Ayahs 18:54–55فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو شرک سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ مختلف انداز سے سمجھاتا ہے۔ لیکن اس کے باجود مشرک لوگ سمجھنے کے لیے تیار نہیں بلکہ جھگڑا کرتے ہیں۔
عقیدہ توحید سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ تاکہ لوگ شرک کی سنگینی کو سمجھ کر اس سے تائب ہوجائیں لیکن شرک ایسا گناہ ہے۔ جس سے مشرک ناصرف بازآنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ اپنا با طل عقیدہ ثابت کرنے کے لیے جھگڑا کرنے پر اتر آتا ہے حا لان کہ اللہ تعالیٰ انہیں بار با رسمجھاتا ہے کہ ہدایت قبول کرو اور سابقہ گناہوں کی معافی مانگو تمہارا رب معاف کرنے والا ہے۔ لیکن مشرک شرک سے باز آنے کی بجائے بحث و تکرار میں آگے ہی بڑھتا چلا جاتا ہے تاآنکہ پہلے لوگوں کی طرح اسے عذاب آلیتا ہے۔ جس طرح قوم نوح اور دوسری اقوام تباہی کے گھاٹ اترگئیں شرک کی عام طور پر بنیاد کسی زندہ یا فوت شدہ بزرگ کی عقیدت پر ہوتی ہے عقیدت شریعت کی حدود سے تجاوز کر جائے تو انسان حقائق کے بارے میں اندھا ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو سمجھایا جائے تو حقیقت جاننا تو درکناروہ اس بات کو توجہ سے سننا بھی بزرگوں کی توہین سمجھتا ہے جس بناء پر وہ ناصرف بحث و تکرار کرتا ہے بلکہ جھگڑا کرنے پر اتر آتا ہے۔ جس کے لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان بڑا جھگڑالو ہے یہ روش اسے شرک و بدعت سے تائب نہیں ہونے دیتی۔ یہی وطیرہ ہر دور کے مشرک کا ہوا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ پہلے لوگوں کے طریقہ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ لوگ اپنے پہلے لوگوں کا انجام دیکھنا چاہتے ہیں جو بالآخر دیکھ لیں گے۔ حالانکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کھول کھول کر مثالیں بیان کرتا ہے یہاں دو مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
(یَا أَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَخْلُقُوْا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہُ وَإِنْ یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْءًا لَا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ )[ الحج : 73]
” اے لوگو ! مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ سب کے سب جمع ہو کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اور اگر مکھی ان کے کھانے میں سے کوئی چیز لے جائے تو وہ واپس نہیں لے سکتے مانگنے والا بھی کمزور اور جس سے مانگا جارہا ہے وہ بھی کمزور۔ “
(وَلَوْ شِءْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِہَا وَلَکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَی الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ أَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِآَیَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ )[ الاعراف : 176]
” اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان کے ذریعے بلند کردیتے مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا۔ اس کی مثال کتے کی طرح ہے کہ اگر آپ اس پر حملہ کریں تو زبان نکالے ہانپتا ہے۔ اسے چھوڑ دیں تو بھی زبان نکالے ہانپتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا آپ ان کو آیات سنائیں تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید میں ہدایت کے متعلق ہر قسم کے مضامین اور امثال بیان کی گئی ہیں۔
2۔ اپنے رب کے بارے میں انسان بڑا جھگڑ الو ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کا مختلف انداز اور الفاظ میں سمجھانے کا طریقہ :
1۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں۔ (الکھف : 54)
2۔ ہم نے اس قرآن میں ہدایت کے متعلقہ تمام باتیں بیان کردیں ہیں۔ (بنی اسرائیل : 41)
3۔ دیکھیں ہم کس طرح آیات بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ سمجھیں۔ (الانعام : 65)
4۔ یقیناً ہم نے قرآن میں تمام باتیں بیان کردیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : 89)
Ayahs 18:56–57فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اقوام کو دنیا کی ہلاکت اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے انبیاء ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ لیکن لوگوں نے ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔
قرآن مجید نے انبیاء کی تشریف آوری کا مقصد بیان کرتے ہوئے کئی بار وضاحت فرمائی ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ وہ حق قبول کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دیں اور حق ٹھکرانے والوں کو دنیا میں ہلاکت اور آخرت کے عذاب سے ڈرائیں۔ لیکن حق کا انکار کرنے والے ناجائز طریقوں اور باطل دلیلوں کے ساتھ انبیاء کرام کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ حق کو ناحق ثابت کرسکیں۔ انبیاء جو باتیں ڈرانے کے لیے ان سے کرتے تھے۔ انہوں نے اس کو بھی استہزاء کا کا نشانہ بنایا۔ ظاہر بات ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نصیحت کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے اور قیامت کے حوالے سے اپنے اعمال اور انجام کو بھول جائے اس سے بڑھ کر بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے ؟ ایسے لوگ جھوٹے دلائل اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ساتھ حق کو اس لیے دباتے اور انبیاء سے استہزاء کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ناراض ہو کر ان کے کا نوں میں حق کے بارے میں ناگواری کا بوجھ ڈال اور ان کے دلوں کو فہم و فراست کی صلاحیت سے عاری کردیا ہے اب ان کے دلوں پر پردہ ہے ان کے کان حق بات سننے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ کبھی بھی ہدایت قبول نہیں کریں گے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمان ہے۔
مسائل
1۔ رسولوں کو خوشخبری دینے اور ڈرانے کے لیے بھیجا گیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور رسولوں سے کفار مذاق کرتے تھے۔
3۔ اس شخص سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ کی آیات سے اعراض کرتا ہے۔
4۔ کفار کے دل اور کانوں پر پردے ہیں وہ حق کو سنتے اور پہچانتے نہیں۔
5۔ اگر کفار کو ہدایت کی طرف بلایا جائے تو وہ اسے قبول نہیں کرتے۔
تفسیر بالقرآن
سب سے بڑا ظالم کون ؟
1۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جسے اللہ کی آیات سمجھائی گئیں لیکن اس نے اعراض کیا۔ (الکھف : 57)
2۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ کی مسجدوں سے روکتا ہے کہ ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے۔ (البقرۃ : 114)
3۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو شہادت حق کو چھپاتا ہے۔ (البقرۃ : 140)
4۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (الانعام : 21)
5۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ (الاعراف : 158 )
Ayahs 18:58–59فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء سے مذاق کرنے، حقائق سننے اور انہیں تسلیم نہ کرنے کے باوجود لوگوں کو نہیں پکڑتا تو اس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ہے اس نے مجرموں کی گرفت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
رب کریم نے اپنے گنہگار بندوں کو نہایت شفقت آمیز الفاظ کے ساتھ تسلی دیتے ہوئے دعوت دی ہے۔ کہ اے نبی ﷺ میرے بندوں کو فرمائیں جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہوں کو معاف کرنے والا، نہایت مہربان اور بخشنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہوں اور جرائم کی وجہ سے فی الفور گرفت کرے تو کوئی اس کے عذ اب سے نہیں بچ سکتا۔ وہ اپنی رحمت کی وجہ سے گنہگاروں کو بار بار معافی کا موقع اور مہلت دیتا ہے۔ اس نے گنہگاروں کی گرفت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ مقررہ وقت سے پہلے کسی فرد یا قوم کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔ البتہ جب عذاب کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر کسی کو پناہ نہیں ملتی جس کی مثالیں پہلے سے موجود ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو ان کی مقررہ معیاد پر پکڑا تو انہیں اس ہلاکت سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
(وَإِذَا جَاءَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوءً ا بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ)[ الانعام : 54]
” اور جب وہ لوگ آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہیں تم پر سلامتی ہو۔ تمہارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے بلاشبہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کربیٹھے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو یقیناً وہ بےحد بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی کَتَبَ کِتَابًا قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ الْخَلْقَ اِنَّ رَحْمَتِیْ سَبَقَتْ غَضَبِیْ فَھُوَ مَکْتُوْبٌ عِنْدَہٗ فَوْقَ الْعَرْشِ ) [ رواہ مسلم : باب فِی سَعَۃِ رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالَی وَأَنَّہَا سَبَقَتْ غَضَبَہُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے لوح محفوظ میں تحریر فرمایا کہ ” میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے “ یہ اللہ کے عرش پر تحریر ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ بخشنے اور رحمت فرمانے والا ہے۔
2۔ اگر اللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے جلد مواخذہ کرتا تو لوگ بہت جلد عذاب میں مبتلا ہوجاتے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے لیے ایک وقت معین کر رکھا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔
5۔ اللہ تعالیٰ نے بستیوں والوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کیا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے ہر فرد اور قوم کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے :
1۔ ہم نے ان بستیوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کیا اور ہم نے ہر ایک کی ہلاکت کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ (الکھف : 59)
2۔ ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آتا ہے تو اس میں کمی بیشی نہیں کی جاتی۔ (الاعراف : 34)
3۔ جب اللہ کا مقرر کیا ہواوقت آجاتا ہے۔ اس میں آگا پیچھا نہیں کیا جاتا۔ (یونس : 49)
4۔ جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے۔ اسے موخر نہیں کیا جاتا کاش لوگ جان لیں۔ (نوح : 4)
5۔ کفار عذاب کی جلدی مچاتے ہیں اگر اللہ کی طرف سے وقت مقرر کیا ہوانہ ہوتاتوان پر عذاب آجاتا۔ (العنکبوت : 29)
6۔ اگر اللہ لوگوں کی ظلم کی وجہ سے گرفت کرے تو زمین میں کوئی جاندار نہ بچے۔ (النحل : 61)
Ayahs 18:60–63فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے ذریعہ سے چند کاموں کے حوالے سے تکوینی امور کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ تاکہ لوگ ان کو پیش نگاہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صابر، شاکر رہیں بات پر ایمان لائیں۔
اس خطاب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک سفر کی روداد بیان کی ہے۔ جس میں ان کی ملاقات حضرت خضر (علیہ السلام) سے کروائی گئی تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے تکوینی امور کی حکمتوں سے کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا سبب بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ اچانک مجمع سے ایک آدمی اٹھا اس نے سوال کیا۔ جناب موسیٰ ! کیا دنیا میں آپ سے بڑھ کر کوئی عالم ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ دنیا میں سب سے بڑاعالم میں ہوں حالانکہ انہیں یہ الفاظ کہنے کی بجائے پیغمبرانہ شان کے مطابق اللہ اعلم کے الفاظ کہنے چاہییں تھے۔ اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پسندنہ آئے۔ جس بناء پر انہیں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! میرے بندوں میں ایسا بندہ موجود ہے جس کے پاس وہ علم ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بندے سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بندے کی نشاندھی فرمائی۔ اس سے ملنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سفر اختیار کیا۔ جس کا تذکرہ یہاں کیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے شاگرد سے فرمایا کہ جب تک ہم دو دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جائیں اپنا سفر جاری
رکھیں گے بیشک ہمیں برسوں تک چلنا پڑے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تلی ہوئی مچھلی اپنے پاس رکھو۔ حضرت
موسیٰ (علیہ السلام) اپنے شاگرد یوشع بن نون کے ساتھ سفر کے لیے نکلے راستہ میں انہوں نے دریاؤں کے سنگھم کے پاس قیلولہ کیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) استراحت فرما رہے تھے تو یوشع بن نون کے سامنے تلی ہوئی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں کود گئی جونہی مچھلی نے دریا میں چھلانگ لگائی تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح راستہ بنالیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شاگرد یہ واقعہ اور مچھلی بھول گئے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اٹھے اور بہت آگے نکل گئے تو انہوں نے اپنے شاگرد کو حکم دیا کہ ناشتہ کے لیے مچھلی پیش کی جائے۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہمیں اس سفر نے تھکا دیا ہے تب ان کے شاگرد نے عرض کی۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟ کہ جب ہم ایک چٹان کے پاس آرام کررہے تھے تو مچھلی دریا میں کود گئی اور اس نے عجب طریقے کے ساتھ دریا میں راستہ بنایا یہ واقعہ شیطان نے مجھے فراموش کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہی تو وہ مقام ہے جس کی تلاش کے لیے ہم نکلے تھے۔[ رواہ البخاری : باب الْخُرُوجِ فِی طَلَبِ الْعِلْمِ ]
تفسیر بالقرآن
شیطان کی انسان سے دشمنی :
1۔ مجھے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ (الکہف : 63) 2۔ یقیناً شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (الاعراف : 22)
3۔ یقیناً شیطان انسان کا واضح دشمن ہے۔ (یوسف : 5) 4۔ یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھو۔ (فاطر : 6)
5۔ یقیناً شیطان انسان کے ساتھ واضح دشمنی کرنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : 53)
6۔ شیطان انسان کو رسوا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (الفرقان : 29) 7۔ شیطان لوگوں کے درمیان دشمنی ڈالنا چاہتا ہے۔ (المائدۃ : 91)
8۔ شیطان نے آدم اور حوّا کو پھسلا دیا، وہ انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ (الاعراف : 32)
Ayahs 18:64–68فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھول کر دریا کے سنگھم سے آگے گزر جانا اور معلوم ہونے پر واپس پلٹنا۔
یوشع بن نون نے جب عرض کی کہ حضرت جہاں آپ نے آرام کیا تھا وہاں مچھلی دریا میں کود گئی۔ لیکن میں آپ سے عرض کرنا بھول گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً فرمایا یہی تو ہماری منزل تھی۔ پھر انہی قدموں پر منزل تلاش کرتے ہوئے واپس پلٹے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ دونوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جس کو ہم نے اپنی رحمت سے نواز رکھا تھا اور اپنی طرف سے خصوصی علم عطا کیا تھا۔ قرآن مجید نے اس بندے کا نام نہیں بتلایا البتہ حدیث شریف میں اس کا نام خضر آیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے اپنی حاضری کا مقصد بیان کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم عطا فرمایا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ رہ کر اس سے استفادہ کروں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا آپ میرے کاموں پر صبر نہیں کر پائیں گے کیونکہ جس کام کی حقیقت سے آپ واقف نہیں اس پر کیونکر صبر کرسکتے ہیں۔ مفسرین نے دونوں شخصیات کی ملاقات کی تفصیل بتلاتے ہوئے لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے شاگرد خاص یوشع بن نون کے ساتھ دریاؤں کے سنگم کے پاس پہنچے تو انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو چادرلیے ہوئے لیٹا ہوا پایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے السلام علیکم کہا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے چہرے سے کپڑا ہٹاتے ہوئے فرمایا اس علاقہ میں السلام علیکم
کہنے والے آپ پہلے شخص ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا نام بتایا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) پوچھتے ہیں کیا آپ بنی اسرائیل کے موسیٰ ہیں ؟ حضر 3 ت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ جی ہاں ! میں وہی موسیٰ ہوں۔ جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا حضرت خضر نے فرمایا کہ آپ اس بات پر کس طرح صبر کر پائیں گے، جس کی حقیقت سے آپ آگاہ نہیں ہیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ فرمانا کہ آپ ان کاموں پر کس طرح صبر کرسکیں گے ؟ جن کی حقیقت سے آپ واقف نہیں۔ ان کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ جو کام آپ کے نزدیک خلاف شرع ہیں وہ میرے لیے جائز ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک نبی ہونے کی حیثیت سے آپ انہیں برداشت نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ پیغمبر کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامنے خلاف شرع کام دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔ پیغمبر کی خاموشی اس کام کے جائز ہونے کی دلیل بن جاتی ہے۔ اس خاموشی کو محدثین نے تقریری حدیث قرار دیا ہے یعنی ایسی بات یا کام جو رسول محترم ﷺ کے سامنے ہو اور آپ اس پر خاموش رہے ہوں وہ کام امت کے لیے حدیث کا درجہ رکھتا ہے۔ یعنی ایسی بات یا کام جس کو پیغمبر نے برقرار رکھا ہو۔
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کا ساتھی اپنے قدموں کے نشانات پر واپس پلٹے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے علم سے نوازتا ہے۔
3۔ حضرت خضر (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم فرمایا تھا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے علم سے نوازتا ہے :
1۔ انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے رحمت اور علم عطا کیا تھا۔ (الکہف : 65)
2۔ اللہ نے انسان کو وہ کچھ سکھلایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (العلق : 5)
3۔ اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو علم الاسماء سکھلایا۔ (البقرۃ : 37)
4۔ جب حضرت موسیٰ جوانی کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور علم عنایت فرمایا۔ (القصص : 14)
5۔ جب حضرت یوسف جوانی کو پہنچے اللہ نے انہیں دانائی اور علم بخشا۔ (یوسف : 22)
6۔ بلاشبہ اللہ نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ (النمل : 15) 7۔ علم کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ (طٰہٰ : 114)
Ayahs 18:69–74فہم القرآن
ربط کلام : خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ کرنے والا پائیں گے میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو میرے کسی کام کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود اس کی وضاحت کروں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد دونوں چل پڑے ا وردریاعبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ توڑدیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور فرمایا کیا آپ کشتی والوں کو ڈبو نا چاہتے ہیں ؟ آپ نے عجب کام کر دکھایا ہے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے کاموں پر صبر نہیں کر پائیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں بھول گیا اس لیے میری گرفت نہ کیجیے۔ اسکے بعد دونوں نے سفر جاری رکھاراستہ میں ایک بچے کو کھیلتے ہوئے پایا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر بچے کا گلہ اس زور سے دبایا کہ بچے کی چیخ نکلی اور اس کے ساتھ ہی اس کی روح پرواز کرگئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے احتجاج کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو ناحق قتل کردیا ہے یہ تو آپ نے بہت ہی برا کام کیا ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ خلاف شرع بات پر ٹوکنا چاہیے :
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ رَّاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ‘ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ‘ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ )
[ رواہ مسلم : باب بَیَانِ کَوْنِ النَّہْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ مِنَ الإِیمَانِِ ]
” حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی محترم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ‘ تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے ‘ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر کم از کم دل سے نفرت کرے۔ یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ “
صبر اور شکر کا اجر وثواب :
(عَنْ صُھَیْبٍ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ لَہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَالِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَفَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَا نَ خَیْرًا لَّہُ )[ رواہ مسلم : باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہُ کُلُّہُ خَیْرٌ]
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا ‘ ایمان دار شخص کی حالت پر تعجب ہے کہ وہ اپنے معاملات میں ‘ ہر حال میں بہتر ہے اور یہ اعزاز صرف ایمان دار کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی حاصل ہو تو شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے ‘ یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ “
مسائل
1۔ صبر بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حاصل ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کا حکم اور اس کا اجر :
1۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ (الکہف : 69)
2۔ اے نبی ﷺ ! کفار کی باتوں پر صبر کیجیے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کیجیے۔ (طٰہٰ : 130)
3۔ صبر کیجیے اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ (الروم : 60)
4۔ اپنے رب کے حکم کے مطابق صبر کیجیے۔ (الدھر : 24)
5۔ تکلیف پر صبر کیجیے یقیناً یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ (لقمان : 17)
6۔ صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (الاعراف : 87)
Ayahs 18:75–77فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب خضر (علیہ السلام) کے ہم سفر ہوئے۔ حضرت خضر نے انہیں پہلے سے ہی یہ بات کہہ دی کہ آپ اس شرط پر میرے ہمسفر ہوسکتے ہیں کہ دوران سفر جو کچھ میں کروں آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہوا یہ کہ بحری سفر کے دوران خضر (علیہ السلام) نے بیڑے کا ایک تختہ توڑ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور کہا کہ کیا آپ سب کو غرق کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اعتراض نہ کرنے کا وعدہ یاد کروایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ کشتی سے اتر کر جب ان کا گزر ایک بستی کے قریب سے ہوا تو خضر (علیہ السلام) نے ایک نونہال کا اس زور سے گلہ دبوچا جس سے چند لمحوں میں بچے کی جان نکل گئی۔ اللہ کے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس المیہ پر تڑپ اٹھے اور خضر (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر ٹوکا کہ آپ نے ناقابل برداشت ظلم کیا ہے۔ آپ نے ایک معصوم بچے کو قتل کر ڈالا ہے اس پر پھر خضر نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو وعدہ یاد دلایا کہ آپ نے سفر کے آغاز میں عہد کیا تھا کہ میں آپ کے کسی کام پر اعتراض نہیں کروں گا لیکن آپ نے دوسری دفعہ مجھ سے سوال کر ڈالا ہے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک دفعہ پھرجانے دیجئے۔ آئندہ آپ کے کسی کام پر اعتراض کروں تو ہماری رفاقت ختم ہوجائے گی کیونکہ آپ کی طرف سے حجّت پوری ہوجائے گی۔
اس اقرار کے بعد جب دونوں بزرگ ایک بستی سے گزرے تو انہوں نے بستی والوں سے کھانا طلب کیا لیکن بستی والوں نے انہیں کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔ اس کے باوجود حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک مکان کی گرتی ہوئی دیوار کو مرمّت کیا۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں توجہ دلائی کہ ہمیں ان سے مزدوری کے عوض کوئی چیز کھانے کے لیے طلب کرنا چاہیے تھی۔ جونہی موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بات کہی تو خضر (علیہ السلام) بول اٹھے کہ اب ہم اکٹھے سفر نہیں کرسکتے۔ لہٰذا میرے اور آپ کے درمیان علیحدگی ہے، تاہم جو میں نے سفر کے دوران کام کیے ہیں ان کی حقیقت آپ کو بتلائے دیتا ہوں۔
مہمان نوازی کا اجر :
(عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ ۔۔ وَأَیُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ یَقْرُوہُ فَإِنَّ لَہُ أَنْ یُعْقِبَہُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُ )[ رواہ ابوداود : باب النَّہْیِ عَنْ أَکْلِ السِّبَاعِ ]
” حضرت مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا۔۔ جو مہمان کسی قوم سے اپنی مہمانی نوازی کا مطالبہ کرے اور وہ اس سے انکاری ہو تو مہمان ان سے اپنی مہمان نوازی کے مطابق لے سکتا ہے۔ “
(لِلسَّاءِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ ) [ رواہ أبو داوٗد : کتاب الزکوٰۃ، باب حق السائل ]
” اگر سائل گھوڑے پر سوار ہو کر کسی کے ہاں آکر سوال کرے تو اس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ “
(عَنْ اَبِیْ شُرَیْحِ الْکَعْبِیِّ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ جَآءِزَتُہٗ یَوْمٌ وَّلَیْلَۃٌ وَّالضِّیَافَۃُ ثَلٰثَۃُ اَیّاَمٍ فَمَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَھُوَ صَدَقَۃٌ وَّلَا یَحِلُّ لَہٗ اَنْ یَثْوِیَ عِنْدَہٗ حتَیّٰ یُحَرِّجَہٗ ) [ رواہ البخاری : باب إِکْرَام الضَّیْفِ وَخِدْمَتِہٖٓ إِیَّاہُ بِنَفْسِہٖ ]
” حضرت ابو شریح کعبی ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ ایک دن ایک رات خوب اہتمام کرے۔ مہمان نوازی تین دن تک ہے اس کے بعد صدقہ ہے۔ مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے ہاں بلاوجہ مقیم رہے کہ اسے تنگی میں مبتلا کرے۔ “
Ayahs 18:78–79فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ہاں جو کام میں نے سفر کے دوران کیے ہیں۔ ان کے بارے میں عرض کیے دیتا ہوں تاکہ آپ کو ان کی حکمت کا علم ہو سکے جن کے بارے میں آپ صبر نہ کرسکے۔
کشتی کا تختہ میں نے اس لیے توڑا تھا کہ ظالم بادشاہ، ملاحوں کی کشتیاں جبرًا پکڑ رہا تھا۔ میں نے کشتی کو عیب دار کیا۔ تاکہ بادشاہ کے کارندے کشتی کو غیر معیاری سمجھ کر چھوڑ دیں اس طرح ان غریبوں کی مزدوری چلتی رہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ ظالموں، حکمرانوں کا پرانا وطیرہ ہے کہ وہ ذاتی مفاد یا کسی اجتماعی مہم کے لیے بلامعاوضہ اور بلاتمیز لوگوں کے مال پر تصرف کرتے ہیں۔ جو ہرگز جائز نہیں البتہ ہنگامی حالات اور ملکی مفاد میں کچھ وقت کے لیے پبلک پراپرٹی سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہو تو رعایا کو اعتماد میں لے کر ایسا کرنا جائز ہے۔ اس کے باوجود غریبوں اور مجبور لوگوں کا خیال رکھنا لازم ہے۔ ورنہ شرعاً اور اخلاقاً حکومت کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کی ذاتی جائیداد پر قبضہ کرے اس کے لیے سیدنا عمر فاروق ؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کی مثال حکمران طبقہ کے سامنے ہونی چاہیے۔ جس سے اشتراکی اور اسلامی نظام میں فرق کا پتہ چلتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کے عہد میں جو مسجد نبوی کی عمارت تیار کی گئی تھی وہ اس عہد کے لیے کافی تھی۔ لیکن مدینہ منورہ کی آبادی روزبروز بڑھتی جا رہی تھی۔ اس وجہ سے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ 17 ھ میں حضرت عمر ؓ نے مسجد کو وسیع کرنا چاہا جس کے لیے گردوپیش کے مکانات قیمت دے کر خرید لیے، لیکن حضرت عباس ؓ نے اپنا مکان بیچنے سے انکار کیا۔ حضرت عمر ؓ نے کافی معاوضہ دینے کی پیشکش کی لیکن حضرت عباس ؓ کسی طرح راضی نہ ہوئے تھے۔ آخر مقدمہ ابی بن کعب ؓ کے پاس آیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت عمر ؓ کو جبراً مکان خریدنے کا کوئی حق نہیں۔ حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ اب میں بلا قیمت عامۃ المسلمین کے لیے دیتا ہوں۔ اس طرح ازواج مطہرات کے مکانات کو چھوڑ کر باقی جس قدر عمارتیں تھیں انہیں گرا کر مسجد کو وسعت دی گئی۔ پہلے طول 10 گز تھا انہوں نے 140 گز کردیا۔ اسی طرح عرض میں بھی 20 گز کا اضافہ ہوا لیکن عمارت میں کچھ تکلف نہیں کیا گیا، آنحضرت ﷺ کے عہد میں جس طرح ستون وغیرہ لکڑی کے تھے، اب بھی لکڑی کے رہے، حضرت عمر ؓ نے مسجد کی تجدید کے ساتھ ایک کونے میں ایک چبوترہ بنوایا اور لوگوں سے کہا کہ جس نے بات چیت کرنا ہو اس کے لیے یہ جگہ ہے۔ (الفاروق : مصنف شبلی نعمانی ؓ
مسائل
1۔ بہتر ہے کہ ناواقف ہمسفر کو راستے کی مشکلات سے آگاہ کردیا جائے۔
2۔ غیر شرعی کام دیکھ کر بڑے سے بڑے بزرگ کو روکنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
3۔ کسی کام میں شراکت قائم رکھنا مشکل ہو تو ساتھی کو آگاہ کردینا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کے معانی :
1۔ خضر نے کہا اب میرا اور تمہارا ساتھ ختم ہوا میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔ (الکہف : 78)
2۔ آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ مطمئن رکھیے جو صبح و شام اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں۔ (الکہف : 28)
3۔ سردار مکہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کی پرستش پر قائم رہو۔ (ص : 6)
4۔ جہنمی کس طرح جہنم کی آگ کو برداشت کریں گے۔ (البقرۃ : 175)
5۔ تم کفار کی باتوں کو ہمت کے ساتھ برداشت کرو۔ (المعارج : 5)
6۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153)
Ayahs 18:80–81فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، بچے کو قتل کرنے کی حکمت۔
حضرت خضر (علیہ السلام) بچے کو قتل کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ رہا بچے کو قتل کرنے کا معاملہ۔ تو میں نے اس بچے کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے ماں باپ مومن اور نہایت ہی اچھے لوگ ہیں۔ ہم نے خطرہ جانا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر نہ صرف کفر و شرک کرے گا بلکہ اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو بھی کفر اور نافرمانی پر مجبور کرے گا اس لیے میں نے اسے قتل کردیا کیونکہ ہم نے چاہا ان کا رب اس کے بدلے میں اس سے نیک، رحمدل اور شریف النفس بیٹا عطا فرمائے۔
حضرت خضر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض امور کی حکمت کا علم دے کر کچھ ایسے کام کرنے کا حکم دے رکھا تھا جو ظاہری طور پر شریعت کے ضابطوں کے خلاف تھے۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچے کے قتل پر چپ نہ رہ سکے کیونکہ تمام شریعتوں میں بچہ ہو یا بڑا کسی کو ناحق قتل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس بچے کو عین اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اجازت کے مطابق قتل کیا تھا۔ اس لیے انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :
ہم نے چاہا اس کے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک اور نرم خو بیٹا عنایت کیا جائے۔ کسی کو اولاد عنایت کرنا خالصتاً اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کام میں اس کا کوئی شریک اور سہیم نہیں ہوتا۔ اس لیے حضرت خضر (علیہ السلام) نے بیٹے کی تخلیق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے۔ جہاں تک اسے جان سے مار دینے کا تعلق ہے اس کے بارے میں ” ہم نے چاہا “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ کیونکہ کسی کو قتل کرنا سنگین جرم ہے۔ اس لیے حضرت خضر یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دلانے اور اس کام کی پوری طرح حکمت منکشف کرنے کے لیے ” ہم “ کی ضمیر استعمال فرمائی جس میں اشارہ ہے کہ میں نے یہ کام اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور اس کے حکم سے کیے ہیں۔ میں شامل کیا ہے۔ اس کام میں یہ حکمت بھی بتلا دی کہ نیک اولاد کے اوصاف میں یہ وصف بھی ہونا چاہیے کہ وہ کردار کے لحاظ سے پاکیزہ اور روّیے کے اعتبار سے اپنے ماں باپ کے ساتھ انتہائی شفقت کرنے والی ہو۔
والدین کو حکم :
(وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَ اِیَّاکُمْ اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا)
[ بنی اسرائیل : 31]
” اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں۔ بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ “
( اولاد نافرمان ہونے کی صورت میں بھی ماں باپ کو اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ )
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ سَأَلْتُ أَوْ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللّٰہِ أَکْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ الذین لایدعون مع اللہ ....]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کونسا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ میں نے پھر عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ “
مسائل
1۔ بری اولاد بسا اوقات ماں باپ کو بھی برے کاموں پر مجبور کرتی ہے۔
2۔ اولاد کو اپنے ماں باپ کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
ماں باپ کے لیے اولاد آزمائش ہے :
1۔ یقیناً تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ (الانفال : 28)
2۔ اے ایمان والو ! تمہارے مال اور اولاد تمہیں ہلاکت میں مبتلا نہ کردیں۔ (المنافقون : 9)
3۔ یقیناً تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے تمہارے دشمن ہیں ان سے بچ کر رہو۔ (التغابن : 14)
4۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی خوبصورتی ہیں نیک اعمال باقی رہنے والے ہیں اور ان کا ثواب اللہ کے بہترین ہے۔ (الکہف : 46)
Ayah 18:82فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) اپنے تیسرے کام کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں۔
حضرت خضر دیوار تعمیر کرنے کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس شہر میں یہ یتیموں کا مکان تھا جس کی دیوار گرنے ہی والی تھی۔ اس دیوار کے نیچے ایک خزانہ ہے جوان بچوں کے نیک ماں باپ نے ان کے لیے چھپا رکھا تھا۔ قریب تھا یہ دیوار گرجائے اور خزانہ لوگوں کے ہاتھ لگ جائے۔ اس لیے ہم نے یہ دیوار درست کردی ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک آپ کو بھوک کی حالت میں یہ مشقت اٹھانی پڑی ہے مگر تیرے رب نے یہی چاہا کہ یہ دیوار درست کردی جائے تاکہ یتیم جوان ہو کر اس خزانے کو نکال لیں۔ یہ خزانہ تیرے رب کی رحمت اور ہمارا یتیموں کی خدمت کرنا اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے یاد رکھیں کہ یہ کام بھی میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ ہے ان کاموں کی حقیقت جس پر آپ صبر نہ کرسکے حضرت خضر کا وضاحت کردینا کہ یہ کام میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے یہ کام اپنی شریعت کے مطابق یعنی وحی کی روشنی میں کیے تھے۔ جس پر قیل وقال کرنے کا حق ختم ہوجاتا ہے۔
حضرت خضر (علیہ السلام) کے بارے میں جہالت اور مشرکانہ عقائد :
دائرہ المعارف الاسلامیہ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں زیر عنوان طریقت جلد 12 صفحہ 460 پر درج ہے کہ ” راسخ مقدس ہستی (سیدناخضر) کے مظاہر سے فیضان حاصل ہوتا ہے جو پراسرار اور غیر فانی ہے یعنی الخضر جن کی ہادی طریقت کی حیثیت سے سب فرقے توقیر و تعظیم کرتے ہیں کیونکہ وہ سیدنا موسیٰ کے رہنما اور صوفی کی روح کو حقیقت علیا سے آشنا کرانے کے اہل ہیں۔
خواجہ خضر کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ ” ہندوستان میں سیدناخضر (علیہ السلام) کو کنوؤں اور چشموں کی روح کا روپ سمجھا جاتا ہے دریائے سندھ کے آرپار انہیں دریا کا اوتار سمجھا جاتا ہے سیدناخضر کی خانقاہ سندھ کے ایک جزیرے میں بھکر کے پاس ہے جہاں ہر مذہب کے عقیدت مند زیارت کو جاتے ہیں (ایضاً دائر ۃ المعاف : جلد، 5 ص، 22)
اس طرح سیدنا خضر کے نام سے شرک کا ایک دروازہ کھل گیا اور اب تو سیدنا خضر کی نماز بھی پڑھی جانے لگی ہے جس کی برکت سے سیدنا خضر سے ملاقات بھی ہوجاتی ہے (تفصیل کے لیے دیکھیے تلقین مرشد کامل از صادق فرغانی ص 240) اور بعض لوگ خواجہ خراج خضر کی نیازدریا میں پھینکتے ہیں تاکہ کشتی یا جہاز بخیر و عافیت کنارے پر لگ جائے گویا ایسے مشرکوں کے لیے خواجہ خضر ایک مستقل اوتار یا معبود بن گیا ہے۔
بعض مفسرین نے حضرت خضر کو انسان ماننے کی بجائے مافوق الفطرت ہستی قرار دیا ہے لیکن ان کا مؤقف غلط ہے۔ کیونکہ ملائکہ یا کوئی بھی مافوق الفطرت ہستی سے یہ ثابت نہیں کہ اس نے انسانی شکل اختیار کرنے کے باوجود کسی سے کھانے پینے کا مطالبہ کیا ہو۔ یہاں تو قرآن مجید دو ٹوک الفاظ میں بیان کر رہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جناب خضر نے اہل قریہ سے کھانے کا مطالبہ کیا مگر انہوں نے انہیں کھانے کے لیے کچھ نہ دیا اس کے باوجود دونوں نے یتیموں کی چار دیواری کو مرمّت کیا۔ جہاں تک ملائکہ کا انسانی شکل میں کسی کے پاس آنے کا تعلق ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ہمارے سامنے ہے جب ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انسان سمجھ کر ان کے سامنے بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا لیکن ملائکہ نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا کیونکہ مافوق الفطرت مخلوق ہونے کی بنا پر وہ کھانے سے بےنیاز تھے۔ اگر کوئی صاحب علم یہ بات کہتا ہے کہ کہ حضرت خضر نے آزمائشی طور پر کھانا طلب کیا تھا کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کھانے کا مطالبہ فرضی طور پر کیا تھا ؟
یتیم کی خدمت کا ثواب :
(عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ خَیْرُ بَیْتٍ فِي الْمُسْلِمِیْنَ بَیْتٌ فِیْہِ یَتِیْمٌ یُحْسَنُ إِلَیْہِ وَشَرُّ بَیْتٍ فِي الْمُسْلِمِیْنَ بَیْتٌ فِیْہِ یَتِیْمٌ یُسَاءُ إِلَیْہِ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الأدب، باب حق الیتیم ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : مسلمانوں میں بہترین گھرانہ وہ ہے جس میں یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتاہو۔ مسلمانوں میں بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔ “
کیا خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں ؟
(عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ ؓ قَالَ صَلَّی بِنَا النَّبِیُّ ﷺ الْعِشَاءَ فِی آخِرِ حَیَاتِہِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ہَذِہِ ، فَإِنَّ رَأْسَ ماءَۃِ سَنَۃٍ مِنْہَا لاَ یَبْقَی مِمَّنْ ہُوَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ )
[ رواہ البخاری : باب السَّمَرِ بالْعِلْمِ ]
” عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ہمیں نبی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں عشاء کی نماز پڑھائی آپ نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ کیا میں تمہیں اس رات کے بارے نہ بتلاؤں یقیناً آج سے سو سال بعد جو اس وقت زندہ ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ “
(اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) زندہ نہیں بلکہ فوت ہوچکے ہیں۔ )
مسائل
1۔ یتامٰی کی خدمت کرنے کا حکم ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے بغیر آدمی کسی کی خدمت نہیں کرسکتا۔
3۔ رزق حلال کی فراوانی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوا کرتی ہے۔
تفسیر بالقرآن
لفظ تأویل کے مختلف معانی :
1۔ اسی طرح تمہارا پروردگار تمہیں منتخب کرے گا اور خوابوں کی تعبیر سکھلائے گا۔ (یوسف : 6)
2۔ اگر تمہارا کسی معاملہ میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان لانے والے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے خوب تر ہے۔ (النساء : 59)
3۔ وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ اور غلط مطلب کی تلاش میں متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہیں۔ (آل عمران : 7)
4۔ وہ لوگ اس کے مصداق کا انتظار کر رہے ہیں۔ (الاعراف : 53)
Ayahs 18:83–84فہم القرآن
ربط کلام : الکہف کے تعارف میں عرض کیا ہے کہ یہ سورة اہل مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔
اہل مکہ نے رسول معظم ﷺ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ ان کی دن رات کوشش تھی کہ کسی ایک بات میں سہی اس نبی ﷺ کو لوگوں کی نظروں میں جھوٹا یا کم از کم لاجواب کردیا جائے۔ اس کے لیے انھوں نے مدینہ میں یہودیوں کے پاس وفد بھیجا۔ یہودیوں نے اس سورة میں ذکردوسرے سوالات کے ساتھ ایک سوال یہ بھی بتلایا کہ واپس جا کر محمد سے یہ بھی پوچھنا کہ ” ذوالقرنین “ کون تھا اور اس نے مشرق سے لے کر مغرب تک جو فتوحات حاصل کیں ان کی تفصیلات کیا ہیں۔ اہل مکہ نے واپس آکر آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں بھی استفسار کیا۔ جس کا جواب دینے سے پہلے یہ ارشاد ہوا ہے کہ یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں لہٰذا ہم آپ کو ذوالقرنین کے بارے میں کچھ باتیں بتلاتے ہیں۔
یاد رہے کہ قرآن مجید تاریخ، جغرافیہ اور دنیوی علوم و فنون کی کتاب نہیں ہے۔ تاریخ، جغرافیہ اور دنیوی علوم و فنون کے بارے میں قرآن مجید اتنا ہی اشارہ اور بات کرتا ہے جس کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے انسان کی ہدایت اور فائدے کے ساتھ ہوتا ہے اس سے آگے قرآن کچھ بھی ذکر نہیں کرتا۔ اس لیے ذوالقرنین کے بارے میں جواب دینے سے پہلے ” مِنْہُ ذِکْرًا “ کے لفظ استعمال کرکے واضح کردیا گیا ہے۔ کہ ہم اس کے واقعات میں سے کچھ واقعات کا ذکر آپ کے سامنے کریں گے۔ لفظ ذکر کا ایک معنٰی نصیحت بھی ہے۔ اس لیے یہ حقیقت بھی بتلا دی گئی کہ ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے اس کے کردار اور واقعات میں ایک عبرت اور نصیحت ہے بشرطیکہ یہ اسے پانے کی کوشش کریں۔
ذوالقرنین وہ شخص تھا جسے اللہ تعالیٰ نے زمین پر بہت سے اختیارات دیے تھے اسے وسیع و عریض مملکت اور ہر قسم کے وسائل سے مالا مال کیا تھا۔
ذوالقرنین کون تھا ؟
یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اب تک مختلف فیہ رہا ہے کہ یہ ” ذوالقرنین “ جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے کون تھا۔ قدیم زمانے میں بالعموم مفسرین کا میلان سکندر کی طرف تھا، لیکن قرآن میں اس کی جو صفات و خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ مشکل ہی سے سکندر پر چسپاں ہوتی ہیں۔ جدید زمانے میں تاریخی معلومات کی بنا پر مفسرین کا میلان زیادہ تر ایران کے فرماں روا خورس (خسردیا سائرس) کی طرف ہے اور یہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس ہے مگر بہرحال ابھی تک یقین کے ساتھ کسی شخصیت کو اس کا مصداق نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
قرآن مجید جس طرح اس کا ذکر کرتا ہے اس سے ہم کو چار باتیں وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہیں :
1۔ اس کا لقب ذوالقرنین ( لغوی معنی ( دو سینگوں والا) کم از کم یہودیوں میں جن کے اشارے سے کفار مکہ نے اس کے بارے میں نبی ﷺ سے سوال کیا تھا، ضرور معروف ہونا چاہیے۔ اس لیے لا محالہ ہمیں یہ معلوم کرنے کے لیے اسرائیلی لٹریچر کی طرف رجوع کرنا پڑے گا کہ وہ ” دو سینگوں والے “ کی حیثیت سے کس شخصیت یا سلطنت کو جانتے تھے۔
2۔ وہ ضرور کوئی بڑا فرمانروا اور فاتح ہونا چاہیے جس کی فتوحات مشرق سے مغرب تک پہنچی ہوں اور تیسری جانب شمال یا جنوب میں بھی وسیع ہوئی ہوں، ایسی شخصیتیں نزول قرآن سے پہلے چند ہی گزری ہیں اور لامحالہ انہی میں سے کسی ایک میں اس کی دوسری خصوصیات ہمیں تلاش کرنی ہوں گی۔
3۔ اس کا مصداق ضرور کوئی ایسا فرمانروا ہونا چاہیے جس نے اپنی مملکت کو یاجوج وماجوج کے حملوں سے بچانے کے لیے کسی پہاڑی درے پر ایک مستحکم دیوار بنائی ہو۔ اس علامت کی تحقیق کے لیے ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ یاجوج وماجوج سے مراد کونسی قومیں ہیں اور پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے علاقے سے متصل کونسی ایسی دیوار کبھی دنیا میں بنائی گئی ہے اور وہ کس نے بنائی ہے۔
4۔ اس میں مذکورۂ بالا خصوصیات کے ساتھ ایک یہ خصوصیت بھی پائی جانی چاہیے کہ وہ خدا پرست اور عادل فرمانروا ہو، کیونکہ قرآن یہاں سب سے بڑھ کر اس کی اسی خصوصیت کو نمایاں کرتا ہے۔
ان میں سے پہلی علامت آسانی کے ساتھ خورس پر چسپاں کی جاسکتی ہے کیونکہ بائیبل کے صحیفہ دانی ایل میں دانیال نبی کا جو خواب بیان کیا گیا ہے اس میں وہ یونانیوں کے عروج سے قبل میڈیا اور فارس کی متحدہ سلطنت کو ایک مینڈھے کی شکل میں دیکھتے ہیں جس کے دو سینگ تھے، یہودیوں میں اس ” دو سینگوں والے “ کا بڑا چرچا تھا کیونکہ اسی کی ٹکر نے آخر کار بابل کی سلطنت کو پاش پاش کیا اور بنی اسرائیل کو اسیری سے نجات دلائی۔
دوسری علامت بڑی حد تک اس پر چسپاں ہوتی ہے مگر پوری طرح نہیں اس کی فتوحات بلاشبہ مغرب میں ایشیائے کوچک اور شام کے سواحل تک اور مشرق میں باختر ( بلخ) تک وسیع ہوئی مگر شمال یا جنوب میں اس کی کسی بڑی مہم کا سراغ ابھی تک تاریخ سے نہیں ملا ہے۔ حالانکہ قرآن صراحت کے ساتھ ایک تیسری مہم کا بھی ذکر کرتا ہے تاہم اس مہم کا پیش آنا بعید از قیاس نہیں ہے کیونکہ تاریخ کی رو سے خورس کی سلطنت شمال میں کا کیشیا ( قفقاز) تک وسیع تھی۔
تیسری علامت کے بارے میں یہ تو قریب قریب متحقق ہے کہ یا جوج ماجوج سے مراد روس اور شمالی چین کے وہ قبائل ہیں جو تا تاری منگولی، ھن اور سیتھین وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں اور قدیم زمانے سے متمدن ممالک پر حملے کرتے رہے ہیں، نیز یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے حملوں سے بچنے کے لیے قفقاز کے جنوبی علاقے میں دربند اور داریال کے استحکامات تعمیر کیے گئے تھے لیکن یہ ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ خورس ہی نے یہ استحکامات تعمیر کیے تھے۔
آخری علامت قدیم زمانے کے معروف فاتحوں میں اگر کسی پر چسپاں کی جاسکتی ہے تو وہ خورس ہی ہے کیونکہ اس کے دشمنوں تک نے اس کے عدل کی تعریف کی ہے اور بائیبل کی کتاب عزرا اس بات پر شاہد ہے کہ وہ ضرور ایک خدا پرست اور خدا ترس بادشاہ تھا جس نے بنی اسرائیل کو ان کی خدا پرستی ہی کی بنا پر بابل کی اسیری سے رہا کیا اور اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے لیے بیت المقدس میں دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا حکم دیا۔
اس بنا پر ہم یہ تو ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ نزول قرآن سے پہلے جتنے مشہور فاتحین عالم گزرے ہیں ان میں سے خورس ہی کے اندر ” ذوالقرنین “ کی علامات زیادہ پائی جاتی ہیں لیکن تعین کے ساتھ اسے ذوالقرنین قرار دے دینے کے لیے ابھی مزید شہادتوں کی ضرورت ہے تاہم دوسرا کوئی فاتح قرآن کی بتائی ہوئی علامات کا اتنا بھی مصداق نہیں ہے جتنا خورس ہے۔
تاریخی بیان کے لیے صرف اتنا ذکر کافی ہے کہ خورس ایک ایرانی فرمانروا تھا جس کا عروج 549 ق م کے قریب زمانے میں شروع ہوا۔ اس نے چند سال کے عرصے میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا ( ایشیائے کوچک کی) سلطنتوں کو مسخر کرنے کے بعد 539 ق م میں بابل کو بھی فتح کرلیا جس کے بعد کوئی طاقت اس کے راستہ میں مزاحم نہیں رہی۔ اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور صُغْد ( موجودہ ترکستان) سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری طرف تھریس اور مقدونیہ تک وسیع ہوگیا اور شمال میں اس کی سلطنت قفقاز (کاکیشیا) اور خوارزم تک پھیل گئی۔ عملاً اس وقت کی پوری مہذب دنیا اس کی تابع فرمان تھی۔ (بحوالہ : تفہیم القرآن)
مسائل
1۔ ذوالقرنین ایک عظیم حکمران تھا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وسیع مملکت اور ہر قسم کے وسائل عنایت فرمائے تھے۔
3۔ ذوالقرنین کے کردار اور واقعات میں معاشرے کے بڑے لوگوں بالخصوص حکمرانوں کے لیے بڑی رہنمائی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی اقتدار اور وسائل دینے والا ہے :
1۔ ہم نے اسے (ذوالقرنین) زمین میں اقتدار بخشا اور ہر طرح کا ساز و سامان بھی دیا۔ (الکہف : 84)
2۔ کہہ دیجیے اللہ ہی بادشاہوں کا بادشاہ ہے جسے چاہتا ہے اقتدار سے نوازتا ہے جس سے چاہتا چھین لیتا ہے (آل عمران : 26)
3۔ ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم عطا کیا۔ (النساء : 54)
4۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے اس کی اولاد نہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ (الفرقان : 2)
5۔ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : 189)