Ayah 17:100فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت نمبر 85 سے ہوا تھا۔ اس سے اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔ اے نبی ! اللہ تعالیٰ کا آپ پر یہ عظیم فضل ہے کہ اس نے آپ کو اپنے پیغام کے لیے منتخب کیا ہے اور قرآن مجید جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اب اس خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کفار کو مخاطب کیا گیا ہے۔ کہ حق کا انکار کرنے والا صرف روحانی اور اخلاقی طور پر کم ظرف نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ دنیوی طور پر بھی بخیل اور کم ظرف ہوتا ہے۔
دیگر فرسودہ دلائل کے ساتھ اہل مکہ اس لیے نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے کہ یہ بشر ہے اور ہم اس جیسے چلتے پھرتے انسان کو اپنے آپ پر کس طرح بڑاتسلیم کرسکتے ہیں۔ اس بات کا اظہار ابو جہل نے اپنے ایک ساتھی کے سامنے یوں کیا تھا کہ زم زم کا انتظام، حجاج کی خدمت اور فلاں فلاں کام بنو ہاشم نے سنبھال رکھے ہیں۔ اگر ہم ان کے آدمی کی نبوت کا اعتراف کرلیں تو خاندانی طور پر ہمارے پلے کیا رہ جاتا ہے ؟ اس لیے میں اسکی نبوت کا انکار کرتا ہوں اور تا دم آخر کرتارہوں گا۔ گویا کہ کفار اپنی طبیعت کا انقباض اور چھوٹا پن چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کے چھوٹے پن اور کم ظرفی کو اس حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔ جس میں بین السطور آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو پریشان ہونے کی بجائے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ یہ تو اس قدرکم ظرف لوگ ہیں کہ اگر ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے جمع ہوجائیں تو یہ خرچ کرنے کی بجائے ان پر سانپ بن کر بیٹھ جائیں۔ کیونکہ انسان بنیادی طور پر تنگ دل واقع ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کا کچھ نہ کچھ طبعی رجحان بخل کی طرف ہوتا ہے لیکن کافر اس لیے زیادہ بخیل ہوتا ہے کہ اسے آخرت میں کسی اجروثواب کی امید نہیں ہوتی مال کے حوالے سے کافر کے بخیل ہونے کا ذکر فرماکر یہ واضح کیا گیا ہے۔ یہ اس کی کم ظرفی کا نتیجہ ہے کہ جس طرح وہ اپنے ہاتھ سے کوئی چیز دینا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہی اپنا باطل نظریہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسلام قبول کرنے میں کافر کو اپنے مال اور دنیوی عزت کے بارے میں نقصان کا اندیشہ ہوتا۔
Ayah 17:101فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اہل مکہ نے اپنی طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں آکر نبی معظم ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اسی طرح ہی فرعون نے مال واسباب اور اقتدار کے نشے میں آکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا تھا۔ حالانکہ اس کے سامنے بڑے بڑے معجزات پیش کیے گئے۔
سورۃ مزمل کی آیت : 15 میں نبی ﷺ کی نبوت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے مماثل قرار دیا ہے۔ اس لیے قرآن میں جابجا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک طرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور دوسری طرف اہل مکہ کے انجام کی طرف اشارہ اور مومنوں کو سمجھایا گیا ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو حق و باطل کی کشمکش کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اسی حوالے سے امّتِ مسلمہ بالخصوص کفار کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر کفار کو اس میں کوئی شک ہے تو انہیں اہل کتاب سے اس بارے میں پوچھ لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نوبڑی بڑی نشانیاں دے کر فرعون کے پاس بھیجافرعون نے اقتدار کے نشے اور مال و اسباب کے گھمنڈ میں آکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں کہ تجھ پر جادو ہوگیا ہے۔ یہی بات اہل مکہ نبی محترم ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ اس پر جادو کردیا ہے۔ جس وجہ سے نہ اسے ہماری مخالفت کی پروا ہے نہ ہی ہماری پیش کشوں کی طرف توجہ دیتا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جانے والی نو نشانیاں :
اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ ابن کثیر ؓ نے حضرت موسیٰ کو دی جانے والی نشانیوں کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاھد، عکرمہ، شعبی اور قتادہ کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی جانے والی نشانیاں یہ تھیں۔ 1۔ یدِبیضاء، 2۔ عصا، 3۔ قحط سالی، 4۔ پھلوں کی کمی، 5۔ طوفان، 6۔ ٹڈی دل، 7۔ جوئیں کھٹمل، 8۔ مینڈک اور 9۔ خون کے عذاب۔ “ [ ابن کثیر ]
Ayahs 17:102–103فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا ذکر جاری ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کا الزام سننے کے بعد نہایت حوصلہ اور سمجھ داری کے ساتھ فرمایا۔ اے فرعون ! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ جو معجزے میں تیرے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ میرے اور کسی انسان کے بس کا روگ نہیں۔ یہ تو اس رب کی طرف سے ہیں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس راستے پر تم چل رہے ہو۔ یہ راستہ تیری اور تیری قوم کی تباہی کا راستہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے معجزات پیش کرتے ہوئے ” بَصَاءِرُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا واحد بَصِیْرَۃٌہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ آنکھوں کی بینائی کو بصارت اور دل و دماغ کے ساتھ کسی بات کو جاننے کو بصیرت کہا جاتا ہے۔ بصیرت میں وہ قوت ہے۔ جس سے انسان اچھے برے کی تمیز کرتا ہے۔ بصیرت پر جب اقتدار، مال واسباب اور دنیا کے کسی مفاد کا پردہ پڑجائے تو کھلی آنکھوں اور اپنے کانوں سے سننے کے باوجود آدمی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ نشانیوں کو یکے بعد دیگرے دیکھنے اور جاننے کے باوجود انکار کردیا تھا۔ بالآخر اپنی قوم کے ساتھ تباہی کے گھاٹ اتر گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کی کوشش تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو مصر سے باہر نکال پھینکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ڈبکیاں دے دے کر مارا اور فرعون کی لاش کو دنیا کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ جس طرح فرعون اور اس کے ساتھیوں کی خواہش اور کوشش تھی کہ موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو مصر سے نکال دیا جائے، یہی کوشش اہل مکہ کی تھی کہ اس نبی اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال دیا جائے۔ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ناکام ہوئے اسی طرح نبی ﷺ کے دشمن اپنے عزائم میں نامراد ہوئے۔
(فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً وَإِنَّ کَثِیْرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ اٰیَاتِنَا لَغَافِلُوْنَ )[ یونس : 92]
” آج ہم تیرے بدن کو نکال لیں گے تاکہ تو آنے والوں کے لیے عبرت بنے۔ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔ “
نبی معظم ﷺ کے دشمن بھی ہلاک ہوئے :
(عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ بَدْرٍ مَنْ یَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَہْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَوَجَدَہُ قَدْ ضَرَبَہُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّی بَرَدَ ، فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ فَقَالَ أَنْتَ أَبَا جَہْلٍ قَالَ وَہَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَہُ قَوْمُہُ أَوْ قَالَ قَتَلْتُمُوہُ )[ رواہ البخاری : باب قتل ابی جہل ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے موقع پر فرمایا ابو جہل کی کون خبرلائے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ؟ عبدا للہ بن مسعود ؓ تو انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے بیٹوں نے اسے قتل کردیا ہے۔ انہوں نے اس کی داڑھی سے پکڑ کر پوچھا تو ابوجہل ہے۔ اس نے جواب دیا تم نے بڑے آدمی کو قتل کیا ہے یا کہا تم نے اسے قتل کیا ہے جو قوم کا سردار ہے ؟
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات عطا فرمائے۔
2۔ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کے قدم اکھاڑنے چاہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا۔
تفسیر بالقرآن
فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی :
1۔ ہم نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ (بنی اسرائیل : 103)
2۔ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (الانفال : 54)
3۔ ہم نے موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی اور دوسروں کو ہم نے غرق کردیا۔ (الشعراء : 66۔ 67)
4۔ ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : 136)
5۔ ہم نے تمہیں نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا۔ (البقرۃ : 50)
Ayahs 17:104–106فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل کو حکم۔
اللہ تعالیٰ نے اسی سورة میں فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا۔ جس میں پہلا حکم یہ تھا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز اور مشکل کشا نہ سمجھنا۔ سورة البقرۃ آیت 83، 84 میں اس فرمان کی تفصیل ہے ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں کو اچھی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکٰو ۃ ادا کرنا۔ لیکن تھوڑے لوگوں کے سوابنی اسرائیل کی اکثریت نے اس عہد سے منہ پھیرلیا “ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ آپس میں کشت وخون کرنے سے بچنا اور کمزور لوگوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالنا۔ بنی اسرائیل نے وعدہ کیا اور وہ اس پر گواہ ہیں۔ اس فرمان کے بعد انہیں یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ تم ضرور پہلے کی طرح ملک میں فساد اور انتہا درجے کی سرکشی کرو گے۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق پہلی مرتبہ تم پر اپنے سخت گیر بندے مسلط کرے گا۔ جو اس قدر سخت گیر ہوں گے کہ تمہیں قتل کرنے کے لیے تمہارے گھروں میں گھس جائیں گے۔ دوسری مرتبہ اپنے ایسے بندے تم پر غالب کرے گا کہ جو مار مار کر تمہارے چہرے بگاڑ دیں گے۔ یہاں تک کہ مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی کریں گے۔ تفصیل جاننے کے لیے اسی سورة کی آیت 2 تا 8 اور بنی اسرائیل کی آیت 5 تا 7 کی تلاوت کریں۔ دنیا کی اس سز ا کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آخرت میں جمع کرے گا جس میں ہر کسی کا پورا پور احساب چکادیا جائے گا۔
مسائل
1۔ فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل کو ان کی زمین کا وارث بنایا گیا۔
2۔ قیامت کے دن سبھی لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو ان کی عزت رفتہ کا حوالہ دیتے ہوئے آخرت کا خوف دلاکر قرآن مجید کی دعوت، رسول کریم ﷺ کی رسالت اور منصب کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز میں معراج کا ذکر فرماکر اہل مکہ کو بین السطور یہ سمجھایا گیا کہ تم جس قد رچاہو رسول اکرم ﷺ کی مخالفت کرلو۔ لیکن غور کرو کہ واقعہ معراج میں تمہارے لیے یہ سبق ہے کہ پیغمبر اور اس کی امت کا مستقبل روشن ہے یہ دنیا اور آخرت میں اس قدر ترقی پائیں گے کہ اے نبی کے مخالفو ! تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا ذکر کیا اور بنی اسرئیل کو ان کا ماضی یادد لانے کے بعد مسلسل ایسی ہدایات اور احکام نازل فرمائے۔ جن میں کفار کے ساتھ گاہے بگاہے اہل کتاب کو بھی مخاطب کیا ہے۔ اب سورة کا اختتام کرنے سے پہلے کفار اور بنی اسرائیل دونوں کو بیک وقت مخاطب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ قرآن جو حق کا ترجمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یعنی اس کتاب اور اس کے نزول کے کسی مرحلہ میں باطل کی آمیزش کی رتی برابر گنجائش نہیں ہے۔ اے رسول ! جو لوگ اس حق کو مانتے ہیں۔ آپ ان کو خوشخبری کا پیغام سنائیں اور جو حق کو نہیں مانتے آپ ان کو ان کے انجام سے ڈرائیں یہی آپ کے منصب کا تقاضا اور آپ کی تبلیغ کا خلاصہ ہے۔ اسی خاطر قرآن مجید کو ہم نے یکبارگی نازل کرنے کی بجائے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور سمجھائیں۔
مسائل
1۔ قرآن مجید کو حق کے ساتھ نازل کیا گیا۔ 2۔ آپ کو خوشخبری دینے اور ڈرانے کے لیے بھیجا گیا۔
3۔ قرآن مجیدکو بتدریج نازل کیا گیا۔ 4۔ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔
Ayahs 17:107–109فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے اور اس کے احکام، حقائق اور اس کے بیان کردہ واقعات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر منکر اسے کتاب اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو انھیں چھوڑدیں جہاں تک حقیقی اہل علم کا تعلق ہے وہ تو ہر وقت اس کے سامنے سر تسلیم خم رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو قرآن مجید عطا فرماکر یہ بات واضح کردی کہ آپ کا کام لوگوں تک حق پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ جو حق مان جائیں انہیں خوشخبری پہنچائیں اور جو انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ اسی کے پیش نظر ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں کھلے الفاظ میں اعلان فرمائیں کہ لوگو ! تمہارے پاس حق پہنچ چکا ہے جس کے حق ہونے میں کسی طرح بھی کوئی شبہ نہیں۔ لہٰذا اب تمہاری مرضی ہے کہ اس پر ایمان لاؤ یا اس کا انکار کرو۔ لیکن جن لوگوں کو قرآن مجید نازل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا ہے۔ وہ تورات، انجیل اور زبور کے حوالے سے جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آخری نبی مبعوث ہوگا اس پر قرآن مجید نازل کیا جائے گا۔ جس کے وجود اور نزول میں رتی برابر شک کی گنجائش نہیں ہوگی اہل کتاب میں سے اور جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جاتا ہے تو وہ پیشانی کے بل سجدے میں گر کر اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ یقیناً ہمارے رب کا وعدہ پورا ہوچکا اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گر کر اپنے رب کے حضور زاروقطار روتے ہیں۔ ان کی حق گوئی اور عاجزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے خشوع و خضوع اور ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ ان آیات میں اہل علم کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ قرآن مجید کو حق اور سچ مانتے ہوئے نبی آخرالزماں ﷺ کو رسول برحق مانتے ہیں اور انھیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بےانتہا اجر وثواب دے گا اور ظالموں کو پوری پوری سزا دے گا۔ اسی بنا پر مومن شکروعاجزی کے جذبات میں اپنے رب کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں یہ حقیقی علم کا تقاضا ہے اور یہی ایک عالم کی شان ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا علم اور فکر وعمل نصیب فرمائے۔ (آمین)
سجدہ تلاوت کی دعا :
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَانَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِ الْقُرْاٰنِ بالَّلیْلِ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ وَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ بِحَوْلِہِ وَقُوَّتِہِ فَتَبارَکَ اللّٰہُ أحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ )
[ المستد رک علی الصحیحین للحاکم ]
” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ قیام اللیل میں سجدہ تلاوت کے وقت یہ دعا کرتے تھے۔ میرا چہرہ اس ذات کا مطیع ہوا جس نے اپنی قدرت سے اسے بنا کر کان اور آنکھیں عطاکیے۔ اللہ تعالیٰ بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید من جانب اللہ ہے کسی کے ایمان لانے اور نہ لانے سے اس کی سچائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2۔ حقیقی علم رکھنے والوں کے سامنے جب قرآن پڑھا جاتا ہے۔ تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں۔
3۔ قرآن مجید کی تلاوت علم والوں کے خشوع و خضوع میں اضافہ کرتی ہے۔ 4۔ اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کا وعدہ برحق ہے :
1۔ اللہ کا وعدہ یقیناً پورا ہو کررہے گا۔ (بنی اسرائیل : 108) 2۔ صبر کیجیے اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ (المومن : 77)
3۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات سے کس کی بات سچی ہوسکتی ہے ؟ (النساء : 122)
4۔ آگاہ رہو اللہ کا وعدہ برحق ہے لیکن اکثر علم نہیں رکھتے۔ (یونس : 55)
5۔ شیطان قیامت کے دن کہے گا اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا۔ (ابراہیم : 22)
6۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ (لقمان : 33)
Ayah 17:110فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کے لیے تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن مجید نازل کیا تاکہ اس پر ایمان لانے والوں کو اس پر عمل کرنا آسان ہو۔ لیکن منکرین قرآن نے اس سہولت کو عیب بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اس کے ساتھ انھوں نے ” الرحمن “ کے نام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جس کا جواب دیا گیا ہے۔
مکہ کے لوگ اپنی دعاؤں میں ” اللہ “ کا نام استعمال کرتے تھے۔ مدینہ کے یہودی ” اللہ “ کی بجائے ” الرحمن “ کے نام سے رب تعالیٰ کا ذکر کرتے اور اپنی دعاؤں میں الرحمن کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ رسول کریم نے اسمِ ” اللہ “ کے ساتھ جب ” الرحمن “ کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا تو مکہ کے مشرکوں کو آپ کے خلاف پروپیگنڈا کا بہانہ ہاتھ آیا۔ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ ہمارے ساتھ ایک الٰہ پر صبح وشام تکرار کرتا ہے۔ اس کا اپنا یہ حال ہے کہ ” اللہ “ کے ساتھ ” الرحمن “ کو شریک بنا تا ہے۔ اس پر انہیں یہ جواب دیا گیا کہ لوگو ! اپنے رب کو ” اللہ “ کے نام سے پکارو یا اس کو ” الرحمن “ کے نام سے یاد کرو۔ اللہ کے جس نام سے پکارو اس کے تمام نام ہی بہترین ہیں۔ کیونکہ سورة الاعراف آیت 180 میں یہ تعلیم دی گئی کہ اللہ کے سب نام بہترین ہیں لہٰذا جس نام کے ساتھ چاہو اسے پکارو۔ لیکن اس کے اسماء میں کسی قسم کا الحادنہ کرو۔ جو لوگ ایساکریں گے انہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جہاں تک اللہ کے اسمائے گرامی کا تعلق ہے۔ اس میں اسم جنس ” اللہ “ ہے۔ باقی اسمائے گرامی اللہ تعالیٰ کے وصفی یعنی تعریفی نام ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ننانوے نام ہیں جبکہ دوسری روایات کو جمع کیا جائے تو ایک سو سے زیادہ بنتے ہیں۔
قرآن مجید کی تلاوت کا عام اصول :
(عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ خَرَجَ لَیْلَۃً فَإِذَا ہُوَ بِأَبِی بَکْرٍ ؓ یُصَلِّی یَخْفِضُ مِنْ صَوْتِہِ قَالَ وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَہُوَ یُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَہُ قَالَ فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ قَال النَّبِیُّ ﷺ یَا أَبَا بَکْرٍ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تُصَلِّی تَخْفِضُ صَوْتَکَ قَالَ قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَیْتُ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ وَقَالَ لِعُمَرَ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَکَ قَالَ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّیْطَانَ زَادَ الْحَسَنُ فِی حَدِیثِہِ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ یَا أَبَا بَکْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْءًا وَقَالَ لِعُمَرَ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْءًا )[ رواہ البخاری : باب فی الرفع الصوت بالقراء ۃ ]
” حضرت ابو قتادۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم ﷺ باہر نکلے۔ ابوبکر ؓ کو دھیمی آواز میں نماز پڑھتے ہوئے پایا پھر آپ ﷺ کا گزر عمر بن خطاب ؓ کے پاس سے ہوا وہ بلند آواز میں قرأت کر رہے تھے، جب دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ابوبکر ! میں رات کو آپ کے پاس سے گزرا تھا آپ بالکل ہلکی آواز میں قرأت کر رہے تھے ابوبکر نے عرض کی اللہ کے رسول ﷺ ! میں اس لیے آہستہ آواز میں قرأت کر رہا تھا تاکہ جس سے میں سرگوشی کر رہا ہوں اسے سنا سکوں۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا میں آپ کے پاس سے گزرا آپ اونچی آواز میں قرأت کر رہے تھے انہوں نے جواب دیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں اس لیے بلند آواز سے قرأت کررہا تھا تاکہ میں سونے والوں کو جگا سکوں اور شیطان کو بھگا سکوں۔ حسن کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ابوبکر سے فرمایا کہ اپنی آواز کو تھوڑا سا بلند کرو اور عمر ؓ سے کہا اپنی آواز کو تھوڑا سا دھیما رکھو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں میں سے جس نام کے ساتھ چاہوپکارو۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے اچھے اور بہترین نام ہیں۔
3۔ عبادت میں میانہ روی ہونی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
میانہ روی اختیار کرنی چاہیے :
1۔ نماز بلند آواز سے نہ پڑھو نہ آہستہ بلکہ درمیانہ انداز اختیار کرو۔ (بنی اسرائیل : 110)
2۔ رحمٰن کے بندے جب خرچ کرتے ہیں۔ نہ اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی۔ بلکہ درمیانی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ (الفرقان : 67)
3۔ چال میں اعتدال اور آواز کو پست رکھو۔ (لقمان : 19)
4۔ کچھ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں۔ (فاطر : 32)
5۔ لوگوں میں سے کچھ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔ (المائدۃ : 66)
Ayah 17:111فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة مبارکہ کی ابتداء ” سُبْحَانَ الَّذِیْ “ کے الفاظ سے ہوئی۔ جس کا معنیٰ ہے وہ ذات جو ہر قسم کے عیب، کمزوری اور شرک سے پاک ہے۔ سورة کا اختتام بھی اسی بات پر ہورہا ہے کہ اللہ وہ ہے جو ہر قسم کے شرک اور کمزوری سے پاک ہے۔
عربی گرائمر سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ لفظ ” حمد “ کے ساتھ ” ال “ شامل ہو تو یہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ جس کا معنیٰ ہے کہ تمام قسم کی تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔” حمد “ میں دوسرے کی ذات کی بڑائی اور اس کے احسانات کا احساس اور اعتراف پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی ابتداء میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے۔ کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے رب کی تعریف اور حمدو شکر کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اے انسان ! اشرف المخلوقات ہونے کے حوالے سے تجھے بھی ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ شکر گزار لوگ ہی اللہ کے تابع فرماں ہوتے ہیں۔ حمد کی فضلیت اور فرضیت کے پیش نظر رسول کریم ﷺ کو ارشاد ہوا ہے۔ کہ آپ دنیا والوں کو بتلائیں کہ ہر قسم کی حمدوستائش اللہ کے لیے ہے۔ جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اسکی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ نہ اس میں کسی قسم کا ضعف اور کمزوری ہے۔ کہ جس بناء پر اسے کسی مددگار کی مدد کی ضرورت پیش آئے۔ وہ اپنی ذات اور صفات میں بڑا ہی بلندوبالا ہے۔ اس لیے اس کی بڑائی کا اعتراف اور تذکرہ کرتے رہیے۔ یہاں ہر قسم کے شرک کی نفی کرنے کے ساتھ ” اللہ “ کی کبریائی کے بیان اور اعتراف کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی حکم سورة المدثر کی ابتدائی آیات میں ہے جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والی دوسری وحی ہے، اس کی تیسری آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے رب کی کبریائی کا ذکر کیجیے۔ یاد رہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس پید اہوجائے۔ تو بیک وقت اس کے تین فائدے ہوتے ہیں۔
1۔ انسان میں فخرو غرور کی بجائے انکساری اور عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ جس کی بناء پر آدمی کا اخلاق اور دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ بہتر ہوتا ہے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ2۔ انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی بجائے اسکی بارگاہ میں جھکتا ہے۔
3۔ مسلمان کے دل میں اللہ کی کبریائی کا تصور مضبوط ہوجائے تو مسلمان دشمن کے مقابلے میں بہادر ثابت ہوتا ہے۔
حمد وثناء کی فضیلت :
(قَال النَّبِیُّ ﷺ أَفْضَلُ الْکَلاَمِ أَرْبَعٌ سُبْحَان اللَّہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَلاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ )
[ رواہ البخاری : باب إِذَا قَالَ وَاللَّہِ لاَ أَتَکَلَّمُ الْیَوْمَ ]
” نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہترین کلمات چار ہیں۔ 1۔ سبحان اللہ۔ 2۔ الحمداللہ۔ 3۔ لا الٰہ الا اللہ۔ 4۔ اللہ اکبر “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی ہر حال میں تعریف کرنی چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے 4۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعتراف اور اس کی بڑائی بیان کرنی چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی :
1۔ کہہ دیجئے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ (بنی اسرائیل : 111)
2۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (الفاتحہ : 1)
3۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ (الانعام : 1)
4۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہدایت سے نوازا۔ (الاعراف : 43)
5۔ تمام تعر یفات اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔ (المومنون : 28)
6۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ فرمایا۔ (الزمر : 84) 7۔ ہر چیز اپنے رب کو سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : 49)
8۔ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحشر : 1) 9۔ ہر چیز کا سایہ اپنے رب کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : 48)