Ayahs 15:41–44فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس کے جواب میں رب ذوالجلال کا فرمان۔
اخلاص ہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گامزن رہنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور اسی راستے پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی منشا اور رضا کو پاسکتا ہے۔ جو لوگ اس راستے کو اپنائیں گے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرے بندے ہیں۔ اے ابلیس ! ان پر تیرا کبھی غلبہ نہ ہو پائے گا۔ ہاں ! تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جو صراط مستقیم سے بھٹک کر تیری اطاعت کریں گے۔ ان سب کے لیے میرا وعدہ ہے کہ میں ضرور انہیں جہنم میں داخل کروں گا۔ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے میں مقررہ تقسیم کے مطابق مجرموں کو داخل کیا جائے گا۔ اہل علم نے مقررہ تقسیم سے یہ مراد لی ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف جرائم اور ان کی سنگینی کے مطابق مجرموں کو جہنم کے مختلف طبقات میں داخل کرے گا۔
(وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ )[ الانعام : 153]
” یہی میرا راستہ ہے اس کی پیروی کرو، متفرق راستوں کو مت اپناؤ اس بات کی تمہیں وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ “
جنت اور جہنم کے دروازے :
(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ؓ قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَمِینِہِ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَسَارِہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ فِی الْخَطِّ الأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللَّہِ ثُمَّ تَلاَ ہَذِہِ الآیَۃَ (وَأَنَّ ہَذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ ) )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب اتِّبَاعِ سُنَّۃِ رَسُول اللَّہِ ﷺ ]
” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے آپ نے ایک سیدھا خط کھینچا اور اس کی دائیں جانب دو خط اور بائیں دو خط کھینچے پھر اپنے ہاتھ کو درمیانے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی (بےشک یہی میرا سیدھا راستہ ہے اس کو اپنالو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو وگرنہ تم سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے۔ ) “
صراط مستقیم کے سنگ میل :
1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ 2۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔
3۔ اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے۔ 4۔ ظاہری اور باطنی فحاشی کے قریب نہ جائیں۔
5۔ کسی کو ناحق قتل نہ کریں۔ 6۔ یتیم کے مال کے قریب نہ جائیں۔
7۔ ماپ تول کو پورا کریں۔ 8۔ عد ل و انصاف کی گواہی دیں۔
9۔ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کریں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔ 2۔ شیطان کے پیرو کار جہنم میں جائیں گے۔
3۔ جہنم کے سات دروازے ہیں۔ 4۔ ہر دروازہ کے لیے مجرموں کا مقرر حصہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
صراط مستقیم کے نشانات :
1۔ اللہ نے فرمایا ہے سیدھا راستہ مجھ تک پہنچتا ہے۔ (الحجر : 41)
2۔ اللہ کی عبادت کرنے والا صراط مستقیم پر ہے۔ (یٰس : 61)
3۔ اللہ کی خالص عبادت کرنا صراط مستقیم پر گامزن ہونا ہے۔ (آل عمران : 51)
4۔ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اس میں شک نہیں کرنا چاہیے یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : 68)
5۔ یقیناً اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : 64)
Ayahs 15:45–48فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے مخلص بندوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوسکتا۔ اب مخلص بندوں کے اجرو ثواب کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
مخلص بندوں کی پہلی اور بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کی نافرمانیوں سے بچتے ہیں۔ ان کے اجرو ثواب کا یوں تذکرہ فرمایا کہ یہ ایسی جنت میں داخل کئے جائیں گے جس میں چشمے اور آبشاریں جاری ہوں گی۔ وہ اس میں امن و سلامتی کے ساتھ داخل ہوں گے۔ جس میں انہیں نہ کوئی مشقت اٹھانا پڑے گی اور نہ ہی انہیں جنت سے نکالے جانے کا خطرہ ہوگا۔ دنیا میں رہتے ہوئے انسان ہونے کے ناطے سے اگر ان کی باہمی رنجش ہوگی تو اللہ ان کے دلوں سے عداوت و کدورت نکال دے گا۔ جنتی اخوت و بھائی چارے کی فضا میں ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو کر بیٹھا اور ٹہلا کریں گے۔ اسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سیدنا حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کی رحمت سے امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے اور معاویہ کے درمیان ہونے والی رنجش کو دور فرمائے گا۔ ہم جنت میں بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے بیٹھا کریں گے۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَام الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْ جَلَسَ فِیْٓ اَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھَا قَالُوْا اَفلَاَ نُبَشِّرُ بِہِ النَّاسَ قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ اَعَدَّھَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَابَیْنَ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ فَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْءَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَاِنَّہٗ اَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَاَعْلَی الْجَنَّۃِ وَفَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ اَنْھَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا، نماز قائم کی ‘ رمضان کے روزے رکھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ذمّہ لے لیا ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ خواہ اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا یا اپنی آبادی میں رہا جہاں وہ پیدا ہوا۔ صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا ‘ اے اللہ کے رسول ! اجازت ہو تو ہم لوگوں کو یہ خوش خبری سنائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ‘ بلاشبہ جنت کی سومنزلیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے ‘ جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر دو منزلوں کے درمیان زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے۔ جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو۔ کیونکہ وہ اعلیٰ و افضل جنت ہے۔ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ “
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن چہرہ ہوں گے۔ جو ان کے بعد داخل ہوں گے یہ آسمان پر بہت تیز چمکنے والے ستارے کی طرح ہوں گے تمام جنتیوں کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ تو ان کے درمیان باہمی اختلاف ہوگا اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ ان میں سے ہر شخص کے لیے حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی۔ حسن کی وجہ سے جن کی پنڈ لیوں کا گودا ‘ ہڈی اور گوشت کے پیچھے دکھائی دے گا۔ اہل جنت صبح شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔ نہ وہ بیمار ہوں گے اور نہ ہی پیشاب کریں گے ‘ نہ رفع حا جت کریں گے اور نہ ہی تھوکیں گے اور نہ ہی ناک سے رطوبت بہائیں گے۔ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ انگیٹھیوں کا ایندھن عود ہندی ہوگا اور ان کا پسینہ کستوری کی طرح ہوگا۔ سب کا اخلاق ایک جیسا ہوگا نیز وہ سب شکل و صورت میں اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے۔ آدم کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا۔ “ [ رواہ البخاری : باب خَلْقِ آدَمَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِ وَذُرِّیَّتِہِ ]
تفسیر بالقرآن
جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک :
1۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : 47۔ 48)
2۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : 35)
3۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : 28 تا 30)
4۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 23) 5۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : 31)
Ayahs 15:49–50فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے جنتیوں کا انعام اور جہنمیوں کے انجام کا ذکر ہوا ہے۔ اب اسی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا تذکرہ فرمایا۔
متقین اور ان کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہایت مشفقانہ انداز میں فرمایا اے نبی ﷺ ! میرے بندوں کو فرما دیجئے کہ میں معاف کرنے والا نہایت مہربان ہوں اور انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو میری سر کشی و نافرمانی کرے گا تو میرا عذاب بھی شدید ہوا کرتا ہے۔ بخشش اور مہربانی کا ذکر کرنے کے ساتھ شدید عذاب کا اس لیے بیان کیا ہے تاکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی رحمت کو پیش نظر رکھ کر جان بوجھ کر سرکشی اور نافرمانی کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے لیے نہایت مہربان ہے اور ظالموں کے لیے جبار، قہار اور سخت عذاب دینے والا ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لَمَّا قَضَی اللَّہُ الْخَلْقَ کَتَبَ عِنْدَہُ فَوْقَ عَرْشِہِ ، إِنَّ رَحْمَتِی سَبَقَتْ غَضَبِی) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ تَعَالَی (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ )]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس وقت اللہ کے عرش پر لکھا ہوا تھا بیشک میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے جا چکی ہے۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ لِلَّہِ ماءَۃَ رَحْمَۃٍ أَنْزَلَ مِنْہَا رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ وَالْبَہَاءِمِ وَالْہَوَامِّ فَبِہَا یَتَعَاطَفُونَ وَبِہَا یَتَرَاحَمُونَ وَبِہَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَی وَلَدِہَا وَأَخَّرَ اللَّہُ تِسْعًا وَتِسْعِینَ رَحْمَۃً یَرْحَمُ بِہَا عِبَادَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )[ رواہ مسلم : باب فِی سَعَۃِ رَحْمَۃِ اللَّہِ تَعَالَی وَأَنَّہَا سَبَقَتْ غَضَبَہُ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا بیشک اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں ان میں سے ایک حصے کو اللہ نے جنوں، انسانوں، چوپاؤں اور پرندوں میں تقسیم فرمایا جس کے ساتھ وہ آپس میں شفقت اور رحم کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ وحشی جانور بھی اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں اور اللہ نے اپنی رحمت کے ننانوے حصے اپنے پاس رکھے ہیں جن کے ساتھ اللہ قیامت کے دن رحم و کرم فرمائے گا۔ “
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَتْ قُرَیْشٌ للنَّبِیِّ ﷺ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ أَنْ یَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَہَباً وَنُؤْمِنَ بِکَ قَالَ وَتَفْعَلُونَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدَعَا فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ فَقَالَ إِنَّ رَبَّکَ عَزَّ وَجَلَّ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلاَمَ وَیَقُولُ إِنْ شِءْتَ أَصْبَحَ لَہُمُ الصَّفَا ذَہَباً فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ مِنْہُمْ عَذَّبْتُہُ عَذَاباً لاَ أُعَذِّبُہُ أَحَداً مِنَ الْعَالَمِینَ وَإِنْ شِءْتَ فَتَحْتُ لَہُمْ بَاب التَّوْبَۃِ وَالرَّحْمَۃِ قَالَ بَلْ بَاب التَّوْبَۃِ وَالرَّحْمَۃِ )[ مسند احمد ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں قریش نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے تو آپ نے فرمایا کیا تم ایسا کرو گے ؟ انھوں نے کہا ہاں۔ تو آپ ﷺ کے دعا فرمانے پر جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور عرض کی آپ کے رب نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو ہم ان کے لیے صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیں گے لیکن جو اس کے بعد کفر کرے گا میں اسے ایسے عذاب میں مبتلا کروں گا کہ اس سے پہلے کسی کو ایسا عذاب نہ ہوگا اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لیے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اللہ ان کے لیے رحمت اور توبہ کا دروازہ کھول دے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔
2۔ اللہ کا عذاب بڑا درد ناک ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عذاب کی جھلکیاں :
1۔ میرے بندوں کو بتادیں یقیناً میں بخشنے، رحم کرنے والا ہوں۔ میرا عذاب بڑا درد ناک ہے۔ (الحجر : 49۔ 50)
2۔ اچھی طرح جان لو اللہ بہت سخت سزا دینے والا، بڑی مغفرت اور رحم فرمانے والا ہے۔ (المائدۃ : 98)
3۔ اللہ گناہوں کو بخشنے اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا، قدرت والا ہے۔ (المومن : 3)
4۔ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا یقیناً وہ بخشنے والا، رحم والا ہے۔ (التوبۃ : 99)
5۔ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (الدہر : 31)
Ayahs 15:51–56فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ آیت میں رحمت کا بیان ہوا۔ اب اللہ کی رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانان گرامی کے ذکر سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور عذاب کا ذکر کیا۔ یہاں رحمت کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس کا پس منظر یہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری دینے والے ملائکہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں سلام پیش کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے معمولی توقف کے بعد ان کی خدمت میں بھنا ہوا بچھڑا پیش کیا۔ جب مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پریشانی دیکھتے ہوئے ملائکہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کی کہ آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قریب کھڑی ہوئی ان کی بیوی کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائی۔ جس پر بی بی صاحبہ نے بڑے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا میرے ہاں بیٹا جنم لے گا ؟ جبکہ میں بانجھ ہوں اور میرا خاوند بوڑھا ہوچکا ہے۔ یہ بات عجب معلوم ہوتی ہے۔ ملائکہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے ابراہیم کے اہل بیت ! کیا تم اللہ کی رحمت اور برکت پر تعجب کا اظہار کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی قابل تعریف اور بڑی عظمت والا ہے۔ ( ھود : 69 تا 73)
یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! آپ اپنے مخا لفین کو ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کا واقعہ سنائیں۔ جب انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش ہو کر سلام عرض کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا ہم تو آپ سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ مہمان ملائکہ نے عرض کیا ہم سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہم تو آپ کو ایک صاحب علم بیٹے کی خوشخبری سنانے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا یہ کیسی ہے ؟ میں تو بڑھاپے کی آخری دہلیز پر کھڑا ہوں۔ ملائکہ نے عرض کیا آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ابراہیم (علیہ السلام) فی الفور فرمانے لگے میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوں کیونکہ اس کی رحمت سے مایوس گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ وہ اپنے رب کی رحمت پر پورا یقین رکھنے والے تھے لیکن اپنی اور اپنی رفیقۂ حیات کی عمر اور صحت کا خیال کرتے ہوئے خوشخبری پر تعجب کا اظہار فرمایا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے وسائل کی کمی اور نامساعد حالات کی بنا پر حقیقت کے بارے میں تعجب کا اظہار کرنا، اللہ کی رحمت پر مایوس ہونا نہیں ہے لہٰذا تعجب کا اظہار کرنا گناہ نہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اظہار تفصیل کے لئے سوال کیا تھا ورنہ وہ تو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں تھے۔ نبی تو اسباب کی ناپیدگی کے باوجود اپنے رب کی رحمت پر بھرپور بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے۔ دوسرا اس واقعہ میں یہ بتانا مقصود ہے اے اہل مکہ ! یہ حقیقت جان لو کہ تم فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہو کہ وہ آکر اس نبی کی تائید کریں تب ہم غور کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ یاد رکھو فرشتے یا تو کسی کے لئے رحمت لے کر آتے ہیں یا زحمت ! تم سوچ لو تم کس چیز کے مستحق ہو ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر اسباب کے سب کچھ کرسکتا ہے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں اولاد کے بظاہر اسباب نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بچے عنایت فرمائے۔ اسی طرح حالات نامساعد ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضرور بر ضرور سرفراز فرمائے گا۔ اللہ اسباب کا پابند نہیں اسباب اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔
Ayahs 15:57–60فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا عملی ثبوت پیش کیا گیا ہے اور اب حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں اس کے غضب کی ایک مثال پیش کی جا رہی ہے۔ تاکہ ملائکہ کے نزول کا مطالبہ کرنے والے ملائکہ کے نزول کا پوری طرح فرق سمجھ لیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے خوشخبری سننے اور اس پر اطمینان کا اظہار کرنے کے بعد ان سے استفسار فرماتے ہیں کہ تمہاری آمد کا اور مقصد کیا ہے ؟ ملائکہ نے عرض کیا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ سوائے حضرت لوط (علیہ السلام) اور اس کی آل کے ان کو عذاب سے بچا لیا جائے گا۔ البتہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نہیں بچ سکے گی۔ کیونکہ ربِّ ذوالجلال کا یہی فیصلہ ہے کہ وہ تباہ و برباد ہونے والوں میں شامل ہو۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیویوں کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ وہ دونوں اللہ کے صالح بندوں کی بیویاں ہونے کے باوجود خیانت کی مرتکب تھیں وہ اپنے خاوندوں جو کہ اپنے اپنے وقت میں اللہ کے رسول تھے۔ ان پر ایمان لانے کی بجائے کفر اختیار کیے ہوئے تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ کا ان اقوام پر عذاب نازل ہوا تو حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی بیویوں کو عذاب سے نہ بچا سکے۔ حکم ہوا کہ تم دونوں عورتیں جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ ان کے مقابلے میں ایک بدترین انسان اور حکمران فرعون کی بیوی جنت میں جائے گی بلکہ موت سے پہلے اسے جنت کا نظارہ کروا گیا۔ یہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا انجام ذکر کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی ان کے ساتھ تباہی کے گھاٹ اتر گئی۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کَانَتْ خِیَانَتُہُمَا أنَّہُمَا کَانَتَا عَلٰی عَوْرَتَیْہِمَا فَکَانَتْ اِمْرَأۃُ نُوْحٍ تَطْلَعُ عَلٰی سِرِّ نُوْحٍ ، فَإذَا آمَنَ مَعَ نُوْحٍ أحَدٌ أخْبَرَتِ الْجَبَابِرَۃَ مِنْ قَوْمِ نُوْحٍ بِہِ ، وَأمَّا اِمْرَأۃُ لُوْطٍ فَکَانَتْ إذَا أضَافَ لُوْطُ أحَدًا أخْبَرَتْ بِہِ أہْلَ الْمَدِیْنَۃِ مِمَّنْ یَّعْمَلُ السُّوءَ )[ ابن کثیر ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی خیانت یہ تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی ان کے راز فاش کرتی تھی۔ جب کوئی شخص حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا تو وہ اس کے بارے میں ظالموں کو بتاتی دیتی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ان کے مہمانوں کے بارے میں شہر کے برے لوگوں کو خبر دیتی تھی۔ “
اللہ تعالیٰ کے ہاں کردار :
(ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا امْرَأَۃَ نُوْحٍ وَّامْرَأَۃَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللَّہِ شَیْءًا وَقِیلَ ادْخُلَا النَّارَمَعَ الدَّاخِلِیْنَ وَضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا امْرَأَۃَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ) [ التحریم : 10]
” اللہ تعالیٰ کافروں کے لیے نوح اور لوط کی بیویوں کو بطور مثال بیان فرماتا ہے۔ وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلہ میں ان دونوں کے کچھ کام نہ آسکے۔ اور دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ اہل ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب اس نے دعا کی اے میرے رب میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے۔ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا اور ظالم قوم سے مجھے نجات عطا فرما۔ “
مسائل
1۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے سوا، ان کے ایمان دار ساتھیوں کو بچا لیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت لوط کی بیوی کا کردار اور انجام :
1۔ لوط کی بیوی کے سوا اللہ نے انہیں نجات دی۔ (الحجر : 60)
2۔ ہم نے لوط اور اس کے اہل کو نجات دی مگر لوط کی بیوی پر عذاب مسلط ہوا۔ (الاعراف : 83)
3۔ نوح اور لوط کی بیویوں نے خیانت کی اللہ انہیں جہنم میں داخل کرے گا۔ (التحریم : 10)
4۔ ہم نے لوط اور اس کے اہل کو نجات دی مگر اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ (النمل : 57)
Ayahs 15:61–66فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی زندہ مثال۔
ملائکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے الوداع ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ملائکہ کو پہچان نہ سکے۔ فرمانے لگے آپ لوگ تو بالکل اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس اس کام کے لیے آئے ہیں۔ جس کام کی آمد کے بارے میں آپ کی قوم بےیقینی کا شکار ہے۔ جس کام کے لیے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں وہ حقیقت اور ہو کر رہے گا۔ یقین جانیے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ سو فیصد سچ ہے۔ بس آپ جتنا جلدی ہو سکے رات کے آخری پہر اپنے اہل کو لے کر اس بستی سے نکل جائیں۔ آپ کے لیے خصوصی ہدایت یہ ہے کہ آپ نکلنے والے قافلے کے پیچھے پیچھے رہیں اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ ان میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور ادھر کی طرف چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ہم نے لوط (علیہ السلام) کو یہ فیصلہ سنا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہونے والی پہلی اقوام کی طرح نہ صرف حق کا انکار کرتی تھی بلکہ حضرت لوط (علیہ السلام) جب انہیں سمجھاتے تو وہ انہیں یہ کہہ کر طعنہ اور دھمکی دیتے کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو بستی سے نکال باہر پھینکو کیونکہ یہ اپنے آپ کو بڑے پاکباز اور حق پر سمجھتے ہیں۔ (الاعراف : 82) لیکن حضرت لوط (علیہ السلام) ان کو بار بار سمجھاتے رہے۔ مگر قوم سمجھنے کی بجائے حضرت لوط (علیہ السلام) سے عذاب لانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں پھر سمجھایا کہ برے کاموں سے باز آؤ اور اللہ تعالیٰ سے عذاب کا مطالبہ نہ کرو اگر تم برے اعمال سے باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بالیقین آکر رہے گا۔ لیکن قوم نے ان کی کسی بات پر یقین نہ کیا یہاں تک کہ غضب ناک عذاب کا وقت آن پہنچا۔ اس کے بارے میں حضرت لوط (علیہ السلام) کو نہ صرف اس کا وقت بتلا دیا گیا بلکہ یہ ہدایت بھی کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرف نکل جانے کی آپ کو ہدایت کی ہے آپ اپنی کافر بیوی کے سوا اہل ایمان کو لے کر جلد از جلد نکل جائیں۔ قرآن مجید نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے جائے ہجرت کا ذکر نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو شام کی طرف جانے کا حکم ہوا تھا۔ (تفسیر رازی)
مسائل
1۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرشتوں کو نہ پہچانا۔
2۔ فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو رات کے اندھیرے میں نکل جانے کا حکم دیا۔
3۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو بتلایا دیا گیا کہ صبح ہونے سے پہلے ان کی قوم پر عذاب آجائے گا۔
تفسیر بالقرآن
ملائکہ کا مختلف مواقعوں پر انسانی شکل میں آنا :
1۔ جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے تو انہوں نے کہا تم اجنبی معلوم ہوتے ہو۔ (الحجر : 61۔ 62)
2۔ ہمارے ملائکہ ابراہیم کے پاس آئے اور انہوں نے سلام کہا جواباََ ابراہیم نے بھی سلام کہا۔ (ھود : 69)
3۔ ابراہیم نے فرشتوں سے خوف محسوس کیا تو انہوں نے کہا خوف کھانے کی ضرورت نہیں (ہم ملائکہ ہیں) ۔ (الذاریات : 28)
4۔ جب لوط کے پاس فرشتے آئے تو وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوئے۔ (العنکبوت : 33)
Ayahs 15:67–71فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اوباشوں کا مہمانوں کو دیکھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر یلغار کرنا۔
بڑے بڑے مفسرین نے تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے والے ملائکہ انتہائی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے۔ کیونکہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ ہم جنسی کے مرض کا شکار تھے یہ لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھنے اور نوجوان عورتوں سے شادی کرنے کے بجائے لڑکوں کے ساتھ بدکاری کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ دنیا میں تم پہلے لوگ ہو جو اس جرم میں ملوث ہو۔ اسی سبب جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ مسٹنڈوں کی طرح اچھلتے کودتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پہنچے حضرت لوط (علیہ السلام) اس صورت حال پر اس قدر پریشان ہوئے کہ بےساختہ کہنے لگے کہ آج کا دن بڑا مشکل دن ہے۔ پھر انہیں سمجھایا ” اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے جائز ہیں بس اللہ سے ڈرو۔ میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ جب دیکھا کہ یہ لوگ باز نہیں آرہے تو فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے جو تمہیں اس کام سے منع کرے وہ کہنے لگے تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اسے جانتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) انتہائی غمزدہ ہو کر ٹھنڈی آہ بھر کر فرماتے ہیں کہ اے کاش ! میں تمہارا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا یا پھر میں مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ اس پر ملائکہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں یہ لوگ آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ بس آپ نکلنے کی جلد تیاری کریں۔ انہیں صبح کے وقت عذاب آلے گا اور صبح ہونے ہی والی ہے۔ ( ھود : 77۔ 81)
حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود وہ آپ کا دروازہ توڑنے کی پے در پے کوشش کرتے رہے جب دروازہ نہ کھلا تو دیواریں پھلانگ کر اندر آئے اور گستاخانہ لہجے میں کہا کہ کیا ہم نے آپ کو بارہا نہیں کہا کہ آپ ساری دنیا کا ٹھیکہ لینے کی کوشش نہ کیا کریں ؟ اس پر حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ (الاعراف : 81 کی رو سے ان بدکاروں کی بیویوں کے لیے لوط (علیہ السلام) نے میری بیٹیوں کے الفاظ استعمال کیے۔ النساء کا لفظ قرآن میں بیویوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ (النساء : 4) (ا لطلاق : 1) بیٹیاں حاضر ہونے سے مراد نعوذ باللہ یہ نہیں کہ تم ان سے بدکاری کرسکتے ہو۔ اس جملے کا مقصد یہ ہے کہ تم جائز طریقہ اختیار کرکے ان سے نکاح کرسکتے ہو یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی اپنی قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے قوم کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں قرار دیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں شرم دلانے کے لیے یہ الفاظ کہے تھے لیکن دل نہیں مانتا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس ارادے سے یہ الفاظ استعمال کیے ہوں۔ کیونکہ عام شخص تو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے مگر پیغمبر بےانتہا غیور ہوا کرتے ہیں جن سے ایسے الفاظ کے بارے میں سوچا نہیں جاسکتا۔
(عَنِ الْمُغِیرَۃِ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ لَوْ رَأَیْتُ رَجُلاً مَعَ امْرَأَتِی لَضَرَبْتُہُ بالسَّیْفِ غَیْرَ مُصْفِحٍ ، فَقَال النَّبِیُّ ﷺ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَیْرَۃِ سَعْدٍ ، لأَنَا أَغْیَرُ مِنْہُ وَاللَّہُ أَغْیَرُ مِنِّی)[ رواہ البخاری : باب الغیرۃ ]
” حضرت مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے کہا کہ میں کسی آدمی کو اپنی عورت کے پاس پاؤں ‘ میں تو اسے قتل کردوں گا اور تلوار الٹی نہیں ماروں گا۔ جب نبی گرامی ﷺ کو اس بات کی خبر ملی ‘ تو آپ نے فرمایا تم سعد کی غیرت پر تعجب کررہے ہو۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے بھی زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔ “
مسائل
1۔ مہمانوں کی عزت و آبرو کا خیال رکھنا معاشرے کے لیے لازم ہے۔
تفسیر بالقرآن
انسانوں کو ہر حال میں اللہ سے ڈرنا چاہیے :
1۔ اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔ (الحجر : 69) 2۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : 102)
3۔ اللہ سے ڈرو اور اطاعت کرو۔ (التغابن : 16) 4۔ اس اللہ سے ڈرو جس کے سامنے تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ (المائدۃ : 96)
5۔ اے مومن بندو ! اپنے پروردگار سے ڈرو۔ (الاحزاب : 70)
6۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدۃ : 57)
Ayah 15:72فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قوم لوط (علیہ السلام) کی بدمعاشی کی انتہا۔
قوم لوط (علیہ السلام) کے بدمعاشوں کی بےحیائی اور غنڈہ گردی اس قدر حد سے بڑھ چکی تھی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) انتہائی پریشان ہو کر بےساختہ پکار اٹھے کہ کاش تمہارے مقابلے کے لیے میرے پاس قوت ہوتی یا پھر کوئی مضبوط پناہ گاہ۔ (ھود : 80)
اس کے باوجود غنڈوں کو شرم نہ آئی تو انہوں نے فرمایا میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ (لاعراف : 81) حالانکہ وہ لوگ کسی اعتبار سے بھی اس لائق نہ تھے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) انھیں اپنی دامادی میں لینے کے لیے تیار ہوتے لیکن مہمانوں کی تکریم اور اپنی بےبسی کی وجہ سے حضرت لوط (علیہ السلام) نے انتہا درجے کی پریشانی میں یہ بات کہی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے اضطراب اور بدمعاشوں کی غنڈہ گردی کی منظر کشی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں ﷺ کی عمر کی قسم کھا کر فرمایا ہے اے نبی ﷺ ! آپ کی عمر کی قسم ! اس وقت وہ لوگ بےحیائی کے نشے میں اندھے ہوچکے تھے۔ اس فرمان میں ایک طرف ان کی انتہائی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی عکاسی کی گئی ہے تو دوسری طرف یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اے نبی ! آپ کے مخالف بھی آپ کی مخالفت میں اندھے ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کو قوم لوط کا انجام اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کی عزت و عظمت کو دوبالا کرنے کے لیے آپ کی عمر کی قسم کھائی گئی ہے۔ جس سے بڑھ کر آپ کی پاکدامنی کا اور ثبوت نہیں ہوسکتا۔ مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات میں کسی کی عمر کی قسم نہیں کھائی یہ اعزازو اکرام صرف ہمارے رسول ﷺ کو بخشا گیا ہے۔
جہاں تک اللہ تعالیٰ کا مخلوق کی قسم کھانے کا معاملہ ہے یہ اس کی مرضی اور حکمت ہے وہ جس کی چاہے قسم کھائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے اسی لیے انسان کے ذہن میں کسی حقیقت کو دو چند کرنے کے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں کسی چیز کی قسم اٹھاتا ہے تو اس سے اس بات اور کام کی اہمیت میں اضافہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ قسم کا یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ جس چیز کی قسم کھائی جا رہی ہے کہ وہ قسم کھانے والے سے لازماََ بڑی یا عظیم تر ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی عظمت :
(عَنْ أبِی ذَرِّ الْغَفَّارِیِّ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ عَلِمْتَ أنَّکَ نَبِیٌّ حَتّٰی اسْتَیْقَنْتُ ؟ فَقَالَ یَا أبَا ذَرٍّ أتَانِی مَلَکَانِ وَأنَا بَ بَعْضَ بَطْحَاءَ مَکَّۃَ فَوَقَعَ أحَدُہُمَا عَلٰی الأرْضِ وَکَان الآخَرُ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ فَقَالَ أحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ أہُوَ ہُوَ ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزِنْہٗ بَرَجُلٍ فَوَزَنَتْ بِہِ فَوَزَنَتْہٗ ثُمَّ قَالَ زِنْہٗ بِعَشْرَۃٍ فَوَزَنَتْ بِہِمْ فَرَجَحْتُہُمْ ثُمَّ قَالَ زِنْہٗ بِمِاءَۃِ فَوَزَنَتْ بِہِمْ فَرَجَحْتُہُمْ کَأنِّی أنْظُرُ إلَیْہِمْ یَنْتَثِرُوْنَ عَلٰی مَنْ خِفَّۃِ الْمِیْزَانِ قَالَ فَقَالَ أحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ لَوْ وَزَنْتَہٗ بِأمِّتِہِ لَرَجَحَہَا) [ رواہ الدارمی ]
” حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کیسے جانا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں تاکہ میں بھی یقین کرسکوں آپ نے فرمایا اے ابوذر میرے پاس دو فرشتے آئے اور وہ بطحاء کی وادی میں گھومے پھرے، ایک ان میں سے زمین پر آیا اور دوسرا آسمان و زمین کے درمیان میں رہا۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کیا یہ وہی ہے اس نے کہا ہاں اس نے کہا پھر ان کا وزن ایک آدمی کے ساتھ کیجیے۔ میرا وزن ایک آدمی کے ساتھ کیا گیا میں بھاری نکلا، فرشتے نے کہا ان کا وزن دس آدمیوں کے ساتھ کیا جائے میں پھر بھی بھاری نکلا، پھر فرشتے نے کہا ان کا وزن سو آدمیوں کے ساتھ کیجیے تو میں پھر بھی بھاری نکلا۔ فرشتے نے کہا اگر تو ان کا وزن ان کی پوری امت کے ساتھ کرے گا تو یہ تب بھی بھاری نکلیں گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھائے۔
2۔ مجرم اپنی مدہوشی میں بہکے رہتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی قسموں کے چند حوالے :
1۔ آپ کی جان کی قسم ! وہ اپنی مدہوشی میں مست ہیں۔ (الحجر : 72)
2۔ قسم ہے ان ہواؤں کی ! جو بھیجی جاتی ہیں۔ (المرسلات : 1)
3۔ قسم ہے جان سختی سے نکالنے والے فرشتوں کی۔ (النازعات : 1)
4۔ قسم ہے برجوں والے آسمان کی۔ (البروج : 1)
5۔ قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والی چیز کی۔ (الطارق : 1)
6۔ قسم ہے فجر کی۔ (الفجر : 1)
7۔ میں قسم کھاتا ہوں مکہ شہر کی۔ (البلد : 1)
8۔ قسم ہے آفتاب اور اس کی روشنی کی۔ (الشمس : 1)
9۔ قسم ہے آپ کے رب کی وہ مومن نہیں ہوسکتے حتی کہ آپ اپنے درمیان فیصل تسلیم کرلیں۔ (النساء : 65)
Ayahs 15:73–77فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدمعاشوں کی بدمعاشی کا منظر پیش کرنے کے بعد ان کا انجام بیان کیا گیا ہے۔
ملائکہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو پہلے ہی بتلا دیا تھا کہ صبح کے وقت آپ کی قوم کو اللہ کا عذاب آلے گا۔ جونہی عذاب کی گھڑی آپہنچی تو حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے پوری بستی کو اٹھایا اور اس قدر اونچا لے جا کر اسے الٹ کر زمین پردے مارا کہ بستی والوں کے چیخنے کی آوازیں آسمان کے ملائکہ تک نے سنیں۔
جس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سورج نکلنے کے قریب ہی وہ پکڑے گئے اور ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اور پھر ان پر پتھر برسائے گئے جن پر مخصوص نشان لگے ہوئے تھے۔ (الذاریات : 34)
ارشاد ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں صاحب بصیرت لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے اور یہ علاقہ شاہراہ عام پر واقع ہے۔ قوم لوط کی بستیاں مدینہ سے مدین جاتے ہوئے راستے میں پائی جاتی ہیں اور آج بھی ان کے کھنڈرات عبرت کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔[ رواہ البخاری : کتاب الانبیاء باب قولہٖ تعالیٰ والیٰ ثمود اخاھم صالحا ]
دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اس کا کل رقبہ 351 مربع میل ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے اور اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل بن چکی ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ جب اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ “
1۔ اس کے پانی کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد ہے جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد شمار کیا گیا ہے۔
2۔ اس کے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنے والی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں۔ اہل عرب اس کو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔ اس صورت حال کو قرآن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
مسائل
1۔ قوم لوط کو آواز نے پکڑ لیا۔
2۔ قوم لوط کی بستی کو الٹ دیا گیا۔
3۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔
4۔ اہل بصیرت کے لئے اس واقعہ میں نشانیاں ہیں۔
5۔ قوم لوط کی بستی ایک آباد راستہ پر ہے۔
تفسیر بالقرآن
قوم لوط کے واقعہ کی تفسیر :
1۔ ہم نے اس بستی کو الٹ کر ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ (الحجر : 74)
2۔ ان کے پاس ان کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے سے ہی بدکاریاں کیا کرتے تھے۔ (ھود : 78)
3۔ لوط نے کہا کہ کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کوئی مضبوط پناہ گاہ پاتا۔ (ھود : 80)
4۔ ہم نے اوپر والی سطح کو نیچے کردیا اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسا دی جو تہہ بہ تہہ تھے خاص نشان لگے ہوئے۔ (ھود : 82)
Ayahs 15:78–79فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے بعد اصحاب ایکہ کا انجام۔
” اصحاب الایکۃ “ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہے۔ جنہیں تاریخ میں قوم مدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہل مدین عرب کے باشندے تھے۔ مدین حجاز کی سر زمین کے متصل اور بحیرۂ لوط کے قریب ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اپنے علاقہ میں نمایاں حیثیت کی حامل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف خطیب الانبیاء حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ یہ لوگ عقیدہ کے اعتبار سے کافر تھے۔ پرلے درجے کے راہزن، ناپ تول میں کمی بیشی کرنے والے، خیانت اور ملاوٹ میں ملوث اپنے علاقے کے خاص قسم کے درخت کو متبرک سمجھ کر اس کی پوجا کرتے۔ اس درخت کے ارد گرد درختوں کا بہت بڑا جھنڈ تھا۔ جس وجہ سے انہیں ” اصحاب الایکۃ “ کہا جاتا ہے۔ ان کے جرائم کی تفصیل دیکھنے کے لیے سورة الاعراف آیت : 85 تا 93 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں جرائم سے باز رکھنے کی بڑی جدو جہد فرمائی۔ مگر یہ اس قدر ظالم اور سفاک لوگ تھے کہ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھیوں پر مظالم کی انتہا کردی اور انہیں اپنے دین پر واپس لانے کے لیے دھمکیاں دیتے اور ظلم کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شدید زلزلے سے دوچار کیا اور انہیں ایک ایسے دھماکہ نے آلیا کہ یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے منہ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ جس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان سے انتقام لیا ان کا علاقہ اور انجام تمہارے سامنے ہے۔
(عَنْ أَبِیْٓ أُمَامَۃَ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ ، یَقُوْلُ إِذَا مَرَرْتُمْ عَلٰی أَرْضٍ قَدْ أُہْلِکَ أَہْلُہَا فَاعْدُوا السَّیْرَ ) [ رواہ الطبرانی فی الکبیروہو حدیث صحیح ]
” حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے جب تم ایسی زمین سے گزرو جس کے بسنے والوں کو ہلاک کیا گیا ہو تو وہاں سے جلدی گزر جاؤ۔ “
مسائل
1۔ ایکہ بستی والے ظالم تھے۔ 2۔ دونوں بستیاں شاہراہ پر واقع ہیں۔