17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsفہم القرآن

Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

” نماز قائم کرو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھا کریں۔ فجر کے وقت قرآن پڑھنا حاضر ہونے کا وقت ہے۔ “ (78)

فہم القرآن ربط کلام : مشکل کے وقت نماز کی اہمیت اور اس کا فائدہ : جب بھی نبی کریم ﷺ کی پریشانی اور مشکلات کا ذکر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کو اپنے ذکر اور نماز کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ کیونکہ ذکر اور نماز قائم کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں بھی آپ ﷺ کی مشکلات کے ذکر کے بعد حکم ہوا ہے۔ کہ آپ سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی نماز قائم کریں اور رات کے اندھیرے میں بھی نماز پڑھیں اور فجر کے وقت قرآن کی تلاوت کریں۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کی غالب اکثریت نے ثابت کیا ہے کہ اس آیت سے تین نمازیں پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔ قرآن مجید میں نماز پڑھنے کی بجائے قائم کرنے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اقامت صلوٰۃ سے مراد اس کے ظاہری آداب و شرائط بجا لانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور روحانی فوائد کا حصول ہے۔ اس لیے یہاں صرف ” صَلُّوْا “ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ” اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ “ کا جامع لفظ استعمال فرما کر واضح کیا گیا ہے کہ نماز پڑھنے اور ادا کرنے کے لحاظ سے جامع اور مکمل ہونی چاہیے۔ اس میں طہارت، ارکان کی صحیح ادائیگی، اخلاص اور جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم شامل ہے۔ اس طرح یہ پانچ وقت کا اجتماعی عمل ہے۔ ” اَقِیْمُوْاالدِّیْنَ “ (الشورٰی : 13) کا لفظ پورے دین کے لیے بھی استعمال ہوا۔ جس طرح دین کا تقاضا صرف اس کے احکامات پڑھ لینے سے پورا نہیں ہوتا جب تک اسے پورے طور پر نافذ نہ کیا جائے ایسے ہی نماز پوری جامعیت کے ساتھ اس وقت قائم ہوگی جب اس کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ نمازی کو حکم ہے کہ نماز میں نظر کو ادھر ادھر نہ اٹھائے۔ یہی حکم نماز کے بعد ہے کہ چلتے پھرتے اپنی نگاہوں کو نیچے رکھا کریں۔ تشہد میں نمازی درود اور التحیات میں سب کی سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے نماز سے فارغ ہوتے ہوئے بھی دائیں بائیں السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے۔ یہی جذبہ اور انداز نماز کے بعد بھی اختیار کرنا چاہیے۔ گویا کہ نماز اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیان تعلق قائم رکھنے کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ نماز میں اس قدر انہماک اور تعلق باللہ قائم ہونا چاہیے جیسے بندہ اپنے رب کی زیارت کر رہا ہو۔ ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیت اللہ کے قریب جبرائیل (علیہ السلام) نے دو دفعہ میری امامت کروائی۔ اس نے میرے ساتھ ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج تھوڑا ساڈھل گیا اور اس کا سایہ تسمے کے برابر ہوگیا۔ پھر اس نے میرے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوا۔ مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر میرے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب سورج کی سرخی غائب ہوگئی اور فجر کی نماز میرے ساتھ اس وقت پڑھی جب روزہ دار پر کھانا، پینا حرام ہوجاتا ہے۔ پھر اگلا دن آیا تو میرے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی اس وقت جب ہر شے کا سایہ اس کے برابر ہوگیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر شے کا سایہ اس سے دوگناہو گیا اور مغرب کی نماز اس وقت میرے ساتھ پڑھی جب رو زہ دار روزہ افطار کرتا ہے۔ پھر عشاء کی نماز رات کے تہائی حصے میں ادا کی اور فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب صبح خوب روشن ہوگئی پھر میری طرف متوجہ ہو کر جبریل نے فرمایا اے محمد ﷺ ! یہ وقت آپ سے پہلے انبیاء کا ہے اور آپ کی نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔ “ جماعت کی اہمیت : ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے بہتر ہے۔ رات اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں حاضر ہوتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں اگر چاہتے ہو تو قرآن مجید کی آیت پڑھو (إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا ) “ مسائل 1۔ آپ ﷺ کو سورج ڈھلنے سے اندھیرے تک نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ 2۔ آپ ﷺ کو صبح کی نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ 3۔ صبح کا وقت فرشتوں کی حضوری کا وقت ہے۔ تفسیر بالقرآن نماز کے اوقات قرآن مجید کی روشنی میں : 1۔ نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لیکر رات تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھا کریں۔ (بنی اسرائیل : 78) 2۔ دن کے دونوں سروں (یعنی صبح شام کے اوقات میں) اور رات کی ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ (ہود : 114) 3۔ اللہ کی تسبیح صبح شام بیان کرو آسمان و زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو۔ (الروم : 17۔ 18) 4۔ سورج نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اور رات کی گھڑیوں میں اور دن کے اطراف میں تسبیح وتحمید بیان کریں۔ (طٰہٰ : 130) 5۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اللہ کی تسبیح بیان کریں رات کے کچھ اوقات میں اور نماز کے بعد بھی۔ (ق : 39۔ 40)
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

” اور رات کے کچھ حصے میں آپ تہجد پڑھیں اس حال میں کہ آپ کے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے۔ “ (79)

فہم القرآن ربط کلام : فرض نماز کے بعد تہجد کی تلقین۔ عبادات میں سب سے افضل عبادت فرض نماز ہے۔ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ جسے نفل نماز قرار دیا گیا ہے۔ نفل کا معنیٰ ہوتا ہے ” زائد چیز “۔ رسول محترم نے نوافل کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فرض نماز کی کمی، بیشی نفل نماز سے پوری کی جائے گی۔ بعض اہل علم کے نزدیک پہلے آپ ﷺ پر تہجد فرض تھی۔ بعد ازاں اسے نفل قرار دے دیا گیا۔ تہجد کا لفظ ” جہد “ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے ” نیند کے بعد بیدار ہونا “ ظاہر ہے یہ کام ہمت اور کوشش کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ اہل علم ضروری سمجھتے ہیں کہ تہجد کچھ دیر سونے کے بعداٹھ کر پڑھنی چاہیے۔ ان کے بقول سونے سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل تہجد شمار نہیں ہوتے۔ لیکن احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی اپنی صحت اور فرصت کے پیش نظر رات کے کسی پہر میں تہجد پڑھ سکتا ہے۔ البتہ تہجد کے لیے افضل ترین وقت آدھی رات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سحری کا وقت حاجات و مناجات اور سکون و اطمینان کے لیے ایسا وقت ہے کہ لیل و نہار کا کوئی لمحہ ان لمحات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ زمین و آسمان کی وسعتیں نورانی کیفیت سے لبریز دکھائی دیتی ہیں۔ ہر طرف سکون و سکوت انسان کی فکر و نظر کو جلابخشنے کے ساتھ خالق حقیقی کی طرف متوجہ کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طرف رات اپنے سیاہ فام دامن میں ہر ذی روح کو سلائے ہوئے ہے اور دوسری طرف بندۂ مومن اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لیے کروٹیں بدلتا ہوا اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ کہیں نیند کی غفلت میں پرنور لمحات گذرنہ جائیں۔ وہ ٹھنڈی راتوں میں یخ پانی سے وضو کرکے رات کی تاریکیوں میں لرزتے ہوئے وجود اور کانپتی ہوئی آواز کے ساتھ شکر و حمد اور فقر و حاجت کے جذبات میں زار و قطار روتا ہوا فریاد کناں ہوتا ہے۔ وہ آنسوؤں کے پانی سے اس طرح اپنی ردائے حیات کو دھو ڈالتا ہے کہ اس کا دامن گناہوں کی آلودگی سے پاک اور وجود دنیا کی تھکن سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ طویل ترین قیام اور دیر تک رکوع و سجود میں پڑارہنے سے تہجد بندۂ مومن کو ذہنی اور جسمانی طور پر طاقت و توانائی سے ہمکنار کردیتی ہے۔ اگر وہ خوردو نوش میں مسنون طریقوں کو اپنائے تو اس کو کسی قسم کی سیر و سیاحت حتیٰ کہ معمولی ورزش کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ تہجد گزار بندوں کی اس طرح تعریف فرماتا ہے۔ (تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ ) [ السجدۃ : 16] ” وہ اپنے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔ “ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَ ۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآء الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقَی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَأسْتَجِیْبَ لَہُ مَنْ یَسْاَلنِیْ فأُعْطِیَہٗ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرَلَہُ ) [ رواہ البخاری : باب التحریض علی قیام الیل ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب تعالیٰ رات کے آخری حصے میں آسمان دنیا پر تشر یف لاکر فرماتے ہیں : کون ہے مجھ سے طلب کرنے والا میں اسکو عطاکروں اور کون ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت چاہے میں اسکوبخش دوں۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ یَرْفَعُہُ قَالَ سُءِلَ أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ وَأَیُّ الصِّیَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَفْضَلُ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ الصَّلاَۃُ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ وَأَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ صِیَامُ شَہْرِ اللَّہِ الْمُحَرَّمِ )[ رواہ مسلم : کتاب الصیام، باب فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے اور وہ آپ ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے اور رمضان کے روزوں کے بعد کون سے روزے افضل ہیں۔ آپ نے فرمایا فرض نمازوں کے بعد افضل نماز آدھی رات کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے اور رمضان کے روزوں کے بعد افضل روزہ ماہ محرم کا روزہ ہے۔ “ (عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عَاءِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِہِ عَلَی إِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ، ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا، قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ فَقَالَ یَا عَاءِشَۃُ ، إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی )[ رواہ البخاری : کتاب التہجد ] ” حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ آپ کی رمضان میں نماز کیسی ہوتی تھی ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ آپ پہلے چار کعات پڑھتے تو ان کے حسن اور طوالت کے متعلق مت پوچھ۔ پھر آپ چار رکعات پڑھتے تو ان کے اچھے اور طویل ہونے کے بارے میں نہ پوچھ پھر آپ تین رکعات پڑھتے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جا تے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! یقیناً میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔ “ آپ ﷺ کی تہجد کی کیفیت : (عَنْ عَآءِشَۃَ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ ےُصَلِّیْ فِےْمَا بَےْنَ اَنْ یَّفْرُغَ مِنْ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ اِلَی الْفَجْرِ اِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ مِنْ کُلِّ رَکْعَتَےْنِ وَےُؤْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ فَےَسْجُدُ السَّجْدَۃَ مِنْ ذَالِکَ قَدْرَ مَا ےَقْرَاُ اَحَدُکُمْ خَمْسِےْنَ اٰےَۃً قَبْلَ اَنْ یَّرْفَعَ رَاْسَہُ فَاِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَتَبَیَّنَ لَہُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَےْمَنِ حَتّٰی ےَأْتِےَہُ الْمُؤَذِّنُ لِلْاِقَامَۃِ فَےَخْرُجُ )[ رواہ البخاری : باب ایذان المؤذنین الائمۃ الصلٰوۃ ] ” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی معظم ﷺ عشاء کی نماز کے بعد اور فجر سے پہلے گیارہ رکعت ادا کیا کرتے تھے ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور ایک وتر ادا کرتے۔ اس قدر لمباسجدہ کرتے کہ اس دورانیہ میں اگر تم میں سے کوئی پچاس آیات کی تلاوت کرنا چاہے تو کرسکتا تھا۔ جب مؤذن فجر کی اذان کہتا اور صبح نمایاں ہوجاتی آپ مختصر دورکعتیں ادا کرتے اور پھر دائیں جانب چند لمحے لیٹ جاتے پھر مؤذن نماز کی اطلاع کرتا۔ آپ ﷺ گھر سے تشریف لے جاتے۔ “ مسائل 1۔ آپ ﷺ کو نماز تہجد ادا کرنے کا حکم تھا۔ 2۔ تہجد آپ ﷺ کے لیے نفل بنا دی گئی۔ 3۔ آپ ﷺ کے ساتھ مقام محمود کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے آپ ﷺ کے ساتھ وعدے : 1۔ قریب ہے کہ اللہ آپ کو مقام محمود میں داخل فرمائے۔ (بنی اسرائیل : 79) 2۔ عنقریب تیرا رب تجھے وہ کچھ عطا کرے گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے۔ ( الضحیٰ : 5)
Ayahs 17:80–81

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

” اور دعا کیجیے میرے رب ! داخل کر مجھے سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور نکال مجھے سچائی کے ساتھ نکالنا اور مجھے غلبہ اور مدد عطا فرما۔ “ (80) ”

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور فرما دیں حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔ “ (81)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے بنی کریم ﷺ کی مشکلات کا ذکر ہوا اور اس کے بعد آپ ﷺ کو نماز اور تہجد کا حکم دیا۔ اب آپ کو ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور اس کی دعا سکھلائی گئی ہے۔ رسول معظم ﷺ نے مکہ میں نبوت کے تیرہ سال بڑی مشکلات سے گزارے۔ سجدے کی حالت میں آپ کی گردن پر اونٹ کی گندی اوجڑی رکھی گئی۔ کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کا تین سال تک سوشل بائیکاٹ ہوا۔ ابو لہب کے بیٹوں نے آپ کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کی نسبت منقطع کی۔ آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ آپ کی ننھی منی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کے چہرے پر ابوجہل نے تھپڑ مارا۔ آپ کے بیٹے کی وفات پر آپ کے پڑوسی اور حقیقی چچا ابو لہب نے خوشیاں منائیں۔ غرض یہ کہ دنیا کی کوئی پریشانی اور مشکل ایسی نہ تھی جس کا آپ نے ثابت قدمی کے ساتھ سا منا نہ کیا ہو۔ آپ ﷺ کی بیٹی، داماد اور ساتھیوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ آپ کے ساتھیوں کو سر بازار پیٹا گیا۔ حضرت بلال ؓ اور حضرت خباب ؓ کو آگ پر لٹایا گیا۔ حضرت یاسر ؓ کی بیوی کو کھلے بازار میں دواونٹوں سے باندھ کر دو ٹکڑے کیا گیا۔ ان مظالم کے باوجود آپ کے ساتھیوں کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش واقع نہ ہوئی۔ جب مظالم کا سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچا اور مکہ والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر کی مہر ثبت کردی گئی تو یہ دعا اور خوشخبری نازل ہوئی کہ اے پیغمبر ! رات کی تایکیوں میں اپنے رب کے حضور یہ دعا کیجیے کہ اے میرے رب ! مجھے جہاں اور جن حالات میں داخل فرماؤ اور جہاں سے مجھے نکالا جائے۔ سچائی کے ساتھ نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ہر حال میں مدد کا سامان مہیا فرما۔ اس دعا کے ساتھ ہی آپ کو خوشخبری دی گئی کہ آپ اعلان فرمائیں۔ حق پہنچ چکا اور باطل کا جانا ٹھہر چکا۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ باطل جایا ہی کرتا ہے۔ یہ خوشخبری اور اعلان اس وقت ہوا جب کوئی شخص آپ کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی جدوجہد اور دعا کے صلہ میں آپ کو وہ کامیابیاں عنایت فرمائیں کہ جو کسی نبی اور بادشاہ کے حصہ میں نہیں آئیں۔ ہجرت کے موقع پر کفار ہزار کوششوں کے باوجود آپ کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے میں ناکام ہوئے۔ بدر کے موقع پر قریش کے بڑے بڑے سردار جہنم رسید ہوئے۔ یہاں تک کہ مکہ فتح ہوا۔ آپ اس شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے کہ کسی کو سر اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔ آپ کی جان کے دشمن بیت اللہ کے صحن میں مجرم کی حیثیت سے کھڑے ہو کر رحم کی اپیل کررہے تھے۔ اس طرح آپ کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے غلبہ کا اعلان اپنی سچائی، سطوت اور جلالت کے ساتھ نصف النہار کی طرح دشمن کی آنکھیں چندھیارہا تھا۔ ہجرت اور مشکلات سے نکلنے کی دعا : (وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا )[ بنی اسرائیل : 80] ” اور دعا کیجیے میرے رب ! داخل کر مجھے سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور مجھے سچائی کے ساتھ نکالنا اور بنا میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ جو مددگار ہو۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سے اچھائی طلب کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے سوا غلبہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ 3۔ حق کے مقابلہ میں باطل کا ٹھہرنا محال ہے۔ 4۔ حق والے حق پر قائم رہیں تو بالآخر باطل مٹ جایا کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار نہیں : 1۔ الٰہی اپنی طرف سے میرے لیے مددگار بنا۔ (بنی اسرائیل : 80) 2۔ اللہ کی طرف سے ہی مدد حاصل ہوتی ہے۔ (آل عمران : 126) 3۔ اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے۔ (الروم : 5) 4۔ اللہ حق والوں کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ (الحج : 39) 5۔ اللہ ہی تمہارا مولا ہے اور وہی بہتر مدد کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 150) 6۔ وہ ذات جس نے آپ کی اور مومنوں کی مدد فرمائی۔ (الانفال : 62)
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

” اور ہم قرآن نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور قرآن ظالموں کو زیادہ نہیں کرتا مگر نقصان ہی میں۔ “ (82)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا دوسرا نام ” الفرقان “ ہے۔ جس کا معنیٰ ہے ” حق و باطل میں فرق کردینے والی کتاب “۔ جس طرح دلائل کے حوالے سے اس کے سامنے باطل نہیں ٹھہر سکتا۔ اسی طرح ہی اس کی غور و فکر کے ساتھ تلاوت کرنے سے کفرو شرک اور نفاق کی بیماریاں دل میں جگہ نہیں پا سکتیں۔ قرآن کے بےشما راوصاف حمیدہ اور اس کے دنیا وآخرت میں لاتعداد فوائد ہیں۔ ان فوائد میں سے دو کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید پر جو شخص حقیقی طور پر ایمان لائے گا۔ قرآن مجید اس کے لیے رحمت بن جائے گا۔ جو معاشرہ جنگ وجدال، برائی و بےحیائی اور ہر قسم کی ناہمواری کا شکار تھا۔ جو نہی قرآن کا راج نافذ ہوا۔ ہر طبقہ انسانی کو اپنے اپنے حقوق ملے اور معاشرہ مذہبی، معاشی اور معاشرتی بےاعتدالیوں سے پاک ہوا۔ جنت بےنظیر کا نمونہ بن گیا۔ حالانکہ قرآن مجید کے نزول سے پہلے اس معاشرہ کا یہ نقشہ تھا۔ تم آگ کے گڑھے کے اوپر کھڑے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں آگ میں گرنے سے بچالیا اور اللہ کے فضل وکرم سے تم آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔ (آل عمران : 103) جہاں تک قرآن مجید کا ” شفاء “ ہونے کا تعلق ہے۔ اگر اس کے بتلائے ہوئے حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جائے۔ تو آدمی جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ سورة المدثر کی ابتداء میں یہ تعلیم دی گئی کہ انسان کو لباس اور جسمانی طور پر پاک صاف رہنا چاہیے۔ (المدثر : 4، 5) جسمانی پاکیزگی کا خیال رکھنے والوں کو اس شرف کے ساتھ نوازتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک رہنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ “ (التوبہ : 108) انسان کو جسمانی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ تو اس سے روحانی اور جسمانی طور پر تکلیف محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح روح کو بھی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ جس سے نا صرف روحانی موت واقع ہوتی ہے بلکہ اس سے جسمانی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ عقیدہ توحید کی کمزوری کی وجہ سے آدمی بزدل، فکری انحطاط اور وہم کا شکار ہونے کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ حسد ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو آدمی بلڈ پریشر اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ کسی کے ساتھ بغض اپنی حد سے تجاوز کر جائے تو جنگ وجدال کی نوبت پیش آتی ہے۔ جس سے مالی جانی نقصان کے ساتھ پورا خاندان پر یشانیوں کا شکار رہتا ہے۔ غرض کہ روحانی بیماریاں دنیا وآخرت کے نتائج کے اعتبار سے زیادہ نقصان دہ اور خطر ناک ہوتی ہیں۔ یہاں صرف ” اَلشِّفَا “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جب کہ سورة یو نس میں فرمایا ہے۔ (یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ تْکُمْ مَوْعِظَۃٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِیْ الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) [ یونس : 57] ” اے لوگو ! یقیناً تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئیجو سینوں کے لیے سراسر شفاء اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ لِکُلِّ شَیءٍ صِقَالَۃٌ وَصِقَالَۃُ القُلُوْبِ ذِکْرُ اللّٰہِ وَمَا مِنْ شَیءٍ أنجٰی مِنْ عَذَاب اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ قَالُوْاوَلا الجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ؟ قَالَ وَلَا أن یَضْرِبَ بِسَیْفِہِ حَتّٰی یَنْقَطِعَ )[ رواہ البیہقی فی الدعوات الکبیر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ہر چیز کو صاف کرنے کے لیے ایک پالش ہوتی ہے۔ دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے۔ اللہ کے ذکر سے بڑھ کر عذاب سے نجات دلوانے والی کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی کیا اللہ کے راستے میں جہادبھی ؟ آپ نے جواب دیا : ہاں ! چاہے کوئی تلوار کے ساتھ لڑے اور اس کی گردن تن سے جدا ہوجائے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے شفار اور رحمت ہے۔ 2۔ ظالم لوگ خسارہ میں آگے ہی بڑھا کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ قرآن مومنوں کے لیے باعث شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 2۔ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ہے۔ (البقرۃ : 2) 3۔ اس کتاب کی آیات محکم ہیں اور یہ حکیم وخبیر کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ (ھود : 1) 4۔ یقیناً قرآن سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 9) 5۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88) 6۔ اگر قرآن کو پہاڑوں پر نازل کیا جاتا تو وہ بھی اللہ کے ڈر کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ (الحشر : 21)
Ayahs 17:83–84

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

” اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو موڑ لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت ناامید ہوجاتا ہے۔ “ (83) ”

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

فرما دیں ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے تمہارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون سیدھے راستے پر ہے۔ “ (84)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت قرآن مجید ہے لیکن اس کے منکر اس سے فیض یاب ہونے کی بجائے اپنے آپ کو نقصان میں آگے ہی آگے لے جارہے ہیں اور اکثر انسانوں کی یہی کیفیت ہے کہ جب انہیں کوئی نعمت عطا کی جاتی ہے تو اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی بجائے کفرو شرک میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ انسان کی طبعی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ انسان صحت اور وسائل کے حوالے سے خوشحال ہوتا ہے۔ تو نا صرف اپنے رب سے ناطہ توڑ لیتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کی نافرمانی اور بغاوت پر اتر آتا ہے۔ انسان کی اس کمزوری کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے ” یقیناً انسان سرکش ہوجاتا ہے۔ جب اپنے آپ کو مستغنی سمجھتا ہے۔ حالانکہ بالآخر اس نے اپنے رب کے پاس جانا ہے۔ “ (العلق : 6 تا 8) انسان کو جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود انسان اپنے رب سے پہلو پھیر لیتا ہے۔ جب اسے کسی مشکل کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے۔ اے پیغمبر ! فرما دیجیے کہ ہر شخص اپنی سوچ اور طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔ تمہارا رب خوب واقف ہے۔ جو سیدھے راستے پر چلنے والا ہے۔ یہاں پہلی آیت میں انسان کی افتادہ طبع کا ذکر کیا گیا ہے کہ خوشحال ہو تو اپنے رب کی ناقدری اور ناشکری کرتا ہے۔ پریشان حال ہو تو اپنے رب کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ تنگدستی آئے تو کہتا ہے میں نے کبھی خوشحالی دیکھی ہی نہیں۔ بیمار ہوجائے تو صحت و تندرستی کا طویل دور بھول جاتا ہے۔ پریشانی میں مبتلا ہو تو اسے خوشی کا کوئی لمحہ یاد نہیں رہتا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا کہ انہیں آپ اپنے طریقے کے مطابق عمل کرنے دیں۔ کیونکہ ہر کوئی اپنے اپنے طریقے کو پسند کرتا اور اس پر عمل کرتا ہے۔ طریقہ سے مراد مذہبی رسومات اور انسان کا زندگی گزارنے کا انداز ہے۔ لیکن سب کو جان لینا چاہیے کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کے راستہ پر ہے۔” شاکلہ “ کا معنیٰ ” نیت “ بھی کیا گیا ہے لہٰذا ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا۔ (کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ )[ المومنون : 53] ” ہر گروہ کے پاس جو ہے وہ اسی میں مگن ہے۔ “ (عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِاِمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ الی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلٰی دُنْےَا ےُصِےْبُھَا اَوِامْرَاَۃٍ ےَتَزَوَّجُھَا فَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَےْہِ )[ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیت پر ہے اور آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس شخص نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔ “ مسائل 1۔ انسان کو نعمت ملے تو منہ موڑ لیتا ہے۔ 2۔ انسان کو تکلیف پہنچے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ 3۔ ہر انسان اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ راہ راست پر کون ہے۔ تفسیر بالقرآن اکثر لوگوں کی عادت : 1۔ جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور جب تکلیف پہنچے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ (بنی اسرائیل : 83) 2۔ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں کھڑے، بیٹھے اور لیٹ کر پکارتا ہے جب ہم تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے ہوجاتا ہے جیسے اس نے تکلیف کے وقت ہمیں پکارا ہی نہیں۔ (یونس : 12) 3۔ جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب اس کو اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو اسے بھول جاتا ہے۔ (الزمر : 8) 4۔ جب انسان کو ہماری طرف سے رحمت ملتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ (الشوریٰ : 48)
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

” اور وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ فرما دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ “ (85)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے قرآن مجید کے فضائل اور اوصاف کا ذکر ہوا۔ اب اسی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ اس آیت میں روح کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ روح کیا چیز ہے ؟ روح کے بارے میں اہل علم کی دو آراء ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہاں روح سے مراد نفس انسانی ہے۔ جس کے بارے میں صرف یہ جواب دیا گیا ہے۔ کہ اے پیغمبر ! لوگ آپ سے استفسار کرتے ہیں کہ ” اَلرُّوْحُ “ کیا چیز ہے ؟ انہیں فرمائیں کہ ” روح “ اللہ کا حکم ہے۔ جب چاہتا ہے اپنا حکم واپس لیلیتا ہے۔ روح نکلنے سے انسان کا جسد خاکی ایک ڈھا نچے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جسم بالآخر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ اہل علم کی دوسری جماعت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہاں روح سے مراد نفس انسانی نہیں بلکہ اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں نفس انسانی کے لیے اکثر مقامات پر ” روح “ کی بجائے ” نفس “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس طرح کہ انسان کی موت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی روح کے بارے میں قرآن مجیدبار بار نفس کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ (کُلُّ نَفْسٍ ذَاءِقَۃُالْمَوْت)[ اٰل عمران : 185] بے شک قرآن مجید میں ” روح “ کے لیے ” نفس “ کا لفظ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس کا یہ ہرگز معنیٰ نہیں کہ قرآن میں ” نفس “ کے لیے روح کا لفظ استعمال ہی نہیں ہوا۔ قرآن مجید نے آدم کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے یہ حقیقت واضح کی ہے۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو فرشتوں کو حکم دیا : (فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوحِیْ فَقَعُوْا لَہُ سَاجِدِیْنَ )[ صٓ: 72] ” جب میں اس میں اپنی روح پھونک لوں تو آدم کے سامنے سجدہ کرنا “ یہاں الروح سے مراد انسان کا نفس ہے۔ لہٰذا جن اہل علم نے ” روح “ سے مراد صرف ” نفس انسانی “ لیا ہے۔ ان کا موقف مستند دکھائی نہیں دیتا۔ لہٰذایہاں روح سے مراد ” روح انسانی “ ہے۔ کیونکہ اگر سوال قرآن مجید کے بارے میں ہوتا تویقیناً سوال کرنے والے قرآن مجید کا نام لیتے۔ اگر یہ سوال جبریل امین کے بارے میں تھا تو نبی ﷺ کو خاموش رہنے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ دن رات آپ کے پاس تشریف لاتے اور آپ کو قرآن کی نئی وحی سے آگاہ فرماتے تھے۔ اس لیے یہ سوال ” انسانی روح “ کے بارے میں کیا گیا۔ جس کی تائید سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے ہوتی ہے۔ جس میں آپ کے چند لمحے خاموش رہنے کا ذکر موجود ہے۔ ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک کھیت میں تھا اور آپ لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اتنے میں یہودی گزرے۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ نبی سے روح کے بارے میں سوال کرو۔ بعض نے کہا تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ بعض نے کہا وہ تمہیں ایسی بات نہ کہہ دے جو تمہیں بری لگے۔ انہوں نے کہا سوال کرو۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا۔ آپ کچھ دیر ٹھہرے رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ میں جان گیا کہ آپ کی طرف وحی کی جارہی ہے۔ میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ جب وحی کا نزول ختم ہو اتو آپ نے یہ آیت تلاوت کی (وَیَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ وَمَا أُوتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً ) “ [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر ] اس فرمان میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں کی حقیقت کو کما حقہ جاننا انسان کے بس کا روگ نہیں۔ جہاں انسان کی عقل نہ پہنچ سکتی ہو۔ اس حقیقت کو ٹھکرانے کی بجائے انسان کو اللہ تعالیٰ کے فرمان پر اکتفا کرنا چاہیے۔ یہی وہ بنیادی اصول ہے جو ایک مسلمان اور بےدین سائنسدانوں کے درمیان امتیاز قائم کرتا ہے۔ بےدین سا ئنسدان کو جب کوئی چیز سمجھ نہ آئے تو وہ اس کے وجود کا سرے سے ہی انکار کردیتا ہے۔ اسی بنیاد پر بیشمار سائنسدان ناصرف اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ چیزوں کا انکار کرتے ہیں۔ بلکہ سرے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کردیتے ہیں۔ اس انکار کی وجہ سے ان کا عقیدہ ہے کہ مادہ یعنی ایٹم میں خود بخود تبدیلیاں رونما ہونے کی وجہ سے چیزیں اپنے آپ بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیشک انسان کتنی ترقی کرجائے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ چیزوں کا پوری طرح احاطہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس آیت میں دو ٹوک اند از میں ارشاد ہوا ہے۔ کہ لوگو ! اپنے علم پر اترانے کی کوشش نہ کرو۔ کیونکہ تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کا نام روح ہے۔ 2۔ لوگوں کو بہت تھوڑا علم عطا کیا گیا ہے۔
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

” اور بلاشبہ اگر ہم چاہیں تو یقیناً وحی واپس لے جائیں جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے پھر آپ اپنے لیے اس کے متعلق ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہیں پائیں گے۔ “ (86) ”

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر آپ کے رب کی مہربانی ہے یقیناً اس کا آپ پر فضل بہت زیادہ ہے۔ “ (87)

فہم القرآن ربط کلام : الروح کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگو تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔ رسول محترم ﷺ جو بھی لوگوں کے سامنے بیان فرماتے تھے وہ من جانب اللہ تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ اے نبی ! جو کچھ ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ ہم اسے واپس لے جانے میں پوری طرح قادر ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ لوگوں کو جو تھوڑا ساعلم دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہاں یہ ثابت کیا ہے کہ جو کچھ رسول اکرم ﷺ کو وحی کی صورت میں علم دیا گیا ہے۔ وہ بھی من جانب اللہ ہے اور آپ کو منصب نبوت پر فائز کرنا اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین فضل ہے۔ منصب نبوت اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا فضل ہے کہ دنیا کا کوئی منصب اور دولت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اے نبی ! یہ یاد رکھیں اللہ نے جو وحی کی صورت میں آپ پر اپنا فضل نازل کیا ہے۔ وہ اس پر پوری طرح قادر ہے کہ اپنے فضل کو واپس لے جائے۔ واپس لے جانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کوئی مددگار نہیں پاسکتے۔ وحی کا علم واپس لے جانے کا تذکرہ فرما کر بالواسطہ طور پر کفار کے اس الزام کی تردید کی گئی ہے۔ جو وہ آپ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ قرآن اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ پھر اس بات کی بھی نفی کی گئی کہ نبوت کسی شخص کے ذاتی کمال یا محنت کی وجہ سے عطا نہیں کی جاتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس پر وہ چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس کے مقابلے میں تمام نعمتیں فروتر ہیں۔ ان الفاظ سے کفار کے اس فکر کی تردید ہوتی ہے جو کہا کرتے تھے کہ نبوت تو کسی مالدار اور بڑے آدمی کو ملنی چاہیے تھی۔ کفار کے فکر کی تردید کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح فرمادی ہے کہ میر اپیغمبر وحی پر بھی کسی قسم کا اختیار نہیں رکھتا۔ (وَمَا کُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِہٖ مِنْ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ )[ العکنبوت : 48] ” اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہی اسے اپنے ہاتھ سے لکھ سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے۔ “ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِینِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِینَ فَمَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِینَ )[ الحاقۃ : 44۔ 47] ” اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی جھوٹی بات بنا لاتے تو ہم ان کا دائیاں ہاتھ پکڑ لیتے، پھر ان کی شہ رگ کاٹ ڈالتے تم میں سے کوئی ہمیں روکنے والا نہ ہوتا۔ “ (وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَرَحْمَتُہُ لَہَمَّتْ طَاءِفَۃٌ مِنْہُمْ أَنْ یُضِلُّوْکَ وَمَا یُضِلُّوْنَ إِلَّا أَنْفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَکَ مِنْ شَیْءٍ وَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا۔ )[ النساء : 113] ” اور اگر تم پر اللہ کی مہربانی اور فضل نہ ہوتا تو ان میں سے ایک جماعت تمہیں بہکانے کا قصد کر ہی چکی ہوتی اور یہ اپنے سو ا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ اللہ نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے۔ تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم نہیں جانتے تھے اور تم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ “ مسائل 1۔ اگر اللہ چاہتا تو آپ ﷺ سے وحی سلب کرلیتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوتا۔ 3۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت وفضل سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا : 1۔ اگر ہم چاہتے تو وحی سلب کرلیتے، پھر اللہ کے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔ (بنی اسرائیل : 86) 2۔ پھر آپ نہیں پائیں گے ہم پر کوئی مددگار۔ (بنی اسرائیل : 75) 3۔ آپ ان کے لیے کوئی مددگار نہیں پائیں گے۔ (النساء : 145) 4۔ جن پر اللہ کی طرف سے لعنت ہو آپ ان کا کوئی مددگار نہیں پائیں گے۔ (النساء : 52) 5۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کے لیے آپ کوئی راہ نہیں پائیں گے۔ (النساء : 88)
Ayahs 17:88–89

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

” فرما دیں اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ قرآن جیسا کوئی قرآن بنا لائیں وہ ہرگز نہیں لاسکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ “ (88) ”

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر مثال پھیر پھیر کر بیان کی مگر اکثر لوگوں نے کفر کے سوا ہر چیز سے انکار کردیا۔ “ (89)

فہم القرآن ربط کلام : رسول معظم ﷺ پر وحی کے ذریعے قرآن نازل ہوا کرتا تھا۔ جس کے بارے میں کفار یہ الزام لگاتے کہ آپ اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ جس پر انہیں ایک دفعہ پھر چیلنج دیا گیا ہے۔ حق کے مقابلے میں انسان جب ہٹ دھرمی اور مسلسل تکبر کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ تو اسے حق قبول کرنے سے الرجی سی ہوجاتی ہے۔ جس بناء پر وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگ جاتا ہے۔ کفار مکہ کی بھی یہی حالت ہوچکی تھی۔ ایک وقت میں وہ الزام لگاتے کہ روم کے فلاں شخص سے بالواسطہ سیکھ کر اس کا کلام ہمارے سامنے قرآن کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ دوسرے وقت یہ الزام دیتے کہ یہ نبی اپنی طرف سے کلام بنا کر ہمارے سامنے سناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے الزمات کا جواب دیتے ہوئے یکے بعد دیگرچار چیلنج دئیے۔ جن میں پہلا چیلنج یہ تھا کہ اے پیغمبر ! آپ انہیں چیلنج کریں کہ اگر تم اپنے الزام میں سچے ہو تو اس جیسا قرآن بنا کر پیش کرو۔ اگر جن وانس سب کے سب جمع ہوجائیں کہ قرآن جیسا کلام لے آئیں۔ تو بھی ایسا نہیں کرسکیں گے۔ بیشک یہ ایک دوسرے کی معاونت بھی کریں۔ ہم نے انہیں سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں توحیدو رسالت اور آخرت کے بارے میں مختلف الفاظ اور انداز میں کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ مگر لوگوں کی اکثریت اس کے ساتھ کفر کا رویہ ہی اختیار کرتی ہے۔ قرآن مجید کے چیلنج : 1۔ اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا کے لائیں۔ (الطور : 34) 2۔ دس آیات بناکر پیش کرو۔ (ھود : 13) 3۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں ؟ کہ آپ نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورة بنالاؤ۔ (یونس : 38) 4۔ پورا قرآن مجید نہیں تو اس جیسی ایک سورة بنا کرلے آؤ۔ (البقرۃ : 23) مسائل 1۔ جن وانس مل کر بھی اس قرآن جیسی کتاب نہیں لاسکتے۔ 2۔ سارے ایک دوسرے کے مددگار بن کر بھی قرآن کا جواب پیش نہیں کرسکتے۔ 3۔ قرآن مجید میں طرح طرح کے مضامین بیان کیے گئے ہیں۔ 4۔ اکثر لوگ بار بار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کا مختلف الفاظ اور انداز میں سمجھانے کا طریقہ : 1۔ ہم نے اس قرآن میں تمام باتیں ہر طرح سے بیان کردی ہیں۔ (بنی اسرائیل : 89) 2۔ یقیناً ہم نے قرآن میں تمام باتیں بیان کردیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (بنی اسرائیل : 41) 3۔ ہم نے اسے لوگوں میں بیان کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا کچھ قبول نہ کیا۔ (الفرقان : 50) 4۔ دیکھیں ہم کس طرح آیات بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔ (الانعام : 65) 5۔ اسی طرح ہم اپنی آیات پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ آپ نے یہ کسی سے پڑھی ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے آپ واضح کردیں۔ (الانعام : 106)
Ayahs 17:90–93

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

” اور انھوں نے کہا ہم تجھ پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری کرے۔ “ (90) ”

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تیرے لیے کھجور اور انگور کا ایک باغ ہو پھر تو اس کے درمیان نہریں جاری کر دے۔ “ (91) ”

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا آسمان کو ٹکڑے کرکے ہم پر گرا دے جیسا کہ تو نے دعویٰ کیا ہے۔ یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ “ (92) ”

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تیرے چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہم پر کتاب لے آئے جسے ہم پڑھیں۔ آپ فرما دیں میرا رب پاک ہے میں تو ایک پیغام پہنچانے والا بشر ہوں۔ “ (93)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بار بار کے چیلنج کے باوجود کفار اس کا جواب نہ دے سکے۔ مگر اس کے باوجود رسول معظم ﷺ سے مزید مطالبات کرتے رہے۔ رسول معظم ﷺ کی عظیم جدوجہد اور قرآن مجید کے ٹھوس دلائل کی تاب نہ لانے کا نتیجہ تھا کہ کفار اپنی کسی بات پر قائم نہیں رہتے تھے۔ ہر بار پہلے سے بڑھ کر مطالبہ کرتے۔ جب اس کا مثبت اور موثر جواب دیا جاتا تو ہلکان ہونے کی کیفیت میں کوئی اور مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک ہمارے یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ 1۔ زمین سے ہمارے لیے چشمے جاری کیے جائیں۔ 2۔ آپ کے لیے کجھوروں اور انگوروں کے ایسے باغ ہوں۔ جن کے درمیان نہریں جاری ہوں۔ 3۔ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے۔ 4۔ ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کو ہمارے سامنے لایاجائے۔ 5۔ آپ کے لیے سونے کا گھر ہونا چاہیے۔ 6۔ آپ کے آسمان پر چڑھ جانے کے باوجود ہم ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ لکھی ہوئی کتاب لائیں جس کو ہم خود پڑھ سکیں۔ غور فرمائیں یہ کس قدر متضاد اور بےہودہ مطالبات ہیں۔ جن کا جواب دینے کی بجائے آپ ﷺ کو فقط یہی کہنے کا حکم ہوا ہے۔ آپ انہیں فرمائیں میرا رب ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے۔ نہ میں نے ان باتوں کا دعوی کیا ہے اور نہ ہی تمہارے مطالبات میرے منصب کے مطابق ہیں۔ میں تو اپنے رب کا پیغام پہنچانے والا ہوں وہ تم تک پہنچا رہا ہوں۔ ” سُبْحَانَ رَبِّی “ کے الفاظ سے یہ واضح کیا گیا ہے۔ اے کفار ! تمہارے مطالبات پورے کرنا میرے رب کے لیے کوئی مشکل بات نہیں۔ کیونکہ وہ خالق کل اور قادر مطلق ہونے کی بناء پر یہ مطالبات کیا ان سے بڑے مطالبات تمہاری آنکھ جھپکنے سے پہلے پورے کرسکتا ہے۔ تم مطالبہ کرتے ہو تمہارے لیے چشمے جاری ہوں، غور کرو کیا اس نے پہاڑوں میں چشمے جاری نہیں کر رکھے ؟ کیا اس نے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا فرماکر ان میں چشمے جاری نہیں کیے ؟ جس سے تم ان باغوں کو سیراب کرتے ہو۔ تم اپنے اوپر آسمان کا ٹکڑا گرانے کا مطالبہ کرتے ہو۔ کیا اس نے قوم لوط پر آسمان سے پتھر برساکر ان کو تباہ نہیں کیا تھا ؟ کیا قوم لوط پر فرشتے نہیں آئے تھے ؟ جنہوں نے ان کو سحری کے وقت نیست ونابود کردیا تھا۔ کیا تمہارے مطالبہ پر چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا ؟ کیا آسمان کا ٹکڑا تم پر گرانا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل ہے ؟ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے جلوہ نما ہونے کا تعلق ہے اس کے نور کی ایک جھلک کوہ طور برداشت نہیں کرسکا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گرپڑے۔ تم بتاؤ کہ اس کا جلال کس طرح برداشت کرسکتے ہو۔ ؟ قیامت کے دن جب اللہ اپنی مخلوق کے سامنے جلالت وتمکنت کے ساتھ جلوہ افروز ہوگا۔ تمہاری کیا مجال کہ آنکھ اٹھا سکو۔ وہاں تو بڑے بڑے انبیاء بھی سر جھکائے ” رَبِّ نَفْسِیْ رَبِّ نَفْسِیْ “ کی فریاد کررہے ہوں گے۔ تمہارا یہ مطالبہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کے باغ ہونے چاہییں۔ ذرا غور کرو کہ وسائل کے اعتبار سے غریب نبی کو تم قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ جب وہ تم سے بڑھ کر امیر ہوگا تو پھر اس پر دنیا دار ہونے کا الزام لگاکر اس کی نبوت کا انکار نہیں کرو گے ؟ تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو کیا کیا پیش کش کی اور آپ نے ان سے کس عاجزی کے ساتھ استغناء کا اظہار فرمایا۔ تمہارا یہ مطالبہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے لکھی ہوئی کتاب لائیں۔ کیا رسول اکرم ﷺ مکہ سے مسجد اقصیٰ اور مسجد اقصیٰ سے ساتوں آسمانوں کی سیر کرکے رات کے مختصر حصہ میں واپس آکر آپ کو یہ واقعہ نہیں بتا چکے۔ تم نے اس پر کیا ردعمل دیا ؟ تمہارا یہ مطالبہ کرنا کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب لائی جائے۔ کیا اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) لکھی ہوئی کتاب اپنی قوم کے پاس نہیں لائے تھے اور اس کی قوم نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تمہیں معلوم نہیں ؟ مسائل 1۔ کفارنے آپ ﷺ سے مختلف معجزات کا مطالبہ کیا۔ تفسیر بالقرآن کفار کا انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات کا مطالبہ : 1۔ کہنے لگے ہم آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری کردے۔ (بنی اسرائیل : 90) 2۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ اللہ کو سامنے دیکھ لیں۔ (البقرۃ : 55) 3۔ کہنے لگے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی وہ کچھ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا ہے۔ (الانعام : 124) 4۔ اگر اللہ ہم سے عذاب ٹال دے تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے۔ (الاعراف : 134)
Ayahs 17:94–96

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

” اور لوگوں کو کسی چیز نے نہیں روکا کہ وہ ایمان لائیں جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ “ (94) ”

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

فرمادیں اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضروران پر آسمان سے کوئی فرشتہ رسول بناتے۔ “ (95) ”

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

فرما دیں میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی اچھی طرح خبر رکھنے اور خوب دیکھنے والا ہے۔ “ (96)

فہم القرآن ربط کلام : رسول معظم ﷺ سے کفار مکہ نے متضاد قسم کے مطالبات کیے۔ جس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یہ دیا گیا کہ آپ فرمائیں کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ایک انسان ہوں۔ یہاں آپ کی بشریت کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ کیونکہ انبیاء کی بشریت کو بھی کفار اپنے انکا رکا بہانہ بنایا کرتے تھے۔ چنانچہ ارشادہوا کہ جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کیا کہ عجب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو رسول بنا دیا ہے۔ یہی اعتراض کفار مکہ نے آپ پر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا۔ کہ آپ انہیں فرمائیں کہ اگر زمین میں رہنے، سہنے والے فرشتے ہوتے۔ تو ہم ضرور ان کے پاس فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے۔ کیونکہ زمین میں انسان رہتے ہیں۔ لہٰذا نبی بھی انسان ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے تمام انبیاء انسان تھے۔ آپ ﷺ بھی انسان اور نبی ہیں۔ اتنی سچی، ٹھوس اور عقلی دلیل کے باوجود اگر یہ لوگ نہیں مانتے۔ تو انہیں بتلائیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے اعمال کو دیکھنے والا اور ان کی نیتوں سے باخبر ہے۔ حق کے منکرانبیاء کرام (علیہ السلام) کی ذات کے بارے میں ہمیشہ سے یہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ نبی انسان کی بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ گویا کہ کفار کے نزدیک نبوت انسان کی بجائے فرشتے کا حق ہے۔ ان کے نزدیک نبی کا کھانا پینا، رہنا سہنا اور انسانی حاجات کے حوالے سے دوسرے انسانوں جیسا ہونا منصب نبوت کی شان کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ بات سمجھائی ہے کہ اگر زمین پر ملائکہ رہائش پذیر ہوتے تو یقیناً کسی فرشتے کو رسول بنایا جاتا۔ کیونکہ فرشتہ ہی نورانی مخلوق کی ضروریات اور مشکلات کو سمجھ سکتا ہے۔ لیکن زمین پر انسان بستے ہیں۔ لہٰذا ان کی ضروریات اور حاجات کو سمجھنے کے لیے نبی ان کا ہم جنس ہونا چاہیے تھا تاکہ کسی کو یہ بہانہ نہ مل سکے کہ نوری مخلوق کو خاکی مخلوق کی مشکلات و ضروریات کا کس طرح ادراک اور احساس ہوسکتا ہے۔ اس اعتراض کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء مبعوث فرمائے۔ ناصرف وہ انسان تھے بلکہ اپنی قوم کے ایک فرد ہوا کرتے تھے تاکہ صرف انسان کے حوالے سے نہیں بلکہ اپنی قوم کے مزاج اور علاقے کے حالات کے مطابق ان کی ضروریات اور مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے مسائل کا قابل عمل حل پیش کریں اور زندگی کے تمام معاملات میں ان کے سامنے اپنے آپ کو ایک نمونہ کے طور پر پیش کریں۔ ان حقائق کے باوجود جو لوگ انکار کرتے ہیں انہیں کان کھول کر سن لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نا صرف ان کے اعمال کو دیکھتا ہے بلکہ ان کی نیتّوں سے بھی پوری طرح واقف ہے۔ مسائل 1۔ رسول کے بشرہونے کی وجہ سے کفاران کی نبوت کا انکار کرتے تھے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی سب سے بڑی اور کافی ہے۔ 2۔ اگر زمین میں فرشتے رہائش پذیر ہوتے تو فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا جاتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ خبیر وبصیر ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی گواہی : 1۔ فرما دیجیے میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ (بنی اسرائیل : 96) 2۔ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ عرض کریں گے جب تو نے مجھے فوت کرلیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر ایک پر گواہ ہے۔ (المائدۃ : 117) 3۔ ہماری طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (یونس : 46) 4۔ یقیناً اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ فرمائیں گے اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الحج : 17) 5۔ میرا اجر اللہ کے ذمّہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : 47) 6۔ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ (البروج : 9)
Ayahs 17:97–98

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

” اور جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے اس کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہوگا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے، گونگے اور بہرے کرکے اٹھائیں گے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب جہنم کی آگ بجھنے لگے گی ہم اسے ان پر مزید بھڑکا دیں گے۔ “ (97)

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

” یہی ان کی جزا ہے، کیونکہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا واقعی ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جانے والے ہیں ؟ “ (98)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے ساتھ یہ بات بھی جانتا ہے۔ کہ کون ہدایت کا طالب اور کون گمراہی کے در پہ ہوچکا ہے۔ یہ حقیقت کئی بار عرض کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ کسی کو گمراہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی پر ہدایت مسلط کرتا ہے۔ اس کا اصول یہ ہے جو شخص ہدایت کا طلبگار ہوگا۔ وہ اس کے لیے ہدایت کا راستہ کھول دے گا۔ جو کوئی گمراہی کو پسند کرے گا اسے کھلا چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہم نے انسان کو دوراستے دکھلا دیئے ہیں۔ انسان چاہے تو شکر ادا کرے اگر چاہے تو ناشکری کا راستہ اختیار کرے۔ (الدھر : 4) اسی مفہوم کے پیش نظر فرمایا ہے کہ جسے اللہ ہدایت دے۔ وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے آپ اس کا کوئی بھی خیرخواہ نہیں پائیں گے یعنی انھیں کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم ان کو گونگے، بہرے اور اندھے بناکر چہروں کے بل اٹھائیں گے۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ جب جہنم کی آگ ذرا ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے۔ ان کی یہ سزا اس لیے ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ارشادات کا انکار کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ جب ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو کیا ہم از سر نوپیدا کیے جائیں گے ؟ توحید و رسالت کے ساتھ قرآن مجید کا تیسرا مضمون بعث بعدالموت ہے۔ جس کے بارے میں نہ صرف ٹھوس دلائل دیئے گئے ہیں۔ بلکہ پہلے انبیاء کے دور میں دنیا میں لوگوں کو زندہ کرنے کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صورت لوگوں کو دوبارہ زندہ کرکے اپنے حضور پیش کرے گا۔ مسائل 1۔ جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے وہی ہدایت پا تا ہے۔ 2۔ جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے اسے کوئی ہدا یت نہیں دے سکتا۔ 3۔ گمراہوں کو قیامت کے دن اندھا، گونگا اور بہرا کرکے منہ کے بل اٹھایا اور چلایا جائے گا۔ 4۔ گمراہ لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ 5۔ جہنم کی آگ جب ہلکی ہونے لگے گی تو اسے مزید بھڑکایا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے دلائل : 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے سامنے چار پرندوں کو زندہ کیا۔ (البقرہ : 260 ) 2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے سامنے ان کی قوم کے ستر سرداروں کو موت دے کر دوبارہ زندہ کیا۔ (الاعراف : 155 ) 3۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت دے کر دنیا میں دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : 243 ) 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ فرمایا۔ (المائدۃ : 110) 5۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلاکر بیدار فرمایا۔ (الکہف : 25) 6۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کو سو سال مارنے کے بعد زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259 ) 7۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کے گدھے کو ان کے سامنے دوبارہ زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : 259)
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

” اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پیدا کردے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ شک نہیں پھر بھی ظالموں نے کفر کے سوا ہر چیز سے انکار کردیا۔ “ (99)

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر کہتے ہیں کہ ہماری ہڈیاں ریزہ، ریزہ ہوجانے کے بعد ہمیں کون زندہ کرے گا ؟ ایسے لوگوں کو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ آخرت کا انکار کرنے کے لیے منکرین کے پاس بڑی سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی کے ساتھ مل جائیں گی۔ تو ہمیں کس طرح زندہ کیا جائے گا ؟ قرآن مجید نے دیگر دلائل کے ساتھ یہ دلیل بھی پیش فرمائی ہے کیا آخرت کے منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان جیسے اور لوگ پیدا کرے۔ اس نے لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ جس کے آنے میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ظالم اس دن کا انکار کرتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی کئی دفعہ قرآن نے واضح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمینوں و آسمانوں کو بغیرنمونے کے پیدا کیا ہے۔ یعنی ان کے پیدا کرنے سے پہلے نہ زمین و آسمان کا میٹریل تھا اور نہ ہی نمونہ موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ناصرف ان کا میٹریل پیدا کیا۔ بلکہ اس کے حکم سے زمین و آسمان معرض وجود میں آئے کیونکہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے۔ تو فقط اتنا فرماتا ہے کہ ” ہوجا “ وہ کام اور چیز اللہ کی منشاء کے مطابق وجود میں آجاتی ہے۔ (البقرۃ : 117) یہاں زمین و آسمان کی تخلیق کا حوالہ دے کر انسان کو اس پر غور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ تاکہ اسے معلوم ہو کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے کے مقابلے میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیونکر مشکل ہے۔ یعنی انسان کی پیدائش زمین و آسمان کی پیدائش سے کھربوں کے حساب سے زیادہ آسان ہے۔ لیکن انسان کے ظلم کی انتہا یہ ہے کہ جب وہ کسی حقیقت کا انکار کرنے پر ضد اختیار کرلے تو اسے کوئی دلیل قائل نہیں سکتی۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَجُلاً کَانَ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللَّہُ مَالاً فَقَالَ لِبَنِیہِ لَمَّا حُضِرَ أَیَّ أَبٍ کُنْتُ لَکُمْ قَالُوا خَیْرَ أَبٍ قَالَ فَإِنِّی لَمْ أَعْمَلْ خَیْرًا قَطُّ ، فَإِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِی ثُمَّ اسْحَقُونِی ثُمَّ ذَرُّونِی فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ فَفَعَلُوا، فَجَمَعَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ قَالَ مَخَافَتُکَ فَتَلَقَّاہُ بِرَحْمَتِہِ )[ رواہ البخاری : کتاب احادیث الأنبیاء، الباب الأخیر ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ تم سے پہلے ایک آدمی تھا اللہ نے اس کو مال کے اعتبار سے بڑی فراوانی دی تھی۔ اس نے اپنے بیٹوں کو حاضر کرکے کہا کہ میں تمہارا کیسا باپ تھا ؟ انہوں نے کہا بہترین ! اس نے کہا یقیناً میں نے کبھی نیک عمل نہیں کیا۔ جب میں مرجاؤں تو تم مجھے جلا دینا۔ پھر میری راکھ کو دور لے جاکر ہواؤں میں اڑا دینا۔ بیٹوں نے اس کے مرنے کے بعد ایسا ہی کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کیا اور فرمایا تجھے کس چیزنے اس کام پر ابھارا تھا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی رحمت میں لے لیا۔ “ مسائل 1۔ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قاد رہے اور وہ دوبارہ پیدا کرے گا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی تخلیق اور موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ 4۔ کافر قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو بغیر نمونے کے پیدا فرمانا : 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر نمونے کے پیدا فرمایا ہے۔ (البقرۃ : 117) 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بغیر نمونے کے پیدا کیا، اس کی نہ اولاد ہے اور نہ اس کی بیوی۔ (الانعام : 101) 3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : 9) 4۔ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو دو دن میں پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : 12) 5۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے ساتوں آسمانوں کو اوپر تلے بنایا۔ (الملک : 3) 6۔ وہ ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا۔ (البقرۃ : 22)