15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم تعارف سورة الحجر حجاز سے ملک شام کی طرف جانے والے راستہ پر حجر کا علاقہ پایا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام الحجر رکھا گیا ہے۔ جس کا ذکر اس سورت کی آیت ٨٠ میں موجود ہے۔ یہ سورت چھ رکوع اور ننانوے آیات پر مشتمل ہے۔ سورة الحجر مکہ معظمہ اور اس کے گرد نواح میں نازل ہوئی۔ سورت کی ابتدا میں قرآن مجید کو روشن کتاب قرار دینے کے بعد کفار کو اس بات کا انتباہ کیا گیا ہے۔ کھاؤ، پیو اور عیش کرو۔ مگر عنقریب تمہیں اس بات کا پچھتاوا ہوگا کہ کاش ! ہم مسلمان ہوتے یعنی اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بنتے۔ انہیں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ قرآن مجید کی تکذیب کرنے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون قرار دینے کے باوجود تم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت نازل نہیں ہوئی۔ تو یہ مہلت اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر فرد اور قوم کی اجل کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جو کسی کی نیکی یا نافرمانی کی وجہ سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک قرآن مجید کا منجانب اللہ ہونا اور اس کی سچائی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ ہی نے اسے نازل فرمایا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرے گا۔ درحقیقت تم لوگ جس قسم کی الزام تراشی اور مطالبے کرتے ہو اسی طرح کے الزمات اور مطالبے تم سے پہلے مجرم کرچکے ہیں۔ اس کے بعد آسمان کا ذکر ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے برج بنائے اور ستاروں کے ذریعے اسے خوبصورت بنایا ہے۔ ستارے ایک طرف آسمان کی خوبصورتی کا سبب ہیں اور دوسری طرف شیاطین کے لیے بھڑکتے ہوئے شعلوں کا کام دیتے ہیں۔ تیسرے رکوع میں یہ بیان کیا ہے کہ انسان کو کھڑکھڑانے والی اور بدبودار مٹی سے اور جنات کو آگ کی لپیٹ سے پیدا کیا گیا ہے، پھر موقع کی مناسبت سے آدم (علیہ السلام) کے سامنے ملائکہ کا سجدہ کرنا اور شیطان کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے لعین قرار پانا اور شیطان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دینے کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس بیان کے بعد قوم لوط کی تباہی کے لیے بھیجے جانے والے ملائکہ کے سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے ان کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ان کی مہمان نوازی کا اہتمام کرنا۔ ملائکہ کا کھانے سے انکار اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کا ذکر ہے۔ بعد ازاں ملائکہ کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچنا۔ ملائکہ کی آمد سے حضرت لوط (علیہ السلام) کا پریشان ہونا۔ ملائکہ کا حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے یہ اعلان کرنا کہ صبح کے وقت آپ کی قوم کے مجرموں کو نیست و نابود کردیا جائے گا۔ سورة الحجر کے آخر میں قوم حجر کی ترقی اور تباہی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آپ کو دنیا کی عیش و عشرت کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے ساتھیوں کی طرف توجہ مبذول رکھنی چاہیے۔ جہاں تک آپ کے مخالفوں کا تعلق ہے ان سے اعراض فرمائیں۔ کیونکہ مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں آپ کا رب آپ کے لیے کافی ہے۔ آپ کا رب جانتا ہے کہ ان کے الزامات اور استہزا کی وجہ سے آپ کا دل غمگین ہوتا ہے۔ آپ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے مخالفوں کی طرف توجہ دینے کی بجائے اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہوجایا کریں۔ یہ کام آپ نے اپنی موت تک کرتے رہنا ہے۔

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

” الر۔ یہ کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔ “ (1)

فہم القرآن الم۔ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کے بارے میں پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ ان کا حقیقی علم اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ جن سورتوں کے شروع میں مقطعات لائے گئے ہیں اس میں کیا حکمت پنہاں ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جن سورتوں کی ابتداء حروف مقطعات سے کی ہے۔ اس میں کوئی خاص حکمت مضمر ہے۔ جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ سورة الحجر کی ابتدا بھی حروف مقطعات سے ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ کتاب الٰہی ہے جس کا نام قرآن مجید ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو اپنے احکام بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ قرآن مجید کے بد ترین مخالفوں کا اعتراف : ڈاکٹر گستادلی بان نے اپنی کتاب ” تمدن عرب “ میں قرآن کی حیرت انگیزی کا اعتراف کیا، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” پیغمبر نبی اُمّی اسلام کی ایک حیرت انگیز سر گزشت ہے، جس کی آواز نے ایک قوم ناہنجار کو جو اس وقت تک کسی ملک کے زیر حکومت نہ آئی تھی رام کیا، اور اس درجہ پر پہنچا دیا کہ اس نے عالم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ “ مسٹر وڈول جو قرآن مجید کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا لکھتا ہے : ” جتنا بھی ہم اس کتاب یعنی قرآن کو الٹ پلٹ کر دیکھیں اسی قدر پہلے مطالعہ میں اس کی مرغوبیت نئے نئے پہلوؤں سے اپنا رنگ جماتی ہے، فوراً ہمیں مسخر اور متحیر کردیتی ہے اور آخر میں ہم سے تعظیم کرا کر چھوڑتی ہے، اس کا طرز بیان با عتبار اس کے مضامین کے، عفیف، عالی شان اور تہدید آمیز ہے اور جا بجا اس کے مضامین سخن کی غایت رفعت تک پہنچ جاتے ہیں، غرض یہ کتاب ہر زمانہ میں اپنا پر زور اثر دکھاتی رہے گی۔ “ (فہم القرآن جلد اول صفحہ 65) مسائل 1۔ قرآن مجید ایک واضح کتاب ہے۔
Ayahs 15:2–5

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

” وقت آئے گا وہ لوگ جو کافر ہوئے چاہیں گے، کاش ! وہ مسلمان ہوتے۔ “ (2) ”

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

انہیں چھوڑ دیں وہ، کھائیں اور فائدہ اٹھائیں تاکہ ان کی امیدیں ان کو غافل رکھیں چناچہ عنقریب وہ جان لیں گے۔ “ (3) ”

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس لیے کے اس کا وقت لکھا ہوا تھا۔ “ (4) ”

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی امت اپنے وقت سے نہ آگے نکل سکتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : اگر کفار ایمان نہیں لاتے تو انہیں کھلے الفاظ میں انتباہ کیا جاتا ہے کہ وقت آئے گا کہ انہیں مسلمان نہ ہونے پر پچھتاوا ہوگا۔ اے نبی ﷺ ! آپ کے اخلاص اور جہد مسلسل کے باوجود یہ لوگ اپنے رب کی خالص بندگی کرنے اور آپ کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ان سے الجھنے کی بجائے ان کو ان کی حالت پر چھوڑتے ہوئے فرما دیجئے : اے حق کا انکار کرنے والو ! تم کھاؤ، پیو اور عیش اڑاؤ۔ اپنے خوبصورت سپنوں اور امیدوں میں مگن رہو۔ لیکن یاد رکھنا وقت آئے گا کہ یہ خواب ایک دن چکنا چور ہوجائیں گے اور جس ذات کبریا کا تم انکار کرتے ہو قیامت کے دن اس کے سامنے تمہیں حاضر ہو کر اپنے اعمال کا انجام پانا ہوگا۔ جہاں تک ان کے اصرار اور تکرار کا تعلق ہے کہ ان کی بغاوت اور نافرمانیوں کے باوجودان کا احتساب کیوں نہیں ہو رہا، انہیں فرمائیں یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے ضابطے کے عین مطابق ہے۔ اس نے ہر قوم کے مواخذے کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ جب اس قوم کی ہلاکت کا وقت آتا ہے تو اس میں لمحہ بھر کی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ وہ وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ جب کسی قوم کی ہلاکت کا وقت آتا ہے۔ تو وہ لوگ حسرت و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے صدائیں دیتے ہیں کہ کاش ہم اس سے پہلے اپنے رب کے تابع فرمان ہوجاتے۔ لیکن اس وقت ان کی آہ وزاریاں انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتیں۔ (فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ إِیمَانُہُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّۃَ اللَّہِ الَّتِی قَدْ خَلَتْ فِی عِبَادِہِ وَخَسِرَ ہُنَالِکَ الْکَافِرُونَ )[ المومن : 85] ” جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے تو ان کے ایمان میں انھیں کچھ فائدہ نہ دیا یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں چلا آتا ہے اور وہاں کافر خسارے میں رہیں گے۔ “ لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی ہوئی ہے : (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِےْرَ الْخَلَآ ءِقِ قَبْلَ اَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِےْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ) [ رواہ مسلم : باب حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسٰی i ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دیں تھیں اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ دُعِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی جَنَازَۃِ صَبِیٍّ مِّنَ الْاَنْصَارِ فَقُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ طُوْبٰی لِھٰذَا عُصْفُوْرٌ مِّنْ عَصَافِےْرِ الْجَنَّۃِ لَمْ ےَعْمَلِ السُّوْٓءَ وَلَمْ ےُدْرِکْہُ فَقَالَ اَوَغَےْرُ ذٰلِکَ ےَا عَاءِشَۃُ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْٓ اَصْلَابِ اٰبَآءِھِمْ وَخَلَقَ للنَّارِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْٓ اَصْلَابِ اٰبَآءِھِمْ ) [ رواہ مسلم : باب مَعْنَی کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول محترم ﷺ کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس بچے کے لیے خوشی ہے یہ تو جنت کے پرندوں سے ایک پرندہ ہے اس نے کوئی برا کام نہیں کیا اور نہ ہی اس نے اس کی مہلت پائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا فرمایا وہ اسی کے لیے پیدا ہوئے جبکہ وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے اور کچھ لوگوں کو دوزخ کے لیے پیدا فرمایا اور وہ دوزخ کے لیے ہی پیدا ہوئے جب وہ اپنے آباء کی پشت میں تھے۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید واضح کتاب ہے۔ 2۔ کافر قیامت کے دن تمنا کریں گے کاش ہم بھی مسلمان ہوتے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں کفار کو مہلت دیتا ہے۔ 4۔ کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ تفسیر بالقرآن مجرموں کا افسوس کرنا : 1۔ عذاب کے وقت کفار کا حسرت و افسوس کرنا۔ (البقرۃ : 167) 2۔ موت کے وقت آہ و زاریاں کرنا۔ (المومنون : 99) 3۔ محشر کے میدان میں حسرت و افسوس کا اظہار کرنا۔ (النباء : 40) 4۔ جہنم میں ان کا آہ و بکا کرنا۔ (فاطر : 37)
Ayahs 15:6–8

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

” انہوں نے کہا جس شخص پر قرآن نازل کیا گیا یقیناً وہ پاگل ہے۔ “ (6) ”

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا، اگر سچوں میں سے ہے۔ “ (7) ”

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتوں کو نہیں نازل کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت نہیں دیے جاتے۔ “ (8)

فہم القرآن ربط کلام : حق کا انکار اور دنیا پرستی کی وجہ سے لوگ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مجنوں کہا کرتے تھے۔ حق کے منکر اور دنیا پرست لوگوں کے سامنے دنیا کی جاہ و حشمت، وسائل اور ترقی ہی سب کچھ ہوا کرتی ہے۔ وہ انبیاء (علیہ السلام) اور مصلحین حضرات کو پاگل قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو مقدم سمجھا جائے۔ ظاہر ہے یہ بات دنیا پرست شخص کو کسی صورت گوارا نہیں ہوتی۔ اس لیے حق کے منکر اور دنیا پرست لوگ درج ذیل وجوہات کی بناء پر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو پاگل کہا کرتے تھے۔ 1۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء ( علیہ السلام) دنیا میں مبعوث فرمائے وہ نبوت سے پہلے اپنی برادری اور قوم میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لیکن جو نہی وہ حق کی دعوت لے کر اٹھے۔ معاشرے میں احترام کی بجائے انہیں نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ اس بناء پر دنیا دار لوگ انہیں پاگل قرار دیتے کہ یہ کیسا شخص ہے ؟ کہ بنی بنائی عزت برباد کر بیٹھا ہے۔ 2۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنے مشن میں انتہا درجہ مخلص ہوا کرتے تھے۔ اس لیے وہ شب و روز اس کام میں مصروف رہتے۔ جس بناء پر انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑتا۔ یہاں تک کہ وہ کئی کئی دن بھوکے رہ کر بھی اپنا کام جاری رکھتے۔ اس وجہ سے دنیا دار لوگ انھیں مجنون کہتے تھے۔ 3۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) دعوت حق کی خاطر کئی قسم کے الزامات برداشت کرتے۔ یہاں تک کہ بیشمار انبیاء (علیہ السلام) قتل کردیے گئے۔ دنیا پرست لوگ ان کی موت پر یہ تبصرہ کرتے کہ اس شخص نے خواہ مخواہ لوگوں کی دشمنی مول لی اور اپنے آپ کو ہلاک کرلیا۔ پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح سرور دو عالم ﷺ بھی دعوت حق کی خاطر ہر قسم کا نقصان اٹھانے اور دشمنی مول لیتے ہوئے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔ جس بناء پر لوگ آپ ﷺ کو پاگل کہتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ حق کے ابلاغ کے لیے دن رات کام کرتے تھے۔ جب لوگ آپ کی دعوت اور اخلاص کا مقابلہ نہ کر پائے تو انہوں نے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ ہم اس وقت اس کی نبوت کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک کوئی فرشتہ اس کی تائید اور تصدیق کے لیے ہمارے پاس نہیں آئے گا۔ یاد رہے اس بات میں بھی کفار کا موقف ایک نہیں رہتا تھا۔ ایک وقت میں یہ مطالبہ کرتے کہ اس نبی کو انسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ جب اس کا یہ جواب دیا گیا کہ اگر زمین میں بسنے والے لوگ فرشتے ہوتے تو ان کے لیے نبی بھی فرشتہ بھیجا جاتا۔ کیونکہ زمین میں بسنے والے انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت اور راہنمائی کے لیے انسان کو ہی نبی مبعوث فرمایا ہے جب اس دلیل کے سامنے لاجواب ہوتے تو پھر یہ مطالبہ کرتے کہ اس کی تائید کے لیے ہمارے پاس فرشتہ آنا چاہیے۔ جس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ جب فرشتے نازل ہوتے ہیں تو پھر حق کا انکار کرنے والوں کو مزید مہلت دینے کے بجائے ان کا صفایا کردیا جاتا ہے۔ مسائل 1۔ کفار آپ ﷺ کو مجنوں کہا کرتے تھے۔ 2۔ کفار آپ ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے تھے۔ 3۔ جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھیج دیتا ہے تو پھر کسی کو مہلت نہیں ملتی۔ تفسیر بالقرآن حق کا انکار کرنے والوں پر جب فرشتے نازل ہوئے تو ان کا صفایا کردیا گیا : 1۔ ہم نہیں اتارتے فرشتوں کو مگر حق کا فیصلہ کرنے کے لیے اور اس وقت ان کو مہلت نہیں دی جاتی۔ (الحجر : 8) 2۔ اگر ہم فرشتے اتار دیتے تو قصہ ختم ہوجاتا اور انہیں مہلت نہ دی جاتی۔ (الانعام : 8) 3۔ جب قوم لوط پر فرشتے آئے۔ تو اللہ نے انہیں ملیا میٹ کردیا۔ (ہود : 81 تا 83) 4۔ زمین پر بسنے والے انسان ہیں اس لیے ” اللہ “ نے انسان ہی پیغمبر مبعوث فرمائے۔ (بنی اسرائیل : 95) 5۔ کیا وہ اس انتظار میں ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا پروردگار آئے یا اس کی بعض آیات آئیں جس دن اس ہوگیا تو پھر کسی کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا۔ (الانعام : 158)
Ayahs 15:9–12

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

” یقیناً ہم ہی نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم اس کی ہر صورت حفاظت کرنے والے ہیں۔ “ (9) ”

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے گروہوں میں بھی رسول بھیجے۔ “ (10) ”

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس جو رسول آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا۔ “ (11) ”

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : سرور دوعالم ﷺ کی مخالفت قرآن مجید کی بناء پر تھی۔ اس لیے قرآن کے مخالفوں کو بالخصوص بتلایا گیا ہے کہ تم جو چاہو کر گزرو قرآن مجید ہمیشہ باقی رہے گا۔ سرور دوعالم ﷺ کے ساتھ لوگوں کی مخالفت کا بنیادی سبب آپ ﷺ کا نبوت کا اعلان تھا۔ ورنہ مخالفت کرنے والے لوگ آپ ﷺ کو ” الصادق “ اور ” الامین “ کہتے تھے۔ مگر جونہی قرآن مجید نازل ہوا اور آپ نے اسے لوگوں تک پہنچایا تو مکہ کے لوگوں کی اکثریت روز بروز مخالفت میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن ہمارے سامنے پڑھا جائے۔ کبھی یہ کہتے قرآن مجید کے فلاں فلاں حصے کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کے یہ مطالبات مسترد کردیے گئے تو انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ قرآن مجید کے نور کو بجھا دیا جائے۔ جس پر یہ اعلان ہوا کہ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ بیشک یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ (الصف : 8) اس مقام پر قرآن مجید کو ” اَلذِّکْرْ “ قرار دے کر فرمایا ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان کے مطابق نہ صرف ہمیشہ کے لیے قرآن مجید کی حفاظت کا بندوبست فرمایا بلکہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جو قرآن مجید کی تشریح حدیث مبارکہ کی صورت میں فرمائی اسے بھی قیامت تک کے لیے محفوظ فرمادیا گیا ہے۔ عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔ مذہبی ‘ ثقافتی اور تجارتی مرکز ہونے کے باوجود مکہ میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد تقریباً بیس سے زیادہ نہ تھی اور یہ بھی معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ شدید علمی بحران اور پڑھائی لکھائی کا رواج نہ ہونے کے باوجود نبی معظم ﷺ نے اس بات کا اہتمام فرمایا کہ جوں ہی قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا اسے اپنی نگرانی میں مرتب کرواتے کاغذ کی عدم دستیابی کی وجہ سے قرآن مجید کو ہڈی ‘ لکڑی ‘ پتھر یہاں تک کہ بعض درختوں کے پتے اس طریقے سے تیار کیے جاتے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا جیسا کہ پرانے زمانے کے کتبات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس طرح مکمل قرآن مجید مختلف کتبات کی شکل میں محفوظ کرلیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن اور اس کی تبلیغ کا سلسلہ اس طرح ٹھوس بنیادوں پر شروع کیا گیا جو قیامت تک جاری وساری رہے گا۔ تاہم کتابی شکل میں قرآن مجید اس وقت مرتب ہوا جب حضرت صدیق اکبر ؓ کے ابتدائی دور میں یمامہ کے مقام پر مسیلمہ کذّاب کے ساتھ صحابہ کرام ؓ کا مقابلہ ہوا۔ تحفظ ختم نبوت کے اس معرکہ میں دوسرے شہداء کے ساتھ تقریباً سات سو حفاظ صحابہ شہید ہوئے (القرطبی) اس سانحہ سے متاثر ہو کر حضرت عمر ؓ نے خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے عرض کیا کہ اگر حفاظ کرام اسی طرح شہید ہوتے رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ امت قرآن مجید کے کچھ حصہ سے محروم ہوجائے۔ میری درخواست ہے کہ قرآن مجید کو کتابی شکل میں یکجاکر دیا جائے۔ ابتداءً حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایسا کرنے سے یہ کہہ کر معذرت کی کہ چونکہ رسول کریم ﷺ نے اس طرح کرنے کا حکم نہیں دیا لہٰذا ہمیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت عمر ؓ کے بار بار توجہ دلانے پر بعد ازاں آمادہ ہوئے تو انہوں نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت ؓ کو قرآن مجید جمع کرنے کی ہدایت فرمائی بالآخر قرآن مجید ایک نسخہ کی شکل میں مرتب کردیا گیا۔ جو حضرت ابوبکر ؓ پھر حضرت عمر ؓ اور ان کی وفات کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ ؓ کے پاس محفوظ تھا۔ (بخاری : کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن) حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں عراق اور دوسرے ممالک میں قرآن مجید کے لہجہ اور تلفظ میں اختلاف رونما ہوا تو حضرت عثمان ؓ نے قریش کی کتابت اور لغت میں قرآن مجید کی متعدد نقول تیار کروا کر مملکت اسلامیہ کے دور دراز علاقوں میں ارسال فرمادیں۔ چناچہ جو قرآن مجید رب عظیم نے اپنے رسول کریم ﷺ پر نازل فرمایا تھا من و عن کسی تحریف اور تغیر و تبدل کے بغیر اب تک محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ و موجود رہے گا جس کی تصدیق اسلام کے بدترین دشمن ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ‘ بحوالہ ضیاء القرآن ) "THIS RECENSION OF UTHMAN THUS BECAME THE ONLY STANDARD TEXT FOR THE WHOLE MUSLIM WORLD UP TO THE PRESENT DAY." جو قرآن مجید اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے وہ بعینہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی معرفت اپنے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اسے موجودہ ترتیب کے مطابق لکھوایا، صحابہ ؓ کو یاد کرایا اور خود پڑھا۔ ( اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْآنَہٗ ) [ القیامۃ : 17] ” بیشک ہماری ذمہ داری ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا۔ “ جمع و ترتیب : صحیح بخاری میں ہے کہ جب آیت (لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ ) نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : (اُدْعُ لِیْ زَیْدًا وَلْیَجِیْٓ ءُ بِا للَّوْحِ وَالدَّ وَاۃِ وَالْکَتِفِ ) [ رواہ البخاری : کتاب فضائل القرآن ] ” زید کو میرے پاس بلاؤ کہ وہ دوات اور شانہ کی ہڈی لے کر حاضر ہو۔ “ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کا واقعہ اور سبب تفصیل کے ساتھ سیرت کی تمام کتب میں درج ہے کہ وہ اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر گئے اور ان کو لکھا ہوا قرآن پڑھتے ہوئے پایا تو کہنے لگے : (اَعْطُوْنِی الْکِتٰبَ الَّذِیْ عِنْدَکُمْ اَقْرَأُہٗ ) [ دارقطنی ] ” جو قرآن تمہارے پاس ہے اسے لاؤ تاکہ میں اسے پڑھوں۔ “ (کَان النَّبِیُّ ﷺ مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَیْہِ الْآیَاتُ فَیَدْعُوْ بَعْضُ مَنْ کَانَ لَہٗ یَکْتُبُ لَہٗ وَیَقُوْلُ لَہٗ ضَعْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ فِی السُّوْرَۃِ الَّتِیْ یُذْکَرُ فِیْہَا کَذَا وَکذَا) [ رواہ ابوداؤد : کتاب الصلٰوۃ ] ” جب نبی ﷺ پر آیات اترتیں تو کاتب وحی کو بلا کر فرماتے اس آیت کو فلاں سورت میں فلاں جگہ لکھو۔ “ مسائل 1۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ 2۔ قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں قیامت تک ردو بدل نہیں ہوسکتا : 1۔ قرآن مجید کو ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9) 2۔ اللہ کے کلمات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ (یونس : 64) 3۔ فرما دیجئے کہ میرے پاس کوئی اختیار نہیں کہ میں اس قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کر دوں۔ (یونس : 15) 4۔ اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی گئی ہے اسے پڑھتے رہا کرو اور کوئی اسے بدل نہیں سکتا۔ (الکہف : 27)
Ayahs 15:13–15

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

” وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ یقیناً یہی پہلے لوگوں کا طریقہ رہا ہے۔ “ (13) ”

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں، پس وہ اس میں چڑھیں۔ “ (14) ”

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

یقیناً یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھیں بند کردی گئی ہیں، بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ “ (15)

فہم القرآن ربط کلام : تحفظ اور ضبط قرآن کی گارنٹی دینے کے بعد رسول محترم ﷺ کو تسلی اور تشفی دی گئی ہے۔ سرورِ دو عالم ﷺ کو اس بات کی تسلّی دینے کے بعد کہ جس قرآن مجید کی یہ لوگ مخالفت کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ رہے گا۔ جس کا دوسرے الفاظ میں معنیٰ یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اپنا کام اطمینان کے ساتھ کرتے جائیں کیونکہ آپ کا کام اور پیغام ہمیشہ رہے گا اور ان لوگوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ہم نے آپ سے پہلی اقوام کی طرف بھی رسول بھیجے اور انہوں نے اپنے رسولوں کو استہزءا کا نشانہ بنایا۔ اس رویہ کی پاداش میں وہ جرائم میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ یہی حالت آپ ﷺ کے مخالفین کی ہے۔ یہ بھی پہلے لوگوں کی روش اختیار کرتے ہوئے ایمان نہیں لائیں گے۔ گویا کہ بعد زمانی کے باوجود ان کے دل اور کردار ایک جیسے ہوگئے ہیں۔ اگر ہم ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ ان میں داخل ہوجائیں۔ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے باوجود کہیں گے کہ جو کچھ ہم نے دیکھا وہ دھوکے اور جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا : (عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؓ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَی عَہْدِ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِرْقَتَیْنِ ، فِرْقَۃً فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَۃً دُونَہُ فَقَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ اشْہَدُوا)[ رواہ البخاری : باب (وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃً یُعْرِضُوا)] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں شق قمر کا واقعہ پیش آیا۔ چاند کے دو ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا پہاڑ پر گرا اور ایک ٹکڑا اس کے علاوہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا لوگو ! گواہ ہوجاؤ۔ “ معراج کا واقعہ اور مسجد اقصیٰ کا نقشہ : آپ ﷺ معراج سے تشریف لائے تو کفار نے اسے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ایک مہینہ کا سفر رات کے کچھ حصہ میں کس طرح طے ہوسکتا ہے۔ اگر آپ واقعی مسجد اقصیٰ میں گئے ہیں تو اسکی نشانیاں بتلائیں ؟ آپ نے ایک ایک کرکے اس کی نشانیاں بتلادیں لیکن پھر بھی کفار نے معراج کا انکار کیے رکھا۔ (عَنْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ لَمَّا کَذَّبَنِی قُرَیْشٌ قُمْتُ فِی الْحِجْرِ ، فَجَلَّی اللَّہُ لِی بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُہُمْ عَنْ آیَاتِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَیْہِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ ( أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) ” حضرت جابر بن عبدللہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جب کفار نے واقعہ معراج کے سلسلہ میں میری تکذیب کی تو میں مقام حجر میں کھڑا ہوا۔ اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا میں نے اس کی طرف دیکھ کر اس کی ساری نشانیاں بتلا دیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے پہلے بھی پیغمبر مبعوث فرمائے تھے۔ 2۔ کفار انبیاء کا مذاق اڑاتے تھے۔ 3۔ اکثریت اپنے بڑوں کے طور طریقوں کو اپناتی ہے۔ 4۔ کچھ لوگ معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ 5۔ کفار معجزات کو جادو سمجھتے تھے۔ تفسیر بالقرآن کفار کے انبیاء ( علیہ السلام) پر الزامات : 1۔ اگر ہم ان کے لیے آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس میں سے چڑھ جائیں تو کہیں گے ہماری آنکھیں بند کردی گئی ہیں۔ بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ (الحجر : 14۔ 15) 2۔ آل فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو کا الزام لگایا۔ (القصص : 36) 3۔ کفار تمام انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیتے تھے۔ (الذاریات : 52) 4۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ کو جادوگر قرار دیا۔ (الصف : 6) 5۔ کفار نے قرآن کو جادو قرار دیا۔ (سبا : 43) 6۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ کو سحر زدہ یعنی جس پر جادو کردیا گیا ہو بھی قرار دیا۔ (الفرقان : 8)
Ayahs 15:16–18

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

” اور یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا ہے۔ “ (16) ”

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور اس کی ہر شیطان مردود سے حفاظت کی ہے۔ “ (17) ”

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ “ (18)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید آسمان سے نازل کیا گیا ہے۔ اس لیے مناسب سمجھا کہ آسمان کے نظام کا مختصر ذکر کیا جائے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے کہ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے خوبصورت بنایا اور شیطان مردود سے انہیں محفوظ کردیا۔ اگر کوئی شیطان چوری چھپے سننا چاہے تو ایک روشن اور بھڑکتا ہوا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ پرانے زمانے کے اہل ہئیت یعنی فلکیات کا علم رکھنے والے لوگوں نے آسمان دنیا کے بارہ برج متعین کر رکھے ہیں مگر قرآن مجید کے بروج سے مراد وہ برج نہیں ہیں۔ بروج سے مراد کچھ اہل علم نے پہلے آسمان کے دروازے لیے ہیں۔ جن دروازوں کے ذریعے ملائکہ زمین پر اترتے اور پھر آسمان میں داخل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بروج سے مراد آسمان کے دروازوں میں ڈیوٹی دینے والے چوکیدار ملائکہ ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے شہاب ثاقب کی صورت میں اسلحہ دے رکھا ہو جن سے وہ شیاطین کو بھگاتے ہیں۔ اکثر علماء نے بروج سے مراد ستارے اور سیارے لیے ہیں۔ جن سے آسمان کو خوبصورت اور محفوظ بنایا گیا ہے۔ سرور دو عالم ﷺ سے برج کے بارے میں ہمیں کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ البتہ آپ ﷺ نے آسمان کی حفاظت اور شیاطین کے تعاقب کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے۔ (رواہ البخاری : کتاب التفسیر سورة سبا) ” شہاب مبین “ کے لغوی معنی ” روشن شعلہ “ کے ہیں۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں اس کے لیے ” شہاب ثاقب “ کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی ” تاریکی کو چھیدنے والا شعلہ۔ “ اس سے مراد ضروری نہیں کہ وہ ٹوٹنے والا تارہ ہی ہو جسے ہماری زبان میں شہاب ثاقب کہا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ شعاعیں ہوں، مثلاً کائناتی شعائیں (Cosmic Rays) یا ان سے بھی زیادہ شدید قسم کی کوئی چیز جو ابھی ہمارے علم میں نہ آئی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہی شہاب ثاقب مراد ہوں جنہیں کبھی کبھی ہماری آنکھیں زمین کی طرف گرتے ہوئے دیکھتی ہیں۔ زمانۂ حال کے مشاہدات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دوربین سے دکھائی دینے والے شہاب ثاقب جو فضائے بسیط سے زمین کی طرف آتے نظر آتے ہیں، ان کی تعداد کا اوسط 10 کھرب روزانہ ہے، جن میں سے دو کروڑ کے قریب ہر روز زمین کے بالائی خطے میں داخل ہوتے ہیں اور بمشکل ایک زمین کی سطح تک پہنچتا ہے۔ ان کی رفتار بالائی فضا میں کم و بیش 26 میل فی سیکنڈ ہوتی ہے جو بسا اوقات 50 میل فی سیکنڈ تک دیکھی گئی ہے۔ بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ برہنہ آنکھوں نے بھی ٹوٹنے والے تاروں کی غیر معمولی بارش دیکھی ہے۔ چناچہ یہ چیز ریکارڈ پر موجود ہے کہ 13 نومبر 1833 ء کو شمالی امریکہ کے مشرقی علاقے میں صرف ایک مقام پر نصف شب سے لے کر صبح تک 2 لاکھ شہاب ثاقب گرتے ہوئے دیکھے گئے۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا) ہوسکتا ہے کہ یہی بارش عالم بالا کی طرف شیاطین کی پرواز میں مانع ہوتی ہو، کیونکہ زمین کے بالائی حدود سے گزر کر فضائے بسیط میں 10 کھرب روزانہ کے اوسط سے ٹوٹنے والے تاروں کی برسات ان کے لیے اس فضا کو بالکل ناقابل عبور بنا دیتی ہے۔ (بحوالہ تفہیم القرآن) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ إِذَا قَضَی اللّٰہُ الأَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلَی صَفْوَانٍ قَالَ عَلِیٌّ وَقَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذَلِکَ فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ، قَالُوا لِلَّذِیْ قَالَ الْحَقَّ وَہْوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیرُ ، فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ ، وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہَکَذَا وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ ، وَفَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہٖ الْیُمْنَی، نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ ، قَبْلَ أَنْ یَرْمِیَ بِہَا إِلَی صَاحِبِہِ ، فَیُحْرِقَہُ وَرُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰی یَرْمِیَ بِہَا إِلَی الَّذِیْ یَلِیہِ إِلَی الَّذِی ہُوَ أَسْفَلُ مِنْہُ حَتَّی یُلْقُوہَا إِلَی الأَرْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلَی الأَرْضِ فَتُلْقَی عَلَی فَمِ السَّاحِرِ ، فَیَکْذِبُ مَعَہَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ فَیَصْدُقُ ، فَیَقُوْلُوْنَ أَلَمْ یُخْبِرْنَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا یَکُوْنُ کَذَا وَکَذَا، فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا لِلْکَلِمَۃِ الَّتِی سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَہُ شِہَابٌ مُبِینٌ)] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کو نبی ﷺ کی یہ حدیث پہنچی جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر ہلاتے ہیں جس طرح کہ چٹان پر پھوار پڑتی ہے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ملائکہ اس حکم کا نفاذ کرتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں حق فرمایا۔ وہی سب سے بلند وبالا ہے پس شیاطین اسے چوری چھپے سنتے ہیں اور ان کے سننے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے کندھوں پر سوار ہوتے ہوئے آسمان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفیان نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھتے ہوئے سے اس کو بیان کرتے کیا بسا اوقات سننے والے شیطان پر شہاب ثاقب لپکتا ہے پہلے اس کے کہ وہ اس بات کو اپنے ساتھی تک پہنچائے وہ اس کو جلا دیتا ہے اور بسا اوقات شہاب ثاقب اسے نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ شیطان اسے نیچے والوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ بات چلتے چلتے زمین والوں تک پہنچ جاتی ہے ابو سفیان کہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس بات کو زمین والوں تک پہنچا دیتا اور اسے جادو گر کے منہ میں القاء کرتے ہیں۔ وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملاتا ہے اس کی ایک بات کی وجہ سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے وہ کہتا ہے میں نے فلاں فلاں موقع پر تمہیں فلاں فلاں بات نہیں بتلائی تھی اور وہ حق ثابت ہوئی تھی اس وجہ سے کہ وہ بات انھوں نے آسمان سے سنی تھی۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں برج بنائے ہیں۔ 2۔ آسمان کو ستاروں سے آراستہ فرمادیا گیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو شیاطین سے محفوظ کردیا ہے۔ 4۔ چوری کرنے والے شیطان کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن برجوں اور ستاروں کا بیان : 1۔ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے انھیں آراستہ کیا۔ (الحجر : 16) 2۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : 61) 3۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے سجایا۔ (البروج : 1) 4۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے آراستہ کردیا ہے۔ (الصافات : 6) 5۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور شیطانوں سے محفوظ رکھا۔ (حٰم السجدۃ : 12) 6۔ کیا انہوں نے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسے بنایا اور سجایا۔ (ق : 6) 7۔ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہو اپایاجناب کا بیان۔ (الجن : 8)
Ayahs 15:19–21

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

” اور ہم نے زمین کو پھیلا یا، اس میں پہاڑ رکھے اور ہم نے اس میں ہر چیز مناسب مقدار میں اگائی۔ “ (19) ”

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں تمہارے لیے کئی قسم کے اسباب بنائے ہیں اور ان کیلئے بھی جنہیں تم قطعًا روزی دینے والے نہیں ہو۔ “ (20) ”

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی ایسی چیز نہیں مگر اس کے ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں۔ اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے کے مطابق۔ “ (21)

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے ذکر کے بعد زمین کا تذکرہ اور ظاہری جسامت کے حوالے سے سب سے بڑی مخلوق پہاڑوں کا بیان۔ سورۃ الانبیاء کی آیت 30 میں زمین و آسمان کی ابتدائی ہیئت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کیا اللہ کے منکر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح ایک دوسرے سے الگ کیا۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ سورة السجدۃ کی آیت 9 تا 13 میں قدرے تفصیل بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو دو دن میں بنایا۔ اس کے بعد اس پر پہاڑ نصب کیے پھر دو دن میں آسمانوں کی تکمیل کی اور ہر آسمان کے متعلقات کو انہیں اپنے اپنے مقام پر ٹھہرنے کا حکم صادر فرمایا۔ بعد ازاں آسمان دنیا کو ستاروں کے ساتھ خوبصورت کیا اور اس کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ یہ سب غالب اور ہر چیز کا علم رکھنے والے اللہ کے فرمان کے عین مطابق ہوا۔ یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے زمین کو پھیلا کر اس میں پہاڑوں کا ایک وسیع سلسلہ جما دیا اور زمین میں ہر چیز کو مقررہ مقدار اور معیار سے پیدا کیا۔ اس میں لوگوں کی معیشت کا بندوبست فرمایا اور ان کے رزق کا بندو بست بھی کیا جن کا رزق تمہارے ذمہ نہیں ہے۔ یہاں زمین کو پھیلانے کا ذکر کرنے کے بعد پہاڑوں اور زمین کی نباتات کا ذکر فرمایا ہے۔ ان آیات میں دو باتوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک تو ہر چیز کو نہایت متناسب اور موزوں انداز سے پیدا کیا گیا ہے۔ جس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ ہر چیز اپنے تخلیقی معیار کو پہنچ کر خود بخود ایک مقام پر جا کر کے ٹھہر جاتی ہے۔ انسان اپنی تخلیق پر غور کرے تو اس حقیقت کو جان کر ششدر رہ جاتا ہے۔ کہ اس کا ہر عضو تخلیق کے مقررہ معیار پر پہنچ کر ایک موزوں شکل و صورت میں ٹھہر جاتا ہے۔ اگر خالق کائنات کا ضابطۂ تخلیق اپنی موزونیت کے اصول پر نہ رہے تو انسان کے ناک، کان اور آنکھیں کتنی خوف ناک اور بےڈھنگی ہوسکتی تھیں۔ ایک انسان کے باقی سب اعضاء موزوں اور مناسب شکل و صورت میں ہوں۔ لیکن اس کی ناک ہی صرف آدھا فٹ لمبی ہوجائے۔ تو وہ کتنا خوفناک انسان ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا کرشمہ اور اس کا ناقابل فراموش احسان ہے کہ اس نے ہر چیز کو ایک متعین شکل و صورت اور مقدار سے پیدا کیا ہے۔ جنس انسانی کے اعتبار سے اگر دنیا میں ہمیشہ مردوں یا عورتوں کی بہتات رہتی تو سلسلۂ تخلیق کس طرح متناسب رہ سکتا تھا۔ یہی صورت حال نباتات کی ہے۔ ایک علاقے میں ایک جنس کی پیداوار زیادہ ہے تو دوسرے علاقے میں کسی دوسری چیز کی پیداوار زیادہ ہوگی تاکہ رسد و نقل کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کریں۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ زمین کو صرف فرش کے طور پر ہی نہیں پھیلایا گیا بلکہ اس میں انسانوں کی معیشت اور رزق کا نہایت مناسب نظام قائم کردیا گیا ہے۔ انسان تو اپنی روزی خود کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن زمین اور اس کے اندر یہاں تک کہ فضاؤں میں بسنے والی مخلوق کو صرف اللہ تعالیٰ رزق مہیا کرتا ہے۔ ہر کسی کی روزی اس کی ضرورت کے مطابق پہنچائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں لا محدود خزانے ہیں جسے وہ ہر وقت اور ہر دور میں مناسب اور اپنے ہاں متعین مقدار کے مطابق نازل کرتا رہتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ زمین میں ہر چیز اندازے کے مطابق اگاتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر کھانے والے کا رزق پیدا کر رکھا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز متعین مقدار کے مطابق نازل فرماتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کے لا محدود خزانے ہیں : 1۔ ہم نے اس زمین میں تمہارے لیے معاش کا سامان بنایا اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے۔ (الحجر : 20) 2۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی رزق کو فراخ اور تنگ کرتا ہے۔ (الزمر : 52) 3۔ زمین میں ہر قسم کے چوپاؤں کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ (ھود : 2) 4۔ بیشک اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ (الذاریات : 58)
Ayahs 15:22–25

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

” اور ہم نے ہواؤں کو بار آور بنا کر بھیجا پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے تمہیں پلایا اور تم ہرگز اس کو جمع کرنے والے نہیں تھے۔ “ (22) ”

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں۔ “ (23) ”

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور یقیناً وہ ہمارے علم میں ہیں جو تم میں سے بہت پہلے جانے والے ہیں اور بلا شبہ وہ بھی ہمارے علم میں ہیں جو پیچھے آنے والے ہیں۔ “ (24) ”

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب ہی انہیں اکٹھا کرے گا۔ یقیناً وہ حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ (25)

فہم القرآن ربط کلام : انسان کا رزق اور ہر چیز کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ رزق کے اسباب میں پانی اور ہوا کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ اس لیے پانی اور ہواکا ذکر ضروری سمجھا۔ انسان اور حیوانات کا رزق، نباتات کی ضروریات اللہ تعالیٰ ہی پوری کرتا ہے۔ اس کے پاس کائنات کا نظام چلانے کے لیے ہر چیز کے لامحدود خزانے موجود ہیں۔ جہاں تک رزق کا معاملہ ہے اس میں زمین کا کردار بنیادی اور مرکزی ہے۔ کیونکہ انسان کی تخلیق میں بنیادی میٹریل مٹی ہے اور اس کی خوراک کا انتظام بھی مٹی یعنی زمین سے ہی کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی عوامل ہوا اور پانی ہیں ان کے ساتھ سورج کی حرارت اور چاند کی روشنی بھی معاون ہے۔ مگر بنیادی کردار ہوا اور پانی کا ہے۔ ہوا کے بغیر جاندار چیزوں کا چند لمحوں کے بعد مرنا یقینی ہے اور پانی کے بغیر انسان حیوان اور نباتات کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ سورة الانبیاء، آیت : 30 میں فرمایا کہ ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے۔ انسان، جنات، حیوانات اور نباتات کو پانی فراہم کرنے کے تین ذرائع ہیں۔ 1۔ زمین کے اندر پانی کا بےانتہا ذخیرہ ہے۔ جو دریاؤں، چشموں اور سمندر کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جغرافیہ دانوں کا اندازہ ہے کہ دنیا میں تین حصے پانی اور ایک حصہ خشکی ہے جس میں پہاڑ بھی شامل ہیں۔ سمندر کے پانی کی کثیر مقدار پینے کے قابل نہیں جس وجہ سے زمین کے اندر کا پانی کنوؤں اور دوسرے ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اگر پانی کی سطح گہری کردی جائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جو پانی مہیا کرسکے۔ (الملک : 30) 2۔ اللہ تعالیٰ بعض علاقوں میں ہوا کا نقطۂ انجماد اس قدر زیادہ کرتا اور نیچے لے جاتا ہے کہ پہاڑ کئی کئی فٹ برف سے ڈھانپ دیے جاتے ہیں۔ پانی کی مقدار میں مزید اضافہ کرنے کے لیے سردیوں میں برف باری کا سلسلہ قائم فرمایا ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کا ایسا نظام ہے۔ جو امیر سے امیر حکومت بھی نہیں کرسکتی، پھر اللہ کی شان دیکھیں یہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمع کیا گیا ہے جس میں کسی غلاظت کے شامل ہونے کا اندیشہ نہیں۔ اس کو سورج کی تپش سے پگھلا کر ندی نالوں اور دریاؤں کی شکل میں دور دراز علاقوں تک پہنچانے کا بندو بست فرمایا ہے۔ 3۔ پانی کی کمی کو پورا کرنے اور اسے دور دور تک پہنچانے کے لیے ہواؤں اور سورج کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ سورج کی تپش سے اٹھنے والے بخارات کو ہوائیں مختلف گیسوں کے ساتھ فلٹرائز کر کے فضا میں اتنا اونچا لے جاتی ہیں کہ بخارات بادلوں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوائیں بادلوں کو دھکیل کر اس علاقے میں پانی برساتی ہیں جہاں برسنے کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ جس سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ اسی سے موت وحیات کا استدلال پیش کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے آخرت کے منکر انسانو ! جو مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ وہی مالک تمہاری موت اور زندگی کا اختیار رکھتا ہے تم سب نے ایک دن مرجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا وارث ہے اور ہوگا۔ وہ تم سے پہلے لوگوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے بعد آنے والے لوگوں کا بھی اسے علم ہے۔ تم آخرت کا اقرار کرو یا انکار بالآخر اللہ تعالیٰ تم سب کو اپنے ہاں جمع فرمائے گا۔ اگر آج تم اس کی ذات اور احکام کا انکار کرتے ہو اور وہ تمہیں پکڑتا نہیں تو یہ نہ سمجھنا کہ تم اس کے علم اور اختیارات سے باہر ہو اس نے اپنی حکمت کے تحت تمہیں مہلت دے رکھی ہے۔ وہ اپنے احکام اور فیصلوں کی حکمت جاننے کے ساتھ ہر بات اور چیز کا علم رکھتا ہے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ ہی پانی سے لدی ہوئی ہواؤں کو بھیجتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمانوں سے بارش برستی ہوتی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی سب کو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہی ہر چیز کا وارث ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ فوت ہونے اور دنیا میں آنے والوں کو جانتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ حکمت اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
Ayahs 15:26–27

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

” اور بلا شبہ ہم نے انسان کو کھڑکھڑانے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبو دار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔ “ (26)

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

” اور جنات کو اس سے پہلے آگ کی لو سے پیدا کیا۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمانوں اور پہاڑوں کی تخلیق کے ذکر کے بعد انسان کی تخلیق کا بیان۔ یہاں بڑے لطیف انداز میں لوگوں کو موت کے بعد جی اٹھنے پھر حشر کے میدان میں اکٹھا ہونے کی دلیل دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے لوگو ! ذرا غور کرو جس نے تمہیں بدبودار گارے اور کھڑکھڑانے والی مٹی سے پیدا کیا ہے اور تم سے پہلے جنات کو آگ کی لو سے پیدا کیا۔ کیا وہ قیامت کے دن تمہیں دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ پیدا ہی نہیں بلکہ سب کو اپنے حضور جمع کر کے تمہارے اعمال پر تمہیں جزا یا سزا بھی دے گا۔ قرآن مجید نے اس بات کو باربار بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مگر بعض لوگ اس حقیقت کو نہیں مانتے اور وہ اپنے مشاہدے اور غلط تجربات کی بنیاد پر اس حقیقت کو ٹھکراتے ہیں۔ حالانکہ نہ صرف اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا بلکہ اس سے پہلے جنوں کو آگ کی لو سے پیدا فرمایا ہے۔ اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس اللہ نے مٹی سے انسان کو پہلے بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا ہے۔ کیا وہ اس مٹی سے دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ ملائکہ، جن اور انسان کی تخلیق : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ خُلِقَتِ الْمَلاَ ءِکَۃُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ )[ رواہ مسلم : باب فِی أَحَادِیثَ مُتَفَرِّقَۃٍ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو بھڑکتی ہوئی آگ سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ “ انسان ہر دیکھنے والے درند پرند کو نظر آتا ہے جبکہ جن کسی کو نظر نہیں آتے۔ (عَنْ اَنَسٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ﷺ قَالَ لَمَّاصَوَّرَ اللّٰہُ اٰدَمَ فِیْ الْجَنَّۃِ تَرَکَہٗ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَتْرُکَہٗ فَجَعَلَ اِبْلِیْسُ یُطِیْفُ بِہٖ یَنْظُرُ مَا ھُوَفَلَمَّارَاٰہُ اَجْوَفَ عَرَفَ اَنَّہٗ خُلِقَ خَلْقًا لَایَتَمَالَکُ ) [ رواہ مسلم : باب خُلِقَ الإِنْسَانُ خَلْقًا لاَ یَتَمَالَکُ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی جنت میں شکل و صورت بنائی تو اس کے پیکر کو جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا جنت میں اسی طرح رہنے دیا۔ ابلیس نے اس کے گرد گھومنا شروع کیا اور غور کرتا رہا کہ یہ کیا ہے ؟ جب اس نے مجسمہ کو دیکھا کہ یہ اندر سے کھوکھلا ہے ‘ تو وہ سمجھ گیا کہ یہ ایک ایسی مخلوق تخلیق کی جارہی ہے، جو مستقل مزاج نہیں ہوگی۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ خَلَقَ اللَّہُ آدَمَ عَلَی صُورَتِہِ ، طُولُہُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلَقَہُ قَالَ اذْہَبْ فَسَلِّمْ عَلَی أُولَءِکَ النَّفَرِ مِنَ الْمَلاَءِکَۃِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا یُحَیُّونَکَ ، فَإِنَّہَا تَحِیَّتُکَ وَتَحِیَّۃُ ذُرِّیَّتِکَ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ فَزَادُوہُ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ ، فَکُلُّ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ آدَمَ ، فَلَمْ یَزَلِ الْخَلْقُ یَنْقُصُ بَعْدُ حَتَّی الآنَ )[ رواہ البخاری : باب بَدْءِ السَّلاَمِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت کے مطابق بنایا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ جب آدم کی تخلیق ہوچکی تو اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فرشتوں کی جماعت کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہو اور جو وہ جواب دیتے ہیں اسے سنووہ تیرے لیے اور تیری اولاد کے لیے تحفہ ہوگا۔ آدم (علیہ السلام) نے فرشتوں کو سلام کہا تو فرشتوں نے سلام کا جواب دیا اور حمۃ اللہ کا اضافہ کیا ہر انسان کی جنت میں آدم کی صورت ہوگی تب سے لے کر آج تک آدم کی اولاد کے قد میں کمی واقع ہوتی آرہی ہے “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو انسانوں سے پہلے آگ کی لو سے پیدا فرمایا۔ تفسیر بالقرآن تخلیق انسانی کے مختلف مراحل : 1۔ یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (الحجر : 26) 2۔ انسان کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ (آل عمران : 59) 3۔ اللہ نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ (المومنون : 12) 4۔ حوا کو آدم سے پیدا فرمایا۔ (النساء : 1) 5۔ اللہ نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔ (الدھر : 2) 6۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اسے نطفہ بنایا، پھر اس سے خون کا لوتھڑا، پھر اس سے بوٹی بنا کر۔ (الحج : 5) 7۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا بنا کر تمہیں پیدا کرتا ہے کہ تم بچے ہوتے ہو۔ (المومن : 67) 8۔ کیا تو اس ذات کا کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الکہف : 37) 9۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا۔ (الروم : 20) 10۔ اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے جوڑے بنائے۔ (فاطر : 11)
Ayahs 15:28–33

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

” اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا یقیناً میں بجنے والی مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبو دار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔ “ (28) ”

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

جب میں اسے مکمل کرلوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گرجانا۔ “ (29) ”

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

پس تمام فرشتوں نے اکٹھے ہو کر سجدہ کیا۔ “ (30)

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

” مگر ابلیس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ “ (31) ”

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس ! تجھے کیا ہے ؟ کہ تو سجدہ کرنے والوں میں نہیں ہوا۔ “ (32) ”

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

ابلیس نے کہا میں کیوں بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہے۔ “ (33) ”

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق آدم کے بارے میں مختصر اشارہ کرنے کے بعد اس کے اعزاز کا تذکرہ۔ قرآن مجید کا یہ بھی اسلوب ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کہانی اور زیب داستان کے لیے بیان نہیں کرتا۔ بلکہ ہر بات کو موقع محل کے مطابق اور مؤثر نصیحت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اثر آفرینی کے لیے کسی بات کا دوبارہ ذکر کرنا مقصود ہو تو اس کا انداز اور الفاظ پہلے بیان سے مختلف ہوتے ہیں۔ تاکہ پڑھنے والے کو نئے انداز کے ساتھ اس کی راہنمائی کے لیے نئی دلیل پیش کی جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا یوں بیان فرمایا ہے کہ اے انسان ! جب تیرے رب نے ملائکہ کو حکم دیا کہ یقیناً میں بدبودار اور کھنکھناتی مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سب کے سب ملائکہ نے سجدہ کیا۔ پہلے پارے میں اس کی یوں تفصیل بیان فرمائی کہ جب آپ کے رب نے ملائکہ سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ سے مراد نمائندہ اور حکمران ہے۔ لیکن ملائکہ نے کہا، کیا آپ زمین میں اس کو خلیفہ بنائیں گے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا ؟ ہم آپ کی حمد و ستائش کے ساتھ تسبیح اور پاکی عرض کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے نام بتلائے گئے۔ اس کے بعد ان چیزوں کو ملائکہ کے سامنے پیش کر کے پوچھا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے معذرت پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ اے اللہ ! تو پاک ہے ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتلایا ہے۔ یقیناً تو ہی سب کچھ جاننے والا ہے اور تیرے ہر کام اور فرمان میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کو ان چیزوں کے نام بتلانے کا حکم دیا اور آدم (علیہ السلام) نے سب چیزوں کے نام بتلائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں زمین و آسمان کے غیب کو جانتا ہوں اور میں وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ اس کے بعد ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں۔ ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ یہاں فرمایا کہ جب میں اس کا ڈھانچہ بنا لوں اور اپنی روح پھونک دوں پھر سب کے سب اسے سجدہ کرو۔ (حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیْعِ الأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَی قَدْرِ الأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمُ الأَحْمَرُ وَالأَبْیَضُ وَالأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذَلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ )[ رواہ ابوداؤد : باب فِی الْقَدَرِ ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا فرمایا اسی لیے آدم کی اولاد زمین کی رنگت کے مطابق ہے بعض ان میں سے سرخ ہیں اور بعض سفید، اور بعض سیاہ اور انھی کے درمیان کچھ آرام اور سکون سے زندگی بسر کرنے والے ہیں اور کچھ غم زدہ اور کچھ خبیث النفس اور کچھ پاک ہیں۔ “ روح کیا ہے ؟ (وَیَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ وَمَآأُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیْلاً ) [ بنی اسرائیل : 85] ” وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں فرما دیں روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ “ (روح کی تفصیل سورة بنی اسرائیل کی آیت 85 کی تفسیر میں بیان ہوگی۔ انشاء اللہ ) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی سے پہلے فرشتوں کو آگاہ فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ 3۔ شیطان کے سوا تمام فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔
Ayahs 15:34–35

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بس اس سے نکل جا، یقیناً تو مردود ہے۔ “ (34) ”

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور یقیناً قیامت کے دن تک تجھ پر لعنت برستی رہے گی۔ “ (35)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے جونہی حکم صادر فرمایا تو تمام کے تمام ملائکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سر بسجود ہوگئے۔ سوائے ابلیس کے وہ اکڑا رہا اور اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے استفسار فرمایا۔ تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ نہیں کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس نافرمانی اور سرکشی پر رب ذوالجلال سے معافی طلب کرتا لیکن اس نے یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی گستاخی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی عیب جوئی کی کہ میں ایک بشر کو کیوں سجدہ کروں جس کو تو نے بدبودار اور کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مسائل 1۔ ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ 2۔ شیطان نے تکبر کی بنیاد پر سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اپنی بارگاہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔ 4۔ قیامت تک شیطان پر لعنت و پھٹکار ہوگی۔
Ayahs 15:36–40

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

” اس نے کہا اے میرے رب ! پھر اس دن تک مہلت دے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ “ (36) ”

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے۔ “ (37) ”

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

معلوم دن کے وقت تک۔ “ (38) ”

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور ان کے لیے زمین مزین کروں گا اور میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔ “ (39) ”

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے تیرے وہ بندے جو مخلص ہیں۔ “ (40)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ابلیس کی درخواست کہ مجھے مہلت دیں میں ابن آدم کو گمراہ کروں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش محروم ہونے کے باوجود ابلیس نے ربِّ کریم کی بارگاہ میں درخواست پیش کی کہ اے میرے رب ! مجھے قیامت تک زندہ رکھ اور مہلت دے کہ میں ابن آدم کو گمراہ کرتا رہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا تجھے اس دن تک مہلت دی جاتی ہے جس کا علم میرے سوا کسی کو نہیں ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ رب کریم کی شفقت و مہربانی کو پیش نظر رکھتے ہوے ابلیس اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا۔ مگر ابلیس معافی کا خواستگار ہونے کے بجائے مزید سر کشی اور گستاخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے آدم کی وجہ سے رسوا کیا ہے۔ اس لیے میں زمین پر جا کر آدم اور اس کی اولاد کو خوش فہمیوں اور فریب کاریوں کے ذریعے گمراہ کروں گا۔ البتہ تیرے مخلص بندے میرے چنگل سے بچ جائیں گے۔ میں ان کو گمراہ نہیں کرسکوں گا۔ یعنی مستقل طور پر شیطان اللہ کے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ مخلص کا معنی ہے جو اللہ تعالیٰ پر بلا شرکت غیر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرے اور اس کے رسول کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرے۔ ابلیس کو مہلت دینے کی حکمت یہ ہے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے۔ (عَنْ أَبِیْ سَعَیْدٍ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الشَّیْطَانَ قَالَ وَعِزَّتِکَ یَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أَغْوِیْ عِبَادَکَ مَا دَامَتْ أَ رْوَاحُہُمْ فِیْ أَجْسَادِہِمْ ، فَقَال الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَعِزَّتِیْ وَجَلاَلِیْ لاَ أَزَالُ أَغْفِرُ لَہُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِیْ )[ رواہ الحاکم فی المستدرک : کتاب التوبۃ والانابۃ ] ” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان نے کہا اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم میں ہمیشہ تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسموں میں روحیں موجود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ! میں ہمیشہ انہیں معاف کرتا رہوں گا جب تک یہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ مَعَ إِحْدٰی نِسَآءِہٖ فَمَرَّ بِہٖ رَجُلٌ فَدَعَاہُ فَجَآءَ فَقَالَ یَا فُلاَنُ ہٰذِہٖ زَوْجَتِیْ فُلاَنَۃُ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ کُنْتُ أَظُنُّ بِہٖ فَلَمْ أَکُنْ أَظُنُّ بِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِیْ مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیمِ الْخَلْوَۃِ بالأَجْنَبِیَّۃِ وَالدُّخُولِ عَلَیْہَا ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی کریم ﷺ اپنی کسی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے ایک آدمی آپ کے قریب سے گزرا، آپ نے اسے آواز دے کر کہا اے فلاں یہ میری بیوی ہے۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! میں آپ کے بارے میں کس طرح شک کرسکتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یقیناً شیطان انسان کے جسم میں اس طرح گردش کرتا ہے جس طرح خون گرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ 2۔ شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ 3۔ اللہ کے مخلص بندے شیطان کے جال سے محفوظ رہیں گے۔