Ayah 16:1فہم القرآن
ربط کلام : سورة الحجر کا اختتام ان آیات پر ہوا ہے کہ مشرکین سے مزید بحث و تکرار کرنے کی بجائے اعراض کیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے ان کی کٹ حجتیاں اور استہزا کے مقابلے میں کافی ہے یہ لوگ جو ہرزہ سرائی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس سے آپ کا دل پسیجتا ہے۔ بس آپ اپنے رب کو یاد کرتے رہیں اور کفار کو تنبیہ کریں کہ جس بات کی تم جلدی کرتے ہو وہ آن پہنچی ہے۔
رسول معظم ﷺ مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھاتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیے رکھا تو اس کا عذاب تمہیں آلے گا۔ لیکن مشرکین آپ ﷺ کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتے کہ سال پر سال گزر رہے ہیں، تیری دھمکیوں کے باوجود اب تک ہم پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا۔ اس دلیری میں وہ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ ایک دن بیت اللہ میں جمع ہو کر اس کے غلاف کو کھینچتے ہوئے یہ الفاظ کہتے ہیں کہ اے اللہ اگر یہ دین حق اور یہ رسول تیری طرف سے ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں کسی ہولناک عذاب سے دوچار کر دے جس کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس لیے عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا کہ اس کا رسول ان میں موجود ہے اور ان پر عذاب نہ آنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں مسلمان موجود ہیں جو استغفار کرتے رہتے ہیں۔ (الانفال : 32۔ 33)
لیکن اب وقت آگیا تھا کہ ان کی نافرمانیوں کے بدلے میں ان پر عذاب نازل کیا جائے۔ چناچہ اعلان ہوتا ہے اپنے آپ سے باہر ہونے اور جلدی کرنے کی ضرورت نہیں بس اللہ کا حکم آہی پہنچا ہے۔ جب اللہ کا عذاب آئے گا تو اس کے سامنے تم اور تمہارے معبودان باطل یکسر بےبس ہوجائیں گے۔ اب تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا تو اس کا معنیٰ یہ نہ سمجھو کہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔ وہ ہر کمزوری سے مبرا، اور ہر قسم کی شراکت سے پاک اور تمہارے باطل عقیدہ اور تصورات سے کہیں اعلیٰ اور ارفع ہے۔ اس کے کمال کو کوئی زوال نہیں اور اس کی ذات میں کوئی نقص نہیں وہ ہمیشہ سے اعلیٰ اور صاحب کمال ہے اور رہے گا۔
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِیَّ ﷺ أَیُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّہِ نِدًّا وَّہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ إِنَّ ذٰلِکَ لَعَظِیْمٌ، قُلْتُ ثُمَّ أَیُّ قَالَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ تَخَافُ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیُّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ حَلِیْلَۃَ جَارِکَ )
[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر باب قَوْلُہُ تَعَالَی (فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّہِ أَنْدَادًا وَّأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے آپ نے فرمایا تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑا ہے۔ اس کے بعد کونسا ہے آپ نے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھانا کھائے گی۔ میں نے عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ شریکوں کی شراکت سے پاک اور مبرا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری اور شرک سے پاک ہے :
1۔ اللہ ان کے شرک سے پاک و برتر ہے۔ (النحل : 1)
2۔ اللہ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا۔ اللہ شریکوں سے بلند وبالا ہے۔ (النمل : 3)
3۔ اللہ غائب اور حاضر کو جاننے والا ہے اللہ شریکوں کی شراکت سے بلند ہے۔ (المومنون : 92)
4۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ اللہ ان کے شرک سے بالا ہے۔ (النمل : 63)
5۔ اللہ نے تمہیں پیدا کیا، رزق دیا، تمہیں مارے گا اور تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے شرکا میں سے بھی کوئی ہے جو یہ کام کرسکے ؟ اللہ مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔ (الروم : 40)
6۔ قیامت کے دن آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ اللہ لوگوں کے شرک سے پاک و برتر ہے۔ (الزمر : 67)
Ayah 16:2فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک اور نقص سے مبرا ہونے کی وجہ سے اکیلا ہی معبودِ حق ہے۔
رسول معظم ﷺ کی نبوت کا انکار کفار کئی قسم کے اعتراضات اور بہانوں سے کیا کرتے تھے۔ ان میں ایک اعتراض اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ نے واقعی عرب سے کسی کو رسول بنانا ہوتا تو وہ طائف یا مکہ کے فلاں امیر زادے کو رسول نامزد کرتا۔ اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ ایک یتیم اور مالی اعتبار سے کمزور شخص کو اپنا رسول بناتا۔ اس کا جواب دوسرے مقامات پر مختلف الفاظ اور انداز میں دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اعلیٰ اور ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے۔ اس لیے اسے نہ کسی کے مشورے اور تجویز کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ کسی مالدار کی دولت کا محتاج ہے کہ اس کے بغیر اس کا پیغام لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔ وہ تو ہر اعتبار سے بےنیاز اور طاقت ور ہے۔ اس لیے اس نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کون سا سینہ اس کی وحی کا متحمل اور کون سے کندھے نبوت کی ذمہ داریاں اٹھا سکتے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں منتخب کرتا ہے۔ لہٰذا اس نے حضرت محمد ﷺ کو اپنے پیغام اور کام کے لیے اس لیے منتخب کیا ہے کہ وہ لوگوں کو سمجھائیں اور بتلائیں کہ اے لوگو ! رب ذوالجلال سے ڈر کر اس کی ذات اور صفات میں شرک کرنا چھوڑ دو ۔ کیونکہ اس کے سوا کوئی معبودِ حق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔ لہٰذا ایرے غیرے سے ڈرنے کی بجائے صرف اسی سے ڈرتے رہو۔ رسول معظم ﷺ پر وحی لانے والا فرشتہ ایک ہی تھا۔ جن کا نام نامی اسم گرامی حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ہے۔ مگر یہاں جمع کا لفظ ” الملائکۃ “ استعمال ہوا ہے۔ اس لیے کہ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ملائکہ کے سردار ہیں اور اہل عرب تعظیم کی خاطر کسی قوم کے سربراہ کے لیے جمع کا لفظ بھی استعمال کرتے تھے۔ جس کی بنا پر الملک کے بجائے جمع کا لفظ لایا گیا ہے۔
الروح کا لفظ قرآن مجید میں تین معنوں میں استعمال ہوا ہے :
1۔ الروح سے مراد ہر جاندار میں حرکت کرنے والی قوت جسے اردو زبان میں جان اور عربی میں روح کہا جاتا ہے۔
2۔ قرآن مجید میں روح سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ (الشعراء : 193)
3۔ روح سے مراد وحی، پیغام اور کسی کے دل میں القا کرنا بھی آیا ہے۔ (النحل : 2۔ المومن : 15۔ الشعراء : 194)
یہاں اس سے مراد روح نبوت یعنی وحی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنے حکم کے ساتھ نازل کرتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کا نزول فرماتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔
4۔ ہر حال میں اللہ سے ہی ڈرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں :
1۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے جو رات کے بعد دن لائے ؟ (القصص : 71)
2۔ انہوں نے اللہ کے سوا ان کو الٰہ بنا لیا ہے جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الفرقان : 3)
3۔ اگر یہ الٰہ ہوتے تو جہنم میں نہ جاتے۔ (الانبیاء : 99)
4۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
5۔ کون ہے جو لاچار کی فریادسنتا اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے، کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62)
6۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سوا رہنمائی کون کرتا ہے ؟ کیا کوئی اور بھی الٰہ ہے۔ (النمل : 63)
7۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنے اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
Ayah 16:3فہم القرآن
ربط کلام : ایک الٰہ سے ڈرنا اور اس ایک ہی کی عبادت کرنا اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور کائنات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔
لوگوں کو اس لیے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک سمجھنے اور بنانے سے منع کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں خالق حقیقی کے ساتھ اور کوئی شریک اور سھیم نہیں تھا۔ وہی زمین و آسمان اور ہر چیز کا خالق ہے۔ زمین و آسمان کالا محدود نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ نہ صرف اس کی تخلیق میں کوئی شریک نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بےمقصد پیدا کرنے کے بجائے ایک خاص مقصد اور ٹھیک ٹھیک انداز میں پیدا فرمایا ہے۔ زمین و آسمان کا چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ اس کی خدائی کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ باطل خداؤں کی تردید کر رہا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا فرمایا۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے برتر ہے۔
تفسیر بالقرآن
زمین و آسمان کی پیدائش کے مختلف مراحل :
1۔ اللہ نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے اللہ شرک سے بالا تر ہے۔ (النحل : 3)
2۔ اللہ نے بغیر نمونے اور میٹیریل کے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ (البقرۃ : 116)
3۔ زمین و آسمان پہلے باہم جڑے ہوئے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ (الانبیاء : 30)
4۔ اللہ نے دو دن میں آسمانوں کو پیدا کیا۔ (حٰم السجدۃ : 12)
5۔ اللہ نے آسمان و زمین چھ دن میں بنائے۔ (الاعراف : 54)
Ayah 16:4فہم القرآن
ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔
اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیز ہے اسے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے انسان کی تخلیق کے بیان سے پہلے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ گویا کہ مکیں سے پہلے مکاں کا بیان ہوا۔ اب انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اے انسان تجھے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا ہے اور زمین و آسمان کی تخلیق کی طرح تیری تخلیق میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو مرد اور عورت کے ملاپ کے ذریعے ان کے نطفہ سے بچہ کو پیدا کرتا ہے، اگر نہ چاہے تو مرد اور عورت کے زندگی بھر کے ملاپ سے کچھ بھی نہ پیدا ہو اور نہ انہیں کوئی دوسرا اولاد عطا کرسکتا ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود انسان نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو اس کا شریک بناتا ہے بلکہ شرک جیسے عظیم گناہ کے من گھڑت دلائل بھی دیتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کھلے الفاظ میں جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا ہر انسان کو اپنی اوقات سامنے رکھنی چاہیے کہ وہ کیا تھا اور کہاں پہنچا اور کس ذات کبریا کے ساتھ اوروں کو شریک بنا کر اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے۔ ( یٰس : 77)
(عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ اِنَّ خَلْقَ اَحَدِکُمْ ےُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِےْنَ ےَوْمًا نُّطْفَۃً ثُمَّ ےَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَبْعَثُ اللّٰہُ اِلَےْہِ مَلَکًا بِاَرْبَعِ کَلِمَاتٍ فَےَکْتُبُ عَمَلَہٗ وَاَجَلَہٗ وَ رِزْقَہٗ وَشَقِیٌّ اَوْ سَعِےْدٌ ثُمَّ ےُنْفَخُ فِےْہِ الرُّوْحُ فَوَالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَےْرُہُ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ فَےَدْخُلُھَاوَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَےَدْخُلُھَا)[ رواہ البخاری : باب خَلْقِ آدَمَ صَلَوَات اللَّہِ عَلَیْہِ وَذُرِّیَّتِہٖ ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے سچے اور مصدوق رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں ہر شخص کی تخلیق اس کی والدہ کے رحم میں چالیس دن ایک نطفہ کی صورت میں ہوتی ہے پھر چالیس دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر چالیس دن گوشت کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتے ہیں وہ اس کا کردار، اس کی موت، اس کا رزق، اس کا بد یا نیک ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ اس اللہ کی قسم جس کا کوئی شریک نہیں تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے اور وہ ایسے کام کرتا ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص عمر بھر دوزخیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ دوزخ اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی ہوتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ پھر وہ جنتیوں والے عمل کرکے جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہٗ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہٗٓ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لَنْ یُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہٗٓ اِیَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رِوَاے َۃٍ : ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہٗٓ اِیَّایَ فَقَوْلُہٗ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا)
[ رواہ البخاری : باب قَوْلُہٗ قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ابن آدم مجھے جھٹلاتا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ وہ میرے بارے میں زبان درازی کرتا ہے یہ اس کے لیے ہرگز جائز نہیں۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا جیسا کہ اس نے پہلی بار پیدا کیا۔ حالانکہ میرے لیے دوسری دفعہ پیدا کرنا پہلی دفعہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کا میرے بارے میں یہ کہنا بدکلامی ہے کہ اللہ کی اولاد ہے جبکہ میں اکیلا اور بےنیاز ہوں۔ نہ میں نے کسی کو جنم دیا اور نہ مجھے کسی نے جنا ہے اور کوئی بھی میری ہر برابری کرنے والا نہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے یہ الفاظ پائے جاتے ہیں کہ ابن آدم کی میرے بارے میں بدکلامی یہ ہے کہ میری اولاد ہے جبکہ میں پاک ہوں نہ میری بیوی ہے نہ اولاد۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا۔ 2۔ انسان جھگڑالو ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسانی تخلیق کے مختلف مراحل :
1۔ اللہ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ (النحل : 4)
2۔ اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59)
3۔ حوا کو آدم سے پیدا کیا۔ (النساء : 1)
4۔ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12)
5۔ ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2)
6۔ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ (النساء : 1)
Ayahs 16:5–6فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی تخلیق کے، چوپاؤں کی تخلیق کا بیان یعنی اللہ کے خالق ہونے کے مزید دلائل۔
انسان کو اس کی تخلیق کا احساس دلانے کے بعد ان چیزوں کی تخلیق کا حوالہ دیا جا رہا ہے کہ جن کے بغیر انسان کا جینا، رہنا سہنا اور اس کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک جانا انتہائی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل و کرم فرماتے ہوئے نہ صرف انسان کو یہ نعمتیں عنایت فرمائیں بلکہ ان کو کلی طور پر انسان کے تابع فرمان کردیا۔ ان میں حلال قسم کے چوپائے ہیں۔ جن کے جسم کے بالوں اور اون سے آدمی سردیوں سے بچنے کے لیے گرم لباس بناتا اور استعمال کرتا ہے۔ بالخصوص عرب کا بیشتر علاقہ خانہ بدوش لوگوں پر مشتمل تھا۔ اس سے سفر کے دوران لباس اور جانوروں کی کھالوں، بالوں اور اون کے خیمے بناتے تھے۔ جاڑے کے موسم میں کھلے صحراؤں میں انہیں مکان کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس طرح ہر دور میں انسان اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اپنی زیب وزینت اور ضرورت کے لیے استعمال کرتا آرہا ہے اور کرتا رہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو آمدنی کے حصول کا ذریعہ بنانے کے ساتھ ان کے لیے سہارا اور شان و شوکت کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ بالخصوص دیہاتی زندگی میں بھیڑ بکریاں ہوں یا اونٹ، بیل اور بھینسیں ہوں جب شام کے وقت چراگاہوں اور کھیتوں سے چروا کر ان کے مالک کے واپس پاس آتے ہیں تو مالک کی طبیعت میں خوشی کی عجب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے چوپایوں کے صبح کے وقت نکلنے کا منظر بیان کرنے کے بجائے شام کے وقت پیٹ بھر کر واپس آنے کا منظر ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ صبح کے وقت چوپائے خالی پیٹ نکلتے ہیں تو ان کے مالک کو یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ نہ معلوم چرنے کے لیے کہاں سے گھاس وغیرہ اور پینے کے لیے پانی میسر آتا ہے ؟ بالخصوص جن مالکوں کی چراگاہیں اپنی نہیں ہوتیں ان کی کیفیت صبح کے وقت ایسی ہی ہوتی ہے۔ لیکن جب سیر ہو کر شام کو خیرو سلامتی کے ساتھ جانور واپس آتے ہیں تو مالک کے چہرے سے اطمینان عیاں ہوتا ہے۔
چوپایوں کے مزید فوائد :
(وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِمَّا فِیْ بُطُونِہٖ مِنْم بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَآءِغًا لِّلشَّارِبِیْنَ )[ النحل : 66]
” اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے کہ ہم تمہیں ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان میں سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔ “
(اللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْأَنْعَامَ لِتَرْکَبُوْا مِنْہَا وَمِنْہَا تَأْکُلُونَ ۔ وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَیْہَا حَاجَۃً فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَعَلَیْہَا وَعَلَی الْفُلْکِ تُحْمَلُوْنَ )[ المومن : 79۔ 80]
” اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہاری سواری اور کھانے کے لیے چوپایوں کو پیدا کیا اور تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں۔ جو ضرورت تمہارے جی میں آئے۔ اس کے لیے ان پر اور کشتیوں پر سوار ہو کر وہاں پہنچ جاتے ہو۔ “
مسائل
1۔ ہر قسم کے چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو انسانی فوائد کے لیے پیدا کیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو انسان کے لیے زیب وزینت کا سامان بنایا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے چوپائے انسان کے فائدے کے لیے پیدا فرمائے :
1۔ اللہ نے چوپایوں کو انسانی ضروریات اور زیب زیبائش کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ (النحل : 5۔ 6)
2۔ قربانی کے ایام میں ان پر اللہ کا نام لیں جو چوپائے اللہ نے تمہیں عطا کیے ہیں پس تم بھی اس میں سے کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔ (الحج : 28)
3۔ تمہارے لیے چوپایوں میں بہت زیادہ فائدہ ہے اور اسی سے تم کھاتے ہو۔ (المومنون : 21)
4۔ چوپایوں میں تمہارے لیے نفع ہے ان پر تم سواری کرتے ہو۔ (المومنون : 80)
Ayahs 16:7–8فہم القرآن
ربط کلام : حلال چوپایوں کے ذکر کے بعد بار برداری کے کام آنے والے چوپایوں کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ کی یہ کرم فرمائی ہے کہ اس نے حلال چوپاؤں اور بار برداری کے کام آنے والے چوپاؤں کے درمیان حلال و حرام کے ذریعے فرق کردیا ہے۔ حلال چوپایوں میں بھیڑ اور بکریوں کا گوشت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اور ان کی نسل دنیا کے تمام ممالک میں حسب ضرورت پائی جاتی ہے۔ ان کی افزائش اور پیدائش کا سلسلہ دوسرے چوپایوں کے مقابلے میں زود افزائش ہے۔ بھیڑچھ سے سات مہینے کے دوران ایک سے لے کر تین تک بچے جنم دیتی ہے۔ بکری پانچ سے چھ مہینے کی مدت میں عام طور پر دو سے چار بچے پیدا کرتی ہے۔ ان کے مقابلے میں بار برداری کے کام آنے والے جانوروں کی حلال جانوروں کے مقابلے میں نسبتاََ کم ضرورت ہوتی ہے اس لیے ان کی مدت پیدائش میں بھی خاصہ فرق رکھا گیا ہے۔ شاید اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ انہوں نے بوجھ اٹھا کر طویل سفر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے گھوڑی اور گدھی بارہ ماہ کے بعد بچہ پیدا کرتی ہے۔ تاکہ ان کے جسم مضبوط ہوں اور ان کے تخلیقی ڈھانچے میں کسی قسم کی کمزوری واقع نہ رہے۔ اگر سواری اور باربرداری کے لیے یہ جانور پیدا نہ کیے جاتے تو انسان کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک بھاری بھرکم اشیا کی منتقلی ناممکنات میں سے ہوجاتی۔ چوپائے سواری اور بار برداری کے کام آنے کے علاوہ آدمی کی زینت اور شوکت میں اضافہ کے باعث بھی ہیں۔ بالخصوص گھوڑے اور خچر کی سواری سوار کی شوکت میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی شفقت اور مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے چوپایوں کو انسان کے تابع کردیا ہے۔ ورنہ انسان کے بس کی بات نہ تھی کہ وہ انہیں اپنے تابع کرلیتا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تمہاری سواری اور باربرداری کے لیے اللہ تعالیٰ وہ کچھ پیدا کرے گا جس کو تم نہیں جانتے چناچہ ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل عنایت فرمائی کہ وہ سواری اور باربرداری کے لیے نئی سے نئی ایجادات کرتا رہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج فضا میں سینکڑوں من بوجھ اٹھائے ہوئے ہوائی جہاز پرواز کر رہے ہیں اور ہزاروں ٹن وزن اٹھائے بحری جہاز سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ہزاروں میل کی مسافت طے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ ایجادات نہ ہوتیں تو انسان کبھی اتنی ترقی نہ کرسکتا۔ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ تمہارا رب تم پر بڑا مہربان اور شفقت کرنے والا ہے۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا اسْتَوٰی عَلٰی بَعِےْرِہٖ خَارِجًا اِلَی السَّفَرِ کَبَّرَ ثَلٰثًا ثُمَّ قَالَ (سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِےْنَ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَاالْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَےْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِلَنَا بُعْدَہٗ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِےْفَۃُ فِی الْاَھْلِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآء السَّفَرِ وَکَآبَّۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالاَھْلِ ) وَاِذَا رَجَعَ قَالَ ھُنَّ وَزَادَ فِےْھِنَّ (اآءِبُوْنَ تَآءِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ ) [ رواہ مسلم : باب مایقول اذا رکب الی سفرالحج ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سفر پر روانہ ہوتے وقت جب اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے ” پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم اس کو زیر کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ بارِالٰہا ! ہم اس سفر میں نیکی ‘ تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جس میں تیری رضا ہو۔ اے ہمارے معبود ! ہمارے اس سفرکو آسان بنا دے ‘ اس کی دوری کو سمیٹ دے۔ بارِ الٰہا ! تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور اہل و عیال کی حفاظت فرمانے والا ہے۔ بارِ الٰہا ! میں سفر کی مشقتوں ‘ غمناک منظر اور اپنے اہل و عیال اور مال میں پریشان واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ جب واپس آتے تو ان کلمات کا اضافہ فرماتے۔” ہم لوٹنے والے ہیں ‘ توبہ کرنے والے ہیں ‘ عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے خالق ومالک کی حمدوثنا کے گن گانے والے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کا بوجھ اٹھانے کے لیے چوپائیپیدا کیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت اور رحمت فرمانے والا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑے، خچر اور گدھے سواری کے لیے پیدا کیے ہیں اور ان کو انسان کے تابع کردیا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ وہ کچھ پیدا کرے گا جسے انسان نہیں جانتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ شفقت اور رحمت والا ہے :
1۔ اللہ بڑی شفقت اور رحمت والا ہے۔ (النحل : 7) 2۔ اللہ تمہارے ساتھ شفقت اور رحمت فرماتا ہے۔ (الحدید : 90)
3۔ اللہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رحم کرنے والا ہے۔ (البقرۃ : 143)
4۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول کی بیشک وہ شفقت کرنے اور رحم والا ہے۔ (التوبۃ : 117)
Ayah 16:9فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے سواری اور باربرداری کے جانور پیدا فرماکر انسان کے لیے راستے آسان کردیے ہیں۔ اسی طرح ہی اس نے انسان کے لیے صراط مستقیم کی نشان دہی فرما کر ہدایت تک پہنچنے کے لیے آسانی پیدا کردی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ بھی کرم فرمائی ہے کہ اس نے مادی وسائل کے ساتھ انسان کی روحانی خوراک اور راہنمائی کا بندوبست بھی فرمایا ہے۔ نزول آدم سے لے کرتا قیامت انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے انسان کی، روحانی غذا اور فکری راہنمائی کا بندوبست فرما دیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی عقل کے حوالے کردیتا تو اس کا صراط مستقیم کو پانا اور اس پر چلنا نہایت مشکل ہوجاتا۔ کیونکہ ہر انسان اپنی عقل اور سوچ کو حرف آخر سمجھ کر ایک دوسرے سے الگ الگ راستہ اختیار کرتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی اس کی عقل پر چھوڑنے کے بجائے اسے وحی کا پابند کیا اور اس کی رہنمائی کا کام اپنے ذمے لیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ صراط مستقیم بتلانا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لیا ہے جبکہ بیشمار ٹیڑھے راستے بھی ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا۔ لیکن اس نے ہدایت کی طرف راہنمائی اور صراط مستقیم کی نشاندہی کرنے کے بعد انسان کو آزاد چھوڑ دیا ہے تاکہ اپنی عقل و فکر اور آزادی کے ساتھ گمراہی اور صراط مستقیم میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرسکے۔
سیدھی راہ :
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیْلُ اللَّہِ ثُمَّ تَلاَ ہٰذِہِ الآیَۃَ (وَأَنَّ ہَذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہٖ )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب اتِّبَاعِ سُنَّۃِ رَسُول اللَّہِ ﷺ ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے۔ آپ نے ایک سیدھا خط کھینچا اور دو خط اس کی دائیں جانب اور دو بائیں جانب۔ پھر آپ ﷺ نے درمیانی خط پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے اور یہ آیت تلاوت کی یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے علاوہ دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ سیدھی راہوں سے تمہیں جدا کردیں گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ ہی راہ ہدایت دکھاتا ہے۔ 2۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سبھی کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
Ayahs 16:10–11فہم القرآن
ربط کلام : حیوانات کے بعد نباتات کے حوالے سے انسان کو غوروفکر کرنے کی دعوت۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ (الانبیاء : 30) بالخصوص انسان اور حیوانات کی زندگی پانی کے سوا چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی خوراک، رہائش بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا جس قدر چاہے ترقی کر جائے اس کی تعمیر و ترقی میں پانی کا عنصر ہمیشہ بنیادی حیثیت کے طور پر شامل رہے گا۔ جہاں تک انسان اور حیوانات کی خوراک کا تعلق ہے۔ اس میں پانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے نباتات اور پھلوں کا ذکر کرنے سے پہلے پانی کا ذکر کیا ہے اور پانی کی بڑی مقدار اور اس کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ بارش ہی ہوا کرتی ہے۔ بارش نہ ہو تو زمین کا پانی بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ بارش کی نسبت آسمان کی طرف اس لیے کی جاتی ہے کہ یہ بلندی سے زمین کی طرف آتی ہے۔ جس کو ہوائیں سمندر سے اٹھا کر اوپر لے جاتی ہیں اور وہاں ایک خاص نکتۂ انجماد پر پہنچ کر پانی بارش کی صورت میں برستا ہے۔ جس سے نباتات اور فصلیں اگتی ہیں۔ انسان اور حیوانات اپنی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ بالخصوص اللہ تعالیٰ انسان کے لیے پانی سے زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔ اس میں غوروفکر کرنے والے انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کو پہچاننے اور صراط مستقیم پانے میں بصیرت کے واضح دلائل موجود ہیں۔ جس کی وضاحت یوں فرمائی گئی ہے
(وَفِی الْأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِیلٌ صِنْوَانٌ وَّغَیْرُ صِنْوَانٍ یُسْقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْأُکُلِ إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُوْنَ )[ الرعد : 4]
” اور زمین کے کئی قطعات ہیں جو آپس میں ملے جلے ہوتے ہیں۔ اس میں انگور کے باغات، مختلف فصلیں اور کھجوریں ہیں۔ جن میں سے کچھ اپنی جڑ سے ملی ہوتی ہیں اور کچھ جڑ سے اوپر ہوتی ہیں۔ ایک ہی پانی سے سیراب ہونے کے باوجود رنگ و نسل اور ذائقے کے اعتبار سے ان کے پھل ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ عقل مندوں کے لیے اس میں سوچنے کی بہت سی باتیں ہیں۔ “
(أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ )[ الانبیاء : 30]
” کیا کافر لوگ غور نہیں کرتے کہ بیشک آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے ہم نے ان کو جدا کیا اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا، کیا وہ ایمان نہیں لاتے ؟ “
مسائل
1۔ آسمان سے پانی نازل کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ پانی تم پیتے ہو اور اسی سے سبزہ اگتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ پانی سے انسانوں کے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور مختلف قسم کے پھل پیدا فرماتا ہے۔
4۔ غوروفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سے دلائل ہیں۔
تفسیر بالقرآن
نباتات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں :
1۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : 11)
2۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : 19)
3۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : 34)
4۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : 99)
5۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ (الانعام : 141)
Ayah 16:12فہم القرآن
ربط کلام : نباتات، کھیتوں اور پھلوں کی پیداوار میں رات اور دن، چاند اور سورج کا بڑا دخل ہے اسی لیے دانشور حضرات کو ان کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن، سورج، چاند اور ستاروں کو اپنے حکم سے لوگوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و سطوت کی نشانیاں اور دانشوروں کے لیے ہدایت کے بیشمار دلائل موجود ہیں۔ رات اور دن، چاند، سورج اور ستاروں کو لوگوں کے لیے مسخر کرنے کا یہ معنیٰ نہیں کہ انسان کسی وقت اس قدر ترقی کر جائے گا کہ وہ رات دن کی گردش، سورج اور چاند کی آمدورفت اور ستاروں کی چمک دمک میں دخل انداز ہو سکے گا۔ یہ پورے کا پورا نظام اور اس کا کنٹرول صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس میں سائنس اور کسی کی ولایت کو دخل کا اختیار نہیں ہوسکتا۔ تسخیر سے مراد یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ رات لوگوں کے سکون کے لیے ہے اور دن کام کاج کے لیے۔ اے انسان ذرا سوچ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کے مطابق رات اور دن کا آنا جانا، سورج کا صبح کے وقت طلوع ہو کر مغرب کے وقت غروب ہونا، چاند اور ستاروں کا رات کو اپنے اپنے وقت میں نمودار ہونا یقینی بنا دیا ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کا حکم صادر ہوگا تو نہ صرف یہ اپنے اپنے مقام پر جامد ہوجائیں گے بلکہ یہ بےحرکت ہو کر زمین پر گرپڑیں گے۔ اس نظام کی طرف اشارہ کرنے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ا انسان ! تیرے لیے سوچنے کی بات ہے کہ یہ چیزیں وجود کے اعتبار سے تجھ سے کروڑوں گنا بڑی ہونے کے باوجود اپنے رب کے حکم کی بجا آوری اور تیری خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ تیرا وجود ان کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر پھر بھی تو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے بجائے نافرمانی سے نہیں چوکتا۔ تجھے اپنے فکر و عمل پر غور کرنا چاہیے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو انسان کے لیے مسخر کردیا۔ 2۔ نظامِ کائنات میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے چاند، سورج اور ستاروں کو اپنے حکم سے مسخر کردیا۔
Ayah 16:13فہم القرآن
ربط کلام : آفاقی نشانیوں کے بعد زراعت اور نباتات کے حوالے سے غوروفکر کی دعوت۔
اسی سورة کی آیت : 11 کی تفسیر میں سورة الرعد کی آیت : 4 کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی قسم کی زمین، پانی اور آب و ہوا کے ذریعے مختلف فصلیں اور نباتات پیدا کرتا ہے۔ یہ فصلیں اور نباتات جنس کے اعتبار سے ہی مختلف نہیں ہوتیں بلکہ ایک زمین ایک ہی پانی سے سیراب ہونے کے باوجود ایک ہی جنس کے مختلف رنگ اور شکل و صورت اور ذائقے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ پودے کو دیکھو زمین، پانی اور سب کچھ ایک ہونے کے باوجود ایک پھول میں مختلف قسم کے رنگ کی پتیاں ہوتی ہیں۔ یہ کس کی قدرت کا کرشمہ ہے ؟ اس خالق حقیقی کو پہچاننے اور شرک سے بچنے سے انسان کے لیے اتنی ہی دلیل کافی ہے۔ بشرطیکہ انسان نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار ہو۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے نباتات کی مختلف اقسام کو بھی انسان کے لیے مسخر کردیا۔
2۔ اس میں نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
تفسیر بالقرآن
انسان کے لیے نباتات کی مختلف اقسام :
1۔ تمہارے لیے مسخر کیا نباتات کو زمین پر پھیلاکر، ان کی اقسام مختلف ہیں۔ (النحل : 13)
2۔ انہوں نے کھیتی اور مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا ہے جو اللہ ہی نے پیدا فرمائے ہیں۔ (الانعام : 136)
3۔ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے مختلف انواع کے پھل پیدا فرمائے۔ (فاطر : 37)
4۔ اللہ زمین سے کھیتی نکالتا ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ (الزمر : 21)
Ayah 16:14فہم القرآن
ربط کلام : آفاق اور نباتات کے بعد سمندری انعامات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نہ صرف لیل و نہار، شمس و قمر اور ستاروں کو اپنے حکم سے انسان کے تابع بنایا ہے بلکہ اس نے زمین اور سمندر کو بھی انسان کے لیے مسخر کردیا ہے۔ لیکن ان چیزوں کی تسخیر میں بنیادی فرق ہے۔ آفاق سے متعلق کائنات انسان کی خدمت میں مصروف ہونے کے باوجود اس کی دسترس سے باہر ہے۔ جہاں تک زمین سے متعلقہ چیزوں کا تعلق ہے وہ کافی حد تک انسان کی دسترس میں کردی گئی ہیں۔ زمین کو انسان جس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ پہاڑوں میں بڑے بڑے محل اور راستے بنا لیے جاتے ہیں، دریاؤں کے رخ موڑ دیے گئے ہیں۔
1۔ نہروں کے ذریعے وہاں تک پانی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پہنچنے کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ دریاؤں کے پانی کو بڑے بڑے ڈیموں میں بند کرلیا جاتا ہے۔
2۔ سمندر کی سطح پر پلوں کی شکل میں بڑی بڑی سڑکیں بنا دی گئی ہیں یہاں تک کہ سمندر کے پانی کی گہرائیوں میں بحری اڈے قائم کردیے گئے ہیں۔ اس طرح مختلف سمندروں سے کروڑوں ٹن ہر روز تروتازہ مچھلی نکالی جاتی ہے۔ جسے انسان اپنی خوراک بنانے کے ساتھ ادویات اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح سمندر کی تہہ سے بڑے بڑے قیمتی ہیرے، جواہرات ہمیشہ سے نکالے جا رہے ہیں جو بالخصوص عورتوں کی حسن و زیبائش کے لیے گراں قدر قیمت کے حامل ہیں۔ معدنیات جیسی خوبصورت چیزیں زمین کی سطح پر نہیں پائی جاتیں۔ اب تو سمندر کے پانی سے تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرلیے گئے ہیں۔ نہ معلوم قیامت تک کون کون سی قیمتی اشیا سمندر کے پانی سے حاصل کرلی جائیں گی۔ ان ذخائر جن کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد سطح سمندر کی طرف آئیں تو دنیا کی تجارت کا ستر فیصد سے زائد حصہ سمندری راستوں کے ساتھ وابستہ ہے جو پرانے زمانے میں کشتیوں کے ذریعے اور آج کل آبدوزوں اور بحری جہازوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائی جا رہی ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے جس پر انسان کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اگر آدمی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ آخر وہ کونسی وجہ ہے کہ جو پانی سوئی کے معمولی وزن کو اپنی چھاتی پر برداشت نہیں کرتا وہ ہزاروں ٹن وزنی جہازوں کو نہ صرف اپنے آپ پر برداشت کرتا ہے بلکہ اسے اٹھائے ہوئے ہزاروں میل تک منتقل کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فائدے کے لیے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے۔
2۔ سمندر میں کشتیاں اللہ کے حکم سے چلتی ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
شکر کی فضیلت :
1۔ کشتیاں پانی چیرتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر کرو۔ (النحل : 14)
2۔ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کا قدردان ہے۔ (النساء : 147)
3۔ اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنے والے کو مزید نوازتا ہے۔ (ابراہیم : 7)
4۔ تھوڑے ہی بندے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ (سبا : 13)
5۔ اللہ نے آنکھ، کان، دل، اس لیے دیے ہیں کہ اس کا شکر ادا کرو۔ (السجدۃ : 9)
6۔ اگر تم اللہ کا شکر کرو تو وہ تمہیں عذاب نہیں کرے گا۔ (النساء : 147)
7۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔ (آل عمران : 144۔ 145)
8۔ شکر سے مراد اللہ کے احکام کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ (البقرۃ : 152۔ ابراہیم : 7)
Ayahs 16:15–17فہم القرآن
ربط کلام : سمندر کے بعد پھر زمین کا تذکرہ۔
بارہویں پارے کی ابتدا میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ ( ھود : 7) جب زمین کو پانی پر استوار کیا گیا تو یہ ہچکولے کھاتی تھی جس طرح خالی کشتی پانی پر ہچکولے کھایا کرتی ہے۔ کشتی میں مناسب مقدار میں وزن ہو تو وہ ہچکولے کھانے اور ڈانواں ڈول ہونے کے بجائے پانی کی سطح پر متوازن رفتار میں ٹھہری رہتی ہے۔ یہی کیفیت پہاڑوں سے پہلے زمین کی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے زمین پر بڑے بڑے پہاڑ گاڑ دیے تاکہ ہچکولے کھانے سے رک جائے۔ پھر پہاڑوں کے درمیان دریا، نہریں اور راستے بنا دیے گئے تاکہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سہولت اور راہنمائی حاصل کریں۔ ان راستوں کو پہچاننے کے لیے زمین پر پہاڑ، ٹیلے، درخت اور دیگر نشانیاں قائم کرنے کے ساتھ رات کے سفر کے لیے آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کا سلسلہ پھیلا دیا گیا ہے کہ آسمان کے نیچے بلب لٹکا دیے گئے ہیں۔ جس سے صحراؤں اور بیابانوں میں راستہ تلاش کرنا آسان ہوگیا۔ پھر ستاروں کی مدد سے زمین پر راستے متعین کیے جاتے ہیں۔ بڑی بڑی نشانیاں بیان کرنے اور ان کے حوالے سے اپنی ذات اور صفات کی وحدت کا ثبوت دینے کے بعداللہ تعالیٰ ہر انسان بالخصوص کافر اور مشرک سے سوال کرتا ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں شریک کرتے ہو وہ ان چیزوں کے مقابلے میں وجود کے اعتبار سے نہایت ہی چھوٹی مخلوق ہیں۔ انہیں اور سب کو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا بتاؤ کہ خالق اور مخلوق دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے پھر تم شرک کو سمجھنے اور اس سے بچنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ دوسرے مقام پر اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ اے لوگو تمہارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ سب جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی ان کے کھانے سے کوئی چیز اٹھا کرلے جائے تو یہ اسے واپس نہیں لے سکتے۔ مدد طلب کرنے والے اور جن سے مدد طلب کی جاتی ہے دونوں ہی کمزور ہیں۔ درحقیقت لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں پہچانی۔ (الحج : 73)
ترقی یافتہ اقوام اپنے مقابلے میں دوسروں کو اجڈ ‘ جاہل اور غیر مہذب تصور کرتی ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں ان کا خیال یہ ہے کہ مسلمان غیر مہذب ‘ جاھل اور بنیاد پرست لوگ ہیں۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ان فرسودہ خیالات اور تصورات کی نہ صرف حوصلہ شکنی بلکہ مکمل نفی کی ہے۔ ستاروں اور چاند کو مسخر کرنے کا دعوے کرنے والی اقوام ایسے جاہلانہ تصورات رکھتے ہیں کہ انہوں نے ہفتے کے ایام کو انہی بروج اور سیاروں کی طرف منسوب کر رکھا ہے۔
یہاں پہاڑوں کا سب سے بڑا یہ فائدہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ذریعے زمین کو متوازن بنا دیا گیا۔ اس کا اعتراف آج کے ماہر ارضیات بھی کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین پر پہاڑوں کا سلسلہ اس طرح قائم کیا ہے جس سے زمین میں ٹھہراؤ پیدا ہوگیا ہے۔ اس لحاظ سے پہاڑ زمین کو ہچکولے کھانے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑگاڑ دیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں دریا اور راستے بنائے تاکہ تم راہ پا سکو۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے علامتیں بنائی ہیں۔ 4۔ انسان ستاروں سے بھی راستہ تلاش کرتے ہیں۔
5۔ پیدا کرنے والا اور نہ کرنے والا برابر نہیں ہوسکتا۔ 6۔ واضح دلائل کے باوجود لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
تفسیر بالقرآن
خالق اور مخلوق برابر نہیں ہوسکتے :
1۔ کیا پیدا کرنے والا اور پیدا نہ کرنے والے برابر ہیں ؟ (النحل : 17)
2۔ کیا تم ان کو شریک بناتے ہو جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف : 191)
3۔ اللہ کے سوا کیا وہ ان لوگوں پکارتے ہیں جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا بلکہ انہیں پیدا کیا گیا ہے ؟ (النحل : 20)
4۔ انہوں نے ان کو معبود بنا لیا جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ (الفرقان : 3)
5۔ بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو تو کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں۔ (الواقعۃ : 63۔ 64)
6۔ تمہیں آسمان و زمین سے کون رزق دیتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
Ayahs 16:18–21فہم القرآن
ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں کے ذکر کے بعد انسان کو احساس دلایا ہے کہ تو اگر اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو تمہارے لیے ان کا گننا اور شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔
آفاقی، زمینی اور بحری نعمتوں کے تذکرے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ چند نعمتوں کا بیان ہوا ہے اگر تم اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تم سب مل کر اپنے بنائے کمپیوٹرز اور دیگر ذرائع سے بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے۔ اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقیدۂ توحید ہے۔ جس کی نشاندہی اللہ کی نعمتیں کر رہی ہیں۔ تم اس کی نعمتوں کی ناشکری اور اس کی ذات اور صفات میں اس کی مخلوق کو شریک کرتے ہو لیکن پھر بھی وہ درگزر کرتا اور تم پر رحم فرماتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم کھلے عام کہتے اور کرتے ہو اور جو تم اپنے دلوں میں لوگوں سے چھپاتے ہو۔ جن مدفون لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے ہو۔ بتاؤ آسمانوں، زمین، فضاؤں اور سمندروں میں کونسی چیز انہوں نے پیدا کی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس وسیع ترین کائنات میں ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ اب وہ مرچکے تمہاری مدد کس طرح کرسکتے ہیں ؟ کیونکہ نہ سنتے ہیں اور نہ حرکت کرسکتے ہیں یہاں تک کہ انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ ” من دون اللّٰہ “ سے مراد ہر جگہ بت مراد نہیں ہوتے۔ یہاں یہ حقیقت کس قدر کھلے الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ ” من دون اللّٰہ “ سے مراد یہاں بت نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک مکتبۂ فکر کے مفسر نے یہاں بھی ” من دون اللّٰہ “ سے مراد بت ہی لیے ہیں۔ حالانکہ شرک کے پردے ہٹا کر دیکھتے اور معمولی سا غور کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا ہے کیا قیامت کے دن پتھروں کو پیدا کیا جائے گا۔ یہ عقیدہ تو دنیا میں کسی جاہل سے جاہل آدمی کا بھی نہیں ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ خدا کے باغی لوگوں اور پتھروں کو جہنم میں پھینکا اور تپایا جائے گا۔ (البقرۃ : 24)
بالخصوص جن پتھروں کے بت بنائے گئے۔ انہیں تو ضرور جہنم میں جھونکا جائے گا تاکہ ان کے ماننے والے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جنہیں ہم بزرگوں کا اوتار سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور وسیلہ بناتے تھے وہ بھی ہماری طرح بےبس ہو کر جہنم کا ایندھن بن چکے ہیں۔ ( الانبیاء : 98)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کوئی شمار نہیں کرسکتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ 4۔ اللہ کے سوا کسی نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔
5۔ ” من دون اللّٰہ “ کو اتنا بھی علم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
” من دون اللّٰہ “ نے کچھ پیدا نہیں کیا :
1۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ (النحل : 20)
2۔ کیا تم ان کو شریک بناتے ہو ؟ جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (الاعراف : 191)
3۔ انہوں نے ان کو معبود بنا لیا جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی حالانکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ (الفرقان : 3)
4۔ بیشک جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ سارے بھی جمع ہوجائیں۔ (الحج : 73)
5۔ کیا یہ لوگ بغیر کسی چیز کے پیدا ہوگئے ہیں یا یہ اپنے خالق خود ہی ہیں ؟ (الطور : 35)
6۔ من دون اللہ یعنی ” غیر اللہ “ سے مت مانگو۔ (یونس : 106)
Ayahs 16:22–23فہم القرآن
ربط کلام : دلائل کے ساتھ باطل معبودوں کی نفی کرتے ہوئے اللہ کا ایک الٰہ ہونا ثابت کیا گیا ہے۔
اہل علم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی نام اللہ اور الٰہ ہے۔ لفظ الٰہ اور اللہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ الٰہ اللہ تعالیٰ کا نام ہونے کے ساتھ اس کی صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر الٰہ کو صرف صفت کے معنیٰ میں لیا جائے تو یہ ایسا لفظ اور نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی تمام بڑی بڑی صفات کا ترجمان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کا معنی لفظ الٰہ کے ذریعے ادا کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں پہلی آیات میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں اور آخرت کے انکار کی وجہ سے یہ متکبر ہوگئے ہیں۔ حالانکہ آخرت میں شک کرنے کی رائی برابر گنجائش نہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے اور جس کا وہ اظہار کرتے ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں توحید اور عقیدۂ آخرت کو یکجا اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ عقیدۂ توحید اس وقت تک کامل اور اکمل نہیں ہوسکتا جب تک انسان موت کے بعد اٹھنا اور اٹھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا اور اپنے برے بھلے اعمال کی سزا اور جزا پر یقین نہ رکھے۔ کیوں کہ جو شخص آخرت کا انکار کرتا ہے اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو موت کے بعد زندہ کرنے پر قادر نہیں سمجھتا اور نہ ہی وہ اللہ تعالیٰ کو عادل اور منصف مانتا ہے حالانکہ اس کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایک دن لوگوں کو زندہ کرے اور وہاں نیک لوگوں کو پوری پوری جزا دے اور مجرموں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے۔ پوری پوری جزا اور سزا کا عمل قیامت کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ دنیا میں انبیاء (علیہ السلام) اور صالحین کی خدمات کا صلہ کما حقہ کوئی نہیں دے سکتا۔ اسی طرح ہی کتنے قاتل ہیں جنہیں دنیا میں ایک مقتول کے بدلے قتل کیا گیا۔ جب کہ باقی مقتول اور مظلوم لوگوں کی سزا اسے نہیں دی جاسکتی۔ ایسے مجرم کو قیامت کے دن ہی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ جو کچھ دنیا میں چھپاتے اور ظاہر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے لہٰذا کان کھول کر سن لیں ! کہ دنیا میں انہیں ڈھیل دینے کا یہ معنیٰ نہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پسند کرتا ہے۔ ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ متکبرین کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا یَدْخُلُ الجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَ نَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ )[ رواہمسلم : باب تحریم الکبر وبیانہ ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ ایک آدمی نے عرض کی ایک شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ خوبصورت ہے خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر حق بات کو چھپانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ “
مسائل
1۔ الٰہ حق ایک ہی ہے۔ 2۔ آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے دل منکر ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
الہٰ ایک ہی ہے
1۔ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ رحمن ورحیم ہے (البقرۃ۔ 163)
2۔ یقیناً اللہ ایک ہی الٰہ ہے وہ اولاد سے پاک ہے آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کے لیے ہے (النساء۔ 171)
3۔ اسکے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہ اکیلا ہی ہے ( المائدۃ : 73)
4۔ کہہ دیجیے اللہ ایک ہی الٰہ ہے اور میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : 19)
5۔ اللہ نے فرمایا دو الٰہ نہ بناؤ یقیناً الٰہ ایک ہی ہے۔ (النحل : 51)