14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ ابراہیم کا تعارف یہ سورة مبارکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ جن کا اسم گرامی اس سورة کی آیت ٣٥ میں مذکور ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام نامی قرآن مجید میں مجموعی طور پر ٦٢ مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ اس عظیم سورت کی ابتدا میں قرآن مجید کا ان الفاظ میں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر دنیا اور آخرت کی تابناکیوں میں لاکھڑا کریں۔ یہ اس ذات کبریا کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے جو ہر اعتبار سے غالب رہنے والا اور لائق تعریف ہے۔ مگر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ آخرت کی لامتناہی زندگی اور بیش بہا نعمتوں کے بدلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں بھٹک چکے ہیں۔ آپ سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی ہی کتاب اور فرض تفویض کیا گیا تھا۔ مگر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسے یکسر طور پر مسترد کردیا۔ جس کے نتیجہ میں انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ دراصل کفار کے اعمال کی حیثیت ریت کے ذرّات کی طرح ہے۔ جس طرح آندھی کے مقابلے میں ریت کے ذرات کو ٹھہراؤ حاصل نہیں۔ اسی طرح کفار کے نظریات اور اعمال کی کوئی بنیاد نہ ہے۔ یہ لوگ شیطان کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ قیامت کے دن شیطان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اپنے پیچھے لگنے والوں کو یہ کہے گا کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا کیونکہ میری اپنی نجات کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اب ہمیں ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔ اس کے بعد جنت کا تذکرہ ہے جس میں جنتیوں کے لیے ہمیشہ سلامتی ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کو ایک سدا بہار درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جو ہر موسم میں سدا بہار اور پھل دیتا ہے اس کے ساتھ شرک کو ناپاک درخت قرار دیا ہے۔ کلمہ طیبہ دنیا اور آخرت میں ایمانداروں کے لیے قرار اور ثبات کا ذریعہ ہے۔ شرک اور کفر مشرک اور کافر کے لیے دنیا اور آخرت میں تباہی کا سبب ہے۔ سورۃ ابراہیم کے آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر ہے جب انھوں نے حضرت ہاجرہ [ اور اپنے نو نہال اسماعیل (علیہ السلام) کو بیت اللہ کے پاس چھوڑا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس دعا کے بعد حضرت ہاجرہ سے رخصت ہوئے۔ ” الٰہی ! انھیں نماز پڑھنے کی توفیق عنایت کرنا، لوگوں کے دل ان کی طرف پھیردینا اور انھیں رزق حلال عطا فرماتے ہوئے اپنا شکریہ ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمانا۔ “ سورة کے اختتام میں جہنمیوں کی سزا کا ذکر ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! اگر تم جہنم سے بچنا چاہتے ہو تو ایک الٰہ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت کے تقاضے پورے کرو۔ یہی عقل اور دانش مندی کا راستہ اور دنیا و آخرت میں مشکلات سے نجات پانے کا ذریعہ ہے۔

Ayahs 14:1–2

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

” الر۔ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائیں، ان کے رب کے حکم سے اور اس کے راستے کی طرف جو سب پر غالب، بہت تعریف والا ہے۔ “ (1) ”

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اللہ ہی وہ ذات ہے کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور منکروں کے لیے سخت عذاب اور بڑی ہلاکت ہے۔ “ (2)

فہم القرآن ربط کلام : ” ا ل ر “ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں پہلے بھی عرض کیا ہے کہ ان کا حقیقی معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ البتہ بعض مفسرین کے استدلال کے مطابق یہ دنیا بھر کے لوگوں کو چیلنج ہے کہ قرآن مجید انہی حروف پر مشتمل ہے اگر تم قرآن مجید کو منجانب اللہ تسلیم نہیں کرتے تو پھر اس جیسا قرآن مجید بنا کر پیش کرو۔ جس کا قیامت تک، کوئی فرد، جماعت اور کوئی حکومت جواب نہیں دے سکتی۔ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے رسول معظم ﷺ کی ذات اقدس پر نازل فرمایا ہے۔ تاکہ لوگوں کو کفر وشرک، بدعت ورسومات اور ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت اور علم کی طرف لانے کی کوشش فرمائیں۔ اس رب کے راستے کی طرف لائیں۔ جو ہر اعتبار سے غالب اور تعریف کے لائق ہے۔ اسی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ اس کی ذات اور کتاب کا انکار کرنے والوں کے لیے شدید ترین عذاب ہوگا۔ سورة ابراہیم کی پہلی آیت میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا ہے جس کا صاف مطلب ہے کہ یہ کسی شخص کا بتلایا ہوا یا نبی کا اپنی طرف سے بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ ہی نے اس قرآن کو محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس پر نازل فرمایا ہے۔ 2۔ آپ ﷺ پر قرآن مجید نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے رب کے حکم کے مطابق لوگوں کو کفر وشرک، بدعت رسومات اور جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ کے بتلائے ہوئے راستے کی طرف لائیں یہی راستہ تابناک اور صراط مستقیم ہے۔ 3۔ لوگوں کے رب کا بتلایا ہوا یہ روشن راستہ ہے جس سے مرادیہ ہے کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات اور اس کی خوشنودی کا طالب ہے اسے قرآن مجید کا بتلایا ہوا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ العزیز اور الحمید کی صفات کا ذکر فرما کر یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ جو شخص اپنے رب کو غالب اور محمود سمجھ کر اس کے راستہ پر چلے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی غلبہ اور تعریف کے لائق بنادے گا۔ روشن اور تابناک راستہ : (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِیِّ أَنَّہٗ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃ َ یَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوْبُ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ ہٰذِہٖ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَمْرٍو السَّلَمِیِّ أَنَّہٗ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃَ یَقُوْلُ وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَوْعِظَۃً ذَرَفَتْ مِنْہَا الْعُیُونُ وَوَجِلَتْ مِنْہَا الْقُلُوبُ فَقُلْنَا یَا رَسُول اللَّہِ إِنَّ ہَذِہِ لَمَوْعِظَۃُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْہَدُ إِلَیْنَا قَالَ قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَآءِ لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا لاَ یَزِیْغُ عَنْہَا بَعْدِیْٓ إِلاَّ ہَالِکٌ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیَرَی اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَآء الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ عَضُّوا عَلَیْہَا بالنَّوَاجِذِ وَعَلَیْکُمْ بالطَّاعَۃِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّا فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ کَالْجَمَلِ الأَنِفِ حَیْثُمَا قِیْدَ انْقَادَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : فی المقدمۃ : باب اتِّبَاعِ سُنَّۃِ الْخُلَفَآء الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْن ] ” حضرت عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی کہتے ہیں کہ انہوں نے عرباض بن ساریہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک دفعہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے وعظ فرمایا۔ ایساوعظ تھا کہ ہمارے آنسو جاری ہوگئے اور دل ڈر گئے۔ ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ایسا وعظ تو رخصت ہونے والے کا ہوتا ہے۔ آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا بیشک میں نے تمہیں ایسی چیز پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کی رات دن کی مانند ہے۔ اس کو چھوڑنے والا ہلاک ہوجائے گا۔ تم میں سے جو کوئی زندہ رہا تو وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا۔ میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا جسے تم پہچان لو۔ تم اسے دانتوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا۔ امیر کی اطاعت کو لازم جاننا۔ اگرچہ وہ حبشی غلام ہی ہو۔ یقیناً مومن ایک ایسے اونٹ کی مانند ہے جس کی ناک میں نکیل ڈالی گئی ہو۔ اسے جہاں باندھا جائے وہ بندھ جاتا ہے۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّےْلِ ےَتَھَجَّدُ قَالَ (اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَےِّمُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مٰلِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَ لِقَآءُکَ حَقٌّ وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَّالنَّارُ حَقٌّ وَّالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ وَّمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ حَقٌّ اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَےْکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَےْکَ اَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَےْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَآ اَخَّرْتُ وَمَآ اَسْرَرْتُ وَمَآ اَعْلَنْتُ وَمَآ اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَلَآاِلٰہَ غَےْرُکَ ) [ رواہ البخاری : باب التَّہَجُّدِ باللَّیْلِ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت جب تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے۔ ” اے اللہ تیری ہی حمدوستائش ‘ تو ہی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کو قائم رکھنے والا ہے ‘ تیرے لیے ہی حمد ہے اور تیری وجہ سے ہی زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز روشن ہے ‘ تیرے لیے ہی تعریف ہے اور تو ہی زمین و آسمان اور ان میں ہر چیز کا مالک ہے ‘ تیرے ہی لیے حمدوثنا ہے تو ہی حق ہے تیرے وعدے سچ ہیں۔ تجھ سے ملاقات یقینی ہے۔ تیرا فرمان سچا ہے۔ جنت ‘ دوزخ ‘ انبیاء ‘ محمد ‘ قیامت یہ سب سچ اور حق ہیں۔ الٰہی میں تیرا ہی فرمانبردار اور تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ‘ تیری ذات پر میرا بھروسہ ہے۔ تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں ‘ تیری مدد سے ہی لوگوں سے لڑتا ہوں۔ میں سب کچھ تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پس میرے اگلے پچھلے ‘ پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف فرما۔ جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیری ذات ہی اول وآخر ہے۔ تو ہی الٰہ برحق ہے اور تیرے سوا کوئی معبود ومسجود نہیں۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے۔ 2۔ قرآن مجید اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کا ذریعہ ہے۔ 3۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ 4۔ کافروں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن نور کیا ہے : 1۔ اللہ نور ہے۔ (النور : 35) 2۔ قرآن مجید نور ہے۔ (المائدۃ : 15) 3۔ تورات نور ہے۔ ( المائدۃ : 44) 4۔ انجیل میں ہدایت اور نور ہے۔ (المائدۃ : 46) 5۔ نبی اکرم ﷺ لوگوں کو نور کی طرف دعوت دیتے تھے۔ (الطلاق : 11) 6۔ اللہ لوگوں کو نور کی طرف بلاتا ہے۔ (الاحزاب : 43) 7۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) نور کی طرف بلاتے تھے۔ (ابراہیم : 5)
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

” جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں پسند سمجھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ دور کی گمراہی میں بھٹک چکے ہیں۔ “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا انکار اور لوگوں کے صراط مستقیم سے انحراف کی بڑی وجہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینا ہے۔ جو لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی عیش و عشرت کو ترجیح دیتے ہیں وہی لوگ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بننے کے ساتھ اس میں کج روی تلاش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گمراہی میں بہت دور نکل جاتے ہیں۔ ان کا صراط مستقیم کی طرف پلٹنا نہایت ہی مشکل ہے۔ قرآن مجید انسان کو دنیا سے لاتعلقی کا حکم نہیں دیتا اس کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر انسان آخرت کو مقدم رکھنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے اس کے مقابلے میں آخرت اور اس کی نعمتیں مستقل اور ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ آخرت کو مقدم رکھنے والا ہر وقت اپنا احتساب کرتا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ لوگ آخرت کی بجائے دنیا کو ترجیح دیتے ہیں جو شخص دنیا کو آخرت کے مقابلے میں ترجیح دیتا ہے اس میں بیک وقت جو کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ایسا شخص نہ صرف اپنے قول وفعل سے ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ وہ اس قدر گمراہ ہوجاتا ہے اور دین کو اپنی خواہشات کے تابع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے علماء سوء اور دنیا پرست لوگوں کا کردار ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔ معاشرے میں جتنی بےپردگی، بےحیائی اور بےدینی پھیلتی ہے اس کا موجدکافی حد تک وہ طبقہ ہے جو آزادی کی آڑ میں نئے سے نیا فیشن اور آزادی کے نام پر اسلام کی من مانی کی تاویلیں کرتا ہے۔ یہ طبقہ ہر معاملہ میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ لوگ خود گمراہ ہونے کے ساتھ شعوری اور غیر شعوری طور پر معاشرے کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں بعض لوگ بالخصوص حکمران طبقہ مذہی لوگوں کی ہمدریاں حاصل کرنے کے لیے دین کے نام پر ہی بدعت، رسومات پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کام کے لیے علماء سوء ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے علما کے ذہن میں بھی دنیا پرستی کا عنصر ہی غالب ہوا کرتا ہے۔ جس کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں نشاندہی کی ہے ” اے ایمان والو ! علماء اور درویشوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ یہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانے کے ساتھ ساتھ اللہ کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انہیں اذیت ناک عذاب کی خوشخبری دیجئے۔ قیامت کے دن سونے اور چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر ان سے ان لوگوں کی پیشانیوں، کروٹوں اور پشتوں کو داغتے ہوئے کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کر رکھا تھا اور اپنے جمع شدہ مال کی سزا پاتے رہو۔ (التوبۃ : 35) (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ ﷺ خَطَّامُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِیْ فِی الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِیْْ فِی الْوَسَطِ فَقَالَ ھٰذَا الْاِنْسَانُ وَھٰذَٓا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ خَارِجٌ اَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الصِّغَارُ الْاَعْرَاضُ فَاِنْ اَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَسَہٗ ھٰذَا وَاِنْ اَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَسَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ النَّبِیِّ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِیلٍ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے ایک دفعہ ایک مربع شکل کا خط کھینچا۔ اور وسطی خط کے درمیان سے کچھ خطوط کھینچے۔ ایک درمیان سے باہر نکلنے والا خط کھینچا اور فرمایا ‘ یہ انسان ہے۔ اور یہ مربع اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے۔ جو خط باہر نکل رہے ہیں ‘ وہ انسان اس کی خواہشات ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے خطوط آفات اور بیماریاں ہیں۔ اگر ایک سے محفوظ رہا تو دوسری اسے آلے گی۔ اگر یہ بھی اس سے خطا کر جائے ‘ تو تیسری آفت اسے اپنا نشانہ بنالے گی۔ “ مسائل 1۔ کافر آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو پسند کرتے ہیں۔ 2۔ دنیا پرست لوگ قولاً اور عملاً لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن دین کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دینے والوں کا انجام : 1۔ جو لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں یہی دور کی گمراہی میں ہیں۔ (ابراہیم : 3) 2۔ وہ لوگ جو دین کو کھیل تماشا بناتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا، قیامت کے دن ہم ان کو بھلا دیں گے۔ (الاعراف : 51) 3۔ یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (النحل : 107) 4۔ جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیا کو ترجیح دی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (الناز عات : 38)
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

” اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر وہ اپنی قوم کی زبان میں بات کرتا تھا تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کرے پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی سب پر غالب، بڑی حکمت والا ہے۔ “ (4)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو گمراہی اور تاریکیوں سے نکالنے کے لیے جو آسانیاں عنایت فرمائی ہیں۔ ان میں ایک آسانی یہ ہے کہ جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے وہ اپنی قومی زبان میں ہی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے تاکہ لوگوں کو ان کی بات سمجھنے میں آسانی رہے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایات اور کرم فرمائیوں میں یہ بھی ایک عنایت اور کرم فرمائی ہے کہ اس نے جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے وہ سب کے سب انسان تھے جو انسان ہونے کے ساتھ اپنی اپنی قوم کے فرد ہوا کرتے تھے۔ انہیں حکم تھا کہ وہ لوگوں کو انہی کی زبان میں اپنے رب کا پیغام پہنچائیں۔ لوگوں کی زبان میں بات کرنے کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کسی غیر زبان میں وعظ و نصیحت کرنے کی بجائے اپنی قوم کی زبان میں ہی وعظ کیا کرتے تھے۔ اس کا یہ بھی مفہوم ہے کہ وہ مرقع، مسجع، پر تکلف الفاظ اور انداز اختیار کرنے کی بجائے لوگوں کی فہم اور علمی لیاقت کے مطابق صاف اور سادہ انداز میں سمجھایا کرتے تھے تاکہ لوگوں کو دین سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ لیکن انبیاء (علیہ السلام) کی انتھک اور پر خلوص کوشش کے باوجود لوگوں کی اکثریت نے ہدایت کے مقابلے میں گمراہی کو پسند کیا۔ اسی آیت کے پیش نظر خطبہ جمعہ بھی اپنی زبان میں ہونا چاہیے۔ ( تفصیل کے لیے دیکھیں روح الخطبہ از قلم شیخ عبدالعزیز نورستانی ) ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں جبراً ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لیکن اس کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے ہدایت واضح کر کے انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے جس کا چاہیں انتخاب کریں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی پسند کے مطابق ہی اسے انتخاب کی توفیق بخشتا ہے اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ تکلف نہیں کرتے تھے : (قُلْ مَآأَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِکْرٌ لِلْعَالَمِیْنَ )[ ص : 86۔ 87] ” فرما دیجیے کہ میں تم سے اس قرآن پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں یہ قرآن لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَسْعُوْدِ الْعَبَدِیِ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَانَ الْفَارَسِیَ ؓ یَقُوْلُ نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَنْ نَتَکَلَّفَ للضَّیْفِ )[ رواہ الحاکم فی المستدرک وہو حدیث صحیح ] ” حضرت عبدالرحمٰن بن مسعود العبدی کہتے ہیں کہ میں نے سلمان فارسی ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے مہمانوں کے لیے تکلف کرنے سے منع کیا تھا۔ “ (عَنْ أَنَسٍ ؓ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ ؓ فَقَالَ نُہِیْنَا عَنِ التَّکَلُّفِ )[ رواہ البخاری : کتاب الاعتصام ] ” حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا کہ ہم تکلف کرنے سے منع کیے گئے تھے۔ “ یعنی رسول اللہ ﷺ صحابہ کو تکلف کرنے سے منع کرتے تھے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَآءِ فَاجْتَنِبْہُ ، فَإِنِّی عَہِدْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَأَصْحَابَہٗ لاَ یَفْعَلُوْنَ إِلاَّ ذٰلِکَ یَعْنِی لاَ یَفْعَلُونَ إِلاَّ ذٰلِکَ الاِجْتِنَابَ )[ رواہ البخاری کتاب الدعوات، باب مَا یُکْرَہُ مِنَ السَّجْعِ فِی الدُّعَآءِ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دعا میں قافیہ بندی سے بچو۔ کیونکہ میں ایک عرصہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہا ہوں وہ اسی طرح نہیں کرتے تھے یعنی قافیہ بندی سے بچتے تھے۔ “ مسائل 1۔ تمام رسول اپنی زبان میں ہی وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء ( علیہ السلام) انسان تھے : 1۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم میں انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : 4) 2۔ انبیاء اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : 11) 3۔ اللہ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : 109) 4۔ اللہ نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : 43) 5۔ رسول اللہ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشرہوں۔ (الکہف : 110)
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

” اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے اور انہیں اللہ کے دن یاد دلائے، بلاشبہ اس میں ہر شخص کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو صبر اور شکر کرنے والا ہے۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قومی زبان میں خطاب فرماتے اور ان کی دعوت کا مقصد لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ روشنی کی طرف بلانا تھا۔ پیغمبرانہ جدوجہد کے اعتبار سے اور قوم کے مزاج کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سرور دوعالم ﷺ کے درمیاں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ ” اے اہل مکہ ! ہم نے تم پر حق کی شہادت قائم کرنے کے لیے تم ہی میں سے ایسا رسول بھیجا ہے جیسا ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ فرعون نے اپنے رسول کی بات کا انکار کیا تب ہم نے اسے سختی کے ساتھ پکڑا۔ (المزمل : 15۔ 16) اس روحانی اور دعوتی تعلق اور مماثلت کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کی دعوت اور لوگوں کے مزاج کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دلائل دے کر ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی کی طرف لانے کی کوشش کریں اور انہیں اللہ کے ایام یاد دلائیں۔ یقیناً اس میں اس کے لیے عبرت کے نشانات ہیں جو مشکلات پر صبر کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا ہے۔ قرآن مجید نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت اور ان پر نازل ہونے والی کتاب تورات کو بھی النور فرمایا ہے اور اس کے مقابلے میں لوگوں کے عقائد ونظریات کو ظلمات سے تشبیہ دی ہے۔ ہدایت ایک ہی ہے جو ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے اور گمراہی اندھیرا ہے۔ جس کی ہر زمانے میں مختلف شکلیں اور صورتیں ہوتی ہیں۔ ایام اللہ سے مراد قوموں کے عروج وزوال کے واقعات اور وہ عتاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجرموں پر نازل ہوئے تھے۔ جس کی مثالیں حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہ السلام) کے حوالے سے قرآن مجید اور تورات میں مذکور ہیں۔ ایام اللہ سے مراد وہ دن بھی ہوسکتے ہیں جن ایام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء (علیہ السلام) کو کامیابی نصیب ہوئی جیسا کہ محرم کی دس تاریخ کو فرعون اور اس کے لشکر وسپاہ کو غرق کیا گیا اور بنی اسرائیل کو سربلند کرتے ہوئے انھیں سرخروئی عطا کی گئی۔ نبی اکرم ﷺ کو بدر، خندق، مکہ کے دن، حنین اور تبوک کے محاذ میں سرفراز کیا گیا۔ یہ واقعات اور ایام اس شخص کے لیے مشعل راہ اور عبرت کا نشان ہیں جو مشکلات پر صبر کرنے اور حق پر مستقل مزاجی کے ساتھ قائم رہنے والا ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو جب اللہ تعالیٰ کامیابی اور کسی نعمت سے سرفراز کرتا ہے تو وہ اترانے اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کی بجائے اس کے حضور عجزو عاجزی کا اظہار کرتا ہے اور اس کا شکربجالاتا ہے۔ قرآن مجید نے ہدایت اور گمراہی کو صبر اور شکر کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّآءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّآءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ] ” حضرت صہیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ عجب ہے بیشک اس کے تمام کاموں میں بہتری ہے۔ جو مومن کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ مومن کو خوش کردینے والی چیز ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات عطا فرمائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ 3۔ ہر صابرو شاکر کے لیے ایام اور واقعات میں نشانیاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن آسمانی ہدایت نور ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اس نور کی طرف لوگوں کو بلایا کرتے تھے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تاکہ ان کے ذریعے اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 5) 2۔ یقیناً آیا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب۔ (المائدۃ : 15) 3۔ اللہ رہنمائی کرتا ہے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے۔ (النور : 35) 4۔ ہم نے تو رات اتاری اس میں ہدایت اور نور ہے۔ (المائدۃ : 44) 5۔ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لائیں۔ (ابراہیم : 1) 6۔ اللہ اپنے دوستوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے شیطان اپنے دوستوں کو روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔ (البقرۃ : 257)
Ayah 14:6

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

” اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم کو فرعون کی قوم سے نجات دی، جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور دی ہوئی عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔ “ (6)

فہم القرآن ربط کلام : آزادی حاصل کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو خطاب۔ بنی اسرائیل اس قدر متلون مزاج اور احسان فراموش تھے کہ جب فرعون کی غرقابی کے بعد بیت المقدس کی طرف جارہے تھے تو راستے میں انہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو بتوں کے سامنے اعتکاف کرتے تھے۔ نبی اسرائیل کے ذہن میں شرک اس قدر سمایا ہوا تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اے موسیٰ ! ہمارے لیے بھی اس قوم کے معبودوں کی طرح معبود بنا دیجئے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ڈانٹا کہ تم کیسے جاہل لوگ ہو۔ یہ لوگ تو برباد ہونے والے ہیں اور جو کچھ یہ کرتے ہیں یہ سب کا سب باطل ہے۔ کیا اللہ کے سوا میں تمہارے لیے کوئی اور الٰہ تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں پوری دنیا پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ (الاعراف : 138۔ 140) آزادی کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم کو خطاب : (وَإِذْ أَنْجَیْنَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُقَتِّلُوّنَ أَبْنَآءََ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءََ کُمْ وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ)[ الاعراف : 141] ” وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں آل فرعون کے مظالم سے نجات عطا فرمائی۔ آل فرعون تمہیں شدید ترین عذاب میں مبتلا رکھتے تھے حال یہ تھا کہ آل فرعون تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری بچیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے سخت ترین آزمائش تھی۔ “ اسی بات کو موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بیان کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اے میری قوم ! اللہ کے احسان کو یاد کرو، جب اس نے آل فرعون سے نجات دی جو تمہیں بدترین سزادیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بھاری آزمائش تھی۔ چند الفاظ اور سیاق وسباق کے فرق کے ساتھ یہ آیت مبارکہ قرآن مجید میں تین مرتبہ آئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو یہ یاد دلانا مقصود ہے کہ اہل کتاب ! تم اپنے آپ کو بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہو۔ سوچو اور غور کرو کہ آج کس طرح تم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی مخالفت پر تلے ہوئے ہو حالانکہ وہ نسل کے اعتبار سے تمہارے جد امجد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بڑے بھائی، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، تمہارے انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے اور تمہاری کتابوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔ حق تو یہ تھا کہ تم آگے بڑھ کر ان کے معاون بنتے۔ مگر تم حسدو بغض میں آکر ان کی مخالفت کیے جا رہے ہو۔ مسائل 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو آزادی کی نعمت یاد دلائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آل فرعون سے نجات دلائی۔ 3۔ فرعون نبی اسرائیل کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کے انعام یا ددلانا : 1۔ موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ (ابراہیم : 6) 2۔ موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کے انعام یادرکھنے کی تلقین کی۔ (المائدۃ : 20) 3۔ اے بنی اسرائیل اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر انعام کی ہیں۔ (البقرۃ : 47) 4۔ موسیٰ نے کہا کیا میں تمہیں کوئی اور معبود تلاش کرکے دوں حالانکہ اس نے تمہیں جہان والوں پر فضیلت دی ہے۔ (الاعراف : 140)
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

” اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب بہت سخت ہے۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان اطہر سے بنی اسرائیل کو آزادی کی نعمت یاد کروانے کے بعد سب لوگوں کو شکر گزار ہونے کی ہدایت۔ مذکورہ بالا آیت سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو اس لیے بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو ان کے ماضی کے ایام اور اللہ تعالیٰ کے انعام یاد کروا کر انہیں کفر و شرک اور بدعت ورسومات کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش ہر اس شخص کے لیے مفید اور کارگر ثابت ہوگی جو مشکلات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والا ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کو ان کے اذیت ناک ماضی کا حوالہ دیا گیا۔ اب انہیں اور دنیا کے ہر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ لوگو ! تمہارے رب کا یہ فرمان ہے کہ اگر تم اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ تمہیں مزید نعمتوں سے نوازتا رہے گا۔ اگر تم نے ناشکری کا وطیرہ اختیار کیا تو اس کا عذاب شدید ترین ہوگا۔ صبر کا معنی مصیبت میں حوصلہ رکھنا اور دین کے بتلائے ہوئے راستے پر مستقل مزاجی کے ساتھ گامزن رہنا ہے۔ شکر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اس کی فرما نبرداری میں زندگی بسر کرنا۔ شکر کی مختصر تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اقتدار دے تو رعایا کی خدمت بجالائے، مال دے تو اس کے بندوں پر خرچ کرے، علم عطا ہو تو لوگوں کی رہنمائی کرے۔ طاقت نصیب ہو تو لوگوں کی مدد کرے، صحت ہو تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کے ساتھ اس کے بندوں کی خدمت کرتا رہے۔ شکر کی اہمیت اور فوائد : اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اظہار اور اس کی نعمتوں کا اعتراف اور شکر کرنا مشکلات سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے، مزید ملنے کی گارنٹی اور زوال نعمت سے مامون رہنے کی ضمانت ہے، شکررب کی بارگاہ میں نہایت پسندیدہ عمل ہے، اس کے مقابلہ میں ناشکری کفر کے مترادف ہے۔ (بَلِ اللّٰہَ فَاعْبُدْ وَ کُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ ) [ الزمر : 66] ” پس اللہ کی عبادت کرتے ہوئے شکر گزاربندوں میں شامل ہوجائیے۔ “ (أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ ) [ لقمان : 14] ” میرا اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرتے رہیے ‘ بالآخر تم نے میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ “ (لإَِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ ) [ ابراہیم : 7] ” اگر تم شکرکا رویہ اپناؤ گے تو ہر صورت مزید عنایات پاؤگے۔ “ (مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا) [ النساء : 147] ” اللہ کو تمہیں سزا دینے سے کیا فائدہ، اگر تم شکر اور تسلیمات کا انداز اختیار کرو۔ اللہ تو نہایت ہی قدر افزائی کرنے والا ہے۔ “ (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ کُلِّ صَلاَۃٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ )[ سنن النسائی : باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ ] ” حضرت معاذبن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے معاذ ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنا نہ چھوڑنا اے میرے پروردگار ! ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو مزید دیتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے انعام کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ 3۔ ناشکری کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے۔ 4۔ شکر کے مقابلہ میں کفر ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر اور شکر کی فضیلت : 1۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ (ابراہیم : 7) 2۔ اللہ شکر گزار بندوں کا قدرد ان ہے (النساء : 147) 3۔ اگر تم اس کا شکریہ ادا کرو تو وہ تم پر خوش ہوگا۔ (الزمر : 7) 4۔ اللہ شکر کرنے والوں کو جزادے گا۔ (آل عمران : 144) 5۔ اگر تم اللہ کا شکریہ ادا کرو گے تو وہ تمہیں عذاب نہیں کرے گا۔ (النساء : 147)
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

” اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب کفر کرو تو بیشک اللہ بےپروا اور بہت تعریف والا ہے۔ “ (8) ”

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک بار پھر سمجھانا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت کا مرکزی نقطہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دینا تھا۔ کیونکہ توحید کو سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے کیے بغیر ا 9 نسان کی پائیدار بنیادوں پر اصلاح نہیں ہوسکتی۔ توحید کا یہ تقاضا ہے کہ انسان مشکلات پر صبر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے۔ شکرکا الٹ اللہ تعالیٰ کی ناقدری اور اس کے ساتھ کفر کرنا ہے۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو بتلایا اور سمجھایا کہ اگر تم اور جو بھی زمین پر انسان موجود ہیں اور ہوں گے وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کا انکار کریں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ وہ بندوں کے شکریہ اور ان کی فرما نبرداری کا محتاج نہیں کیونکہ وہ ہر اعتبار سے بےنیاز اور حمد و ستائش کے لائق ہے۔ کیا تمہیں پہلے لوگوں کے واقعات کا علم نہیں ؟ جن میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد، ثمود اور ان کے بعد لوگوں کا آسمانی اور تاریخ کی کتابوں میں ذکر موجود ہے۔ ان میں ایسی اقوام بھی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بشر کو نہیں کہ کونسی قوم کس علاقے اور کس انجام کے ساتھ دوچار ہوئی۔ ان کے پاس اللہ کے رسول بین دلائل کے ساتھ آئے۔ مگر ان قوموں نے انبیاء (علیہ السلام) کے اخلاص کی قدر کرنے، ان کی دعوت سمجھنے اور ان کی تائید کرنے کی بجائے اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ جس دعوت کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا صاف صاف انکار کرتے ہیں کیونکہ جس عقیدہ کی تم دعوت دیتے ہو
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، نوح کی قوم، عاد، ثمود اور ان کی جو ان کے بعد تھے، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر رکھ لیے اور کہنے لگے بیشک ہم اسے نہیں مانتے جو تم دے کر بھیجے گئے ہو اور بیشک ہم اس چیز کے بارے میں جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو ایک اضطراب میں ڈالنے والے شک میں مبتلا ہیں۔ “ (9)

ہم اس کے بارے میں شک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ چہروں پر ہاتھ رکھنے کا مقصد انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت سے نفرت کا اظہار کرنا تھا۔ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے منفی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بیان ہوا ہے کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے اور سمجھاتے کہ اے میری قوم اگر تم شرک و خرافات کو چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سابقہ گناہ معاف کرے گا۔ لیکن قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اپنے چہروں کو کپڑوں سے ڈھانپ لیا۔ ( نوح : 7) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ 2۔ ساری کائنات مل کر بھی اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات سے بےپروا ہے۔ 4۔ سابقہ امم کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اقوام کے پاس رسول بھیجے۔ تفسیر بالقرآن شکر کے فائدے اور ناشکری کے نقصانات : 1۔ اگر تم اس کی ناشکری کرو تو اللہ بےپروا ہے اور تعریف والا ہے۔ (ابراہیم : 8) 2۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اگر ناشکری کرو تو اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (ابراہیم : 7) 3۔ جو شخص شکر کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو ناشکری کرتا ہے میرا رب اس سے بےپروا ہے۔ (النمل : 40)
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

” ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ کے بارے میں شک ہے ؟ جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخش دے اور تمہیں ایک متعین مدت تک مہلت دے۔ انہوں نے کہا تم ہمارے جیسے ہی بشر ہو، تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے روک دو ، جس کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، پس ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ “ (10)

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء (علیہ السلام) کے بار، بار سمجھانے کے باوجود لوگوں کا بلا دلیل اور بلا جواز توحید و رسالت کے بارے میں شک کرنا اور اس کا جواب۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا طریقہ، توحید کا عقیدہ اور اس کے دلائل اتنے ٹھوس، واضح اور شفاف تھے اور ہیں کہ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ انہیں سمجھنا چاہے تو اسے کوئی دقّت پیش نہیں آتی۔ اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کے شواہد اس قدر کھلے اور عام ہیں کہ ایک ان پڑھ سے ان پڑھ انسان بھی اس کا ادر اک کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) ایک مرتبہ نہیں، زندگی بھر اللہ کی توحید کے دلائل دیتے رہے۔ مگر نہ ماننے والے یہ کہہ کر انکار کرتے تھے کہ ہمارے شک و شبہات ابھی تک دور نہیں ہوئے۔ جس پر انبیاء کرام (علیہ السلام) انہیں فرمایا کرتے کہ شک و شبہات کا بہانہ کرنے والو ! کیا تم اللہ کی ذات کے بارے میں شک کرتے ہو ؟ جس نے بغیر کسی پہلے سے موجود نقشے اور میٹریل کے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا وہ تمہیں سمجھاتا اور بلاتا ہے کہ میرے بندو ! میری طرف آجاؤ۔ میں تمہارے گناہوں کو معاف کرنے کے لیے تیار ہوں اور میں ہی تمہیں ایک معین مدت تک مہلت دیئے رکھتا ہوں۔ انسان جتنا بھی اللہ سے دور اور اس کا سرکش ہوجائے اللہ تعالیٰ پھر بھی اسے مدت مدید تک مہلت دیے رکھتا ہے تاکہ میرا بندہ میری رحمت کا حقدار ہوجائے۔ لیکن لوگوں نے توحید خالص کا عقیدہ قبول کرنے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) کو یہ بھی جواب دیا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ اس دعوت کے پیچھے تمہارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں اور معبودوں کے عقیدہ اور طریقہ سے روک دیا جائے۔ ہم تمہاری دعوت اور باتوں پر مطمئن نہیں۔ اس لیے ہمارے سامنے کوئی بھاری معجزہ پیش کرو۔ کچھ اہل علم نے شک سے مراد فکری تذبذب لیا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ لوگ انبیاء ( علیہ السلام) کی عظیم اور پر خلوص جدو جہد کے باوجود عقیدہ توحید کو نہ سمجھ سکے مگر شرک کے بارے میں ضرور شک کا شکار ہوگئے۔ صد احترام کے باوجود اس توجیہہ کے ساتھ اتفاق کرنے کو دل نہیں مانتا۔ کیونکہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر تھے۔ جس طرح آج مادہ پرست سائنسدان اور عام لوگ انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے مشرک صرف ایک اللہ کو حاجت روا، مشکل کشا ماننے کی بجائے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تنہا ہماری مشکلات حل نہیں کرسکتا اور نہ ہی برائے راست ہماری فریادیں سنتا ہے۔ یہی وہ شک اور مشرکانہ عقیدہ ہے۔ جس میں ہلاک ہونے والی اقوام مبتلا تھیں۔ مسائل 1۔ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک میں مبتلا تھے۔ 2۔ زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ 4۔ کفار انبیاء (علیہ السلام) سے بار بارمعجزات طلب کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ رویہ : 1۔ کفار کہتے تھے کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ (ابراہیم : 10) 2۔ کفار نے انبیاء سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے۔ (ابراہیم : 13) 3۔ حضرت نوح کو قوم کا جواب جب ان کے پاس رسول معجزات لے کر آئے تو انہوں نے انکار کیا۔ (المومن : 22) 4۔ حضرت نوح کو قوم کے سرداروں نے کہا تو تو ہمارے جیسا ہی ایک آدمی ہے اور تیری پیروی کرنے والے بھی ادنیٰ لوگ ہیں۔ (ھود : 27) 5۔ قوم عاد نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور رسولوں کی نافرمانی کی۔ (ھود : 59) 6۔ حضرت موسیٰ کو فرعون نے کہا کیا تم اپنے جادو سے ہمیں ہماری زمین سے نکالنا چاہتے ہو۔ (طٰہٰ : 57 ) 7۔ کافروں کے پاس جب حق آیا تو انہوں نے اسے واضح طور پر جادو قرار دیا۔ (سبا : 43) 8۔ کفار نے نبی اکرم کو جادو گر قرار دیا۔ (الفرقان : 8)
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

” ان کے رسولوں نے کہا ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر ہیں۔ لیکن اللہ احسان فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور ہمارے لیے ممکن نہیں کہ تمہارے پاس کوئی دلیل اللہ کے اذ ن کے بغیر لے آئیں اور پس لازم ہے کہ ایمان والے اللہ پر بھروسہ کریں۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی بشریت کا جواب، انبیاء ( علیہ السلام) کی زبان اطہر سے۔ مشرکین کی عجب حالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کامل صفات کے ساتھ ماننے کی بجائے دوسروں کو اس کی صفات میں بلادلیل شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے۔ تمام پیغمبر اس شرک سے لوگوں کو منع کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے۔ لیکن جب بھی اپنے اپنے دور میں پیغمبروں نے لوگوں کو توحید خالص کی دعوت دی تو لوگوں نے اس پر ایمان لانے کی بجائے پیغمبروں کی دعوت کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق ہر پیغمبر نے اس بات کا یہی جواب دیا کہ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر خصوصی احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے کام اور پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ یہ اسی کا اختیار ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اپنے کام اور پیغام کے لیے منتخب کرلے۔ کیونکہ ہم اس کے بندے اور اس کے پیغام رساں ہیں۔ اس لیے ہمارے اختیار میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ تمہارے سامنے پیش کرسکیں۔ ایمان لانے والوں کو متزلزل ہونے کی بجائے اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ اس آیت مبارکہ میں دو ٹوک الفاظ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی زبان اطہر سے واضح کیا ہے کہ تمام کے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) ” بشر “ تھے اور ان کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ جب چاہیں، جس طرح چاہیں کوئی معجزہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں۔ اس آیت کے آخری الفاظ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) کا جواب صرف کفار کے لیے ہی نہیں تھا۔ بلکہ وہ اپنے ماننے والوں کو بھی یہی بتلایا کرتے تھے کہ ہم بھی تمہارے جیسے انسان ہیں۔ لہٰذا کفار کے بار بارمطالبات کی بنیاد پر ہم سے ایسی توقع نہ رکھو جو ہمارے بس کی بات نہیں۔ بس اللہ تعالیٰ پر ایمان پختہ رکھو اور اسی کی ذات پر توکل کرو۔ جب وہ چاہے گا ہمارے ہاتھ پر کوئی معجزہ سرزد فرما کر کفار کو لاجواب کردے گا۔ یاد رہے کہ ہر دور کے کافر یہ بات کہہ کر پیغمبروں کی بشریت کا انکار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیغام کے لیے انسان کی بجائے کسی فرشتے کو مقرر کرنا چاہیے تھا۔ جس کا جواب قرآن مجید نے یہ دیا ہے کہ اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ انہی میں سے ایک فرشتے کو رسول منتخب کرتا۔ چونکہ زمین میں انسان بستے ہیں اس لیے ان کی سہولت اور رہنمائی کے لیے بشر ہی کو رسول بنایا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل : 95) افسوس اس بات کا ہے کہ اتنی واضح حقیقت کے باوجود مسلمانوں کا ایک گروہ یہ کہہ کر بشریت کا انکار کرتا ہے کہ نبی ﷺ کو انسانوں جیسا انسان کہنا آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا ہے، حالانکہ دنیا میں کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جو رسول معظم ﷺ کو جمال و کمال، اخلاق اور اعمال مرتبہ اور شان کے حوالے سے اپنے جیسا سمجھتا ہو۔ ایسا سمجھنے والا شخص صرف گستاخ نہیں بلکہ پر لے درجے کا مرتد اور واجب القتل ہوگا۔ قرآن مجید کے فرمان اور انبیاء ( علیہ السلام) کے اعتراف کے مطابق انبیاء ( علیہ السلام) کی بشریت کا صرف یہ معنی ہے کہ تمام انبیاء ( علیہ السلام) بنی نوع انسانوں میں سے تھے اور وہ بھی کھانے پینے، چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے اور موت وحیات کے انہی ضابطوں کے پابند تھے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے مقرر فرمائے ہیں۔ مسائل 1۔ تمام رسول بشر ہی ہوا کرتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ 3۔ انبیاء ( علیہ السلام) اپنی طرف سے کوئی معجزہ نہیں لاسکتے تھے۔ 4۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے : 1۔ انبیاء نے فرمایا کہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں لیکن اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : 11) 2۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : 24) 3۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : 154) 4۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : 33) 5۔ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشر تھے۔ (النحل : 43) 6۔ آپ ﷺ اعلان فرمائیں کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ (الکہف : 110)
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

” اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں، حالانکہ اس نے ہمیں راستے دکھا دیے ہیں اور ہم ہر صورت اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور پس چاہیے کہ بھروسہ کرنے والے اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کریں۔ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے کا اعلان اور عقیدہ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) ہر مصیبت اور مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی تعلیم دیتے تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں اپنے رب پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ اس عقیدہ اور تعلیم کا یہ اثر تھا کہ ان پر ایمان لانے والے حضرات بےپناہ مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود ظلم کرنے والوں کو کہتے کہ تم جو چاہو کرگزرو۔ ہمارا ایمان اور اعتماد ہے کہ ہمارا رب ہماری ضرور مدد فرمائے گا۔ ہم کیوں نہ اپنے رب پر توکل کریں جب کہ اس نے کفرو شرک اور بدعت ورسومات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ اس لیے ہم صبر کریں گے اور وہ ایک دوسرے کو یہی بات کہتے کہ ہمیں اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ توکل کا معنی ٰہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا یہ مفہوم ہے کہ بندہ اپنے خالق ومالک پر کامل اعتماد و یقین کا اظہار کرتا ہے۔ جو اپنے رب پر بھروسہ اور توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ لہٰذا تنگی اور آسانی ‘ خوشی اور غمی میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے۔ یہ غموں کا تریاق اور مشکلات کا مداوا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم اور فائدہ : 1۔ توکل کرنے والوں کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (ابراہیم : 12) 2۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (آل عمران : 159) 3۔ اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدۃ : 23) 4۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3) 4۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر سے نوازے گا۔ (العنکبوت : 59) 6۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے یقیناً اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (الانفال : 49)
Ayahs 14:13–15

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

” اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رسولوں سے کہنے لگے ہم ہر صورت تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے، یا ضرور تم ہمارے دین میں واپس آؤ گے ان کے رب نے انکی طرف وحی کی کہ یقیناً ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے۔ “ (13) ”

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور یقیناً ان کے بعد تمہیں اس زمین میں ضرور آباد کریں گے، یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے اور میری وعید سے ڈر جائے۔ “ (14) ”

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور انہوں نے فیصلہ مانگا اور ہر سر کش، سخت عناد رکھنے والے نامراد ہوئے۔ “ (15)

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) اور مومنین کے جواب میں کفار کی دھمکیاں۔ کفار اور مشرکین کی شروع ہی سے یہ عادت رہی ہے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے خلاف ہرزہ سرائی اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی سر توڑ کوشش ہوتی ہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں پر اس قدر جبرو ستم کیا جائے کہ وہ انبیاء ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے نہ صرف انکار کریں بلکہ اپنی جان کے خوف سے ایمان سے دست کش ہو کر کفر میں پلٹ آئیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کے کردار اور ان کی استقامت کے بارے میں کفار کو یقین ہوتا تھا کہ یہ مرجائیں گے مگر اپنے عقیدے اور دعوت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ اس لیے انبیاء (علیہ السلام) کے بارے میں کفار کا عمومی طور پر یہ روّیہ رہا ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے یا اپنے ملک سے نکلنے پر مجبور کردیا جائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو انہوں نے پتھر مار مار کر مار ڈالنے کی دھمکی دی ان کے بعد جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ ان میں سے کچھ انبیاء (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا اور چند ایک انبیاء (علیہ السلام) کو چھوڑ کر باقی کو ان کے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا گیا۔ یہی کچھ نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کے جانثار ساتھیوں کے ساتھ کیا گیا۔ جب بھی یہ صورت حال پیش آئی تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ ثابت قدم رہیے اور ہمارے حکم کے مطابق کرتے جائیے۔ ہم ظلم کرنے والوں کو ہر صورت ہلاک کریں گے اور تمہیں ضرور زمین میں تمکنت عطا فرمائیں گے۔ یہ مرتبہ اور مقام ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کے سامنے کھڑا ہونے اور اس کی وعید سے ڈرتا رہے گا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہر جابر اور ظالم کو نا کام کردیا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو زمین میں عزت و عظمت اور برکات سے نوازا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ کی تاریخ اس پر پوری طرح گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو دنیا میں ذلیل و خوار کیا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ : (وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ )[ العنکبوت : 69] ” جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنا راستہ دکھلائیں گے اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ مسائل 1۔ کفار انبیاء ( علیہ السلام) کو راہ راست سے بھٹکانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے دشمنوں کو ہلاک کرنے کا وعدہ پورا فرمایا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو زمین میں عزت و تمکنت عطا فرمائی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں اقتدار دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء ( علیہ السلام) اور ان کے ساتھی کامیاب اور کفار ذلیل ہوئے : 1۔ ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے اور تمہیں ان کے بعد زمین میں بسائیں گے یہ وعدہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرجائے۔ (ابراہیم : 13۔ 14) 2۔ کفارنے حضرت نوح کو جھٹلایا ہم نے نوح اور اس کے ماننے والوں کو نجات دی۔ (الاعراف : 64) 3۔ ہم نے موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ (الشعرا : 65) 4۔ ہم نے شعیب اور ایمان لانے والوں کو نجات دی۔ (ہود : 94)
Ayahs 14:16–17

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

” اور اس کے پیچھے جہنم ہے اور اسے پیپ والا پانی پلایا جائے گا۔ “ (16) ”

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اس کے گھونٹ بمشکل پیے گا اور ممکن نہیں کہ اسے حلق سے اتار سکے اور اس کے پاس موت ہر طرف سے آئے گی، حالانکہ وہ کسی صورت بھی مرنے والا نہیں اور اس کے پیچھے ایک سخت عذاب ہے۔ “ (17)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انبیاء ( علیہ السلام) کی مخالفت کرنے والے دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ کفار کے مظالم جب اپنی انتہا کو پہنچے تو انبیاء کرام (علیہ السلام) نے ان سے نجات اور اپنی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے مخالفوں کو دنیا میں برباد کیا اور آخرت میں ان کے لیے جہنم ہوگی۔ جس میں انہیں پینے کے لیے انہی کے زخموں سے نکلنے والا گنداخون اور بدبو دار پیپ دی جائے گی۔ جہنم کی تپش اور بھوک پیاس کی شدت کی وجہ سے جہنمی انتہائی کرب اور مجبوری کی حالت میں پیپ والے ابلتے ہوئے پانی کو پینے کی کوشش کریں گے۔ مگر وہ ایک آدھ گھونٹ کے سوا پی نہیں سکیں گے۔ جونہی گھونٹ حلق میں اتاریں گے تو وہ حلق کو کاٹتے ہوئے پیٹ میں داخل ہوتے ہی درد کا طوفان برپا کردے گا۔ اس طرح وہ اپنے اندر اور باہر سے ناقابل برداشت تکلیف پائیں گے۔ اور یوں محسوس کریں گے کہ جیسے ان کو اندر اور باہر سے موت نے جکڑ لیا ہے مگر انہیں موت ہرگز نہیں آئے گی اس طرح انہیں ہر لمحہ پہلے عذاب سے شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔ من ورآۂ جہنم اس کے پیچھے جہنم ہوگی کے الفاظ استعمال فرما کر ظلم کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے کہ دنیا کی ذلت و ہلاکت کے ساتھ ہی تمہیں جہنم میں جھونکا جائے گا گویا کہ جہنم تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے یعنی تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ قرآن مجید نے یہ بھی بتلایا ہے : جہنم کا عذاب جہنمیوں کا پیچھا کرے گا۔ (الفرقان : 13) جہنم کی تپش : ” حضرت ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈی کرلیا کرو۔ بخاری کی دوسری روایت میں حضرت ابو سعید ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز کا نام لے کر فرمایا اس نماز کو ٹھنڈا کرو، جہنم کے سانس لینے کی وجہ سے گرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جہنم کی آگ نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکایت کی کہ میرے رب میں اپنے آپ میں ہی جلی جارہی ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے اسے دوسانس لینے کی اجازت عنایت فرمائی ایک سردی میں اور دوسرا گرمی میں جب تم شدید گرمی اور شدیدسردی محسوس کرتے ہو تو یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے۔ “ (رواہ مسلم : کتاب المساجد ‘ باب استحباب الابراد) جہنمی کا جسم کتنا بڑا ہوگا : (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا بَیْنَ مَنْکِبَیِ الْکَافِرِ فِیْ النَّارِ مَسِیْرَۃُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ للرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ ضِرْسُ الْکَافِرِ مِثْلُ اُحُدٍ وَغِلْظُ جِلْدِہٖ مَسِیْرَۃُ ثَلٰثٍ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب النَّارُ یَدْخُلُہَا الْجَبَّارُوْنَ وَالْجَنَّۃُ یَدْخُلُہَا الضُّعَفَآءُ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جہنم میں کافر کے کندھوں کا درمیانی فاصلہ اتنا لمبا ہوگا کہ تیز رفتارسوار کے لیے تین دن کی مسافت ہوگی دوسری روایت میں ہے کہ دوزخ میں کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی جلد کی موٹائی تین رات کی مسافت کے برابر ہوگی۔ “ مسائل 1۔ کفار کو جہنم میں پینے کے لیے پیپ اور لہو دیا جائے گا۔ 2۔ جہنم میں موت نہیں آئے گی۔ 3۔ کفار کو آخرت میں سخت ترین عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں پینے کا پانی کیسا ہوگا : 1۔ ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہوگا۔ (الانعام : 70) 2۔ کفار کے لئے اُبلتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہوگا۔ (یونس : 4) 3۔ جہنمی گرم ہوا کی لپیٹ میں اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ (الواقعۃ : 42) 4۔ ان کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوگی مگر ضریع ہے۔ جو ناموٹا کرے گا اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے گا۔ (الغاشیۃ : 6۔ 7) 5۔ جہنمیوں کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : 16) 6۔ کھولتے ہوئے چشمے سے انھیں پانی پلایا جائے گا۔ (الغاشیۃ : 5)