Ayah 16:101فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں ایک وضاحت اور اس حوالے سے نبی ﷺ پر لگائے جانے والے الزام کی تردید۔
کفار اور اہل کتاب کو قرآن مجید پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اس کی بعض آیات اور احکام میں ردوبدل کیوں پایا جاتا ہے۔ اس اعتراض کا یہاں اس طرح جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور احکام میں جو ردوبدل فرماتا ہے اس کی حکمت کما حقہ وہی جانتا ہے۔ البتہ اس کے پیچھے لوگوں کی خیر خواہی مقصود ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے حالات کے مطابق اپنے احکام میں ردّوبدل نہ فرمائے تو اس سے لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سورة البقرۃ آیت 106، میں اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم کوئی آیت منسوخ کریں یا اس سے ملتی جلتی دوسری آیت لے آئیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب اور اس کا اختیار ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر اختیار رکھتا ہے۔ یہ حاکم مطلق کی مرضی اور مشیت ہے کہ شریعت کے جس حکم کو چاہے معطل، منسوخ یا اس میں ردّوبدل فرمائے۔ اس میں مخلوق کا نہ تو عمل دخل ہے اور نہ ہی کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ہے۔ یہاں تک کہ رسول ﷺ بھی اس میں زیروزبر کی تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتے تھے یہ قادرمطلق اور شہنشاہ عالم کا اختیار ہے کہ وہ اپنے حکم کو جس طرح چاہے، جب چاہے اور جس قدر چاہے اس میں تبدیلی کرے لیکن اس کے باوجود قرآن مجید کے منکر رسول محترم ﷺ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ نے یہ قرآن مجید خود گھڑ لیا ہے۔ کیونکہ ان کے اس الزام کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ اس لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ لوگوں کی اکثریت آیات اور احکام کے ردّوبدل کی حکمت نہیں جانتی جس وجہ سے وہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ الزام لگانے والوں کو بارہا دفعہ چیلنج کیا گیا کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تمام کے تمام مل کر اس جیسی چھوٹی سے چھوٹی سورت بنا لاؤ۔
تبدیلی اور نسخ کا فائدہ :
نسخ کا معنٰی ہے کسی بات کو مٹانا یا اس کا ازالہ کرنا۔ اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں :
(1) ایک حکم خاص مدت کے لیے ہو، دوسری مدت کے لیے دوسرا حکم نازل ہوجائے۔
(2) تربیت اور خاص مصلحت کی خاطر پہلے حکم میں نرمی اور کچھ گنجائش ہو بعد ازاں مکمل اور دائمی حکم نازل کردیا جائے۔ جس طرح شراب کی حرمت، قبلہ کی تبدیلی اور دوسرے معاملات کے بارے میں تدریجاً احکامات نازل ہوئے۔ قرآن مجید میں اس کے برعکس بھی مثال موجود ہے کہ قتال کے سلسلہ میں پہلا حکم سخت تھا لیکن اس کے بعد اس میں نرمی کردی گئی۔
(3) پہلا حکم لوگوں کی خاص حالت کے بارے میں ہوبعدازاں حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اسے کلیۃً منسوخ کردیا جائے اور اس کی جگہ اس سے ملتا جلتا یا اس سے جامع اور کثیر المقاصد حکم نازل کردیا جائے۔
قرآن مجید میں تینوں اقسام کی امثال موجود ہیں۔ جن علماء نے ان تینوں اقسام کو ناسخ اور منسوخ میں شامل کیا ہے انہوں نے درجنوں آیات کو اس زمرہ میں شامل کردیا حالانکہ ناسخ ‘ منسوخ کو حقیقی اور کلی معنوں میں لیا جائے تو ان کی تعداد چند آیات سے زیادہ نہیں ہے۔ اس بنا پر شاہ ولی اللہ ؓ نے صرف پانچ آیات کو منسوخ شمار کیا ہے۔ (الفوز الکبیر : شاہ ولی اللہ )
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے احکام منسوخ کرنے یا ان میں ردّ وبدل کرنے کا پورا حق ہے۔
2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔
تفسیر باالقرآن
لوگوں کی اکثریت دین کے بارے میں بےعلم اور ناسمجھ ہوتی ہے :
1۔ اکثر ان کے بےعلم ہیں۔ (النحل : 101)
2۔ اللہ تعالیٰ آیات اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر بیخبر ہیں۔ (الانعام : 37)
3۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21)
4۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر بیخبر ہیں۔ (الروم : 40)
5۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (النحل : 38)
6۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (الروم : 6)
Ayah 16:102فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قرآن کے ایک اور الزام کا جواب۔
کفار یہ کہہ کر قرآن مجید کا انکار کرتے تھے کہ اس نبی نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ جبکہ اہل کتاب کا یہ اعتراض تھا کہ اس رسول پر قرآن لانے والا جبرائیل (علیہ السلام) ہے جس کے ساتھ ہماری پرانی دشمنی ہے۔ یہودی یہاں تک ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ جبریل ظالم اور خائن فرشتہ ہے۔ اس نے ہماری کئی نسلوں کو تباہ کیا جو جبریل (علیہ السلام) کی ہم پر کھلی زیادتی ہے۔ سورة البقرہ آیت 97، 98 میں اس ہرزہ سرائی کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ” اے اللہ کے رسول ! آپ فرمادیں جو جبریل کا دشمن ہو وہ اللہ، اس کے ملائکہ، اس کے رسولوں اور میکائیل کا دشمن ہے۔ “ جہاں تک جبریل امین (علیہ السلام) کا تعلق ہے اس نے اللہ کے حکم سے اس قرآن کو آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل کیا ہے جو مومنوں کے لیے ہدایت کا سر چشمہ اور سراسر خوشخبری ہے۔ یہاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو روح القدس قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق لے کر آیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ایمان کو مضبوط بنائے۔ قرآن مجید اپنے ماننے والوں کے لیے ہدایت کا سر چشمہ اور خوشخبری کا پیغام ہے۔ حق سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو دلائل، الفاظ، انداز اور اپنے احکام کے حوالے سے سچائی کا سرچشمہ اور حق کا ترجمان ہے۔ اسے نازل کرنے والا اور لانے والا فرشتہ سچا ہے۔ روح القدس کا معنیٰ ” پاکیزہ روح “ یعنی وہ شخصیت جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی غلطی، زیادتی، بھول اور خیانت سے پاک پیدا کیا ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ فرشتے کے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہر قسم کی آلائش اور غلطی سے پاک پیدا کیا ہے۔ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمام ملائکہ کے سردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اعزاز اور مقام بخشا کہ وہ تمام انبیاء ( علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے احکام لاتے اور پاک باز اور عظیم ترین ہستیوں سے بار بار شرف ملاقات پات رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مختلف القابات سے نوازا ہے۔
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے پر اور شخصیت :
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ رَأَی رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ جِبْرِیلَ فِی صُورَتِہِ وَلَہٗ سِتُّمِاءَۃِ جَنَاحٍ کُلُّ جَنَاحٍ مِّنْہَا قَدْ سَدَّ الأُفُقَ یَسْقُطُ مِنْ جَنَاحِہٖ مِنَ التَّہَاوِیْلِ وَالدُّرِّ وَالْیَاقُوتِ مَا اللَّہُ بِہٖ عَلِیْمٌ)[ رواہ احمد ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو اس کی اصلی حالت میں دیکھا اس کے چھ سو پر تھے۔ ہر پر نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کے پروں سے سرخ، زرد اور سبز رنگ کے موتی اور یاقوت گر رہے تھے۔ جن کے حسن و جمال کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ “
قَالَ جَابِرٌ ؓ أُحَدِّثُکُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ شَہْرًا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِی نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِی فَنُودِیتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِی وَخَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِیتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِیتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِی فَإِذَا ہُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْہَوَاءِ یَعْنِی جِبْرِیلَ فَأَخَذَتْنِی رَجْفَۃٌ شَدِیدَۃٌ فَأَتَیْتُ خَدِیجَۃَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِی فَدَثَّرُونِی فَصَبُّوا عَلَیَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ )[ رواہ مسلم : باب بدء الوحی الی رسول اللہ ]
حضرت جابر ؓ کہنے لگے کہ میں تمہیں وہ حدیث سنا تا ہوں۔ جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی آپ نے فرمایا میں ایک مہینے کے لیے غارحرا میں گوشہ نشینی اختیار کی جب میں نے ایک مہینہ کی میعاد پوری کرلی تو میں وادی کی طرف اترا تو مجھے آواز دی گئی میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو جبر ائیل امین کو ہوا میں عرش پر بیٹھے ہوئے پایا تو مجھے سخت خوف لاحق ہوا میں خدیجہ ؓ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے چادر اڑھادو اور مجھ پر پانی بہاؤ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں (یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ )
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بذریعہ جبریل امین (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ پر نازل فرمایا۔
2۔ قرآن مجید مسلمانوں کے لیے باعث ہدایت و بشارت ہے۔
3۔ قرآن مجید کی آیات کو نازل کرنے کا مقصد مومنوں کو ثابت قدم رکھنا ہے۔
تفسیر بالقرآن
حضرت جبریل (علیہ السلام) کے اوصاف اور القابات :
1۔ آپ فرما دیں کہ اسے روح القدس نے آپ کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ اتارا ہے۔ (النحل : 102)
2۔ قرآن مجید کو روح الامین نے آپ ﷺ پر اتارا ہے۔ (الشعراء : 193) 3۔ جبریل امین ملائکہ کے سردار ہیں۔ (التکویر : 21)
4۔ شب قدر کی رات فرشتے اور روح (جبریل) اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں۔ (القدر : 4)
5۔ اور ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح القدس سے مدد کی۔ (البقرۃ : 87) 6۔ جبریل امین مقرب ترین فرشتہ ہے۔ (النجم : 8)
7۔ جبریل امین طاقتور فرشتہ ہے۔ (النجم : 5) 8۔ جبریل امین نے آپ کے قلب اطہر پر قرآن اتارا ہے۔ (البقرۃ : 97)
Ayahs 16:103–105فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قرآن کے تیسرے اعتراض کا جواب :
حقیقت کا باربار انکار کرنے کی وجہ سے اکثر اوقات آدمی بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسے اس بات کی خبر نہیں رہتی کہ میں نے اس حقیقت کا انکار کرتے ہوئے پہلے کونسی بات کی اور حقیقت پیش کرنے والے پر کونسا الزام لگایا تھا یہی حالت مکہ کے کفار کی تھی۔ کبھی یہ الزام لگاتے کہ یہ نبی اپنی طرف سے قرآن گھڑ لیتا ہے اور کبھی یہ کہتے کہ روم کے فلاں شخص سے بالواسطہ سیکھ کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کا کئی پہلووں سے جواب دیا ہے جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ جس شخص یا جن افراد کو تم محمد عربی ﷺ کا استاد کہتے ہو وہ سب کے سب عجمی ہیں یعنی وہ عربی کے حروف ابجد سے بھی واقف نہیں یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جو شخص عربی زبان کی مبادیات اور اس کے حروف تہجی سے بھی واقف نہیں۔ اسے محمد ﷺ کا کس طرح معلم قرار دیا جاسکتا ہے ؟ یہ بات اس سے بھی حیران کن اور احمقانہ ہے کہ ایک عجمی شخص قرآن مجید جیسی متبحرالعلوم کتاب کا علم اور مستقبل میں ہونے والے واقعات کی من و عن خبر دے سکے۔ قرآن مجید تو اتنی عظیم الشان کتاب اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کہ اس جیسا کلام انسان تو درکنار روح القدس جبرایل امین (علیہ السلام) بھی نہیں بنا سکتا۔ چہ جائے کہ کلام مقدس اور عظیم کتاب کو کسی انسان کی طرف منسوب کیا جائے۔ دراصل جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے وہی اس قدر بد ترین جھوٹ بول سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے پر جلال انداز میں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم ان کی زبان، نیت اور مذموم مقاصد کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ ان کے لیے اذیت ناک اور دائمی عذاب تیار کیا گیا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات سے اچھی طرح آگاہ ہے۔
2۔ کفار آپ پر یہ الزام لگاتے کہ آپ قرآن مجید کسی بشر سے سیکھ کر سناتے ہیں۔
4۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا۔
5۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والوں کو ہدایت نہیں ملتی۔
6۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے عذاب کے حقدار ہوں گے۔
تفسیر باالقرآن
قرآن مجید کے بارے میں کفار کے الزام اور ان کے جوابات :
1۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کہتے ہیں آپ کو تو ایک آدمی سکھا جاتا ہے۔ (النحل : 103)
2۔ انہوں نے کہا قرآن تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ (الفرقان : 5)
3۔ اس نے کہا یہ تو اثر کرنے والا جادو ہے۔ (المدثر : 24)
4۔ فرما دیجیے جن و انس اکٹھے ہو کر اس قرآن جیسا قرآن لے آئیں۔ (بنی اسرائیل : 88)
5۔ فرما دیجیے دس سورتیں اس جیسی لے آؤ اور اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو۔ (ہود : 13)
6۔ فرما دیجیے ایک سورة اس جیسی لے آؤ اور جن کو بلانا چاہتے ہو بلالو۔ (یونس : 38)
Ayah 16:106فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی تکذیب اور رسول اکرم ﷺ پر مختلف الزام لگانے کا مقصد آپ پر دباؤ ڈالنا اور صحابہ کو دین سے متنفر کرنا مقصود تھا جس کے لیے کفار کمزور مسلمانوں پر ہر قسم کا ظلم کرنا جائز سمجھتے تھے ان حالات میں مظلوم صحابہ کو تسلی دینے کے ساتھ ان کے ایمان کی تائید اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
اہل مکہ نے کمزور مسلمانوں کا حلقۂ حیات اس طرح تنگ کر رکھا تھا کہ بیچارے مسلمان کسی سے فریاد بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ابتدائی سالوں میں رسول محترم ﷺ کی اپنی حالت یہ تھی کہ آپ دارارقم میں خفیہ انداز میں اپنے ساتھیوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام فرمایا کرتے تھے۔ ان نازک حالات میں کمزور اور غلام مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے جاتے کہ جس کی روئداد لکھتے وقت کلیجہ پسیجنے کے ساتھ قلم لرز جاتا ہے۔ اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اکثر مفسرین نے آل یاسر کا تذکرہ کیا ہے۔ حضرت عمار ؓ کے سامنے ان کی والدہ ماجدہ حضرت سمیہ ؓ کو اس بےشرمی کے ساتھ ابو جہل نے شہید کیا کہ ان کے اندام نہانی پر نیزہ مارا۔ اسی حالت میں یہ عظیم خاتون دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اس کے بعد حضرت عمار ؓ کے والد حضرت یاسر ؓ پر بےانتہا مظالم ڈھائے گئے۔ بالآخر وہ بھی اللہ کو پیارے ہوئے، شہادت کا یہ پہلا خون تھا جس سے مکہ کی زمین لالہ زار ہوئی۔ حضرت یاسر اور ان کی زوجہ مکرمہ کے بعد ابو جہل اور اس کے گماشتوں نے حضرت عمار ؓ پر مظالم کا سلسلہ جا ری رکھا کہ ایک دن کڑ کڑاتی دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر دہکتے ہوئے انگارے ان کی کمر پر رکھے گئے۔ اس حالت میں ابوجہل اور اس کے غنڈوں نے حضرت عمار ؓ کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک ان کی زبان سے کفریہ کلمات نکلوانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ حضرت عمار ؓ کو جب وحشیانہ مظالم سے نجات ملی تو گھر جانے کی بجائے روتے ہوئے سیدھا رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ یہ حالت دیکھ کر استفسار فرماتے ہیں۔ کَیْفَ اَنْتَ یَا عَمَّارُ ۔ حضرت عمار ؓ کی ہچکی بندھ گئی اس حالت میں عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! دل پوری طرح اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں مطمئن ہے۔ حضرت عمار ؓ ابھی یہ الفاظ ادا کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو یہ خوشخبری دے کر بھیجا کہ جس شخص نے بےحد مجبوری کی حالت میں ایمان لانے کے بعد کفر کا کلمہ کہا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اس پر کوئی گناہ نہیں البتہ جس نے بےحد مجبوری کے بغیر کلمۂ کفر کہا اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا اور اسے عظیم عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ لفظ ” اِکْرِہَ “ کی تشریح کرتے ہوئے اہل علم نے لکھا ہے۔ جب مظلوم کو یقینی طور پر اس بات کا علم ہوجائے کہ اب اس کا بچ نکلنا محال ہے اس وقت مظلوم کلمۂ کفر کہہ سکتا ہے لیکن یہ عزیمت کا راستہ نہیں۔ اس لیے صحابہ کرام ؓ نے کٹ مرنا گوارا کرلیا مگر انھوں نے اللہ کے دین کو نہیں چھوڑا۔ کیونکہ اگر ہر آدمی معرکۂ حق و باطل میں جان بچانے کی کوشش کرے تو اسلامی انقلاب برپا نہیں ہوسکتا۔ نہ دین آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتا ہے۔
جہنم کے عذاب کی کیفیت :
(عَنْ سَمُرَۃَ ابْنِ جُنْدُبٍ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ مِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُاِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُُہُ النَّارُاِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی حُجْزَتِہٖ وَمِنْھُمْ مَنْ تَاْخُذُہُ النَّارُ اِلٰی تَرْقُوَتِہٖ ) [ راہ مسلم : باب فی شدۃ حر النار ]
” حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا جہنم کی آگ نے بعض لوگوں کے ٹخنوں تک، بعض کے گھٹنوں تک اور بعض کو کمر تک گھیرا ہوگا اور بعض کی گردن تک پہنچی ہوگی۔ “
مسائل
1۔ ایمان لانے کے بعد کفر اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ 2۔ مرتد کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
3۔ مجبوری کی حالت میں جان بچانے کی خاطر کفریہ کلمات کہے جاسکتے ہیں۔ 4۔ عملاً کفر اختیار کرنے والے پر اللہ کا غضب ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار کے لیے اذیت ناک عذاب :
1۔ ایمان لانے کے بعد کفر کرنے والے کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ (النحل : 106)
2۔ کفار کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (الانفال : 14)
3۔ عنقریب کفار کو درد ناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ (التوبۃ : 90)
4۔ ان کے کفر کی وجہ سے ہم انہیں شدید ترین عذاب چکھائیں گے۔ (یونس : 70)
Ayahs 16:107–109فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دین کی مخالفت اور کفر کو اختیار کیے رکھنے کی بنیادی وجہ۔
دین میں داخل ہونے والا شخص سب سے پہلے اپنی ” انا “ اور نظریات کی قربانی کرتا ہے۔ بسا اوقات اسے دنیاوی مفاد، برادری اور اعزاء و اقارب یہاں تک کہ اسے سماجی اور معاشرتی سٹیٹس چھوڑنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے یہ قربانیاں وہی شخص دے سکتا ہے جو دنیا کے فوائد چھوڑ کر دین کی دعوت پر خوش اور مطمئن ہوجائے۔ یہ کام دنیا پرست شخص نہیں کرسکتا بیشک وہ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے کتنا ہی اسلام کا پرچار کرنے والا ہو اس بات کو چند الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے ” جس نے کسی حوالے سے بھی دنیا کو آخرت پر مقدم جانا اور اسلام کی عظیم نعمت کی طرف توجہ نہ دی ایسا کرنا کفر ہے اور کافر کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی طرف ہدایت نہیں دیتا۔
دینوی مفاد حق کے منکروں پر اس طرح غالب رہا ہے کہ بالآخر اس جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا کر ان کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ ڈال دیا۔ اسی حالت میں موت نے انھیں دبوچ لیا۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے لیے نقصان ہی نقصان ہوگا۔
گناہ کی وجہ سے دل کا سیاہ ہونا :
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَّسُوْلِ اللَّہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْٓءَۃً نُکِتَتْ فِیْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ہُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَاد زیدَ فِیْہَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَہُوَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَ اللَّہُ (کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن، باب وَمِنْ سُورَۃِ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ (حسن )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ جب بندہ گناہ کرتا ہے اس کے دل پر سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جب وہ اس گناہ کو چھوڑتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس سیاہ نکتے میں اضافہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی سیاہی دل پر غالب آجاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ نے کیا ہے ” کیوں نہیں ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ پڑچکا ہے۔ “
مسائل
1۔ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ 2۔ اللہ کفار کو ہدایت نہیں دیتا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔
4۔ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والے خائب و خاسر ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں کے دلوں پر مہر ثبت کرتا ہے :
1۔ اللہ نے کفار کے دل، سماعت اور بصارت پر مہر لگا دی۔ (النحل : 108)
2۔ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے مہر لگا دی۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (النساء : 155)
3۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ (محمد : 16)
4۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر ثبت فرماتا ہے۔ (یونس : 74)
5۔ اللہ ہر جابر اور متکبر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ (المومن : 35)
Ayah 16:110فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے آیت 106 میں بےحد مجبور شخص کو جان بچانے کی اجازت دی تھی اب مظلوم لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ ممکن طور پر دین اور جان بچاکر انہیں ہجرت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
جن لوگوں کو ناقابل برداشت اذیتوں کا نشانہ بنایا جائے اس حالت میں کہ انہیں جان اور دین بچانا مشکل ہوجائے تو انھیں ہجرت کرنے کی اجازت ہے تاکہ دین کی سربلندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں اس راستہ میں انہیں جو بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر مصائب سے واسطہ پڑے تو انہیں صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ اس دوران بتقضائے بشریت غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
ہجرت :
اللہ تعالیٰ کی خاطر و طن عز یز چھوڑ نا اور گنا ہوں سے کنارہ کش ہونا، اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کے حصول کے ساتھ مشکلات سے نجات پانے کا راستہ ہے۔ ہجرت بظا ہر ہر چیز کو چھوڑنا ہے۔ لیکن حقیقت میں ہر چیز کے پالینے کا نام ہے۔
” جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ہجرت کی وہ اپنے لیے بڑی کشا دگی پائے گا۔ “ [ النساء : 100]
شر یعت کی زبان میں ہجرت ہر اس کام کو چھوڑنا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے راستے میں حائل اور رکا وٹ بنتاہو۔ ایسے جو انمرد کو مہاجر اور اس کے عمل کو ہجرت کہا گیا ہے۔ عرف عام میں دین و ایمان کی خا طر وطن عزیزکو چھوڑنا ہجرت کہلاتا ہے۔
یہ دنیاجب سے معر ضِ و جود میں آئی ہے اس وقت سے لے کر آج تک حق و باطل کے معرکے پیش آ رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس معرکہ آرائی میں بیشمار ہجرتوں کی روداد تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی نبی یا رسول ہوگا جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کی ہو۔
شاید ہی کوئی فرد یا قوم ایسی ہوگی جس کی حالت ترک وطن کے بعد بہترنہ ہوئی ہو۔ تاریخ عالم میں آپ ﷺ اور آپ کے رفقا سے بڑھ کر کسی پر کسمپرسی کا عالم نہ گزرا ہوگا۔ مہاجرین کے پہلے قافلے کا عالم یہ تھا کہ وہ نہ صرف گھر بار سے محروم ہوئے بلکہ انہیں شیرخوار بچوں، بوڑھے والدین، جوان بیٹوں اور وفادار بیویوں سے الگ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص اور دینی غیرت کی وجہ سے وسعت و کشادگی کے دروازے کھول دیے اور دنیاجہاں کی نعمتوں کو ان کے قدموں میں نچھاور کردیا۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ جب اپنے مواخاتی سا تھی کا یہ کہہ کر شکریہ ادا کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر چیزکو سلامت رکھے میں آپ پر بوجھ بننے کے بجائے منڈی کی طرف جارہا ہوں۔ مجھے یہاں کی منڈی کا راستہ اور طریقہ بتادیں۔ اس تہی دامنی کے بعدوہ وقت بھی آیا کہ زکوٰ ۃ کے علاوہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود جب دنیا سے رخصت ہوئے۔ تو منقو لہ جائیداد کے علاوہ ان کے پاس ایک کروڑ نقد ی اور سونا چاندی موجود تھا۔
تاریخ کے اوراق پلٹنے کی بجائے افغان، کشمیر اور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کی اکثریت کے حالات و واقعات دیکھیں جو اس سچائی کی شہادت دے رہے ہیں کہ واقعتا ہجرت رزق کی کشادگی اور مسائل کا تریاق ثا بت ہوتی ہے۔ اور جو شخص گناہوں سے کنارہ کش ہوتا ہے ایسے پرہیز گار کی مشکلات اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے بہت جلد حل کردیتا ہے۔
” جو لوگ مظالم کی وجہ سے اللہ کے لیے ہجرت کرتے ہیں۔ ان کو دنیا میں بہترین جائے قیام عطا کرنے کے ساتھ آخرت میں ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ کاش وہ اس حقیقت کو پاجائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے بھی یہی اجر ہے جو ثابت قدمی کے ساتھ اپنے رب پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ “ [ النمل : 41 تا 42]
” اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اللہ کے راستے میں گھر بار چھو ڑا اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور جنہوں نے مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے اور ایماند ار ہیں ان ہی کے لیے بخشش اور بہترین رزق ہے۔ “ [ الانفال : 47]
مسائل
1۔ دین اور جان کو بچانے کی خاطر ہجرت اختیار کرنی چاہیے۔ 2۔ دین کے لیے جہاد اور صبر کرنا چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مہاجرین کا بہترین انجام اور ان کے فضائل :
1۔ اللہ تعالیٰ مہاجرین کی خطاؤں کو بخشنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (النحل : 110)
2۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے اس کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ (البقرۃ : 218)
3۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو بہترین ٹھکانہ میسر آئے گا۔ (النحل : 41)
4۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو بہترین رزق عطا کیا جائے گا۔ (الحج : 58)
Ayah 16:111فہم القرآن
ربط کلام : صبر و استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہنے والے لوگوں کو شفقت و مہربانی اور بخشش کی نوید سنانے کے بعد ظالموں اور دین کے منکرین کو ان کے انجام سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
قرآن مجید کا یہ مؤثر اور دل ہلا دینے والا اسلوب ہے کہ وہ اکثر مقامات پر اس بات کا التزام کرتا ہے کہ نیکی اور بدی کا فرق سمجھاتے ہوئے برے لوگوں کو ان کا بدترین انجام اور دین کی خاطر قربانی دینے والوں کا بہترین انجام بیک وقت ذکر کیا جائے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر پہلے برے لوگوں کے کردار اور ان کا انجام ذکر کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کی ایمان پر استقامت، ان کا حسن کردار اور ان کے بہترین انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ” ظالموں کو وہ وقت یاد کرنا چاہیے کہ جب وہ اپنے بارے میں جھگڑا کر رہے ہوں گے۔ اس دن نیکوں کو پوری پوری جزا اور برے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ کسی پر کسی اعتبار سے بھی ذرہ برابر زیادتی نہیں کی جائے گی۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہوگی۔ 2۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔
3۔ قیامت کے دن کسی پر ظلم نہ ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
مجرم کا اپنے آپ سے جھگڑا کرنے کی کئی صورتیں ہوں گی :
1۔ مجرم اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کے لیے اپنے برے اعمال کا کلیتاً انکار کریں گے۔ (الانعام : 23۔ 24)
2۔ مجر م اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گناہوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالیں گے۔ (الاحزاب : 66۔ 68)
3۔ مجرموں سے سوال کیا جائیگا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ تو وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم سوال کریں گے کہیں گے تم تو ہمارے پاس دائیں، بائیں سے آتے تھے وہ جواب دیں گے بلکہ تم خود ہی ایمان لانے والے نہ تھے اور ہمارا تم پر کچھ زور نہیں تھا بلکہ تم خود سر کش تھے (الصٰفٰت : 22۔ 31)
4۔ ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے اور کہیں گے کاش ! میں نے رسول کے ساتھ ہی اپنی روش اختیار کی ہوتی۔ (الفرقان : 27۔ 30)
Ayahs 16:112–113فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دی جائے گی۔ بسا اوقات کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی ان کے اعمال کی سزا دی جاتی ہے۔ جس کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جس میں ہر طرح کا امن وامان اور اسے ہر جانب سے کشادہ رزق فراہم کیا جارہا تھا۔ لیکن اس بستی والوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے کفر اور ناشکری کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا تاکہ ان کے کردار کی انہیں سزا دی جائے۔ یہ سزا اس لیے بھی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا۔ مگر انہوں نے رسول کی نصرت و حمایت کرنے کے بجائے اسے کلی طور پر جھٹلا دیا۔ جس کی پاداش میں انہیں عذاب نے آلیا۔ کیونکہ وہ ظلم کررہے تھے۔ جس بستی کی یہاں مثال بیان کی گئی ہے۔ اس کی تعیین کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ کچھ اہل علم نے لکھا ہے کہ اس سے مراد ملک سبا کا دارالخلافہ ہے۔ مگر اکثر اہل علم کا رجحان اس طرف ہے کہ اس سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ جو شدید افرا تفری کے دور میں بھی امن و سکون کا گہوارہ تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور بیت اللہ شریف کی برکت سے یہ شہر نہ صرف امن وامان کا گہوارہ تھا بلکہ پوری دنیا کے پھل اور اناج وافر مقدار میں یہاں پہنچ رہے تھے۔ حالانکہ عرب کی سرزمین انارکی اور قحط سالی کا شکار رہتی تھی۔ خشک پہاڑ، سنگلاخ زمین اور بارش نہ ہونے کی وجہ سے حدّنگاہ تک ہریالی کا تصورتک نہ تھا۔ دن دیہاڑے قافلے لوٹ لیے جاتے لیکن بیت اللہ کے متولی اور مکہ کے باسی ہونے کی وجہ سے اہل مکہ کا اس قدر مقام واحترام پایا جاتا تھا کہ نہ صرف ان کے قافلے محفوظ رہتے بلکہ ان کا جاری کیا ہوا پروانہ راہداری کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کرم کے ساتھ ان میں رسول کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ نے تیرہ سال نہایت اخلاص کے ساتھ شب وروز مکہ والوں کے عقائد اور کردار کی اصلاح کرنے کی کوشش فرمائی۔ لیکن اہل مکہ نے آپ ﷺ کی پر خلوص جدوجہد کا صلہ بدترین مظالم کے ساتھ دیا۔ جس کے نتیجے میں آپ اور آپ کے ساتھی مکہ جیسے بابرکت شہر کو چھوڑ کر مدینہ میں پناہ گزیں ہوئے۔ جوں ہی سرور دوعالم ﷺ اور اہل ایمان نے مکہ سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر سخت گرفت فرمائی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امن وامان کا گہوارہ اور بابرکت شہر خوف وہراس اور ہر قسم کی ویرانی کا منظر پیش کرنے لگا۔ عام لوگ تو درکنار قریشی سردار بھی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر جانوروں کے خشک چمڑے پانی میں بھگو کر کھانے پر مجبور ہوئے۔ یہاں بھوک اور خوف کے لیے لباس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ گویا کہ جس طرح لباس چھوٹے، بڑے اور مرد وزن کے جسم کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ اسی طرح بھوک اور خوف ان کے ساتھ لگ چکے تھے جس سے چھٹکارا پانا ان کے بس کا روگ نہ تھا۔ جہاں تک خوف کا تعلق ہے۔ اہل مکہ بدر، احد اور خندق میں مدینہ پر جارحیت کرنے کے باوجود صبح وشام اس خوف میں مبتلا رہتے تھے کہ کسی وقت بھی محمد ﷺ اور اس کے ساتھی ہم پر غالب آجائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام :
1۔ ان کے پاس ان میں سے رسول آئے تو انہوں نے تکذیب کی تو انہیں عذاب نے آلیا۔ (النحل : 113)
2۔ ان کے لیے کہا جائے گا تکذیب کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا رہو۔ (السجدۃ : 20)
3۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139)
4۔ قوم نوح نے جب حضرت نوح کی تکذیب کی تو ہم نے انہیں غرق کردیا۔ (الفرقان : 37)
5۔ ہم نے آل فرعون سے انتقام لیا اور انہیں دریا میں غرق کردیا۔ (الاعراف : 136)
6۔ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 10)
7۔ پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا سو دیکھو میر اعذاب کیسا تھا ؟ (الملک : 18)
8۔ اس سے پہلے بھی کفار نے تکذیب کی تو ان کے پاس وہاں سے عذاب آیا جہاں سے انہیں تصور بھی نہ تھا۔ (الزمر : 25)
Ayah 16:114فہم القرآن
ربط کلام : مکہ والوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری کی جس کی بنا پر قحط سالی نے انہیں آلیا۔ اس لیے ہدایت کی جا رہی ہے کہ لوگو اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے متعدد فرامین میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو ! میرے سوا تمہیں کوئی رزق دینے والا نہیں۔ میں ہی اپنی حکمت کی بنا پر تمہارا رزق تنگ اور کشادہ کرتا ہوں۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید عنایت کروں گا۔ اگر کفر اور ناشکری کا راستہ اختیار کرو گے تو میر اعذاب نہایت سخت ہوا کرتا ہے۔ (ابراہیم : 7) اس بنا پر حکم ہے کہ جو پاک اور حلال رزق تمہیں عطا کیا جاتا ہے۔ اسے کھاؤ اور پیو۔ رزق کے ساتھ جو اور بھی نعمتیں تمہیں عطاکی جاتی ہیں ان کا شکر ادا کرو اگر واقعتا تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔ اکل حلال کے ساتھ طیب کی شرط اس لیے لگائی ہے کہ بسا اوقات ایک چیز حلال ہوتی ہے مگر کسی وجہ سے وہ غلاظت آلود ہوجاتی ہے۔ مسلمان کا شیوہ یہ ہے کہ وہ حلال کے ساتھ صفائی اور طہارت کا خیال رکھے تاکہ مختلف قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہے۔ یہاں شکر اور عبادت کو ایک حد تک لازم وملزوم قرار دیا ہے۔ جو شخص اللہ کا عبادت گزار ہے یقیناً وہ شکر گزا ربھی ہوگا اور جو اس کا شکر گزار بننا چاہتا ہے۔ اسے اللہ کی عبادت کرنا بھی لازم ہے۔ باالفاظ دیگر عبادت گزار ہی اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں۔
حلال کی اہمیت :
(عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکرِبَ الزُّبَیْدِیِّ ؓ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَا کَسَبَ الرَّجُلُ کَسْبًا أَطْیَبَ مِنْ عَمَلِ یَدِہٖ وَمَآ أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ أَہْلِہٖ وَوَلَدِہٖ وَخَادِمِہٖ فَہُوَ صَدَقَۃٌ)[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب التجارات ]
” حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ رسول گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آدمی کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی کمائی پاکیزہ نہیں اور آدمی اپنے نفس، اہل، اولاد اور خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔ “
(عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ مِنْ أَطْیَبِ مَآ أَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ وَوَلَدُہٗ مِنْ کَسْبِہٖ ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب البیوع، باب فی الرجل یأکل من مال ولدہ ]
” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بہترین اور پاکیزہ مال وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھاتا ہے اور اس کی اولادبھی اس کی کمائی ہے۔ “
(لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ لَحْمٌ وَّ دَمٌ نَبْتَا عَلٰی سُحْتٍ فَالنَّارُ اَوْلٰی بِہٖ [ رواہ ترمذی : کتاب الصلاۃ باب
” جنت میں وہ گوشت اور خون داخل نہیں ہوگا جو حرام سے پلا ہوگا اس کے لیے دوزخ ہی مناسب ہے۔ “
شکروحمد :
اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے۔ شکر رب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔
(لإَِنْ شَکَرْتُمْ لَأََزِیْدَنَّکُمْ ) [ ابراہیم : 7]
” اگر تم شکرکا رویہ اپناؤ گے تو مزید عنایات پاؤگے۔ “
اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی عبادت اور دین کے کسی عمل کے بارے میں بیک وقت یہ نہیں فرمایا کہ اس کی ادائیگی سے تم عذاب سے محفوظ اور مزید انعامات کے حقدار بن جاؤ گے۔ صرف شکر ایسا عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا ہے کہ عذاب سے بچنے کے ساتھ مزید عطاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ذرّہ ذرّہ شکر گزار ہے :
کائنات کا ایک ایک ذرہ مالک حقیقی کی حمدوستائش اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے شکرکے ترانے الاپ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ایمان ہے جس کے ہوتے ہوئے آدمی ہر مشکل کا سامنا اور ہر قسم کی پریشانی کو برداشت کرسکتا ہے، ایمان کا محورومرکز قرآن ہے اور قرآن کا خلاصہ فاتحہ ہے اسی بنا پر اس کا دوسرا نام ام الکتاب ہے سورة فاتحہ کا خلاصہ حمد کا لفظ قرار پایا اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر اور مزید طلب کے لیے اس کی حمدو ستائش کرنی چاہیے۔ حمد پر ہی روزمحشر عدالت کبریا کا اختتام ہوگا۔
(وَتَرَی الْمَآءِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بالْحَقِّ وَقِیْلَ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ )[ الزمر : 75]
” اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا اور صدائیں بلند ہوں گی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَلَمِےْنَ کہ تمام تعریفات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ “
نیک لوگوں کی دعا اور شکر کا انداز :
” اے میرے رب ! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں اور
نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوں۔ مجھے اور میری اولاد کو نیک فرما۔ میں تیرے حضور معافی کی درخوست کرتے ہوئے تابع فرمان ہوئی جا رہا ہوں۔ “
” حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے میرے ہاتھ کو پکڑا، پھر فرمایا اے معاذ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں تو میں نے آپ کے لیے کہا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ ہر فدا ہوں میں بھی آپ سے محبت کرتا
ہوں آپ نے فرمایا اے معاذ میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا نہ چھورنا۔
اے اللہ ! اپنے ذکر، شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔ “
مسائل
1۔ کھانا حلال اور پاک کھانا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ 3۔ ایک اللہ کی عبادت کرنی چاہیے۔
تفسیر باالقرآن
اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والوں کا انجام :
1۔ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ (النحل : 114)
2۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ (ابراہیم : 7)
3۔ اللہ تمہیں عذاب نہیں دے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ۔ (النساء : 147)
4۔ اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ (یونس : 60)
5۔ بستی والوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ (النحل : 112)
6۔ قرآن میں شکر بمعنی ” اللہ کی فرمانبرداری کرنا “ بہت سی آیات میں استعمال ہوا ہے۔ (الزمر : 7)
Ayah 16:115فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں حکم ہوا ہے کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور پیوحرام خور آدمی اس فرمان سے غلط فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ حرام کی وضاحت کردی جائے۔
مذکورہ بالا وجہ کے ساتھ حرام کردہ چیزوں کی نشاندہی اس لیے کی جا رہی ہے کہ یہودیوں نے بہت سی اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام اور حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال کرلیا تھا۔ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہودی رسول معظم ﷺ پر یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جو چیزیں تورات اور انجیل میں حلال ہیں آپ اسے حرام کیوں قرار دیتے ہیں ؟ ان کا یہ الزام تھا کہ حرام و حلال کی فہرست میں آپ نے اپنی مرضی سے ترمیم واضافہ کرلیا ہے۔ اس کی وضاحت میں مختلف سیاق وسباق کے تناظر میں چوتھی مرتبہ یہ آیت نازل کی گئی جس کے نزول کا مقصود یہ ہے کہ اے یہود و نصاریٰ ! جن حرام چیزوں کو تم اپنے لیے حرام سمجھ بیٹھے ہو یہ تورات اور انجیل میں بھی حرام تھیں۔ یہ رہتی دنیا تک سب کے لیے حرام ہیں سوائے اس شخص کے جو نہایت اضطراری حالت میں کھانے پر مجبور ہوجائے۔ اسے یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا کیونکہ وہ معاف کرنے والا اور بخش دینے والا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اضطراری حالت میں کھانے والا شخص نہ باغی ہو اور نہ ہی حد سے گزرنے والا ہو۔ ان شرط کے پیش نظر تمام فقہا کا اتفاق ہے کہ مجبور شخص مجبوری کے وقت حرام چیزوں کو اتنا ہی کھا سکتا ہے جس سے اس کی زندگی بچ جائے۔
(4) غیر اللہ کے نام پر ذبح کی یا پکائی ہوئی چیز اس لیے حرام کی گئی کہ یہ ایمان کے خلاف ہے۔ ایک غیرت مند ایمان دار سے یہ کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گردانے گئے شریک کے نام پر چڑھائی گئی چیز کھانے یا اسے استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائے ؟ یہ نہ صرف غیرت ایمانی کے منافی ہے بلکہ فطرت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی بشرطیکہ کسی کی فطرت مسخ نہ ہوچکی ہو۔ فطرت سلیم کا ثبوت اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں پایا گیا ہے۔
(عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَ نَّہٗ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِ و بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُّنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ الْوَحْیُ فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّیْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عََلٰٓی أَنْصَابِکُمْ وَلَآ آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ )
[ رواہ البخا ری : کتاب الذبائح والصید، باب ماذبح علی النصب والأصنام ]
” وحی نازل ہونے سے پہلے بلدح کے نشیبی علاقے میں رسول کریم ﷺ کی ملاقات زید بن عمر وبن نفیل سے ہوئی۔ رسول معظم ﷺ کے سامنے ایک دستر خوان لایا گیا جس پر غیر اللہ کے نام کی کوئی چیز تھی۔ آپ نے اسے کھانے سے انکار کردیا۔ اس کے ساتھ ہی جناب زید ؓ نے کہا کہ میں بھی ان ذبیحوں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم اپنے آستانوں پر ذبح کرتے ہو اور نہ اس جیسی کوئی اور چیز کھاتا ہوں سوائے اس چیز کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ “
” ثابت بن ضحاک ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پوچھا : کیا وہاں کوئی میلہ لگتا تھا ؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنا لازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔ “ [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأیمان وا لنذور ]
اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم دیکھیے کہ ان چار چیزوں سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود ایسے شخص کے لیے ان کو کھانے کی اجازت دی ہے جسے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ نہ وہ پہلے سے ان چیزوں کے کھانے کا عادی ہو اور نہ ہی حرام خوری کی طرف اس کا دل مائل ہو۔
عمومًا یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے نہ ذبح کا بلکہ ” ما “ کا لفظ ہے جس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی بزرگ، دیوی، دیوتا کا تقرب حاصل کرنے اور اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی کی صحنک، مزار کے لیے بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ بعض علما لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے ہیں دودھ، چاول حلال ہیں اگر کھیر کسی کے نام کی پکائی جائے تو یہ حرام کیسے ہوگئی ؟ بیشک دودھ اور چاول چیز جو فی نفسہٖ حلال ہیں۔ لیکن جو کھیر غیر اللہ کے نام پر پکائی گئی ہے وہ حرام ہوگی۔ کیونکہ غیر اللہ کے نام کی نیت رکھنے سے ہی چیز حرام ہوجاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص صدقہ و خیرات یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا فلاں بزرگ کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ نیک عمل ہے اور سنت سے ثابت ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مردار، خون، خنزیر کا گوشت حرام قرار دیا ہے۔
2۔ غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی نذرونیاز حرام ہے۔
3۔ انسان کو جان کا خطرہ ہو تو مذکورہ بالا اشیا میں سے کچھ کھاسکتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
تفسیر باالقرآن
قرآن مجید میں حرام کردہ چیزیں :
1۔ اس نے تم پر خون، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ (النحل : 110)
2۔ اللہ نے ظاہری اور باطنی فحاشی کو حرام قرار دیا ہے۔ (الاعراف : 33)
3۔ تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت، غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی چیز، گلا گھٹنے، کسی ضرب سے، گر کر، سینگ لگنے سے، جس کو درندوں نے کھایا ہو اور استھانوں پر ذبح کیا ہوا حرام ہیں۔ (المائدۃ : 3)
4۔ اور یہودیوں پر ناخن والے جانور حرام تھے اور گائے، بکری کی چربی بھی حرام تھی۔ (الانعام : 146)
Ayahs 16:116–118فہم القرآن
ربط کلام : حرام کے بارے میں مزید احکامات اور یہودیوں کے کردار پر تبصرہ۔
اہل کتاب نے بالخصوص یہودیوں کے علما نے پیٹ پوجا اور معاشرے کے بڑے لوگوں کی خوشنودی کے لیے بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کرلیا تھا۔ جب اس جرم کی نشاندہی کی جاتی تو ان کے علما اس قدر مردہ ضمیر ہوگئے کہ اپنی حرام خوری پر پردہ ڈالنے کے لیے سرعام یہ بات کہتے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی حرام اور حلال قرار دی ہیں۔ اس سے منع کرتے ہوئے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ اپنی مرضی سے حرام و حلال کی فہرست تیار کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ لگاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ پر صریح جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی سے حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں یقیناً وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ یہ لوگ محض لذت دہن اور دنیا کے مفاد کے لیے ایسا کر رہے ہیں انہیں یاد ہونا چاہیے کہ دنیا اور اس کی ہر چیز آخرت کے مقابلے میں، مدت اور مقدار کے اعتبار سے عارضی اور تھوڑی ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔
( عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ ؓ قَالَ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ﷺ وَفِی عُنُقِی صَلِیبٌ مِنْ ذَہَبٍ فَقَالَ یَا عَدِیُّ اطْرَحْ عَنْکَ ہَذَا الْوَثَنَ مِنْ عُنُقِکَ قَالَ فَطَرَحْتُہٗ ، وَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ وَہُوْ یَقْرَاأ فِیْ سُوْرَۃِ بَرَاءَ ۃَ فَقَرَاأ ہٰذِہِ الْآیَۃُ (اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِن دُون اللَّہِ ) قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، إِنَّا لَسْنَا نَعْبُدُہُمْ فَقَالَ األَیْسَ یُحَرُِّْمُوْنَ مَا اأَحَلَّ اللّٰہُ فَتُحَرِّمُوْنَہٗ ، وَیُحِلُّوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَتُحِلُّوْنَہٗ ؟ قَالَ قُلْتُ بَلٰی قَالَ فَتِلْکَ عِبَادَتُہُمْ )[ تفسیر قر طبی : ج 14 رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ ]
” حضرت عدی ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے گلے میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا اے عدی اس بت کو اتار پھینکو تو میں نے اسے اتار پھینکا اور آپ کے قریب آگیا اور آپ سورة توبہ کی تلاوت فرما رہے تھے۔ آپ نے آیت تلاوت کی (اتخذوا أحبارہم ورہبانہم أربابًا من دون اللہ) تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ہم تو انکی عبادت نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کیا جسے وہ حرام قراردیتے تھے اسے تم حرام نہیں سمجھتے تھے اور جسے وہ حلال قرار دیتے اسے تم حلال نہیں سمجھتے تھے ؟ میں نے کہا ہاں ! اللہ کے رسول آپ نے فرمایا یہی تو انکی عبادت ہے۔ “
یہودی حلال و حرام کی من ساختہ فہرست اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے ہیں۔ جس کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے مذکورہ بالا چار چیزیں حرام کرنے کے ساتھ یہودیوں کی نخوت اور بغاوت کی وجہ سے یہ چیزیں بھی حرام کیں تھیں۔ جن کا تذکرہ آپ کے سامنے ہم پہلے کرچکے ہیں۔ جن کی تفصیل سورة الانعام کی آیت 146 میں یوں بیان کی گئی ہے۔ ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن والا جانور حرام کیا نیز ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کی تھی اِلَّایہ کہ ان جانوروں کی پشت اور آنتوں کے ساتھ چپکی ہو یا ہڈیوں کے ساتھ چمٹی ہوئی ہو یہ ان کی مسلسل بغاوت کی سزا تھی۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے یقیناً وہ سچ ہے۔ ہم نے یہودیوں پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ یہ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ ظاہر ہے جو قوم اپنے آپ پر مسلسل ظلم کرنے پر تل جائے اسے کوئی بھی تباہی کے گھاٹ سے نہیں بچا سکتا۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَاِنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَآ اَمَرَبِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ (یَآاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) [ المومنون : 51] وَقَالَ یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اِغْبَرَ یَمُدُّیَدَیْہِ اِلَی السَّمَآءِ یَارَبِّ وَمَطَعَمُہٗ حَرَامٌ وَّمَشْرَبُہٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہٗ حَرَامٌ وَّغُذِیَ بالحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ) [ رواہ مسلم : باب قَبُول الصَّدَقَۃِ مِنَ الْکَسْبِ الطَّیِّبِ وَتَرْبِیَتِہَا ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا ‘ بیشک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک صاف کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان باتوں کا حکم دیا ہے جن باتوں کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” میرے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور صالح عمل کرو۔ “ اے ایمان والو ! جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ “ پھر آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر طے کرتا ہے۔ پراگندہ بال ہے اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے دعا کرتا ہے۔ یارب ! یارب ! جب کہ اس کا کھانا حرام ‘ اس کا پینا حرام ‘ اس کا لباس حرام اور حرام غذا سے اس کی نشوونما ہوئی اس حالت میں اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟ “
مسائل
1۔ یہودیوں پر بعض چیزیں حرام کیں تھیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ 3۔ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
4۔ یہودیوں پر جو چیزیں حرام تھیں ان میں سے بعض کے متعلق رسول اللہ ﷺ کو مطلع کیا گیا۔
5۔ اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام و حلال قرار نہیں دینا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے ذمے جھوٹ لگانے والے فلاح نہیں پائیں گے۔
8۔ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
تفسیر باالقرآن
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والوں کا انجام :
1۔ اللہ کے ذمے جھوٹ لگانے والے فلاح نہیں پائیں گے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (النحل : 116۔ 117)
2۔ جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے گا وہی ظالم ہے۔ (آل عمران ؛ 94)
3۔ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (الاعراف : 37)
4۔ اس شخص نے نقصان اٹھایا جس نے اللہ پر جھوٹ بولا۔ (طٰہٰ : 61)