Ayah 17:1فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز : اس سورة میں بنی اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اب تمہارا دور ختم ہوا۔
معراج کے دو حصے ہیں : پہلے حصے کو اسراء اور دوسرے کو معراج کہا جاتا ہے لیکن عرف عام میں دونوں ہی کو معراج کہا جاتا ہے۔” پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک مختصر حصّہ میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔ جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کے کچھ نمونے دیکھائیں۔ “
مسجد حرام (خانہ کعبہ) مکہ میں ہے اور مسجد اقصیٰ فلسطین کے شہر ” القدس “ میں ہے۔ جس کا پرانا نام یروشلم اور ایلیا ہے۔ اس وقت مکہ سے القدس تک کی مسافت چالیس دن میں طے ہوتی تھی۔ لیکن معراج کی رات چالیس دن کی مسافت رات کے ایک مختصر حصہ میں طے ہوگئی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا آغاز لفظِ ” سبحان “ سے کیا ہے۔ جس کا معنی ہے :” اللہ ہر نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔ “
لفظ سبحان کا استعمال ایسے موقعوں پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا ہی محال ہو لیکن اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ اسباب کا پابند نہیں۔ لفظِ ” کُنْ “ کہنے کی دیر ہے جو چاہتا ہے پلک جھپکنے سے پہلے ہوجاتا ہے۔ اسباب انسانوں کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔ لہٰذا اسباب اس کے محتاج اور پابند ہیں۔ وہ اسباب کی پابندیوں اور کمزوریوں سے پاک ہے۔
حضرت مالک بن صعصعہ ؓ کی روایت کو ہم بامحاورہ بیان کرتے ہیں۔ تفصیل کے لیے حدیث کی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
” اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں اس رات کے متعلق بتلایا جس میں آپ ﷺ کو معراج کرائی گئی۔ آپ نے فرمایا : ” میں ایک رات حطیم میں سویا ہوا تھا۔ ایک آنے والا میرے پاس آیا اور اس نے میرا پیٹ سینے سے ناف تک چاک کیا اور میرا دل باہر نکالا، پھر میرے قریب سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں میرے دل کو دھویا گیا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر کر اپنی جگہ رکھ دیا گیا۔ پھر ایک سفید جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ وہ اپنا قدم وہاں رکھتا جہاں اس کی نگاہ کی آخری حد ہوتی۔ مجھے اس پر سوار کرا دیا گیا اور جبریل مجھے اپنے ساتھ لے چلے یہاں تک کہ آسمان دنیا پر پہنچ گئے۔ جبریل نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، پوچھا گیا : کون ہے ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبریل نے بتلایا : محمد ﷺ ہیں پوچھا گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا ہاں ! کہا گیا : انہیں خوش آمدید ! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں۔ دربان نے دروازہ کھول دیا۔ جب میں نے آسمان پر قدم رکھا تو دیکھا وہاں حضرت آدم (علیہ السلام) تشریف فرما ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : یہ آپ کے باپ آدم ہیں، انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : نیک بیٹے اور صالح پیغمبر کو خوش آمدید، پھر جبریل (علیہ السلام) مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے اور اس کا دروازہ کھولنے کو کہا۔ پوچھا گیا : کون ہے ؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا : محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں ! کہا گیا : خوش آمدید ! جو آیا ہے کتنا اچھا ہے ؟ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں حضرت یحییٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) تھے جو دونوں خالہ زاد ہیں۔ جبریل نے کہا : یہ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ ان دونوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدید۔ پھر جبریل مجھے تیسرے آسمان پر لے کر چڑھے اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ پوچھا گیا : کون ہے ؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ کہا گیا : تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ کہا : محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں ! انہوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا جو آیا ہے کتنا اچھامہمان ہے ؟ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں یوسف (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ یوسف ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدید۔ پھر جبریل مجھے چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے۔ دروازہ کھولنے کو کہا۔ پوچھا گیا کون ہے ؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے کہا : محمد ﷺ ہیں کہا گیا کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں کہا گیا : خوش آمدید 249 پس آنے والا جو آیا ہے کتنا ہی اچھا ہے ؟ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ادریس (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدید۔ پھر جبریل مجھے پانچویں آسمان پر لے کر چڑھے۔ انہوں نے دروازہ کھولنے کو کہا۔ کہا گیا : کون ہے ؟ کہا میں جبریل ہوں پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا : محمد ﷺ ہیں۔ پوچھا گیا : انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں ! کہا گیا : خوش آمدید جو آیا ہے کتنا اچھا ہے ؟ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ہارون (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ ہارون ہیں۔ انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدید۔ پھر جبریل مجھے چھٹے آسمان پرلے کر چڑھے۔ تب انہوں نے دروازہ کھولنے کو کہا۔ پوچھا گیا : کون ہے ؟ کہا میں جبریل ہوں۔ پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ کہا : محمد ﷺ ہیں کہا گیا : کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں ! کہا : خوش آمدید ! جو آیا ہے کتنا ہی اچھا ہے ؟ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں موسیٰ (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کریں میں نے انہیں سلام کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدید۔ جب میں وہاں سے آگے چلا تو موسیٰ (علیہ السلام) روپڑے۔ پوچھا گیا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں اس لیے روتا ہوں کہ یہ جوان جو میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا، اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں جائیں گے۔ پھر جبریل مجھے لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور انہوں نے دروازہ کھولنے کو کہا، پوچھا گیا : کون ہے ؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ کہا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبریل نے کہا : محمد ﷺ ہیں کہا گیا : کیا ان کی طرف یہاں آنے کا پیغام بھیجا گیا تھا ؟ کہا : ہاں ! کہا : خوش آمدید کتنا اچھا ہے جو آیا ہے۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ جبریل نے کہا : یہ آپ کے باپ ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : صالح بیٹے اور پیغمبر کو خوش آمدید۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کی طرف لے جایا گیا۔ اس کا پھل (بیر) ہجر ” شہر “ کے مٹکوں جتنا تھا۔ اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے۔ جبریل نے کہا : یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ وہاں چار نہریں
تھیں، دونہریں جنت کے اندر اور دونہریں باہر ہیں۔ میں نے پوچھا : اے جبریل ! یہ دونہریں کونسی ہیں ؟ جبریل نے کہا : دواندروالی ہیں وہ جنت میں اور جو دو نہریں ظاہر ہیں وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے لیے بیت المعمور بلند کیا گیا، یہاں میرے لیے تین برتن لائے گئے ایک شراب کا دوسرا دودھ کا تیسرا شہد کا تھا۔ میں نے ان میں سے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ جبریل نے فرمایا : یہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ پر رات اور دن میں پچاس نمازیں فرض کردی گئیں۔ جب میں واپس لوٹا اور دوبارہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے ہر روز پچاس نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : آپ کی امت روزانہ پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی۔ اللہ کی قسم ! میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں۔ بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزما چکا ہوں۔ پس آپ اپنے رب کی طرف جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے تخفیف کا سوال کریں۔ میں دوبارہ واپس گیا تو اللہ نے میرے لیے دس نمازیں کم کردیں۔ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انہوں نے پھر پہلی والی باتیں کیں۔ میں پھر واپس گیا تو اللہ نے دس نمازیں کم کردیں۔ میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گیا تو انہوں نے پھر وہی باتیں کیں۔ میں پھر واپس گیا تو میرے لیے پھر دس نمازیں کم کردیں۔ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انہوں نے پھر وہی باتیں کیں۔ میں پھر واپس گیا تو میرے لیے دس نمازیں کم کردیں گئیں۔ میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے پھر واپس بھیجا۔ میں واپس گیا تو میرے لیے پانچ نمازیں معاف کردیں۔ میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر واپس جانے کا مشورہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی امت روزانہ پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھے گی۔ میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں اور میں بنی اسرائیل کو خوب آزما چکا ہوں۔ آپ ﷺ پھر اپنے رب کے پاس جائیں اور اس سے اپنی امت کے لیے مزید تخفیف کا سوال کریں۔ نبی ﷺ نے فرمایا : میں باربار اپنے رب سے سوال کرچکا ہوں اب مجھے شرم آرہی ہے۔ اب میں اسی پر راضی ہوں اور اسے ہی تسلیم کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : جب میں کچھ آگے گیا تو ایک منادی کرنے والے نے بلند آواز سے کہا : میں نے اپنا فریضہ جاری کردیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کردی ہے۔ “
معراج النبی ﷺ کے عظیم مشاہدات :
شق صدر کے بعد نبی ﷺ کے قلب اطہر کا نکالنا اور پھر اسے دھو کر دوبارہ اپنے مقام پر رکھ دینا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کیونکہ اس دور میں طب اور میڈیکل سائنس کی وہ ترقی نہیں تھی جو آج کل عام ہے۔ اس دور میں دل کا اپنے مقام سے باہر نکال لینا موت کے مترادف تھا لیکن نبی ﷺ کو کچھ نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے براق جیسی برق رفتار سواری کا انتظام کرنا جس نے ڈیڑھ مہینے کا سفر رات کے ایک نہایت قلیل حصے میں طے کر ادیا۔
سیڑھی کے ذریعے سے نبی ﷺ کو آسمانوں پر لے جانا۔ یہ بےمثال اور عظیم الشان لفٹ تھی جو آسمانوں پرچڑ ھنے کے لیے آپ کو مہیا کی گئی۔ یاد رہے معراج کا معنیٰ سیڑھی ہے۔
بیت المقدس میں تمام انبیاء ( علیہ السلام) کا جمع ہونا اور نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھنا ہے۔ آپ کا امام الانبیاء کا اعزاز پانا۔
آسمانوں پر جلیل القدر انبیاء ( علیہ السلام) سے ملاقاتوں کا خصوصی اہتمام بھی نبی ﷺ کی امتیازی شان کا اظہار اور عظیم زیارات ہیں۔
سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ جو مقام انتہاء ہے۔ اس سے اوپر کی چیزیں جنہیں نیچے اترنا ہوتا ہے ان کا نزول پہلے یہاں ہوتا ہے : فرشتے اسے یہاں سے وصول کرکے اس کے مطابق کاروائی کرتے ہیں۔ زمین سے آسمانوں کو جانے والی چیزیں بھی یہاں ٹھہر جاتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو جہاں لے جانا ہوتا ہے، لے جایا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بہت ہی اہم مقام اور نہایت اہم مرکز ہے۔ علاوہ ازیں یہ مرکز تجلیات الٰہی بھی ہے۔ اس کے گرد سونے کے پروانے محو پرواز رہتے ہیں۔ اس کے حسن و جمال اور رعنائی کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ اسی جگہ پر نبی ﷺ نے قلموں کے چلنے کی آوازیں سنی تھیں۔ جس کا مطلب ہے کہ فرشتے لوح محفوظ سے قضاوقدر کے فیصلے نوٹ کرتے ہیں اسی مقام پر نبی ﷺ کو وہ چیزیں ملیں جو شب معراج کے خاص تحفے ہیں۔ اسی جگہ پر نبی ﷺ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو دوسری مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا یہاں چار نہریں بھی دیکھیں جن کے سوتے اسی مقام پر ہیں۔ گویا سدرۃ المنتہیٰ بہت سے مشاہدات کا مجموعہ اور عجائبات آسمانی کا مظہر ہے۔
ساتویں آسمان پر بیت المعمور دیکھا جو فرشتوں کی عبادت گاہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق کی عظمت و کثرت کا مشاہدہ ہوا کہ روزانہ ستر ہزار فرشتے اس میں عبادت کے لیے آتے ہیں جنکی قیامت تک دوبارہ باری نہیں آئے گی۔
جہنم کا داروغہ جس کا نام مالک ہے، دجّال جس کا خروج قیامت کے قریب ہوگا ان دونوں کا مشاہدہ بھی اسی رات نشانیوں کے طور پر کرایا گیا۔
(ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ فَإِذَا فیہَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُہَا الْمِسْکُ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان ]
” پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا۔ میں نے وہاں دیکھا کہ موتیوں کے خیمے ہیں اور اس کی مٹی کستوری ہے۔ “
(أَتَیْتُ عَلَی نَہَرٍ حَافَتَاہُ قِبَاب اللُّؤْلُؤِ مُجَوَّفًا فَقُلْتُ مَا ہَذَا یَا جِبْرِیلُ قَالَ ہَذَا الْکَوْثَرُ )
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر باب تفسیر سورة الکوثر ]
” میں ایک نہر پر آیا اس کے دونوں کنارے موتیوں کے قبوں کے تھے، میں نے پوچھا، جبریل یہ کیا ہے ؟ جبریل نے کہا یہ کوثر ہے۔ “
مسجد اقصٰی کا تعارف اور فضیلت :
مسجد اقصیٰ کرۂ ارض پر مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے۔ یہ تاریخی شہر میں واقع ہے اس کو احادیث اور تاریخ میں ’ بیت المقدس ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، بائبل میں یہ شہر ’ یروشلم اور ایلیا ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مسجد اقصیٰ قدیمی شہر کے جنوب مشرقی طرف ایک نہایت وسیع رقبے پر مشتمل ہے۔ اس کے احاطے کے گرد ایک مستطیل شکل کی پر شکوہ فصیل ہے۔ مسجد کے احاطہ کی وسعت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ اس کا رقبہ 114 دونم ( ایک میٹر 1000 میٹر مربع کے برابر ہے) ہے۔ مسجد اقصیٰ شہر کے جس حصہ میں واقع ہے وہ ایک ٹیلہ نما جگہ ہے۔ اس ٹیلہ کا تاریخی نام ’ موریا ‘ ہے۔ صخرہ مشرفہ وہ چٹان ہے جہاں اسراء معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک لگے تھے اور آپ نے براق باندھا تھا۔ مسجد کی پیمائش یوں ہے : جنوب کی طرف 281 میٹر، شمال کی طرف 310 میٹر، مشرق کی طرف 462 میٹر اور مغرب کی جانب 491 میٹر۔ مسجد اقصیٰ کا یہ احاطہ قدیمی شہر کا چھٹا حصہ بنتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس مسجد کی حدود آج بھی وہی ہیں جہاں جائے نماز کے طور پر پہلے دن اس کی تعمیر ہوئی تھی۔
احاطہ کے چودہ دروازے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی ؓ نے جس وقت یہ مسجد آزاد کروائی، اس کے بعد بعض وجوہات کے پیش نظر مسجد کے کچھ دروازے بند کردیئے گئے۔ وہ دروازے جو اس وقت تک برقرار ہیں، دس ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے چار مینار ہیں۔ باب المغاربہ والا مینار، جو کہ جنوب مغربی جانب ہے۔ باب السلسہ والا مینار جو کہ مغربی سمت باب السلسہ کے قریب واقع ہے۔ باب الغونمہ والا مینار جو کہ شمال مغربی سمت اور باب الاسباط والا مینار جو کہ شمالی سمت واقع ہے۔ اقصیٰ کا مطلب ہے طویل تر۔ مراد یہ ہے کہ اسلام کے تین مقدس مقامات میں سے یہ مقام باقی دو کی نسبت بعید تر ہے۔ کیونکہ یہ مکہ و مدینہ سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔ اس مقام کا نام ” مسجد اقصیٰ “ نزول قرآن کے بعد ہی مشہور ہوا ہے۔ قرآن مجید کے نام سے پہلے اس کو مقدس یا بیت المقدس کہا جاتا تھا۔ بیت المقدس کا یہ علاقہ اس زمانہ میں ایلیاء کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَیُّ مَسْجِدٍ وُّضِعَ فِیْ الْاَرْضِ اَوَّلَ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْاَقْصٰی قُلْتُ کَمْ بَےْنَھُمَا قَالَ اَرْبَعُوْنَ عَامًا ثُمَّ الْارَضُ لَکَ مَسْجِدٌ فَحَےْثُ مَا اَدْرَکَتْکَ الصَّلٰوۃُ فَصَلِّ )
[ رواہ البخاری،: باب المساجد ومواضع الصلاۃ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول محترم ﷺ سے عرض کیا کہ زمین میں سب سے پہلے کونسی مسجد تعمیر ہوئی ؟ آپ نے فرمایا بیت اللہ۔ میں نے پھر عرض کیا اس کے بعد آپ فرماتے ہیں مسجد اقصیٰ ۔ میں نے عرض کیا ان کے درمیان کتنے سال کا فرق ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ چالیس سال۔ پھر ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے پوری زمین مسجد بنا دی گئی ہے جس جگہ نماز کا وقت ہو، نماز ادا کرلیا کرو۔ “
مسائل
1۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام سے لیکر مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی۔
2۔ مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اللہ کی برکات کا نزول ہوتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ سننے والا، جاننے والا ہے۔
Ayahs 17:2–3فہم القرآن
ربط کلام : معراج کا واقعہ درحقیقت یہو دونصارٰی کے لیے یہ پیغام تھا کہ تمہارا دور گزر چکا۔ اب امت مسلمہ کا دور شروع ہونے والا ہے۔ اس لیے واقعہ معراج کی طرف مختصر اشارہ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو بتلایا اور سمجھایا گیا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی جو تمہارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ تھی۔
توراۃ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کا رساز اور اپنے معاملات کا ذمہ دار نہ بنانا۔ اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل کو بتلایا ہے کہ تم نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی اولاد ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے رب کے شکر گزار بندے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ صرف ایک اللہ کے ہوجاؤ، اسی کے سامنے سر جھکاؤ، اسی سے رزق طلب کرو اور اسی پر بھروسہ کرو۔ جو قوم خداداد صلاحیتوں اور اپنے رب پر بھروسہ نہیں کرتی وہ ذلیل ہو کر رہ جاتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ پر غور کرو۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح بچاکر دنیا میں پھیلایا ؟ ان کے مخالفوں کو کس طرح ڈبکیاں دے دے کر مارا گیا ؟ اگر تم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرو گے۔ تو تمہارا دشمن ناکام اور تم دنیا وآخرت میں کا میاب ہو گے۔ لیکن بنی اسرائیل نے اپنے رب سے کیے گئے وعدوں کی پے در پے خلاف ورزی کی۔ جس کے نتیجے میں وہ ذلیل ہوئے۔ جس کی تفصیل اگلی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ جن میں میں بنی اسرائیل کا انجام بیان ہوا ؟ مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ تمہاری کسمپرسی کا دور ختم ہونے والا ہے۔ اب تم اقتدار اور اختیا رکے مالک بننے والے ہو۔ دیکھنا بنی اسرائیل کا گھناؤنا کردار اختیار کرنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی طرح شکر گزار بننے کی کوشش کرنا۔ جس کا لازماً نتیجہ ہوگا کہ تم کا میاب اور تمہارا دشمن دنیا وآخرت میں ذلیل خوار ہوگا۔
بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد کا خلاصہ :
(وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَا اٰتَیْنَاکُمْ بِقُوَّۃٍ وَاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہُ لَکُنْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ )
[ البقرۃ : 63۔ 64]
” اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طور کو تم پر بلند کیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے۔ اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور اسے یادرکھو تا کہتممتقی بن جاؤ۔ لیکن تم اس کے بعد پھرگئے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارہ پانے والے ہوتے۔ “
(وَإِذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ إِلَّا اللّٰہَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتَامٰی وَالْمَسَاکِیْنِ وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ وَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ إِلَّا قَلِیْلًا مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُوْنَ )[ البقرۃ : 83]
” اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، والدین، قریبی رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کرنا، نماز قائم کرنا، زکٰوۃ ادا کرنا لیکن چند لوگوں کے سوا سب پھرگئے۔ اس حال میں کہ تم اعراض کرنے والے تھے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کتاب عنایت فرمائی۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا۔
تفسیر بالقرآن
مختلف ادوار میں بنی اسرائیل کا انجام :
1۔ بنی اسرائیل چالیس سال صحرا میں سرگرداں رہے۔ (المائدۃ : 26)
2۔ بنی اسرائیل پر داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے پھٹکار کی۔ (المائدۃ : 78)
3۔ بنی اسرائیل پر اللہ نے لعنت کی۔ (النساء : 46) 4۔ بنی اسرائیل دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ (بنی اسرائیل : 5)
5۔ بنی اسرائیل ذلیل بندر بنا دیئے گئے۔ (البقرۃ : 65)
Ayahs 17:4–8فہم القرآن
ربط کلام : بائبل کے مجموعۂ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا۔ دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیشین گوئی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کی ہے جو متٰی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوجائے۔
پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں :
” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان جیسے کام سیکھ لیے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو ان کے لیے پھندا بن گئے۔ بلکہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو شیاطین کے لیے قربان کیا اور معصوموں یعنی اپنے بیٹیوں کا خون بہایا۔۔ اس لیے خداوند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا یا اور اسے اپنی میراث سے نفرت ہوگئی اور اس نے ان قوموں کے قبضے میں کردیا اور ان سے عداوت رکھنے والے ان پر حکمران بن گئے۔ “ [ زبور : باب 106 آیات 34۔ 14]
جب یہ فساد عظیم رونما ہوا۔ تو اس کے نتیجے میں آنے والی تباہی کی خبر حضرت یسعیاہ ( علیہ السلام) نبی اپنے صحیفے میں یوں دیتے ہیں :
” آہ ! خطا کار گروہ، بدکرداری سے لدی ہوئی قوم، بدکرداروں کی نسل مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا، اسرائیل کے قدوس کو حقیر جانا اور گمراہ وبرگشتہ ہوگئے، تم زیادہ بغاوت کر کے اور مار کھاؤ گے۔ “ [ باب : 1، آیت 4۔ 5]
” وفادار بستی کیسی بد کار ہوگئی ! وہ تو انصاف سے معمور تھی اور راست بازی اس میں بستی تھی لیکن اب خونی رہتے ہیں۔۔ تیرے سردار گردن کش اور چوروں کے ساتھی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک رشوت دوست اور انعام طلب ہے۔ وہ یتیموں سے انصاف نہیں کرتے اور بیواؤں کی فریاد ان تک نہیں پہنچتی۔ اس لیے خدا وند رب الافواج اسرائیل کا قادر فرماتا ہے کہ آہ میں ضرور اپنے مخالفوں سے آرام پاؤں گا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لوں گا۔ “ [ باب : 1، آیت 21 تا 24]
” وہ اہل مشرق کی رسوم سے پر ہیں اور فلسفیوں کی مانند شگون لیتے ہیں اور بیگانوں کی اولاد کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ
مارتے ہیں۔۔ اور ان کی سر زمین بتوں سے پُر ہے۔ وہ اپنے ہی ہاتھوں کی صنعت یعنی اپنی ہی انگلیوں کی کاریگری کو سجدہ کرتے ہیں۔ “ [ زبور : باب 2 آیت 6۔ 8]
” اے بنو اسرائیل کے گھرانے ! دیکھ میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھالاؤں گا۔ خداوند فرماتا ہے وہ زبر دست قوم ہے وہ قدیم قوم ہے وہ ایسی قوم ہے جس کی زبان تو نہیں جانتا اور ان کی بات کو تو نہیں سمجھتا۔ ان کے ترکش کھلی قبریں ہیں۔ وہ سب بہادر مرد ہیں وہ تیری فصل کا ناج اور تیری روٹی جو تیرے بیٹوں بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائیں گے۔ تیرے گائے بیل اور تیری بکریوں کو چٹ کر جائیں گے۔ تیرے انگور اور انجیر نگل جائیں گے۔ تیرے مضبوط شہروں کو جن پر تیرا بھروسا ہے تلوار سے ویران کردیں گے۔ “ [ زبور : باب 5 آیت 15۔ 17]
” اس قوم کی لاشیں ہوائی پرندوں اور زمین کے درندوں کی خوارک ہوں گی اور ان کو کوئی نہ ہنکائے گا۔ میں یہوداہ کے شہروں میں اور یروشلم کے بازاروں میں خوشی اور شادمانی کی آواز، دولہا اور دلہن کی آواز موقوف کروں گا تاکہ یہ ملک ویران ہوجائے۔ “ [ زبور : باب 7 آیت 33۔ 34]
” ان کو میرے سامنے نکال دے کہ چلے جائیں اور جب وہ پوچھیں کہ ہم کدھر جائیں تو ان سے کہنا کہ خدا وند فرماتا ہے کہ جو موت کے لیے وہ موت کی طرف اور جو تلوار کے لیے ہیں وہ تلوار کی طرف اور جو قحط کے لیے وہ قحط کی طرف اور جو اسیری کے لیے وہ اسیری میں۔ “ [ زبور : باب 5 آیت 2۔ 3]
یہ تھیں وہ تنبیہات جو بنی اسرائیل کے پہلے فساد عظیم کے موقع پر کی گئی۔ (ماخوذ از تفہیم القرآن )
مسائل
1۔ بنی اسرائیل زمین میں فساد کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر سخت گیر بندے مسلط فرمائے۔
3۔ بنی اسرائیل کے گھروں کو تباہ و برباد کردیا گیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے مال اور بیٹے عطا فرماتا ہے۔
5۔ نیکی کا صلہ نیکی کرنے والے کو ہی ملے گا۔
6۔ برے کو اس کی برائی کا بدلہ ضرور ملے گا۔
7۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی رحمت کا نزول کرتا ہے۔
8۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے جہنم قید خانہ بنایا۔
تفسیر بالقرآن
کفار کا ٹھکانہ :
1۔ کفار سے فرما دیں کہ عنقریب تم مغلوب ہوگے اور تمہیں جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ (آل عمران : 12)
2۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ (النساء : 97)
3۔ کفار کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ اس میں انہیں موت نہیں آئے گی۔ (فاطر : 36)
4۔ کفار کو جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکا جائے گا۔ (الزمر : 71)
5۔ مجرم لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ (الزخرف : 74)
6۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جب اس کی آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : 97)
7۔ سرکشوں کے لیے انتہائی بری جگہ ہے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور برا ہے ان کا بچھونا۔ (ص : 56)
8۔ وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البینۃ : 6)
9۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ اس سے بچنے کی جگہ نہیں پائیں گے۔ (النساء : 121)
10۔ اے نبی ! کفا رکے خلاف جہاد کیجیے اور ان پر سختی کریں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (التحریم : 9)
Ayahs 17:9–10فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے تورات، انجیل اور زبور نازل کی گئیں۔ مگر انہوں نے ان کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کی بجائے من مرضی سے کام لیا۔ جس کی بناء پر دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اگر یہ لوگ دنیا کی ذلت اور جہنم کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ان کو قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔ جو تابناک مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔
قرآن مجید کے بیشمار اوصاف اور ان گنت فوائد ہیں۔ جن میں سے یہاں دو اوصاف اور فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید سیدھی راہ بتلانے اور خوشخبری سنانے والا ہے۔ یہاں ہدایت کے لیے ” اَقْوَمُ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنیٰ سیدھا، آسان اور قریب ترین راستہ ہے۔ جو لوگ قرآن مجید کے بتلائے ہوئے صالح اعمال اختیار کریں گے۔ ان کے لیے دنیا میں بیشمار فوائد اور آخرت میں اجر عظیم ہوگا۔ جن لوگوں نے آخرت کا انکار کیا۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اذّیت ناک عذاب تیار کیا ہے۔ یہاں بات ہو رہی تھی قرآن مجید کی ہدایت پر عمل کرنے اور اس کے بدلے دنیا و آخرت کے فوائد کی مگر انکار کے لیے قرآن مجید کا نام لینے کی بجائے آخرت کی بات کی ہے۔ جس کا صاف معنی ہے۔ جو شخص قرآن مجید کی ہدایات کا انکار کرتا ہے۔ حقیقت میں وہ آخرت کا منکر ہے۔ ایسے مجرم کے لیے اللہ تعالیٰ نے اذّیت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کے اوصاف اور فوائد کا تعلق ہے۔ اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔
تلاوت قرآن کا عظیم فائدہ :
(یَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ مَنْ شَغَلَہُ الْقُرْاٰنُ وَذِکْرِیْ عَنْ مَسْأَلَتِيْ اَعْطَیْتُہٗ اَفْضَلَ مَآ اُعْطِیَ السَّآءِلِیْنَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء کیف کانت قراء ۃ النبی ]
” اللہ رب العزت فرماتے ہیں جسے قرآن پاک کی تلاوت اور میرے ذکر نے مجھ سے مانگنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے مانگنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا۔ “
” یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو بلند فرماتا ہے اور اسی کے سبب لوگوں کو ذلیل کرتا ہے۔ “
کتاب ہدایت کا تقاضا یہ ہے کہ اخلاص نیت کے ساتھ حتی المقدور اس کے ہر حکم اور ہدایت پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر کوئی فرد یا قوم مسلمان ہونے کے باوجود جان بوجھ کر اس کے کچھ احکامات چھوڑدے اور صرف من پسند باتوں کو اختیار کرے تو اس سے نہ مسائل حل ہو پائیں گے اور نہ ہی مشکلات رفع ہوں گی بلکہ اس منافقت اور دوغلے پن کی وجہ سییہ لوگ دنیا میں ذلیل اور آخرت میں عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔
یہاں قرآن مجید کے دس اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔
1۔ قرآن مجید اللہ کا نازل کردہ ہے۔ 2۔ احکام و مسائل میں جامع اور مفصل کتاب ہے۔
3۔ اس کی رہنمائی اور ہدایت میں کسی قسم کا نقصان اور شک کی گنجائش نہیں۔
4۔ قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ 5۔ قرآن مجید کے احکام عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔
6۔ قرآن مجید کے ارشادات اور اس کی پیش گوئیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے برحق ہیں۔
7۔ قرآن مجید ہر اعتبار سے تغیر و تبدل سے پاک ہے اور قیامت تک اس کے محفوظ رہنے کی ضمانت دی گئی ہے۔
8۔ قرآن مجید میں نیکی اور بدی کا انجام کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔
9۔ قرآن مجید منجانب اللہ ہے اور اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس میں ایک حرف بھی غلط نہیں ہے۔
10۔ قرآن مجید سراسر ہدایت اور رحمت کا سر چشمہ ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ 2۔ قرآن مجید ایمان والوں کو خوشخبری دیتا ہے۔
3۔ مومنوں کے لیے بہت بڑا صلہ ہے۔ 4۔ جو لوگ آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے ان کو دردناک عذاب ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک :
1۔ یقیناً قرآن مجید حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مومنوں کے لیے خوشخبری ہے۔ (بنی اسرائیل : 9)
2۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82)
3۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال بیان کردی ہے۔ (بنی اسرائیل : 89)
4۔ اس کتاب میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ہے۔ (البقرۃ : 2)
5۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (الزخرف : 3)
Ayahs 17:11–12فہم القرآن
ربط کلام : انسان کے لیے قرآن مجید ہدایت اور خوشخبری ہے۔ مگر ہدایت کے لیے کچھ محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن انسان اس محنت سے جی چراتے ہوئے دنیا کے عارضی فائدے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
انسان اپنی جلد باز طبیعت کی وجہ سے اکثر اوقات یہ نہیں سوچتا کہ دنیا کے جس فائدے کی خاطر آخرت کی دائمی خیر کو فراموش کر رہا ہوں۔ وہ اس کے لیے کس قدر نقصان کا سودا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے۔ اس لیے انسان خیر کے لیے محنت کرنے کی بجائے شر کی طرف جلد راغب ہوتا ہے۔ جس بنا پر اچھے نتیجے اور خیر کا انتظار کرنے کی بجائے وہ شر کا متلاشی بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دنیا کی معمولی تکلیف سے پریشان ہو کر اپنے لیے شر کی دعا کرنے سے بھی نہیں جھجکتا۔ اس کی لوگوں کی زندگی میں کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ بیماری سے نجات کی بجائے موت کی دعا کرنا، اولاد کی خیر مانگنے کی بجائے ان کو بربادی کی بدعا دینا، مشکلات پر قابو پانے کی بجائے خود کشی کے گھاٹ اتر جانا وغیرہ۔ یہ حرکات انسان کی جلد بازی کا نتیجہ ہیں۔ حالانکہ انسان ذرا غور و فکر کرے تو اسے اس بات کا ادراک ہوجائے گا کہ اس کی زندگی جس لیل و نہار سے عبارت ہے۔ ان میں نشیب و فراز کا پایا جانا قدرتی اور فطری معاملہ ہے۔ اس لیے یہاں رات اور دن کو دو نشانیاں قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :
” ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کو اندھیری اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو۔ رات اور دن بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے تاکہ تم دن رات کے ذریعے مہینوں اور سالوں کا حساب کرو۔ ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ “
ہر چیز کی تفصیل کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں اور باتیں انسان کی ہدایت اور اس کی آخرت کے فوائد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیا ہے۔ اگر کہیں ایک بات کو اشارہ کی زبان میں ذکر کیا ہے۔ تو وہ اشارہ بھی عقل مندوں کے لیے کھلی تفصیل کا عنوان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے نکتہ سنج دا نشوروں اور کائنات پر غور کرنے والے سائنس دانوں نے قدرت کے بھید پانے کے لیے قرآن مجید کے دیے ہوئے اشاروں سے روشن شاہرائیں پائیں اور اپنی اپنی ایجادات سے ایک دنیا کو مستفید فرمایا۔ جہاں تک رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کا معاملہ ہے اس میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اے انسان ! جس طرح رات کا تاریک ہونا لازم ہے۔ اس طرح پریشانیاں اور مشکلات تیری زندگی کا حصہ ہیں۔ یہاں دن کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ذکر کیا کہ دن کو اس لیے روشن بنایا تاکہ تم دن کے اجالوں میں اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ فضل تلاش کرنے سے مراد رزق حلال کے لیے محنت کرنے کے ساتھ دنیا کی ترقی کے اسباب کا حصول ہے۔ جس میں یہ کھلا اشارہ پایا جاتا ہے کہ مشکلات میں پریشان ہونے اور کسی شر کے بارے میں جلد بازی کرنے کی بجائے انسان کو یہ عقیدہ رکھتے ہوئے مشکلات پر قابو پانے کی جدوجہد کرنی چاہیے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے۔ اسی طرح مشکلات کے بعد آسانیوں کا حاصل ہونا یقینی ہے۔ قرآن مجید نے اس اصول کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔
تفسیر بالقرآن
رات اور دن قدرت کی نشانیاں ہیں :
1۔ رات اور دن کو اللہ نے نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : 12)
2۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : 37)
3۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، دن اور رات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : 190)
4۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6)
Ayahs 17:13–14فہم القرآن
ربط کلام : زندگی میں انسان جو کچھ کرتا اور کماتا ہے۔ وہمٹ نہیں جاتا بلکہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اس میں چھوٹے سے چھوٹا کیا ہوا عمل اس کے نامہ اعمال میں درج ہو رہا ہوتا ہے۔
انسان کو برائی اور شر کے بارے میں جلد بازی سے روکنے کے لیے یہ بتلایا جا رہا ہے کہ اے انسان جو کچھ تو رات کی تاریکیوں اور دن کے اجالوں میں کرتا ہے۔ وہ رائیگاں نہیں جاتا بلکہ ہم اس کو ہر انسان کے گلے میں لٹکائے دیتے ہیں۔ قیامت کے دن اسے ہم ایک کتاب یعنی اعمال نامہ کی شکل میں تیرے سامنے لا کر تجھے اسے پڑھنے کا حکم دیں گے۔ جسے تو اپنے سامنے بالکل عیاں پائے گا۔ تجھے حکم ہوگا اس اعمال نامے کو پڑھ لے جو تجھے اپنا حساب جاننے کے لیے کافی ہے۔ اس کتاب اور اعمال نامے کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو ہر انسان کے گلے میں لٹکا رکھا ہے۔ کسی چیز کو گلے میں لٹکانا ایک محاورہ بھی ہے۔ جس کا معنی ہے کہ ایسی چیز جس سے انسان کسی صورت میں بھی چھٹکارا نہ پا سکے۔ ممکن ہے کہ عملاً اور حقیقتاً بھی ایسا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے کراماً کاتبین کی دستاویزات کے ساتھ اس بات کا بھی التزام رکھا ہو کہ انسان کی گردن کے پاس جسم کا ایسا حصہ ہو جہاں انسان کے اچھے برے اعمال خود بخود مرتب ہوئے جا رہے ہوں۔ ممکن ہے وہ دل ہو جس کے بارے میں حدیث شریف میں موجود ہے کہ انسان کے گناہوں کا اثر اس کے دل پر ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
جہاں تک اعمال نامہ کا تعلق ہے۔ سورة الکہف آیت 49 میں ارشاد ہوا کہ جب اعمال نامہ انسان کے سامنے رکھا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اس کے مندرجات سے ڈرتے ہوئے کہیں گے کہ ہائے بد بختی کہ اس کتاب نے کوئی چھوٹی بڑی بات نہیں چھوڑی۔ اس میں میری ہر بات لکھی ہوئی ہے۔ مجرم جو کام کرتے رہے وہ سب کے سب سامنے پائیں گے۔ آپ کا رب ذرہ برابر کسی پر زیادتی نہیں کرے گا۔ اعمال ناموں کے ساتھ خارجی شہادتیں بھی پیش کی جائیں گی۔ تاہم یہ اعمال نامہ اس قدر واضح اور حقیقت پر مبنی ہوگا کہ بالآخر مجرم اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ ہر مجرم کو اس کے اعمال نامہ کے مطابق ہی سزادی جائے گی۔ جس میں کسی درجے کا ظلم نہیں پایا جائے گا۔
کرامًا کاتبین کا ہرو قت ساتھ رہنا :
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ ...إنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ عَنِ التَّعَرّٰی فَاسْتَحْیُوْا مِنْ مَآاءِکَۃِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ لاَ یُفَارِقُوْنَکُمْ إلَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ حَالَاتٍ اَلْغَاءِطِ وَ الْجَنِابَۃِ وَ الْغُسْلِ فَإذَا اغْتَسَلَ أحَدُکُمْ بالْعُرَاءِ فَلْیَسْتَتِرْ بِثَوْبِہِ أوْ بِجَذْمَۃِ حَاءِطٍ أوْ بِبَعِیْرِہِ )[ رواہ البزار ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں بیشک اللہ نے تمہیں ننگا ہونے سے منع کیا ہے۔ پس تم اللہ کے فرشتوں سے حیاکر و۔ فرشتے صرف تم سے تین حالتوں میں ہی جدا ہوتے ہیں۔ قضائے حاجت کے وقت، جنابت اور غسل کے وقت، جب تم میں سے کوئی چٹیل میدان میں غسل کرے تو اسے چاہیے کہ وہ خود کو کسی کپڑے سے یا کٹے ہوئے درخت کے تنے کے پیچھے ڈھانپے یا پھر اپنے اونٹ کے ساتھ پردہ کرلے۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن ہر کسی کا نامہ اعمال اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا۔
2۔ انسان کا نامہ اعمال اس کے حساب و کتاب کے لیے کافی ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن ہر انسان کو نامہ اعمال کا ملنا :
1۔ قیامت کے دن ہر کسی کا نامہ اعمال کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 13)
2۔ جب اعمال نامہ رکھا جائے گا، تو مجرم لوگ اس میں سب کچھ لکھا ہوا دیکھیں گے۔ (الکہف : 49)
3۔ جس کو نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، وہ اس کو پڑھے گا۔ (بنی اسرائیل : 71)
4۔ جس کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا، وہ کہے گا آؤ میرا نامہ اعمال پڑھو۔ (الحاقہ : 19)
5۔ جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کاش کہ مجھے یہ نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔ (الحاقہ : 20)
6۔ جس کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس کا حساب آسان ہوگا۔ (الانشقاق : 8۔ 7)
7۔ جس کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا گیا وہ موت کو پکارے گا اور دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ (الانشقاق : 10 تا 12)
Ayah 17:15فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو اس کے اعمال نامہ کی بنیاد پر اس کا احتساب یاد دلانے کے بعد اس میں احساس ذمہ داری پیدا کیا جارہا ہے۔ کہ جو ہدایت اختیار کرے گا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو گمراہی اختیار کرے گا اس کا نقصان اسی کو ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور کی وافر صلاحیتیں دینے کے باوجود اس بات کا اہتمام فرمایا کہ اس میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے اور اسے خود فراموشی سے نکالنے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ تاکہ انسان کو احساس ذمہ داری سے ہمکنار کرنے کی کوشش کریں۔ انبیاء (علیہ السلام) کی جدوجہد کا مقصد یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کرے۔ اس کے لیے انہوں نے لوگوں کو یہ باور کروایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت پر چلنے سے دنیا اور آخرت میں انسان ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ لہٰذا جس نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا اس کے ثمرات اسے ہی حاصل ہوں گے اور جس نے گمراہی کو اختیار کیا۔ اس گمراہی کا اسے ہی نقصان پہنچے گا اور قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک ان تک اس کا پیغام دینے والا نہ پہنچ جائے۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بارہا دفعہ واضح کی ہے کہ انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ اس کا حسب ونسب، جاہ و منصب اور مال و دولت قیامت کے دن اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔
یہ ایسا اصول ہے جسے سمجھنے اور اپنائے بغیر فرد اور معاشرے کی اصلاح ممکن نہیں ہوسکتی۔ جس فرد یا معاشرے میں اس اصول کا احساس ناپید ہوجائے اور مجرم اپنے اثر و رسوخ، جاہ و منصب اور وسائل و اسباب کی بنیاد پر چھوٹ جائے۔ اس معاشرے میں انارگی کی کوئی حد باقی نہیں رہتی۔ ملک و ملت کو انارگی سے بچانے کے لیے اس اصول اور اس کی پاسداری کا احساس پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قرآن مجید اس بات کا بار بار احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں مجرم کسی بہانے سے سزا سے بچ سکتا ہے۔ لیکن آخرت میں اسے کوئی بچانے اور چھڑانے والا نہیں ہوگا۔
رسول اکرم ﷺ کا اپنے رشتہ داروں سے خطاب :
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ دَعَا النَّبِیُّ ﷺ قُرَیْشًا فَاحْبَتَمَعُوْا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ یَا بَنِیْ کَعْبِ ابْنِ لُؤَیٍّ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ ‘ یَا بَنِیْ مُرَّۃََ ابْنِ کَعْبٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِیَا بَنِیْ عَبْدِ شَمْسٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُم مِّنَ النَّارِ ‘ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ ‘ یَا بَنِیْ ہَاشِمٍ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِّنَ النَّارِ یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلَبِ اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ یَا فَاطِمَۃُ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا غَیْرَاَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّہَا بِبِلالِھَا (رَوَاہٗ مُسْلِمٌ وَ فِی الْمُتَّفَقِ عَلَیْہِ )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ “ تو آپ ﷺ نے قریش کو دعوت دی وہ جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے ان کے خاص و عام سبھی کو دعوت دی ‘ آپ نے فرمایا، اے بنو کعب بن لُوْی ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے بنو مرہ بن کعب ! تم اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔ اے بنو عبد شمس ! تم خود کو دوزخ سے بچاؤ۔ (اے بنی عبد مناف ‘ بنی ہاشم ‘ بنی عبدالمطلب) تم اپنے آپ کو دوزخ سے بچاؤ۔ اے فاطمہ ! تو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا۔ میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا۔
بیشک تیرت ساتھ رشتہ ہے۔ اس رشتہ داری کا خیال رہے گا (مسلم)
مسائل
1۔ ہدایت کے فوائد ہدایت یافتہ کو ہی حاصل ہوں گے۔ 2۔ گمراہی کا وبال گمراہ انسان پر ہوگا۔
3۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اپنا پیغام پہچانے سے پہلے کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا۔
تفسیر بالقرآن
کوئی کسی کی ذمّہ داری اور بوجھ نہیں اٹھائے گا :
1۔ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (بنی اسرائیل : 10۔ الفاطر : 18)
2۔ اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تم سے راضی ہوگا۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الزمر : 7)
3۔ جو بھی انسان کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پہ ہے۔ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (الانعام : 164)
4۔ خبر دار کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (النجم : 38)
Ayahs 17:16–17فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک تباہ نہیں کرتا جب تک ان تک ہدایت کا پیغام نہ پہنچ جائے مگر ہدایت کے راستہ میں معاشرے کے بڑے لوگ اپنی چوہدراہٹ اور مفاد کی خاطر رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ یہی لوگ ملک وملت کے بگاڑ اور تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
قرآن مجید نے اقوام عالم کی تباہی کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح کی ہے کہ تباہ ہونے والی اقوام میں اکثر قومیں مال و وسائل کے حوالے سے انتہائی ترقی یافتہ تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جب ان کو عذاب میں گرفتار کیا تو دنیا کے وسائل و اسباب، اقتدار اور اختیار ان کے کچھ کام نہ آئے۔ اللہ کے عذاب نے انہیں اس طرح نیست و نابود کردیا کہ وہ دھرتی اور تاریخ کے اوراق میں نشان عبرت بن کر رہ گئے۔ ان قوموں کی تباہی میں جن لوگوں نے سب سے زیادہ مجرمانہ کردار ادا کیا وہ ان کا مال دار طبقہ تھا۔ جن کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب ہم کسی بستی کو تباہی کے گھاٹ اتارتے ہیں تو اس کے مالدار طبقے کو کھلی چھٹی (Free Hand) دے دیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ان کی پالیسیوں اور کردار سے فسق و فجور پیدا ہوتا ہے۔ تب ہمارا حکم نازل ہوتا ہے۔ جس کے سبب ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔ برباد ہونے والوں میں قوم نوح اور ان کے بعد آنے والی بیشمار اقوام ہیں۔ جنہیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لوگوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو اچھی طرح دیکھنے اور پوری طرح جاننے والا ہے۔
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَ لدُّنْیَا حُلْوَۃٌ خَضِرَۃٌ وَاِنَّ اللّٰہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیْھَا فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَا تَّقُوالنِّسَاءَ فَاِنَّ اَوَّلَ فِتْنَۃِ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ کَانَتْ فِی النِّسَاءِ )[ رواہ مسلم : باب اکثر اہل الجنۃ الفقراء ]
” حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دنیا ہری بھری اور پر لطف ہے اور اللہ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے وہ دیکھ رہا ہے تم کیا عمل کررہے ہو۔ تم دنیا اور عورت کے فتنے سے بچے رہنا کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کی وجہ سے رونما ہوا تھا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے آتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اتمام حجت کے بعد آتا ہے۔
3۔ جس بستی پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔
4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی بستیوں والے ہلاک کردیے گئے۔
5۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے اعمال کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
تباہ و برباد ہونے والی اقوام کی مالی اور سیاسی حالت :
1۔ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو خوشحال لوگوں کو ڈھیل دیتے ہیں تو وہ نافرمانی پر اتر آتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 17)
2۔ ہم نے ان سے پہلے کئی بستیوں کو ہلاک کیا جو ٹھاٹھ باٹھ میں بہت اچھے تھے۔ (مریم : 74)
3۔ ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کر ڈالیں، جو قوت میں مکہ والوں سے بڑھ کر تھیں۔ (ق : 36)
4۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ نے ان سے پہلے بستیوں والوں کو ہلاک کیا جو طاقت، قوت اور مال کے لحاظ سے مکہ والوں سے بڑھ کر تھے۔ (القصص : 78)
5۔ بستیوں والوں کے ظلم کی وجہ سے اللہ نے انہیں ہلاک کردیا۔ (یونس : 13)
Ayahs 17:18–20فہم القرآن
ربط کلام : اقوام کی تباہی میں بنیادی عنصر ان کی جلد بازی ہوا کرتا ہے۔ جس کی بناء پر وہ اصول کے مقابلے میں وقتی مفاد، صالح کردار کے مقابلہ میں دنیا کی لذّات، سہولیات اور آخرت کے بدلے دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس بناء پر دنیا میں ذلت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔
یہاں دنیا دار کو جلد باز قرار دینے کے بعد اس کا انجام ذکر کیا جا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے جلد بازی کرتا ہے۔ ہم جس قدر چاہتے ہیں اسے دنیا دے دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہم نے جہنم تیار کی ہے۔ جس میں اسے ذلّت و پھٹکار کے ساتھ داخل کیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں جس شخص نے آخرت کو پسند کیا اور اس کے لیے کوشش کی اس حال میں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھنے والاہو۔ ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ دونوں قسم کے لوگوں کو مہلت دیتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ وہ ہر کسی کو مہلت دیے ہوئے ہے۔ اس مہلت سے جو لوگ صحیح فائدہ اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی کرم نوازی سے مزید عنایت فرمائیں گے۔ اے پیغمبر ﷺ ! غور فرمائیں کہ ہم کس طرح لوگوں کو ایک دوسرے پر فضیلت دیتے ہیں۔ جو لوگ دنیا کے حصول کے ساتھ آخرت کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ترقی عنایت فرمانے کے ساتھ آخرت میں برتری اور بڑی فضیلت سے سرفراز فرمائے گا۔ یہاں دنیا کی جستجو کرنے والے کے لیے ” عجلت “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ دنیا دار آخرت کے اجر پر صبر کرنے کی بجائے دنیا کے مفاد کو مقدم سمجھتا ہے۔ جس وجہ سے وہ حق اور سچ پر قائم رہنے کی بجائے دنیا کے فائدے کو ترجیح دیتا ہے اور اس کے لیے جلدی کرتا ہے۔ حالانکہ انسان حق کو ترجیح دے تو دنیا کے فائدے کے ساتھ آخرت میں اجر کا بھی حق دار بن جائے لیکن دنیا پرست جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کے لیے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا۔ سورة القیامۃ آیت 20 تا 21 میں فرمایا ہے کہ بیشک کوئی شخص دنیا کے لیے کتنی جلدی کرلے۔ دنیا میں اسے وہی کچھ حاصل ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ آخرت کے لیے ” سعی “ کا لفظ استعمال فرمایا جس میں یہ کھلا اشارہ ہے کہ مومن کو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینی اور اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ آخرت کا صلہ کوشش کے بغیر نہیں ملے گا۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَےِّبٍ وَّلَا ےَقْبَلُ اللّٰہُ اِلَّا الطَّےِّبَ فَاِنَّ اللّٰہَ ےَتَقَبَّلُھَا بِےَمِےْنِہٖ ثُمَّ ےُرَبِّےْھَا لِصَاحِبِھَا کَمَا ےُرَبِّیْ اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ )[ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ من کسب طیب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ صرف حلال چیزوں سے صدقہ قبول فرماتا ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہوئے شرف قبولیت بخشتے ہیں۔ پھر اس کو اس طرح بڑھاتے ہیں جیسا کہ تم اپنے بچھڑے کی پرورش کرکے اسے بڑا کرتے ہو۔ یہاں تک کہ ایک کھجور کا ثواب پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ جو دنیا کی چاہت رکھتا ہے اسے اس قدر دنیا ملتی ہے جتنی اللہ چاہتا ہے۔
2۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دینے والے کو عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔
3۔ آخرت کے لیے کوشش کرنے والے کی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھاجائے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی عطا ختم ہونے والی نہیں۔