Ayah 17:34فہم القرآن
ربط کلام : حیا اور جان کے تحفظ کے بعد کمزور طبقہ کے مالی حقوق کے تحفظ کا حکم :
قرآن مجید معاشرے کے مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ جائز طریقے کے سوا یتیم کے مال کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ یہاں تک یتیم اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔ یتیم کو مالی تحفظ دینے کے بعد ہر کسی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال کیا جائے گا۔ شریعت میں انسان اس وقت تک یتیم ہوتا ہے جب تک بالغ نہ ہوجائے۔ بلوغت سے پہلے کی عمر بچپن میں شمار ہوتی ہے۔ اس عمر میں کاروبار کو سمجھنا اور چلانا بچے کے لیے بالخصوص یتیم کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا قریبی یا کوئی دوسرا آدمی کاروبار چلائے گا۔ یہاں یتیم کے کفیل کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کوشش کرے کہ حتی المقدور یتیم کا مال نہ کھائے۔ اگر اس کا اپنا کوئی معقول روز گار نہیں تو وہ گزران کی حد تک یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے۔ جس کے لیے احسن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی یتیم کا کفیل اس طریقہ اور حساب سے اس کے مال سے استفادہ کرے کہ دیانت و ایمانداری کے ساتھ ساتھ اس کی عزت پر کوئی حرف نہ آنے پائے۔ اس آیت مبارکہ میں دوسرا حکم ایفائے عہد کا دیا ہے۔ یہ عہد ایک فرد کا دوسرے فرد کے ساتھ اور ایک قوم کا دوسری قوم کے ساتھ ہوسکتا ہے جس کی انفرادی اور اجتماعی طور پر پاسداری ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی سے عہد کے بارے میں پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس عہد سے مراد وہ عہد بھی لیا جاسکتا ہے جو روز آفر ینش اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے یہ کہہ کرلیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ اس کی تفصیل جاننے کے لیے سورة الاعراف آیت 172 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ اس عہد کی پاسداری نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنا ہے۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ دنیا میں بھی عہد شکنی کرنے والے کی عزت کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی نماز، حج اور ہر قسم کی نیکی لوگوں کی نظروں میں طعنہ بن جاتی ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَ لَا تَسْتَعْمِلُنِیْ قَالَ فَضَرَبَ بِیَدِہٖ عَلٰی مَنْکِبِیْ ثُمَّ قَالَ یَا اَبَا ذَرٍّ اِنَّکَ ضَعِیْفٌ وَاِنَّھَا اَمَانَۃٌ وَاِنَّھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ خِزْیٌ وَنَدَامَۃٌ اِلَّامَنْ اَخَذَھَا بِحَقِّہَا وَاَدَّی الَّذِیْ عَلَیْہِ فِیْھَاوَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ لَہٗ یَا اَبَاذَرٍّ اِنِّیْ اَرَاکَ ضَعِیْفًا وَاِنِّیْ اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِیْ لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَیْنِ وَلَا تَوَلَّیَنَّ مَالَ یَتِیْم)
[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب کَرَاہَۃِ الإِمَارَۃِ بِغَیْرِ ضَرُورَۃٍ ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی ‘ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ مجھے کوئی عہدہ کیوں نہیں عنایت فرماتے ؟ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے فرمایا اے ابوذر ! یقیناً تو کمزور آدمی ہے اور یہ عہدہ امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ذلت کا باعث ہوگا۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے حقوق کو پورا کیا اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر نبھایا۔ ایک روایت میں ہے۔ آپ نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : اے ابوذر ! میرے خیال میں تم کمزور آدمی ہو۔ میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں ‘ جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ دو آدمیوں کی بھی ذمّہ داری نہ اٹھانا اور نہ ہی یتیم کے مال کی ذمّہ داری لینا۔ “
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِوَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ )
[ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب تحریم الغدر ]
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت کی عہد شکنی سب سے بڑی ہوتی ہے۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ احمد ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “
(عَنْ سَہْلٍ ؓ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ فِی الْجَنَّۃِ ہَکَذَا وَأَشَار بالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی، وَفَرَّجَ بَیْنَہُمَا شَیْءًا )[ رواہ البخاری : باب فضل من یعول یتیما ]
” حضرت سہل ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ آپ ﷺ نے سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔ “
مسائل
1۔ یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔ 2۔ یتیم کے مال میں تصرف کرتے ہوئے احسن انداز اپنانا چاہیے۔
3۔ وعدہ کی پاسداری کرنی چاہیے۔ 4۔ عہد و پیمان کے متعلق پوچھا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
یتیم کے مال اور عہد کی پاسداری کا حکم :
1۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر احسن طریقہ سے اور وعدہ وفا کرو۔ (بنی اسرائیل : 34)
2۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ (الانعام : 152)
3۔ یتیموں کو ان کے مال واپس کرو۔ ناپاک کو پاک سے نہ ملاؤ۔ (النساء : 2)
4۔ جو لوگ یتیم کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر تے ہیں۔ (النساء : 10)
5۔ عہد کو پورا کرو یقیناً عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 34)
6۔ اللہ کے وعدے کو پورا کرو۔ (النحل : 91)
7۔ نیک لوگ جب عہد کرتے ہیں تو عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 177)
8۔ جو اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں اور قسموں کو تھوڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ (آل عمران : 77)
9۔ تم میرے وعدے کو پورا کرو میں تمہارے وعدے کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔ (البقرۃ : 40)
Ayah 17:35فہم القرآن
ربط کلام : یتیم کے مال کے بارے میں حکم دینے کے بعد سب لوگوں کے مال کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے۔
کاروبار میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ دکاندار گاہک کو وہی چیز اور اسی کو الٹی کا مال دے جس کا گاہک کے ساتھ سودا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بڑی اہم ہے کہ جس چیز کا سودا ہوا ہے۔ وہ ماپ تول میں پوری ہونی چاہیے وزن یا پیمائش میں کمی کرنے سے ناصرف خریدار کو نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کے دل میں شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ جس سے معاشرہ میں منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری طرف دکاندار کے رزق سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ ان نقصانات کے پیش نظر ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! جب ماپ کرو تو پورا پورا کیا کرو۔ ایسا کرنا کاروبار کی ترقی اور دیانت و امانت کے حوالے سے انتہائی بہتر ہے۔ اس سے نہ صرف خریدار اور دکاندار کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے بلکہ اس سے کاروبار بھی ترقی کرتا ہے۔ جس معاشرے میں ماپ تول میں کمی بیشی کرنے کا رواج عام ہوجائے اس قوم کی ساکھ اور تجارت ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی قوم بالآخر قوم مدین کی طرح تباہی کے گھاٹ اتر جائے گی۔ رسول معظم ﷺ نے ایک دکاندار کو یہ ہدایت فرمائی کہ تولتے وقت ترازو جھکا ہوا رکھو۔ ماپ تول میں کمی کرنے والے کے بارے میں قرآن نے شدید الفاظ میں انتباہ کیا ہے۔
(وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُوْا عَلٰی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ۔ وَإِذَا کَالُوْہُمْ أَوْ وَزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ ۔ أَلَا یَظُنُّ أُولَءِکَ أَنَّہُمْ مَبْعُوْثُوْنَ ۔ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ )[ المطففین : 1۔ 6]
” ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لیے بربادی ہے جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم کردیں کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ انھیں ایک بڑے سخت دن میں اٹھایا جائے گا جس دن تمام لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِیْ النَّارِ )[ اخرجہ ابن حبان : ھذاحدیث حسن ]
” عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں، مکر کرنے اور دھوکہ دینے والا آگ میں جائے گا۔ “
(قَال النَّبِیُّ ﷺ اکْتَالُوا حَتَّی تَسْتَوْفُوا )[ رواہ البخاری : باب الکیل علی البائع والمعطی ]
” نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب ناپ تول کرو تو اسے پورا کرو۔ “
ماپ تول میں کمی کرنے کی سزا :
(مَا طَفِفَ قَوْمُ الْمِیْزَانَ إلَّا أخَذَہُمُ اللّٰہُ بالسِّنِیْنَ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 107]
” جو بھی قوم تولنے میں کمی کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی مسلط فرما دیتا ہے۔ “
(وَیَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَان بالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْیَاءَ ہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْأَرْضِ مُفْسِدِینَ )[ ھود : 85]
” اے میری قوم ! انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ “
مسائل
1۔ ماپ پورا پورا ماپنا چاہیے۔ 2۔ ماپ سیدھے ترازو سے تولنا چاہیے۔
3۔ ماپ تول کو پورا کرنا کاروبار اور آخرت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
تفسیر بالقرآن
ماپ تول میں کمی کرنے کا انجام :
1۔ ماپ کو پورا کرو اور سیدھے ترازو سے تولو۔ (بنی اسرائیل : 35) 2۔ ماپ تول انصاف سے پورا کرو۔ (الانعام : 152)
3۔ ماپ تول پورا کرو اور لوگوں کو اشیاء کم نہ دو ۔ (الاعراف : 85)
4۔ تول کو پورا کرو اور کمی کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ (الشعراء : 182)
5۔ اے میری قوم ماپ، تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ (ھود : 85)
6۔ ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ (ھود : 84)
Ayah 17:36فہم القرآن
ربط کلام : معاملات میں درستگی کا حکم دینے کے بعد بات چیت، اخلاق اور خیالات میں پاکیزگی کا حکم دیا ہے۔
دانش مندی اور حقیقی دینداری کا تقاضا ہے کہ مسلمان ان باتوں اور کاموں کے پیچھے نہ پڑے۔ جس سے آدمی کے اخلاق اور دین میں نقص واقع ہو۔ اس نقصان سے مسلمان کو بچانے کے لیے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے کان، آنکھیں اور دل مسؤل ٹھہرائے گئے ہیں۔ اس لیے مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ دانستہ طور پر اپنے کانوں سے وہ بات سننے کی کوشش نہ کرے جس بات میں شریعت کی خلاف ورزی پائی جا رہی ہو۔ اپنی آنکھوں کو ان چیزوں سے پھیرلے جن کو دیکھنے سے روکا گیا ہے۔ ہر شخص کو یہ حقیقت دل میں بٹھا لینی چاہیے کہ ایک وقت آئے گا کہ جب انسان کے اعضاء اور اس کا پورا جسم اس کے خلاف گواہی دے گا۔
(حَتّٰی إِذَا مَا جَاءُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَأَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ وَقَالُوْا لِجُلُوْدِہِمْ لِمَ شَہِدْتُمْ عَلَیْنَا قَالُوْا أَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِی أَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ وَہُوَ خَلَقَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ )[ حٰمٰ السجدۃ : 20۔ 21]
” یہاں تک کہ جب سب اللہ کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، آنکھیں اور جسم ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے اور وہ اپنے جسم سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی وہ کہیں گے کہ جس اللہ نے سب چیزوں کو بولنا سکھایا ہے اس نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔ “
جہاں تک دل کا معاملہ ہے اس میں پیدا ہونے والے برے خیالات کو رب کریم نے معاف کردیا ہے۔ البتہ شرکیہ اعتقاد، حسد، بغض اور کفریہ خیالات دل میں جمائے رکھے تو ان کے بارے میں شدید پکڑ ہوگی۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ لِیْ عَنْ أُمَّتِیْ مَا وَسْوَسَتْ بِہِ صُدُورُہَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ )[ رواہ البخاری : کتاب العتق، باب الْخَطَإِ وَالنِّسْیَانِ فِی الْعَتَاقَۃِ وَالطَّلاَقِِ ]
” حضرت ابو ہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے در گزر فرما دیا ہے۔ جب تک ان خیالات پر عمل نہ کریں یا ان کے مطابق کلام نہ کرلیں۔ “
(عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ ؓ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ )
[ رواہ مالک وأحمد ]
” علی بن حسین ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی بھی شخص کا بےمقصد باتوں کو چھوڑ دینا اس کے اچھے اسلام کی دلیل ہے۔ “
(عَنْ أُمِ مَعْبَدٍ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ طَہِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاِقِ وَعمَلِیْ مِنَ الرِّیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الْخِیَانَۃَ فَإِنَّکَ تَعْلَمْ خَاءِنَۃَ الْأَعَیْنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرِ ) [ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر ]
” حضرت ام معبد ؓ بیان کرتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دعا کرتے ہوئے سنا آپ دعا کیا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو ریاء کاری سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے محفوظ فرما۔ یقیناً آپ خیانت کرنے والی آنکھ اور دل کے خیالات سے واقف ہیں۔ “
مسائل
1۔ ایسی بات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے جو انسان کے احاطہ علم میں آنے والی نہ ہو۔
2۔ قیامت کے دن کان، آنکھ اور دل کے متعلق سوال کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن اعضاء سے سوال اور ان کا جواب :
1۔ قیامت کے دن کان، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 36)
2۔ قیامت کے دن مجرموں کے خلاف ان کے کان، آنکھیں اور جسم گواہی دیں گے۔ (حٰم السجدۃ : 20)
3۔ مجرموں کے ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے۔ (یٰس : 65)
4۔ قیامت کے دن ان کی زبانیں، ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (النور : 24)
Ayahs 17:37–38فہم القرآن
ربط کلام : فضولیات میں پڑنے اور برے خیالات سے روکنے کے بعد متکبرانہ چال ڈھال اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ حقیقتاً یہ بھی فضول حرکت ہے کیونکہ متکبر انسان اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔
انسان جب ذہنی طور پر پراگندہ اور قلبی لحاظ سے برا ہوجائے تو وہ اپنے سوا کسی کو اچھا نہیں سمجھتا۔ ایسے شخص کے دل میں غرور اور تکبرکا پیدا ہونا یقینی بات ہے۔ بالخصوص جب ایسے شخصکو مال کی فراوانی، اقتدار اور اختیار دیا جائے یا اسے کسی قسم کی برتری حاصل ہوجائے تو وہ فخر و غرور اور تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص ناصرف اپنی گفتگو میں شیخی بگھار تا ہے۔ بلکہ اس کی چال ڈھال میں غرور اور تکبر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ایسے شخص کو سرزنش کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ زمین پر اکڑ، اکڑکر مت چل کیونکہ اس طرح چلنے سے نہ تو زمین پھاڑ سکتا ہے اور نہ ہی تن کر چلنے سے پہاڑوں کی بلندیوں کو پہنچ سکتا ہے۔ اے انسان ! یہ کام تیرے رب کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے۔ یہاں ” کل ذلک “ کے الفاظ استعمال فرما کر سابقہ آیات میں کی گئی تمام ممنوعات کا احاطہ کرلیا ہے تاکہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ کاموں کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھے۔ دنیا کی رسوائی اور نقصان سے بچنے کے ساتھ آخرت کی ذلت ور سوائی سے مامون ہونے کی کوشش کرے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدَرِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالاَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ الْعِزُّ إِزَارُہُ وَالْکِبْرِیَاءُ رِدَاؤُہُ فَمَنْ یُنَازِعُنِی عَذَّبْتُہُ )[ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب باب تحریم الکبر )
” حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عزت اللہ کا ازار ہے اور کبریائی اس کی چادر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو ان کو مجھ سے چھینے گا میں اس کو عذاب دوں گا۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَر ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ اِزَارَہٗ مِنَ الْخُیَلَاءِ خُسِفَ بِہٖ فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِی الْاَرْضِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ )[ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الأنبیاء ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ ایک دفعہ ایک شخص تکبر کے ساتھ چادر گھسیٹ کر چل رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ “
تکبر کیا ہے ؟
(عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ ) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْکِبْرِ وَبَیَانِہِ ]
” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا ‘ وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ بیشک ہر شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی خوب صورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق بات کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “
مسائل
1۔ تکبر و غرور اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
2۔ فخر وتکبر سے نہ تو کوئی زمین پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندیوں کو پاسکتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کو معصیت کے تمام کام ناپسند ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا :
1۔ زمین میں اکڑ کر نہ چل ! نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندیوں کو پہنچ سکتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 37)
2۔ اللہ تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ (لقمان : 18)
3۔ جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس پر نہ اتراؤ اور اللہ فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : 23)
4۔ یقیناً اللہ تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ (النساء : 36)
Ayah 17:39فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا اختتام اور اس خطاب میں بیان کی گئی ہدایات۔
اس خطاب کا آغاز آیت 23 سے ہوا جس میں اللہ تعالیٰ نے گیارہ کاموں کا حکم دیا اور گیارہ باتوں سے منع فرمایا ہے۔
جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ 2۔ والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کیا جائے۔
3۔ والدین کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کی جائے۔ 4۔ والدین کے سامنے عاجزی کے ساتھ پیش ہوا جائے۔
5۔ والدین کے لیے دعائیں کی جائیں۔ 6۔ عزیز و اقرباء کا حق ادا کیا جائے۔
7۔ مساکین کی معاونت کی جائے۔
8۔ مسافر کی مدد کی جائے۔
9۔ اخراجات میں میانہ روی اختیار کی جائے۔
10۔ عہد کو پورا کیا جائے۔
11۔ ماپ تول پورا ہونا چاہیے۔
وہ باتیں جن سے منع کیا گیا ہے :
1۔ والدین کے سامنے اف کا لفظ نہ بولا جائے۔
2۔ والدین کو کسی صورت میں جھڑکناجائز نہیں۔
3۔ فضول خرچی سے بچنا چاہیے کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے ساتھی ہیں۔
4۔ غربت کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔
5۔ اولاد کو قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
6۔ زنا کے قریب نہیں جانا چاہیے کیونکہ یہ برا راستہ ہے۔
7۔ کسی کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔
8۔ قصاص لینے میں زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔
9۔ یتیم کے مال کے قریب نہیں جانا چاہیے۔
10۔ بےمقصدبات کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔
11۔ زمین پر اکڑ کر چلنا جائز نہیں۔
” ذٰلِکَ “ کا لفظ استعمال فرما کر مذکورہ باتوں کا احاطہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ حکمت و دانائی کی باتیں ہیں۔ جو آپ کے رب نے آپ ﷺ کی طرف وحی فرمائی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی حکمت کی بات عقیدہ توحید پر پکے رہ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ اس لیے خطاب کے آغاز اور اس کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرنا ورنہ ملامت زدہ اور دھتکارے ہوئے جہنم میں ڈالے جاؤ گے۔
مسائل
1۔ آپ ﷺ پر حکمت والی باتیں وحی کی گئیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔
3۔ مشرک کو ملامت زدہ اور دھتکار کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
مشرک کی سزا :
1۔ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا لٰہ نہ بنانا وگرنہ دھتکار کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 39)
2۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے پر جنت حرام، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (المائدۃ : 72)
3۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گویا کہ وہ آسمان سے گرپڑا۔ (الحج : 31)
4۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔ (النساء : 116)
5۔ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : 13)
6۔ اللہ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 48)
Ayah 17:40فہم القرآن
ربط کلام : توحید کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشرک ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اللہ کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے بلکہ اس کی ذات میں بھی دوسروں کو شریک سمجھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے ” وحدہ لا شریک “ ہے۔ سورة اخلاص میں دو ٹوک الفاظ میں فرمایا ہے کہ اے رسول ﷺ ! لوگوں کو کھول کر بتلادیں کہ وہ اللہ ایک ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے اور اس کی کوئی بھی کسی اعتبار سے برابری کرنے والا نہیں۔ سورة المائدۃ آیت 75 میں فطری اور عقلی دلیل کے ساتھ عیسائیوں کو سمجھایا ہے کہ مسیح ابن مریم ( علیہ السلام) ایک رسول ہی تھے۔ جن سے پہلے کئی رسول گزر چکے اور ان کی والدہ صدیقہ تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ ہم مشرکوں کے لیے کس طرح حقیقت کھول کر بیان کرتے ہیں۔ لیکن دیکھیں پھر بھی بہکے جاتے ہیں۔ سورة النحل آیت 57 تا 59 میں ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے والوں کو سمجھایا کہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہونے کے ساتھ غم سے بھر جاتا ہے اور وہ لوگوں میں اس بری خبر کی وجہ سے عار محسوس کرتا ہے اور یہ سوچتا ہے آیا اسے زندہ رہنے دے یا زمین میں دھنسا دے ؟
یہاں سوالیہ انداز میں فرمایا ہے کہ کیا تمہارے رب نے تمہارے لیے بیٹے منتخب کیے ہیں اور اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں منتخب کیا ہے ؟ درحقیقت یہ بہت ہی گناہ کی بات ہے جو تم کہتے ہو۔ سورة مریم آیت 88 تا 92 میں اس جرم کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وہ کہتے ہیں :
” الرحمن “ کی اولاد ہے یہ اتنی بری بات کہہ رہے ہیں قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ سرکے بل نیچے گرپڑیں۔ ربِّ رحمٰن کو کسی طرح لائق نہیں کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے۔ “
نبی اکرم ﷺ نے اس کو اس حد تک گناہ قرار دیا ہے کہ جو شخص یا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کو گالی دیتا ہے۔ ظاہر ہے اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہوسکتا۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہُ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہُ اِیَّایَ فَقَوْلُہُ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا)[ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کریگا جس طرح اس نے پہلی بار پیدا کیا ہے۔ حالانکہ میرے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں۔ نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں میری نہ بیوی ہے نہ اولاد۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہے۔ 2۔ کسی کو اللہ کی اولاد قرار دینا بدترین گناہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اولاد سے مبرا اور پاک ہے :
1۔ کیا تمہارے رب نے تمہیں بیٹے دئیے ہیں اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا ہے ؟ یہ بڑی نامعقول بات ہے۔ (بنی اسرائیل : 40)
2۔ انہوں نے کہا اللہ کی اولاد ہے وہ اس سے پاک ہے۔ (البقرۃ : 116)
3۔ انہوں نے کہا ” الرحمن “ کی اولاد ہے وہ اس سے پاک ہے۔ (الانبیاء : 26)
4۔ اللہ کی اولاد نہیں ہے نہ اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے۔ (المومنون : 91)
5۔ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد۔ (الجن : 3)
6۔ انہوں نے کہا اللہ کی اولاد ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور بےنیاز ہے۔ (یونس : 68)
Ayahs 17:41–43فہم القرآن
ربط کلام : کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا اس کی ذات کے ساتھ شریک بنانے کے مترادف ہے۔ اس بات کی تردید کے لیے یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہوتا تو وہ ضرور اس کے خلاف کوئی راستہ تلاش کرتا۔
اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ہر قسم کے دلائل دیئے ہیں۔ لیکن مشرک نے اپنی فطرت کو اس طرح مسخ کرلیا ہوتا ہے کہ وہ توحید خالص کو سننا گورا نہیں کرتا۔ مشرک کی طبیعت اور فطرت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو یہ سن کر مشرک تکبر کا اظہار کرتے ہیں۔ ( الصٰفٰت : 35)
دوسرے مقام پر مشرک کی فطرت کا یوں ذکر کیا ہے کہ جب انہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تو انکار کرتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا جائے تو فوراً مان جاتے ہیں۔ حالانکہ حکم تو صرف اللہ عالی مرتبت کا چلتا ہے۔ (المومن : 12)
سورۃ الزمر آیت 45 میں مشرک کی حالت یوں بیان کی ہے کہ جب ایک اللہ وحدہ لا شریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا تذکرہ ہوتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں۔ قرآن مجید کا توحید ہی سب سے بڑا اور مرکزی مضمون ہے۔ اس لیے جب عقیدہ توحید کا بیان ہوتا ہے تو مشرک قرآن مجید سے مزید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں سمجھانے کے لیے یہ انداز اختیار کیا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ ہوتا جس کا یہ دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ سے کچھ اختیار لینے کی کوشش کرتا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد ہوتی تو وہ اس سے کچھ نہ کچھ اختیار مانگتی اگر کوئی اس کا شریک ہوتا تو ہر صورت اختیارات کا مطالبہ کرتا۔ ایک الٰہ ایک فیصلہ کرتا دوسرا خدا کوئی اور حکم دیتا۔ جس سے زمین و آسمان کے نظام میں خلل واقع ہوتا۔ کائنات کے نظام کا مربوط اور یکسوئی کے ساتھ چلنا اس بات کا ثبوت ہے۔ ایک ہی ذات وحدہ لاشریک ہے۔ جو پورے نظام کو سنبھالے اور چلائے جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد اور ہر قسم کے شریک سے پاک ہے اور وہ مشرکوں کی بیہودہ اور فرسودہ باتوں، پراگندہ خیالات اور گندے عقیدے سے بہت ہی بلند وبالا ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید کی نصیحت آموز باتیں سن کر کفار کی نفرت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الٰہ نہیں ہے۔
3۔ اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کے عرش تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔
4۔ اللہ تعالیٰ کفار کی باتوں سے پاک اور بلند وبالا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید باعث نصیحت ہے :
1۔ ہم نے قرآن میں طرح طرح کے دلائل دیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : 41)
2۔ یہ کتاب برحق ہے کیا اس کا علم رکھنے والا شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ عقلمند ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الرعد : 19)
3۔ ہم نے بابرکت کتاب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ (ص : 29)
4۔ ہم نے قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ کفار نصیحت حاصل کریں۔ (الزمر : 27)
5۔ اللہ تعالیٰ اپنی آیات لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (البقرۃ : 242)
Ayah 17:44فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا کر اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ وہ نظام کائنات سے بغاوت کا راستہ اختیار کرتا ہے کیونکہ پوری کائنات اپنے خالق ومالک کے تابع فرمان اور اس کی حمد سرا ہے۔
قرآن مجید سب لوگوں بالخصوص کافر، مشرک اور نافرمانوں کے سامنے یہ حقیقت عیاں کرتا ہے۔ اے رب کے نافرمانو ! تم جس طرح چاہو نافرمانی کرو۔ مگر یہ یادرکھنا کہ جس دھرتی کے اوپر اور جس آسمان کے نیچے اور جس فضا میں تم رہتے ہو۔ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ساتوں آسمان اور زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے وہ اپنے خالق ومالک کو بہترین الفاظ اور انداز کے ساتھ یاد کر رہے ہیں۔
لیکن انسان ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ اگر حمد وثناء کی فضا میں انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اپنے رب کی اس کے فرمان کے مطابق حمد وثناء نہیں کرتا اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے مہلت دئیے ہوئے ہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت اور دسترس سے باہر ہے۔ ہرگز نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بخشش کا نتیجہ ہے کہ وہ انسان کو مہلت پہ مہلت دئیے جاتا ہے۔ جہاں تک کائنات کی ہر چیز کا اپنے رب کی حمد وثناء کے پڑھنے کا تعلق ہے۔ قرآن مجید واضح الفاظ میں یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے ساتھ اس کے حضور سجدہ بھی کرتی ہے۔ حتیٰ کہ ان کے سائے بھی اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کا اقرار کسی نہ کسی حد تک موجودہ سائنسدانوں نے کرلیا ہے ان کا کہنا ہے کہ درخت بھی ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں۔ ایمان کی حلاوت کے لیے اپنے رب کا ارشاد بار بار پڑھیے :
(أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمٰوٰاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِنَ النَّاسُ )[ الحج : 18]
” کیا تم دیکھتے نہیں ؟ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد اللہ کے حضور سربسجود ہوتی ہے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَ وَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَا اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہُ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْش)
[ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب وکان عرشہ علی الماء ]
” حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی ‘ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو علم ہے۔ آپ نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے۔ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت چاہے لیکن اس کو اجازت نہ ملے بلکہ اسے حکم ہو کہ جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چناچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے۔ “
مسائل
1۔ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔
2۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن لوگ نہیں سمجھتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ بہت برد بار اور بخشنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے :
1۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ اس میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : 44)
2۔ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ (الحدید : 1)
3۔ اللہ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ (المومن : 7)
4۔ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206)
5۔ ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کیا اور وہ بھی صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے۔ (الانبیاء : 79)
Ayahs 17:45–46فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عظیم ذکر اور اس کی حمد کی ایک صورت ہے۔ لیکن قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو کفار کے لیے ایک پردہ حائل ہوجاتا ہے اور وہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔
قرآن مجید انسان کے دل کے لیے ایک بارش کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس بارش کا اثر اسی دل پر ہوتا ہے۔ جو کفر و نفاق اور ہر قسم کی عصبیت سے صاف ہوتا ہے۔ اس صفت کا حامل شخص جب قرآن مجید کی تلاوت کرتا اور سنتا ہے تو اس کے ایمان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس پر ایمان لانے والے کا دل نرم اور اس کا اپنے رب پر توکل بڑھ جاتا ہے۔ (الانفال : 2)
اس کے برعکس جس کے دل میں کفر و نفاق اور تعصب ہوتا ہے۔ اس پر قرآن مجید کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کیونکہ کفر و نفاق اور تعصب کے پردے قرآن اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں۔ جس وجہ سے اس کے کفر و نفاق میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس طرح بارش کو ڑا کرکٹ پر ہو تو تعفن میں تیزی آجاتی ہے۔ یہی بارش فصلوں پر ہو تو وہ لہلہانے لگتی ہیں۔ اس سے پھول مہکتے ہیں، درختوں کے سبزے میں اضافہ ہوتا ہے، ہر چیز کا چہرہ گرد و غبار سے دھل جاتا ہے اور ہر چیز ہشاش بشاش نظر آتی ہے۔ یہی قرآن مجید کی تاثیر ہے کہ وہ کفر و نفاق سے پاک دل میں ایمان کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔ لیکن کافر کے کفر اور مشرک کے شرک و نفاق کی وجہ سے قرآن اور ان کے درمیان پردے حائل ہوجاتے ہیں۔ جس کے بارے میں مشرک ان الفاظ میں اقرار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے۔ اس سے ہمارے دل پردے میں، ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ لہٰذا تم اپنا کام کیے جاؤ اور ہم اپنا کام کیے جائیں گے۔ (حٰم السجدۃ : 5)
اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اس قرآن کو سمجھ ہی نہ سکیں۔ ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جب آپ قرآن میں اپنے اکیلے رب کا ذکر کرتے ہیں تو مشرک بدک کر پیٹھ پھیر لیتے ہیں۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔
مسائل
1۔ جب آپ ﷺ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے اور کفار کے درمیان پردہ حائل کردیا جاتا۔
2۔ اللہ کی توحید کا ذکر سن کر کفار پیٹھ پھیر جاتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
کفار کے دل، کانوں اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے :
1۔ ہم نے ان کے دلوں اور کانوں پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اسے سمجھیں۔ (بنی اسرائیل : 46)
2۔ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں پر بوجھ ہے۔ (حٰم السجدۃ : 44)
3۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردہ اور ان کے کانوں پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ (الانعام : 25)
4۔ جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ تکبر سے منہ موڑتے ہیں گویا کہ انھوں نے سنا ہی نہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔ (لقمان : 7)
5۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردہ اور کانوں میں بوجھ پیدا کردیا وہ ہدایت نہیں پاتے۔ (الکہف : 57)
6۔ اللہ نے کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ (البقرۃ : 7)
Ayahs 17:47–48فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید سے نفرت کی بناء پر کفار قرآن مجید کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اگر کہیں انہیں قرآن مجید سننا پڑجائے۔ تو وہ عیب جوئی کی نیت سے سنا کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن مجید کو کس نیت سے سنتے ہیں۔
کفار اور مشرکین کو قرآن مجید میں جس بات سے سب سے زیادہ چڑ تھی اور ہے۔ وہ توحید کا مضمون ہے۔ اس بناء پر کفار قرآن مجید سننے کے بعد آپس میں سرگوشیاں کرتے اور قرآن مجید سے متاثر ہونے والے حضرات کو کہتے کہ تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو ہوچکا ہے۔ اس پر رسول معظم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ کہ اے پیغمبر ! دیکھیں یہ لوگ آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں ؟ یہ گمراہ ہوچکے ہیں، اب سیدھا راستہ نہیں پاسکتے۔ عقیدہ توحید سے انحراف اور قرآن مجید سے نفرت کی وجہ سے کفار اور مشرکین اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے تھے۔ ایک طرف وہ آپ کو جادو گر قرار دیتے اور پھر اسی زبان سے یہ الزام دیتے کہ آپ جادو زدہ ہیں۔ جب کوئی شخص گمراہ ہونے کے ساتھ حق کی مخالفت میں بوکھلاہٹ کا شکار ہوجائے۔ تو اس کا ہدایت پانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اسی بناء پر ارشاد ہوا کہ اے رسول ! یہ لوگ سیدھا راستہ نہیں پاسکتے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے کھول کھول کر ہدایت کے متعلقہ دلائل اور امثال بیان کرتا ہے تاکہ لوگ ان پر غور کریں۔ مگر لوگ ان پر غور کرنے کی بجائے عیب جوئی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو ہدایت کی توفیق نہیں ملتی۔
جادو اور جادو گر کی حالت :
جادو کفر یہ ‘ شرکیہ ‘ اوٹ پٹانگ الفاظ اور جس طریقے سے کیا جائے وہ کفر ہے۔
( وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْ ایُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ ) [ البقرۃ 102]
” سلیمان نے کفر کبھی نہیں کیا بلکہ کفر تو وہ شیطان کرتے تھے جو لوگوں کو جادو سکھلاتے تھے۔ “
آپ ﷺ کا فرمان ہے :
( لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ اَوْتُطُیِّرَلَہٗ اَوْتَکَھَّنَ اَوْتُکُھِّنَ لَہُ اَوْ سَحَرَ اَوْ سُحِرَ لَہُ وَمَنْ اَتیٰ کَا ھِنًا فَصَدَّقَہُ بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ بِمَااُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ) [ الترغیب و الترہیب ]
” جو شخص فال نکالے یا اس کے لیے فال نکالی جائے ‘ کوئی غیب کی خبریں دے یا اس کے لیے کوئی دوسرا ایسی خبر دے ایسے ہی کوئی خود جادوگر ہو یا دوسرا شخص اس کے لیے جادو کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جو کوئی ایسے شخص کے پاس جائے اور اسکی باتوں کی تصدیق کرے اس نے ہر اس بات کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے مقاصد اور نیتوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی سرگوشیوں کو بھی سنتا ہے۔
3۔ کفار آپ ﷺ کو سحر زدہ قرار دیتے تھے۔
4۔ آپ ﷺ پر الزام لگانے والے گمراہ لوگ ہیں یہ راہ راست نہیں پاسکتے۔
تفسیر بالقرآن
نبی ﷺ پر کفار کے الزامات :
1۔ ظالم کہتے ہیں تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل : 47)
2۔ انہوں نے کہا جو رسول تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ مجنون ہے۔ (الشعراء : 27)
3۔ اور وہ کہتے ہیں آپ مجنون ہیں۔ (القلم : 51)
4۔ وہ کہتے ہیں کیا شاعر اور مجنون کے لیے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (الصٰفٰت : 36)
5۔ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اسے جنون ہے۔ (سبا : 8)
6۔ آپ ﷺ اللہ کے فضل سے مجنون نہیں۔ (القلم : 2)
Ayahs 17:49–52فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید سے دوری اور عقیدہ توحید سے انحراف کا منطقی نتیجہ آخرت کا انکار ہوتا ہے۔ جس بناء پر مکہ کے کفار مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔
آخرت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر ہمیں کون از سر نو پیدا کرے گا ؟ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آخرت کے منکرین کا عقیدہ یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا انسان غور نہیں کرتا ؟ کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ بڑی بےباکی کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مختلف قسم کی باتیں اور مثالیں بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی پیدائش کو بھول کر کہتا ہے کہ جب ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو کون انہیں زندہ کرے گا ؟ اے پیغمبر ﷺ ! انھیں فرمائیں کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا وہی سب کو جاننے والا، پیدا کرنے والا ہے۔ (یٰس : 77 تا 79)
سورۃ القیامۃ کی آیت 34 تا 40 میں انسان کی اس سوچ اور رویہ پر یوں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
” اے انسان ! افسوس ہے تجھ پر افسوس، پھر تجھ پر افسوس کیا جاتا ہے۔ اے انسان ! کیا تو سمجھتا ہے ؟ کہ تجھے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا۔ کیا تو رحم میں داخل ہونے والا منی کا ایک قطرہ نہ تھا ؟ پھر اللہ نے تجھے لوتھڑا بنایا۔ پھر اعضاء درست کیے۔ پھر اس سے مرد اور عورت کی قسمیں بنائیں۔ کیا اس خالق کو یہ قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے۔ “
ان دلائل کی بنیاد پر نبی معظم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا کوئی اور چیز۔ جس کا خیال تمہارے دلوں میں آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھلا ہمیں کون اٹھائے گا ؟ انہیں فرما دیں۔ وہی تمہیں اٹھائے گا جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے۔ یہ نخوت وتکبر کی وجہ سے سر ہلا کر پوچھتے ہیں کہ کب ایسا ہوگا ؟ انہیں فرما دیں کہ عنقریب یہ ہو کر رہے گا۔ جس دن تمہیں اللہ تعالیٰ آواز دے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے حاضر ہو گے اور اس وقت تم خیال کرو گے کہ دنیا میں بہت ہی تھوڑ اعرصہ رہے تھے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا جلال اور دبدبہ دیکھ کر آخرت کے منکروں کو نہ صرف اپنی لایعنی باتیں اور جھوٹے دلائل بھول جائیں گے۔ بلکہ انہیں یہ بھی یاد نہ ہوگا کہ وہ کتنی مدت تک دنیا میں ٹھہرے رہے تھے۔
تفسیر بالقرآن
مرنے کے بعد زندہ ہونے کے دلائل :
1۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : 51)
2۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 55)
3۔ اللہ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : 4)
4۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان ہے۔ (الروم : 27)
5۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : 11)
6۔ کیا اللہ کو اس بات پر قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو زندہ فرمائے۔ (القیامۃ : 40)
Ayah 17:53فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید اور آخرت کا انکار کرنے والے لوگ باطل عقیدہ رکھنے کے باوجود اپنے عقیدے کی حمایت میں خواہ مخواہ بحث کرتے اور جھوٹے دلائل دیتے ہیں۔ اکثر اوقات لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں داعی حق کو صبرو تحمل کے ساتھ بہتر سے بہترین گفتگو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ میرے بندوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ وہ لوگوں سے ایسی گفتگو کریں جو دل پذیر اور پسندیدہ ہو۔ کیونکہ شیطان اشتعال دلاکر لوگوں کے درمیان فساد برپا کرتا ہے۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ داعی حق جب منکرین حق کو اخلاص اور جان سوزی کے ساتھ حق کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس کے جواب میں منکرین حق جھوٹے دلائل دینے کے ساتھ ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ جس سے داعی حق کا نہ صرف دل پسیجتا ہے بلکہ بعض دفعہ غیرت حق کی وجہ سے اسکی زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں۔ جس سے نہ صرف اس کی محنت رائیگاں جاتی ہے۔ بلکہ معاملہ جنگ وجدال تک پہنچ جاتا ہے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے یہاں تک حکم دیا گیا کہ مشرکین کے جھوٹے خداؤں کو گالی نہ دو ۔ کیونکہ وہ جہالت اور عداوت میں آکر تمہارے سچے رب کو گالی دیں گے۔ (الانعام : 108)
اس نقصان اور برے حالات سے بچنے کے لیے قرآن مجید مبلغ کو یہ ہدایت کرتا ہے :
(ادْعُ إِلَی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بالْمُہْتَدِیْنَ )[ النحل : 125]
” اپنے رب کی طرف اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ لوگوں کو بلاؤ۔ اگر کہیں بحث وتکرار کی نوبت آئے تو پھر بھی اچھا انداز اختیار کرو۔ آپ کا رب خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ “
جو مبلغ اس طریقہ اور انداز سے لوگوں کو حق بات کی طرف بلاتا ہے۔ اس کی ان الفاظ میں تعریف کی گئی ہے۔
دعوت دینے کی فضیلت :
(وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِمَّنْ دَعَا اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ )[ حٰم السجدۃ : 33]
” اور اس شخص سے بڑھ کر کس کی بات اچھی ہوسکتی ہے ؟ جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا اور نیک عمل کرتا ہے اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ “
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَہُ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا ےَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَےْءًا وَّمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَےْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا ےَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اٰثَامِھِمْ شَےْءًا)[ رواہ مسلم : کتاب العلم، باب مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً أَوْ سَیِّءَۃً وَمَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی أَوْ ضَلاَلَۃٍ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ خیر کی دعوت دینے والے کو اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا جبکہ ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ جس نے برائی کا پرچار کیا وہ اس پر عمل کرنے والے کے برابر گنہگار ہوگا۔ اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ “
مسائل
1۔ انسان کو ہمیشہ اچھی بات کہنی چاہیے۔ 2۔ شیطان لوگوں میں فساد ڈالتا ہے۔
3۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ 4۔ داعی کو ہمیشہ اچھا انداز اور بہترین الفاظ استعمال کرنے چاہییں۔
تفسیر بالقرآن
داعیِ حق کے اوصاف :
1۔ میرے بندوں کو فرمادیں کہ اچھی بات کہیں۔ (بنی اسرائیل : 53)
2۔ اللہ کے راستہ کی طرف حکمت اور دانائی سے دعوت دیں۔ (النحل : 125)
3۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم دل ہیں۔ (آل عمران : 159)
4۔ آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔ (القلم : 4) 5۔ اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتے۔ (حٰم السجدۃ : 34)
Ayahs 17:54–55فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے داعی کو صبر و استقامت اور حسن گفتار کا حکم دیا گیا ہے۔ اب دوسرے انداز میں داعی کو یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس نے اپنے رسول کو الداعی بناکر بھیجا ہے۔ کسی پر چوکیدار بنا کر مبعوث نہیں فرمایا۔ لہٰذا داعی کو لڑنے جھگڑنے کی بجائے اپنا کام اچھے انداز میں کرتے رہنا چاہیے۔
اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کس پر کرم فرمانا چاہیے اور کس کو اس کے گناہوں اور جرائم کی سزا ملنی چاہیے۔ آپ کا رب زمینوں آسمانوں کی ہر چیز کی پوری طرح خبر رکھے ہوئے ہے۔ اسی نے بعض انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت عنایت فرمائی۔ اس کا ارشاد ہے کہ ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ اس فرمان میں ہدایت کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے ” رحم “ کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ گناہ سے بچ کر نیکی کا راستہ اختیار کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی مہربانی سے ممکن ہوا کرتا ہے۔ اس حقیقت کی ترجمانی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں کی تھی۔ جب ایک مدت کے بعد جیل کی کال کوٹھری سے نکلے اور ہر طرف سے ان کو خراج تحسین پیش کیا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ عزیزمصر کی بیوی بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئی۔
(قَالَتِ امْرَأَۃُ الْعَزِیْزِ الْاٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُہُ عَنْ نَفْسِہِ وَإِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِیْنَ )[ یوسف : 51]
” عزیز مصر کی بیوی نے کہا اب تو حق واضح ہوا۔ میں نے ہی اسے اپنی طرف ورغلانے کی کوشش کی تھی اور یقیناً وہ سچے لوگوں میں سے ہے۔ “ اس موقعہ پر پوری عاجزی کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا :
” اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے، بیشک میرا پروردگار بخشنے والا، مہربان ہے۔ “ [ یوسف : 53]
یہی حقیقت رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے داعی حق کو سمجھائی جا رہی ہے کہ برائی کے مقابلے میں صبر کرنا اور ہر حال میں اچھی بات کہنی چاہیے۔ داعی کو یہ حقیقت بھی ہمیشہ اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ وہ جانتا ہے کو ن، کس نیت کے ساتھ حق کی مخالفت کررہا ہے۔ گویا یہ بات بھی ایک لحاظ سے داعی کے لیے تسکین کا باعث ہے۔ آخر میں یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے بعض انبیاء کو ایک دوسرے پر فضلیت عنایت فرمائی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک داعی کو اس بات سے بےپرواہ ہو کر دین حق کی تبلیغ کرنا ہے۔ کہ اس کی بات قبول کرنے والے کتنے لوگ ہیں ؟ کیونکہ کئی انبیاء ایسے تھے کہ جن کی بات کو بہت سے لوگوں نے قبول کیا اور کچھ ایسے تھے جن کے اخلاص اور محنت کے باوجود لوگوں نے ان کی دعوت کو مسترد کردیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر دو باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کسی داعی کو وسائل کی کم مائیگی کی طرف دھیان نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ وسائل کی دستیابی کی صورت میں دعوت حق کو پذیرائی ہوجائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے وقت کے پیغمبر اور بادشاہ ہونے کے باوجود سب لوگوں کو عقیدہ توحید منوانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا اس حوالے سے بھی ذکر کیا کہ اہل مکہ اور یہودی یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے ؟ کہ بال بچہ بھی رکھتا ہے اور کاروبار بھی کرتا ہے۔ ان کے بقول رسول تو تارک الدنیا شخص ہونا چاہیے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ناصرف وقت کے صاحب کتاب رسول تھے بلکہ بادشاہ بھی تھے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے احوال کو اچھی طرح جانتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔
3۔ بعض انبیاء (علیہ السلام) کو بعض پر فضیلت دی گئی۔ 4۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبورعطا کی گئی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے، جسے چاہے معاف کرے :
1۔ تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اگر چاہے تو رحم کرے، اگر چاہے تو عذاب دے۔ (بنی اسرائیل : 54)
2۔ اللہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے تم اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے۔ (العنکبوت : 21)
3۔ اللہ جسے چاہے معاف کر دے جسے چاہے عذاب دے، اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 129)
4۔ جسے چاہے بخش دے جسے چاہے عذاب دے زمین و آسمان کی بادشاہت اور جو کچھ ان میں ہے اللہ کا ہے۔ (المائدۃ : 18)