Ayah 16:77فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
توحید کے انکار کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ مشرک آخرت کی جوابدہی کا انکار کرتا ہے۔ لہٰذا توحید کے بعدعقیدہ آخرت کے ثبوت دیئے جاتے ہیں۔ گویا کہ توحید اور آخرت کا عقیدہ لازم وملزوم ہیں۔
آدمی کے کفرو شرک اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کافر سرے سے اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر ہونے کی وجہ سے آخرت کا انکار کرتا ہے۔ مشرک آخرت کے بارے میں اس لیے دلیر ہوتا ہے کہ اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ جنکو وہ مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا ہے وہ قیامت کے دن ا سے بچا لیں گے۔ اس بنا پر کافر کفر سے اور مشرک شرک سے باز نہیں آتا۔ مکہ کے کفار کی حالت یہ تھی کہ وہ آخرت کا انکار کرنے کے ساتھ نبی اکرم ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے کہ آخرت برپا کیوں نہیں ہوتی ؟
جس کے جواب میں قرآن مجید میں کئی دلائل دیئے گئے ہیں یہاں صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کے غیبی امور کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسی طرح اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی۔ البتہ جب اس کا وقت آئے گا تو آنکھ جھپکنے سے پہلے برپا ہوجائے گی۔ کیونکہ اللہ ہر بات پر قادر ہے۔
(مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتَ قِیَامَتَہٗ ) [ السلسلۃ الضعیفۃ و الموضوعۃ ]
” جو شخص مرگیا اس کے لیے قیامت قائم ہوگئی۔ “
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ لاَ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا، فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوْا أَجْمَعُوْنَ ، فَذٰلِکَ حِیْنَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیْمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ إِیمَانِہَا خَیْرًا، وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہٖ وَلاَ یَطْوِیَانِہِ ، وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہٖ فَلاَ یَطْعَمُہٗ ، وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَہْوَ یَلِیْطُ حَوْضَہٗ فَلاَ یَسْقِیْ فِیْہِ ، وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہٗ إِلٰی فِیْہِ فَلاَ یَطْعَمُہَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر تمام کے تمام لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت اس کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جو اس سے قبل ایمان نہیں لایا اور اس نے نیک اعمال نہ کیے ہوں۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا وہ اس کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ حوض پر پہنچانے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ کھانا کھانے والا اپنے منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
مسائل
1۔ آسمان و زمین کی پوشیدہ باتیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
2۔ قیامت آنکھ جھپکنے سے پہلے برپا ہوجائے گی۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت برپا ہو کر رہے گی :
1۔ قیامت آنکھ جھپکنے کی مانند یا اس سے بھی پہلے برپا ہوجائے گی۔ (النحل : 77)
2۔ قیامت قریب تر ہے۔ (الانبیاء : 1)
3۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت برپا ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔ (الکہف : 21)
4۔ قیامت میں کوئی شک نہیں اللہ قبروں سے مردوں کو اٹھالے گا۔ (الحج : 7)
5۔ بیشک قیامت آنے والی ہے۔ (طٰہٰ : 15)
Ayah 16:78فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے منکرین کو قیامت کا منظر بتلانے کے بعد ان کی پیدائش کا منظر بتلایا ہے۔
قیامت کے منکر سب سے بڑی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جب ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں کس طرح اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں۔ کہ انسان کے الفاظ اور اس کا کردار ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے اس لیے انسان کا دوبارہ زندہ ہونا اور اس کے اعمال کا محاسبہ کرنا نہ ممکنات میں سے ہے۔ موت کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو تمہاری ماؤں کے بطنوں سے تمہیں نکالتا ہے۔ اس حالت میں کہ اس سے پہلے تمہارا وجود نہ تھا۔ اسی نے تمہاری آنکھیں، کان، اور دل بنائے۔ تاکہ تم اس کی ذات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقام اس کی ماں کا رحم رکھا ہے۔ جو ازدوجی زندگی سے پہلے بالکل خالی ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کا فیصلہ فرماتا ہے۔ تو اس کے ماں باپ کے مادہ منویہ سے جرثومے اس کی ماں کے کے رحم میں ملاپ حاصل کرتے ہیں۔ جس سے انسان کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ جس سے انسان بیخبر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پیدائش کے بعد بھی ایک مدت تک اسے اپنے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اسے دو آنکھوں، دو کانوں اور ایک دل کے ساتھ پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ اعضاء انسان کی پیدائش کے وقت اس قدر نازک اور اپنے گردو پیش کے ماحول سے بیخبر ہوتے ہیں کہ اسے یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے جنم دینے والی مامتا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ اسے القاء کرتا ہے جس بنا پر ہر نومولود بیشک جانور کا بچہ کیوں نہ ہو وہ اپنی ماں کی چھاتی کی طرف لپکتا ہے۔ جوں جوں انسان بڑا ہوتا ہے اس کی سماعت، بصارت اور سوچ و فکر کی صلاحیتیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ لیکن افسوس بڑا ہو کر وہ ہر بات سنتا، ہر چیز دیکھتا اور دینوی نفع و نقصان پر غور و خوض کرتا ہے۔ اس کے باوجود اپنے خالق حقیقی کو بھول جاتا ہے اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے۔ یہ پرلے درجے کا کفر اور اللہ تعالیٰ کی نا شکری ہے۔ حالانکہ انسان کو غیروں کی بجائے اپنے خالق اور منعم حقیقی کو پہچاننا اور اس کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ یہاں انسان کی پیدائش کو اس ماں کی طرف منسوب کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق ماں کے رحم میں ہوتی ہے۔ اس لیے باپ کی بجائے ماں کا ذکر ہوا ہے۔ اسی بناء پر رسول کریم ﷺ نے ماں کے حقوق والد کی نسبت زیادہ بیان فرمائے ہیں۔
(عَنْ اأبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللّٰہَ ) [ رواہ احمد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا۔ “
آپ ﷺ کے فرمان کا مقصدیہ ہے کہ جو اپنے جیسے انسانوں کے چھوٹے چھوٹے احسانات کا شکریہ نہیں ادا کرتا حالانکہ اسے ان احسانات کا شکر ادا کرنا آسان ہے وہ خالق کائنات کے پہاڑوں جیسے اور ان گنت احسانات کا شکریہ کس طرح ادا کرسکتا ہے۔
شکر کے مقابلے میں ناشکری کو شریعت کی زبان میں تمام نا فرمانیوں اور بغاوتوں کا پیش خیمہ تصور کیا ہے۔
(لإَِ نْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَءِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدُ ) [ ابراہیم۔ 7]
” اگر تم شکریہ ادا کروگے تو تمہیں ضرور مزید عنایت کیا جائے گا اگر ناشکری کا رویہ اختیار کروگے تو پھر میرا عذاب بہت سخت ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ماں کے پیٹ سے نکالا اور اسے کچھ خبر نہ تھی۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سماعت، بصارت اور دل بنایا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
شکر کی اہمیت اور اس کے فوائد :
1۔ اللہ نے تمہارے لیے سماعت، بصارت اور دل بنایا تاکہ تم شکر کرو۔ (النحل : 78)
2۔ اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تمہیں زیادہ دے گا۔ (ابراہیم : 7) 3۔ اگر تم اللہ کا شکر کرو تو وہ تم سے خوش ہوگا۔ (الزمر : 7)
4۔ اگر تم اللہ کا شکر ادا کرو اور اس پر ایمان لاؤ تو تمہیں عذاب کرنے کا اسے کیا فائدہ ؟ (النساء : 147)
5۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔ (آل عمران : 144)
6۔ اللہ نے کفر اور شرک کا راستہ واضح فرمادیا ہے۔ (الدھر : 3)
Ayah 16:79فہم القرآن
ربط کلام : پرندوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا حوالہ دے کر انسان کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔
جانوروں اور پرندوں میں معاشرے کا وجود :
(وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا طَاءِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ )[ الانعام : 38]
” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تمہاری ہی طرح کی اقسام ہیں اور ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ “
جدیدتحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جانور اور پرندے بھی معاشروں کی شکل میں رہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان میں بھی اجتماعی نظم وضبط ہوتا ہے اور مل جل کر رہتے ہیں اور اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔
پرندوں کی پرواز :
(أَلَمْ یَرَوْا إِلَی الطَّیْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِی جَوِّ السَّمَاءِ مَا یُمْسِکُہُنَّ إِلَّا اللَّہُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآَیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُوْنَ )[ النحل : 79]
” کیا ان لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں۔ اللہ کے سوا کس نے ان کو تھام رکھا ہے۔ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ “
ایک اور آیت مبارکہ میں پرندوں پر کچھ اس انداز سے بات کی گئی ہے :
(أَوَلَمْ یَرَوْا إِلَی الطَّیْرِ فَوْقَہُمْ صَافَّاتٍ وَیَقْبِضْنَ مَا یُمْسِکُہُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ )[ الملک : 19]
” یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ “
عربی لفظ ” امسک “ کا لغوی ترجمہ ” کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دینا، روکنا، تھامنا، یا کسی کی کمر پکڑ لینا “ ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں ” یُمسکُھُنَّ “ سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے پرندوں کو ہوا میں تھامے رکھتا ہے، ان آیات ربانی میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ پرندوں کے طرز کا مکمل انحصار انہی قوانین پر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے۔ اور جنہیں ہم قوانین فطرت کے نام سے جانتے ہیں جدید سائنسی معلومات سے ثابت ہوچکا ہے کہ بعض پرندوں میں پرواز کی بےمثل اور بےعیب صلاحیت کا تعلق اس وسیع تر اور مجموعی منصوبہ بندی (پروگرامنگ) سے ہے جو ان کی حرکات و سکنات سے متعلق ہے۔ مثلاً ہزاروں میل دور تک نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی جینیاتی رموز (جینیٹک کو دز) میں ان کے سفر کی تمام تر تفصیلات و جزئیات موجود ہیں، جو ان پر ندوں کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ نہایت کم عمری میں بھی لمبے سفر کے کسی تجربے اور کسی رہنما کے بغیر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرلیں اور پیچیدہ راستوں سے پرواز کرتے چلے جائیں۔ بات صرف سفر کی یک طرفہ تکمیل ہی پر ختم نہیں ہوجاتی، بلکہ وہ ایک مخصوص تاریخ پر اپنے عارضی مسکن سے پرواز کرتے ہیں اور ہزاروں میل واپسی کا سفر کرکے ایک بار پھر اپنے گھونسلوں تک بالکل ٹھیک ٹھیک جا پہنچتے ہیں۔
پروفیسر ہیمبر گرنے اپنی کتاب ” پادر اینڈ فریجیلٹی “ میں ” مٹن برڈ “ نامی ایک پرندے کی مثال دی ہے جو بحرالکال کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ نقل مکانی کرنے والا یہ پرندہ 000، 24 (چوبیس ہزار) کلومیٹر کا فاصلہ 8 کی شکل میں چکر لگا کر طے کرتا ہے۔ یہ اپنا سفر چھ ماہ میں پورا کرتا ہے اور مقام ابتداء تک زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی تاخیر سے واپس پہنچ جاتا ہے۔ ایسے کسی سفر کے لیے نہایت پیچیدہ معلومات کا ہونا ضروری ہے جو اس پرندے کے اعصابی خلیات میں محفوظ ہونی چاہیں۔ یعنی ایک باضابطہ ” پروگرام “ کی شکل میں پرندے کے جسم میں موجود اور ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہے۔ اگر پرندے میں کوئی پروگرام ہے تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اسے تشکیل دینے والا کوئی ” پروگرامز “ بھی یقیناً ہے ؟ (از : خطبات ڈاکٹر ذاکر نائیک)
مسائل
1۔ پرندوں کو فضا میں ٹھہرانے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
2۔ ایمانداروں کے لیے پرندوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
Ayah 16:80فہم القرآن
ربط کلام : پرندوں کے بعد چوپاؤں کے حوالے سے خدا کی قدرت کا شعور دیا جارہا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے ماحول کے حوالے سے اپنی قدرت کا شعور دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون اور سکونت کا باعث بنایا اور تمہیں صلاحیت عنایت فرمائی کہ تم چوپاؤں کی کھالوں سے گھر یعنی خیمے بناتے ہو جو نقل مکانی کی اور پڑاؤ ڈالنے کی شکل میں تمہارے لیے پھلکے ہوتے ہیں پھر چوپاؤں کی اون، پشم اور بالوں سے رہنے سہنے کے لیے سامان اور پہننے کے لیے اپنا لباس بنانے کے ساتھ اپنی زندگی کے لیے دیگر فوائد حاصل کرتے ہو۔ بھیڑ کی اون کو صوف کہا جاتا ہے جس کی جمع اصواف ہے اونٹ کے بالوں کو وبر کہتے ہیں جس کی جمع اوبار ہے، دنبے، بکری کے بالوں کو شعر کہتے ہیں جس کی جمع اشعار ہے۔
نزول قرآن کے وقت عربوں کی اکثریت پانی کی قلت اور اسباب زندگی کی کمی کی وجہ سے صحرا نوردوں کی زندگی بسر کرتے تھے۔ جس طرح ہمارے ملک میں بادیا نشین زندگی گزارتے ہیں ایسی حالت میں چوپاؤں کے چمڑے اور دیگر جانوروں کے بالوں اور اون سے بنے ہوئے خیمے ناصرف سائے گھنے اور اٹھانے میں سہل اور ہلکے ہوتے ہیں بلکہ چمڑے کے بنے ہوئے خیمے موسم کی حدّت اور برودت میں صحرا نشینوں کے لیے بہترین گھروں کا کام دیتے ہیں۔ گھر انسان ہی نہیں بلکہ درند پرند کے لیے سکون اور سکونت کا باعث ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شام کے وقت پرندے اپنے گھونسلے کی طرف جاتے ہیں۔ درندے اپنے غاروں اور کیڑے مکوڑے اپنی بلوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ انسان اپنے گھر سے باہر کتنی اچھی رہائش گاہ میں قیام پذیر ہو اسے اس وقت تک چین نصیب نہیں ہوتا جب تک اپنے گھر واپس نہیں پلٹتا بیشک اس کا گھر کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ اس کی زندہ مثال ہر ملک میں بادیا نشین لوگوں کی زندگی میں دیکھی جاسکتی ہے آپ ان کو شہر میں بہترین مکان مہیا کریں لیکن وہ اور ان کے بچے اپنی جھونپڑیوں میں جو سکون پاتے ہیں۔ وہ سکون انھیں محلاّت میں نہیں ملتا۔ درندوں، پرندوں اور انسانوں کا اپنے گھروں کی طرف پلٹنا اور سکون پانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ جذبے کی بنا پر ہے جس وجہ سے ہر جاندار کو اپناگھر پیارا ہوتا ہے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ کیونکہ اپنا گھر اپنا ہی ہوتا ہے۔ گھر سے محبت اور اس کے سکون کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے انسان کو اس طرف توجہ دلائی ہے تاکہ وہ دنیا کے گھر میں رہ کر جنت کے گھر کی تیاری کرے۔
مسائل
1۔ گھر انسان کے لیے باعث تسکین ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سکون کے لیے بہت کچھ پیدا فرمایا۔
تفسیر بالقرآن
سکون حاصل کرنے کے ذرائع :
1۔ اللہ نے تمہارے گھر تمہارے لیے سکون کا باعث بنائے ہیں۔ (النحل : 80)
2۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ (یونس : 67)
3۔ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم تسکین حاصل کرو۔ (القصص : 82)
4۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہاری جانوں میں سے تمہارے لیے بیویاں پیدا فرمائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ (الروم : 21)
5۔ آپ ان کے لیے دعا کیجئے آپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے۔ (التوبۃ : 103)
6۔ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرعد : 28)
Ayahs 16:81–83فہم القرآن
ربط کلام : انسان کی مستقل قیام گاہ کے بعد اس کی عارضی پناہ گاہوں اور اس کے لباس کا تذکرہ۔
دنیا میں انسان کی مستقل قیام گاہ اس کا گھر ہوتا ہے جو انسان کے لیے سکون اور سکونت کا باعث ہونے کے ساتھ گرمی، سردی اور اس کے سازوسامان کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ انسان کا گھر بیشک جھونپڑی کی صورت میں کیوں نہ ہو وہ اسے اٹھائے ہوئے ہر جگہ نقل و حرکت نہیں کرسکتا۔ اس نے اپنی روزی اور دیگر حاجات کے لیے گھر سے باہر جانا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے عارضی طور پر ایسی قیام گاہیں ہوں جنہیں وہ گرمی، سردی اور سفری مشکلات کے وقت کچھ وقت کے لیے قیام کرسکے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے درختوں اور پہاڑوں کے سائے بنائے تاکہ تھکا ماندہ اور محنت کش انسان کچھ وقت کے لیے ان میں آرام کرسکے پہاڑوں کے دیگر فوائد کے ساتھ ایک فائدہ یہ بھی عطا فرمایا کہ انسان موسم ناہموار ہونے کی صورت میں عارضی طور پر ان میں پناہ لے سکے پھر انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ لیاقت عطا فرمائی کہ وہ گرمی اور جنگ کی صورت میں دشمن سے بچاؤ کے لیے اپنا لباس تیار کرے۔ حالات کے مطابق اپنی صحت اور جسم کی حفاظت کا خیال رکھ سکے۔ یہاں دو قسم کے ملبوسات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ گرمی سے بچاؤ اور لڑائی کے وقت اپنی حفاظت کے لیے لباس تیار کرنا۔
سورۃ النحل کا نزول مکہ معظمہ میں ہوا۔ مکہ اور اس کے گردونواح میں ہمیشہ سخت یا نیم گرمی کا موسم رہتا ہے۔ جنگی لباس کا ذکر اس لیے کیا کہ اس زمانے میں دست بدست لڑائی ہوتی تھی۔ دشمن کے وار سے بچنے کے لیے لوہے کا ٹوپ اور سینہ ڈھانپنے کے لیے زرہ پہنی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس لباس کو اپنی نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا کیونکہ جنگی ٹیکنالوجی کا حصول کسی قوم اور ملک کے تحفظ کے لئے سب سے بڑی نعمت ہوا کرتا ہے۔ یہ انعامات تم پر اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ تم اپنے رب کے تابع فرمان رہو۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے مستفیض ہونے کے باوجود لوگ حق قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اے نبی ﷺ ! آپ پر صرف یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ واشگاف الفاظ اور انداز میں لوگوں تک حق پہنچا دیں جہاں تک لوگوں کی اکثریت کا حال ہے وہ اپنے رب کی نعمتوں کو پہچاننے اور ان سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناقدری اور اس کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ یہ حقیقت قرآن مجید نے کئی بار واضح کی ہے کہ نبی معظم ﷺ کا کام حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے سائے بنائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایسے پیراہن بنائے جو انہیں گرمی، سردی اور جنگ کے وقت دشمن کے وار سے محفوظ رکھتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی نعمتیں نازل فرمائیں تاکہ وہ فرمانبردار بن جائیں۔ 5۔ انبیاء (علیہ السلام) کا کام دین کی تبلیغ کرنا ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے کے باوجود لوگ اللہ کی ذات اور اس کی صفات کا انکار کرتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کا کام تبلیغ کرنا ہے :
1۔ اگر لوگ رو گردانی کریں تو آپ کا کام حق پہنچانا ہے۔ (النحل : 82)
2۔ اگر تم پھر جاؤ یقیناً ہمارے رسول کے ذمے حق بات پہنچانا ہے۔ (المائدۃ : 92)
3۔ نہیں ہے رسول کے ذمہ مگر حق پہنچادینا۔ (المائدۃ : 99)
4۔ اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو نگران بنا کر نہیں بھیجا آپ کا کام پہنچانا ہے۔ (الشوریٰ : 48)
Ayahs 16:84–85فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی ذات کے ساتھ کفر کرنے کا انجام۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور اس کی ذات کا انکار کرنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ وہ جہنم کا عذاب اور رب کا جلال دیکھ کر اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے سے انکار کردیں گے۔ اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا نہیں آیا تھا اگر کوئی ہمیں سمجھاتا تو ہم ضرور تیری ذات اور فرمان پر ایمان لاتے۔ اس انکار پر ہر امت کے نبی کو ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ جب اس امت کا نبی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کے خلاف گواہی دے گا کہ اے رب میں نے پیغام من و عن پہنچا دیا تھا۔ مجرم لوگ اپنے نبی کی شہادت مسترد کردیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نبی کو حکم فرمائیں گے کہ آپ اپنی تائید کے لیے گواہ پیش کریں وہ نبی امت محمدیہ کے لوگوں کو گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔ نبی معظم ﷺ کی امت کے لوگ گواہی دیں گے کہ بار الٰہا ہم نے تیرے قرآن میں پڑھا تھا کہ پہلے انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو ٹھیک ٹھیک طریقے سے حق کا پیغام پہنچایا۔ انبیاء (علیہ السلام) کی گواہی دینے کے باوجود مجرم ہر گواہی کو مسترد کرتے جائیں گے۔ اس صورت حال میں اللہ تعالیٰ ان کی زبانوں پر مہر ثبت فرماکر ان کے عضاء کو حکم دے گا کہ تم گواہی دو کہ کیا یہ واقعی مجرم نہیں ہیں ؟ مجرموں کے اعضاء اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہو کر اس کے حضور اپنی شہادت پیش کریں گے کہ یہ حقیقی مجرم ہیں۔ ( یٰس : 65)
جب مجرم لوگ ہر طرف سے لاجواب ہوجائیں گے تو پھر مزید انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی اور نہ ہی ان کی معذرت قبول کی جائے گی ظالموں کو جس عذاب سے واسطہ پڑے گا اس میں نہ تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
Ayahs 16:86–88فہم القرآن
ربط کلام : عذاب کا فیصلہ ہوجانے کے بعد مجرمین کا اپنے معبودان باطل کے بارے میں اقرار۔
قرآن مجید نے یہ حقیقت بھی کئی بار بیان کی ہے کہ محشر کے میدان میں مختلف مراحل پر مشرکین کا اپنے معبودوں کے ساتھ آمنا سامنا ہوگا۔ مشرک جن لوگوں کو دنیا میں مشکل کشا سمجھ کر نذرانے پیش کرتے اور ان کو سجدے کیا کرتے تھے ان کو پہچانتے ہوئے فریاد کے انداز میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے معبود۔ جن کو ہم تیرے سوا حاجت روا، مشکل کشا سمجھتے تھے دوسرے مقام پر قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا بھی ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے معبودان باطل کو دیکھ کر رب ذوالجلال سے فریاد کریں گے کہ ان لوگوں کی وجہ سے ہم اس انجام تک پہنچے اے ہمارے رب انہیں دوگنا عذاب دیاجائے۔ (الاعراف : 38)
یہ سنتے ہی معبودان باطل اس بات کو اپنے مریدوں پر لوٹائیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ جب مجرم لوگ ہر طرف سے مایوس ہوجائیں گے تو سب کچھ بھول کر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی فرمانبرداری پیش کریں گے لیکن اس وقت گناہوں کا اعتراف کرنے اور فرمانبردار ہونے کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ (1) یہاں جھوٹے عابدوں اور معبودوں کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ معبود اپنی عبادت کرنے والوں کو یہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو۔ اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ 1۔ انکار کرنے والوں سے مراد اللہ کے وہ بندے ہوں گے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کرنے کے ساتھ ہر قسم کے شرک کی مذمت کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کے فوت ہوجانے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے انھیں مشکل کشا بنا لیا اور ان کی قبروں پر شرکیہ اعمال کرنے لگے۔ اور ان سے دعائیں مانگنے لگے، وہ قیامت کے دن ان کے اس شرک کا صاف انکار کردیں گے۔ (فاطر : 13۔ 14)
2۔ ان سے مراد یقیناً وہ لوگ ہیں جو مریدوں سے اپنے آپ کو سجدہ سجود کروایا کرتے اور جھوٹی امیدیں دلوایا کرتے تھے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھیں گے تو اپنے مریدوں کو یہ کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو ہم تو کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب پیر عذاب دیکھیں گے تو اپنے مریدوں سے بیزاری کا اعلان کریں گے اس طرح ان کے درمیان تمام واسطے اور امیدیں منقطع ہوجائیں گی۔ مرید کہیں گے کاش ! ہمیں دنیا میں واپس جانے کا موقع ملے تو ہم ان پیروں سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے ہم سے یہ بیزار ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسرت بڑھانے کے لیے ایسا کریں گے اور وہ کبھی جہنم سے نہیں نکل پائیں گے۔ (البقرہ : 166۔ 167)
مسائل
1۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودوں کو پہچان لیں گے۔ 3۔ قیامت کے دن مشرک کا کوئی بہانہ قبول نہ کیا جائے گا۔
2۔ معبودان باطل اپنی عبادت کا انکار کریں گے اور مریدوں کو جھوٹا قرار دیں گے۔
تفسیر بالقرآن
عہد اور قسم کی پاسداری کا حکم :
1۔ جب تم عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور پختہ قسموں کی حفاظت کرو۔ (النحل : 91)
2۔ اللہ کے عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (الاحزاب : 15)
3۔ جو شخص اللہ کے عہد کی پاسداری کرتا ہے اسے بشارت دے دیں۔ (التوبۃ : 111)
4۔ اللہ کا فرمان ہے تم میرے وعدے کو پورا کرو میں تمہارے وعدے کو پورا کروں گا۔ (البقرۃ : 40)
Ayah 16:89فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر امت پر اس کے نبی کو گواہ کے طور پر پیش فرمائیں گے۔ اس کا اختتام بھی اسی مسئلے سے کیا جا رہا ہے۔
اے رسول ! وہ وقت یاد کیجئے کہ جب ہر ا مّت سے ہم ایک گواہی دینے والا کھڑا کریں گے اور آپ کی امت پر آپ کو گواہ کے طور پر لایا جائے گا۔ ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہدایت کے متعلق ہر بات کو کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ یہ کتاب مسلمانوں کے لیے سراسر ہدایت، رحمت اور خوشخبری بنا کر بھیجی گئی ہے۔ حدیث کی مقدس دستاویزات میں اس آیت کی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی زبان اطہر سے یوں بیان ہوئی ہے کہ ایک دن آپ ﷺ نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو فرمایا کہ اے عبداللہ ! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ مجھے قرآن مجید کی تلاوت سنائیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ عرض کرنے لگے کہ اے رسول محترم ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کروں جب کہ قرآن مجید آپ پر نازل ہوا ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے حکم دیا، میں تجھ سے قرآن مجید سننا چاہتا ہوں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس آیت کی تلاوت کی جس کی تفصیل جاننے کے لیے حدیث کے مقدس الفاظ پڑھیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ نبی اکرم ﷺ اس آیت کو کس احساس کے ساتھ پڑھا اور سنا کرتے تھے۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ یَحْیَی بَعْضُ الْحَدِیثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ قَالَ لِیَ النَّبِیُّ ﷺ اقْرَأْ عَلَیَّ قُلْتُ آقْرَأُ عَلَیْکَ وَعَلَیْکَ أُنْزِلَ قَالَ فَإِنِّیْٓ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَہٗ مِنْ غَیْرِیْ فَقَرَأْتُ عَلَیْہِ سُورَۃَ النِّسَاءِ حَتَّی بَلَغْتُ (فَکَیْفَ إِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلاآءِ شَہِیْدًا) قَالَ أَمْسِکْ فَإِذَا عَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، فَکَیْفَ إِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍم بِشَہِیدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلَی ہٰٓؤُلاآءِ شَہِیْدًا ]
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے مجھے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے۔ اے عبداللہ ! میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں ؟ جبکہ آپ پر قرآن نازل ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ کسی دوسرے سے قرآن مجید سنوں۔ پھر میں نے سورة نساء کی تلاوت شروع کردی۔ جب میں اس آیت پر پہنچا ” اس وقت کیا حال ہوگا۔ جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور تجھے ہم ان پر بطور گواہ لائیں گے۔ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا اب بس کیجیے۔ میں نے آپ کی طرف نظر اٹھائی تو آپ کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے۔
مسائل
1۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر امت سے ایک گواہ پیش کرے گا۔
2۔ نبی اکرم ﷺ کو آپ کی امت پر گواہ بنایا جائے گا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جو ہدایت کے متعلق جو ہر بات کھول کر بیان کرنے والی ہے۔
4۔ قرآن مجید مسلمانوں کے لیے باعث ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء ( علیہ السلام) کی شہادت :
1۔ اس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے۔ (النحل : 89)
2۔ جس دن ہم اٹھائیں گے ہر امت سے گواہ پھر کفار کو اجازت نہ دی جائے گی۔ (النحل : 84)
3۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور اور تم لوگوں پر۔ (البقرۃ : 143)
4۔ تاکہ رسول تم پر اور تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔ (الحج : 78)
Ayah 16:90فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ، اللہ کی رحمت اور ایمان لانے والوں کے لیے خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جو درج ذیل ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کی یہ آیات مبارکہ ان آیات میں شامل ہے جو انتہائی جامع احکامات کی حامل ہیں۔ اس کی جامعیت کے پیش نظر خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اپنے دور حکومت میں خطباء کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسے ہر خطبۂ جمعہ میں پڑھا کریں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کا حکم فرمایا اور تین کاموں سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ اب نصائح کا مختصر مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔
عدل :
1۔ پہلا حکم عدل کے بارے میں دیا گیا ہے جس کا صحیح اور حقیقی معنٰی یہ ہے کہ ہر کسی کو اس کا اصولی حق دیا جائے۔ یہ عدل کا بنیادی اصول ہے۔ ہمارے ہاں عدل کے لیے انصاف کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جو شریعت کا منشا پورا نہیں کرتی۔ کیونکہ انصاف کا معنٰی ہے کسی چیز کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرنا۔ گویا کہ کسی چیز کو نصف نصف کردینے کا نام انصاف ہے۔ اسلام کا عدالتی نظام یہ ہے کہ حقدار کو اس کا پورا پوراحق دیاجائے۔ جس کے بارے میں رسول معظم ﷺ نے یہاں تک فرمایا ہے :
” حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میں انسان ہوں اور تم میرے پاس فیصلے لاتے ہو۔ شاید تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت اپنا مؤقف بیان کرنے میں زیادہ فصیح ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میں اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ جس شخص کو اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ دوں تو وہ اسے ہرگز قبول نہ کرے۔ بلا شبہ میں اسے دوزخ کا ایک ٹکڑادے رہا ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : باب موعظۃ الامام للخصوم ]
الاحسان :
حدیث کی مقدس دستاویزات میں احسان کے دو مفہوم بیان ہوئے ہیں۔
” انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے جیسے وہ خود اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ یہ ممکن نہیں تو اسے یہ یقین ضرور ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ]
حقوق العباد میں احسان کا مفہوم یہ ہے کہ انسان دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے عدل کے بجائے شفقت اور نرمی کا مظاہرہ کرے
ایتائے ذی القربیٰ :
اس آیت مبارکہ میں پہلے عدل کا حکم دیا گیا پھر احسان کرنے کی تلقین فرمائی اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ احسان کے حقدار سب سے پہلے انسان کے قریبی رشتہ دار ہیں اگر احسان کرنے کے بارے میں قرآن مجید کی متعین کردہ فہرست کا خیال رکھا جائے تو دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس کا قریبی یا قدرے دور کا کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو گویا کہ قرآن مجید ایک نظم کے تحت احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ تاکہ اسلامی معاشرے میں کوئی شخص محرومیت کا شکار نہ ہونے پائے۔ اگر کسی کا قریبی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دور کا رشتہ دار ہی اقرب قرار پائے گا۔
کسی سے تعاون کرنے کی ترتیب :
” حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! نیکی کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر تیری ماں۔ پھر تیری ماں۔ پھر تیرا باپ۔ پھر قریب والا پھر اس کے قریب والا۔ “ [ رواہ أبودا ؤد : کتاب الأدب، باب فی بر الوالدین ]
محرمات :
مذکورہ بالا فرمان میں تین کاموں کا حکم دینے کے بعد تین برائیوں سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں پہلی برائی فحش اور بےحیائی ہے۔ محرمات میں سب سے پہلے چھوٹی برائی سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ جب کوئی چھوٹی برائی سے بچنے کی کوشش کرے گا تو اس کے لیے بڑی برائی سے بچنا آسان ہوگا۔ اس لیے پہلے ہر قسم کی بےحیائی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ بےحیائی سے مراد ہر وہ حرکت ہے جسے شریف لوگ برا سمجھتے ہوں۔
بے شک شریعت میں اس کے بارے میں واضح حکم نہ پایا جاتا ہو۔ ایسے کاموں کی ہر معاشرے میں مثالیں پائی جاتی ہیں رسول کریم ﷺ کے دور میں اور آج بھی کچھ عربوں کے ہاں یہ رواج ہے کہ جس شخص کو رشتہ درکار ہو وہ لڑکی کے والد سے براہ راست رشتے کا سوال کرتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اسے بےحیائی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بہر حال شریعت کے معیار کے علاوہ ہر معاشرے میں بےحیائی کا ایک معیار خود بخود مقرر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا شریعت کی وضع کردہ بےحیائی سے بچنا فرض ہے۔ اور معاشرے کی ناپسندیدہ باتوں سے اجتناب کرنا شرافت اور عقلمندی کی دلیل ہے۔
المنکر :
منکر سے مراد ہر وہ گناہ ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے بیشک وہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا گناہ۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ لوگو ! کھلی اور پوشیدہ برائی کے قریب نہ جاؤ۔ ( الانعام : 15)
البغی :
بغی سے مراد ایسا گناہ جس میں زیادتی کا عنصر بھی شامل ہو۔ اس میں ہر قسم کی زیادتی اور گناہ شمار ہوگا۔ منکر سے رک جانے کا حکم دے کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ معاشی، معاشرتی اور اخلاقی زیادتیوں سے روک دیا گیا ہے۔
یہ ہے اسلامی معاشرے کے حسن و جمال کا ایک خاکہ۔ اس لیے خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے حکم دیا تھا کہ ہر خطیب اپنے خطبہ میں اس آیت کی تلاوت کا اہتمام کیا کرے۔ تاکہ لوگوں کے ذہن میں ہر وقت اسلامی معاشرے کا تصور تازہ رہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ احسان کا حکم فرماتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ بےحیائی اور برائی اور ظلم و سرکشی سے روکتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو قبول کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید میں عدل کا حکم اور بےحیائی کی حرمت :
1۔ یقیناً اللہ تمہیں عدل اور احسان اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کا حکم دیتا ہے، بےحیائی اور برائی سے روکتا ہے۔ (النحل : 90)
2۔ نبی اکرم کو حکم دیا گیا کہ آپ لوگوں کے درمیان عدل قائم کریں۔ (الشوریٰ : 15)
3۔ عدل کرو یہ تقویٰ کے قریب تر ہے۔ (المائدۃ : 8) 6۔ بےحیائی والے کاموں کے قریب نہ جاؤ۔ (الانعام : 151)
4۔ جب بات کرو تو عدل و انصاف کی کرو اگرچہ اپنے قریبی رشتہ دار ہی کے خلاف کیوں نہ ہوں۔ (الانعام : 152)
5۔ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کا کرو۔ (النساء : 58)
7۔ اللہ نے یقیناً بےحیائی کو حرام قرار دیا ہے۔ (الاعراف : 33)
Ayah 16:91فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر عمل کرنا اور اس کی نافرمانی کے کاموں سے رکنا حقیقت میں ایک عہد ہے جس کی پاسداری ہر شخص پر لازم ہے۔
پہلاعہد وہ عہد ہے جو کلمۂ طیبہ کے الفاظ میں ہر مسلمان اپنے رب سے کرتا ہے یہ اس عہد کی تجدید اور اعادہ ہے جو ازل کے دن قالُوْا بَلٰی کہہ کر ہر انسان نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا۔ جس کی عہد شکنی کرنا کفر ہے۔ دوسرا عہدوہ ہے جو ایک انسان یا افراد ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس عہد کی پاسداری کرنا بھی ہر کسی پر لازم ہے۔ قسم اٹھانا بھی عہد کی ایک صورت ہے۔ بلکہ یہ پختہ عہد ہوتا ہے۔ اس کی پاسداری کا یہ کہہ کر حکم دیا گیا ہے کہ خاص کر جب تم اللہ کی قسم اٹھاؤ تو قسم کا احترام کرو۔ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ تم اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا رہے ہو۔ لہٰذا تمہاری اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے کہ تم اس عہد پر پکے رہو اور یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے اچھی طرح جانتا ہے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَآ إِیْمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ احمد ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا فرمایا جو امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ اور لوگوں سے کیا ہواعہد ہر حال میں پورا کرنا چاہیے۔ 2۔ پختہ قسم کو توڑنا گناہ ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کو جانتا ہے۔
Ayah 16:92فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عہد کو توڑنا اور قسم کا احترام نہ کرنا اپنے اچھے کردار کی نفی کرتا ہے۔
انسان کتنا ہی صاحب کردار اور باوقار کیوں نہ ہو جب دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑتا ہے اور اپنی قسم کا خیال نہیں رکھتا تو ایساشخص اس حد تک لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے کہ لوگ نہ صرف اس کے صالح کردار کی نفی کرتے ہیں بلکہ اس کی نماز روزہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لوگوں کو ایسے شخص سے اس قدر نفرت ہوجاتی ہے کہ اس کا نام سنتے ہی لوگ اسے بےایمان کہتے ہیں۔ ایسا شخص قسم کی بےحرمتی اور عہد شکنی کی وجہ سے اپنے ماضی کے اچھے کردار کی نفی کر بیٹھتا ہے۔ اس شخص کی مکہ کی اس عورت (یہ کوئی خاص عورت تھی یا ویسے ہی بطور مثال ذکر ہوا ہے) کے ساتھ مثال دی جا رہی ہے جس کا دماغی توازن ٹھیک نہ تھا۔ وہ سارا دن سوت کاتنے کے بعد مغرب کے بعد خود ہی اسے ریزہ ریزہ کردیتی تھی۔ عہد توڑنے اور اپنی قسم کی پاسداری نہ کرنے والے کا یہی حال ہوتا ہے۔ عام طور پر عہد شکنی اور قسم کی بےحرمتی آدمی اس وقت کرتا ہے جب وہ دوسرے کی مخالفت یا کسی فائدہ کے لالچ میں حد سے گزر جاتا ہے۔ اس لیے ایسی حرکت سے سختی کے ساتھ منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا ایک دوسرے سے بڑھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو۔ ایسے کاموں سے تجھے رک جانا چاہیے جو لوگ کسی معاملہ میں غلط ہونے کے باوجود جھوٹی قسم اٹھاتے ہیں انہیں سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں معاملات میں آزماتا ہے کہ تم کس حد تک اپنی قسموں کا خیال اور اپنے درمیان عہد کی پاسداری کرتے ہو۔ اگر تم باز نہیں آؤ گے تو قیامت کے دن تمہارے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا۔
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَبَاءِرُ الإِشْرَاک باللَّہِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ )[ رواہ البخاری : باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ ]
” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد اور قسم کو نہ توڑو۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔
3۔ قیامت کے دن لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کیا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا :
1۔ بیشک تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یونس : 93)
2۔ اللہ ان کے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (البقرۃ : 210)
3۔ یقیناً اللہ تمہارے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ فرمائے گا۔ (النحل : 78)
4۔ اللہ عدل و انصاف کا فیصلہ فرماتا ہے۔ (المومن : 20 )
5۔ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ (یونس : 54)
6۔ اللہ قیامت کے دن تمہارے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (الحج : 69)
7۔ اللہ قیامت کے دن عدل و انصاف کا ترازو قائم فرمائے گا۔ (الانبیاء : 47)
8۔ یقیناً اللہ تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا جو تم اختلاف کرتے تھے۔ (الزمر : 3)
9۔ اللہ قیامت کے دن تمہارے اختلاف کا فیصلہ فرمائے گا۔ (البقرۃ : 213)
10۔ اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور کافر مومنوں پر کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔ (النساء : 141)
Ayah 16:93فہم القرآن
دنیوی مفاد اور باہمی اختلاف کی و جہ سے عہدتوڑنا اور قسم کی بےحرمتی کرنا گمراہ لوگوں کا کام ہے۔ لوگ دنیوی مفاد اور باہمی اختلاف میں آکر اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کرنے اور ہدایت یافتہ لوگوں کو تسلی دینے کے لیے فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں سب کو ہدایت دینا لازم ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ بااختیار اور طاقتور ہے کہ تمام انسانوں کو ہدایت یافتہ بنا دیتا اور پوری دنیا کے انسان بہترین کردار کے حامل اور ایک ہی امت قرار پاتے۔ لیکن ” اللہ “ نے ہدایت اور گمراہی کے اختیار کرنے میں انسان کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے باوجود گمراہی اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ ضرور ان سے پوچھ گچھ کرے گا۔
یہ بات کئی مرتبہ بیان کی جا چکی ہے کیونکہ ہدایت اور گمراہی بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی نسبت اپنی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کرے۔
ہدایت کی طلب اور اس پر استقامت کی دعا کرنا چاہیے :
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ کَانَ ےَقُوْلُ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْْٓ اَسْاَلُکَ الْھُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی) [ رواہ مسلم : باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ یَعْمَل ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ” اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت ‘ تقویٰ ‘ پاکیزگی اور استغناء کا طلب گار ہوں۔ “
Ayahs 16:94–97فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کی خاطر اللہ کے نام کو بدنام اور اپنا ایمان برباد نہ کرو دنیا تو ختم ہونے والی ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارا صلہ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔
انسان دنیوی مفاد کی خاطر جھوٹی قسم اس لیے کھاتا ہے کہ وہ نقصان سے بچ جائے یا اسے فائدہ پہنچے۔ اس برائی سے منع کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ جس جھوٹی انا اور دنیوی مفاد کی خاطر اپنے رب کے عظیم نام کو استعمال کرتے اور عملاً دین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہو۔ اس پر غور کرو کہ یہ دنیا تو عارضی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ اگر تم جھوٹی انا اور عارضی مفاد کے مقابلہ میں اخلاقی قدروں اور دین کے اصولوں پر قائم رہو تو اللہ کے ہاں اس کا نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ استقامت اور دنیا کا معمولی مفاد چھوڑنے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی حیات طیبہ اور اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ جس کا تم دنیا کی زندگی میں تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق اور تخصیص نہیں ہے۔ دنیا میں حقوق و فرائض کے حوالے سے عورت اور مرد میں کچھ فرق ہے لیکن اجر وثواب کے حوالے سے کوئی فرق نہیں۔ جہاں تک حیات طیبہ کا تعلق ہے یہ آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔ جو اپنے رب کے حکم اور اس کی رضا کی خاطر اخلاقی قدروں اور دین کے اصولوں کا خیال رکھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے مرد اور عورت کو اپنی نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ اسے معاشرے میں وہ احترام و مقام عطا فرماتا ہے جس کی لوگ مثال پیش کرتے ہیں۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالَاعَیْنٌ رَاأتْ وَلَآ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ وَّاقْرَءُ وْٓا اِنْ شِءْتُمْ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ) [ رواہ البخاری : باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ‘ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں ‘ جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی ان کے متعلق کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا اگر تمہیں پسند ہو تو اس آیت کی تلاوت کرو ” کوئی نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز چھپا کے رکھی گئی ہے۔ “
(قُلْ بِفَضْلِ اللَّہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَ )[ یونس : 58]
” آپ فرما دیں یہ اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی سے نازل ہوئی ہے لہٰذا انہیں اس پر خوش ہونا چاہیے یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں۔ “
مسلمان کی دعا :
(وَمِنْہُمْ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ )
[ البقرہ : 201]
” اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی سے نواز اور ہمیں جہنم کے
عذاب سے بچا لے۔ “ (عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاۃَ الْقُرَشِیِّ ؓ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعُواللَّہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الأُمُورِ کُلِّہَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَاب الآخِرَۃِ )[ رواہ احمد ]
” حضرت بسر بن ارطاۃ قرشی ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا اے اللہ ! ہمارے تمام معاملات کا انجام اچھا فرما اور ہمیں دنیا اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرما۔ “
مسائل
1۔ قسموں کو مفاد اور فساد کا ذریعہ نہیں بنا نا چاہیے۔
2۔ اللہ کی راہ سے روکنے والوں کے لیے عذاب عظیم ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو تھوڑے فائدے کے بدلے نہ بیچیں۔
4۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔
5۔ صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہتر صلہ عطا فرمائے گا۔
6۔ اچھے اعمال کرنے والوں کو دنیا میں بھی پاکیزہ زندگی سے نوازا جائے گا۔
7۔ اچھے اعمال کرنے والوں کو قیامت کے دن ان کے اعمال کی بہترین جزا ملے گی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ بہترین اجر دینے والا ہے :
1۔ ہم ان کو ان کے اعمال سے بہتر جزا دیں گے۔ (النحل : 97)
2۔ اللہ ان کو ان کے اعمال سے بہتر صلہ عطا فرمائے۔ ( الزمر : 35)
3۔ ہم ان کے اعمال سے بہتر جزا دیں گے۔ (العنکبوت : 7)
4۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہتر صلہ اور اپنے فضل سے مزید عنایت فرمائے گا۔ (النور : 38)
Ayahs 16:98–100فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیات میں نیک مرد اور عورتوں کے اجر کا ذکر ہوا۔ اب بتلایا ہے کہ نیکی کے کاموں کا علم قرآن مجید کی تلاوت سے حاصل ہوگا۔ قرآن کی تلاوت اور نیکی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اللہ کے حضور شیطان سے بچنے کی دعا کی جائے۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی عظیم، مقدس اور آخری کتاب ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لیے ظاہری اور باطنی آداب مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر انسان ان آداب کو ملحوظ خاطر نہ رکھے تو وہ قرآن مجید جیسی عظیم اور مقدس کتاب سے کماحقہ ٗفائدہ نہیں اٹھا سکتا، اس کا حقیقی اور پہلا ادب یہ ہے، اسے ہدایت کے لیے پڑھا جائے اور اس کے بتلائے ہوئے اصولوں کے مطابق نہ صرف زندگی بسر کی جائے بلکہ اس کے منع کردہ امور سے کلی طور پر اجتناب کیا جائے۔ اس اصول کو قرآن نے ابتدا میں ہی واضح کردیا ہے۔ یہ قرآن گناہوں سے پرہیز کرنے والوں کے لیے کتاب ہدایت ہے ( البقرہ : 2) قرآن مجید کے ظاہری آداب میں پہلا ادب یہ ہے کہ اسے طہارت کی حالت میں پکڑاجائے اور اس کی تلاوت اعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر کی جائے جو شخص ایمان اور طہارت کی حالت میں اس کی تلاوت اس نیت کے ساتھ کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی فرمائے تو اس پر شیطان زیادہ دیر تک غالب نہیں رہ سکتا۔
شیطان تو ان لوگوں پر غلبہ جماتا ہے جو اس سے دوستی اور تعلق قائم رکھتے اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ یہاں تلاوت قرآن مجید سے پہلے اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ پڑھنے کا حکم ہے۔ ذرا غور فرمائیں ایک شخص پاک جسم اور صاف نیت سے تلاوت قرآن سے پہلے نہایت عاجزی کے ساتھ تعوذ کے معنی کو سامنے رکھتا ہوا اس نیت کے ساتھ تلاوت کرتا ہے کہ الٰہی اس کتاب مقدس کے ذریعے اپنی رحمت سے میری رہنمائی فرما اس پر شیطان کس طرح غلبہ جما سکتا ہے ؟
تعوذ کا معنیٰ :
عوذ چوپائے کے چھوٹے بچے کو کہتے ہیں جو اتنا چھوٹا ہو کہ پوری طرح اپنے پاؤں پر چل کر ماں کا دودھ نہ پی سکے۔ وہ گرتا اور سنبھلتا ہواماں کے تھنوں تک پہنچے۔ گویا کہ بندہ شیطان کے مقابلے میں اس قدر کمزور ہے جس لیے وہ اللہ کی پناہ کی درخواست کرتا ہے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت تعوذ پڑھنا لازم ہے۔ 2۔ ایمان والے شیطان کے داؤ سے بچ نکلتے ہیں۔
3۔ ایمان والے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔ 4۔ شیطان کا داؤ انہی پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بنائے رکھتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے :
ٍ 1۔ ایمان والے اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (النحل : 99)
2۔ میں نے اسی پر توکل کیا ہے اور توکل کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (یوسف : 67)
3۔ اے نبی ! فرما دیجیے مجھے اللہ ہی کافی ہے اسی پر توکل کرنے والے توکل کرتے ہیں۔ (الزمر : 38)
4۔ اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدۃ : 23)
5۔ جب کسی کا کام کا ارادہ کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بیشک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)
(رح) 6۔ ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ پر توکل کرو جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ (الفرقان : 58)
7۔ اگر اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو۔ (یونس : 84)
8۔ مومنوں پر جب قرآنی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (الانفال : 2)