16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsفہم القرآن

Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

” یقیناً آپ کا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت سے برے عمل کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی، بلاشبہ آپ کا رب یقیناً بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ (119)

فہم القرآن ربط کلام : ظلم کرنے کے باوجود جن لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر انسان خطا کا پتلا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک معاف کرتا رہتا ہے۔ جب تک انسان اس کے حضور معافی کا خواستگار رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہوئے اس کا جواز پیش کرے تو پھر اسے توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔ جس کے بارے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جس نے بھی برے کام کیے پھر اس کے گناہوں نے اسے گھیر لیا ایسے لوگ اہل جہنم ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 81) البتہ جنہوں نے جہالت کی بناء پر گناہ کیے اور پھر توبہ کی یقیناً اللہ انہیں معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے یہاں توبہ کی قبولیت کے لیے ایک شرط عائد کی ہے کہ توبہ کرنے کے بعد وہ شخص نہ صرف اپنے عقیدہ اور کردار کی اصلاح کرے بلکہ اس کی وجہ سے جتنے لوگ گناہ کی طرف مائل ہوئے حتی المقدور ان کی اصلاح کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہوگی۔ (عن عائشۃ ..... فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِہٖ ثُمَّ تَابَ تَاب اللَّہُ عَلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔۔ آپ نے فرمایا یقیناً جب بندہ اپنے گناہ کا اعتراف کرتا اور، توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر رجوع فرماتا ہے۔ “ توبہ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور ہر شخص کی توبہ نزع کے وقت سے پہلے قبول ہوسکتی ہے۔ نزع سے مراد موت کی وہ گھڑی ہے جب مرنے والے کو دنیا کے بجائے آخرت نظر آنے لگتی ہے۔ (کُلُّ بَنِيْٓ آدَمَ خَطَّاءٌ وَّخَیْرُ الْخَطَّآءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ] ” آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔ “ (مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُغَرْغِرَ نَفْسُہٗ قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ ) [ رواہ احمد ] ” جس نے موت کے آثار ظاہرہونے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ “ ( اَلتَّآءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد ] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے کے برابر ہوجاتا ہے۔ “ توبہ کی شرائط : توبہ کرنے والا اپنے گناہ پر نادم، آئندہ رک جانے کا عہد اور گناہ کے اثرات کو مٹانے کی کوشش کرے۔ جہالت کے بارے میں مفسرِقرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ انسان ہر گناہ جہالت کی وجہ سے ہی کیا کرتا ہے بیشک اسے معلوم ہو کہ فلاں کام کرنا گناہ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔ البتہ اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ جو شخص گناہ کرنے سے پہلے یہ نیت کرے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں بیشک وہ گناہ ہے۔ مگر اس کے بعد میں توبہ کرلوں گا ایسی صورت میں گناہ کی سنگینی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس سے سمجھدار اور صاحب ایمان شخص کو ہر حال میں بچنا چاہیے۔ مسائل 1۔ انسان سے برے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ 3۔ برے اعمال سرزد ہونے کی صورت میں توبہ اور اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ تفسیر باالقرآن توبہ کی فضیلت اور شرائط : 1۔ وہ لوگ جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں اور اس کے بعد توبہ اور اپنی اصلاح کرتے ہیں اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (النحل : 119) 2۔ جو شخص جرم کرنے کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرے بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (المائدۃ : 39) 3۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔ (التوبۃ : 74) 4۔ یقیناً میں اسے معاف کردوں گا جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ (طٰہٰ : 82) 5۔ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے اور عمل صالح کرے تو میں اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دوں گا۔ (الفرقان : 70) 6۔ اے ایمان والو ! خالص توبہ کرو۔ (التحریم : 8) 8۔ اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے تو ہم (اللہ) تمہارے چھوٹے گناہ دور کردیں گے۔ (النساء : 31)
Ayahs 16:120–122

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

” یقینا ابراہیم ایک پیشوا تھا، اللہ کا فرماں بردار، صرف اللہ کا ہوجانے والا، وہ مشرکوں سے نہ تھا۔ “ (120) ”

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والا۔ اس نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ “ (121) ”

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور وہ آخرت میں بھی یقیناً نیک لوگوں سے ہے۔ “ (122)

فہم القرآن ربط کلام : اے لوگو ! اگر تم اپنے رب کی رحمت اور بخشش کے طلب گار ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کرو۔ بیشک ان کی طرح تمہیں اکیلا ہی کیوں نہ رہنا پڑے۔ لیکن یاد رکھنا جس پر اللہ کی رحمت ہو اسے اپنے آپ کو اکیلا نہیں سمجھانا چاہیے۔ کفار مکہ اور اہل کتاب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا سمجھتے تھے۔ اس لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات اور ان کی خدمات کے حوالے سے کفار مکہ اور اہل کتاب کو سمجھا یا گیا ہے کہ بات بات پر جس شخصیت کا تم حوالہ دیتے ہو اس گرامی قدر شخصیت کا عقیدہ اور کردار سنو۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی ذات اور خدمات کے حوالے سے ایک پیشوا کی حیثیت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے انتہا درجے کے فرمانبردار تھے۔ وہ دین اور اللہ کی عبادت میں بھی نہایت یکسو تھے۔ مشرکین کے ساتھ ان کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر اس کے غایت درجہ شکر گزار تھے۔ ان اوصاف حمیدہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے خاص بندوں میں ایک خصوصی مقام سے نوازتے ہوئے ہر حالت میں صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی ہمت عطا فرمائی تھی۔ دنیا میں انہیں ہر قسم کی خیر سے نوازا اور آخرت میں یقیناً وہ صالحین کے ساتھی ہوں گے۔ 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک امت کی حیثیت سے : اہل لغت نے امت کے کئی معنی ذکر کئے ہیں۔ جن میں جامع اور اہم معانی یہ ہیں۔ والدہ، قوم، عوام، تمام فضائل حمیدہ کا حامل انسان۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ امت کا معنی ہے ” مُعَلِّمُ الْخَیْرِ “ (صحیح بخاری : کتاب التفسیر، سورة النحل) اس اعتبار سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں وہ تمام اوصاف پائے جاتے ہیں جو ایک کامیاب قائد میں ہونے چاہییں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تنہا ہونے کے باوجود دنیا میں وہ کام کرگئے جو ایک کامیاب قوم اور قائد کیا کرتا ہے اسی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دنیا کی ان شخصیات میں سرفہرست ہیں جن کے اثرات قیامت تک باقی رہیں گے۔ دنیا میں کوئی آسمانی مذہب ایسا نہیں جو انہیں اپنا رہنما تسلیم نہیں کرتا۔ مذہب کے حوالے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک سند کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک امت قرار دیا ہے۔ 2۔ انتہا درجے کی فرمانبرداریوں کی ایک جھلک : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنے رب کے تابع فرمان ہوجاؤ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے تابع فرمان ہوئے کہ انہوں نے ہر چیز اپنے رب کے حکم پر نچھاور کردی۔ 1۔ عقیدۂ توحید کی خاطر آگ میں چھلانگ لگا دی۔ 2۔ عقیدہ توحید کی بنا پر دنیا کی ٹھاٹ باٹ، گھر بار اور ہمیشہ کے لیے عراق کی سرزمین کو چھوڑ دیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنی اہلیہ اور اپنے نو نہال کو مکہ کی سر زمین پر چھوڑا۔ 4۔ خواب میں اشارہ پا کر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے حل قوم نازک پر چھری چلادی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر بیت اللہ تعمیر کیا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق حج ادا کیا اور اس کے مناسک بیان فرمائے۔ 7۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) میں خصوصی مقام کے حامل : 8۔ ہر حال میں صراط مستقیم پر گامزن رہنے والے : 9۔ دنیا کے حوالے سے معتبر اور معزز شخصیت : 10۔ آخرت میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی جماعت کے ممتاز ترین رکن : 11۔ تمام لوگوں کے امام قرار پائے۔ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مؤاحد تھے مشرک نہ تھے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) کو صراط مستقیم پر گامزن کیا تھا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی انہیں بھلائی کے ساتھ نوازا تھا۔ 6۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آخرت میں نیکو کاروں میں ہیں۔
Ayah 16:123

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

” پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو ایک اللہ کا ہوجانے والا اور مشرکوں سے نہ تھا۔ “ (123)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ اور ان کا مرتبہ ومقام ذکر کرنے کے بعد ان کی ملت کی اتباع کا حکم۔ اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر کو ظاہری اور جوہری صلاحیتیوں کے اعتبار سے منفرد پیدا کیا تھا۔ ہر پیغمبر اپنے دور کے انسانوں میں سیرت اور صورت کے حوالے سے بھی ممتاز ہوتا تھا۔ ان اوصاف کے ساتھ ہر رسول میں کچھ ایسی خوبیاں ودیعت کی جاتی تھیں۔ جن کی بنا پر ہر رسول دوسرے سے منفرد ہوتا تھا۔ جس کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے : ” یہ رسول ہیں ہم نے انہیں ایک ایک دوسرے پر فضیلت دی ان میں کچھ ایسے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور کچھ وہ تھے جن کے درجات بلند کیے اور حضرت عیسیٰ بن مریم کو روشن نشانیاں عطا کرنے کے ساتھ جبرایل امین (علیہ السلام) کے ذریعے مدد کی گئی۔ “ (البقرۃ : 253) اسی اصول کے تحت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایسی خوبیاں عنایت فرمائیں جو انہیں دوسرے انبیاء (علیہ السلام) سے منفرد اور ممتاز کرتی ہیں۔ سب کے سب انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے تابع فرماں، اپنے عقیدہ اور کام میں یکسو اور مشرکوں کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ انبیاء عظام (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے، اس کے محبوب اور ہر حال میں صراط مستقیم پر قائم رہنے والے تھے۔ ان میں ایسے انبیاء بھی موجود ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دیگر نعمتوں کے ساتھ سیاسی اقتدار بھی عنایت فرمایا تھا۔ اس طرح وہ دنیا کے حوالے سے بھی منفرد اور ممتاز تھے آخرت میں یقیناً وہ صالحین سے ہوں گے۔ اس مرتبہ ومقام کے باوجود کوئی نبی ایسا نہیں جس کی اتباع کا سرور دو عالم ﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا گیا ہو۔ یہ مقام و مرتبہ صرف سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو حاصل ہوا۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” جب ابراہیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا وہ ان میں پورے اترے۔ فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے عرض کی کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ظالموں سے میرا کوئی وعدہ نہیں۔ “ (البقرۃ : 124) جہاں تک ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا معاملہ ہے دین اسلام کے تمام بنیادی مسائل اور احکام ملت ابراہیم کا تسلسل ہیں۔ قربانی کے بارے میں آپ ﷺ سے استفسار ہوا تو ارشاد فرمایا کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے اس کے مناسک حج پر توجہ فرمائیں تو معلوم ہوگا کہ صفا مروہ کی سعی، زمزم کا پانی، اللہ کے حضور قربانی ذبح کرنا، شیطان کو کنکریاں مارنا یہ مناسک ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے ترجمان ہیں۔ (عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا ہٰذِہِ الأَضَاحِیُّ قَالَ سُنَّۃُ أَبِیْکُمْ إِبْرَاہِیْمَ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعَرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصُّوْفُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعَرَۃٍ مِّنَ الصُّوفِ حَسَنَۃٌ )[ رواہ ابن ماجۃ : باب الاضحیۃ ] ” حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! یہ قربانیاں کیا ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ صحابہ ؓ نے پھر پوچھا اے اللہ کے رسول ! ہمارے لیے اس میں کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر ایک بال کے بدلے نیکی۔ صحابہ ؓ نے عرض کی جانور کی اون کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا اون کے بھی ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی۔ مسائل 1۔ آپ ﷺ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کا حکم دیا گیا تھا۔ 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں میں سے نہ تھے۔ تفسیر بالقرآن ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم اور اس کی اتباع : 1۔ پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم کی پیروی کریں۔ (النحل : 123) 2۔ فرما دیجیے اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو۔ (آل عمران : 95) 3۔ ملت ابراہیم کی تابعداری کیجیے وہ یکسو تھا۔ (النساء : 125) 4۔ ابراہیم کے دین سے کون روگردانی کرسکتا ہے سوائے اس کے کہ جو نادان ہو۔ (البقرۃ : 130)
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

” ہفتے کا دن صرف ان لوگوں پر مقرر کیا گیا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا اور بیشک آپ کا رب ضرور ان کے درمیان قیامت کے دن اس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ “ (124)

فہم القرآن ربط کلام : یہودی بڑی شد و مد کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مذہب اور نسب کے اعتبار سے ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ قرآن مجید دو ٹوک انداز میں اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ چناچہ ارشاد ہوا : ” اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کس بنیاد پر جھگڑا کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ابراہیم کے بعد نازل کی گئی ہیں کیا تم پھر بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ؟ تم وہ لوگ ہو جو ایسی باتوں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم ہے مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں۔ حضرت ابراہیم یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی وہ تو موحّد مسلمان تھے۔ ان کا مشرکوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت ابراہیم کے قریب تر وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی اتباع کی ان کے بعد سرور دو عالم اور آپ کے متبعین ابراہیم کے زیادہ قریب ہیں اور اللہ مومنوں کا حامی وناصر ہے۔ “ (آل عمران : 65 تا 68) اسی بات کی یہاں دوسرے انداز میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہفتہ کا دن ان لوگوں پر لازم کیا گیا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ یقیناً آپ کا رب قیامت کے دن ضرور فیصلہ فرمائے گا، جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ یہود یوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں جمعہ کے بجائے ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دعویٰ کی بنیاد پر یہودی نبی محترم ﷺ پر الزام لگاتے تھے کہ انہوں نے ہماری مخالفت کی بنیاد پر ہفتہ کا دن چھوڑ کر جمعہ کا دن مقرر کرلیا ہے۔ جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہفتہ کا دن یہودیوں نے اپنی مرضی سے اپنے آپ پر فرض کرلیا ہے اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ملت ابراہیم میں جمعہ کا دن ہی عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس کی وضاحت سرور دو عالم ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ ) [ رواہ مسلم : باب فضل یوم الجمعۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے اس دن آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا اسی دن ان کو جنت میں داخلہ ملا اور جمعہ کو ہی ان کا اخراج ہوا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی۔ “ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ لاَ یَغْتَسِلُ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَیَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُہْرٍ ، وَیَدَّہِنُ مِنْ دُہْنِہِ ، أَوْ یَمَسُّ مِنْ طیبِ بَیْتِہِ ثُمَّ یَخْرُجُ ، فَلاَ یُفَرِّقُ بَیْنَ اثْنَیْنِ ، ثُمَّ یُصَلِّی مَا کُتِبَ لَہُ ، ثُمَّ یُنْصِتُ إِذَا تَکَلَّمَ الإِمَامُ ، إِلاَّ غُفِرَ لَہُ مَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجُمُعَۃِ الأُخْرَی )[ رواہ البخاری : باب الدُّہْنِ لِلْجُمُعَۃِ ] ” حضرت سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور استطاعت کے مطابق پاکیزگی حاصل کرتا ہے، بالوں کو تیل لگاتا ہے اور خوشبو لگاتا ہے، پھر وہ مسجد کی طرف نکلتا ہے اور لوگوں کے درمیان گھس کر نہیں بیٹھتا پھر جس قدر ممکن ہو وہ نماز پڑھتا ہے پھر خاموشی سے امام کا خطبہ سنتا تو اس کے آٹھ دنوں کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ مسائل 1۔ یہودیوں پر ہفتہ کے دن کا احترام لازم کیا گیا تھا۔ 2۔ یہودیوں نے اس کے احترام کا خیال نہ کیا۔ 3۔ اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن ہفتہ کے دن کا احترام نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں پر پھٹکار : 1۔ یہودیوں پر ہفتہ کے دن کا احترام لازم کیا گیا۔ (النحل : 124) 2۔ ہم نے انہیں کہا کہ ہفتہ کے دن زیادتی نہ کرو۔ (النساء : 154) 3۔ یہودی ہفتہ کے دن کا احترام نہیں کیا کرتے تھے۔ ( الاعراف : 163) 4۔ یہودیوں نے ہفتہ کے دن زیادتی کی تو انہیں بندر بنا دیا گیا۔ (البقرۃ : 65)
Ayah 16:125

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

” اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے بہت اچھے طریقے کے ساتھ بحث کرو۔ یقیناً آپ کا رب زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی جاننے والا ہے۔ “ (125)

فہم القرآن ربط کلام : بیشک کسی کا دعویٰ اور موقف کتنا ہی جھوٹا ہو اس کے باوجود اسے دین کی دعوت حکمت کے اور خیر خواہی کے ساتھ دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو طبعًا اور فطرتًا نرم خو اور ہمدرد پیدا فرمایا تھا۔ آپ مشکلات پر صبر کرنے والے، مخالفوں کی مخالفت کا جواب خندہ روئی کے ساتھ دینے والے، اور بدترین دشمن کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے زندگی بھر کسی کو برائی کا جواب برائی سے نہیں دیا آپ کے اعلیٰ اخلاق کی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یوں تعریف کی گئی ہے : ” لوگو ! تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اسے نہایت ہی گراں گزرتی ہے وہ تمہاری کامیابی کی بہت ہی چاہت رکھتا ہے۔ مومنوں کے ساتھ نہایت مہربان اور شفقت کرنے والا ہے۔ “ (التوبۃ : 128) اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو اعلیٰ اخلاق اور بےحساب صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا لیکن اس کے باوجود آپ کو حکم ہوا کہ آپ حکمت، دانائی اور بصیرت کے ساتھ لوگوں کو دین حنیف کی طرف دعوت دیں اگر کسی وقت بحث و تکرار کی نوبت آئے تو اس میں بھی حسن اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں۔ آخر میں فرمایا کہ آپ کا رب خوب جانتا ہے کون اس کے راستے سے بھٹک چکا اور کون ہدایت پانے والوں میں شامل ہے۔ حکمت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ موقعہ محل اور لوگوں کی فکری استعداد کے مطابق بات کی جائے۔ اس کے ساتھ اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ لوگ کس حد تک سننے میں آمادگی رکھتے ہیں۔ بالخصوص مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ وعظ و نصیحت میں یہ بات بھی لازم ہے کہ خطیب کے لب و لہجہ اور انداز میں سنجیدگی، خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ غالب ہو کیونکہ موعظت ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو سامع کے دل پر اثر انداز ہو سکے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ یَتَخَوَّلُنَا بالْمَوْعِظَۃِ فِی الأَیَّامِ ، کَرَاہَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا) [ رواہ البخاری : باب الموعظۃ ساعۃ بعد ساعۃ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ دن ہمیں وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیتے کہ کہیں ہم اکتا نہ جائیں۔ “ (عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ ؓ قَالَ مَآ أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِیْثًا لاَ تَبْلُغُہٗ عُقُولُہُمْ إِلاَّ کَانَ لِبَعْضِہِمْ فِتْنَۃً ) [ رواہ مسلم فی المقدمۃ، باب النَّہْیِ عَنِ الْحَدِیثِ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ] ” حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تم کسی قوم کو ایسی بات نہ کہو جو ان کی سمجھ سے بالا تر ہے جو لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بن جائے۔ “ (قَالَ عَلِیٌّ حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْنَ ، أَتُحِبُّوْنَ أَنْ یُّکَذَّبَ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلمِ ، باب مَنْ خَصَّ بالْعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ ] ” حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو وہ بات کہو جو وہ سمجھتے ہوں کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت حکمت سے دینی چاہیے۔ 2۔ دین کی دعوت دیتے ہوئے نہایت اچھا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن داعی کے لیے ضابطۂ اخلاق : 1۔ اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت سے بلانا چاہیے۔ (النحل : 125) 2۔ فرما دیجیے یہ میرا راستہ ہے میں اس کی طرف بصیرت کے ساتھ بلاتا ہوں۔ (یوسف : 108) 3۔ انہیں آپ کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چاہیے حالانکہ آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے ہیں۔ (الحج : 67) 4۔ جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوں تو آپ ان کی طرف لوگوں کو بلائیں۔ (القصص : 87) 5۔ آپ انہیں دین حق کی طرف بلائیں اور اللہ کے حکم پر قائم رہیں۔ (الشوریٰ : 15) 6۔ حضرت ابراہیم نے دعا کی کہ اے رب ان میں نبی بھیج جو ان کو علم اور عقل کی باتیں سکھلائے۔ ( البقرۃ : 129) 7۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو نبوت اور حکمت عنایت فرمائی۔ ( الجمعہ : 2)
Ayahs 16:126–128

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

” اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور اگر صبر کرو تو یقیناً وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔ “ (126)

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

” اور صبرکیجیے اور نہیں ہے آپ کا صبر مگر اللہ کے لیے اور نہ ان پر غم کرو اور نہ کسی تنگی میں مبتلا ہو، اس سے جو وہ سازشیں کرتے ہیں۔ “ (127)

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

یقیناً اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور ان لوگوں کے جو نیکی کرنے والے ہیں۔ “ (128)

فہم القرآن ربط کلام : مبلغ کو ہر حال میں حکمت اور حوصلہ سے کام لینا چاہیے اگر وہ انتہائی ظلم پر صبر و حوصلہ نہیں کرسکتا تو اسے ظلم سے بڑھ کر بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔ مفسرین کا خیال ہے سورة النحل کی آخری تین آیات مدنی دور میں نازل ہوئیں جبکہ باقی پوری کی پوری سورة مکی دور میں نازل ہوئی تھی۔ آخری آیات کا شان نزول بیان کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ احد کے موقع پر انصار کے چونسٹھ اور مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوئے تھے۔ ان میں سید الشّہداء حضرت حمزہ ؓ بھی شہید ہوئے تھے۔ جن کے جسد اطہر کی بےحرمتی کرتے ہوئے کفار نے ان کے کان، ہونٹ، ناک کاٹنے کے ساتھ آنکھیں نکال دیں جس پر مسلمانوں نے ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا جب ہمیں کفار پر غلبہ ہوا تو ہم بھی ان کی لاشوں کا مثلہ کریں گے۔ اس پر مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر تم بدلہ لینا چاہو تو پھر اتنا ہی بدلہ لے سکتے ہو جتنا تم پر ظلم کیا گیا ہے۔ البتہ صبر کرو گے تو صبر کرنے والوں کے لیے یہ نہایت ہی بہتر بات ہے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مبلغ پر ظلم ہو تو وہ ظلم کا بدلہ لے سکتا ہے لیکن تبلیغ کے میدان میں اگر مبلغ صبر سے کام لے تو یہ بات نہایت ہی مفید ثابت ہوتی ہے۔ جس کی تاریخ اسلام میں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سروردوعالم ﷺ کو پہاڑ سے بڑھ کر استقامت، سمندر سے زیادہ کشادہ دلی اور زمین سے بڑھ کر وسعت ظرفی اور صبر و ہمت کی توفیق عنایت فرمائی تھی۔ لیکن ایک انسان ہونے کے ناطے کبھی کبھار آپ کا دل بھرجاتا اور یہ بات سوچنے پر مجبور ہوجاتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میں ان کی دنیا کی بھلائی اور آخرت کی بہتری کے لیے ہر چیز قربان کیے ہوئے ہوں۔ مگر لوگ میری خیر خواہی کا جواب ظلم اور بدکلامی کے ساتھ دے رہے ہیں۔ اس پر آپ کا دل پریشان ہوتا اور آپ کا سینہ پسیج جاتا تھا، جس پر آپ کو تسلی دی گئی کہ اے رسول ﷺ ! آپ کو ان لوگوں کے مکر و فریب، زیادتی اور بدکلامی پر زیادہ پریشان اور غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ہر حال میں اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اچھے اعمال اور دوسروں کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ طائف میں آنحضرت ﷺ وعظ اور تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ وہاں کے باشندوں نے حضور ﷺ پر کیچڑ پھینکا۔ آوازے لگائے، اتنے پتھر مارے کہ حضور لہو سے تر بہ تر اور بےہوش ہوگئے۔ پھر بھی یہی فرمایا کہ میں ان لوگوں کی ہلاکت نہیں چاہتا۔ کیوں کہ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو امید ہے کہ ان کی اولاد مسلمان ہوجائے گی۔ (رحمۃ اللعالمین) مسائل 1۔ صبر اللہ کی توفیق سے حاصل ہوتا ہے۔ 2۔ آپ ﷺ کو کفار پر غم نہ کرنے کی تلقین کی گئی۔ 3۔ کسی کی چالوں سے تنگ دل نہیں ہونا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ صبر اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے : 1۔ یقیناً اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (النحل : 128) 2۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 3۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 194) 4۔ اگر لوگ ایمان لائیں اور تقوی اختیار کریں تو اللہ کے ہاں ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ (البقرۃ : 103) 5۔ تقوی اختیار کرنے والوں اور نیکی کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے۔ (المائدۃ : 93) 6۔ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو نجات عطا فرماتا ہے۔ (الزمر : 61)