Ayahs 17:56–57فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت 39 سے ہوا تھا۔ اس میں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوا فرمایا گیا کہ اگر آپ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھیں گے تو آپ کو بھی راندہ درگاہ کرکے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس خطاب کا اختتام بھی توحید کے اسی پہلو پر کیا جارہا ہے۔
اے رسول ﷺ ! ان لوگوں کو کہیں کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا مشکل کشا، حاجت روا سمجھتے ہو۔ ان کو بلاؤ۔ وہ تمہاری تکالیف دور کرنے یا ان کو بدل دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ اپنی مدد کے لیے پکارتے ہو۔ وہ تو اپنے رب کے ہاں قرب کے متلاشی ہیں۔ کہ کون ان میں سے اپنے رب کا مقرب بندہ ہے اور کون اس کے عذاب سے ڈرنے والا ہے ؟ کیونکہ آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لیے ہے۔ یاد رہے کہ مکہ کے مشرک پتھر، لکڑی اور مٹی کے بتوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں وسیلہ اور حرمت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انسان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ مگر ان میں ان بزرگوں کی روح حلول کرگئی ہے۔ جن کی عبادت سے خوش ہو کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی خدائی میں سے کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ اہل مکہ کے عقیدہ کے مقابلے میں یہود و نصاریٰ بتوں کو وسیلہ بنانے کی بجائے انبیاء اور صلحاء کی قبروں کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے ” اَلَّذِیْنَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کے بارے میں تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ ” اَلَّذِیْنَ “ کا لفظ ” ذی روح “ اور ” ذوی العقول “ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی روح اور عقل رکھنے والے۔ ظاہر ہے بت نہیں انسان ہیں۔ اس کا معنیٰ ہوا کہ جن بزرگوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ مشکل کشا، حاجت روا اور وسیلہ سمجھتے ہو۔ وہ تو خود اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتے ہیں۔ ان کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے رب کی رحمت کے طلبگار اور اس کے عذاب سے لرزاں وترساں رہتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ایسی خوفناک چیز ہے جس سے ہر حال میں ڈرنا ہی چاہیے۔ اس آیت مبارکہ میں لفظ ” وسیلہ “ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا اردو میں معنیٰ ” ذریعہ “ ہوتا ہے۔ لیکن عربی میں وسیلہ کا معنیٰ ” قربت چاہنا یا ڈھونڈنا “ ہے۔ بعض لوگ وسیلہ کا معنیٰ ” ذریعہ “ لے کر لوگوں کو شرک کی تبلیغ کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کی ہے۔
وسیلہ کی حقیقت :
اردو میں وسیلہ کا معنی ہے ذریعہ اور واسطہ جس سے بیشمار مسلمانوں کو قرآن کے لفظ وسیلہ کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے جبکہ قرآن مجید میں اس کا معنی اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنا ہے۔ ادھر ادھر کے واسطوں کے ذریعے نہیں بلکہ تقوٰی اور نیکی کے کاموں کے ذریعے۔ لہٰذا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کی کوشش کرو۔ حدیث میں وسیلہ کا معنی مقام علیا ہے جس پر فائز ہو کر نبی کریم ﷺ قیامت کے دن رب کریم کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہوئے امت کی سفارش کریں گے۔ اس کا تذکرہ اذان کے بعد کی دعا میں موجود ہے۔ آپ نے اسی مقام کے لیے دعا کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔
یہ دنیا عالم اسباب ہے اس کا پورا نظام اسباب اور وسائل پر چل رہا ہے جب تک وسائل کو بروئے کار نہیں لایا جائے گا۔ اس وقت تک دنیا کے معاملات صحیح سمت پر چلنے تو درکنار زندگی کا باقی رہنا ناممکن ہے۔ ایک شخص کتنا ہی متوکل علی اللہ کیوں نہ ہوا گر پیاس کے وقت پانی نہیں پیتا اور بھوک کے وقت کھانا نہیں کھاتا تو موت کا لقمہ بن جائے گا۔ بیمار کے لیے پرہیز اور دوائی لازم ہے۔ بغیر اسباب کے کسی چیز کو باقی رکھنا یہ صرف خالق کائنات کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
لہٰذا شریعت نے کمزور کے ساتھ تعاون اور بےسہارا کو سہارا دینا اور بےوسیلہ کا وسیلہ بننے کا حکم دیا ہے۔ اس وسیلہ اور اسباب کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اختیارات کے بارے میں دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی وسیلہ اور واسطہ کی ضرورت نہیں وہ مسبب الاسباب اور انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب اور دلوں کی دھڑکنوں کو جاننے والا ہے۔
مدفون بزرگوں کے وسیلہ کی حقیقت :
بندے کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھنے کے لیے یہ گھٹیا اور سطحی تصور بھی دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے اتنی کمزور اور سطحی مثالیں دی جاتی ہیں کہ جس پر آدمی حیرت کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے علماء کا کہنا ہے کہ ڈی سی سے ملنے کے لیے چپڑاسی کی ضرورت ہے مکان کی چھت پر سیڑھی کے بغیر نہیں چڑھا جاسکتا۔ اس باطل عقیدے کو اس شدومد کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے حضرات حتیٰ کہ عدالتوں میں بیٹھنے والے جج ہی نہیں چیف جسٹس، قانون کی باریکیوں اور موشگافیوں سے واقف ماہر وکلاء، اندرون اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل سکالر، الجھے ہوئے مسائل کو سمجھنے اور سمجھانے والے دانشور اس قدراس پروپیگنڈہ سے متاثر ہوئے کہ وہ صحیح بات ماننا تو درکنار اسے ٹھنڈے دل و دماغ سے سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ ذرا غور کیا جائے کہ جس مدفون بزرگ کا وسیلہ تلاش کیا جا رہا ہے اس کی زندگی اور مرنے کے بعد کی حالت میں کتنا فرق ہے ؟
.1 بزرگ بیمار ہوئے۔ ہزار دعاؤں اور دواؤں کے باوجود صحت حاصل نہ کرسکے۔
.2 فوت ہوئے تو گھر میں میت ہونے کے باوجود روتی ہوئی بیٹیوں ‘ تڑپتی ہوئی والدہ ‘ بلکتی ہوئی بیوی ‘ سسکتے ہوئے بیٹے اور آہ وبکا کرنے والے مریدوں کو تسلی نہ دے سکے۔
.3 شرم و حیا کے پیکر ہونے کے باوجود انتہائی بیماری اور فوت ہونے کے بعد نہ استنجا کرنے کی سکت ہے اور نہ غسل کرنے کی ہمت۔
.4 اپنی زندگی میں خود اپنی قبر بنوانے والے بھی چل کر قبر تک نہ پہنچ سکے۔
.5 جو زندگی میں صرف ایک زبان مثال کے طور پر صرف پنجابی زبان جانتے تھے فوت ہونے کے بعد اپنی قبر پر آنے والے سندھی ‘ پشتو اور دوسری زبانوں میں فریاد کرنے والوں کی زبانوں سے کس طرح واقف ہوگئے ؟
.6 جو خوداولاد سے محروم تھے وہ دوسرے کو کس طرح اولاد عطا کرسکتے ہیں ؟
.7 جو زندگی میں خراٹے لینے والی نیند یا کسی بیماری کی وجہ سے بےہوشی کے عالم میں دیکھ اور سن نہیں سکتے موت کے بعد کس طرح سننے اور دیکھنے کے قابل ہوئے ؟
.8 جو زندگی میں دیوار کی دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے تھے اب قبر کی منوں مٹی اور مضبوط پتھروں کے درمیان کس طرح دیکھ سکتے ہیں ؟
.9 جو اپنی حالت سے کسی کو آگاہ نہیں کرسکتے۔ دوسرے کی حالت رب کے حضور کس طرح پیش کرسکتے ہیں ؟
توہین آمیز اور مضحکہ خیز مثال
واعظ کا یہ کہنا ہے کہ چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اس حد تک تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں مگر غور و فکر کے ساتھ سوچیے چھت تو جامد اور ساکت ہے وہ چڑھنے والے کے قریب نہیں آسکتی اس لیے سیڑھی کی ضرورت ہے۔ اللہ کی قدرت و سطوت تو ہر جگہ موجود ہے اور وہ سب سے زیادہ انسان کے قریب حتیٰ کے دل اور شہ رگ پر اس کا اختیار ہے یہاں تو کسی وسیلے و سفا رش اور سیڑھی کی ضرورت نہیں۔ وہ انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب اور سینے کے راز جاننے والا ہے۔ خالق کائنات کے لیے یہ مثالیں اور تشبیہ اس کی توہین کے مترادف ہے۔
(فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاَمْثَالَ )[ النحل : 74]
” اللہ کے لیے ایسی مثالیں بیان نہ کیا کرو “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا معبودان باطل کسی کی تکلیف دور نہیں کرسکتے۔
2۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب ڈرنے کے لیے ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نفع و نقصان کا مالک نہیں :
1۔ فرما دیجیے جن کو تم معبود تصور کرتے ہو ان کو بلا کردیکھو وہ تمہاری تکلیف دور کرنے پر اختیار رکھتے ہیں ؟ (بنی اسرائیل : 107)
2۔ اللہ کے سوا ان کو نہ پکارو جو تمہارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (یونس : 106)
3۔ کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ (الانبیاء : 66)
4۔ فرما دیجیے میں اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : 188، یونس : 49)
5۔ فرما دیجیے کیا تم اللہ کے سوا ان کو دوست بناتے ہو ؟ جو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الرعد : 16)
6۔ وہ اپنے آپ کے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ (الفرقان : 3)
7۔ کیا ہم اللہ کے سوا انہیں پکاریں جو ہمیں نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے ؟ (الانعام : 71)
8۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ؟ (المائدۃ : 86)
9۔ اللہ کے ہاں کون ایسا ہے جو اللہ کی طرف سے آئے ہوئے نفع و نقصان کو روک سکے۔ (الفتح : 11)
10۔ قیامت کے دن تم ایک دوسرے کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہوگے۔ (سبا : 42)
Ayah 17:58فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف ڈرنے کی چیز ہی نہیں بلکہ حقیقتاً بھی نازل ہوتا ہے۔ جس طرح قوم ثمود پر نازل ہو اتھا۔
اللہ تعالیٰ کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ اسے براہ راست پکارنے اور اس کی خالص عبادت کرنے کی بجائے بالواسطہ عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو پکارا جائے۔ شرک کی یہی بڑی اور عالمگیر قسم ہے۔ جس میں ہر زمانے کی اکثریت اور بڑی بڑی اقوام مبتلارہی ہیں۔ اسی سے انبیاء کرام منع کرتے رہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے پانچ بتوں کو وسیلہ بنایا۔ جن کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا فرمان ہے۔ یہ قوم نوح کے فوت ہونے والے پانچ بزرگوں کے نام ہیں۔ جن کی محبت وعقیدت اور احترام میں آکر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہنے کے لیے ان کے مجسمے بنائے۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں ان سے منع کیا۔ تو قوم نے صاف طور پر کہا کہ ہم اپنے معبودوں بالخصوص ود، سواع، یغوث، یعوق اور نصرکو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح قوم نوح کے بعد آنے والی اقوام نے دیگر جرائم اور شرک کا ارتکاب کیا۔ شرک کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو ذلت آمیز عذاب کے ساتھ تہس نہس کیا۔ اب بھی اس کا اعلان ہے کہ قیامت سے پہلے ایسی بستیوں کو تہس نہس کرے گا یا پھر انہیں شدید ترین عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں لوح محفوظ پر ثبت کر رکھا ہے۔ رہی یہ بات کہ پہلے انبیاء کی طرح رسول اکرم ﷺ پر اس قسم کے معجزات کیوں نازل نہیں کیے گئے۔ جو پہلے انبیاء پر نازل کیے گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اقوام منہ مانگے معجزات
Ayah 17:59جھٹلا کر تباہ ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو مہلت دینا چاہتا ہے۔ اگر تمہارے مطالبے پر من وعن معجزہ نازل کر دے تو پہلی اقوام کی طرح مہلت کی گنجائش نہ ہوگی۔ البتہ تم غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا جو معجزے رسول کریم ﷺ کو دیئے گئے ہیں۔ وہ اپنی تاثیر اور نتائج کے لحاظ سے پہلے معجزات کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں۔ پہلے جیسے معجزات نازل نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے لوگوں نے ان معجزات کو جھٹلا دیا تھا اور تم بھی ایسا کرو گے۔ اب تمہارے سامنے قوم ثمود کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ قوم ثمود کے مطالبہ پر ان کے سامنے اونٹنی کا معجزہ ظاہر ہوا۔ جو پہاڑ کو چیرتی، لوگوں کے سامنے ہنہناتی ہوئی ظاہر ہوئی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے۔ اسے تکلیف پہنچانے کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں اذیت ناک عذاب آلے گا۔ (الاعراف : 73)
مگر ان لوگوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ تب ان کے اس جرم کی وجہ سے عذاب نازل کیا گیا۔ جس نے انہیں زمین کے برابر کردیا۔ (الشمس : 14)
جس کا بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی کا کھلا معجزہ دیا۔ انہوں نے اونٹنی پر ظلم کیا۔ حا لا ن کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نشانیاں لوگوں کو ڈرانے کے لیے بھیجی تھیں۔
مسائل
1۔ ہر بستی کی تباہی و بربادی کے متعلق لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
2۔ کفار معجزات سے بصیرت حاصل نہیں کرتے۔
تفسیر بالقرآن
ہر ایک چیز کتاب میں لکھی ہوئی ہے :
1۔ کوئی بستی نہیں مگر ہم اسے قیامت سے پہلے ہلاک یا پھر عذاب میں مبتلا کریں گے یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ (بنی اسرائیل : 58)
2۔ کیا تم نہیں جانتے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ اسے جانتا ہے یہ سب کچھ کتاب میں موجود ہے۔ (الحج : 70)
3۔ کوئی بھی مصیبت جو زمین سے آتی اور تمہیں پہنچتی ہے وہ پہلے ہی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ (الحدید : 22)
Ayah 17:60فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب۔
اس آیت مبارکہ میں جس خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ ہم نے آپ کو پہلے ہی بتلادیا تھا کہ آپ کا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ لوگوں کے لیے آزمائش ہے۔
اس آیت مبارکہ میں جس خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کی دو آراء ہیں۔
1۔ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ یہ خواب غزوہ بدر سے پہلے آپ کو دکھلایا گیا کہ آپ ﷺ اس معرکہ میں کامیاب ہوں گے اور آپ کا دشمن ناکام ہوگا۔ یہ خواب مشرکین کے لیے کڑی آزمائش ثابت ہوا۔ جسے کفار اور مشرکین نے مذاق کا نشانہ بنایا۔
2۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ْکا فرمان ہے۔ یہاں ” رؤیا “ سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ اس سے مراد نبی ﷺ کا معراج ہے۔ آپ ﷺ جب معراج سے واپس تشریف لائے تو کفار نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کو نبی ﷺ کے سامنے کردیا۔ جو لوگ لفظ رؤیا سے یہ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جسمانی معراج کی بجائے خواب میں معراج کروایا گیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر اس لیے درست نہیں کہ اگر آپ ﷺ کفار سے خواب میں مسجد اقصیٰ اور آسمانوں کی سیر کا ذکر کرتے۔ تو اس میں کفار کے لیے کون سی آزمائش اور اعتراض کی بات ہوسکتی تھی۔ کیونکہ خواب میں تو انسان بڑی سے بڑی چیز دیکھنے کا تصور کرسکتا ہے۔ جس طرح معراج کفار کے لیے آزمائش بنایا گیا۔ اسی طرح ہی وہ درخت بھی ان کے لیے آزمائش ثابت ہوا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
(أَذٰلِکَ خَیْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ ۔إِنَّا جَعَلْنَاہَا فِتْنَۃً للظَّالِمِیْنَ إِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخْرُجُ فِی أَصْلِ الْجَحِیْمِ ۔ طَلْعُہَا کَأَنَّہُ رُءُ وْسُ الشَّیَاطِیْنِ )[ الصٰفٰت : 62 تا 65]
” کیا یہ اچھی ہے یا تھور کا درخت ہم نے اسے ظالموں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ وہ ایک ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے۔ اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ “
کفار نے یہ کہہ کر اس حقیقت کا مذاق اڑایا کہ کبھی آگ میں بھی درخت اگا کرتے ہیں۔ یہ کفار کی جہالت اور ہٹ دھرمی تھی ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا بھی عقیدہ تھا کہ انہیں آگ میں پھینکا گیا۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے صحیح سالم باہر آئے۔ نمرود کی آگ انہیں کوئی گزند نہ پہنچا سکی۔ کفار یہ بھی جانتے تھے کہ عرب کے علاقے میں ایک ایسا بھی درخت ہے جس سے آگ نکلتی ہے۔ لیکن جس تھوہر کے درخت کا قرآن مجید نے ذکر کیا ہے کہ وہ جہنم میں ہوگا۔ یہ کہہ کر اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ کبھی آگ میں بھی درخت اگا کرتے ہیں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ آنے والے وقت میں سائنس ہمارا مذاق اڑائے گی۔ جس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سمندر کے پانی کے نیچے بھی آگ کے الاؤ بھڑک رہے ہیں۔ جبکہ قرآن نے یہ حقیقت آج سے چودہ سو سال پہلے آشکارا کردی تھی۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ہُرَیْرَۃَ (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً للنَّاسِ ) قَالَ ہِیَ رُؤْیَا عَیْنٍ أُرِیَہَا رَسُول اللَّہِ ﷺ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ (وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُونَۃَ ) شَجَرَۃُ الزَّقُّومِ )
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً للنَّاسِ ]
” حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے (وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَۃً للنَّاسِوہ آنکھ کا خواب ہے جو نبی کریم کو دکھائی گئی۔ اس رات جب آپ کو سیر کرائی گئی اور (وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُونَۃَ ) سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ہر طرف سے احاطہ کرنے والا ہے۔ 2۔ بعض چیزیں اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے پیدا کی ہیں۔
تفسیر بالقرآن
شجر ملعونہ سے مراد ؟
1۔ تھوہر کے درخت پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ (بنی اسرائیل : 60)
2۔ ہم نے تھوہر کے درخت کو ظالموں کے لیے عذاب بنایا ہے۔ (الصٰفٰت : 62۔ 63)
3۔ تھوہر کا درخت جہنم کی تہہ سے اگے گا۔ (الصٰفٰت : 64) 4۔ یقیناً تھوہر کا درخت مجرموں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : 43)
Ayahs 17:61–62فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی قرآن مجید سے عداوت اور بغاوت شیطان کی پیروی کی وجہ سے ہے۔ شیطان اپنے رب کا سب سے بڑاباغی اور نافرمان ہے۔ جس کی واضح اور پہلی دلیل حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ملائکہ کے سامنے اعلان فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ ملائکہ نے عرض کی کیا آپ زمین میں اس شخص کو خلیفہ بنائیں گے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا ؟ ہم تیری حمد وثناء کے ساتھ تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام چیزوں کے نام بتلائے پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے کرکے ارشاد فرمایا۔ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے عرض کی اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو اتنا ہی علم ہے جتنا آپ نے ہمیں سکھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں تو ہر بات کو جاننے والا ہے اور تیرے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ تم ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ جب آدم (علیہ السلام) نے ان چیزوں کے نام بتا دئیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا۔ کیا میں نے تمہیں نہیں فرمایا تھا کہ میں ہی زمین و آسمانوں کے غیب کو جانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے جو تم ظاہر کررہے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔ اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو۔ ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ ابلیس نے تکبر اور انکار کیا۔ وہ انکار کرنے والوں میں ہوا۔ (البقرۃ : 30 تا 34)
ابلیس نے کفر وتکبر کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں ؟ جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ تو نے اس کو مجھ پر فضلیت دی ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کہنے لگا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (بنی اسرائیل : 61)
اس کے بعد ابلیس اللہ تعالیٰ کے سامنے گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ میں آدم کو سجدہ کروں۔ تو نے آدم کو سیاہ اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ملائکہ کی طرح ابلیس بھی اپنے رب کے سامنے معذرت خواہ ہوتا۔ لیکن وہ حسدوبغض کی وجہ سے بغاوت پہ بغاوت کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ اس نے یہ جسارت بھی کر ڈالی کہ اگر مجھے قیامت تک مہلت دے تو میں چند لوگوں کو چھوڑ کر آدم کی تمام اولاد کو گمراہ کردوں گا۔ ابلیس کا انکار تکبر اور حسد کی وجہ سے تھا۔ تکبر وہ بری چیز ہے کہ جس سے انسان کے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیں اور انسان دنیا میں ہی ذلت و رسوائی سے دوچار ہوجاتا ہے۔۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔
2۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تکبر کی بناء پر سجدہ کرنے سے انکار کیا۔
3۔ شیطان نے قیامت تک اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی، جو اسے دے دی گئی۔
4۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو گمراہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شیطان کی گستاخیاں :
1۔ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس اس سے انکاری ہوا۔ (بنی اسرائیل : 61)
2۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا۔ (الحجر : 30۔ 31)
3۔ کہنے لگا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (بنی اسرائیل : 61)
4۔ شیطان نے کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ (الاعراف : 12)
5۔ اگر تو مجھے قیامت تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے علاوہ اس کی اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔ (بنی اسرائیل : 62)
6۔ شیطان نے کہا تو نے مجھے اس کی وجہ سے گمراہ کیا ہے میں بھی ان کے راستے میں بیٹھوں گا۔ (الاعراف : 16)
Ayahs 17:63–65فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ابلیس نے گستاخی اور بغاوت کی حدیں پھیلانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے رب ! تیری عزت کی قسم میں چند مخلص لوگوں کے علاوہ سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن میرا فرمان بھی سچ اور اٹل ہے کہ میں تجھے اور تیری تابعداری کرنے والوں کو جہنم میں داخل کروں گا (آ : 82 تا 85)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری بارگاہ سے نکل جا۔ تو ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا اور تجھ پر قیامت تک پھٹکار برستی رہے گی۔ (الحجر : 34، 35)
رب ذوالجلال نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ اے ابلیس ! تو نکل جا، جو شخص تیری پیروی کرے گا اس کی سزا جہنم ہوگی۔ جس میں سب کو پوری پوری سزا ملے گی۔ اے ابلیس ! تجھے اختیار دیا جاتا ہے۔ ان میں سے جس کو چاہے اپنی آواز کے ذریعے بہکا لے۔ اپنے پیادوں اور سواروں کے ساتھ چڑھائی کرلے اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا، ان سے وعدہ وعید کر تیرے وعدے مکروفریب کے سوا کچھ نہیں ہوں گے۔ لیکن یاد رکھنا میرے بندوں پر تیرا تسلط قائم نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ تیرا رب ان کا وکیل اور کفیل ہے۔ یہاں شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچ نکلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے قرار دیا ہے۔ جن کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہوتے ہیں۔ مخلص کا معنیٰ ہے ” وفادار، صاف دل، سچا انسان “ (القاموس)
کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ان اوصاف حمیدہ کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں شیطان مستقل طور پر نہیں بہکا سکتا۔ اسی بناء پر شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کہا تھا کہ تیرے مخلص بندوں کے سوا میں سب کو گمراہ کردوں گا۔ (الحجر : 40، آ : 83)
شیطان کو راندہ درگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ” وَاسْتَفْزِزْ “ کا لفظ استعمال فرمایا۔ جس کا معنیٰ ہے ” جوش دلانا، پریشان اور خوفزدہ کرنا، ذلیل سمجھنا اور کرنا “
قرآن مجید کی بلاغت پر قربان جائیں کہ ایک ہی لفظ میں شیطان کے ہتھکنڈوں کو بیان کردیا ہے۔ شیطان، انسان کو جوش دلا کر قتل و غارت کرواتا ہے۔ جذباتی بنا کر بدکاری میں مبتلا کرتا ہے۔ اشتعال دلا کر جو چاہے انسان سے فعل سرزد کروا لیتا ہے۔ اگر جوش سے کام نہ بنتا ہو۔ تو وہ کسی چیز کے چھن جانے کا خوف دلاتا ہے۔ یہ سارے کام انسان سے اس لیے کرواتا ہے کہ شیطان پہلے دن سے انسان کو حقیر سمجھتا ہے اور اس کو ذلیل کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ شیطان گانا بجانا، بےحیائی کی باتوں اور ہر قسم کے دھوکہ فریب سے انسان کو گمراہ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔” تو اپنے پیادوں اور لشکروں کے ذریعے زور لگا کر لوگوں کے مال اور اولاد میں شریک ہوجا۔ “ کیونکہ ظاہر ہے کہ انسان سواری استعمال کرتا ہے یہاں سے ثابت ہوتا ہے شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیے ہر قسم کے ذرائع استعمال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ شیطان صرف جنات سے ہی نہیں ہوتے بلکہ انسانوں سے بھی ہوتے ہیں۔ جن سے پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۔ مَلِکِ النَّاسِ ۔إِلٰہِ النَّاسِ ۔ مِنْ شَرِّالْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۔ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ۔ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ ۔ )[ الناس : 1 تا 6]
” آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، جو لوگوں کا بادشاہ ہے، جو لوگوں کا اِلٰہ ہے، وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو (وسوسہ ڈال کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے وہ جنوں اور انسانوں میں سے ہے۔ “
مال میں شریک ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ انسان اپنا مال بےحیائی، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، شرک کی حمایت اور اس کے مرکزوں پر خرچ کرنے کے ساتھ فضول کاموں پر خرچ کرے۔ اولاد میں شریک کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی اولاد دے سکتا ہے یا اولاد دینے میں پیروں، فقیروں اور مزارات کا بھی عمل دخل ہے۔ اولاد کی پیدائش کے بعد انہیں مزارات کے نام منسوب کرنا یا ان کا نام ” پیراں دتہ “ یا کسی بت کے نام پر نام رکھنا۔ اولاد میں شیطان کو شریک کرنا ہے۔ اولاد کو برے کاموں میں لگانا یا اس کو شرک و بدعت اور بےحیائی کا ماحول دینا۔ یہ بھی اولاد میں شیطان کو شریک کرنا ہے۔
(وَقُلْ رَبِّ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزَات الشَّیَاطِیْنِ ۔ وَأَعُوذُ بِکَ رَبِّ أَنْ یَحْضُرُوْنِ ) [ المومنون : 97۔ 98]
” کہہ دیجیے اے میرے پروردگار ! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔ “
مسائل
1۔ شیطان کے تابعدار کی سزا جہنم ہے۔ 2۔ شیطان کے پیرو کار کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔
3۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک مہلت دی۔ 4۔ شیطان انسان سے جھوٹے وعدے کرتا ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے شیطان کے قابو میں نہیں آتے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی ہے :
1۔ میرے بندوں پر شیطان کی کوئی دلیل کار گر نہ ہوگی تیرا رب تجھے کافی ہے۔ (بنی اسرائیل : 65)
2۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اللہ ولی اور مددگارکافی ہے۔ (النساء : 45)
3۔ ان سے اعراض کیجیے اور اللہ پر توکل کیجیے اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : 132)
4۔ اللہ ہی کے لیے آسمان و زمین کی بادشاہت ہے اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : 171)
5۔ اللہ پر توکل کیجیے، اللہ ہی کارساز کافی ہے۔ (الاحزاب : 3)
Ayahs 17:66–67فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات اپنے بندوں کو شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتی ہے وہی تمہارا رب ہے جو تمہیں سمندر کی طغیانیوں سے بچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دیتا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر بڑا مہر بان ہے۔ جب تمہیں سمندر میں کوئی پریشانی آتی ہے تو جنہیں تم مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو۔ وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اپنے رب سے انحراف کرتے ہو وجہ یہ کہ انسان اپنے رب کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ سمندر کے سینے پر چلنے والی کشتیوں اور بڑے بڑے جہازوں کی طرف توجہ کی جائے تو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جو پانی اپنے اوپر ایک سوئی کو برداشت نہیں کرتا۔ اسی پانی کی لہریں کشتیوں اور جہازوں کو ساحل مراد تک پہنچانے میں خدّام کا کام دیتی ہیں۔ کشتیاں اور بحری جہاز ٹنوں کے حساب سے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ‘ اور نقل وحمل کا یہ سب سے بڑا اور مفید ترین ذریعہ ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے دنیا کی سب سے بڑی تجارت بحری راستوں کے ذریعے ہی ہورہی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ یہاں مشرک کی عادت بیان کی گئی ہے کہ وہ صرف انتہائی مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے لیکن جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ۔ مشرک کو جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدر کرنی چاہیے تھی اس طرح نہیں کی۔ قیامت کے دن ساتوں زمینیں اور آسمان اللہ کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اللہ لوگوں کے شرک کرنے سے پاک اور عالی مرتبت ہے۔ (الزمر : 67)
جہاں تک مشرکین مکہ کے عقیدہ کا تعلق ہے۔ ان کے بارے میں قرآن مجید بار با رگواہی دیتا ہے کہ وہ انتہائی مشکل کے وقت صرف ایک اللہ کو پکارا کرتے۔ جب انہیں مشکل سے نجات حاصل ہوتی تو پھر وہ اپنے بتوں اور دوسروں کے طفیل حرمت اور واسطے سے دعا کرتے تھے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے۔ افسوس آج بیشمار کلمہ پڑھنے والے حضرات انتہائی مشکل کے وقت بھی صرف اللہ سے براہ راست مانگنے کی بجائے اپنے فوت شدہ بزرگوں کی حرمت، طفیل، صدقہ اور وسیلہ سے مانگتے ہیں حالانکہ یہی وہ شرک کی عالمگیر قسم ہے جس سے انبیاء کرام لوگوں کو منع کرتے رہے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ ہی سمندروں میں کشتیوں کو چلانے والا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ رحم فرمانے والا ہے۔
3۔ مشرک مشکل میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے۔ 4۔ انسان اپنے رب کانا شکرا ہے۔
5۔ نجات ملنے کے بعد مشرک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے اعراض کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
مشرک انتہائی مشکل کے وقت ایک اللہ کو پکارتا ہے :
1۔ جب دریا میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اللہ کے سواسب کو بھول جاتے ہو۔ (بنی اسرائیل : 67)
2۔ انہوں نے خیال کیا کہ وہ گھیرے میں آگئے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (یونس : 22)
3۔ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتًا اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65)
4۔ جب انہیں موجیں سائبان کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں۔ (لقمان : 32)
5۔ وہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں خالصتاً اسی کو پکارو۔ (المومن : 65)
6۔ انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک اللہ کو پکارو۔ (البینۃ : 5)
Ayahs 17:68–69فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو پے درپے تین چیلنج دیئے گئے ہیں۔
پہلے مشرکین کی عادت کا ذکر ہوا ہے کہ جب دریائی سفر میں طوفان سے دوچار ہوتے ہیں تو صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اور اسی کے حضور فریادیں کرتے ہیں۔ اس سے وعدے کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اگر تو نے ہمیں اس گرداب سے نکال لیا تو ہم صرف تیرے ہی حضور جھکیں گے اور تجھ ہی سے فریاد کریں گے۔ یقیناتو ہی مشکل کشا ہے تیرے سوا کوئی بھی اس بھنور سے نہیں نکال سکتا مگر جب خشکی پر اترتے ہیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پے در پے تین چیلنج کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں خشکی ہی میں دھنسا دے۔ کیا رب ذوالجلال اس بات پر قادر نہیں ؟ کہ تمہیں دوبارہ ایسے حالات اور گرداب سے دوچار کردے پھر تم اس کے سوا کوئی نہ اپنا مددگار پاؤ گے اور نہ ہی اس کی گرفت پر اس کے خلاف کوئی تعاقب نہیں کرسکتا ہے۔ جس طرح اس نے قارون کو اس کی دولت کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا اور قوم لوط کو ان کی بستی سمیت اٹھا کر زمین پردے مارا اور اوپر سے پتھر برسائے۔
(فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِنْ سِجِّیْلٍ مَنْضُوْدٍ مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ )[ ھود : 82، 83]
” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا، ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “
قوم مدین کو ایک کڑک نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے اور ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پھٹکاری گئی۔ مفسرین نے لکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ان پر سات راتیں آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ وہ نہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے ٹھہر سکتے تھے وہ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان کے اوپر سایہ فگن ہوا۔ جب سب کے سب بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے اور زمین زلزلہ سے لرزنے لگی پھر ایسی دھماکہ خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔
مسائل
ا۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے عذاب مسلط کرسکتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی کارساز نہیں ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ دوبارہ بھنور میں مبتلا کرنے پر قادر ہے۔ 4۔ اللہ کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا کارساز ہے :
1۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، سو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الانعام : 102)
2۔ بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : 12)
3۔ اللہ ہر چیز کا پروردگار ہے اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (الزمر : 41)
4۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور وہی کارساز کافی ہے۔ (النساء : 132)
5۔ میرے بندوں پر شیطان کا داؤ پیچ نہیں چلے گا اللہ اپنے بندوں کے لیے کار ساز ہے۔ (بنی اسرائیل : 65)
6۔ وہ مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اسی کو کار سازمانو۔ (المزمل : 9)
Ayah 17:70فہم القرآن
ربط کلام : برے لوگوں کا انجام بتانے کے بعد انسان کو اس کا مرتبہ ومقام یاد دلایا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کو بحر وبر پر فضیلت دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دست مبارک کے ساتھ بنایا اور اس میں اپنی روح القاء فرمائی۔ پھر اس کی خلافت کا اعلان فرمایا اور تمام ملائکہ کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ابلیس کے سواحضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام ملائکہ نے سجدہ کیا۔ سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے شیطان کو ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ کرنے کے ساتھ لعنتی قرار دیا۔
” جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔ جب اس کو بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک لوں تو اس کے آگے سجدے میں گرپڑنا۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں سے تھا ؟ بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا۔ فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت پڑتی رہے گی۔ “ (ص : 71 تا 78)
پھر آدم (علیہ السلام) کو زمین پر بھیجا اور ہر چیز کو اس کی خدمت کرنے کا حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں شمس وقمر، صحراودریا غرضیکہ ہر چیز اس کی نوکری اور چاکری میں لگی ہوئی ہے۔ اسی غلامی کا نتیجہ ہے کہ انسان نے ہوا پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ سینکڑوں من بوجھ اٹھائے ہوائی جہاز فضا میں پرواز کرتے ہوئے مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کر رہے ہیں۔ سمندروں کے رخ تبدیل کیے جارہے ہیں۔ چاند، ستاروں پر کمندیں ڈالی جا رہی ہیں۔ نہ معلوم آنے والے وقت میں انسان خداداد عقل و دانش سے اس کائنات کو کس کس انداز میں اپنے مطیع کرنے کی کوششیں کرے اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے کیا کیا کرتب دکھائے گا۔ لیکن افسوس جتنا انسان بااختیار ہوتا جاتا ہے۔ اتنا ہی اپنے رب کا نافرمان بنتا جا رہے۔ جس کے نتیجہ میں بیماریوں میں مبتلا اور کئی قسم کی مشکلات میں پھنسا جا رہا ہے۔ اگر انسان نے یہی طور طریقے اپنائے رکھے تو آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی ذلیل ہو کر رہ جائے گا۔ اگر انسان اپنا کھویا ہوا مقام اور اعزاز واپس لینا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ بلاشرکت غیرے اپنے رب کی غلامی میں آجائے۔ انسان نہ صرف اپنی قدوقامت اور شکل و صورت کے لحاظ سے باقی مخلوق سے اعلیٰ اور بہتر ہے بلکہ یہ خوردو نوش، رہائش اور زیبائش کے اعتبار سے سب سے بہتر اور خوبصورت ہے۔ اب انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے عقیدہ، اخلاق اور کردار کے حوالے سے ثابت کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مرتبہ اور مقام کا اہل ہے۔ مگر انسان کی بد قسمتی ہے کہ اس کی اکثریت نے ہر دور میں اپنے آپ کو نااہل ثابت کیا۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
(وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُونِ ۔ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ ۔ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِیْنِ ۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ ۔إِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ فَلَہُمْ أَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۔ فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بالدِّیْنِ ۔ أَلَیْسَ اللَّہُ بِأَحْکَمِ الْحَاکِمِیْنَ )[ التین : 1 تا 8]
” قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سینا اور اس پر امن شہر (مکہ) کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے کہ ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ پس (اے نبی ! ) اس کے بعد کون جزا اور سز ا کے معاملہ میں تم کو جھٹلا سکتا ہے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ساری مخلوق پر فضیلت عظمت عطا فرمائی ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بحر وبر پر برتری عنایت فرمائی ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسان کی پوری مخلوق پر فضیلت و برتری :
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا ہے۔ (ص : 75)
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ملائکہ سے سجدہ کروایا۔ (البقرۃ : 34)
4۔ سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے ابلیس کو ہمیشہ کے لیے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ اور لعنتی قرار دیا۔ (الحجر : 34۔ 35)
5۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو انسان کے لیے مسخر فرمایا۔ (الجا ثیۃ : 13)
Ayah 17:71فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو اشرف المخلوقات اور بحروبر میں عزت و عظمت سے نوازنے کے ساتھ کھلا نہیں چھوڑ دیا گیا۔ بلکہ اس کا پورا پورامحاسبہ ہوگا۔
قرآن مجید بار بار یہ حقیقت ازبر کرواتا ہے کہ اے انسان ! تیرے ایک ایک عمل اور لفظ کو ضبط تحریر میں لایا جارہا ہے۔ کراماً کاتبین صبح و شام تیرے اعمال کا اندارج کر کے اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن پورے کا پورا ریکارڈ کتاب کی شکل میں تیرے سامنے رکھ دیا جائے گا پھر حکم ہو گا
(اقْرَأْ کِتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا )[ بنی اسرائیل : 14]
” اپنی کتاب یعنی اعمال نامے کو پڑھ۔ جو تیرے حساب کے لیے کافی ہے۔ “
انسان اپنا اعمال نامہ دیکھ کر پکا راٹھے گا کہ ہائے افسوس ! اس میں ہر چھوٹی بڑی بات لکھ دی گئی ہے۔ اس نے تو کسی بات کو نہیں چھوڑا۔ (الکہف : 49)
قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال نامہ کی طرف بلایا جائے گا جس کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ وہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر خوش ہوگا اور کسی پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ جو دنیا میں ہدایت سے اندھا رہا وہ آخرت میں اندھا ہوگا اور۔ یہاں پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ لفظ امام کے صحابہ کرام ؓ نے تین معنی لیے ہیں۔
1۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ امام سے مراد ہر امت کا نبی ہوگا۔ جن کو اللہ تعالیٰ حکم فرمائیں گے کہ اپنی امت کو لے کر میری بارگاہ میں فلاں وقت حاضر ہوجاؤ۔ چناچہ ہر نبی اپنی امت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر جواب دہ ہوگا۔ (بنی اسرائیل : 71)
2۔ دوسری جماعت نے امام سے مرادہر شخص کا اعمال نامہ لیا ہے۔ کیونکہ ” بِاِمَامِھِمْ “ کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں کہ جس شخص کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ لہٰذا صحابہ کرام ؓ اور تابعین کی دوسری جماعت کا خیال ہے کہ اس آیت کے سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں ” امام “ سے مراد ہر شخص کا اعمال نامہ ہے۔ اور اسی کی طرف سب کو بلایا جائے گا۔
3۔ صحابہ کرام کی تیسری جماعت نے ” بِاِمَامِھِمْ “ کا یہ معنیٰ لیا ہے کہ ہر شخص کو اس کے امام یعنی پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ جن لوگوں نے قرآن وسنت کے حاملین کو اپنا رہبر اور پیشوابنایا۔ وہ ان کے ساتھ پیش ہوں گے اور جن لوگوں نے برے لوگوں کو اپنا رہبر اور پیشوامانا۔ وہ ان کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔
4۔ جب سے مسلمانوں میں چار آئمہ کی تقلید کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ اس وقت سے لیکر بعض علماء اپنے اپنے امام کی اہمیت اور اس کی تقلید ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ کہ اس آیت کی بنیاد پر آئمہ کی تقلید ثابت ہوتی ہے لہٰذا مسلمانوں کو کسی ایک امام کا مقلد ہونا ضروری ہے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن سب کو ان کے نامہ اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا۔ 2۔ ہر امت کو اس کے نبی کے ساتھ بلایا جائے گا۔
3۔ جن کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ملے گا وہ اسے پڑھ کر خوش ہوگا۔ 4۔ جس کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا وہ پچھتائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا :
1۔ ہر جان کو اس کی کمائی کا پورا پورا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 28)
2۔ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (یونس : 54)
3۔ نیک لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ (مریم : 60)
4۔ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الزمر : 69)
5۔ ہر انسان کو اس کے اعمال کا پورا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ (النحل : 111)
6۔ قیامت کے دن ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 181)
7۔ ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور کسی پر دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : 124)
8۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کا صلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران : 161)
Ayahs 17:72–75فہم القرآن
ربط کلام : ہدایت سے اندھے لوگ صرف خود گمراہ اور اندھے نہیں ہوتے۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ اور اندھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گمراہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) کو ورغلانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ نبی معظم ﷺ کے مخالفوں کی بھی یہی کوشش تھی کی کسی طرح آپ کو بہکا دیں۔
آپ ﷺ کے مخالفوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے آپ کو بہکانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ان کی سازشوں اور کوششوں کے پیش نظر آپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ان آیات کا ترجمہ بریلوی مکتبہ فکرکے ایک عالم نے اپنی تفسیر میں یوں کیا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا۔ اگر اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی۔ تو کفار کی سازشیں اور مخالفت اس قدر شدید تھیں کہ آپ بھی ان کی طرف جھک جاتے۔ اگر آپ جھک جاتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا اور آخرت میں دوگنا عذاب کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے الفاظ آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں بھی استعمال فرمائے ہیں۔ اے پیغمبر کے گھر والو ! اگر تم میں سے کوئی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے تو اسے دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں۔ (الاحزاب : 30) (ضیاء القرآن)
انہوں نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو بر گشتہ کردیں۔ اس کتاب سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ ہماری طرف بہتان منسوب کریں۔ اس صورت میں وہ آپ کو اپنا گہرادوست بنا لیں گے (73) اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ ضرور مائل ہوجاتے ان کی طرف کچھ نہ کچھ۔ (74) بفرض محال اگر آپ ایسا کرتے تو اس وقت ہم آپ کو چکھاتے دوگنا عذاب، موت کے بعد۔ پھر آپ نہ پاتے اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔ ان آیات میں ایک طرف کفار کی سازشوں اور مذموم کوششوں کا ذکر ہے اور دوسری طرف ان الفاظ میں رسول معظم ﷺ کی ثابت قدمی اور استقامت کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ رسول معظم ﷺ کی عظیم جدوجہد اور بےمثال استقامت دیکھ کر بالآخر کفار ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
مسائل
1۔ جو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ 2۔ کفار آپ ﷺ کو راہ حق سے بھٹکانہ چاہتے تھے۔
3۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حق پر قائم رہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا۔
5۔ اگر آپ ﷺ کفار کے پیچھے لگتے تو آپ کو دوگنا عذاب کا سامنا کرنا پڑتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا :
1۔ پھر ہم تجھے دنیا اور آخرت میں دو گنے عذاب سے دو چار کرتے اور آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔ (بنی اسرائیل : 75)
2۔ پھر وہ اپنا کوئی دوست اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الفتح : 22)
3۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی یا برائی کا ارادہ کرے تو کوئی اس سے آپ کو بچا نہیں سکتا۔ (الاحزاب : 17)
4۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب : 65)
Ayahs 17:76–77فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کے خلاف کفار کا نظریاتی سازشوں اور شرارتوں کے بعد معاشرتی بائیکاٹ اور جلا وطن کردینے کی سازش کرنا۔
اہل مکہ اور ان کے گردونواح کے کفار نے آپ کو اعتقادی اور نظریاتی طور پر پسپا کرنے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ جب اس میں سراسر ناکام ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ ، آپ کے خاندان اور صحابہ کرام ؓ کا سوشل بائیکاٹ کیا۔ جس کی بناء پر تین سال تک آپ اور آپ کے ساتھی شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ بائیکاٹ اس قدر سخت تھا کہ بعض اوقات بھوک کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے رونے کی آوازیں مکہ شہر میں سنائی دیتی تھیں لیکن کفار آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکے۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دینے کے بارے میں کئی دفعہ سوچا۔ جب آپ تبلیغ کے لیے طائف تشریف لے گئے۔ تو واپسی پر مکہ والوں نے آپ کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک قریشی سردارجناب مطعم کو یہ ہمت دی کہ جس نے کافر ہونے کے باوجود مکہ کے چورا ہے میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ میں محمد کو شہر میں واپس لارہا ہوں۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو مجھے آگے بڑھ کر روک لے۔ ممکن ہے اسی واقعہ کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہو۔ جس کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ قریب تھا کہ آپ کو مکہ سے دربدر کردیتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام کردیا۔ اگر آپ کو مکہ سے نکال دیتے تو یہ لوگ بھی زیادہ دیر تک مکہ میں نہ ٹھہر پاتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انبیاء ( علیہ السلام) کے بارے میں ایک طے شدہ طریقہ ہے کہ کسی نبی کو اس کے شہر سے نکال دیا جائے تو وہ قوم خود بھی زیادہ دیر تک وہاں نہیں ٹھہر سکتی۔ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی شکل میں اس قوم کو تباہ کردیتا ہے۔ مکہ والوں نے جب آپ کو نبوت کے تیرھویں سال مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا۔ تو ٹھیک ایک سال کے بعد مکہ کے بڑے بڑے سردار غزوہ بدر میں مارے گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنا ضابطہ نافذ کیا۔ جس کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہمارا ضابطہ اور طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔
حضرت ابراہیم کو ان کے باپ نے گھر سے نکل جانے کا کہا :
(قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آَلِہَتِی یَا إِبْرَاہِیْمُ لَءِنْ لَمْ تَنْتَہِ لَأَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِی مَلِیًّا۔ )[ مریم : 46]
” اس نے کہا اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجا۔ “
حضرت لوط اور انکے ساتھیوں کو نکال دینے کی دھمکی :
(وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِی مِلَّتِنَا فَأَوْحٰی إِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ لَنُہْلِکَنَّ الظَّالِمِیْنَ )[ ابراہیم : 13]
” اور جو لوگ کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ۔ تو پر ور دگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔ “
مسائل
1۔ کفار آپ ﷺ کو سرزمین حجاز سے نکالنے کے درپے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
3۔ پہلے انبیاء کرام کیساتھ ایسا معاملہ پیش آتا رہا ہے۔ 4۔ نبی کریم ﷺ کے خلاف ہر وقت اہل مکہ سازشیں کیا کرتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی سنت اور طریقہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا :
1۔ آپ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ (بنی اسرائیل : 77)
2۔ کیا وہ پہلوں کے انجام کا انتظار کرتے ہیں ؟ یہ اللہ کے طریقہ میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ (فاطر : 43)
3۔ اللہ کے طریقہ میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب : 62)
4۔ آپ اللہ کے طریقہ کو تبدیل ہونے والا نہیں پائیں گے۔ (الفتح : 23)