Ayahs 15:80–84فہم القرآن
ربط کلام : اصحاب الایکہ کے بعد اصحاب الحجر کی تاریخ اور ان کا انجام۔
اصحاب الحجر سے مراد وہ قوم اور علاقہ ہے جو مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے خلیج اربعہ کے مشرق میں اور شہر مدین کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ قوم اس قدر ٹیکنالوجی اور تعمیرات کے معاملے میں ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر مکانات اور محلات تعمیر کیے تھے تاکہ کوئی زلزلہ اور طوفان انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ قوم بھی کفرو شرک کا عقیدہ رکھنے کے ساتھ ہر قسم کے جرائم میں ملوث تھی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا مگر یہ لوگ کفر و شرک اور برے اعمال سے باز نہ آئے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرتے کہ تم ہمارے لیے نحوست کا سبب ہو اور حضرت صالح (علیہ السلام) پر جادو کا اثر ہوچکا ہے۔ (الشعراء : 142 تا 153) انھوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے گابھن اونٹنی نمودار نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ اس طرح معجزہ طلب نہ کرو۔ اگر تمہارا منہ مانگا معجزہ ظاہر کردیا گیا۔ اور تم نے اس کا انکار کیا تو پھر تمہارا بچنا مشکل ہوگا۔ لیکن قوم ثمود نے اونٹنی کاٹ دیں۔ جسکے سبب عذاب نا زل ہوا۔ جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے تفصیل جاننے کے لیے سورة الاعراف کی آیت : 73 تا 79 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 15:85–86فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مجرموں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور قیامت برپا نہیں ہوگی۔ حالانکہ قیامت یقیناً برپا ہو کر رہے گی۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) توحید و رسالت کے بعد جس عقیدہ پر سب سے زیادہ زور دیتے تھے وہ مر کر اٹھنا اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ جسے عرف عام میں فکر آخرت کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ انسان جب آخرت کی جواب دہی کی فکر سے آزاد ہوجاتا ہے تو وہ نہ صرف دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے بلکہ وہ ہر کام میں من مرضی کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ دنیا پرستی اور لذت نفس کی خاطر وہ جرائم میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ بالآخر وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ رہنی ہے اور اللہ تعالیٰ نے محض اسے اپنی دل لگی کے لیے پیدا کیا۔ اس باطل اور بےبنیاد نظریہ کی تردید کے لیے قرآن مجید میں سینکڑوں دلائل دیے گئے ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا نے ہمیشہ قائم نہیں رہنا اور بالآخر انسان نے اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا اور اسے اچھے یا برے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے۔
” ہم نے زمین و آسمانوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے حق کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے۔ “ (الاحقاف : 3)
حق سے مراد ہے کہ انہیں بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ بلکہ سب انسان کی خدمت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کی عبادت میں زندگی صرف کریں گے وہ جزا پائیں گے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے بجائے اس کی نافرمانی کا راستہ اختیار کیا انہیں ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ لہٰذا اے پیغمبر ! قیامت کا برپا ہونا یقینی ہے جو لوگ اس کا انکار کرتے اور آخرت کو جھٹلاتے ہوئے لایعنی گفتگو کرتے ہیں ان سے الجھنے کی بجائے صبروتحمل اختیار کرکے انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ یقیناً آپ کا رب سب کو پیدا کرنے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُول اللَّہِ ﷺ قَالَ لاَ تَقُوم السَّاعَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِہَا فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآہَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِکَ حینَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا، لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلاَنِ ثَوْبَہُمَا بَیْنَہُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہِ وَلاَ یَطْوِیَانِہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہِ فَلاَ یَطْعَمُہُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَہْوَ یَلِیطُ حَوْضَہُ فَلاَ یَسْقِی فیہِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أُکْلَتَہُ إِلَی فیہِ فَلاَ یَطْعَمُہَا)[ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃَ کَہَاتَیْنِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے دیکھ کر تمام کے تمام لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت اس کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جو اس سے قبل نہ ایمان لایا اور نہ اس نے نیک اعمال کیے۔ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلایا ہوگا دکاندار کپڑے کو بیچ اور سمیٹ نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ دودھ دوہنے والادودھ پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ حوض پروارد ہونے والا پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ انسان اپنے منہ میں ڈالا ہوا لقمہ کھا نہیں پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ “
مسائل
1۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے، بےمقصدپیدا نہیں کیا گیا۔ 2۔ قیامت ضرور آئے گی۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت برپا ہو کر رہے گی :
1۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے۔ (الحجر : 85) 2۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے اور اللہ قبروالوں کو اٹھائے گا۔ (الحج : 7)
3۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت برپا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ (الکہف : 21)
4۔ بیشک قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر کسی کو جزا یا سزا ملے۔ (طہٰ : 15)
5۔ اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ (الحج : 1)
6۔ کافر ہمیشہ شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت اچانک آجائے۔ (الحج : 55)
7۔ ہم نے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب تیار کیا ہے۔ (الفرقان : 11)
Ayahs 15:87–88فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ اقوام کے عبرت ناک انجام کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی و اطمینان دیتے ہوئے سورة کے اختتام میں گذشتہ تمام مضامین کو سمیٹا جا رہا ہے۔
اے پیغمبر ! آپ کو منکرین کے ساتھ اس لئے بھی نہیں الجھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سورة الفاتحہ اور قرآن مجید کی صورت میں عظیم دولت سے مالا مال کیا ہے۔ جس میں منکرین کا انجام اور اللہ کے بندوں کا انعام بیان کیا گیا ہے۔
نبوت کا منصب بذات خود اس قدر اعلیٰ وارفع ہے کہ دنیا کا کوئی منصب اور نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ مزید انعام و احسان یہ کہ نبوت کے منصب کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس شخصیت کو اپنی کتاب بھی عطا فرما دے۔ صاحب کتاب نبی جسے ” الرسول “ بھی کہا گیا ہے۔ یہ وہ منصب ہے کہ جس کا موازنہ اور مقابلہ کسی فرشتے کے ساتھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بالخصوص ہمارے رسول مکرم ﷺ کا وہ منصب اور مقام ہے جس کی مثال کائنات کی کسی چیز سے نہیں دی جاسکتی۔ جس طرح آپ کی ذات اور مقام بےمثال اور عالی مرتبت ہے اسی طرح قرآن مجید کی صورت میں جو کتاب آپ کو عنایت کی گئی ہے۔ اس کی مثل کوئی دوسری کتاب نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ﷺ ! ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیات یعنی سورة الفاتحہ اور قرآن مجید، فرقان حمید عنایت فرمایا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو بتلائیں کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایسی نصیحت آچکی ہے جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا، تمہاری زندگی کے لیے رہنما اور اس پر ایمان لانے والوں کے لیے رحمت ہے۔ لہٰذا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہوجاؤ۔ یہ سراسر بہتر ہے اس سے جو اپنے لیے جمع کرتے ہو۔ ( یونس : 57۔ 58)
اس گراں مایہ خزانے کے ساتھ آپ کو سورة فاتحہ کی صورت میں سات آیات عنائت کی گئی ہیں۔ جو بار بار پڑھی جانے والی ہیں۔ قرآن مجید سورة فاتحہ کی زبان میں انعام یافتہ، مغضوب اور گمراہ لوگوں کے حوالے سے قوموں کے عروج وزوال بیان کرتا ہے تاکہ سمع و اطاعت اور تسلیم ورضاکا رویّہ اختیار کرنے والوں کو بہترین انجام اور ان کا مرتبہ و مقام بتلایا جائے، باغیوں اور نافرمانوں کو ان کے انجام سے ڈرایاجائے۔ قرآن مجید کے باقی ارشادات واحکامات انہی مضامین کی تفصیلات اور تقاضے ہیں اور یہی قرآن کا پیغام ہے۔ اسی بنیاد پر سورة الحمد کو فاتحہ اور ام الکتاب کا نام دے کر اس کو کتاب مبین کی ابتدا میں رکھا گیا ہے۔
فاتحہ کی فضیلت :
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ بَیْنَمَا جِبْرِیْلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ﷺ سَمِعَ نَقِیْضًا مِّنْ فَوْقِہٖ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ ہٰذَا بَابٌ مِّنَ السَّمَآءِ فُتِحَ الْیَوْمَ لَمْ یُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَنَزَلَ مِنْہُ مَلَکٌ فَقَالَ ہٰذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ یَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْیَوْمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرْ بِنُوْرَیْنِ أُوْتِیْتَھُمَا لَمْ یُؤْتَھُمَا نَبِیٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَخَوَاتِیْمِ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِّنْھُمَا إِلَّآ أُعْطِیْتَہٗ )
[ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب فضل الفاتحۃ ]
” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اقدس ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران انہوں نے اوپر سے ایک زور دار آواز سنی اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا کہ آسمان کا جو دروازہ آج کھولا گیا ہے یہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا۔ اس دروازے سے ایک فرشتہ نازل ہوا یہ ایسا فرشتہ ہے جو آج ہی زمین پر نازل ہوا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں اترا۔ پھر اس فرشتے نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور کہا : دونوروں کی خوشخبری سنیے ! یہ دونوں نور آپ ہی کو عطا کیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئے۔ ایک فاتحۃ الکتاب اور دوسراسورۃ البقرۃ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی کلمہ تلاوت کریں گے تو آپ کی مانگی مراد پوری ہوجائے گی۔ “
فاتحہ کی عظمت :
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ عَلٰٓی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ؓ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَا أُبَیُّ وَہُوَ یُصَلِّی فَالْتَفَتَ أُبَیٌّ وَلَمْ یُجِبْہُ وَصَلَّی أُبَیٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَیْکَ السَّلاَمُ مَا مَنَعَکَ یَا أُبَیُّ أَنْ تُجِیْبَنِیْٓ إِذْ دَعَوْتُکَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّیْ کُنْتُ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ أَفَلَمْ تَجِدْ فِیْمَآ أَوْحَی اللّٰہُ إِلَیَّ أَنِ (اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ) قَالَ بَلٰی وَلاآأَعُودُ إِنْ شَآء اللّٰہُ قَالَ تُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَکَ سُورَۃً لَمْ یَنْزِلْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِیْ الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا قَالَ نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ کَیْفَ تَقْرَأُ فِی الصَّلاَۃِ قَالَ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا أُنْزِلَتْ فِی التَّوْرَاۃِ وَلاَ فِی الإِنْجِیْلِ وَلاَ فِی الزَّبُوْرِ وَلاَ فِی الْفُرْقَانِ مِثْلُہَا وَإِنَّہَا سَبْعٌ مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمُ الَّذِیْٓ أُعْطِیَتُہٗ )
[ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القرآن، باب مَآ جَاءَ فِی فَضْلِ فَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بیشک رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپ نے اسے آواز دی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت ابی ؓ نے التفات فرمایا اور جواب نہ دیا لیکن اپنی نماز کو ہلکا کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف آیا۔ تو اس نے کہا آپ کو سلام کہا ! رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اے ابی ! کس چیز نے تجھے جواب دینے سے روکے رکھا، اس نے کہا اللہ کے رسول میں نماز ادا کر رہا تھا آپ نے فرمایا کیا تو قرآن مجید میں یہ بات نہیں پاتا کہ اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو ۔ جب وہ تمہیں بلائیں ایسی چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ اس نے کہا کیوں نہیں انشاء اللہ دوبارہ ایسے نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا کیا تو پسند کرتا ہے کہ میں تجھے ایسی سورة سکھلاؤں جو توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نہیں ہے اس نے کہا جی ہاں اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے دریافت کیا تو نماز میں کیا پڑھتا ہے حضرت ابی نے سورة فاتحہ پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اس جیسی سورة توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نازل نہیں ہوئی اور یقیناً یہ سات آیات ہیں اور عظمت والا قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ “
(عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؓ قَالَ کُنَّا خَلْفَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَسُول اللَّہِ ﷺ فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَاءَ ۃُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لَعَلَّکُمْ تَقْرَءُ ونَ خَلْفَ إِمَامِکُمْ قُلْنَا نَعَمْ ہَذَا یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ لاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَإِنَّہُ لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَأْ بِہَا )
[ رواہ ابوداؤد : باب مَنْ تَرَکَ الْقِرَاءَ ۃَ فِی صَلاَتِہِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ]
” حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھ رہے تھے آپ پر قرأت بھاری ہوگئی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تم امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کی جی ہاں۔ آپ نے فرمایا تم صرف سورة فاتحہ پڑھا کروکیون کہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الفاتحہ کی صورت میں سات آیات دیں جو بار بار پڑھی جاتی ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف اور عظمت :
1۔ اللہ نے رسول اللہ کو قرآن مجید اور سات آیات دیں جو باربار پڑھی جاتی ہیں۔ (الحجر : 87)
2۔ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ (البقرۃ : 2) 3۔ قرآن مجید برھان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174)
4۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185) 5۔ قرآن مجید اللہ کی طرف سے کھلی کتاب ہے۔ (ھود : 1)
6۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
Ayahs 15:89–93فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے نبی ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمثال منصب اور علمی، روحانی، دولت سے نوازا ہے۔ لہٰذا آپ کو کسی اور طرف نظر التفات نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم اور سورة فاتحہ جیسی نعمتیں عطا فرما کر اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا داروں کو جو کچھ دے رکھا ہے، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرنی اور نہ ہی ان کی باتوں پر غم زدہ ہونا چاہیے۔
ان کی باتوں اور دنیا داری کی طرف توجہ کرنے کے بجائے اپنے مومن ساتھیوں سے محبت اور ان کی طرف توجہ رکھیں۔ دنیا پرستوں کو بس اتنا فرمائیں کہ میں حق کا انکار کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں ان کے انجام سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر اس طرح ہی عذاب نازل کرے گا۔ جس طرح ان سے پہلے ” مُقْتَسِمِیْنَ “ پر عذاب نازل کیا گیا تھا۔
مُقْتَسِمِیْنَ : کے اہل علم نے دو مفہوم بیان کیے ہیں۔
1۔ جھوٹی قسمیں اٹھانے والے۔
2۔ مُقْتَسِمِیْنَ حصے بخرے کرنے والے اہل علم نے اس سے مراد یہود و نصاریٰ لیے گئے ہیں۔ جنہوں نے مذہبی منافرت اور ذاتی مفادات کی بنا پر تورات اور انجیل کے حصے بخرے کردیے تھے۔
اسی طرح آپ کے مخالفین نے اپنے ذہن میں قرآن مجید کے حصے بخرے کر رکھے ہیں۔ توحید کی آیات سے انھیں سخت نفرت تھی۔ باقی آیات کو قدرے برداشت سمجھتے تھے۔ آپ کے رب کی قسم ہم ان سے ضرور باز پرس کریں گے اور ان کے اعمال کا ضرور احتساب ہوگا۔ اس بات کو قرآن مجید نے دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے کہ بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو تقسیم کردیا اور کئی گروہوں میں تقسیم ہوگئے اے نبی ﷺ آپ کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے وہ انہیں بتلائے گا جن کاموں میں وہ مصروف تھے۔ (الانعام : 159)
دین میں تفریق پیدا کرنا اور قرآن مجید کو تقسیم کرنے کے بنیادی طور پر دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔
1۔ ذاتی یا گروہی مفاد یا عناد کی بنا پر قرآن مجید کے کچھ احکام کا انکار کرنا اور کچھ کو تسلیم کرلینا۔ جس طرح اہل مکہ اور یہود و نصاریٰ نے رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ فلاں فلاں آیات کو چھوڑ یا بدل دیا جائے۔ تب ہم قرآن مجید اور آپ کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ یہود و نصاریٰ ان آیات کو تسلیم کرتے تھے اور ہیں جن میں ان کے انبیاء کی تائید اور تورات و انجیل کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ جن آیات میں ان کی خود ساختہ شریعت کی مخالفت پائی جاتی ہے یہ لوگ ان آیات کا انکار کرتے ہیں۔ یہی صورت حال ملائکہ کے بارے میں تھی اور ہے۔ بالخصوص یہودی حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) کی ذات کے ساتھ یہ کہہ کر بغض رکھتے ہیں کہ جبرائیل نے ہمارے آباؤ اجداد پر عذاب نازل کیا تھا اس لیے وہ ہمارا دشمن ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ اس لیے نام نہاد علما اور مسلمان اس میں ترمیم و اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن اس کے متعین مفہوم میں اپنے اپنے عقائد کی تائید میں قرآن مجید کی آیات پیش کر کے دین میں تفریق اور امت میں تقسیم کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ قرآن مجید میں کچھ آیات محکم ہیں جو قرآن مجید کے مفہوم کی بنیاد ہیں اور دوسری آیات متشابہات ہیں۔ جن کے ایک سے زائد مفہوم بھی ہوسکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے۔ وہ بنیادی آیات اور اس کے مفہوم کو چھوڑ کر فتنہ برپا کرنے کے لیے متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں۔ حالانکہ متشابہات کا صحیح مفہوم اللہ تعالیٰ اور پختہ علم والوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (آل عمران : 7)
دین کو تقسیم کرنا سنگین جرم ہے جس کی سنگینی کے پیش نظر فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر ! تیرے رب کی قسم ان سے ان کے کردار کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ ؓ بِالْجَابِیَۃِ فَقَالَ یَآ أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ قُمْتُ فِیْکُمْ کَمَقَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فِیْنَا فَقَالَ أُوصِیْکُمْ بِأَصْحَابِیْ ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُونَہُمْ ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی یَحْلِفَ الرَّجُلُ وَلاَ یُسْتَحْلَفُ وَیَشْہَدَ الشَّاہِدُ وَلاَ یُسْتَشْہَدُ أَلاَ لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بامْرَأَۃٍ إِلاَّ کَانَ ثَالِثَہُمَا الشَّیْطَانُ عَلَیْکُمْ بالْجَمَاعَۃِ وَإِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَہُوَ مِنَ الاِثْنَیْنِ أَبْعَدُ مَنْ أَرَادَ بِحَبُوْحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ مَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہٗ وَسَآءَ تْہُ سَیِّءَتُہٗ فَذَلِکَ الْمُؤْمِنُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الفتن، باب مَا جَاءَ فِی لُزُومِ الْجَمَاعَۃِ ]
” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حضرت عمر ؓ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیا کہا اے لوگو ! میں تم میں کھڑا ہوا ہوں جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں اپنے صحابہ کے متعلق وصیت کرتا ہوں پھر ان کے بعد والوں کے لیے اور پھر ان سے بعد آنے والوں کے لیے۔ اس کے بعدجھوٹ پھیل جائے گا یہاں تک کہ آدمی قسم اٹھائے گا حالانکہ اس سے قسم طلب نہیں کی جائے گی۔ آدمی گواہی دے گا حالانکہ گواہی اس سے طلب نہیں کی جائے گی۔ آگاہ رہو ! نہیں خلوت اختیار کرتا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ مگر تیسرا ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ جماعت کو لازم پکڑو اور فرقوں میں بٹنے سے بچو یقیناً شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور دور سے دور ہوتا ہے جو جنت کی خوشبو چاہتا ہے وہ جماعت کے ساتھ منسلک رہے۔ جس کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری محسوس ہو وہ مومن ہے۔ “
مسائل
1۔ کفار کے اموال کی طرف للچائی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ کو مومنوں کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا گیا۔
3۔ آپ ﷺ کو ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا۔ 4۔ کچھ لوگ عملاً قرآن مجید کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے رہتے ہیں۔
5۔ ہر کسی سے اس کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا۔
تفسیر بالقرآن
دنیا کی اصلیّت اور اس کا انجام :
1۔ جو ہم نے کفار کو دے رکھا ہے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھئے۔ (الحجر : 88)
2۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر کھیل تماشا۔ (العنکبوت : 64)
3۔ دنیا کی زندگی صرف دھوکے کا سامان ہے۔ (آل عمران : 185)
4۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا قلیل ہے۔ (التوبۃ : 38)
5۔ آپ فرما دیں کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے۔ (النساء : 77)
Ayahs 15:94–96فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قرآن مجید کے ٹکڑے کرنے والے لوگوں کو انتباہ کرنے کے بعد رسول اکرم کو کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم۔
اہل مکہ کی شدید مخالفت کے پیش نظر اور ساتھیوں کی کمی کی بنا پر نبوت کے ابتدائی تین سالوں میں آپ ﷺ نے ایک حد تک خفیہ تبلیغ کا طریقہ اپنایا۔ جونہی صحابہ کرام ؓ کی کچھ تعداد بڑھی اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی کٹ حجتیاں اور استہزا کے مقابلے میں آپ کی طرف سے مزاحمت کا اعلان فرمایا اور اس کے ساتھ حکم نازل ہوا کہ اے رسول ! جو کچھ آپ کو بیان کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اسے دو ٹوک انداز اور کھلے الفاظ میں لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں اور مشرکین کی مخالفت کو خاطر میں نہ لائیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے استہزا اور حجتّ بازیوں کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں عنقریب انہیں سب کچھ معلوم ہوجائے گا۔ مکہ معظمہ کے ابتدائی تین سالوں میں رسول اکرم ﷺ عام طور پر دار ارقم میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید بتلایا اور سمجھایا کرتے تھے۔ لیکن توحید ایسی حقیقت ہے جس کے اثرات چھپ نہیں سکتے بشرطیکہ توحید کا اقرار اور ابلاغ کرنے والا اس کے تقاضے سمجھنے اور پورا کرنے کی کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی کوئی شخص مسلمان ہوتا اہل مکہ اس کی زندگی میں واضح انقلاب دیکھتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا مکہ کے بڑے بڑے خاندانوں میں شریف النفس نوجوان حلقۂ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر مکہ کے لوگ رسول معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو طعن وتشنیع اور استہزا کا نشانہ بنانے لگے۔ اس پر آپ کو براہ راست اور آپ کے حوالے سے بالواسطہ صاحب ایمان لوگوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کے طعن وتشنیع اور استہزا کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو عبادت کے لائق اور حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں وہ عنقریب اس کا انجام دیکھیں گے چناچہ ٹھیک ہجرت کے دوسرے سال غزوۂ بدر میں دنیا نے ان کا انجام دیکھا اور آخرت میں مشرکین کو ہمیشہ ہمیش جہنم کے عذاب میں مبتلا رہنا ہوگا۔
(عَنْ أَنَسٍ ؓ یَرْفَعُہُ أَنَّ اللَّہَ یَقُولُ لأَہْوَنِ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَکَ مَا فِی الأَرْضِ مِنْ شَیْءٍ کُنْتَ تَفْتَدِی بِہِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَدْ سَأَلْتُکَ مَا ہُوَ أَہْوَنُ مِنْ ہَذَا وَأَنْتَ فِی صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِکَ بِی فَأَبَیْتَ إِلاَّ الشِّرْکَ )[ رواہ البخاری : باب طلب الکافر الفداء ]
” حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے مرفوع بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے سے پوچھے گا کہ جو کچھ زمین میں ہے تو اس کا فدیہ دے گا ؟ وہ ہاں میں جواب دے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا کہ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا لیکن تو نے اس کا انکار کیا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ تمسخر کرنے والوں کے مقابلہ میں اپنے بندوں کے لیے کافی ہے۔
2۔ مشرک کو مرنے کے بعد اس کے عقیدہ کے برے نتائج کا پتہ چل جائے گا۔
3۔ نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ کے احکام سنا دینے کا حکم دیا گیا۔
4۔ آپ ﷺ اور مسلمانوں کو مشرکوں سے اعراض کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کیساتھ کوئی اور الٰہ نہیں :
1۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارنے کی کوئی دلیل نہیں۔ (المومنون : 171)
2۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نا پکا رو وگرنہ عذاب میں مبتلا ہو جاؤگے۔ (الشعرآء : 213)
3۔ اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نا پکارو اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں مگر وہی (القصص : 88)
4۔ اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آسمان سے پانی اتار کر باغات اگائے۔ کیا اس کے ساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 60)
5۔ کون ہے جو لاچار کی فریادسنتا اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے، کیا اللہ کیساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے ؟ (النمل : 62)
6۔ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں اللہ کے سوا رہنمائی کون کرتا ہے ؟ کیا اللہ کیساتھ کوئی اور بھی الٰہ ہے۔ (النمل : 63)
7۔ پہلے اور دوبارہ پیدا کرنے اور زمین و آسمان سے تمہارے لیے روزی کا بندوبست کرنے والا کون ہے ؟ کیا اللہ کیساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ (النمل : 64)
Ayahs 15:97–99فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے آپ کا دفاع کرنے کے ساتھ تسلی دی ہے۔
کفار کو انتباہ کرنے اور آپ کے دفاع کی ذمہ داری لینے کے بعد آپ کو مزید تسلی دینے کی خاطر ارشاد ہوتا ہے اے رسول ﷺ ! ہم آپ کے حالات اور کیفیت کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفار کے طعن وتشنیع اور استہزا سے آپ کے دل کو غم اور تکلیف پہنچتی ہے۔ جب بھی آپ غم اور تکلیف محسوس کریں تو مشرکین کے طعن وتشنیع اور استہزا کی طرف توجہ کرنے کے بجائے آپ اپنے رب کی حمد بیان کریں اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں اور اپنے رب کی آخری دم تک عبادت کرتے رہیں۔ یہاں عبادت کے لیے ” الیقین “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے اکثر مفسرین نے موت مراد لی ہے۔ انسان کو اپنی موت تک اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ اسی کے پیش نظر مومنوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے اے صاحب ایمان لوگو ! ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے آئے۔ (آل عمران : 102)
لیکن اس کے مفہوم میں یہ بھی گنجائش نکلتی ہے کہ ” الیقین “ سے مراد عبادت میں وہ کیفیت اور اطمینان ہے۔ جس سے عبادت گزار کی طبیعت میں سکون اور دل میں اطمینان پیدا ہوجائے۔ کیونکہ ! دل اللہ کے ذکر سے ہی قرار پاتے ہیں۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ اَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ فِیْ نَاحِےَۃِ الْمَسْجِدِ فَصَلّٰی ثُمَّ جَآءَ فَسَلَّمَ عَلَےْہِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَعَلَےْکَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلّٰی ثُمَّ جَآءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ وَعَلَےْکَ السَّلاَمُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ فَقَالَ فِی الثَّالِثَۃِ اَوْ فِی الَّتِیْ بَعْدَھَا عَلِّمْنِیْ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاَسْبِغِ الْوُضُوْٓءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَےَسَّرَ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْکَعْ حَتّٰی تَطْمَءِنَّ رَاکِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَسْتَوِِیَ قَاءِمًآ ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَءِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَءِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰی تَطْمَءِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَطْمَءِنَّ جَالِسًا وَّفِیْ رِوَاے َۃٍ ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰی تَسْتَوِیَ قَآءِمًا ثُمَّ افْعَلْ ذَالِکَ فِیْ صَلٰوتِکَ کُلِّھَا) [ رواہ البخاری : باب من رد فقال وعلیکم السلام ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا رسول محترم ﷺ مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے اس نے جلدی سے نماز پڑھی اور آکر آپ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے اسے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا پیچھے ہٹ کر دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے واپس پلٹ کر نماز پڑھی اور پھر آکر سلام عرض کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا۔ جاکر پھر نماز پڑھو یقینًاتیری نماز ادا نہیں ہوئی۔ اس طرح وہ تیسری یا چوتھی دفعہ نماز پڑھنے کے بعدآیا۔ آپ ﷺ نے وہی ارشاد فرمایا تب وہ عرض کرتا ہے کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے نماز ادا کرنے کا طریقہ سمجھائیں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اچھی طرح وضو کرو۔ قبلہ رخ کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہو پھر قرآن کی تلاوت کرو جتنی تم آسانی کے ساتھ کرسکتے ہو۔ پھر اطمینان کے ساتھ رکوع کرو، رکوع کے بعد سر اٹھا کر اطمینان کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ، پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو ‘ سجدہ کے بعداطمینان کے ساتھ بیٹھو اب دوسرا سجدہ اطمینان کے ساتھ کرو۔ پھر دو سجدوں کے بعد اطمینان اور سکون کے ساتھ بیٹھ کر اٹھو۔ ایک روایت میں آپ ﷺ کے یہ الفاظ موجود ہیں اس کے بعد پھر اطمینان کے ساتھ قیام کرو۔ اس طرح اپنی نماز کو مکمل کرو۔ “
مسائل
1۔ نبی اکرم ﷺ کفار کی باتیں سن کر دل میں تنگی محسوس کرتے تھے۔ 2۔ انسان کو آخری دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے سے دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح کے فوائد :
1۔ اے لوگو ! آخری دم تک اللہ کی عبادت کرو۔ (الحجر : 99)
2۔ جن و انس کو اللہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ (الذاریات : 56)
3۔ اپنے رب کی حمد و تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : 98)
4۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں تمہیں عذاب الیم سے ڈراتا ہوں۔ (ھود : 26)
5۔ اللہ کا ذکر دلوں کے لیے سکون و اطمینان کا باعث ہے۔ (الرعد : 28)