Ayahs 16:24–25فہم القرآن
ربط کلام : منکرین آخرت حقیقت میں متکبر ہوتے ہیں لہٰذا تکبر کرنے کا نتیجہ اور اس کا انجام۔
یہ تکبر کا ہی نتیجہ ہے کہ کفار سے جب یہ کہا جاتا کہ سوچو تمہارے رب نے کیا کیا ارشادات نازل فرمائے ہیں۔ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اس طرح نہ صرف خود حق کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس پروپیگنڈہ کے ذریعے دوسرے لوگوں کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھانے کے علاوہ ان کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہوں گے جن کو انھوں نے گمراہ کیا ہوگا۔ کتنا ہی برا بوجھ ہے جسے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں ذلیل ہوں گے۔ (الفرقان : 69) جہاں تک اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (النجم : 38) اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن جو لوگ دوسروں کی گمراہی کا سبب بنیں گے کیونکہ ان کا دوہرا گناہ ہوگا اس لیے انہیں بوجھ بھی دوگنا اٹھانا پڑے گا۔ اس فرمان سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مجرموں کو ذلیل کرنے کے لیے ان کے گناہوں کو حجم کی شکل دے کر ان کے کندھوں پر لادا جائے گا تاکہ وہ ایک دوسرے کی نظروں میں ذلیل ہوتے رہیں۔ پہلے زمانے میں کچھ لوگ اس وجہ سے گمراہ ہوئے کہ نیکی اور بدی کا وزن نہیں ہوسکتا مگر آج سائنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ انسان کے جسم کا ٹمپریچر ماپا اور ہوا کا وزن کیا جاسکتا ہے۔ کیا جس رب نے انسان کو یہ عقل اور صلاحیت دی ہے وہ اس کے اچھے اور برے اعمال کا وزن نہیں کرسکتا ؟ یقیناً لوگوں کے اعمال کو تولا جائے گا۔
(أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَامَ رَسُول اللَّہِ ﷺ حِینَ أَنْزَلَ اللَّہُ (وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الأَقْرَبِینَ ) قَالَ یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَوْکَلِمَۃً نَحْوَہَا۔۔ وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِینِی مَا شِءْتِ مِنْ مَالِی، لاَ أُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللَّہِ شَیْءًا)[ رواہ البخاری : باب (وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الأَقْرَبِین۔۔ )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں آپ نے فرمایا اے قریش کی جماعت یا اس طرح کہ دوسرے کلمات ادا فرمائے۔۔ اور کہا اے فاطمہ بنت محمد دنیا کا جو مال مجھ سے لینا چاہتی ہے لے لے میں اللہ کے ہاں تجھے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکوں گا۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید کو کفار سابقہ امم کے قصے کہانیاں کہتے ہیں۔
2۔ قیامت والے دن اپنا اور جس کو گمراہ کیا ہوگا اس کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن نیکی اور بدی کا وزن ہوگا :
1۔ قیامت کے دن اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ (النحل : 25) 2۔ قیامت کے دن اعمال کا وزن ضرور ہوگا۔ (الاعراف : 8)
4۔ قیامت کے دن ہم عدل کا میزان قائم کریں گے۔ (الانبیاء : 47)
5۔ جس کی نیکیوں کا بوجھ زیادہ ہوگا وہ عیش و عشرت میں ہوگا۔ (المومنون : 102)
6۔ جس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی وہ عیش و عشرت میں ہوگا۔ (القارعۃ : 6۔ 7)
7۔ جن کی نیکیاں کم ہوں گی یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں رکھا ہوگا۔ (المومنون : 103)
8۔ جس کی نیکیوں کا وزن کم ہوا اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے۔ (القارعۃ : 8۔ 9)
9۔ قیامت کے دن چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اس کے سامنے آجائے گی اور چھوٹی سے چھوٹی برائی بھی۔ (الزلزال : 7۔ 8)
Ayah 16:26فہم القرآن
ربط کلام : گمراہوں اور ان کے راہنماؤں کا دنیا میں انجام۔
” لفظ مکر “ کے بارے میں کئی بار وضاحت ہوچکی ہے کہ اگر اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا معنی تدبیر اور منصوبہ بندی ہوتا ہے۔ اگر مکر کی نسبت کسی برے کام اور شخص کی طرف ہو تو پھر اس کا معنی فریب، دھوکا، سازش اور شرارت ہوتا ہے۔ جرائم پیشہ لوگوں، کفار اور مشرکین کی شروع سے یہ عادت رہی ہے کہ وہ لوگوں کو حق سے دور رکھنے اور اپنا ہمنوا بنانے کے لیے مختلف قسم کی سازشیں، شرارتیں اور ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں غلط قسم کے الزامات اور مختلف قسم کا پروپیگنڈہ ہر دور میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور داعیانِ حق کے خلاف کیا گیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حق کو اس طرح غالب کرتا ہے جس سے حق کے منکروں کے بنے ہوئے جال، الزامات اور ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کی بنیاد پر کھڑی کی گئیں عمارتیں ریزہ ریزہ ہو کر دھڑام جاتی ہیں۔ گویا کہ ان کی بنائی ہوئی عمارتیں اور محلات انہی کے اوپر آگرتے ہیں۔ بالآخر اللہ کے عذاب نے انہیں ایسی حالت میں آلیا جس کے بارے میں وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کا اچانک عذاب آنے کی چند مثالیں :
1۔ مجرموں پر عذاب اس طرف سے آیا جدھر سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔ (النحل : 26)
2۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : 78)
3۔ قوم لوط کو سورج نکلنے سے پہلے پہلے ایک آواز نے آلیا۔ (الحجر : 73)
4۔ اگر کفار کے پاس اچانک اللہ کا عذاب آئے تو وہ اسے ٹال نہ سکیں گے۔ (الانبیاء : 40)
5۔ کفار کے پاس اچانک عذاب آئے گا اور وہ شعور بھی نہیں رکھیں گے۔ (الشعراء : 202)
Ayah 16:27فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کے انجام کے ساتھ مجرموں کا آخرت میں انجام۔
گمراہ اقوام اور ان کے راہنماؤں کا دنیا میں بدترین انجام ہوا۔ قیامت کے روز بھی انہیں رسوا کیا جائے گا۔ قیامت کی رسوائیوں میں ایک رسوائی یہ ہوگی کہ غلط پیروں اور ان کے مریدوں، لیڈروں اور ان کے ور کروں، علماء اور ان کے پیروکاروں کو آمنے سامنے کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم بحث و تکرار، جنگ وجدال اور جھوٹے دلائل دیا کرتے تھے۔ جب کوئی جواب نہیں دے پائیں گے تو اہل علم پکار اٹھیں گے۔ آج کے دن کافر اور مشرک ذلیل ہوجائیں گے۔ قرآن مجید میں کافروں اور مشرکوں کی رسوائیوں کا یوں ذکر کیا گیا ہے :
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن پیروں، مریدوں کی تقرار :
1۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کی تکفیر کریں گے اور ایک دوسرے پر پھٹکار کریں گے۔ (العنکبوت : 25)
2۔ قیامت کے دن پیشوا اپنے پیرو کاروں سے براءت کا اظھار کریں گے۔ (البقرۃ : 166)
3۔ قیامت کے دن پیروکار کہیں گے اگر دنیا میں جانا ہمارے لیے ممکن ہو تو ہم تم سے براءت کا اظھار کریں گے (البقرۃ : 165)
4۔ کاش آپ ظالموں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو نگے تو ایک دوسرے کے سامنے تردد کرتے ہوئے کمزور اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے جب کہ ان کے بڑے اس سے انکاری ہونگے (سبا : 32۔ 31)
5۔ قیامت کے دن مجرم دوزخ میں جھگڑیں گے تو کم تر لوگ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے (المومن : 48)
Ayahs 16:28–29فہم القرآن
ربط کلام : آخرت میں کفار اور مشرکین کی ذلت کی ابتداء۔
کفار اور مشرکین کے بارے میں بتلایا جا رہا ہے کہ ان کی موت ذلت کے ساتھ ہوگی اور قیامت کے دن بھی ذلیل ہوں گے۔ اس سے قبل دو آیات میں یہ بتلایا ہے کہ کفار دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں۔ بالخصوص انبیاء کرام کا براہ راست مقابلہ کرنے والے کفار اور مشرک بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے۔ اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان کی ذلت کی ابتدا اسی وقت ہوجاتی ہے جب ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں۔ ملائکہ پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ خوف کے مارے کہتے ہیں ہم کوئی برے کام نہیں کررہے تھے۔ ملائکہ انہیں جھڑکیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کیوں نہیں ! تم اپنے رب کے نافرمان اور باغی تھے۔ تم مانو یا نہ مانو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ بعض مفسرین نے ” فَاَلْقَوُاالسَّلَمَ “ کا یہ مفہوم لیا ہے کہ مرنے کے وقت یہ لوگ موت کے ملائکہ کو دیکھ کر ہتھیار ڈال دیں گے یعنی بےبس ہوجائیں گے یہاں تک کہ آہ وزاری کرنا چاہیں بھی تو نہیں کرسکیں گے۔
قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یہ بھی بیان کیا ہے کہ موت کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنی روح ہمارے حوالے کرو جب روح ان کے جسد عنصری سے باہر نہیں نکلتی تو وہ ان کے چہروں پر تھپڑ مارتے اور جھڑکیاں دیتے ہیں۔ اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کی روح قبض کی جاتی ہے۔ مرنے کے بعد ان کی قبر کو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا بنا دیا جاتا ہے۔ محشر کے دن حکم ہوگا کہ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔ جو تکبر کرنے والوں کے لیے بد ترین جگہ ہے۔ یہاں جہنم کے ایک دروازے کا ذکر کرنے کی بجائے جمع کا لفظ لا کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایسے مجرم ہیں کہ جہنم کے تمام دروازے اور اس کی بلائیں ان کا انتظار کر رہی ہوں گی۔
(عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْٓءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ ) [ رواہ أحمد ]
” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کافر کا دنیا سے رخصت ہونے کا اور موت کا وقت آجاتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے پاس کھردرا لباس ہوتا ہے۔ وہ فرشتے فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوجاتی ہے۔ پھر اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔ “
مسائل
1۔ ظالم اپنے برے اعمال کو درست سمجھتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل سے باخبر ہے۔
3۔ کفار جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ 4۔ تکبر کرنے والوں کا بہت برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم بدترین جگہ ہے :
1۔ جہنم کے دروازوں سے ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانہ ہے۔ (النحل : 29)
2۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ (النساء : 97)
3۔ رسول کی مخالفت کرنے والوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ (النساء : 115)
4۔ اللہ نے کفار کے لیے جہنم تیار کی ہے، وہ برا ٹھکانہ ہے۔ (الفتح : 6)
5۔ بیشک جہنم برا ٹھکانہ اور برا مقام ہے۔ (الفرقان : 66)
Ayahs 16:30–31فہم القرآن
ربط کلام : کفار، مشرکین اور مجرموں کے انجام کے بعد متقی حضرات کا صلہ اور ان کے انجام اور انعام کا بیان۔
اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ لوگو ! تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ جس کے ردِّ عمل میں کافر اور مشرک یہ کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک سے تائب ہوئے اور اللہ کی توحید کا اقرار کیا ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے رب نے تمہاری ہدایت کے لیے کیا نازل فرمایا ہے وہ بلا تاخیر کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے جو کچھ نازل کیا ہے اس میں ہماری بھلائی اور رہنمائی ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں ان کے لیے خیر ہی خیر ہی ہوگی متقی حضرات کے لیے کتنا ہی اچھا گھر تیار کیا گیا ہے۔ جس میں یہ داخل کیے جائیں گے اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جو کچھ چاہیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عنایت ہوگا۔ اس طرح متقی حضرات کو بہترین جزا دی جائے گی۔
(عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِلٰی جِنَازَۃٍ فَجَلَسَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَلَی الْقَبْرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ کَأَنَّ عَلٰی رُءُ وسِنَا الطَّیْرَ وَہُوَ یُلْحَدُ لَہٗ فَقَالَ أَعُوْذُ باللَّہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِیْٓ إِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا تَنَزَّلَتْ إِلَیْہِ الْمَلاَءِکَۃُ کَأَنَّ عَلٰی وُجُوہِہِمُ الشَّمْسَ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمْ کَفَنٌ وَحَنُوْطٌ فَجَلَسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ حَتّٰی إِذَا خَرَجَ رُوحُہٗ صَلّٰی عَلَیْہِ کُلُّ مَلَکٍ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالأَرْضِ وَکُلُّ مَلَکٍ فِی السَّمَآءِ ) [ رواہ أحمد ]
” حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک جنازہ کے لیے نکلے آپ ایک قبر کے قریب بیٹھ گئے اور ہم آپ کے اردگرد اس طرح بیٹھے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ میت کے لیے لحد بنائی جارہی تھی۔ آپ نے فرمایا میں قبر کے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا جب مومن کا دنیا سے رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے خوبصورت چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ہر ایک کے پاس کفن اور خوشبو ہوتی ہے۔ فرشتے فوت ہونے والے مومن سے حد نگاہ تک اس سے دور بیٹھ جاتے ہیں۔ جب اس کی روح نکل جاتی ہے تو زمین و آسمان کے درمیان تمام فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ قرآن مجید کو متقین اپنے لیے رہنمائی اور خیر ہی خیر سمجھتے ہیں۔ 2۔ نیکی کرنے والوں کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے۔
3۔ نیکو کاروں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ 4۔ متقین کو ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل کیا جائے گا۔
5۔ جنت میں وہ کچھ ملے گا جو جنتی خواہش کریں گے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ متقین کو بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔
تفسیر بالقرآن
متقین کا دنیا اور آخرت میں صلہ :
1۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128)
2۔ متقین امن و سلامتی والے گھر میں ہوں گے۔ (الدخان : 51)
3۔ متقین کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (النحل : 30)
4۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : 198)
5۔ اللہ تعالیٰ متقین کو قیامت کے دن گروہ در گروہ جنت میں داخل کرے گا۔ (الزمر : 73)
6۔ ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ (یونس : 63۔ 64)
Ayah 16:32فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ متقی حضرات کے ساتھ موت کے فرشتوں کا حسن سلوک۔
شرک سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے تقاضے پورے کرنے والے حضرات ہی حقیقی معنوں میں متقی ہوتے ہیں۔ ایسے متقی حضرات کو دنیا میں ہر قسم کی اچھائی اور موت کے بعد جنت کے انعام و اکرام عطا کیے جائیں گے۔ جن کی ابتدا متقین کی موت کے وقت ہی ہوجاتی ہے۔ جس کا پہلا منظر یہ ہے کہ ملائکہ جب ان کی روح قبض کرنے کے لیے تشریف لاتے ہیں تو متقی حضرات کو سلام عرض کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ آپ کو کسی قسم کا خوف و خطر نہیں ہوگا۔ جونہی تمہاری جان قبض کی جائے گی تمہیں جنت میں داخلہ مل جائے گا کیونکہ تم نیک عمل کیا کرتے تھے۔ اس خوشخبری کو اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ ہمیں پیدا کرنے اور رزق دینے والا صرف ایک اللہ ہے پھر وہ تا دم آخر عقیدۂ توحید پر قائم رہے ملائکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سناتے ہیں کہ خوف اور غم نہ کرو تمہیں اس جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے خیر خواہ تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی تم تمنا کرو گے۔ یہ غفور الرحیم رب کی طرف سے تمہاری مہمان نوازی ہے۔ (حٰم السجدۃ : 30۔ 31۔ 32)
مسائل
1۔ مومن کو موت کے وقت اور قبر میں ملائکہ خوشخبری دیتے ہیں۔ 2۔ متقین کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔
3۔ فرشتے مومنین کی روحیں قبض کرتے ہوئے انہیں سلام کہتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
متقین حضرات کو موت سے لے کر جنت میں داخل ہونے تک ملائکہ کا سلام کرنا :
1۔ جب فرشتے پاکباز لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کہتے ہیں اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔ (النحل : 32)
2۔ فرشتے کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو تم نے صبر کیا آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ (الرعد : 24)
3۔ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ آج تمہارے لیے داخلے کا دن ہے۔ (ق : 34)
4۔ فرشتے جب جنتیوں پر داخل ہوں گے تو سلام کہیں گے۔ (الزمر : 89)
Ayahs 16:33–34فہم القرآن
ربط کلام : متقی حضرات کو خوشخبری سنانے کے بعد خطاب کا رخ مشرکین کی طرف کیا گیا ہے۔
مشرکین اور خدا کے منکر جب حق کے مقابلے میں لا جواب ہوجاتے تو اس بات کا مطالبہ کرتے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ اس نبی کے پاس فرشتے بھیجتا ہے اور ملائکہ ہمارے پاس کیوں نہیں بھیجتا ؟ بسا اوقات وہ اس بات کو یوں بھی کہتے کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک فرشتے آکر ہمارے سامنے اس کی تائید نہ کریں۔ بار بار سمجھانے کے باوجودیہ لوگ سمجھنے کے لیے تیار۔ ان کے ایک اعتراض کا مدلل جواب دیا جاتا ہے تو دوسرا اعتراض جوڑ دیتے۔ جب اس کے بارے میں تشفی کردی جاتی ہے تو تیسرا اعتراض کیے دیتے ہیں ان کا مقصد حق سمجھنا اور قبول کرنا نہیں تھا بلکہ یہ لوگ اپنے ساتھیوں کو ورغلانے اور حق والوں کو پریشان کرنے کے سوا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ لہٰذا اب تو یہ عملاََ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے آئیں جو ان کا قلع قمع کردیں یا پھر اللہ کا عذاب آئے جو انہیں تہس نہس کر دے۔ یہی رویہ ان سے پہلے لوگوں نے اختیار کیا تھا۔ جس وجہ سے وہ ہلاک کردیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ وہ خود ہی اپنے آپ پر زیادتی کرنے والے تھے۔ اسی وجہ سے ان کو اپنے اعمال کا انجام دیکھنا پڑا اور جس عذاب کو وہ استہزاء کا نشانہ بناتے تھے اس نے انہیں اچانک دبوچ لیا۔
ظلم کی حرمت :
(عَنْ أَبِی ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیمَا رَوَی عَنِ اللَّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّہُ قَالَ یَا عِبَادِی إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِی وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلاَ تَظَالَمُوا ....)[ رواہ البخاری : باب تحریم الظلم ]
” حضرت ابوذر نبی کریم ﷺ سے حدیث قدسی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے آپ پر ظلم حرام قرار دیا ہے اور تم پر بھی، پس تم آپس میں ظلم نہ کرو .....۔ “
ایک دوسرے پر ظلم کرنا حرام ہے
مسائل
1۔ کفار منتظر تھے کہ فرشتے آئیں یا اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے۔
2۔ مشرکین مکہ سے پہلے بھی کفار کا یہی وطیرہ رہا۔
3۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
4۔ لوگ اپنے آپ پر خود ظلم کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اڑانے والوں کا انجام :
1۔ انہیں اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ تمسخر اڑاتے تھے۔ (النحل : 34)
2۔ اللہ تعالیٰ مذاق کرنے والوں کے لیے کافی ہے۔ (الحجر : 95)
3۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو مذاق کرنے والوں کو ہلاک کردیا۔ (یٰس : 35)
4۔ اللہ تعالیٰ نے مذاق کرنے والوں کو ڈھیل دی پھر انہیں عذاب میں مبتلا کردیا۔ (الرعد : 32)
5۔ اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کی سزا جہنم ہے۔ (الکہف : 106)
6۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ (التوبۃ : 79)
Ayah 16:35فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حق کا انکار کرنے کے لیے مشرکوں کا دوسرابہانہ اور انداز۔
مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ ہم اور ہمارے آباؤاجداد اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہی اس کے حکم کے سوا کسی چیز کو حرام ٹھہرائیں تو کیا مجال تھی کہ ہم اور ہمارے باپ دادا ایسا کرسکتے ؟ در اصل ہم وہی کچھ کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ یہاں اس کے دو جواب دیے گئے ہیں ایک یہ کہ ایسی بیہودہ باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہمارے رسولوں کے ذمے کسی کو منوانا نہیں ان کا کام حق پہچانا ہے۔ سو یہ کام رسول اللہ ﷺ نے اور آپ سے پہلے انبیاء نے پورے اخلاص اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ پورا کیا ہے۔ آٹھویں پارے میں اسی بات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ عنقریب مشرک کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک کے مرتکب نہ ہوتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہرا تے۔ ان کی بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح انبیاء کو جھٹلایا تھا۔ یہاں تک کہ انہیں ہمارا عذاب آپہنچا۔ انہیں فرمائیں کیا تمہارے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل ہے ؟ تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے خیالات کی پیروی کرتے ہیں جو سراسر من گھڑت ہیں۔ لہٰذا انہیں فرمائیں اللہ کی دلیل پہنچ چکی جو ہر اعتبار سے غالب ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر اکٹھا کرسکتا تھا۔ (الانعام : 148۔ 149)
مشرکین کے بہانوں میں سے یہ ایک بہانہ ہے جسے وہ ہمیشہ سے پیش کرتے آرہے ہیں۔ جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا الزام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر اپنے ساتھ شرک اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو لوگوں کے لیے جائز رکھتا تو اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب پیغمبر مبعوث کرتا۔ خاکم بدہن کیا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے ساتھ ڈرامہ کیا ہے کہ ایک طرف تو وہ شرک اور حرام خوری کو پسند کرتا ہے اور دوسری طرف لوگوں کو روکنے کے لیے انبیاء بھیجتا رہا۔ جنہوں نے اس مشن کی خاطر بڑے بڑے دکھ برداشت کیے اور مال و جان کی عظیم قربانیاں پیش کیں۔ کفار کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا شرک اور حرام خوری پسند ہے یہ اس کی شان میں بہت بڑی گستاخی اور سنگین جرم ہے جس بنا پر انہیں دنیا میں تہس نہس کردیا گیا۔
مسائل
1۔ مشرکین اپنے شرک کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ 2۔ رسولوں کے ذمہ دین پہنچانا تھا منوانا نہیں۔
تفسیر بالقرآن
حق کے مقابلہ میں کفار اور مشرکین کے بہانے :
1۔ مشرکین نے کہا اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے۔ (النحل : 35)
2۔ عنقریب مشرکین کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ (الانعام : 148)
3۔ کفار نے کہا ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے کوئی چشمہ جاری نہ کر دے۔ (بنی اسرائیل : 91)
4۔ مشرکین نے آپ پر اعتراض کیا کہ آپ پر خزانہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ (ھود : 12)
5۔ بنی اسرائیل نے کہا اے موسیٰ جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہیں دیکھ لیتے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرۃ : 55)
6۔ کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ (الفرقان : 5)
Ayahs 16:36–37فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں پر حجت قائم کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر امت میں نبی مبعوث فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اس وقت تک کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک اس میں رسول مبعوث نہ کیا جائے۔ (بنی اسرائیل : 15)
دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا کہ رسول لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور برے اعمال کے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ تاکہ ان رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت یعنی بہانہ باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔ (النساء : 165)
اسی اصول کے پیش نظر یہاں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا۔ جو لوگوں کو یہی بتلاتا اور سمجھاتا رہا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے بچو۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے ہدایت پائی اور باقی پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ گمراہوں کا انجام دیکھنے کے لیے زمین پر چل، پھر کر دیکھو تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ حق کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔
امت سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسول کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ نبی کی تشریف آوری کے بعد یہ امت دو حصوں میں تقسیم ہوجایا کرتی تھی۔ خوش نصیب لوگ رسول پر ایمان لے آتے۔ حقیقی معنوں میں وہی اس رسول کی امت ہوتے تھے۔ اس امت کو امت ایجابہ کہا جاتا ہے۔” یعنی انبیا۔ کی دعوت قبول کرنے والے لوگ “۔ باقی لوگوں کو ” امت دعوت “ کہتے ہیں یعنی وہ لوگ جس کے لیے نبی بھیجا جاتا ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات کے حوالے سے ایک سمجھیں اور زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو مقدم جانیں۔ اس کے ساتھ ہر اس قوت کا انکار کریں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف لے جانے والی ہو۔ بیشک انسان کا ضمیر ہو یا معاشرے کے رسم و رواج اور کسی پارلیمنٹ کا فیصلہ یا حکومت کا قانون، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں یہ تمام کے تمام طاغوت سمجھے جائیں گے۔ عبادت کا یہی مفہوم انبیاء کرام (علیہ السلام) سمجھاتے اور کر کے دکھلایا کرتے تھے۔ لیکن پیغمبروں کے سمجھانے کے باوجود کچھ لوگ ہدایت یافتہ ہوئے اور باقی گمراہی پر جمے رہے۔ اے لوگو ! ان کا انجام دیکھنے کے لیے ان کے علاقوں میں جا کر دیکھو کہ انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کا کس قدر برا انجام ہوا۔ اس کے ساتھ ہی سرور دو عالم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے جس قدر خواہش کا اظہار اور محنت کریں۔ آپ ان کو ہدایت یافتہ نہیں بنا سکتے کیونکہ جسے بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے۔ اسے ہدایت دینے میں کوئی بھی مددگار ثابت نہیں ہوسکتا۔ ہدایت اسی شخص کو نصیب ہوتی ہے۔ جو اس کی تمنا اور کوشش کرتا ہے۔ بصورت دیگر اللہ تعالیٰ جبراََ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرتا۔
مسائل
1۔ ہر امت کی طرف رسول بھیجا گیا۔ 2۔ ہر رسول نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا اور شیطان کی عبادت سے روکا۔
3۔ انبیاء (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کے انجام پر نظر رکھنی چاہیے۔ 4۔ نبی اکرم ﷺ کسی پر ہدایت مسلط نہیں کرسکتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
توحید و رسالت کے منکرین کا انجام :
1۔ زمین میں چل، پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (النحل : 36)
2۔ ہم نے ان سے انتقام لیا دیکھئے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الزخرف : 25)
3۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : 11)
4۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ : 92)
Ayahs 16:38–40فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ گمراہ لوگوں کو ہدایت اس لیے نصیب نہیں ہوتی کیونکہ یہ اللہ کے حضور پیش ہونے کا انکار کرتے ہیں۔
ہدایت پانے اور گناہوں سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اگر میں ایمان لانے کے بعد اچھے اعمال کروں گا تو میرا رب مجھے آخرت میں اس کی جزادے گا۔ اگر میں نے ایمان لانے سے انکار کیا اور برے اعمال اختیار کیے تو مرنے کے بعد مجھے اس کی سخت سزا دی جائے گی۔ جب آدمی اس عقیدہ کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ کفرو شرک اور جرائم کرنے میں دلیر ہوجاتا ہے۔ اسی دلیری کے پیش نظر آخرت کے منکر قسمیں اٹھا اٹھا کے کہتے تھے کہ اللہ کی قسم ! جو مرگیا اللہ تعالیٰ اسے کبھی نہیں اٹھائے گا۔ یہاں ان کی قسموں اور عقیدے کی نفی کے لیے چار دلائل دیے گئے ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس کا وعدہ ہے کہ میں ضرور قیامت برپا کروں گا اور اس دن نیکوں کو پوری پوری جزا ملے گی اور نافرمانوں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن آخرت کے منکر نہیں مانتے۔
2۔ قیامت اس لیے بھی برپا کی جائے گی تاکہ اس دن لوگوں کے انبیاء ( علیہ السلام) اور صالحین کے ساتھ اور دیگر اختلافات کا فیصلہ کیا جائے۔ اگر حق اور باطل کے درمیان فیصلہ نہ ہو تو انبیاء اور صالحین اپنے حق سے محروم رہ جائیں گے اور ظالم دنیا میں مزیدظلم کرتے رہیں گے۔ یہاں حق سے مراد ” اللہ کی فرمانبردای ہے “۔ (یونس : 106۔ لقمان : 13)
3۔ قیامت کا آنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ اس کا انکار کرنے والے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جو کچھ انبیاء ( علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے وہ سچ ہے اور جو کچھ ہم کہتے اور کرتے تھے وہ سراسر جھوٹ تھا۔
4۔ منکرین قیامت کا یہ عقیدہ جھوٹا ثابت کیا جائے گا کہ مرنے کے بعد ان کی بوسیدہ ہڈیوں کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔ اس کی تردید کے لیے یہاں صرف اتنا کہنا مناسب سمجھا گیا۔ اس بنیاد پر تمہارا آخرت کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور اس کی قوت و سطوت کا انکار کرنا ہے۔ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے حضور پیش کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہوسکتا ہے حالانکہ جب کسی کام کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ صرف ” کن “ کہتا ہے یعنی ہوجا اور وہ کام اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور فرمان کے عین مطابق پورا ہوجاتا ہے۔
مسائل
1۔ کفار قسمیں اٹھا، اٹھا کر لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
2۔ قیامت برپا کرنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے برپا ہونے کے دلائل :
1۔ اللہ کا قیامت قائم کرنے کا وعدہ برحق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (النحل : 38)
2۔ قیامت قریب ہے۔ (الانبیاء : 1) 3۔ قیامت کے دن اللہ پوچھے گا آج کس کی بادشاہی ہے ؟ (المومن : 16)
4۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کے بارے میں بتائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ (المجادلۃ : 7)
5۔ قیامت کے دن کوئی کسی کو فائدہ نہیں دے سکے گا۔ (الانفطار : 19)
6۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت ہی سخت ہوگا۔ (الحج : 1)
Ayahs 16:41–42فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جب انسان آخرت کا منکر ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت کا فکری یا عملی طور پر انکار کردے تو وہ ظالم بن جاتا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ ظالم لوگ توحید کا عقیدہ رکھنے والے اور صاحب کردار لوگوں پر ظلم کیا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مظلوم ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
جب سے دنیا معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے توحید و رسالت اور آخرت کا عقیدہ رکھنے والوں پر مظالم ڈھائے جاتے رہے یہاں تک کہ انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑاصاحب عزیمت لوگوں نے سب کچھ برداشت کرلیا۔ مگر حق پر قائم اور دائم رہے۔ ان کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور انہیں دنیا میں سرخرو کرنے کے ساتھ اپنی نعمتوں سے نوازتے ہوئے آخرت میں انہیں عظیم اجر سے نوازاجائے گا۔ کاش ! لوگ اس حقیقت کو جان جائیں۔ یہ جزا ان لوگوں کو دی جائے گی جنہوں نے اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے حق پر استقامت اور ظلم پر صبر و حوصلہ اختیار کیا۔
اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں۔ یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے مہاجرین کو اصحاب صدق کے لقب سے نوازا ہے۔
(اَلَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ أُولٓءِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ )[ الحشر : 8]
” اور جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکالے گئے یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں۔ “
(وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّءَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّلَأَجْرُ الْآخِرَۃِ أَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ )[ النحل : 41، 42]
” جو ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کرگئے، ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ جان لیں۔ وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ “
(وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجَاہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ آوَوْا وَّنَصَرُوْا أُولٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ)[ الانفال : 74]
” اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اللہ کے راستے میں گھربار چھوڑا اور جہاد کیا اور جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے اور ایمان دار ہیں۔ ان ہی کے لیے بخشش اور بہترین رزق ہے۔ “
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ اشْتَکَی فُقَرَاءُ الْمُہَاجِرِینَ إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ مَا فَضَّلَ اللَّہُ بِہِ عَلَیْہِمْ أَغْنِیَاءَ ہُمْ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ أَلاَ أُبَشِّرُکُمْ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِینَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ أَغْنِیَاءِہِمْ بِنِصْفِ یَوْمٍ خَمْسِمِاءَۃِ عَامٍ )[ رواہ ابن ماجۃ : باب مَنْزِلَۃِ الْفُقَرَاءِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ فقیر مہاجرین نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ اغنیا کو ہم پر فضیلت حاصل ہے آپ نے فرمایا اے فقیروں کی جماعت کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دے دوں کہ فقیر مومن جنت میں اغنیاء سے ڈھائی سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دنیا میں بہترین ٹھکانہ ملے گا۔
2۔ مومنین کو ہجرت کے عوض آخرت میں عظیم اجر سے نوازا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
صبر اور توکل علی اللہ کے فوائد :
1۔ اللہ صبر اور توکل کرنے والوں کو اجر عظیم سے نوازے گا۔ (النحل : 41۔ 42)
2۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ (الطلاق : 3)
3۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (آل عمران : 159)
Ayahs 16:43–44فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ توحید اور آخرت کے انکار کے ساتھ اہل مکہ اس بات کے بھی منکر تھے کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا۔
قرآن مجید نے توحید اور عقیدہ آخرت کے دلائل دینے کے ساتھ اس بات کے شرعی، عقلی، نقلی اور تاریخی حوالہ جات کے ساتھ درجنوں دلائل دیے ہیں کہ رسول آخر الزماں ﷺ عبد، بشر اور آدمی ہیں۔ آپ سے پہلے جتنے رسول مبعوث کیے گئے۔ وہ عبد، بشر اور آدمی تھے۔ یہاں مختصر جواب یہ دیا گیا ہے کہ دلائل اور حقائق دینے کے باوجود رسالت مآب ﷺ کے منکروں کو کھلی دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی تسلی کے لیے اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے جو رسول آئے وہ جنس کے اعتبار سے آدمی تھے یا کوئی اور ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انبیاء کو واضح دلائل اور کتابیں دے کر بھیجا۔ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو کھول کھول کر بتلائیں تاکہ وہ اس پر غور و فکر کریں۔
یہاں الذکر کا لفظ دو دفعہ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پہلی دفعہ اہل الذکر سے مراد تورات اور انجیل کے اہل علم ہیں۔ دوسری مرتبہ الذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کو بھی کھول دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف قرآن مجید لوگوں تک پہنچانا ہی نہیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق کھول کر بیان بھی کرنا ہے۔ ظاہر ہے جو آپ ﷺ نے اپنے عمل اور فرمان کے ذریعے قرآن مجید کی تبیین یعنی تفسیر فرمائی ہے اسے حدیث رسول ﷺ کہا جاتا ہے۔ جس کی تین قسمیں ہیں۔
1۔ آپ ﷺ کا ارشاد۔
2۔ آپ ﷺ کا عمل۔
3۔ آپ ﷺ کے سامنے کسی صحابی نے دین سمجھ کر کوئی کام کیا ہو اور آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر خاموشی اختیار کی۔ اس بات کو محدثین تقریری حدیث کہتے ہیں۔ یہ حدیث اس لیے مستند ہوتی ہے کہ اللہ کے پیغمبر کی یہ شان نہیں کہ اس کے سامنے کوئی غلط کام ہو رہا ہو اور وہ اسے دیکھ کر خاموش رہیں۔
اس اعتبار سے حدیث کی تینوں صورتیں ہی محفوظ کرلی گئی ہیں۔ کیونکہ جس طرح قرآن مجید کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے اسی طرح رسول اکرم ﷺ کی بتلائی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر کا محفوظ رہنا بھی لازم تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ محدثین کی شکل میں ایک ایسی جماعت پیدا فرمائی جنہوں نے آپ ﷺ کے ایک ایک فرمان اور عمل کو قیامت تک امت کے لیے جمع کردیا۔ اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے حدیث کی پہلی ضخیم کتاب حضرت امام مالک ؓ نے مؤطا کے نام سے لکھی جس کو انہوں نے اپنے زمانے میں تابعین یعنی صحابہ کرام ؓ کے بیٹوں اور شاگردوں کے سامنے پیش کیا۔ جس کا ہر زاویہ سے علمی تجزیہ کرنے کے بعد اہل علم نے اسے صحیح قرار دیا۔ اس لیے اس کا نام موطا امام مالک (رح) رکھا گیا جس کا معنیٰ ہے روندی ہوئی گویا کہ علمی لحاظ سے شدید ترین تنقید سے گزری ہوئی کتاب “ امام مالک ؓ کے شاگرد، امام شافعی، امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل۔ نے ” مسند احمد “ کے نام سے ضخیم کتاب تحریر فرمائی۔ امام احمد بن حنبل (رح) کے شاگرد عظیم امام بخاری ؓ نے صحیح بخاری اور ان کے شاگرد امام مسلم ؓ نے صحیح مسلم اور ان کے شاگردوں نے صحاح ستہ میں شامل باقی چار کتابیں تحریر فرمائیں۔ اس طرح حدیث کی چھ کتابیں تیار ہوئیں جنھیں صحاح ستہ کہا جاتا ہے۔ صحاح کا معنیٰ صحیح اور ستہ عربی میں چھ کے عدد کو کہتے ہیں۔ ان کتابوں میں دین کے 99% مسائل پائے جاتے ہیں۔ باقی مسائل حدیث کی دوسری کتب میں موجود ہیں۔ اس طرح تسلسل کے ساتھ حدیث کا عظیم الشان ذخیرۂ ہم تک پہنچا۔
حدیث کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ہے :
دین اور اس کے بنیادی ارکان جن کے بارے میں قرآن مجید مختلف الفاظ اور انداز میں بار بار عمل پیرا ہونے کا حکم دیتا ہے۔ حدیث کے بغیر ان پر عمل کرنا ناممکن ہے ؟ اگر حدیث کی محض مخالفت مقصود نہ ہو تو ایک معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حدیث کے بغیر قرآن کے احکامات پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ کیونکہ قرآن مجید نے اکثر مسائل کے بنیادی اصول ذکر کرنے کے بعد ان کی تفصیل رسول کریم ﷺ پر چھوڑ دی ہے۔ تاکہ حدیث کی اہمیت اور ضرورت لوگوں کے سامنے واضح ہوجائے۔ قرآن کے دلائل ‘ حدیث کی ضرورت اور مستند تاریخی ریکارڈ کے سامنے لاجواب ہونے کے باوجود بعض لوگ اپنی کم علمی یا خبث باطن کی بنا پر محدثین کے خلاف یہ پراپیگنڈا کرتے ہوئے لوگوں کی نگاہوں میں حدیث کا مقام کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں محدث کے بقول اس نے اتنے لاکھ احادیث میں سے صرف چند ہزار حدیثیں اپنی کتاب میں نقل کی ہیں انہوں نے اتنی احادیث کو کیوں چھوڑا ؟ ایسی گفتگو اور اعتراضات اٹھانے والے در حقیقت فن حدیث اور محدثین کے حدیث جمع کرنے کے طریقہ کو نہیں سمجھتے۔ دنیا میں آج تک کوئی محدث ایسا نہیں ہوا جس نے جان بوجھ کر ایک بھی صحیح حدیث کو اپنی کتاب میں شامل کرنے سے انکار کیا ہو۔
مسائل
1۔ تمام رسول انسان تھے۔
2۔ جس چیز کا علم نہ ہو وہ اہل علم سے پوچھ لینی چاہیے۔
3۔ نبی اکرم ﷺ پر قرآن مجید نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے نصیحت ہے۔
4۔ آپ ﷺ کے ذمہ قرآن مجید کا پیغام پہنچانا اور اس کی تفسیر کرنا تھا۔
5۔ قرآن مجید کی تفسیر حدیث ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گی۔
تفسیر بالقرآن
نبوت کے مرکزی مقاصد :
1۔ آپ ﷺ لوگوں پر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف بھیجا گیا ہے۔ (النحل : 44)
2۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 5)
3۔ ہم نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہٰذا میری عبادت کرو۔ (الانبیاء : 25)
4۔ ہم نے آپ ﷺ کو خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : 56)
5۔ اللہ نے ان پڑھ لوگوں میں رسول مبعوث فرمایا۔ جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے، انہیں تعلیم دیتا ہے اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔ (الجمعۃ : 2)
Ayahs 16:45–47فہم القرآن
ربط کلام : توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت کا انکار کرنے والوں کو زبر دست انتباہ۔
توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت کے مختصر دلائل دینے کے بعد ان لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے جو توحید کا انکار، نبوت کے خلاف سازشیں اور قیامت برپا ہونے کا مذاق اڑاتے ہیں۔
اللہ کا فرمان ہے، کیا یہ لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر اس وقت عذاب نازل کرے جس وقت انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو ؟ یا پھر انہیں چلتے پھرتے اور کام کاج کرتے ہوئے عذاب آلے جسے ٹالنے کی یہ کسی طرح بھی طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر ایسا مسلط کر دے جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا تک نہ ہو۔
یہاں چار قسم کے عذابوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ سب کے سب عذاب تم سے پہلے مجرموں پر نازل ہوچکے ہیں۔ عقیدے اور کردار کے حوالے سے تم ان لوگوں سے مختلف نہیں ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ کیونکہ تمہارا رب بڑا مہربان اور شفقت فرمانے والا ہے۔
خوف سے مراد دشمن کا خوف ہے۔ جس قوم پر یہ مسلط کردیا جائے وہ قوم ضمیر کے حوالے سے مردہ ہوجاتی ہے۔ بالآخر اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی ہے۔
(إِنَّ قَارُونَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیْہِمْ وَآَتَیْنَاہُ مِنَ الْکُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَہُ لَتَنُوء بالْعُصْبَۃِ أُولِی الْقُوَّۃِ إِذْ قَالَ لَہُ قَوْمُہُ لَا تَفْرَحْ إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِینَ )[ القصص : 76]
” بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا باغی تھا اور ہم نے اسے خزانوں سے نوازا تھا اس کے خزانے کی چابیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی اسے اس کی قوم نے کہا اترانے کی ضرورت نہیں اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “
ہم نے اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا تو اللہ کے سوا کوئی اس کا مددگار نہ ہوا اور نہ وہ اس کا بدلہ لے سکا۔ (القصص : 81)
مسائل
1۔ اللہ کے عذاب سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو زمین میں دھنسانے پر قادر ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے لوگوں کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ انسان کو چلتے پھرتے پکڑ سکتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں کرسکتا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ بڑا شفیق اور رحمت کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
پہلی اقوام پر عذاب کی اقسام :
1۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : 45)
2۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : 67)
3۔ قوم عاد کو تیز و تند ہوا نے ہلاک کیا۔ (الحاقۃ : 6)
4۔ قوم لوط کی بستی کو الٹاکر دیا اور ان پرکھنگر والے پتھر برسائے گئے۔ (الحجر : 74)
5۔ آل فرعون کو غرق کردیا گیا۔ (البقرۃ : 50)
6۔ ان کے گناہ کی پاداش میں پکڑ لیا کسی پر تند ہوا بھیجی، کسی کو ہولناک آواز نے آلیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ کو غرق کردیا۔ (العنکبوت : 40)
7۔ بنی اسرائیل کو اللہ نے ذلیل بندر بنا دیا۔ (البقرۃ : 65)
Ayahs 16:48–50فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کو عذاب کی وعید سنانے کے بعد یہ سمجھایا ہے کہ انہیں غور کرنا چاہیے کہ جس کائنات میں یہ رہ رہے ہیں اس کا ذرہ ذرہ اپنے خالق کے سامنے سر بسجود ہے۔ مگر کافر، مشرک اور نافرمان اللہ کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
قرآن مجید بار بار یہ بات انسان کو باور کرواتا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اس کے پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ کہ وہ انسان کی خدمت بجا لائے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق اپنا اپنا کام کرتے رہیں۔ لیکن انسان نہ صرف اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ وہ کفرو شرک کا ارتکاب کر کے ذات کبریا کا انکار کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ کیا وہ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے ان کے سائے یہاں تک کہ انسان کا سایہ بھی دائیں بائیں اپنے رب کے حضور سر بسجودہوتا اور اس کے حضور عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ نہ صرف ہر چیز کا سایہ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ کرتا ہے بلکہ زمین و آسمان میں جتنی جاندار مخلوق اور فرشتے ہیں وہ سب کے سب اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہیں اور کبھی تکبر اور نافرمانی نہیں کرتے۔ وہ ہر وقت اپنے رب سے لرزاں و ترساں رہتے ہوئے وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ عربی لغت کے اعتبار سے سجدہ کا معنی جھکنا ہے۔ جس کے لیے ضروری نہیں کہ جھکنے والے کی پیشانی زمین کے ساتھ لگے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی مخلوق اسے کس کس انداز میں سجدہ کررہی ہے۔
مسائل
1۔ ساری مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔
2۔ سب کے سائے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمام عاجز ہیں۔
4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔
5۔ فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں۔
6۔ فرشتے کبھی تکبر نہیں کرتے۔
تفسیر بالقرآن
زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو یاد کرنے کے ساتھ اس کو سجدہ کرتی ہے :
1۔ چوپائے، فرشتے اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ (النحل : 49)
2۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : 6)
3۔ بیشک وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206)
4۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الرعد : 15)
5۔ وہ لوگ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ تکبر نہیں کرتے وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔ (الانفال : 206)
Ayahs 16:51–55فہم القرآن
ربط کلام : جب زمین و آسمان کی ہر چیز صرف ایک ہی خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود اور اس کے حکم کے تابع ہے تو مشرک کو بھی کسی دوسرے الٰہ کا تصور اور اس کی عبادت نہیں کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اے لوگو ! دو الٰہ نہ بناؤ۔ ایرانیوں نے دو خدا بنا رکھے تھے حالانکہ اس حقیقت میں رائی کے دانے کے برابر بھی شبہ نہیں کہ کائنات کا خالق ومالک ایک ہی اِلٰہ ہے۔ اس کا حکم ہے کہ صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے۔ اللہ ہی ان کا مالک اور خالق حقیقی ہے۔ اس کے باوجود کسی اور کی تم عبادت کرتے اور اس سے ڈرتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان اسی کی ملک ہیں اور ہر چیز اسی کی عبادت اور اطاعت کر رہی ہے۔ لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ وہ بھی کسی اور کی عبادت کرنے کی بجائے صرف ایک رب کی عبادت کرے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب انسان اپنے نفع و نقصان اور ہر چیز کا مالک ایک اللہ کو سمجھے۔ لیکن مشرک کا یہ ذہن ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے بھی نفع و نقصان پہنچانے میں کچھ اختیارات رکھتے ہیں۔ اسی لیے کوئی مزاروں کے سامنے جھکتا ہے اور کوئی بتوں، جنات اور دوسری چیزوں سے ڈرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو حالانکہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز اللہ تعالیٰ کی نہ صرف ملک ہے بلکہ اس کی اطاعت اور بندگی میں مصروف عمل ہے۔ لیکن مشرک کا یہ حال ہے کہ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت حاصل ہوتی ہے تو پھر اس کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے غیروں کے سامنے جھکتا ہے اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر چیخ و پکار اور آہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے۔ لیکن جونہی اس کی تکلیف دور ہوتی ہے تو پھر اپنے رب کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ جب کہ مواحد ہر حال میں اپنے رب سے مانگتا اور اس کے سامنے جھکتا ہے۔ مشرک کے عمل کو کفر قراردیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے یہ شرک کا ارتکاب کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اس کی ناشکری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے اعمال کا نتیجہ بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔
تفسیر بالقرآن
مشرک صرف تکلیف کے وقت خالصتاً اللہ کو پکارتا ہے :
1۔ جب وہ کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (العنکبوت : 65)
2۔ جب انھیں مصیبت پہنچتی ہے تو تم اسی کی طرف آہ وزاری کرتے ہو۔ (النحل : 53)
3۔ جب ہر طرف سے موجیں انھیں گھیر لیتی ہیں تو وہ خالصتاً اللہ کو پکارتے ہیں۔ (یونس : 22)
4۔ جب تمہیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے اس وقت اللہ کے سوا سب کو بھول جاتے ہو۔ (بنی اسرائیل : 67)
5۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 51)