سے، دوران گفتگو کہنے لگا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور افرادی قوت کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں۔ “ (34) ”

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، کہنے لگا میں نہیں گمان کرتا کہ یہ کبھی تباہ ہوگا۔ “ (35) ”

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو ضرور میں اس سے بہتر لوٹنے کی جگہ پاؤں گا۔ “ (36)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے ذکر سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے حوالے سے مومنوں کو سمجھایا گیا کہ وہ دنیا پرست لوگوں کے پیچھے لگنے سے بچیں۔ اب نیک اور دنیا دار کی مثال پیش فرما کر دونوں کے کردار اور انجام کا فرق بیان کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کے سامنے دو آدمیوں کا واقعہ بیان کریں۔ جن میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عنایت فرمائے اور ان کی حفاظت کھجور کے درختوں کے ساتھ کی اور ان کے درمیان فصل پیدا کی باغوں کو سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہریں جاری کیں۔ یہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دیتے تھے ان کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔ اس مثال میں بیک وقت دو باتیں سمجھائی جا رہی ہیں۔ ایک دنیوی اعتبار سے اور دوسری آخرت کے حوالے سے۔ دنیا کے اعتبار سے باغبانی کی طرف اشارہ ہے کہ زمیندار کس طرح زمین سے بیک وقت زیادہ فصلیں اگا سکتا ہے۔ آخرت کے حوالے سے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ آدمی کو اترانے کی بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ اس کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے جس طرح لہلہاتا باغ خاکستر ہوسکتا ہے اسی طرح وقت آئے گا جب دنیا کی چہل پہل بھی ختم ہوجائے گی۔ باغ کے مالک کی طرح دنیا پرست کو بھی پچھتانا پڑے گا۔ چناچہ جس شخص کے پاس یہ باغ تھے وہ اپنے ساتھی سے اس بات پر اترا رہا تھا کہ میں تجھ سے مال اور افرادی قوت کے اعتبار سے بڑا ہوں۔ ہوا یہ کہ ایک دن وہ متکبرانہ انداز میں اپنے باغ میں داخل ہو کر کہنے لگا۔ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ باغ کبھی اجڑ جائیں گے اور نہ ہی میں یہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت بر پا ہوگی۔ بالفرض اگر قیامت قائم ہوئی اور میں اپنے رب کے حضور پیش کیا گیا۔ تو مجھے یقین ہے کہ میں اس سے اچھا مقام اور بہترین انعام پاؤں گا۔ یہاں مال دار متکبر کی مالدارانہ ذہن کی عکاسی کی جارہی ہے کہ جب انسان دولت میں مست ہوجائے۔ تو وہ اس قدر متکبر اور اللہ کے خوف سے غافل ہوجاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت اور مال و دولت ہمیشہ رہنے والے ہیں اور آخرت کا فیصلہ بھی دنیا کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے گا کہ دنیا میں جو مال دا رہے یا منصب دار ہے۔ آخرت میں بھی اسے سب کچھ دیا جائے گا۔ اس سوچ کی وجہ سے وہ صالح کردار کی بجائے دنیا کے مال اور اقتدار کو عزت کا معیا رسمجھتا ہے۔ اس وجہ سے اپنے سے کم ترلوگوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ جو دنیا کا مال و اسباب ہمیں ملا ہے۔ یہ ہماری ذاتی محنت کا نتیجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہم پر راضی ہونے کی دلیل ہے۔ اس خوش فہمی کی وجہ سے فخروغرور میں آکر کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں دوسروں سے بہتر ہیں اگر ہم اپنے رب کے حضور لوٹائے گئے تو آخرت میں بھی نیک لوگوں سے بہتر ہوں گے۔ دنیا کے اقتدار اور اسباب کی مستی میں وہ بھول جاتے ہیں جو مال انہیں دیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی ناراضگی کا سبب ہے۔ وہ اس لیے ایسے لوگوں کو دنیا کے مال واسباب زیادہ دیتا ہے تاکہ انہیں گناہ کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ یہی قریش کا حال تھا وہ مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو حقیرسمجھتے اور ان پر ظلم کرتے تھے۔ بالآخر باغ والے شخص کی طرح برباد ہوئے ہیں۔ قرآن مجیدنے اس بات کو یوں بیان فرماتا ہے کہ کفار یہ خیال نہ کریں کہ ہم انھیں جو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں اچھی ہے۔ ہرگز نہیں ہم ان کو اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ اور زیادہ گناہ کرلیں بالآخران کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 178) دنیا پر اترانے والے قارون کا انجام : (فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْضَ فَمَا کَانَ لَہُ مِنْ فِءَۃٍ یَنْصُرُوْنَہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ )[ القصص : 81] ” ہم نے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔ 2۔ مال و دولت پر فخرو غرور نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ دنیا کا مال ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن غرور وتکبر نہیں کرنا چاہیے : 1۔ دنیا دار نے اپنے نیک ساتھی سے کہا کہ میں تم سے مال و دولت کے لحاظ سے بہتر ہوں۔ (الکھف : 34) 2۔ اللہ فخر و غرور کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : 36) 3۔ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر نہ اتراؤ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23) 4۔ زمین میں اکڑ اکڑ کر نہ چل تو زمین کو پھاڑ نہیں سکتا۔ (بنی اسرائیل : 37) 5۔ زمین میں اکڑاکڑکر نہ چل اللہ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان : 18) 6۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو دنیا میں تکبر و فساد نہیں کرتے۔ (القصص : 83)
Ayahs 18:37–38

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

” جب اس کا ساتھی اس سے باتیں کر رہا تھا، اس نے کہا۔ کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے ؟ جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے تجھے ٹھیک ٹھاک انسان بنادیا۔ “ (37) ”

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

رہا میں، تو وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ “ (38)

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر کو اس کے مخلص ساتھی کی نصیحت۔ آخرت کے منکر کو اس کے مخلص ساتھی نے سمجھایا کہ کیا تو اس ذات حق کا انکار کرتا ہے۔ جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر ایک نطفے سے کامل انسان بنایا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کے بعد تمام انسان نطفہ سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ جب آخرت کا منکر ہر دلیل سے انکار کرتارہا تو اس کے مواحد ساتھی نے اسے کہا کہ اگر تو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو تیری مرضی۔ لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ” اللہ “ ہی میرا رب ہے۔ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو کسی اعتبار سے شریک نہیں سمجھتا۔ یا در ہے کہ رب کا معنی ہے ” خالق، مالک، بادشاہ “ اور ہر چیز عطا فرمانے والا ہے۔ یہاں آخرت کے منکر کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جو شخص آخرت کا انکار کرتا ہے۔ وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے حاکم اور عادل ہونے اور اس کی جزا وسزا کا انکار کرتا ہے۔ آخرت کا انکار کرنا دین کے تیسرے بنیادی رکن کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے جو شخص آخرت کا منکر ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا بھی منکر ہے۔ آخرت کا منکر اجر وثواب سے محروم رہتا ہے : (عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہُ قَالَ لاَ یَنْفَعُہُ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیءَتِی یَوْمَ الدِّینِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب الدَّلِیلِ عَلَی أَنَّ مَنْ مَاتَ عَلَی الْکُفْرِ لاَ یَنْفَعُہُ عَمَلٌ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ عمل اس کے لیے سود مند ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان اعمال کا فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ “ آپ ﷺ کی وصیت : (عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ ہُرَیْرَۃَ قَالَ أَوْصَانِی خَلِیلِی ﷺ أَنْ لاَ تُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلاَ تَتْرُکْ صَلاَۃً مَکْتُوبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَہَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِءَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ وَلاَ تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّہَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ )[ رواہ ابن ماجۃ : باب الصَّبْرِ عَلَی الْبَلاَءِ ] ” حضرت ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا اگرچہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں اور تجھے آگ میں جلا دیا جائے۔ فرض نماز کو جان بوجھ کر نہیں چھوڑنا جس نے اس کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا وہ مجھ سے بری الذمہ ہوگیا اور شراب نہیں پینی اس لیے کہ یہ ہر برائی کی چابی ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے مٹی سے پیدا کیا۔ 2۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا پروردگار ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن تخلیق انسانی کے مختلف مراحل : 1۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے تجھے آدمی بنایا۔ (الکھف : 37) 2۔ انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 3۔ حوا آدم سے پید اہوئیں۔ (النساء : 1) 4۔ ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26) 5۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اسے نطفہ بنایا۔ (المومنون : 12۔ 13) 6۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
Ayahs 18:39–41

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

” اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو نے یہ کیوں نہ کہا ” جو اللہ چاہے اللہ کی مدد کے بغیر میرے پاس کوئی قوت نہیں “ اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔ “ (39) ’

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

’ قریب ہے میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے اور تیرے باغ پر آسمان سے عذاب بھیجے تو وہ چٹیل میدان بن جائے۔ “ (40) ”

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی اتناگہرا ہوجائے تو اسے کسی صورت حاصل نہ کرسکے۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر کو اس کے ایمان دار ساتھی کی مزید نصیحتیں۔ صاحب ایمان ساتھی نے آخرت کے منکر کو پانچ نصیحتیں کیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کے بعد ہر انسان کو اس کے باپ کے نطفے سے پیدا کیا۔ اے میرے ساتھی تجھے بھی ” اللہ “ نے ایک نطفے سے پیدا فرماکر کامل انسان بنایا ہے۔ 2۔ تو مانے یا نہ مانے میر اعقیدہ تو یہ ہے کہ آدمی کو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں سمجھنا چاہیے۔ 3۔ لہلہاتا ہواباغ دیکھ کر غرورو تکبر کرنے کی بجائے تجھے ” ماشاء اللہ، لاقوۃ الا باللہ “ کہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز پیدا کرنے اور دینے کی طاقت نہیں ہے۔ وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ 4۔ تو مجھے غریب اور حقیر سمجھتا ہے کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے میر ارب مجھے تیرے باغ سے بہتر باغ عنایت فرمادے۔ 5۔ یہ بھی ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی آفت بھیج دے کر تیرا باغ نیست و نابود کردے یا اس میں جاری چشمے کا پانی اس قدر نیچے لے جائے کہ تو اسے کسی طرح بھی حاصل نہ کرسکے۔ ” فرما دیجیے کہ دیکھو اگر تمہارا پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے۔ “ (الملک : 30) وَاللّٰہِ مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمُ وَلَاجِلْدَ مَخْبَأَۃٍ قَالَ فَلَبِطَ سَہْلٌ فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَقِیْلَ لَہٗ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ہَلْ لَکَ فِیْ سَہْلِ بْنِ حَنَیْفٍ ؟ وَاللّٰہِ مَا یَرْفَعُ رَأْ سَہٗ فَقَالَ ہَلْ تَتَّہِمُوْنَ لَہٗ أَحَدًا ؟ فَقَا لُوْا نَتَّہِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِیْعَۃَ قَالَ فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَامِرًا فَتَغَلَّظَ عَلَیْہِ وَقَالَ عَلاَمَ یَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ ؟ أَلاَ بَرَکْتَ ؟ اِغْتَسِلْ لَہٗ فَغَسَلَ لَہٗ عَامِرٌ وَجَہْہٗ وَیَدَیْہِ وَمِرْفَقَیْہِ وَرُکْبَتَیْہِ وَأَطْرَافُ رِجْلَیْہِ وَدَاخِلۃٌ إِزَارُہٗ فِیْ قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَیْہِ فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ لَیْسَ لَہٗ بَأْسٌ) [ رواہ فی شرح السنۃ ورواہ مالک ] ” حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے کہا۔ اللہ کی قسم ! میں نے آج تک اس جیسا آدمی نہیں دیکھا اور نہ ایسا خوبصورت جسم دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں اس بات پر سہل زمین پر گرپڑے۔ سہل کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ لانے والوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! سہل کو دیکھیں اللہ کی قسم ! یہ سر نہیں اٹھا سکتا۔ آپ نے پوچھا کیا تم کسی کو الزام دیتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم عامر بن ربیعہ پر الزام لگاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ڈانٹ کر فرمایا۔ کیوں تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ؟ تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی ؟ اس کے لیے غسل کرو۔ عامر نے اپنا چہرہ، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے اور پاؤں دھوئے اور اپنی چادر کو برتن میں ڈالا۔ وہ پانی سہل پہ انڈیلا گیا جس سے وہ بالکل ٹھیک ہوگئے جیسے اسے کوئی تکلیف ہی نہ ہو۔ “ مسائل 1۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء سے ہوتا ہے۔ 2۔ انسان کو اللہ تعالیٰ سے بہتر امید رکھنی چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے لہلہاتے باغات کو چٹیل مید ان بنا دے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو پانی کو نیچے لے جائے۔
Ayahs 18:42–44

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

” اس کا سارا پھل تباہ کردیا گیا تو اس نے اپنی ہتھیلیاں ملتے ہوئے اس پر صبح کی جو اس میں خرچ کیا تھا وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہنے لگا اے کاش ! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا۔ “ (42) ”

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا کوئی گروہ نہ ہوا جو اس کی مدد کرسکا اور نہ وہ خود بدلہ لے سکا۔ “ (43) ”

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

ہر طرح کی مدد اللہ سچے کے اختیار میں ہے، وہ ثواب دینے میں بہتر اور انجام کی رو سے زیادہ اچھا ہے۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : باغ کا تباہ ہونا اور آخرت کے منکر کا حسرت وافسوس سے ہاتھ ملنا۔ آخرت کے منکر کا غرور توڑنے اور اسے اپنی قدرت دکھلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت باغ کو خاکستر بنا دیاجب باغ پھل سے لدا ہوا تھا۔ اس کا مالک تصور نہیں کرسکتا تھا کہ اب یہ باغ اپنے پھل سمیت تباہ ہوجائے گا۔ باغ کے درخت کثرت پھل کی وجہ سے زمین پر جھکے ہوئے تھے جونہی اس کے پھل پکنے کے قریب آئے تو اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب نازل ہوا کہ دیکھنے والا یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس قدر شاندار لہلہاتا ہوا باغ کس طرح تباہ ہوگیا ہے۔ باغ کا مالک جب وہاں پہنچا تو جلے ہوئے پودے دیکھ کر لرزتے ہوئے ہونٹوں اور کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ انتہائی غم کی حالت میں اپنے ہاتھوں کو پسیجتے ہوئے زاروقطار روتا ہوا حسرت وافسوس کے ساتھ کہتا ہے۔ ہائے کاش ! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ سمجھتا اس حالت میں کوئی بھی اسکی مدد نہ کرسکا۔ اسے یقین ہوگیا کہ حقیقی اقتدار اور اختیار اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی ذات اور فرمان حق ہیں۔ جس طرح اس کی ذات حق ہے اسی طرح ہی قیامت کے بارے میں اس کا فرمان حق ہے وہی بہتر صلہ دینے اور ہر چیز کا اچھا انجام کرنے والا ہے۔ جس مشرک کا باغ تباہ کیا گیا اس کے بارے میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ وہ کس قسم کا شرک کرتا تھا۔ تاہم سیاق سباق سے معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دنیا کے اسباب و وسائل کو سب کچھ سمجھ رکھا تھا۔ جس بناء پر آخرت کا انکار کرتا تھا یہ انداز اور سوچ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے مترادف ہے۔ (عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعُو اللَّہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الأُمُورِ کُلِّہَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَاب الآخِرَۃِ )[ رواہ احمد ] ” بسر بن ارطاۃ قرشی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا۔ اے اللہ ! ہمارے تمام معاملات کا انجام بہتر بنا اور ہم کو دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔ “ مسائل 1۔ نعمت چھن جانے پر انسان حسرت و افسوس کرتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کسی کا مددگار نہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بہتر صلہ اور بدلہ دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی اجروثواب دینے والا ہے : 1۔ حقیقی اقتدارصرف اللہ کا ہے۔ وہ بہتر صلہ اور اچھا اجر دینے والا ہے۔ (الکھف : 44) 2۔ نیکی کو اللہ بڑھا دے گا اور اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ (النساء : 40) 3۔ ہم انہیں اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ (النساء : 67) 4۔ عنقریب اللہ مومنوں کو اجر عظیم سے نوازے گا۔ (النساء : 146) 5۔ اگر تم اسکی اطاعت کرو گے اللہ تمہیں اچھا اجر عطا کرے گا۔ (الفتح : 16) 6۔ جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے اللہ انہیں پورے پورے اجر سے نوازے گا اور اپنی طرف سے مزید عطا فرمائے گا۔ (آل عمران : 57۔ النساء : 173)
Ayahs 18:45–47

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

” اور ان کے لیے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجیے، پانی جسے ہم نے آسمان سے اتارا اس کے ساتھ زمین کی انگوری خوب مل جل گئی پھر وہ چور، چورہو گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (45) ”

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں آپ کے رب کے ہاں جو باقی رہنے والا ہے وہ نیک اعمال ہیں جو امید کے لحاظ سے زیادہ اچھے ہیں۔ “ (46)

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

” اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور آپ زمین کو صاف کھلی پائیں گے اور ہم انھیں اکٹھا کریں گے ان میں سے کسی ایک کو نہیں چھوڑیں گے۔ “ (47) ”

فہم القرآن ربط کلام : باغ کی تباہی کے بیان کے بعد دنیا کی زندگی کے انجام کا ذکر۔ جس طرح لہلہاتا ہو اباغ اجڑ گیا اسی طرح ہی ایک دن آئے گا کہ جب پوری دنیا اجڑ جائے گی۔ جس طرح کسی فصل اور باغ کے لیے پہلے زمین ہموار اور ساز گار بنائی جاتی ہے۔ پھر اس زمین میں بیج یا پودے لگائے جاتے ہیں یہی اس دنیا کی زندگی کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے جس سے زمین میں ہر قسم کی نباتات اگتی ہیں ان میں گھاس اور ایسی جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں جن سے صحر ا، بیابان ہرے بھرے اور شاندار منظر پیش کرتے ہیں ہر طرف ہریالی اور شادابی نظر آتی ہے۔ جونہی ان کا موسم اور مدت پوری ہوجاتیتو گھاس اور جڑی بوٹیاں تنکوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتیں۔ ہوا کے جھونکے انہیں ادھر سے ادھر اڑائے پھرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نتیجہ ہے کہ زمین پہلے صحرا اور بیابان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر بارش برسائی پھر اس سے سبزہ اگایا اور اس سبزے کو تھوڑی مدّت کے بعد ریزہ ریزہ کردیا یہی انسان کی زندگی کا حال ہے کہ اسے ایک نطفہ سے پیدا فرمایا۔ اس کے بچپن کو جوانی میں بدلا، شادی ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اولاد سے نوازا اور دنیا کا مال عنایت فرمایا، انسان کی اولاد نہ ہو تو وہ گھر اجڑا اجڑا محسوس کرتا ہے۔ اگر مال سے تہی دست ہو تو انسان دنیا کی زیب وزینت اور آرام سے محروم رہتا ہے۔ لہٰذا مال اور اولاد انسان کی زندگی کا سہارا اور زینت ہیں مگر حقیقی زینت اور لذّت تبھی حاصل ہوگی۔ جب انسان اولاد کی نیک تربیت کرے اور مال کو اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ جو شخص مال اور اولاد کی نگرانی اور ان کی صحیح طریقہ سے حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے لیے دنیا کو بہتر بناتا ہے بلکہ اس کی آخرت بھی بہتر بنا دی جاتی ہے اور یہی انسان کی صالح باقیات ہیں۔ جس کا اس کے رب کے ہاں اس کو بہترین صلہ اور روشن مستقبل کی امید دلائی گئی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلاَّ مِنْ ثَلاَثَۃٍ إِلاَّ مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ ) [ رواہ مسلم : باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ] ” حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے تمام عمل منقطع ہوجاتے ہیں۔ 1 صدقہ جاریہ 2 ایسا علم جس سے نفع حاصل کیا جائے 3 نیک اولاد جو بعد میں اس کے لیے دعا کرے۔ “ مسائل 1۔ دنیا کی مثال آسمان سے نازل ہونے والی بارش کی طرح ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 3۔ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں۔ 4۔ نیکیاں ثواب اور اعمال کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔ تفسیر بالقرآن دنیا کی حقیقت : 1۔ دنیا کا فائدہ قلیل ہے۔ (النساء : 77) 2۔ اللہ کی آیات کے مقابلے میں پوری دنیا حقیر ہے۔ (البقرۃ : 174) 3۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں۔ (التوبۃ : 38) 4۔ دنیا کی زندگی کھیل کود کے علاوہ کچھ نہیں۔ (العنکبوت : 64)
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور وہ آپ کے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے پیش کیے جائیں گے بلاشبہ یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے ہو۔ جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے خیال کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔ “ (48)

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی حالت کا بیان جب دنیا ختم کرکے جزا سزا کا دن مقرر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ اس دن برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے اور نیک لوگوں کو بہترین جزا سے سرفراز کیا جائے۔ اس دن کی ابتداء شدید ترین زلزلوں اور خوفناک دھماکوں سے ہوگی۔ زلزلوں اور دھماکوں سے بالآخر پہاڑ ریت کے ذرات بن کر مٹی کے ساتھ مل جائیں گے۔ زمین کے نشیب و فراز کو ہموار اور چٹیل مید ان میں تبدیل کردیا جائے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار نے رسول محترم ﷺ سے سوال کیا کہ لامتناہی اور فلک بوس پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ جس کا یہ جواب دیا گیا کہ اے پیغمبر ! انہیں یہ بتلائیں کہ میر ارب ان پہاڑوں کو اڑا کر ریزہ ریزہ کردے گا۔ زمین کو ہموار اور چٹیل میدان بنادے گا۔ جس میں تم کسی قسم کا گڑھا اور ٹیلہ نہیں دیکھو گے۔ اس دن لوگ ایک آواز دینے والے کی آواز کے پیچھے بےچوں چراں بھاگتے آئیں گے۔ لوگ رب رحمٰن کے سامنے اس قدر عاجزی اور آہستہ آواز کے ساتھ بات کریں گے کہ گنگناہٹ کے سوا کچھ نہیں سنا جائے گا۔ (طٰہٰ : 105 تا 108) اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس طرح اکٹھا کرے گا کہ کوئی ایک شخص بھی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری سے پیچھے نہیں رہے گا۔ لوگ اپنے رب کے حضور سر جھکائے ” رب نفسی رب نفسی “ کی فریاد کرتے ہوئے قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ تمام انسان برہنہ جسم کے ساتھ پیش ہوں گے۔ اعلان ہوگا کہ یہ ہے وہ دن جس کے بارے میں منکرخیال کرتے تھے کہ ہم نے انہیں اکٹھا کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ یُحْشَرُالنَّا سُ یَوْمَ الْقِیاَمَۃِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِیْعًا یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ اَلْاَمْرُ اَشَدُّ مِنْ اَنْ یَّنْظُرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ) [ رواہ مسلم : باب فَنَاء الدُّنْیَا وَبَیَانِ الْحَشْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کی جانب نہیں دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اس دن کا معاملہ اس کے برعکس ہوگا کہ کوئی دوسرے کی طرف دیکھے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ 2۔ قیامت کے دن زمین چٹیل میدان بنا دی جائے گی۔ 3۔ قیامت کے دن سبھی کو اللہ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ 4۔ قیامت کے دن لوگ اس طرح آئیں گے جس طرح پہلی با رپیدا کیے گئے تھے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کی کیفیت : 1۔ اس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور زمین چٹیل میدان ہوگی اور ہم تمام لوگوں کو جمع کریں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ (الکھف : 47) 2۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : 14) 3۔ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گی اور چاند گہنا دیا جائے گا اور سورج چاند کو جمع کردیا جائے گا۔ (القیامۃ : 6 تا 8) 4۔ جب سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ تارے بےنور ہوجائیں گے۔ پہاڑچلائے جائیں گے۔ (التکویر : 1 تا 3) 5۔ جب آسمان پھٹ جائے گا۔ جب تارے جھڑجائیں گے۔ جب دریا مل جائیں گے۔ جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی۔ (الانفطار : 1 تا 4) 6۔ اس دن لوگ قبروں سے نکل کر ایسے دوڑیں گے جس طرح شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ (المعارج : 43)
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

” اور کتاب رکھی جائے گی آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو اس میں ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ! کیسی کتاب ہے، اس نے نہ چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی چھوڑی ہے اس نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے انھوں نے جو کچھ کیا تھا اسے حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ (49)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے بعد ہر شخص کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ تمام جنات اور انسان سر جھکائے قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ بھی قطار اندر قطار حاضر ہوں گے۔ کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہیں کرسکے گا۔ (النباء : 38) اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ نما ہوں گے اور آٹھ فرشتے رب ذوالجلال کا عرش اٹھائے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 17) اللہ تعالیٰ کے جمال سے ہر چیز روشن ہوجائے گی۔ لوگوں کو اعمال نامے دئیے جائیں گے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دوسرے لوگوں کی شہادتیں پیش ہوں گی۔ لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔ (الزمر : 69) لیکن مجرموں کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اپنے اعمال نامے سے خوفزدہ ہوں گے۔ جونہی وہ اعمال نامے پڑھیں گے۔ آہ وزاری اور آہ وبکاکریں گے کہ ہائے افسوس ! اس کتاب نے ہماری کسی چھوٹی، بڑی بات کو نہیں چھوڑا۔ اس میں تو ہر بات کا اندراج کردیا گیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اعمال کو اپنے سامنے پائیں گے۔ آپ کے رب کی طرف سے کوئی زیادتی نہ ہوپائے گی۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُعْرَضُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثَلاَثَ عَرَضَاتٍ فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِیرُ وَأَمَّا الْعَرْضَۃُ الثَّالِثَۃُ فَعِنْدَ ذَلِکَ تَطِیر الصُّحُفُ فِی الأَیْدِی فَآخِذٌ بِیَمِینِہِ وَآخِذٌ بِشِمَالِہِ )[ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی العرض ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو تین پیشیوں کے لیے پیش کیا جائے گا۔ دو پیشیاں لڑائی جھگڑوں اور عذروں کے بارے میں ہوں گی اور تیسری پیشی اس وقت ہوگی جب صحیفے اڑ کر ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے۔ کچھ لوگ اسے دائیں ہاتھ سے پکڑنے والے ہوں گے اور کچھ لوگ اسے بائیں ہاتھ سے پکڑنے والے ہوں گے۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن اعمال نامے کھول کر رکھ دی جائیں گے۔ 3۔ نامہ اعمال میں ہر چھوٹا بڑا عمل درج ہوگا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ تفسیر بالقرآن ہر شخص کو اس کے نامہ اعمال کا ملنا اور اس کی حالت : 1۔ اس دن نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا ہر کوئی اپنا اعمال نامہ دیکھے گا اور کہے گا یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ جس میں کوئی چھوٹی بڑی بات نہیں چھوڑی گئی۔ (الکھف : 49) 2۔ قیامت کے دن ہر کسی کا اعمال نامہ اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 13) 3۔ ہر گروہ کو اس کے اعمال نامے کی طرف بلایا جائے گا۔ آج کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا صلہ دیا جائے گا۔ (الجاثیۃ : 28) 4۔ جس کو اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنے اعمال نامے کو پڑھے گا اور اس پر ظلم نہ ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 71) 5۔ جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کاش مجھے اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔ (الحاقۃ : 25) 6۔ جس کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب و کتاب آسان ہوگا۔ (الانشقاق : 7۔ 8) 7۔ جس کو نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا وہ موت کو پکارے گا اور اسے دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ (الانشقاق : 10 تا 12) 8۔ ہر کسی کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا آج کے دن تمہارے اعمال کا بدلہ چکایا جائے گا۔ (الجاثیۃ : 28)
Ayahs 18:50–51

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

” اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس جنوں میں تھا اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے دوست بناتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، وہ ظالموں کے لیے یہ کیسا برا بدل ہے ؟ “ (50)

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے انھیں نہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں گواہ بنایا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے میں اور نہ ہی میں گمراہ کرنے والوں کو بازو بنانے والا تھا۔ “ (51)

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا حساب و کتاب اور آخرت کا منظر دکھاکر یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کی گمراہی کا بنیادی محرک ابلیس ہے۔ جس سے بچنا چاہیے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو داستان گوئی کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ وہ ہر واقعہ کو موقع محل کے مطابق اتاب ہی بیان کرتا ہے۔ جتنا بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی اسلوب کے مطابق حضرت آدم اور ابلیس کا واقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ یاد رہے شیطان کے بارے میں اس سے پہلے یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے کہ شیطان جنس کے اعتبار سے جنات میں سے ہے۔ البتہ آگے چل کر سورة صٓ میں ” کَانَ مِنَ الْجِنِّ “ کے الفاظ موجود ہیں۔ یہاں شیطان کی جنس بتا کر یہ اشارہ دیا ہے۔ کیونکہ وہ ملائکہ کی جنس میں سے نہ تھا جس کی وجہ سے اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ جنوں اور انسانوں میں اطاعت گزاری اور حکم عدولی دونوں طرح کے جذبات موجود ہیں۔ اس لیے جنوں اور انسانوں کو یہ اختیا ردیا گیا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تابعداری کریں اگر وہ تابعداری کی بجائے نافرمانی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ لیکن ملائکہ کی سرشت میں منفی عنصر ہے ہی نہیں وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرتے ہیں۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حضرت آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اپنی فطرت کے مطابق حکم کی بجاآوری کی۔ لیکن شیطان نے فطرت کے صحیح جذبے کو استعمال کرنے کی بجائے منفی جذبے کی بدولت حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ یہاں ابن آدم کو غیرت دلانے کے انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اللہ تعالیٰ کے سوا اپنا خیر خواہ اور دوست سمجھتے ہو ؟ حالانکہ شیطان اور اس کی ذرّیت تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ شیطان اور اس کی اولاد کو دوست بنانے والے ظالم ہیں اور ظالموں نے اللہ تعالیٰ کی دوستی کے مقابلے میں کس قدر بری دوستی اختیار کی ہے۔ کیونکہ شیطان جنّات میں سے ہے دنیا میں بیشمار ایسے لوگ موجود ہیں جوجنّات سے مدد طلب کرتے ہیں۔ عربوں کے ہاں بھی رواج تھا کہ وہ پہاڑی سفر کے دوران رہنمائی اور مشکل میں جنات کو پکارا کرتے تھے۔ اس عقیدہ کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ جن کو تم مشکل کے وقت پکارتے ہو نہ میں نے ان کو زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت بلایا اور شامل کیا اور نہ ہی ان کی اپنی تخلیق میں ان کا یا کسی اور کا عمل دخل ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنیوالوں کو اللہ تعالیٰ اپنا معاون نہیں بنا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی معاونت کی حاجت نہیں۔ وہ ہر قسم کی کمزوری سے پاک اور مبرا ہے۔ یہاں صرف سمجھانے اور لوگوں کو شیطان سے نفرت دلانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں ابلیس کو جنات کی جنس قرار دیا گیا ہے۔ اس پر بحث کرتے ہوئے اہل علم نے لکھا ہے کہ گو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ابلیس افضلیت کے اعتبار سے کم ہونے کی وجہ سے اس حکم میں شامل تھا اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان ادھر ادھر کی باتیں کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عذر پیش کرتا کہ آپ نے تو حکم ملائکہ کو دیا ہے مجھے تو حکم دیا ہی نہیں گیا میں سجدہ کیوں کرتا ؟ مجھے راندہ درگاہ کیوں کیا جارہا ہے ؟ لہٰذاجن لوگوں نے لفظی مو شگافیوں میں آکر ابلیس کی وکالت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا موقف مضحکہ خیز ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ گواہ چست اور مدعی سست ہونے کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی مو شگافیوں سے بچائے۔ آمین یا ارحم الرٰحمین۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ 2۔ فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا۔ 3۔ ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ 4۔ ابلیس جنوں میں سے تھا۔
Ayahs 18:52–53

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

” اور جس دن اللہ فرمائے گا لاؤ میرے ان شریکوں کو جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ وہ انھیں پکاریں گے وہ انھیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت گاہ بنا دیں گے۔ “ (52) ”

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم آگ دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ بیشک وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے پلٹنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے۔ “ (53)

فہم القرآن ربط کلام : غیر اللہ کو پکارنا شیطان کی شیطنت کا نتیجہ ہے کہ لوگ غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قیامت کے دن انجام۔ غیر اللہ کو پکارنے والوں کو قیامت کے دن رب ذوالجلال آواز دے گا۔ تم جن کو میرا شریک سمجھ کر پکارتے تھے۔ آج وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں تو انہیں بلاؤ۔ مشرکین آواز پہ آواز دیں گے لیکن دنیا میں جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر ان کے حضور قیام، رکوع، سجدہ، اعتکاف کرتے، ہاتھ جوڑتے اور نذرانہ پیش کرتے تھے۔ وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ جب ان کو آواز پہ آواز دے رہے ہوں گے تو اچانک جہنم ان کے سامنے کردی جائے گی۔ اسے دیکھتے ہی مشرکین کو یقین ہوجائے گا کہ وہ جہنم میں پھینکے جانے والے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہ ہوگا۔ جہنم کی آگ گمراہ پیروں اور مریدوں کے درمیان اس لیے حائل کردی جائے گی تاکہ ان کے دکھ میں اور اضافہ ہوجائے۔ کیونکہ وہ تو امید لگائے بیٹھے تھے کہ مشکل کشاؤں کو اس لیے ہمارے قریب کیا گیا ہے تاکہ وہ ہماری مدد کرسکیں۔ جب وہ اپنی امیدوں میں خوش، خوش دکھائی دیں گے تو اچانک ان کے درمیان جہنم کی آگ کھڑی کر کے گمراہ پیروں اور مریدوں کو آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ البتہ جن بزرگوں نے اپنی زندگی میں لوگوں کو شرک و بدعت سے منع کیا لیکن ان کے مرنے کے بعد لوگوں نے ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان کے مزارات کو عبادت گاہ بنالیا ایسے بزرگوں کو جہنم سے بچاکر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ صَارَتِ الأَوْثَانُ الَّتِی کَانَتْ فِی قَوْمِ نُوحٍ فِی الْعَرَبِ بَعْدُ ، أَمَّا وُدٌّ کَانَتْ لِکَلْبٍ بِدَوْمَۃِ الْجَنْدَلِ ، وَأَمَّا سُوَاعٌ کَانَتْ لِہُذَیْلٍ ، وَأَمَّا یَغُوثُ فَکَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِی غُطَیْفٍ بالْجُرُفِ عِنْدَ سَبَا، وَأَمَّا یَعُوقُ فَکَانَتْ لِہَمْدَانَ ، وَأَمَّا نَسْرٌ فَکَانَتْ لِحَمِیْرِ ، لآلِ ذِی الْکَلاَعِ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِینَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ ، فَلَمَّا ہَلَکُوا أَوْحَی الشَّیْطَانُ إِلَی قَوْمِہِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَی مَجَالِسِہِمُ الَّتِی کَانُوا یَجْلِسُونَ أَنْصَابًا، وَسَمُّوہَا بِأَسْمَاءِہِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتّٰی إِذَا ہَلَکَ أُولَءِکَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ )[ رواہ البخاری : باب (وَدًّا وَلاَ سُوَاعًا وَلاَ یَغُوثَ وَیَعُوقَ )] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں جن بتوں کی پوجا نوح (علیہ السلام) کی قوم کیا کرتی تھی بعد میں انہیں لوگ عرب میں لے آئے۔ ودّ کو دومۃ الجندل والوں نے اپنا معبود بنا لیا اور سواع کو ھذیل والوں نے، یغوث کو مراد قبیلے والوں نے اور ان کے بعد بنی غطیف نے سبا بستی میں جرف مقام پر اور یعوق کو ہمدان والوں نے اور نسر کو قبیلہ حمیر والوں نے، جوذی الکلاع کی اولاد تھے اپنا معبود بنا لیا۔ یہ تمام نام نوح (علیہ السلام) کی قوم کے برگزیدہ لوگوں کے تھے، جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کو القاء کیا۔ انہوں نے ان کے مجسموں کو اس جگہ پر نصب کیا، جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے اور ان کے نام نیک لوگوں کے ناموں کی نسبت سے رکھ دیئے گئے، پہلے لوگ ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے جبیہ لوگ مرگئے تو ان کے بعدوالوں نے ان مورتیوں کی عبادت شروع کردی۔ “ مسائل 1۔ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے مشکل کشاؤں کو بلاؤ۔ 2۔ جہنم سے مجرم بچ نہیں پائیں گے۔ 3۔ مشرک اپنے معبودوں کو بلائیں گے لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں پائیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مشرکوں کو حکم ہوگا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ : 1۔ اس دن اللہ فرمائے گا بلاؤ ! میرے شرکاء کو جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے۔ وہ انہیں بلائیں گے تو وہ جواب نہیں دیں گے۔ (الکھف : 52) 2۔ پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک تصوّر کرتے تھے۔ (الانعام : 22) 3۔ اس دن ہم انہیں آواز دیں گے کہ میرے شریک کہاں ہیں ؟ جنہیں تم شریک بناتے تھے۔ (القصص : 62) 4۔ کیا ان کے شرکاء ہیں تو وہ اپنے شریکوں کو لائیں اگر وہ سچے ہیں۔ (القلم : 41) 5۔ قیامت کے دن ظلم کرنے والوں اور ان کے ہم جنس اور جن کی وہ پوجا کرتے تھے سب کو جمع کیا جائے گا۔ (الصٰفٰت : 22)