Ayah 16:56فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرک اللہ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ اس بنا پر اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے فلاں مزار یا بت کے لیے نذرانہ پیش نہ کیا تو وہ میرا رزق کم کر دے گا۔ اس لیے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کے ساتھ مزارات کے نام پر بھی صدقہ کرتے ہیں تاکہ مدفون بزرگ خوش ہو کر ہمارے رزق میں اضافہ کریں۔
مشرک کا عقیدہ ہوتا ہے کہ جو کچھ مجھے ملا اور مل رہا ہے یہ بزرگوں کی طفیل اور انکی حرمت کے واسطے مل رہا ہے۔ بت پرست بتوں کی طفیل اور واسطے سے اور قبر پرست صاحب قبر کی طفیل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی بت یا صاحب قبر کی طفیل نہیں دیتا۔ وہ انسان کو براہ راست وہی کچھ دیتا ہے جو اس نے اس کے مقدر میں لکھ رکھا ہے۔ اس کی عطا نہ کوئی روک سکتا ہے (فاطر : 2) اور نہ ہی اس میں کمی وبیشی کرسکتا ہے۔ اگر انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے تو نہ صرف اس میں استغناپیدا ہوتی ہے بلکہ وہ یہ سوچ کر حرام کھانے سے بچ جاتا ہے کہ جو کچھ منعم حقیقی نے میرے مقدر میں لکھ چھوڑا ہے اس میں کوئی زندہ اور مردہ کمی وبیشی نہیں کرسکتا۔
رسول اکرم ﷺ ہر نماز کے بعد دعا کرتے تھے کہ الٰہی جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے تو روک لے اسے کوئی عطا نہیں کرسکتا۔
(عَنِ الْمُغِےْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ (لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ )[ رواہ البخاری : باب الذکر بعد الصلوۃ ]
” حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ذکر کرتے ہیں نبی کریم ﷺ فرض نماز کے بعد اکثر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے۔ صرف ایک اللہ ہی معبود حق ہے۔ اس کا کسی لحاظ سے کوئی شریک نہیں۔ اس کی حکمرانی ہے ‘ وہی تعریفات کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ الٰہی جسے تو کوئی چیز عنایت فرمائے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو چیز تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ تیری بڑائی کے مقابلے میں کسی بڑے کی بڑائی نہیں چلتی۔ “
اس حقیقت کے باوجود مشرک یہ سمجھتا ہے کہ بت یا فوت شدہ بزرگ میرے رزق میں کمی وبیشی کرسکتے ہیں۔ اس بنا پر وہ بتوں اور مزارات پر جا کر چڑھاوے چڑھاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قدر سنگین جرم ہے کہ جس کے بارے میں رب ذوالجلال نے اپنی ذات کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے یہ جھوٹا عقیدہ بنا رکھا ہے قیامت کے روز میں انہیں ضرور پوچھوں گا۔
(عَنْ طَارِقِ بْنِ شَہَابٍ ؓ أنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ دَخَلَ الْجَنَّۃَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ ، وَدَخَلَ النَّارَ رَجُلٌ فِیْ ذُبَابٍ قَالُوْا وَکَیْفَ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ مَرَّ رَجُلَانِ عَلٰی قَوْمٍ لَہُمْ صَنَمٌ لَا یَجُوْزُہٗ أحَدٌ حَتّٰی یُقَرِّبَ لَہٗ شَیْءًا، فَقَالُوْا لأحَدِہِمَا قَرِّبْ ، قَالَ لَیْسَ عِنْدِیْ شَیْءٌ أُقَرِّبُ ، قَالُوْا لَہٗ قَرِّبْ وَلَوْ ذُبَابًا، فَقَرَّبَ ذُبَابًا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہٗ ، فَدَخَلَ النَّارَوَقَالُوْا للآخَرِقَرِّبْ ، قَالَ مَا کُنْتُ لأُقَرِّبَ لأَحَدٍ شَیْءًا دُوْنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَضَرَبُوْا عُنَقَہٗ ، فَدَخَلَ الْجَنَّۃَ )[ رواہ أحمد ]
” حضرت طارق بن شہاب ؓ بیان کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی مکھی کا نذرانہ کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا اور دوسر امکھی کے نذرانہ کی وجہ سے جہنم میں۔ صحابہ ؓ نے عرض کی اللہ کے رسول ! وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا دو آدمی ایک بت پرست قوم کے پاس سے گزرے وہ کسی کو بتوں کے نام نذرانہ دیے بغیر گزرنے نہیں دیتے تھے۔ انھوں نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا نذرانہ دو ۔ اس نے کہا میرے پاس نذرانے کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا ایک مکھی کا ہی نذرانہ دے دو ۔ تو اس نے ایک مکھی کا نذرانہ دے دیا جس سے انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ اس وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوا۔ انہوں نے دوسرے سے بھی نذرانہ دینے کے لیے کہا۔ اس نے جواب دیا میں اللہ کے سوا کسی کے لیے نذرانہ نہیں دوں گا۔ انہوں نے اس کی گردن کاٹ ڈالی تو وہ جنت میں داخل ہوا۔ “
مسائل
1۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزوں میں غیر اللہ کا حصہ مقرر کرتے ہیں۔
2۔ قیامت والے دن مشرکین سے ضرور باز پرس ہوگی۔
تفسیر بالقرآن
مشرک اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں غیر اللہ کا حصہ مقرر کرتے ہیں :
1۔ جن کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں ان کا حصہ مقرر کرتے ہیں ان چیزوں میں جو ہم نے انہیں دی ہیں۔ (النحل : 56)
2۔ اور انہوں نے کھیتی اور چوپاؤں میں سے کچھ حصہ اللہ کا ٹھہرا رکھا ہے اور کچھ حصہ اپنے شرکا کا مقرر کر رکھا ہے۔ (الانعام : 136)
Ayahs 16:57–60فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں دوسروں کو شریک کرنے کے ساتھ بعض مشرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے کئی قسم کا شرک کرتے ہیں۔ مشرکین کا ایک شرک یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں دوسروں کو شریک بناتے ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو وحدہ، لاشریک سمجھنے کے بجائے اس کی بیوی اور اولاد ثابت کرتے ہیں۔ جس طرح یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت مریم اللہ کی بیوی ہے۔ کچھ عیسائی یہ بھی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ذات کے جزو ہیں۔ تینوں کے ملنے سے خدا کی ذات مکمل ہوتی ہے۔
افسوس ! مسلمانوں میں کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے نور میں سے نور ہیں۔ اسی طرح چائنہ، جاپان اور دنیا کے کسی ممالک میں کچھ لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے اور تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جو اس کے نور سے پیدا ہوئی ہیں۔ جس کی قرآن مجید نے عقلی اور فطری حوالے سے یہ کہہ کر تردید کی ہے کہ یہ لوگ کس قدر ناعاقبت اندیش ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کر رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی حاجت نہیں اور وہ شرک سے پاک ہے۔ یہ لوگ کس قدر عقل سے عاری ہیں کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہو تو اس پر انہیں مبارک اور خوشخبری دی جائے تو ان کے چہرے سیاہ اور غمزدہ ہوجاتے ہیں اس خوشخبری کو اپنے لیے ذلت اور عار سمجھتے ہیں۔ اس ذلت کی وجہ سے سوچتے ہیں کہ بیٹی کود زندہ رہنے دیں یا زمین میں گاڑ دیں۔ غور کریں کہ یہ کس قدر برا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہاں پہلی بات یہ سمجھائی گئی ہے کہ بیٹی کو اس لیے ذلت سمجھنا کہ وہ کمانے کی بجائے صرف کھانے کے لیے پیدا ہوتی ہے یا اس کی وجہ سے دوسرا شخص اس کا داماد بن جائے گا۔ یہ سوچ کر بیٹی کو برا سمجھنا یا اسے زندہ درگور کردینا بدترین فیصلہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ انسان اپنے لیے بیٹے پسند کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرے گویا کہ یہ سوچ اخلاقی اور اعتقادی طور پر بدترین سوچ اور نظریہ ہے۔
مسائل
1۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی افترا بازی سے پاک ہے۔
3۔ مشرکین کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ اولاد سے مبرّا اور پاک ہے :
1۔ مشرکین اللہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں حالانکہ اللہ اولاد سے پاک ہے۔ (النحل : 57)
2۔ ان سے پوچھیں کہ کیا تمہارے لیے بیٹے اور اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں ؟ (الصٰفٰت : 149)
3۔ کیا اللہ کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں ؟ (الطور : 39)
4۔ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے۔ (الزخرف : 16)
Ayah 16:61فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنا اور فرشتوں کو اس کی بیٹیاں قرار دینا بدترین ظلم ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ظالموں کی فی الفور گرفت نہیں کرتا۔
کفار، مشرک اور مجرم پیشہ لوگوں کو جب ان کے کفرو شرک اور ان کے مظالم کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ اپنے آپ کو سچاثابت کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دیتے ہیں۔ کہ اگر اللہ کو ہمارے عقائد اور اعمال اتنے ہی ناپسند ہیں تو پھر وہ ہماری گرفت کیوں نہیں کرتا ؟ بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ آخر کوئی سبب تو ہے جس کی بنا پر کفر و شرک اور جرائم کے مرتکب لوگوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ایسا نہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور گرفت سے باہر ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مقرر کردہ مدت کی وجہ سے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے۔ اگر لوگوں کے جرائم اور ان کی عجلت بازی کی و جہ سے اللہ تعالیٰ پکڑنا چاہے تو مجرم تو درکنار کوئی جاندار چیز بھی زمین پر باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مقرر کردہ مدت کے مطابق انہیں ڈھیل دیے ہوئے ہے۔ جب اس کی گرفت کا وقت آپہنچے گا تو وہ ایک لمحہ بھی آگے پیچھے نہیں ہو سکے گا۔
(عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ ؓ قَالَ مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ بِجَنَازَۃٍ قَالَ مُسْتَرِیْحٌ وَّمُسْتَرَاحُ مِنْہُ قَالُوْا یَا رَسُول اللّٰہِ ! مَا الْمُسْتَرِیْحُ والْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ قَالَ الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَآ إِلٰی رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْہُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَّابُّ )[ رواہ أحمد ]
” حضرت ابی قتادہ بن ربعی بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ نے فرمایا آرام پا گیا اور اس سے آرام پا گئے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آرام پا گیا اور آرام پا گئے، سے کیا مراد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے نجات پا کر اللہ کی رحمت کا حق دار بن گیا اور فاسق و فاجر سے لوگ، شہر، درخت اور چوپائے آرام پا گئے۔ “
Ayahs 16:62–63فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ کافر، مشرک اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ کافر، مشرک اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنے عقائد اور جرائم سے توبہ کرتے۔ لیکن یہ لوگ اس مدت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے بجائے اس قدر دلیر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ جو سراسر زیادتی اور جھوٹ ہے۔ اس زیادتی اور کذب بیانی کے باوجود یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کے اسباب و وسائل دے رکھے ہیں۔ اسی طرح آخرت میں بھی ہمیں سب کچھ مل جائے گا۔ گویا کہ دنیا میں بھی ہم ایمانداروں سے بہتر ہیں اور آخرت میں بھی ان سے بہتر ہوں گے۔ یہ ایسی دیدہ دلیری اور لاف زنی ہے، جس کی سزادہکتی ہوئی آگ ہے، جس میں انہیں دھکیلا جائے گا۔ مزید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی ذات کبریا کی قسم اٹھا کر فرماتا ہے کہ اے رسول ! ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے۔ جن کے ساتھ کفار، مشرکین اور مجرم لوگوں نے یہی وطیرہ اختیار کیا۔ جس کی وجہ یہ ہے شیطان ان کے نظریات اور کردار کو ان کے لیے خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔ ان لوگوں کا شیطان ہی ولی اور سرپرست ہے جو انہیں ایسی باتیں بتلاتا ہے۔ اس پاداش میں انہیں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
مسائل
1۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کے ذمہ وہ باتیں اور چیزیں لگاتے ہیں۔ جنہیں اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔
2۔ مشرکین جھوٹ بولتے ہیں۔
3۔ مشرکین کے لیے خیر نہیں بلکہ ان کے لیے آگ ہے۔
4۔ شیطان انسان کو اس کے غلط اعمال خوشنما کر کے پیش کرتا ہے۔
5۔ شیطان کے پیروکاروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والوں کا انجام :
1۔ ان کی زبانیں جھوٹ کہتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے حالانکہ ان کے لیے آگ ہے۔ (النحل : 62)
2۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ظالم ہیں۔ (آل عمران : 94)
3۔ اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ (الانعام : 21)
4۔ جھوٹ باندھنے والے نقصان اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : 61)
5۔ قیامت کے دن جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہوگی۔ (ھود : 18)
6۔ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور اسکی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ (الانعام : 93)
7۔ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر افتراء بازی کرتا ہے اور اس کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ یقیناً مجر م فلاح نہیں پائیں گے۔ (یونس : 17)
8۔ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے، کیا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم نہیں ہے ؟ (العنکبوت : 68)
Ayah 16:64فہم القرآن
ربط کلام : بیشک مشرکوں کے بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے ان پر شیطان مسلّط ہوچکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ لوگوں کو سمجھاتے رہیں۔
منصب نبّوت کی ذمہ داریوں میں آپ ﷺ کی پہلی ذمہ داری یہ تھی کہ آپ لوگوں کو اللہ کا قرآن سنائیں اور سمجھائیں۔ بیشک اس کے مقابلے میں کتنی ہی مشکلات برداشت کرنا پڑیں۔ بالخصوص عقیدۂ توحید اور ان مسائل کو کھول کر بیان کریں جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں۔ جو لوگ اخلاص نیت سے توحید سمجھنے اور دینی مسائل جاننے کی کوشش کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے ضرور ہدایت عنایت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا گیا جو اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں۔
مسائل
1۔ رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی۔ 2۔ قرآن مجید کو لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرنا چاہیے۔
3۔ ایمان والوں کے لیے کتاب اللہ با عث ہدایت اور رحمت ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف حمیدہ کا ایک منظر :
1۔ قرآن مجید ایمان والوں کے لیے باعث ہدایت و رحمت ہے۔ (النحل : 64)
2۔ قرآن مجید شک و شبہ سے بالا تر کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 3۔ قرآن کریم برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 185)
4۔ قرآن حمید کے نزول کا مقصد لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانا ہے۔ (ابراہیم : 1)
5۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے واضح کتاب ہے۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185)
6۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے باعث رحمت اور شفا ہے۔ (بنی اسرائیل : 82)
Ayah 16:65فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی زندگی اور دنیا کی بقا کے لیے پانی اس کی بقا کا ضامن ہے۔ اسی طرح انسان کی روحانی اور ایمانی زندگی کے لیے قرآن مجید تریاق اور آب حیات ہے۔
انسان کی روحانی اور ایمانی زندگی کا انحصار آسمانی وحی پر ہے آخری وحی قرآن مجید کی شکل میں نازل کی گئی ہے۔ اس کے بغیر انسان کی روح اور اس کا ایمان صحت مند اور توانا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کی مادی زندگی کی بنیاد پانی پر رکھی گئی ہے۔
(أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ )[ الانبیاء : 30]
” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ زمین و آسمان آپس میں ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ “
آبیات (ہائیڈرولوجی):
آج ہم جس تصور کو ” آبی چکر “ (واٹر سائیکل) کے نام سے جانتے ہیں اسے پہلے پہل 1580 ء میں برنارڈ پیلیسی نامی ایک شخص نے پیش کیا۔ اس نے بتایا کہ سمندروں سے کس طرح پانی تبخیر ( Evaporation) ہوتا ہے اور کس طرح وہ سرد ہو کر بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ بادل خشکی پر آگے کی طرف بڑھتے ہیں، بلند تر ہوتے ہیں، ان میں پانی کی تکثیف (Condensation) ہوتی ہے اور بارش برستی ہے۔ یہ پانی جھیلوں، جھرنوں، ندیوں اور دریاؤں کی شکل میں آتا ہے اور بہتا ہوا واپس سمندر میں چلا جاتا ہے اس طرح پانی کا یہ چکر جاری رہتا ہے۔ ساتویں صدی قبل از مسیح میں تھیلز نامی ایک یونانی فلسفی کو یقین تھا کہ سطح سمندر پر باریک باریک آبی قطروں کی پھوار (اسپرے) پیدا ہوتی ہے۔ ہوا اسی پھوار کو اٹھا لیتی ہے اور خشکی کے دور افتادہ علاقوں پر لے جا کر بارش کی صورت میں برساتی ہے۔
پرانے وقتوں میں لوگ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ زیر زمین پانی کا ماخذ کیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہوا کی زبردست قوت کے زیر اثر سمندر کا پانی براعظموں (خشکی) میں اندرونی حصوں تک داخل ہوتا ہے۔ انہیں یہ یقین بھی تھا کہ پانی ایک خفیہ راستے یا ” عظیم تاریکی “ (Great Abyss) سے آتا ہے، سمندر سے ملا ہوا یہ تصوراتی راستہ افلاطون کے زمانے سے میں ” ٹارٹارس “ کہلاتا تھا، حتی کہ اٹھارہویں صدی کے عظیم مفکر، ڈیکارتے (dEsvarts) نے بھی انہیں خیالات سے اتفاق کیا ہے۔
انیسویں صدی عیسوی تک ارسطو کا نظریہ ہی زیادہ مقبول و معروف رہا۔ اس نظریے کے مطابق، پہاڑوں کے سرد غاروں میں پانی تکثیف (Condensation) ہوتی ہے اور وہ زیر زمین جھیلیں بناتا ہے جو چشموں کا باعث بنتی ہیں۔ آج ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ بارش کا پانی زمین پر موجود دراڑوں کے راستے رِس رِس کر زیر زمین پہنچتا ہے اس سے چشمے بنتے ہیں۔ درج ذیل آیات قرآنی میں اس نکتے کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی مختلف قسمیں ہیں۔ “ [ الزمر : 21]
” آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ “ [ الروم : 24]” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرادیا، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں۔ “ [ المؤمنون : 18]” قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔ “ [ الطارق : 11]
(وَأَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَسْقَیْنَاکُمُوْہُ )[ الحجر : 22]
” اور ہم ہی ہواؤں کو بارآور بناکر چلاتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے اور تم کو اس سے سیراب کرتے ہیں۔ “
یہاں عربی لفظ ” لواقح “ استعمال کیا گیا ہے، جو ” لاقح “ کی جمع ہے اور ” لاقحہ “ سے مشتق ہے، جس کا مطلب ” بارآور “ کرنا یا ” بھردینا “ ہے، اسی سیاق وسباق میں بار سے مراد یہ ہے کہ ہوا، بادلوں کو (ایک دوسرے کے) قریب دھکیلتی ہے جس کی وجہ سے ان پر تکثیف کا عمل بڑھتا ہے جس کا نتیجہ بجلی چمکنے اور بارش ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح کی توضیحات، قرآن پاک کی دیگرآیات مبارکہ میں بھی موجود ہے۔ (از : خطبات ڈاکٹر ذاکر نائیکْ
” کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے اور پھر اس کے ٹکروں کو باہم جوڑتا ہے پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچالیتا ہے اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔ “ [ النور : 43]
” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکریوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے بھیجتا تو یکایک وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ “ [ الروم : 48]
Ayah 16:66فہم القرآن
ربط کلام : حیوانات اور نباتات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے خالق، رازق ہونے کے ناقابل تردید دلائل۔
دوران خون (بلڈ سرکولیشن) اور دودھ :
قرآن پاک کا نزول، دوران خون کی وضاحت کرنے والے اولین مسلمان سائنس دان ابن نفیس سے 600 سال پہلے اور اس دریافت کو مغرب میں روشناس کروایا تھا۔ تقریباً تیرہ صدیاں پہلے یہ معلوم ہوا کہ آنتوں کے اندر ایسا کیا کچھ ہوتا ہے جو نظام ہاضمہ میں انجام پانے والے افعال کے ذریعے دیگر جسمانی اعضا کی نشوونما کی ضمانت فراہم کرتا ہے قرآن پاک کی ایک آیت مبارک، جو دودھ کے اجزاء کے ماخذ کی وضاحت کرتی ہے، اس تصور کے عین مطابق ہے۔
مذکورہ بالاتصور کے حوالے سے آیت قرآنی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ آنتوں میں کیمیائی تعاملات واقع ہوتے ہیں اور یہ آنتوں ہی سے ہضم کردہ غذا سے اخذ کیے ہوئے مادے ایک پیچیدہ نظام سے گزر کر دوران خون میں شامل ہوتے ہیں۔ کبھی وہ مادے جگر سے ہو کر گزرتے ہیں جس کا انحصار ان کی کیمیائی ترکیب پر ہوتا ہے۔ خون ان اجزاء (مادوں) کو تمام اعضا تک پہنچاتا ہے جن میں دودھ پیدا کرنے والے (چھاتیوں کے) غدود بھی شامل ہیں۔
سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنتوں میں موجود غذا کے بعض مادے آنتوں کی دیوار سے سرایت کرتے ہوئے خون کی نالیوں (vEssEls) میں داخل ہوجاتے ہیں، اور پھر خون کے راستے یہ دوران خون کے ذریعے کئی اعضا تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ فعلیاتی تصور ہماری سمجھ میں آجائے گا اگر ہم قرآن پاک کی درج ذیل آیات مبارکہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے :
(وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِمَّا فِیْ بُطُونِہٖ مِنٌ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَآءِغًا للشَّارِبِیْنَ )[ النحل : 66]
” اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں، یعنی خالص دودھ، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔ “
(وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْأَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِیْ بُطُوْنِہَا وَلَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ کَثِیْرَۃٌ وَمِنْہَا تَأْکُلُوْنَ )[ المومنون : 21]
” اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ( دودھ) ہم تمہیں پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں بہت فوائد ہیں۔ ان کو تم کھاتے ہو۔ “
1400 سال قبل، قرآن پاک کی فراہم کردہ یہ وضاحت جو گائے میں دودھ کے پیدا ہونے کے حوالے سے ہے، حیرت انگیز طور پر جدید معلومات سے بھر پور انداز میں ہم آہنگ ہے جس نے اس حقیقت کو حال ہی میں دریافت کیا۔ (قرآن اور سائنس : ازخطبات ڈاکٹر ذاکر نائیک)
مسائل
1۔ چوپائے انسان کے لیے باعث عبرت ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ خون اور گوبر کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کرتا ہے۔
3۔ پینے والوں کے لیے دودھ انتہائی مزے دار ہے۔
تفسیر بالقرآن
دودھ کی حقیقت اور چوپاؤں کے فوائد :
1۔ ہم ان کے پیٹوں سے تمہیں خالص دودھ پلاتے ہیں۔ (النحل : 66)
2۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا فرمائے تاکہ تم ان پر سواری کرسکو اور کھا سکو۔ (المومن : 79)
3۔ چوپاؤں کو پیدا کیا جن کے ذریعے تم سردی سے بچتے ہو اور دیگر فوائد حاصل کرتے ہو۔ (النحل : 5)
4۔ تمہارے لیے چوپاؤں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جنہیں تم نقل مکانی اور قیام دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ (النحل : 80)
5۔ تمہارے لیے چوپاؤں میں عبرت ہے کہ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فوائد ہیں اور انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو۔ (المومنون : 21)
Ayah 16:67فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی قدرت کے مزید دلائل بشرطیکہ لوگ عقل و فکر سے کام لیں۔
معزز قاری کی سہولت کے لیے انگور کے بارے میں فہم القرآن جلد دوم کی معلومات درج کی جاتی ہیں۔
انگور :
قرآنی نام :
عِنَبٌ، اَعْنَابٌ (جمع)
دیگر نام :
Grape (انگریزی) ، فرشک، انگور (فارسی) ، عنب (عربی ) ، انگور (اردو، فارسی)
قرآن مجید میں انگور کا تذکرہ :
1۔ البقرۃ، آیت : 266 2۔ الانعام، آیت : 100 3۔ الرعد، آیت : 4
4۔ النحل، آیت : 11 5۔ النحل، آیت : 67 6۔ بنی اسرائیل، آیت : 91
7۔ الکہف، آیت : 32 8۔ المؤمنون، آیت : 19 9۔ یٰس ٓ، آیت : 34
10۔ النباء، آیت : 31۔ 32 11۔ عبس، آیت : 27۔ 28
انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اس کا ذکر عنب اور اعناب (جمع) کے نام سے مندرجہ بالا گیارہ آیات میں کیا گیا ہے۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیے فہم القرآن جلد۔ 2 صفحہ۔ 403)
Ayahs 16:68–69فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مکھی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی رزاقی اور خلاقی کے دلائل۔
مکھیاں، کیڑے، مکوڑے دیوانہ وار منڈلاتے پھولوں کا طواف کرنے کے ساتھ ساتھ ” Polination “ کا وہ عمل کرتے ہیں جو سب انسان مل کر بھی نہیں کرسکتے۔ ارشاد ربانی ہے :
” تیرے رب نے شہد کی مکھی کو پیغام بھیجا کہ پہاڑوں، درختوں اور بیلوں میں اپنا گھر بنا۔ تمام پھلوں سے رس حاصل کر اور اپنے رب کے دیے ہوئے دستور عمل کو باقاعدگی سے نبھا اور دیکھو تو سہی اس (شہد کی) مکھی کے پیٹ سے رطوبت نکلتی ہے۔ جس کے رنگ طرح طرح کے ہوتے ہیں اور جس میں امراض کی شفا ہے۔ مکھی کے ان اعمال میں ان لوگوں کے لیے اسباق موجود ہیں جو صحیفۂ فطرت میں غور کرتے ہیں۔ “ (النحل : 68۔ 69)
مکھیوں کی بارہ ہزار لگ بھگ اقسام ہیں۔ جو ماہرین کے مطابق ” Apridea “ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
شہد کی مکھیاں اپنے رب کی وحی (پیغام) کے مطابق چلتی ہیں۔ ان کو اپنے رب کے بتائے ہوئے دستور عمل کا علم ہے شہد کی مکھیاں گندگی اور نجاست کے نزدیک تک نہیں جاتیں۔ یہ پھولوں اور پھلوں سے رس ” Nectar “ حاصل کرتی ہیں جسے طرح طرح کے عمل کے بعد خالص شہد میں تبدیل کرتی ہیں۔ جرمن سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ان مکھیوں سے وہی مادہ نکلتا ہے جسے ” Royal Jelly “ کہتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں تین طرح کی ہوتی ہیں جن میں ملکہ، کارکن، شہد کی تلاش میں پھولوں، پھلوں تک جانے والیاں اور مادہ مکھیاں یہ چھتوں میں محصور ہوتی ہیں۔
ایک چھتے میں بیس ہزار سے بھی زیادہ شہد کی مکھیاں ہوسکتی ہیں۔ جبکہ ملکہ صرف ایک ہوتی ہے۔ ملکہ ہر روز تقریباً ایک ہزار انڈے دیتی ہے۔ عام مکھی کی عمر تقریباً 45 دن کے لگ بھگ ہوتی ہے جبکہ ملائکہ کی عمر ایک سال کے قریب ہوتی ہے۔ شہد کی مکھیاں ملکہ کے ساتھ کنیزوں کی طرح رہتی ہیں۔ آیا مکھیاں ملکہ کے دیے ہوئے انڈوں والے خانوں کو ” Royal Jelly “ اور زرِ گل ” Pollen Grains “ سے بھر کر موم سے بند کردیتی ہیں اور پھر اس بند کمرے میں انڈے سے بالغ مکھی تک کے مراحل طے ہوتے ہیں۔
ملکہ مکھی کی غذا عام مکھیوں کے مقابلے میں بہت اچھی ہوتی ہے۔ اسے ” Royal Jelly “ ہمیشہ ملتی رہتی ہے۔
شہد کی مکھیاں عام طور پر قطرہ قطرہ کرکے سال میں پانچ سو کلو گرام رس ” Nectar “ حاصل کرتی ہے۔ چھتے میں شش کونے ” Hexagonal “ خانے اس ترتیب اور تناسب سے بنتے ہیں کہ عقل مکھیوں کی ” designing “ اور انجینئرنگ پر دنگ رہ جاتی ہے۔ مکھیاں موم بناتی ہیں جس سے چھتے کی تعمیر ہوتی ہے۔ کچھ مکھیاں چھتے کی صفائی اور ” Keeping House “ پر مامورہوتی ہیں۔ کارکن مکھیاں محنت مزدوری اور پھلوں، پھولوں سے رس اور زرِ گل لاتی ہیں جبکہ گھریلو مکھیاں خاتون خانہ کی طرح امور خانہ داری سنبھالتی ہیں۔
مکھیاں 120 سے لے کر 50 ڈگری فارن ہیٹ درجہ حرارت تک بآسانی اپنا کام انجام دیتی ہیں۔ چھتے میں درجہ حرارت 92 ڈگری فارن ہیٹ تک رکھتی ہیں۔ اگر ہنگامی طور پر موم کی زیادہ ضرورت ہو تو کچھ مکھیاں خود کو اذیّت میں ڈال کر الٹی لٹک جاتی ہیں۔ یوں موم سے تھیلیاں بھر کر نذر آشیاں کردیتی ہیں۔ یہ ایثار و قربانی کی عمدہ مثال ہے۔
ناکارہ اور کاہل مکھیوں کو نہ صرف چھتے سے نکال باہر کرتی ہیں بلکہ جان سے ختم کردیتی ہیں۔
مکھیوں کے چار پر اور دو آنکھیں ہوتی ہیں جو ساڑھے تین ہزار ننھی ننھی آنکھوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ آنکھوں کے علاوہ مکھیوں کو دو نہایت عمدہ اینٹینے ملے ہوتے ہیں۔ جو خوشبو کو خوب پہچانتی ہیں۔ مکھی کی پچھلی دونوں ٹانگوں پر باریک باریک بال ہوتے ہیں جو زرِ گل جمع کرنے میں کام آتے ہیں۔
اللہ کی قدرت دیکھیے کہ شہد کی مکھیاں انسانی آنکھ سے بڑھ کر ” Ultra Voilet “ شعاعوں کو بھی اولاد نرینہ کی طرح پہچانتی ہیں سائنسدان مکھیوں کی اڑان، ان کے طریقہ کار، چھتے تک تیز رفتار سے سفر اور اپنی منزلوں کو پہچاننے جیسے امور پر انگشت بدنداں ہیں۔ کارکن مکھی کو ڈنگ کی قوت بھی ملی ہوتی ہے۔ مگر مکھی اپنا ڈنگ مارنے کے تھوڑی دیر بعد خود بھی مرجاتی ہے۔
شہد کی مکھیوں کے پر ملائم اور ریشم کی طرح ہوتے ہیں یہی وجہ ہے یہ خراب موسم اور بادوباران میں بھی اپنی ” Flight “ جاری رکھ سکتی ہیں۔ پروں کے نیچے نالیوں میں ہوا موجود ہوتی ہے۔ یوں مکھیوں کی ” Aerodynamics “ اور اڑنے کی کارکردگی بہت اچھی رہتی ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال 50, 000, 000 کلو گرام شہد پیدا ہوتا ہے۔ شہد کی مختلف اقسام ہیں۔ اسی طرح ان کے خواص بھی بےحد ہیں۔ شہد کی مکھیاں بذات خود علاج معالجے میں استعمال کی جاتی ہیں۔ قرآن میں جنت کے حوالے سے شہد کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔
شہد کی مکھیوں کے کام کی تقسیم :
ٍ 1۔ مکھیوں کو کھانا کھلانے کا کام۔ 2۔ لاروے کی صفائی۔ 3۔ چھتے میں نئے خانوں کی تعمیر۔ 4۔ ملکہ کی خدمت۔ 5۔ انڈوں کو سنبھالنا اور ان کی دیکھ بھال۔ 6۔ چھتے میں ہوا کی آمد و رفت کا انتظام۔
7۔ پھولوں سے زرگل اور رس کا اکٹھا کرنا۔ 8۔ خوراک کے نئے خزانوں کا پتا لگانا۔
شہد کی مکھیوں کی اہم خصوصیات :
ٍ 1۔ نگران کا مقصد ” Housekeeping “ اور بیماری سے بچاؤ کی تدبیر کرنا ہے یہ چھتے میں صرف دو فیصد ہوتی ہیں۔ بھلا ان کی انفرادی قوت کی یوں تقسیم کون کرسکتا ہے ؟
2۔ مردہ مکھیوں کو ایک گھنٹے کے اندر ہی چھتے سے باہر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے تقریباً 400 فٹ دور پھینکتے ہیں۔
3۔ ایک چھتے میں زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار مکھیاں ہوتی ہیں۔
4۔ چھتے میں تمام مکھیاں مادہ ہوتی ہیں اور ملکہ کی اولاد ہیں۔ جب کہ صرف چند نر مکھیاں جنہیں نکھٹو کہتے ہیں ہوتی ہیں۔ انہیں بھی مادہ مکھیاں مار دیتی ہیں نر مکھیاں کسی کو کاٹ نہیں سکتیں کیونکہ ان میں ڈنگ نہیں ہوتا۔
5۔ ایک مربع فٹ چھتہ بنانے کے لیے مکھیوں کو تین اونس موم کی ضرورت ہوتی ہے۔
6۔ کارکن مکھی کی عمر ایک سے دو ماہ ہوتی ہے۔
گیلن کی مقدار اور مکھی :
7۔ پھولوں کے رس کا ایک گیلن مکھی میں اتنی توانائی پیدا کرتا ہے کہ وہ گیارہ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چالیس لاکھ میل کا سفر طے کرسکتی ہے۔
8۔ چھتے کا درجہ حرارت 93 سے 95 ڈگری فارن ہیٹ رہتا ہے۔ اگر یہ 98 ڈگری فارن ہیٹ ہوجائے تو مکھیاں مرجاتی ہیں۔ مکھیاں اپنے پروں کی حرکت سے یہ درجہ حرارت قائم رکھتی ہیں ایگزاسٹ فین اسی اصول پر کام کرتا ہے۔
9۔ خوراک کی کمی کی صورت میں مل بانٹ کر کھاتے ہیں اس لیے زندہ رہتیں ہیں۔
10۔ ملکہ مکھی کو یعسوب بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی عمر تقریباً دو سال تک ہوتی ہے اس کے مرنے کے بعد اس کی بیٹی ملکہ بن جاتی ہے۔ ملکہ مکھی دن بھر میں 1500 انڈے دیتی ہے اور ساری عمر میں تقریباً دس لاکھ سے زائد انڈے دیتی ہے۔
11۔ مکھیاں آتشی شعاؤں ” Ultra Voilet Rays “ بھی دیکھ سکتی ہیں۔ چناچہ ابر آلود موسم میں بھی ان کو طلوع آفتاب کا علم ہوجاتا ہے اور اپنا کام شروع کردیتی ہیں۔
12۔ یہ زمین کے مقناطیسی نظام کے تحت سفر کرتی ہیں۔ لہٰذا اندھیرے میں بھی یہ راستہ نہیں بھولتیں۔
13۔ چھتے میں ہر خانہ مسدس (چھ دیوار والا) ہوتا ہے۔ اس لیے جگہ بےکار نہیں جاتی۔
14۔ شہد کی کمی ہو تو اس میں پانی ملاتی ہیں۔ 15۔ ہر شہد کی مکھی واپس اپنے ہی چھتے میں آتی ہے۔
مسائل
1۔ شہید کی مکھیاں پھلوں سے رس چوس کر شہد بناتی ہیں۔ 2۔ شہد مختلف اقسام کا ہوتا ہے۔ 3۔ شہد میں شفا ہے۔
Ayah 16:70فہم القرآن
ربط کلام : دودھ اور شہد کی بناوٹ کا ذکر کرنے کے بعد انسان کو اس کی تخلیق اور اس کی زندگی کے مختلف مراحل کا احساس دلایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی پیدائش اور زندگی کے مختلف مراحل کی طرف توجہ دلانے سے پہلے تخلیق کے عجب کرشمے بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو ! ذرا غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے چوپائے کے پیٹ میں خون اور گوبر کے بیچ میں سے کس طرح تمہارے لیے صاف شفاف سفید اور میٹھا دودھ پیدا کیا ہے۔ پھر پھلوں کی طرف دیکھو بالخصوص کھجور اور انگور سے کتنا میٹھا اور عمدہ مشروب تمہارے لیے تیار کیا۔ اگر تھوڑی سی عقل استعمال کرو تو یقیناً اپنے رب پر ایمان لانے کے لیے تیار ہوجاؤ گے۔ مزید سوچو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو کس قدر بصیرت اور رہنمائی سے نوازا ہے کہ دور دراز سے پھلوں کا رس چوس کر تمہارے لیے مختلف رنگ اور ذائقوں کا شہد تیار کرتی ہے۔ غوروفکر کرنے والوں کے لیے مکھی اور اس کے بنائے ہوئے شہد میں کس قدر سبق آموزی کے دلائل ہیں۔ اب اپنے آپ پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کس طرح پیدا فرمایا۔ وہی تمہیں بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمر میں موت دیتا ہے۔ تم میں کچھ لوگ عمر کے اس حصہ میں پہنچ جاتے ہیں جس میں ان کی جسمانی اور دماغی صلاحیتیں اس قدر کمزور ہوجاتی ہیں کہ انہیں گزرے ہوئے اوقات میں سے کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کے مختلف مراحل کا تذکرہ کرنے کے بعد اسے یہ احساس دلانے کی کوشش فرمائی ہے کہ اے انسانو ! اپنی تخلیق کی طرف توجہ کرو۔ تاکہ تمہیں اپنی حقیقت اور حیثیت کا ادراک ہو سکے۔ بالخصوص موت وحیات کے مسئلہ پر غور کرو کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کی مرضی سے پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی موت کسی کے اختیار میں ہے کوئی دوسرا کجا خود انسان اپنی موت وحیات پر ذرّہ برابر اختیار نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ زندہ ہونے کے باوجود زندگی کے اس حصہ یعنی ارزل العمر میں پہنچ جاتا ہے کہ جس میں نہ صرف اسے اپنے گزرے ہوئے ماضی کی کوئی خبر نہیں رہتی بلکہ اس کی یادداشت اور اعضا اس قدر کمزور ہوجاتے ہیں کہ دوسروں کو پہچاننا تو درکنار اسے اپنی اولاد تک کو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اسے پاکی، پلیدی کی خبر نہیں ہوتی۔ ارذل العمر کے عوارض بیان کرنے کے بعد انسان کو احساس دلایا ہے کہ تو جیتے جی سب کچھ بھول گیا ہے۔ مگر تیرا رب تیری زندگی کے ایک ایک لمحے سے واقف ہے۔ لہٰذا تجھے صحت اور خوشحالی میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جس طرح چاہے تیری گرفت کرنے پر قادر ہے۔
(عَنْ سَعْدٍ ؓ اَنَّہٗ کَانَ ےُعَلِّمُ بَنِےْہِ ھٓؤُلَآءِ الْکَلِمٰتِ وَےَقُوْلُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ ےَتَعَوَّذُ بِھِنَّ دُبُرَ الصَّلٰوۃِ اَللّٰھُمَّ انیْْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْےَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ) [ رواہ البخاری : باب یتعوذ من الجبن ]
” حضرت سعد ؓ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات یاد کروایا کرتے تھے۔ سعد کہتے ہیں۔ اللہ کے رسول نماز کے بعدپناہ مانگا کرتے تھے۔” الٰہی میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، الٰہی میں کنجوسی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، الٰہی میں نہایت بےبس زندگی سے پناہ مانگتا ہوں الٰہی میں دنیا کے شر اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ کا طلبگارہوں۔ “
مسائل
1۔ موت وحیات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا، قدرت والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسانی تخلیق کے مختلف مراحل :
1۔ انسان مٹی سے پیدا ہوا۔ (آل عمران : 59)
2۔ حوا آدم سے پیدا ہوئی۔ (النساء : 1)
3۔ اللہ نے انسانوں میں سے ہی ان کی بیویاں بنائیں اور ان سے بچے پیدا فرمائے۔ (النحل : 72)
4۔ اللہ نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الحجر : 27)
5۔ انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا گیا۔ (الدھر : 2)
6۔ تخلیق انسانی کے مختلف مراحل۔ (المؤمنون : 12۔ 13۔ 14)
Ayah 16:71فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ موت وحیات کا مالک ہے اسی طرح وہ انسان کا رزق بڑھانے اور اسے کم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسانوں کی زندگی کے مختلف مراحل مقرر کیے ہیں اسی طرح اس نے لوگوں کے درمیان جسمانی، روحانی اور معاشرتی اعتبار سے امتیازات قائم فرمائے ہیں۔ ایسے ہی اس نے معاشی حوالے سے لوگوں کے درمیان فرق قائم کیا ہے۔ تاکہ لوگ ایک دوسرے کی ضرورت بن کر زندگی بسر کریں۔ ایک شخص زمیندار ہے دوسرا اس کا مزارع، ایک کارخانہ دار ہے دوسرا اس کا ور کر۔ ایک مالدار ہے دوسرا اس کا ملازم گویا کہ معاشی اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک دوسرے پر برتری عنایت فرمائی ہے۔ ملازم کے بغیر مالدار کا کاروبار آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کاریگر اور ور کر کے بغیر فیکٹری کا پہیہ جام ہوجاتا ہے۔ مزارع کے بغیر زمین میں زراعت نہیں ہوسکتی۔ یہی اسباب رزق کی کمی وبیشی کا سبب ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں رزق کے حوالے سے مشرک کو عقیدۂ توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے کہ ایک لینڈ لارڈمزارع کو اور کارخانہ دار ور کر کو اپنے کاروبار اور زمین میں حصہ دار بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ مگر مشرکانہ ذہن رکھنے والے لوگ فطرت سلیم اور انصاف کے اصولوں کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک بناکر شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہاں ان کی مردہ فطرت کو جگانے کے بعد ان سے سوال کیا گیا ہے کہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو اور اپنے ضمیر سے پوچھو۔ کیا تم اپنے غلاموں، نوکروں اور مزارعوں کو اپنے کاروبار میں شریک کرنے کے لیے تیار ہو ؟ یقیناً تم ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ مگر تم خدا کی خدائی میں زندہ اور مردہ یہاں تک کہ بتوں کو شریک بناتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک کرنے کی وجہ سے تمہارے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے تم نہ صرف شرک سے اجتناب نہیں کرتے بلکہ شرکیہ عقیدہ کی خاطر جھگڑتے ہو۔ دراصل تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہو۔ اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقیدۂ توحید ہے جس سے انسان میں خودداری اور اللہ کے سوا باقی سب سے بےنیازی پیدا ہوتی ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے رزق کے لحاظ سے بعض کو بعض پر برتری دی ہے۔
2۔ کوئی مالدار اپنے مال میں کسی کو حصہ دار بنانا پسند نہیں کرتا۔
3۔ اللہ کی نعمتوں کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں :
1۔ کافر اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔ (النحل : 71)
2۔ ہماری آیات کا صرف کافر ہی انکار کرتے ہیں۔ (العنکبوت : 49)
3۔ ظالم لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ (الانعام : 33)
4۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے کا بدلا آخرت میں آگ کا گھر ہے۔ (حم السجدۃ : 28)
5۔ کیا تم باطل کے ساتھ ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہو ؟ (النحل : 72)
6۔ کافر اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں۔ پھر ان کا انکار کرتے ہیں۔ (النحل : 83)
7۔ جو بھی اللہ کی نعمت کو تبدیل کرے اس کے لیے سخت عذاب ہے۔ (البقرۃ : 211)
8۔ قیامت کے دن ہم انہیں فرموش کردیں گے جس طرح وہ قیامت کی ملاقات کو بھول گئے کیونکہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ (الاعراف : 51)
Ayahs 16:72–73فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے بلا شرکت غیرے خالق ہونے کی پانچویں دلیل :
مشرک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور رزق میں تفادت بیان کے بعداب ان کے نفوس کے حوالے سے عقیدۂ توحید سمجھایا جا رہا ہے۔ اللہ وہ خالق ہے جس نے مردوں میں سے ہی ان کی بیویوں کو پیدا فرمایا اور پھر ان کی بیویوں سے بیٹے اور پوتوں کا سلسلہ جاری کیا۔ وہی تمہیں پاک چیزوں سے روزی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ باطل معبودوں پر ایمان لاتے ہیں۔ حقیقت میں مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اس آیت مبارکہ میں دو باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں سے ان کی بیویوں کو پیدا فرمایا جسے قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے۔” اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان ( آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا پھر آدم سے ہی اس کی بیوی کو پیدا فرمایا پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داری میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ “ (سورۃ النساء : 1)
حضرت آدم (علیہ السلام) کا ذکر فرماکر یہاں تمام لوگوں کی تخلیق بیان کی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ ” ہم نے تم سے تمہاری بیویوں کو پیدا کیا ہے۔ “ جس کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ وہ تمہاری جنس سے تعلق رکھتی ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ لینے کی گنجائش بھی نکلتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک ہی مٹی سے پیدا کیا ہو۔ (الروم : 21)
2۔ اللہ تعالیٰ ہی میاں بیوی کے ملاپ کے بعد بیٹے دیتا ہے اور کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں پوتوں کی خوشیاں بھی دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔ اس بات سے یہ حقیقت عیاں کرنا مقصود ہے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ ہی تمہیں بیویاں اور اولاد عطا فرماتا ہے۔ اور وہی پاک چیزوں سے تمہاری روزی کا بندوبست کرتا ہے۔ اس کے باوجود مشرک اپنے معبودوں کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مثالیں دیتے ہیں۔ لیکن تم اس کی نعمتوں کا شکر یہ ادا کرنے کے بجائے اس کے ساتھ دوسروں کو حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے اور عبادت کے لائق جانتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہیں رزق کا ایک دانہ بھی مہیا نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی کسی کی حاجت پوری کرنے کے قابل اور مشکل حل کرسکتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے لیکن تم نہیں جانتے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کی نسل سے ہی عورت پیدا کی ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔
3۔ مشرک اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں اور مدفون بزرگوں کی مثالیں بیان نہیں کرنی چاہییں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کے رزق کا مالک نہیں :
1۔ اللہ کے سوامشرک ان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمان و زمین سے رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ (النحل : 73)
2۔ اگر تم اللہ کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس کے خرچ ہوجانے کے ڈر سے ہاتھ روک لیتے۔ (الاسراء : 100)
3۔ بیشک جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں ہیں۔ (العنکبوت : 17)
4۔ کتنے ہی چوپائے ایسے ہیں کہ تم انہیں رزق نہیں دیتے اللہ ہی ان کو رزق دینے والا ہے۔ (العنکبوت : 60)
Ayahs 16:74–75فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
معبودان باطل کی مثالیں خالق حقیقی کے ساتھ بیان کی بجائے ان کا اپنے ساتھ موازنہ کرو اور اپنے ضمیر کے آئینہ میں دیکھو اور سوچو تاکہ تمہارے سامنے حقیقت منکشف ہوجائے کہ شرک کا عقیدہ کس قدر بےبنیاد اور بےانصافی پر مبنی ہے۔
مشرکین کی پرانی عادت ہے کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت سمجھائی جائے۔ تو مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرتوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنے معبودان باطل کے حق میں دلائل دیتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ بالخصوص جو لوگ مدفون بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ ان کا عقیدہ اور دلائل یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں ایک حکمران اپنا نظام چلانے کے لیے مختلف لوگوں کو ذمہ داریاں تفویض کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گو اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے مگر اس نے بھی کائنات کا نظام چلانے کے لیے اپنی خوشی سے مدفون بزرگوں کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں جس کی بنا پر ہم ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ دلیل دیتے ہیں کہ جس طرح حاکم کو ملنے کے لیے اس کے P-A کو ملنا ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ تک رسائی حاصل کرنے اور اس کو اپنی فریاد پہنچانے کے لیے بزرگوں کے وسیلے کی ضرورت ہے۔ کچھ جاہل تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جس طرح چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کو اپنی فریاد پہنچانے کے لیے مدفون بزرگوں کی ارواح کا واسطہ دینا لازم ہے۔ ان مثالوں پر ذرا غور فرمائیں تو آپ کے سامنے ان کی حقیقت کھل جائے گی۔ چھت پر چڑھنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت اس لیے ہے کہ چھت نیچے آ نہیں سکتی اور چھت پر چڑھنے والا سیڑھی کے بغیر اس پر چڑھ نہیں سکتا، حاکم کو ملنے کے لیے اس لیے سفارش چاہیے کہ وہ غریب اور کمزور لوگوں کی فریاد کو براہ راست سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی صورت حال قبروں میں مدفون بزرگوں کی ہے جو نہ کسی کی فریاد سن سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مدد کرسکتے ہیں یہاں تک اپنی قبر پر ہونے والی غیر شرعی حرکات کو نہیں روک سکتے۔ حالانکہ ان میں ایسے مواحد بھی تھے جو اپنی زندگی میں شرک و بدعات سے سختی سے روکتے تھے۔ لیکن اب ان کی بےچارگی کا یہ عالم ہے ان کے نام پر شرک و بدعت اور خرافات کی جا رہی ہیں۔ لیکن روک نہیں سکتے۔ یہاں تک انہیں خبر نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ان کی حالت ایسی ہے جیسی آقا کے مقابلے میں غلام کی ہوتی ہے جو مالک کے حکم کا پابند اور اس کا تابع مہمل ہوتا ہے۔ مالک کے مال سے ایک روپیہ بھی اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں ایسا شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے وافر رزق عنایت فرما رکھا ہے وہ اپنی مرضی اور خوشی سے جہاں اور جتنا چاہتا ہے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتا ہے۔ کیا مالک اور غلام، بےاختیار اور بااختیار کنگال اور سخی برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنے خالق کے سامنے ایک غلام سے کہیں زیادہ بےبس ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔ جس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اس کا شریک ثابت کرنے کے لیے کوئی معقول دلیل ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مثالیں بیان فرمائیں۔ 2۔ جس طرح غلام اور آقا برابر نہیں اسی طرح خالق اور مخلوق برابر نہیں۔
3۔ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
مشرک اور کافر حقیقی علم سے بےبہرہ ہوتے ہیں :
1۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (النحل : 75)
2۔ آسمان و زمین کا پیدا کرنا انسانی تخلیق سے بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (المومن : 57)
3۔ یہی صحیح دین ہے لیکن لوگوں کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔ (الروم : 30)
4۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (الروم : 6)
5۔ اکثریت حق کو نہیں پہچانتی۔ بلکہ اکثر لوگ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ (الانبیاء : 24)
Ayah 16:76فہم القرآن
لوگو ! اللہ تعالیٰ توحید اور شرک واضح کرنے کے لیے ایک اور مثال بیان فرماتا ہے۔ اسے غور سے سنو ! دو آدمی ہیں۔ ان میں ایک گونگا، بہرا ہے۔ جو اپنا مؤقف بیان نہیں کرسکتا اور نہ کسی قسم کی طاقت رکھتا ہے وہ سراسر اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اس کا آقا اسے جدھر بھیجتا ہے وہ بھلائی کے بجائے نقصان کے ساتھ لوٹتا ہے اس کے مقابلے میں باصلاحیت غلام کو اس کا آقا جدھر بھیجتا ہے وہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود بھی ٹھیک راستے پر گامزن ہے کیا اس کے ہر کام میں خیر و برکت ہے۔ بتاؤ یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ بالکل نہیں۔ یہی فرق ہے مواحد اور مشرک کے درمیان۔ مشرک حقیقت سننے اور اس کا اعتراف کرنے سے قاصر ہے۔ دین کے نام پر جو کام بھی نیکی سمجھ کر کرے گا، نامراد اور نقصان میں رہے گا۔ مواحد ہمیشہ عدل پر قائم ہے اور انصاف کی بات کہتا ہے اور صراط مستقیم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی چھوٹی سی نیکی بھی اس کے رب کے ہاں بڑا مقام رکھتی ہے۔ اس کے لیے اللہ کی طرف سے خیر ہی خیر ہے۔
اس مثال سے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ توحید عدل ہے۔ جس کا پرچار کرنا، دنیا میں عدل قائم کرنا ہے۔ یہی صراط مستقیم ہے اس کے بغیر نہ عدل قائم ہوسکتا ہے اور نہ آدمی صراط مستقیم پاسکتا ہے۔ اس مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرک گونگا، بہرا اور گمراہ ہوتا ہے اور مواحد حق گو، صاحب بصیرت اور حق کا علمبردار ہوتا ہے۔
صراط مستقیم کے سنگ میل :
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ 2۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔
3۔ اولاد کو رزق کی کمی کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے۔ 4۔ کھلی اور پوشیدہ بےحیائی سے اجتناب کیا جائے۔
5۔ کسی کو ناحق قتل نہ کیا جائے۔ 6۔ یتیم کے مال کو ناحق نہ کھایا جائے۔
7۔ ناپ تول کو پورا کیا جائے۔ 8۔ عدل و انصاف کی بات کی جائے۔
9۔ اللہ کے عہد کو پورا کیا جائے۔
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب اتباع سنۃ رسول اللہ ﷺ ]
” حضرت جا بر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے آپ ﷺ نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مختلف قسم کی مثالیں بیان فرماتا ہے۔ 2۔ توحید عدل ہے۔ عدل کی تبلیغ کرنے والاصراط مستقیم پر ہوتا ہے۔
3۔ گونگا اور کسی بات پر قدرت نہ رکھنے والا اور صراط مستقیم پر چلنے والا برابر نہیں۔ 4۔ مشرک اور مواحد برابر نہیں ہوسکتے۔
تفسیر بالقرآن
صراط مستقیم :
1۔ کچھ نہ کرنے والا اور اچھی باتوں کی تعلیم دینے والا اور صراط مستقیم پر چلنے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ (النحل : 76)
2۔ جس شخص نے اللہ کی رسی کو پکڑلیا اس کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کی گئی۔ (آل عمران : 101)
3۔ اللہ کو ایک ماننا صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : 51) 4۔ اللہ کی عبادت کرنے والا صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس : 61)
5۔ اللہ مومنوں کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ (الانعام : 161)
6۔ اللہ کے رسول کی اطاعت کرنا صراط مستقیم پر چلنا ہے۔ (الزخرف : 61)