17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsفہم القرآن

Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

” دیکھیے ہم نے ان کو ایک دوسرے پر کس طرح فضیلت دی ہے اور یقیناً آخرت اعلیٰ ہونے کے لحاظ سے اس سے بڑی اور فضیلت کے لحاظ سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔ “ (21)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے ہاں سب سے زیادہ مرتبے والے انبیاء ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ کی عطاؤں کے سب سے بڑھ کر حق دار ہیں۔ جنہیں دنیا میں بھی عظمت و فضیلت سے نوازا گیا۔ یہی اصول درجہ بدرجہ عام لوگوں میں کارفرما ہے۔ تمام انبیاء ( علیہ السلام) خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے درمیان مراتب کا تفاوت سمجھنے کے لیے طلبہ کی ایک کلاس کو سامنے رکھیں۔ استاد کی نظر میں تمام طلبہ عزیز ہوتے ہیں اور ہونے چاہییں۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر طالب علم ایک دوسرے پر سبقت لے جائے۔ اس کے باوجود پوری کلاس میں مجموعی طور پر ایک ہی طالب علم قابلیت اور لیاقت کے اعتبار سے سب سے آگے ہوتا ہے۔ جب کہ جزوی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے کئی طلبہ کو ایک دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے مجموعی طور پر سرفہرست آنے والے طالب علم سے دوسرا طالب علم سائنس کے مضمون میں اس سے زیادہ نمبر حاصل کرتا ہو۔ اور یہی کیفیت دوسرے طالب علم کی کسی دوسرے مضمون میں ہوسکتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر تو ایک فسٹ پوزیشن حاصل کرے گا۔ انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت و عظمت دینے کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ حالات اوراقوام کے مزاج کے پیش نظر ایک نبی کو ایسے معجزات دیے گئے جو اس کے بعد آنے والے نبی کے دور اور مزاج کے لیے ضروری نہیں تھے۔ مثال کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں جادو کا علم اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ دنیا کے قابل ترین جادوگر شکست ماننے پر مجبور ہوئے۔ ان کے بعد ہر دور کے مطابق انبیاء معجزات کے ساتھ مبعوث کیے گئے یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا ہوئے کہ ان کے سامنے ارسطو اور افلاطون کی میڈیکل سائنس ماند پڑگئی۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْاَنْبِیَاءِ کَمَثَلِ قَصْرٍ اُحْسِنَ بُنْیَانُہٗ تُرِکَ مِنْہُ مَوْضِعُ لَبِنَۃٍ فَطَافَ بِہِ النُّظَارُیَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْیَانِہٖ اِلَّا مَوْضِعَ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ فَکُنْتُ اَنَا سَدَدْتُّ مَوْضِعَ اللَّبِنَۃِ خُتِمَ بِیَ الْبُنْیَانُ وَخُتِمَ بِیَ الرُّسُلُ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ ) [ رواہ البخاری : باب خاتم النبین ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ میری مثال اور دوسرے نبیوں کی مثال نہایت ہی اعلیٰ تعمیر شدہ محل کی سی ہے ‘ جس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی تھی۔ دیکھنے والے اس کے اردگرد گھومتے اور اس کے حسن کو دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ البتہ اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔ چناچہ میں نے اس اینٹ کے خلا کو پر کردیا۔ مجھ پر اس عمارت کی تکمیل ہوئی۔ رسولوں کا سلسلہ مجھ ہی پر ختم ہوا۔ دوسری روایت میں ہے ‘ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیّن ہوں۔ “ (عَنْ ابِیْ ھُرَیْرَۃ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَناَ اَوْلَی النَّاس بعیْسٰی ابْنِِِ مَرْیَمَ فِیْ الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ الْاَنْبِیَاءُ اِخْوَۃٌ مِّنْ عَلَّاتٍ وَّاُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ وَّلَیْسَ بَیْنَنَانَبِیٌّ) [ رواہ البخاری : باب (وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَہْلِہَا )] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں۔ سب انبیاء سوتیلے بھائی ہیں البتہ ان کی مائیں مختلف ہیں ان کا دین ایک ہے نیز ہم دونوں کے درمیان کوئی پیغمبر نہیں۔ “ عام انسانوں میں مراتب کا فرق : یہی اصول باقی انسانوں میں جاری ہے ایک باپ کی اولاد میں ظاہری اور جوہری لحاظ سے زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک بادشاہ ہے اور دوسرا گداگر، ایک نہایت خوبصورت ہے اور دوسرا مناسب صورت، ایک صاحب کردار ہے اور دوسرا بدکردار۔ علیٰ ھذا القیاس۔ (اَ لْرِ جَالُ قَوَّا مُوْنَ عَلَی النِّسَاءِ )[ النساء : 34]” مرد عورتوں پر حاکم ہیں “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرماتا ہے۔ 2۔ آخرت نعمتوں اور فضیلت کے اعتبار سے بہت اعلیٰ ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) کے مراتب : 1۔ حضرت آدم کو اللہ نے خلیفہ بنایا۔ (البقرۃ : 30) 2۔ حضرت ادریس کو اللہ نے مقا مِ علیا سے سرفراز کیا۔ (مریم : 57) 3۔ حضرت ابراہیم کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا۔ (النساء : 125) 4۔ حضرت یعقوب کو اللہ نے صبر جمیل عطا فرمایا۔ (یوسف : 83) 5۔ حضرت یوسف کو اللہ نے حکمرانی اور پاک دامنی عطا فرمائی۔ (یوسف) 6۔ حضرت داؤد کو اللہ نے قوت فیصلہ عطا فرمائی۔ (ص : 20) 7۔ حضرت سلیمان کو اللہ نے سب سے بڑا حکمران بنایا۔ (ص : 35) 8۔ حضرت موسیٰ کو اللہ نے ہم کلامی کا شرف بخشا۔ (طٰہٰ : 12۔ 13۔ 14) 9۔ حضرت عیسیٰ کو اپنا کلمہ قرار دیا۔ (النساء : 171) 10۔ نبی ﷺ کو رحمۃ للعالمین وخاتم النبیّین بنایا۔ (الاحزاب : 107)
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

” اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا نا ورنہ مذمت کیا ہوا اور بےیارومددگار ہو کر رہے گا۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : اس خطاب کا آغاز اس سورت کی آیت 2 سے ہوا۔ جس میں بنی اسرائیل کے حوالے سے تمام انسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھیں۔ خطاب کا اختتام بھی اسی بات پر ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا اور عبادت کے لائق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا حقیقی نام ” اللہ “ ہے۔ اس نام کا متبادل ” اِلٰہ “ ہے۔ جو متبادل نام ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا اسم صفت بھی ہے۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی اکثر صفات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہر دور کا مشرک اللہ تعالیٰ کو خالق، رازق اور مالک تسلیم کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے اِلٰہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اِلٰہ کا معنی ہے ایسی ذات جس کے ساتھ غایت درجے کی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی انتہائی عاجزی کے ساتھ عبادت کی جائے اور اس کی عبادت میں کسی اعتبار سے بھی کسی دوسرے کو شریک نہ سمجھا اور نہ بنایا جائے۔ دعا بھی عبادت کی ایک شکل ہے۔ جس میں کسی قسم کا واسطہ، حرمت، طفیل کے الفاظ نہیں بولنے چاہییں۔ سورة النمل آیت 62 میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلا کون ہے ؟ جو مجبور کی دعا قبول کرتے ہوئے اس کی تکلیف دور کرتا ہے اور کون ہے ؟ جو تمہیں زمین پر ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ اس حقیقت کے باوجود بہت کم لوگ اس بات پر غور و خوض کرتے ہیں۔ یہاں ” الٰہ “ کا لفظ حاجت روا اور مشکل کشا کے طور پر لایا گیا ہے۔ سورة النمل کی آیت 60 سے لے کر 63 تک اِلٰہ کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں۔ البقرۃ آیت 163 میں دو ٹوک انداز میں ارشاد فرمایا ہے کہ : ” تمہارا ” اِلٰہ “ ایک ہی ” اِلٰہ “ ہے اس کے سوا تمہارا کوئی ” اِلٰہ “ نہیں وہ نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ اس بناء پر یہاں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو ” اِلٰہ “ نہ بنانا۔ ورنہ تم برے حال اور بےیارو مددگار ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے۔ (عَنْ مُعَاذٍ ؓ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ النَّبِیِّ ﷺ عَلَی حِمَارٍ یُقَالُ لَہُ عُفَیْرٌ، فَقَالَ یَا مُعَاذُ ، ہَلْ تَدْرِی حَقَّ اللّٰہِ عَلَی عِبَادِہِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ قُلْتُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَعْبُدُوہُ وَلاَ یُشْرِکُوا بِہِ شَیْءًا، وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ أَنْ لاَ یُعَذِّبَ مَنْ لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ، أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِہِ النَّاسَ قَالَ لاَ تُبَشِّرْہُمْ فَیَتَّکِلُوا) [ رواہ البخاری : باب اسْمِ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ ] ” حضرت معاذ ؓ فرماتے ہیں میں رسول محترم ﷺ کے پیچھے گدھے پر سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان صرف پلان کی آخری لکڑی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر کیا حق ہے اور بندوں کے اللہ تعالیٰ پر کیا حقوق ہیں ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ ارشاد ہوا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے جب تک وہ شرک نہیں کرتے وہ انہیں عذاب سے دوچار نہکرے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ خوشی کی بات میں لوگوں تک نہ پہنچاؤں ؟ فرمایا کہ نہیں اس طرح وہ محنت کرنا چھوڑ دیں گے۔ “ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُول اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ کَانَتْ لَکَ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا أَکُنْتَ مُفْتَدِیًا بِہَا فَیَقُولُ نَعَمْ فَیَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْکَ أَہْوَنَ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِی صُلْبِ اٰدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ أَحْسَبُہُ قَالَ وَلاَ أُدْخِلَکَ النَّارَ فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ النار، باب طَلَبِ الْکَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الأَرْضِ ذَہَبًا ] ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جہنمیوں میں سے کم ترین عذاب والے سے کہے گا۔ دنیا اور جو کچھ اس میں تیرے لیے ہے۔ کیا تو اسے فدیہ کے طور پر دینے کے لیے تیار ہے ؟ وہ کہے گا جی ہاں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اس سے زیادہ تجھ سے نرمی کی تھی جب کہ تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، راوی کا خیال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھے جہنم میں داخل نہیں کروں گا لیکن تو شرک سے باز نہیں آیا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہیں بنانا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنانے والا بدحال اور بےیارو مددگار ہوگا۔ تفسیر بالقرآن الٰہ کے مختلف معانی : 1۔ اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بناؤ ورنہ بدحال بےیارومددگار ہوجاؤ گے۔ (بنی اسرائیل : 22) 2۔ تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 163) 3۔ اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (القصص : 88) 4۔ اگر یہ اِلٰہ ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے۔ (الانبیاء : 99) 5۔ انہوں نے اللہ کے سوا اِلٰہ بنا لیے ہیں جنہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ (الفرقان : 3) 6۔ کیا انہوں نے اللہ کے سوا اپنی مدد کے لیے الٰہ بنا لیے ہیں ؟ (یٰس : 36)
Ayahs 17:23–25

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

” اور آپ کے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو ” اف “ نہ کہہ اور نہ انھیں جھڑک اور ان سے نرم گفتگو کیجیے۔ “ (23) ”

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور شفقت سے ان کے سامنے بازو جھکا دے اور اے میرے رب ! ان دونوں پر رحم کیجیے جیسے انھوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔ “ ( 24) ”

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جاننے والا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم نیک ہو گے یقیناً وہ رجوع کرنے والوں کے لیے بہت ہی بخشنے والا ہے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے بعد والدین کا احترام اور تابعداری کرنے کا حکم۔ البقرۃ آیت 83 کی تفسیر کرتے ہوئے عرض کیا ہے : ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان و احکام ایک اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنا ہے۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اللہ کے حق کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی تخلیق اور ربوبیت کا ذریعہ والدین کو بنایا ہے۔ اس لیے اپنی ذات کے بعد اس نے اس مقدس رشتہ کو تقدیس و تکریم دیتے ہوئے ہدایات فرمائیں کہ اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے ساتھ ہر دم اچھا سلوک کرتی رہے۔ نبی کریم ﷺ نے قرآن مجید کی اسی ترتیب کا خیال رکھتے ہوئے ارشادات فرمائے : (عن عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ قَال الصَّلاَۃُ عَلَی وَقْتِہَاقَالَ ثُمَّ أَیُّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ قَالَ ثُمَّ أَیُّ قَالَ الْجِہَادُ فِی سَبِیل اللّٰہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوٰۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز وقت پر ادا کرنا۔ پھر پوچھا تو فرمایا : والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرنا۔ اس کے بعد پوچھنے پر آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ (عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الأَقْرَبَ فَالأَقْرَبَ )[ رواہ ابوداؤد : کتاب الأدب، باب فی برالوالدین ] ” بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں کس سے اچھا سلوک کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں سے، پھر اپنی ماں سے، پھر اپنی ماں سے، پھر اپنے باپ سے اور پھر قریبی رشتہ داروں سے۔ “ والدہ کی خدمت پہلے کیوں ؟ (وَوَصَّیْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَانًا حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہًا وَوَضَعَتْہُ کُرْہًا وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلَاثُوْنَ شَہْرًا حَتّٰی إِذَا بَلَغَ أَشُدَّہُ وَبَلَغَ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ وَأَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ إِنِّیْ تُبْتُ إِلَیْکَ وَإِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ )[ الاحقاف : 15] ” ہم نے انسان کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین سے اچھا سلوک کرے۔ اس کی ماں نے مشقت سے اسے پیٹ میں رکھا اور پھر مشقت سے اسے جنا۔ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس ماہ لگے۔ جب وہ اپنی بھر پور جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا تو کہنے لگا۔ اے میرے رب ! مجھے تو فیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا۔ یہ کہ میں نیک اعمال کروں جو تجھے پسند ہوں اور میری اور میری اولاد کی اصلاح فرما ! میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور یقیناً میں فرمانبر دار ہوں۔ “ اللہ تعالیٰ نے والدین کا احترام اور ان کی تابعداری کے لیے قرآن مجید میں پانچ الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ جن کا مختصر مفہوم پیش خدمت ہے۔ 1۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا : احسان کا لفظ حقوق العباد کے متعلق استعمال کیا جائے تو اس کا معنیٰ ہے کہ کسی کی بھلائی کے بدلہ کے بغیر اور اس کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اگر عبادت کے لیے استعمال ہو تو احسان کا معنیٰ یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ بَارِزًا یَوْمًا للنَّاسِ ، فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ فَقَالَ .. .. مَا الإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا احسان کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ اسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ نہیں ہوسکتا تو یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے۔ “ 2۔ والدین کو ” اُف “ کا لفظ کہنے اور ڈانٹنے کی ہرگز اجازت نہیں : والدین کو ان کی عمر کے کسی حصہ میں بھی اف کہنے اور ڈانٹ پلانے کی اجازت نہیں۔ جب وہ بڑھاپا کی عمر میں داخل ہوجائیں تو بالخصوص ان کے سامنے ان کی کسی حرکت اور عادت پر اف کہنا یعنی تاسف کا اظہار کرنا یا کرخت آواز سے بولنا ہرگز جائز نہیں۔ بڑھاپے میں والدین اکثر طور پر اولاد کے محتاج ہوجاتے ہیں۔ محتاجی اور جسمانی ضعف کی وجہ سے ان کا دل انتہائی حساس ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ” اُف “ کا لفظ بھی ان کے کلیجہ پر نشتر بن کر اترتا ہے۔ اس لیے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا ارشاد ہے کہ اگر عربی میں اس سے بھی کوئی ہلکا لفظ ہوتا تو وہ بھی یہاں استعمال کیا جاتا۔ لہٰذا اولاد کو چاہیے کہ ماں باپ کی کسی خطا اور کمزوری پر ایسا انداز نہ اپنائے۔ جس سے ان کے دل کو دکھ پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ 3۔ قول کریم اختیار کرنا : والدین کے مرتبہ و مقام اور ان کے احترام و اکرام کی خاطر مزید ارشاد ہوا۔ کہ ناصرف ان کے سامنے ” اُف “ کہنے سے اجتناب کرنا ہے بلکہ جب ان کے ساتھ بات کی جائے تو اس میں ادب و احترام، محبت و عقیدت، نرمی اور شفقت کا پہلو غالب ہونا چاہیے تاکہ ان کی کمزور طبیعت کو سہارا اور دکھی دل کو تسکین حاصل ہو۔ 4۔ والدین کے سامنے جھکتے ہوئے پیش ہونا : اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے سوا کسی دوسرے کے سامنے عاجزی کے ساتھ پیش ہونے کا حکم نہیں دیا۔ سوائے والدین کے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے والدین کو اپنی ربوبیت کا پر تو ٹھہرایا ہے اس لیے حکم دیا ہے کہ اولاد اپنے ماں باپ کے سامنے انکساری کے ساتھ پیش ہوا کرے۔ یہاں صرف انکساری اختیار کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مزید حکم دیا ہے کہ والدین کے سامنے انکساری، اور ادب و احترام کے کندھے جھکے ہوئے ہونے چاہییں یعنی اولاد ماں، باپ کے سامنے اس طرح پیش ہو جیسے غلام اپنے آقا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ 5۔ والدین کے لیے دعا کرنا : اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو صرف اپنی بار گاہ سے مانگنے کا حکم دیا ہے۔ انسان کو اپنے لیے مانگنے کے بعد جس شخصیت کے لیے مانگنے کا سب سے پہلے حکم دیا وہ والدین کی ذات ہے۔ والدین کے لیے مانگتے وقت اولاد کے جو جذبات اور احساسات ہونے چاہئیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب اپنے رب سے والدین کے لیے مانگو تو تمہیں اپنا بچپن یاد کرتے ہوئے ان کی شفقت، محبت اور مشقت کا پوری طرح احساس ہونا چاہیے۔ والدین کے لیے دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کو جو الفاظ پسند ہیں ان کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے اے رب ! میرے والدین پر اس طرح مہربانی اور شفقت فرما جس طرح انہوں نے مجھے شفقت اور محبت سے پالا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ احساس دلایا جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے اگر تم نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ صالح بننے کی کوشش کرو گے۔ تو وہ اپنی طرف رجوع کرنے والوں کو معاف کردینے والا ہے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صالح شخص وہ ہوگا جو صحیح عقیدہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اپنے والدین کی تابعداری کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہوگا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ 3۔ والدین کو اف تک نہیں کہنا چاہیے۔ 4۔ والدین کو جھڑکنا نہیں چاہیے۔ 5۔ والدین کے ساتھ ادب سے گفتگو کرنی چاہیے۔ 6۔ والدین کے سامنے محبت و انکساری کے ساتھ جھکے رہنا چاہیے۔ 7۔ والدین کے لیے رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔ 8۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو معاف کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم : 1۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (بنی اسرائیل : 23) 2۔ ہم نے انسان کو وصیت کی کہ وہ والدین کے ساتھ احسان کرے۔ (الاحقاف : 10) 3۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : 26) 4۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور والدین سے حسن سلوک کریں۔ (البقرۃ : 83) 5۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھاسلوک کرو۔ (الانعام : 151)
Ayahs 17:26–27

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

” اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو حق دیجیے اور فضول خرچی نہ کیجیے۔ “ ( 26) ”

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : والدین کی خدمت کے بعد عزیز و اقرباء اور کمزور لوگوں کی خدمت کا حکم۔ والدین کے احترام و اکرام اور ان کی خدمت کا حکم دیتے ہوئے ان کی شان اور مرتبہ کے پیش نظر احسان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس میں ہر قسم کا تعاون اور نیکی شامل ہے۔ لیکن رشتہ داروں پر خرچ کرنے کے لیے حق کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس میں ایک قسم کی تاکید کے ساتھ یہ باور کروایا گیا ہے کہ رشتہ داری کے حوالے سے تمہارے مال میں ان کا حق ہے جو تمہیں ادا کرنا چاہیے۔ رشتہ داروں کے بعد مسکین اور مسافر پر خرچ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے ساتھی ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ شیطان اپنے رب کا ناقدردان اور ناشکرا ہے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ تبذیر کا معنی ہے نیکی کے کاموں پر خرچ کرتے وقت ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا جیسے مسجدوں کے میناروں اور ان کی زیب و زیبائش پر سرمایہ لگایا جاتا ہے۔ برائی کے کاموں پر مال خرچ کرنے کو اسراف کہا جاتا ہے جس سے ہر صورت بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قیامت کے دن سوالات : (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی ےَقُوْلُ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ ےَا ابْنَ اٰدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِیْ قَالَ ےَا رَبِّ کَےْفَ اَعُوْدُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ عَبْدِی فُلَانًا مَّرِضَ فَلَمْ تَعُدْہُ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْعُدْتَّہُ لَوَجَدْتَّنِیْ عِنْدَہُ ےَا ابْنَ اٰدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِیْ قَالَ ےَا رَبِّ کَےْفَ اُطْعِمُکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّہُ اسْتَطْعَمَکَ عَبْدِیْ فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْہُ اَمَاعَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ اَطْعَمْتَہُ لَوَجَدْتَّ ذَالِکَ عِنْدِیْ ےَا ابْنَ اٰدَمَ اسْتَسْقَےْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِیْ قَالَ ےَا رَبِّ کَےْفَ اَسْقِےْکَ وَاَنْتَ رَبُّ الْعٰلَمِےْنَ قَالَ اسْتَسْقَاکَ عَبْدِیْ فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِہٖ اَمَا عَلِمْتَ اَنَّکَ لَوْ سَقَےْتَہُ وَجَدْتَّ ذَالِکَ عِنْدِیْ )[ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فی فضل عیادۃ المریض ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار پڑا تو تو نے میری بیمارپرسی نہ کی۔ بندہ عرض کرے گا۔ میرے پروردگار میں آپ کی بیمار پرسی کیسے کرتا ؟ کیونکہ تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا۔ تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی۔ اگر تو اس کی بیمار پرسی کے لیے جاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ؟ بندہ جواب دے گا ‘ اے میرے رب ! میں تجھے کھانا کیسے کھلاتا تو تو جہانوں کو کھلانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے معلوم نہیں میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تو نے اس کو کھلانے سے انکار کردیا تھا۔ تجھے معلوم نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کا بدلہ میرے پاس پاتا۔ آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا لیکن تو نے مجھے پانی نہ پلایا۔ بندہ عرض کرے گا ‘ اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو جہانوں کو پلانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلایا۔ تو نہیں جانتا کہ ؟ اگر تو نے اسے کھلایا، پلایا ہوتا تو آج میرے پاس اپنے لیے کھانا پینا پاتا۔ “ (عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ حُسَیْنٍ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لِلسَّاءِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَی فَرَسٍ )[ رواہ أبوداود : کتاب الزکاۃ، باب فی حق السائل ] ” فاطمہ بنت حسین حضرت حسین بن علی ؓ سے بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ “ بخل سے بچو : (قَال النَّبِیُّ ﷺ کُلُوا واشْرَبُوا والْبَسُوا وَتَصَدَّ قُوْا، فِی غَیْرِ إِسْرَافٍ وَلاَ مَخِیلَۃٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب اللباس ] ” نبی کریم ﷺ نے فرمایا کھاؤ اور پیو، پہنو اور صدقہ کرو لیکن فضول خرچی اور بخیلی سے اجتناب کرو۔ “ (عَنِ الْمُغِیْرَۃِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَوَأُدَ الْبَنَاتِ وَمَنْعًا وَّھَاتِ وَکَرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَقَالَ وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ وَاِضَاعَۃَ الْمَالِِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الاستقراض ] ” حضرت مغیرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ماں کی نافرمانی کرنے ‘ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے ‘ خود نہ دینے اور لوگوں سے عطیہ طلب کرنے کو حرام قراردیا ہے۔ اور بےمقصد باتوں سے اجتناب، زیادہ سوالات کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ “ مسائل 1۔ قریبی رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کریں۔ 2۔ فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے۔ 4۔ شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ تفسیر بالقرآن فضول خرچی اور اسراف کی ممانعت : 1۔ فضول خرچی نہ کرو۔ (بنی اسرائیل : 26) 2۔ فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے۔ (بنی اسرائیل : 27) 3۔ کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو، اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف : 31) 4۔ فصل کی کٹائی کے وقت اس کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو۔ (الانعام : 141) 5۔ اللہ کے بندے جب خرچ کرتے ہیں نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ بخیلی۔ (الفرقان : 67) 6۔ اسراف کرنے والوں کے پیچھے نہ چلو۔ (الشعراء : 151) 7۔ ہم اسی طرح حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے اعمال مزین کرتے ہیں۔ (یونس : 12) 8۔ اللہ حد سے تجاوز کرنے والے جھوٹے کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المومن : 28) 9۔ ہم حد سے تجاوز کرنے والوں اور اللہ کی آیات پر ایمان نہ لانے والوں کو ایسے ہی سزا دیتے ہیں۔ (طٰہٰ : 128)
Ayahs 17:28–29

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

” اور اگر آپ اپنے رب کی رحمت کی تلاش میں جس کی آپ امید رکھتے ہیں۔ ان سے بےتوجہگی کرتے وقت ان سے نرم بات کریں۔ “ (28) ”

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ گردن سے نہ باندھیے اور نہ اسے پوری طرح کھولیے کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا تھکا ہوا بیٹھا رہے گا۔ “ (29)

فہم القرآن ربط کلام : فضول خرچی سے روکنے کے ساتھ بخیلی اور کنجوسی سے بھی منع کیا گیا ہے۔ دین اسلام کی یہ بھی خوبی ہے کہ دین عبادات اور معاملات دونوں میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ فضول خرچی سے بچنے کے ساتھ بخیلی سے بھی مکمل اجتناب کیا جائے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر رسول مکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اپنا ہاتھ نہ گردن کے ساتھ لٹکائیں اور نہ اسے کلی طور پر کھول دیں۔ اگر آپ اپنا ہاتھ پورے کا پورا کھول دیں گے تو ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ رہنمائی بھی کی گئی کہ اگر آپ کے پاس کسی کو دینے کے لیے کوئی چیز نہ ہو۔ لیکن آپ کو اپنے رب کی طرف سے کوئی چیز ملنے کی توقع ہو تو سائل کو خالی ہاتھ واپس لٹاتے ہوئے نرمی کے ساتھ جواب دیں۔ اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے کے بارے میں آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے اخراجات میں میانہ روی اختیار کی وہ کبھی کنگال نہیں ہوگا۔ کچھ نہ ہونے کی صورت میں آپ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ سائل کو ڈانٹنے کی بجائے اسے نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ جواب دینا چاہیے۔ قرآن مجید نے عباد الرحمن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ان کی یہ خوبی بیان کی ہے۔ ” کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اس میں اسراف اور بخل نہیں پایا جاتا۔ اللہ کے بندے خرچ کرتے ہوئے اعتدال کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ “ (الفرقان : 67) (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ )[ رواہ أحمد ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میانہ روی اختیار کی وہ کنگال نہیں ہوگا “ (عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہٗ کَانَ اِذَا أَتَاہ السَّاءِلُ أَوْصَاحِبُ الْحَاجَۃِ قَالَ اشْفَعُوْا فَلْتُوْجَرُوْا وَیَقْضِیْ اللَّہُ عَلَی لِسَانِ نَبِیِّہِ ﷺ مَا شَاءَ ) [ رواہ البخاری : باب التَّحْرِیضِ عَلَی الصَّدَقَۃِ وَالشَّفَاعَۃِ فیہَا ] ” حضرت ابو موسیٰ ؓ ہی نبی معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب آپ کے پاس سائل یا ضرورت مند آتا تو آپ فرماتے ‘ اس کی سفارش کرو تمہیں ثواب ملے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی زبان پر جو چاہتا ہے کہلواتا ہے۔ “ مسائل 1۔ سائل کے ساتھ نرمی سیبات کرنی چاہیے۔ 2۔ فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ بخل نہیں کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن دین اسلام کسی معاملہ میں غلو اور افراط وتفریط پسند نہیں کرتا : 1۔ نہ تو اپنے ہاتھ گردن ہی سے باندھ لے اور نہ اسے بالکل کھول دے۔ (بنی اسرائیل : 28) 2۔ وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی کرتے ہیں۔ (الفرقان : 67) 3۔ اپنی چال میں اعتدال اور اپنی آواز کو پست رکھیں۔ (لقمان : 19) 4۔ کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں۔ (فاطر : 32) 5۔ ان میں سے درمیانی امت ہے اور زیادہ ان میں سے برے اعمال کرنے والے ہیں۔ (المائدۃ : 66) 6۔ نماز نہ بلند آواز سے پڑھو نہ آہستہ بلکہ درمیانہ انداز اختیار کرو۔ (بنی اسرائیل : 110)
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

” بیشک آپ کا رب جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے یقیناً وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے اور دیکھنے والا ہے۔ “ (30) ”

فہم القرآن ربط کلام : اخراجات میں اعتدال اختیار کرنے کے ساتھ غربت کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ بخل کا بنیادی سبب مال کم ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی اندیشہ کی وجہ سے لوگ اپنی اولاد کو قتل کرتے آرہے ہیں۔ بخل اور اولاد کا قتل اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناصرف سنگین جرم ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے آدمی کے عقیدہ کی کمزوری کا بڑا عمل دخل ہوا کرتا ہے۔ ایسے سنگین جرائم سے روکنے اور عقیدہ توحید کے ضعف سے بچانے کے لیے یہ بات سمجھائی ہے کہ رزق کی کمی وبیشی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کا رزق چاہے کشادہ فرمائے اور جس کا چاہے تنگ کر دے۔ وہ اپنے بندوں کی ضروریات اور فطرت کو اچھی طرح جانتا اور دیکھتا ہے۔ رزق کی تنگی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے والے کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جس رب نے میری پرورش کی ہے۔ وہی میری اولاد کو بھی روزی مہیا کرنے والا ہے۔ اولاد کو معیشت کی تنگی کی وجہ سے قتل کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ قتل اولاد کے پیچھے ہمیشہ سے یہ فکر رہی ہے کہ اگر اولاد زیادہ ہوگی تو اس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی کے پیش نظر پہلے لوگ اپنی اولاد کو قتل کیا کرتے تھے۔ اور آج ترقی یافتہ دور میں پڑھے لکھے لوگ انفرادی طور پر نہیں بلکہ بڑی بڑی حکومتوں نے بچے قتل کرنے کے لیے مستقل وزارتیں قائم کر رکھی ہیں۔ جو صبح شام میڈیا کے ذریعے کروڑوں روپے خرچ کرکے لوگوں کو یہ باور کروانے میں مصروف ہیں کہ ” بچے دو ہی اچھے “ ، ” چھوٹا خاندان زندگی آسان “ ، ” چھوٹا خاندان خوشحالی کی ضمانت ہے “ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی خطیر سرمایہ میڈیسن پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہر سال نسل انسانی میں اضافہ کی رپورٹس شائع ہوتی ہیں۔ حالانکہ اگر یہی سرمایہ زراعت اور آمدنی کے حصول کے دیگر ذرائع پر خرچ کیا جائے تو اناج کی قلت سے بچا جاسکتا ہے۔ اولاد کو قتل کرنا صرف اخلاقی جرم نہیں بلکہ اس کے پیچھے شرک جیسا ناقابل معافی گناہ بھی پایا جاتا ہے۔ جس سے اللہ کے رزاق ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ حالانکہ ہمارے خالق کا اعلان ہے کہ زمین میں چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ وہ کھانے والے کی مستقل اور عارضی قیام گاہ کو پوری طرح جانتا ہے۔ اس نے سب کچھ لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ( ہود : 6) یہی وجہ ہے کہ جوں جوں آبادی میں اضافہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے اناج میں بھی اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ 1965 ء تک پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار پندرہ، سولہ من سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن آج فی ایکڑ پیداوار دگنی سے بڑھ چکی ہے۔ یہی رفتارچاول اور دیگر اجناس کی ریکارڈ کی گئی ہے۔ قتل اولاد کا دوسرا سبب ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ لوگ بیٹیوں کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے ان کو قتل کرتے ہیں۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ (وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بالْأُنْثَی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَہُوَ کَظِیْمٌ۔ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءٍ مَا بُشِّرَ بِہِ أَیُمْسِکُہُ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہُ فِیْ التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ )[ النحل : 58، 59] ” حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر ملتی ہے۔ تو اس کا منہ غم کے سبب کے کالا پڑجاتا ہے اور وہ اندوھناک ہوجاتا ہے اور اس بری خبر سے وہ چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔ “ (وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ للرَّحْمَنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَہُوَ کَظِیْمٌ )[ الزخرف : 17] ” جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے جو وہ رحمن کے لیے منسوب کرتے ہیں تو اس کا منہ غم کے سبب کالا پڑجاتا ہے۔ (رحمٰن کے لیے بیان کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ ) قیامت کے دن بیٹی باپ سے سوال کرے گی : ( وَإِذَا الْمَوْءُ ودَۃُ سُءِلَتْ بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ )[ التکویر : 8۔ 9] ” جب زندہ درگور کی گئی بچی سے سوال کیا جائے گا۔ تجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا ؟ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ سَأَلْتُ أَوْ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللّٰہِ أَکْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ الذین لایدعون مع اللہ ....] ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کونسا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ میں نے پھر عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ “ (یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَاءَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰی أَنْ لَا یُشْرِکْنَ باللّٰہِ شَیْءًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ أَوْلَادَہُنَّ وَلَا یَأْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَفْتَرِیْنَہُ بَیْنَ أَیْدِیْہِنَّ وَأَرْجُلِہِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ )[ الممتحنۃ : 12] ” اے نبی ! جب مومن عورتیں آپ کی بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کریں گی، چوری اور بدکاری نہیں کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور اپنے ہاتھ پاؤں سے کوئی بہتان باندھ کر نہیں لائیں گی اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگیں یقیناً اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے۔ 2۔ رزق تنگ کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔ 4۔ اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل نہیں کرنا چاہیے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والا ہے۔ 6۔ قتل اولاد بہت بڑا جرم ہے۔ تفسیر بالقرآن قتل اولاد کا جرم : 1۔ نہ اسراف کرو، نہ زنا کرو اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرو۔ (الممتحنۃ : 12) 2۔ اولاد کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ (بنی اسرائیل : 31) 3۔ اپنی اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ (الانعام : 151) 4۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا نقصان پائیں گے۔ (الانعام : 140)
Ayahs 17:31–32

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں۔ بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ “ (31)

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

” اور زنا کے قریب نہ جاؤ، یقیناً وہ بےحیائی اور برا راستہ ہے۔ “ ( 32)

فہم القرآن ربط کلام : ضبط اولاد کے مصنوعی اور غیر شرعی طریقوں سے بدکاری کو رواج ملتا ہے۔ لہٰذا زنا کے راستوں اور طریقوں سے منع کیا گیا ہے۔ زنا کے نتیجہ میں حمل ٹھہر جائے تو بچہ ضائع کردیا جاتا ہے۔ اس لیے قتل اولاد سے منع کرنے کے بعد زنا سے بھی منع کیا گیا ہے۔ دین اسلام نہ صرف زنا سے منع کرتا ہے بلکہ وہ زنا کی قربتوں اور راستوں سے بھی روکتا ہے اور زنا کو بےحیائی اور برا راستہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے جن راستوں اور واسطوں کے ذریعے آدمی زنا کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان سے اجتناب کرنے کا سختی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ زنا ایسا برا عمل ہے جو آدمی سے یکدم سرزد نہیں ہوتا بلکہ پہلے کچھ اقدامات اور حرکات کرنا پڑتی ہیں۔ پہلے ایک دوسرے کو دیکھا دیکھی ہوتی ہے، پھر قربت کے راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ بسا اوقات ایک دوسرے کو دیکھے بغیر صرف آواز کے جادو سے متاثر ہو کر مرد عورت کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ دین نے اس لیے غیر محرم مرد اور عورت کو ایک دوسرے کو ارادتًا دیکھنے سے منع کیا ہے حتیٰ کہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ بازار میں نکلیں تو ان کا چلنے کا انداز شریفانہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی غیر محرم سے بات کرنا ناگزیرہو تو عورت کی آواز میں لوچ نہیں ہونی چاہیے۔ (الاحزاب : 32) گانا بجانا اور موسیقی کی آواز بھی آدمی کے دل میں بےحیائی پیدا کرتی ہے اس لیے ایسی تمام چیزوں کے استعمال اور ان کے قریب جانے سے روک دیا گیا ہے تاکہ مسلمان معاشرہ شرم و حیا کا پیکر بن جائے۔ اسی بنا پر حکم دیا ہے کہ زنا کے قریب تک نہ جانا کیونکہ یہ بےحیائی کے ساتھ بدترین راستہ ہے۔ اس راستہ پر چل کر آدمی کا مال، عزت، یہاں تک کہ قتل کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ یہ ایسا برا راستہ ہے کہ آدمی کے کردار پر ہمیشہ کے لیے بد نما دھبہ لگ جاتا ہے بالخصوص بدکاری کرنے والی عورت نہ صرف اپنے والدین، بہن بھائیوں، خاندان کے لیے عار کا سبب بنتی ہے بلکہ شادی کے بعد بھی یہ حرکت اس کی اولاد کے لیے مستقل طعنہ بنا رہتا ہے۔ غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں اگر اس فعل کے نتیجہ میں حمل ٹھہر جائے تو بچہ ضائع کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوتا جو واضح طور پر ایک جان کا قتل ہے۔ کئی مرتبہ ایسے بچوں کو گندگی کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔ اس طرح زنا ہر قسم کی زیادتی اور بےحیائی کو فروغ دیتا ہے۔ ان برائیوں کی وجہ سے حکم دیا ہے کہ زنا کے قریب نہ پھٹکنا کیونکہ یہ سراسر بےحیائی اور برائی کا راستہ ہے۔ بدکاری سے بچنے کے احکام : (وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنَا إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاءَ سَبِیْلاً )[ الاسراء : 32] ” اور تم زنا کے قریب نہ جاؤیقیناً یہ فحاشی اور بری راہ ہے۔ “ ” مومنوں کو فرما دیجیے اپنی نظروں کو جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ “ [ النور : 30] ” اے پیغمبر ! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر لٹکا لیں۔ یہ امر ان کے لیے موجب شناخت ہوگا تو کوئی ان کو ایذاء نہ دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ [ الاحزاب : 59] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر اس کے حصّے کا زنا لکھ دیا ہے وہ ضرور اس کو پائے گا۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور انسان کے نفس میں بری خواہش پیدا ہوتی ہے۔ وہ شہوت پر آمادہ ہوتا ہے۔ شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ (بخاری ومسلم) مسلم کی روایت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا آدم کے بیٹے پر اس کے زنا کا حصہ ثبت ہے وہ ضرور اس کو پانے والا ہے۔ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا کلام کرنا ہے۔ ہاتھ کا زناپکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چل کر جانا ہے۔ دل خواہشات اور آرزوئیں پیدا کرتا ہے۔ شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ “ یعنی زنا کرنے سے اس کی تصدیق ہوجائے گی۔ زنا کرنے سے دل کی خواہش کی نفی ہوگی۔ [ رواہ مسلم : کتاب القدر، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنا وغیرہ ] زانی کی سزا : (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ وَ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ ؓ اَنَّ رَجُلَیْنِ اخْتَصَمَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ اَحَدُھُمَا اقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَاب اللّٰہِ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اَجَلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَاقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَاب اللّٰہِ وَ أءْذَنْ لِیْ اَنْ اَتَکَلَّمَ قَالَ تَکَلَّمْ قَالَ اِنَّ ابْنِیْ کَانَ عَسِیْفًا عَلٰی ھٰذَا فَزَنٰی بامْرَاَتِہٖ فَاَخْبَرُوْنِیْ اَنَّ عَلٰی ابْنِیَ الرَّجْمَ فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِاءَۃِ شَاۃٍ وَ بِجَارِیَۃٍ لِیْ ثُمَّ اِنِّی سَاَلْتُ اَھْلَ الْعِلْمِ فَاَخْبَرُوْنِی اَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِا ءَۃٍ وَ تَغْرِیْبَ عَامٍ وَ اِنَّمَا الْرَّجْمُ عَلَی امْرَاَتِہٖ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ لَاَ قْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَاب اللّٰہِ اَمَّا غَنَمُکَ وَ جَارِیَتُکَ فَرَدٌّ عَلَیْکَ وَاَمَّا ابْنُکَ فَعَلَیْہِ جَلْدُ ماءَۃٍ وَ تَغْرَیْبُ عَامٍ وَاَمَّا اَنْتَ یَا اُنَیْسُ فَاغْدُ اِلَی امْرَاَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَھَا) [ رواہ البخاری : باب إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَی صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ اور زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں کہ دو شخص رسول مکرم ﷺ کے پاس مقدمہ لے کر آئے۔ ایک نے کہا ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ فرمائیں۔ دوسرے نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا ‘ کہ اللہ کے رسول ! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بات کرو۔ اس نے کہا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا ‘ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے۔ میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک لونڈی بطور فدیہ دی۔ بعد ازاں میں نے علماء (یہود) سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے بطور حد لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کردیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا یاد رکھو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ بکریاں اور لونڈی تجھے واپس کی جائیں۔ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا جائے گا۔ اے انیس ! صبح اس کی بیوی کے پاس جائیں اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کردیں۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کیا لہٰذا اسے رجم کردیا گیا۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ لَمَّا اَتٰی مَاعِزُ ابْنُ مَالِکٍ ؓ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ لَہٗ لَعَلَّکَ قَبَّلْتَ اَوْ غَمَزْتَ اَوْ نَظَرْتَ قَالَ لَا یَا رَسُوْلَ ا للّٰہِ ﷺ قَالَ اَنِکْتَھَا لَا یَکْنِیْ قَالَ نَعَمْ فَعِنْدَ ذٰلِکَ اَمَرَ بِرَجْمِہٖ ) [ رواہ البخاری : باب ہَلْ یَقُولُ الإِمَامُ لِلْمُقِرِّ لَعَلَّکَ لَمَسْتَ أَوْ غَمَزْتَ ] ” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ماعز بن مالک ؓ نبی گرامی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ‘ شاید تو نے بوس و کنار اور ملاپ کیا ہو یا اسے دیکھا ہو۔ اس نے کہا نہیں ! آپ ﷺ نے پوچھا ‘ کیا تو نے اس سے جماع کیا ہے ؟ آپ کنایہ نہیں کر رہے تھے۔ اس نے کہا ‘ جی ہاں ! تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ “ مسائل 1۔ زنا کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔ 2۔ زنا بےحیائی اور بری راہ ہے۔ تفسیر بالقرآن زنا کی برائیاں : 1۔ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً یہ بےحیائی اور برا راستہ ہے۔ (بنی اسرائیل : 32) 2۔ نیک لوگ کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں۔ (الفرقان : 68) 3۔ زانی مرد اور عورت کو سو کوڑے لگائیں۔ (النور : 2) 4۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، چوری نہ کریں اور زنا نہ کریں۔ (الممتحنۃ : 12)
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

” اور جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے قتل مت کرو مگر حق کے ساتھ اور جو مظلوم قتل کردیا جائے ہم نے اس کے ولی کے لیے اختیار رکھا ہے۔ پس وہ قتل کرنے میں حد سے نہ بڑھے، یقیناً وہ مدد دیا ہوا ہے۔ “ (33)

فہم القرآن ربط کلام : قتل اولاد، زنا اور عفت گری سے روکنے کے بعد انسانی جان کے قتل سے روکا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو ظاہری اور جوہری صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین تخلیق فرما کر ارشاد فرمایا کہ میں نے انسان کو بحر و بر میں عزت و عظمت عنایت فرمائی ہے۔ (بنی اسرائیل : 70) اس کے مقام و مرتبہ اور ہر طرح سے امن وامان قائم رکھنے کے لیے اس کو شرم و حیا اور عفت و عصمت کی رکھوالی کا حکم دیا اور یہ بھی حکم صادر فرمایا ہے کہ نفس انسانی کا احترام اور تحفظ ہونا چاہیے۔ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کو جائز حق کے بغیر قتل کرے۔ (المائدہ : 32) میں ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی ایک کو قتل کیا گویا کہ اس نے سب لوگوں کو مار ڈالا اور جس نے کسی جان کو تحفظ دیا۔ گویا کہ اس نے سب لوگوں کو تحفظ فراہم کیا اور جس شخص کو ناحق قتل کیا گیا اس کے وارثوں کو پورا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لیں یا معاف کردیں۔ یہ اختیار اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ہے۔ لہٰذا معاشرہ اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ بدلہ لینے میں اس کی مدد کرے۔ البتہ بدلہ لینے کی صورت میں انہیں کسی قسم کی زیادتی کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ زیادتی سے مراد ایک کے بدلے زیادہ لوگوں کو قتل کرنا۔ لاش کا مثلہ کرنا، اصل قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو قتل کرنا، قتل کرتے وقت اذیتیں دینا۔ یاد رہے کہ مقتول کے وارث دیت لیں یا معاف کرسکتے ہیں۔ لیکن قصاص خود نہیں لے سکتے۔ قصاص حکومت کے ذریعہ ہی لیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر قتل در قتل کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ قرآن مجید نے لوگوں کو ہر قسم کی قتل و غارت سے منع کرتے ہوئے اِلَّا بالْحَقِّ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کا معنٰی ہے کہ کچھ ایسے مجرم ہیں جن کی جان کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ ایسے لوگ معاشرے کی حیا اور امن وامان کے دشمن ہیں۔ انہیں کھلا چھوڑنا ملک و ملت کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ درج ذیل پانچ جرم ہیں۔ 1۔ قتل کے بدلہ قتل کرنا البتہ مقتول کے وارث کو دیت لینے اور معاف کردینے کا پورا پورا حق ہے۔ یہ حق وارث کے بغیر کسی شخص اور حکومت کو حاصل نہیں ہوگا۔ 2۔ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنا۔ 3۔ اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والا بھی قتل کیا جائے گا۔ 4۔ دین اسلام سے مرتد ہونے والا واجب القتل ہوگا اس میں گستاخ رسول ﷺ بھی شامل ہے۔ 5۔ راہزنی اور اسلامی حکومت میں دنگاو فساد برپا کرنے والا بھی تہ تیغ کیا جائے گا۔ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ لَزَوَال الدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدیات، باب ماجاء فی تشدید قتل المؤمن ] ” عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ بیشک نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی تباہی ایک مسلمان کو قتل کرنے سے زیادہکم درجہ رکھتی ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہُ قَالَ الْکَبَاءِرُ الإِشْرَاک باللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ أَوْ قَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ وَالْیَمِیْنُ الْغَمُوْسُ ) [ رواہ أحمد ] ” عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا یا کسی جان کو قتل کرنا۔ کبیرہ گناہ ہیں راوی کو اس میں شک ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ “ بھی ان میں شامل ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسُعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقتِاَلُہٗ کُفْرٌ ) [ رواہ البخاری : باب اتِّبَاعُ الْجَنَاءِزِ مِنَ الإِیمَانِ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ‘ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ “ مسائل 1۔ کسی کو ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ مقتول کے وارث کو قصاص لینے کا حق حاصل ہوگا۔ 3۔ مقتول کے وارث کو حد سے نہیں بڑھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن قتل کا گناہ : 1۔ جس جان کو اللہ نے تحفظ دیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرنا چاہیے۔ (بنی اسرائیل : 33) 2۔ جس نے کسی کو بغیر حق کے قتل کردیا گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ (المائدۃ : 32) 3۔ قابیل کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر ابھارا۔ اس نے قتل کردیا پس خسارہ پانے والا ہوا۔ (المائدۃ : 30) 4۔ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (النساء : 93) 5۔ کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ (الانعام : 151)