13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم تعارف سورة الرعد اس سورة کا نام اس کی آیت ١٣ سے لیا گیا ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چمکنے اور کڑکنے والی آسمانی بجلی بھی اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے۔ یہ سورة چھ رکوع اور ٤٣ آیات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان رات اور دن باغات اور نباتات کے حوالے سے اپنی وحدت کا ثبوت دیتے ہوئے انسان کو یہ بات باور کروائی ہے کہ اے انسان ! اللہ تعالیٰ تجھے اس وقت سے جانتا ہے جب تو اپنی ماں کے رحم میں تھا۔ وہ رحم میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے بھی واقف ہے۔ اس کے سامنے غائب اور ظاہر دونوں برابر ہیں۔ وہ تیری جلوت اور خلوت کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس نے ہر کسی پر نگران اور محافظ مقرر کر رکھے ہیں۔ سب کچھ جاننے اور ہر چیز پر قدرت رکھنے کے باوجودوہ لوگوں کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے آپ کو بدلنے کا عزم نہ کریں۔ اس نے انسان کو اپنی حالت بدلنے یا نہ بدلنے کے بارے میں اختیار دے رکھا ہے۔ انسان اس اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اپنے رب کا نافرمان ہوجاتا ہے۔ حالانکہ انسان اس قدر کمزور ہے کہ وہ چمکنے اور کڑکنے والی بجلی کی تاب نہیں لاسکتا۔ بجلی کی جس آواز سے یہ کانپتا ہے حالانکہ وہ اپنی زبان میں اپنے رب کی حمد بیان کرتی ہے۔ توحید کے دلائل دینے کے بعد فرمایا کہ لوگوں تک حق پہنچ چکا ہے۔ خدا کے نافرمانوں کی حالت اس شخص کی مانند ہوچکی ہے۔ جو پانی پر کھڑا ہو کر ہاتھ پھیلا کر پانی کو آواز پر آواز دیتا ہے لیکن اس کے باوجود پانی اس کی زبان تک نہیں پہنچتا۔ یہی حالت خدا کے نافرمان اور مشرک کی ہوا کرتی ہے کہ اگر وہ خدا کی خدائی اور اس کی توحید کو سمجھنا چاہے تو ہر قسم کے دلائل اس کے سامنے موجود ہوتے ہیں۔ اگر نہ سمجھنا چاہے پانی کی طرح عقیدہ توحید کی عظیم نعمت خود اس تک نہیں پہنچ سکے گی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی قدرت قریب ہونے کے باوجود پھر بھی مشرک دوسروں کو پکارتا ہے۔ حالانکہ وہ نفع و نقصان پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ عقیدۂ توحید خالص سونے کی مانند ہے اور شرک جھاگ اور راکھ کے برابر ہے جس طرح جھاگ اور راکھ کا کوئی فائدہ نہیں اسی طرح شرک کرنے والے کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ جس طرح جھاگ اور راکھ کچھ مدت کے بعد اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں۔ اسی طرح مشرک اور کافر اپنے اچھے اعمال کا نتیجہ بھی کھوبیٹھیں گے۔ اس مثال کے بعد اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور لوگوں کے ساتھ عہد کی وفا کا حکم دیا ہے۔ پھر یہ بات ارشاد فرمائی کہ صاحب ایمان لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور ذکر پر سکون پاتے ہیں۔ سورت کے آخر میں قرآن مجید کی عظمت کا ذکر کیا گیا ہے۔

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

” ا آآرٰ ۔ کتاب کی آیات ہیں اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (1)

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا تعارف۔ نبوت سے پہلے لوگوں کو نبی اکرم ﷺ پر نہ صرف مکمل اعتماد تھا کہ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں بلکہ ان کا یہ بھی اعتقاد تھا کہ آپ سب سے بڑھ کر دیانتدار ہیں۔ اسی لیے وہ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ لیکن جونہی آپ پر قرآن مجید نازل ہوا، اس میں ان کے شرک کی نفی کی گئی تو وہ لوگ یکدم کہنے لگے کہ یہ شخص جھوٹ بولتا ہے۔ اس پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی۔ یہ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کے ذمہ لگاتا ہے۔ جس سے ان کا منشا یہ تھا کہ قرآن کا انکار کرنے سے یہ شخص خود بخود ناکام ہوجائے گا۔ ان کی اس سازش کو ناکام کرنے اور نبی ﷺ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ بار بار قرآن مجید کا تعارف کرواتا ہے کہ یہ قرآن من جانب اللہ ہے۔ اس کی کسی بات میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہے۔ جس کا اعتراف ہر دور کے منصف مزاج کافر بھی کیا کرتے ہیں جس کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔ فرانس کا مشہور مستشرق ڈاکٹر مارڈریس جس کو حکومت فرانس کی وزارت معارف نے قرآن حکیم کی باسٹھ سورتوں کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کرنے پر مامور کیا تھا اس کا اعتراف : ” بیشک قرآن کا طرز بیان اللہ تعالیٰ کا طرز بیان ہے، بلا شبہ جن حقائق و معارف پر یہ کلام حاوی ہے وہ کلام الٰہی ہی ہوسکتا ہے، اور واقعہ یہ ہے کہ اس میں شک وشبہ کرنے والے بھی جب اس کی عظیم تاثیر کو دیکھتے ہیں تو تسلیم واعتراف پر مجبور ہوجاتے ہیں، پچاس کروڑ مسلمان (اس تحریر کے وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی ہی تھی 2008 میں یہ تعداد سوا ارب سے زائد ہے) جو سطح زمین کے ہر حصہ پر پھیلے ہوئے ہیں ان میں قرآن کی خاص تاثیر کو دیکھ کر مسیح مشن میں کام کرنے والے بالاجماع اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ “ ڈاکٹر گستادلی بان نے اپنی کتاب ” تمدن عرب “ میں قرآن کی حیرت انگیزی کا اعتراف، ان الفاظ کیا ہے : ” پیغمبر نبی امی اسلام کی ایک حیرت انگیز سر گزشت ہے، جس کی آواز نے ایک قوم ناہنجار کو جو اس وقت تک کسی ملک کے زیر حکومت نہ آئی تھی رام کیا اور اس درجہ پر پہنچا دیا کہ اس نے عالم کی بڑی بڑی سلطنتوں کو زیر و زبر کر ڈالا۔ “ مسٹر وڈول جس نے قرآن مجید کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا لکھتے ہیں : ” جتنا بھی ہم اس کتاب یعنی قرآن کو الٹ پلٹ کر دیکھیں اسی قدر پہلے مطالعہ میں اس کی مرغوبیت نئے نئے پہلوؤں سے اپنا رنگ جماتی ہے، فوراً ہمیں مسخر اور متحیر کردیتی ہے، اور آخر میں ہم سے تعظیم کرا کر چھوڑتی ہے، اس کا طرز بیان با عتبار اس کے مضامین کے، عفیف، عالی شان اور تہدید آمیز ہے اور جا بجا اس کے مضامین سخن کی غایت رفعت تک پہنچ جاتے ہیں، غرض یہ کتاب ہر زمانہ میں اپنا پر زور اثر دکھاتی رہے گی۔ “ (شہادۃ الاقوام، ص 13) مسائل 1۔ قرآن مجید چھوٹی چھوٹی آیات اور حقائق پر مبنی کتاب ہے۔ 2۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ 3۔ قرآن مجید کے حق ہونے کے باوجود لوگوں کی اکثریت اس پر ایمان نہیں لاتی۔ تفسیر بالقرآن حق کیا ہے ؟ 1۔ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا وہ حق ہے۔ (الرعد : 1) 2۔ تیرے رب کی طرف سے حق پہنچ گیا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں جائیں۔ (البقرۃ : 147) 3۔ اللہ نے قرآن مجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ (البقرۃ : 176) 4۔ یہ اللہ کی آیات ہیں ہم ان کو آپ پر حق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔ (البقرۃ : 252) 5۔ یقیناً جو اس کتاب میں قصے بیان کیے گئے ہیں وہ برحق ہیں۔ (آل عمران : 62) 6۔ حکم صرف اللہ کا ہے وہی حق بیان کرنے والا ہے۔ (الانعام : 57) 7۔ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور حق کو جانتے بوجھتے مت چھپاؤ۔ (البقرۃ : 42)
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

” اللہ وہ ہے جس نے آسما نوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جنہیں تم دیکھتے ہو، پھر وہ عرش پر بلند ہوا اور اس نے چاند اور سورج کو مسخر کیا۔ ہر ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے، وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے اور کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے، تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرلو۔ “ (2)

فہم القرآن ربط کلام : جس ہستی نے قرآن نازل فرمایا اس کی صفات کا بیان۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق، تدبیر اور حکمتوں کو دیکھنے کے لیے ایک سرسری نظر کا ئنات کی تشکیل اور تدبیر پر ڈالیں۔ کائنات اور اس کا نظام : اب تک جو کائنات معلوم ہوئی ہے اسے اگر مکعب کلو میٹر میں ناپا جائے۔ ایک مکعب کلومیٹر ایک کلومیٹر لمبائی، ایک کلومیٹر چوڑائی اور ایک کلومیٹر اونچائی ہے تو پوری معلوم کائنات کا گھیراؤ نکالنے کے لیے ایک کے آگے 69 صفر لگانے پڑیں گے تب حساب پورا ہوگا۔ اس کے باوجود کائنات لامحدود ہے اس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ مسلسل انتہائی تیز رفتاری سے مزید پھیل رہی ہے۔ ہماری زمین جس نظام شمسی میں شامل ہے اس کی وسعت کا یہ حال ہے کہ زمین سورج سے صرف 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے جبکہ پلوٹو سیارے کا سورج سے فاصلہ 15 اَرب 91 کروڑ کلومیٹر ہے۔ ہماری زمین کا قطر 12754 کلومیٹر ہے۔ سورج کا قطر 14 لاکھ کلومیٹر ہے یعنی زمین سے 109 گنا بڑا ہے۔ قطر کی یہ وسعت تو کچھ بھی نہیں۔ ہماری کہکشاں کا قطر ایک لاکھ 17x کھرب کلو میٹر ہے۔ اس کہکشاں میں ایک کھرب ستارے پائے جاتے ہیں اور اب تک ایسی کھرب سے زائد کہکشائیں دریافت ہوچکی ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے درمیان ایک کہکشاں ایسی ہے جس کے گرد تمام کہکشائیں چکر کاٹ رہی ہیں۔ ان کا ایک چکر 25 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ سورج کا وزن دس کھرب 19889 کھرب ٹن ہے یعنی زمین سے تقریباً سوا تین لاکھ گنا زیادہ اور درجۂ حرارت تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اس میں 40 لاکھ ٹن ہائیڈروجن گیس فی سکینڈ استعمال ہوتی ہے اور اس کی سطح کا درجہ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ سورج کی حرارت ابھی مزید 5 اَرب سال کے لیے کافی ہے۔ ہماری کہکشاں کا وزن سورج سے 4 کھرب گنا زیادہ ہے اور اس کا فاصلہ کائنات کے مرکز سے اڑھائی لاکھ 10x کھرب کلومیٹر ہے۔ سب سے لمبی کہکشاں کی لمبائی تقریباً ایک ارب 10x کھرب کلو میٹر اور موٹائی دس کھرب 5x کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر ہے۔ اس کی روشنی 20 کھرب سورجوں کی روشنی کے برابر اور اس کا قطر ہماری کہکشاں سے 80 گنا زیادہ ہے۔ روشنی ایک شمسی سال میں تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے 95 کھرب کلومیٹر فاصلہ طے کرتی ہے اسے نوری سال کہا جاتا ہے اور یہ کہکشاں ہماری زمین سے ایک ارب 7 کروڑ نوری سال دور ہے۔ اگر تمام ستارے ایک جیسے فاصلے سے دیکھے جاسکیں تو Carinaeta سب سے زیادہ روشن ہوگا۔ اس کی روشنی سورج سے 65 لاکھ گنا زیادہ ہے۔ 1989 ء میں فلکیات دانوں نے خلاء میں عظیم دیوار (Great Wall) کی دریافت کا اعلان کیا۔ یہ کہکشاؤں کا مجموعہ ہے۔ اس کی لمبائی دس کھرب x ساڑھے سات ارب کلومیٹر ہے۔ اس کی چوڑائی دس کھرب 2.6x ارب کلومیٹر ہے اور اس کی گہرائی دس کھرب 22x کروڑ کلومیٹر ہے۔ اندازہ ہے کہ ایک کہکشانی نظام ایسا ہے کہ اس کی جو شعاعیں اس کہکشاں سے چار ارب نوری سال پہلے روانہ ہوئی تھیں وہ آج پہنچی ہیں۔ یعنی اس کہکشاں کی روشنی نے زمین تک پہنچنے کے لیے چار ارب 95x کھرب کلومیٹر فاصلہ طے کیا ہے۔ ہماری قریب ترین کہکشاں Andromeda Galaxy M31 ہے۔ اس کا ہماری کہکشاں سے فاصلہ 22 لاکھ 99x کھرب کلومیٹر ہے۔ اس کا وزن 3 کھرب سورجوں کے برابر اور اس کا قطر 95x130000 کھرب کلومیٹر ہے۔ اس کا حجم ہماری کہکشاں سے دگنا ہے۔ اس میں تقریباً 4 کھرب ستارے ہیں۔ بعض کہکشاؤں کا قطر 2 ہزار سے 8 لاکھ نوری سال، وزن 10 لاکھ سے 100 کھرب سورجوں کے برابر اور روشنی دس لاکھ سے 1 کھرب سورجوں کی روشنی کے برابر ہے۔ کہکشائیں کیا سب سے بڑی چیزیں ہیں ؟ جی نہیں ! کہکشائیں مل کر Cluster بناتی ہیں۔ Cluster میں سینکڑوں سے لے کر ہزاروں کہکشائیں ہوسکتی ہیں۔ ہماری کہکشاں جس Cluster میں ہے یہ 30 کہکشاؤں کا مجموعہ ہے جبکہ Spiral Galaxy M100 تقریباً 2500 کہکشاؤں کا مجموعہ ہے۔ پھر Super Cluster درجنوں Clusters پر مشتمل ہوتا ہے۔ ابھی تک دکھائی دینے والی کائنات میں تقریباً 10 لاکھ Super Cluster ہیں۔ ایک Cluster کی کہکشاؤں کا آپس میں فاصلہ 10 لاکھ 95x کھرب کلومیٹر سے 20 لاکھ 95x کھرب کلومیٹر تک ہوتا ہے اور Clusters کے درمیان آپس کا فاصلہ اس سے سو گنا زیادہ ہے۔ Spherical Cluster میں 10 ہزار کہکشائیں ہیں۔ Quasars کائنات کے اب تک دریافت شدہ روشن ترین اجسام ہیں۔ زیادہ دور ہونے کی وجہ سے یہ بھی چھوٹے ستاروں کی طرح نظر آتے ہیں۔ ان کی روشنیاں جو آج ہم تک پہنچی ہیں یہ دراصل 10 ارب نوری سال پہلے وہاں سے چلی تھیں۔ ہمارے نظام شمسی جتنا Quasar دس کھرب سو رجوں سے زیادہ روشن جبکہ ہماری کہکشاں کی مجموعی روشنی سے سو گنا زیادہ روشن ہوتا ہے۔ 10 Quasar 3cg سے 16 اَرب نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اگر ہم 7 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کریں تو کائنات عبور کرنے میں تین ہزار کھرب سال لگیں گے وہ بھی اگر کائنات محدود ہو تو جبکہ کائنات لامحدود ہے۔ زمین کی وسعت : زمین کا کرہ فضا میں سیدھا نہیں کھڑا بلکہ 23 درجے کا زاویہ بناتا ہوا ایک طرف جھکا ہوا ہے۔ یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آبادکاری کے قابل ہوجاتا ہے اور مختلف نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ زمین اپنے محور پر 1000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لٹو کی کی مانند گھوم رہی ہے۔ اگر زمین کی رفتار 100 میل فی گھنٹہ ہوتی تو ہمارے دن اور رات موجودہ دن اور رات سے دس گنا زیادہ لمبے ہوتے۔ زمین کی تمام ہریالی اور ہماری فصلیں سو گھنٹے کی مسلسل دھوپ میں جھلس جاتیں اور جو بچ رہتیں وہ لمبی سرد رات میں سردی کی نذر ہوجاتیں۔ اگر زمین کی اوپر کی پرت صرف دس فٹ اور موٹی ہوتی تو ہماری فضا میں آکسیجن کا وجود نہ ہوتا جس کے بغیر حیوانی اور انسانی زندگی ناممکن ہوتی۔ اسی طرح اگر سمندر چند فٹ اور گہرے ہوتے تو وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن جذب کرلیتے اور زمین کی سطح پر کسی قسم کی نباتات زندہ نہ رہ سکتیں۔ اگر آکسیجن 21% کی بجائے 50% یا اس سے زیادہ مقدار میں فضا کا جزو ہوتی تو سطح زمین کی تمام چیزوں میں آتش پذیری کی صلاحیت اتنی بڑھ جاتی کہ ایک درخت کے آگ پکڑتے ہی سارا جنگل بھک سے اڑ جاتا۔ زمین کے گرد ہوا کا غلاف اس انداز سے رکھا گیا ہے کہ زمین پر اس کا دباؤ مناسب رہے تاکہ انسان سانس لینے میں دشواری محسوس نہ کرے۔ اور باہر سے آنے والے شہاب ثاقب رگڑ سے ہی جل جائیں۔ شہاب ثاقب ہر روز اوسطاً 2 کروڑ کی تعداد میں 6 سے 40 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرۂ ہوائی (ہوا کے غلاف) میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر یہ موجودہ غلاف کی نسبت لطیف ہوتا تو شہاب ثاقب زمین کے اوپر ہر آتش پذیر مادے کو جلا دیتے اور سطح زمین کو چھلنی کردیتے۔ اگر زمین کے اوپر سے ہوا کا یہ غلاف کھینچ لیا جائے تو تمام جاندار آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجائیں۔ اگر زمین کا حجم کم یا زیادہ ہوتا تو اس پر زندگی محال ہوجاتی۔ مثلاً اگر زمین کا قطر موجودہ کی نسبت چوتھائی ہوتا تو کشش ثقل کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ پانی اور ہوا کو اپنے اوپر روک نہ سکتی۔ جیسا کہ جسامت کی اس کمی کی وجہ سے چاند میں واقع ہوا ہے۔ چاند پر اس وقت نہ تو پانی ہے اور نہ کوئی ہوائی کرہ ہے۔ ہوا کا غلاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات کے وقت بےحد سرد ہوتا ہے اور دن کے وقت تنور کی مانند جلنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر زمین کا قطر موجودہ کی نسبت سے دگنا ہوتا تو اس کی کشش ثقل دگنی ہوجاتی۔ جس کے نتیجے میں ہوا جو اس وقت زمین کے اوپر 5 سو میل کی بلندی تک پائی جاتی ہے وہ کھنچ کر بہت نیچے تک سمٹ آتی۔ اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15 تا 30 پونڈ کا اضافہ ہوجاتا، جس کا رد عمل مختلف صورتوں میں زندگی کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوتا۔ اور اگر زمین سورج جتنی بڑی ہوتی اور اس کی کثافت برقرار رہتی تو اس کی کشش ثقل ڈیڑھ سو گنا بڑھ جاتی۔ ہوا کے غلاف کی موٹائی گھٹ کر 5 سو میل کی بجائے صرف 4 میل رہ جاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا کا دباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جا پہنچتا۔ اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زندہ اجسام کا نشوو نما ممکن نہ رہتا۔ ایک پونڈ وزنی جانور کا وزن ایک سو پچاس پونڈ ہوجاتا۔ انسان کا جسم گھٹ کر گلہری کے برابر ہوجاتا اور اس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی ناممکن ہوجاتی کیونکہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لیے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے اور اس طرح پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت میں ہی پایا جاسکتا ہے۔ سورج کی اہمیت : سب سے روشن کہکشاں کی مجموعی روشنی سورج سے 3 ہزار کھرب گنا زیادہ ہے۔ سورج جو ہماری زندگی کا سرچشمہ ہے، اس کی حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہوجائیں مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلے پر ہے کہ یہ ” کائناتی انگیٹھی “ ہمیں ہماری ضرورت سے ذرا بھی زیادہ گرمی نہ دے سکے۔ اگر سورج دگنے فاصلے پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہوجائے کہ ہم سب لوگ جم کر برف بن جائیں اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آجائے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہوگی کہ تمام جاندار اور پودے جل بھن کر خاک ہوجائیں گے۔ چاند کی حقیقت : چاند ہم سے تقریباً 384, 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کی بجائے اگر وہ صرف پچاس ہزار کلومیٹر دور ہوتا تو سمندروں میں مد و جزر کی لہریں اتنی بلند ہو تیں کہ تمام کرۂ ارض دن میں دو بار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے رگڑ کر ختم ہوجاتے۔ چاند کی اس مناسب کشش کی وجہ سے سمندروں کا پانی متحرک رہتا ہے اسی وجہ سے پانی صاف ہوتا رہتا ہے۔ سورج اپنی غیر معمولی کشش سے ہماری زمین کو کھینچ رہا ہے اور زمین ایک مرکز گریز قوت کے ذریعے اس کی طرف کھنچ جانے سے اپنے آپ کو روکتی ہے۔ اس طرح وہ سورج سے دور رہ کر فضا کے اندر اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر کسی دن زمین کی یہ قوت ختم ہوجائے تو وہ تقریباً 6000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھنچنا شروع ہوجائے گی اور چند ہفتوں میں سورج کے اندر اس طرح جا گرے گی جیسے کسی بہت بڑے الاؤ کے اندر کوئی تنکا گرجائے۔ (بحوالہ : سائنس اور قرآن از ہارون یحیٰ ) (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِےْرَ الْخَلَآءِقِ قَبْلَ اَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِےْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ )[ رواہ مسلم : باب حِجَاجِ آدَمَ وَمُوسَی عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیریں لکھ دیں تھیں اور اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے قائم کیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ 3۔ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے وقت مقرر کے مطابق چل رہے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں تفصیل سے بیان فرماتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن آسمان کے بارے میں قرآنی معلومات : (یہاں ہم آسمان کے بارے میں چند آیات پیش کرتے ہیں ) 1۔ اللہ نے آسمانوں کو بغیر ستون کے قائم کیا۔ (الرعد : 2) 2۔ اللہ نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ (الانبیاء : 32) 3۔ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے۔ (الانبیاء : 30) 4۔ اللہ نے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔ (البقرۃ : 22) 5۔ پھر اللہ آسمان کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ دھویں کی صورت میں تھا۔ ( حٰم السجدۃ : 11)
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

” اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور ندیاں بنائیں اور اس نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے ضرور بہت سی نشانیاں ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں۔ “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ میخوں کی مانند پہاڑ : ارضیات میں ” بل پڑنے “ (Folding) کا مظہر حالیہ دریافت شدہ حقیقت ہے۔ قشر ارض (Crust) میں بل پڑنے کی وجہ سے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے ہیں۔ قشر ارض جس پر ہم رہتے ہیں، کسی ٹھوس چھلکے کی طرح ہے، جب کہ کرۂ ارض کی اندرونی پرتیں، (Layers) نہایت گرم اور مائع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا اندرون کسی بھی قسم کی زندگی کے لیے قطعًا غیر موزوں ہے۔ آج ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پہاڑوں کی قیام پذیری (Stability) کا تعلق، قشر ارض میں بل پڑنے کے عمل سے بہت گہرا ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زمین کا رداس (Radius) یعنی نصف قطر تقریباً 035، 6 کلومیٹر ہے اور قشر ارض، جس پر ہم رہتے ہیں، اس کے مقابلے میں بہت پتلی ہے، جس کی موٹائی 2 کلومیٹر سے لے کر 35 کلومیٹر تک ہے۔ چونکہ قشر ارض بہت پتلی ہے، لہٰذا اس کے تھرتھرانے یا ہلنے کا امکان بھی بہت قوی ہے، اس میں پہاڑ خیمے کی میخوں کا کام کرتے ہیں جو قشرارض کو تھام لیتی ہیں اور اسے قیام پذیری عطا کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں بھی عین یہی کہا گیا ہے : (اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وََّالْجِبَالَ اَوْتَادًا۔ )[ النباء : 6۔ 7] ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ “ یہاں عربی لفظ ” اوتاد “ کا مطلب بھی میخیں ہی نکلتا ہے، ویسی ہی میخیں جیسی کہ خیمے کو باندھے رکھنے کے لیے لگائی جاتی ہیں۔ ارضیاتی تہوں (Folds) یا سلوٹوں کی گہری پوشیدہ بنیادیں بھی یہی ہیں۔ Earth نام کی ایک کتاب ہے جو دنیا بھر کی کئی جامعات میں ارضیات کی بنیادی حوالہ جاتی نصابی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مصنفین میں ایک نام ڈاکٹر فرینک پریس کا بھی ہے، جو 12 سال تک امریکہ کی اکیڈمی آف سائنسز کے سربراہ رہے ہیں۔ اس کتاب میں وہ پہاڑوں کی وضاحت، کلہاڑی کے پھل جیسی شکل (Wedge Shape) سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پہاڑ بذات خود ایک وسیع تر وجود کا ایک چھوٹا حصہ ہوتا ہے۔ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہرائی تک اتری ہوتی ہیں۔ (ملاحظہ ہو : Earth از : پریس اور سلور ڈاکٹر فرینک پریس کے مطابق، قشر ارض کی پائیداری اور قیام پذیری میں پہاڑ نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پہاڑوں کے فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے، قرآن پاک واضح طور پر یہ فرماتا ہے کہ انہیں اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ یہ زمین کو لرز تے رہنے سے بچائیں : (وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِھِمْ )[ الانبیاء : 31] ” اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔ “ اسی طرح کے ارشادات سورة لقمان، آیت : 10 اور سورة النحل اور آیت 15 میں بھی وارد ہوئے ہیں۔ لہٰذا قرآن پاک کے فراہم کردہ بیانات جدید ارضیاتی معلومات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ پہاڑوں کو مضبوطی سے جماد یا گیا ہے : سطح زمین متعدد ٹھوس ٹکڑوں، یعنی ” پلیٹوں “ میں بٹی ہوئی ہے جن کی اوسط موٹائی تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔ یہ پلیٹیں، جزوی طور پر پگھلے ہوئے حصے کے اوپر گویا تیر رہی ہیں، اس حصے کو (Aesthenosphere) کہا جاتا ہے۔ پہاڑ عموماً پلیٹوں کی بیرونی حدود پر پائے جاتے ہیں۔ قشر ارض، سمندروں کے نیچے 5 کلومیٹر موٹی ہوتی ہے، جب کہ خشکی پر اس کی اوسط موٹائی 35 کلومیٹر تک ہوتی ہے البتہ پہاڑی سلسلوں میں قشر ارض کی موٹائی 80 کلومیٹر تک جا پہنچتی ہے، یہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر پہاڑ کھڑے ہیں۔ پہاڑوں میں برکات : اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو صرف میخوں کے طور پر ہی نہیں بنایا بلکہ ان میں بیشمار فوائد رکھ دیے ہیں۔ پہاڑوں پر برف جمتی ہے جو اللہ کی طرف سے پانی ذخیرہ کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ پہاڑوں میں چشمے جاری ہوتے ہیں۔ جو صاف شفاف پانی کا وسیلہ ہیں۔ تمام دریاؤں کا آغاز پہاڑوں سے ہوتا ہے۔ پہاڑوں میں بیشمار قسم کی معدنیات پائی جاتی ہیں جو زمین کی پیداوار سے ہزاروں گناقیمتی ہیں۔ پہاڑوں میں سونے کے ذخائر اور بیشمار قسم کے قیمتی پتھر بھی پائے جاتے ہیں۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

” اور زمین کے ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ہیں۔ بہت سے تنوں والے اور ایک تنے والے بھی جنہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے ایک دوسرے کو پھل میں فوقیت دیتے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ “ (4)

فہم القرآن ربط کلام : پہاڑوں کے بعد نباتات کا بیان جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہونے کے ساتھ لوگوں کے لیے خوراک اور بیشمار فوائد کی حامل ہے۔ قرآن مجید نے پہلی دفعہ لوگوں کے سامنے یہ حقیقت پیش کی کہ جس طرح جاندار چیزوں کے جوڑے ہیں ویسے ہی پودوں، درختوں اور پوری نباتات کے جوڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پھولوں کے بھی جوڑے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک ہی قسم کا پھل ہونے کے باوجود کوئی میٹھا ہے، کوئی کڑوا، کوئی ترش اور کوئی پھیکا ہے۔ ایک ناقص ہے اور ایک اعلیٰ قسم کا اور نہایت قیمتی اور مفید ہے۔ پرانے زمانے کے انسان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پودوں میں بھی جانوروں کی طرح نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ البتہ جدید نباتیات کا علم یہ بتاتا ہے کہ ہر پودے کی نر اور مادہ صنف ہوتی ہے۔ حتی کہ وہ پودے جو یک صنفی (Uni Sexual) ہوتے ہیں ان میں بھی نر اور مادہ کے امتیازی اجزا یکجا ہوتے ہیں۔ کھجور کے بارے میں تفصیلات کے لیے دیکھیں (فہم القرآن جلد 2 صفحہ۔ 400) نباتات میں جوڑے : (وَّأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجْنَا بِہٖٓ أَزْوَاجًا مِّنْ نَبَاتٍ شَتَّی )[ طٰہٰ : 53] ” اور اوپر سے پانی برسایا اور پھر اس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار (جوڑا جوڑا) نکالی۔ “ پھلوں میں جوڑے : (وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْھَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ )[ الرعد : 3] ” اسی نے ہر طرح کے پھلوں میں جوڑے پیدا کیے ہیں۔ “ اعلیٰ درجہ کے پودوں (Superior Plants) میں نسل خیزی کی آخری پیداوار ان کے پھل (Fruits) ہوتے ہیں۔ پھل سے پہلے پھول کا مرحلہ ہوتا ہے جس میں نر اور مادہ اعضا (Organs) یعنی اسٹیمنز (Stamens) اور او ویولز (Ovules) ہوتے ہیں جب کوئی زردانہ (Pollen) کسی پھول تک پہنچتا ہے، تبھی وہ پھول ” بار آور “ ہو کر پھل میں بدلنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ پھل پک جاتا ہے اور (اس پودے کی) اگلی نسل کو جنم دینے والے بیج سے لیس ہو کر تیار ہوجاتا ہے۔ لہٰذا تمام پھل اس امر کا پتا دیتے ہیں کہ (پودوں میں بھی) نر اور مادہ اعضا ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے قرآن پاک بہت پہلے بیان فرما چکا ہے۔ پودوں کی بعض انواع غیر بار آور (Non Fertilized) پھولوں سے بھی پھل بن سکتے ہیں۔ (جنہیں مجموعی طور پر ” پارتھینو کارپک فروٹ “ کہا جاتا ہے) ان میں انناس، انجیر، نارنگی اور انگور وغیرہ کی بعض اقسام شامل ہیں۔ ان پودوں میں بھی بہت واضح صنفی خصوصیات (Sexual Characteristics) موجود ہوتی ہیں۔ ہر چیز کو جوڑوں میں بنایا گیا ہے : (وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ )[ الذ ریت : 49] ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں شاید کہ تم اس سے سبق لو۔ “ اس آیت مبارکہ میں ” ہر چیز “ کے جوڑوں کی شکل میں ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ انسانوں، جانوروں، پودوں اور پھلوں کے علاوہ بہت ممکن ہے کہ یہ آیت مبارکہ بجلی کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہو کہ جس میں ایٹم منفی بار والے الیکٹرونوں اور مثبت باروالے مرکزے پر مشتمل ہوتے ہی۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے جوڑے ہوسکتے ہیں۔ (سُبْحَانَ الَّذِیْ خَلَقَ الْأَزْوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِہِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ )[ یٰس : 36] ” پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا ان اشیا میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر چیز جوڑوں کی شکل میں پیدا کی گئی ہے، جن میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جنہیں آج کا انسان نہیں جانتا اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے کل میں انہیں دریافت کرلے۔ پودوں میں جنسی ملاپ : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں پھلوں کے بارے غور فرمائیں ایک کھجور کو ہی دیکھیں کس طرح نر و مادہ درختوں کے ذریعہ سے اس کی بیشمار قسمیں وجود میں آرہی ہیں اور اسی طرح دیگر فصلوں کی نئی نئی اقسام پیدا کی جاتیں ہیں۔ مسائل 1۔ زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں۔ 2۔ زمین میں انگوروں اور کھجوروں کے بہت سے درخت ہیں۔ 3۔ ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والے درختوں کے پھل ذائقے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ 4۔ پھلوں میں ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ 5۔ عقلمندوں کے لیے اللہ کی تخلیق میں نشان عبرت ہیں۔
Ayahs 13:5–6

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

” اور اگر آپ تعجب کریں تو ان کا یہ کہنا بہت عجب ہے کہ ہم جب مٹی ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم ایک نئے سرے سے پیدا ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں۔ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (5)

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

” اور وہ آپ سے بھلائی سے پہلے برائی کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عبرت ناک مثالیں گزر چکیں ہیں اور بیشک آپ کا رب یقیناً لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کے لیے بڑی بخشش والا ہے اور تیرا رب یقیناً بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ “ (6) ”

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی لا تعداد قدرتوں کو دیکھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے باوجود یہ لوگ اس کی قدرت کا انکار کرتے ہیں کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمیں کون اٹھائے گا۔ یہ کتنی بڑی حقیقت ہے جس پر یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے بیج سے کس قدر تناور درخت پیدا کرتا ہے، پھر غور کریں کہ کتنے بیج ہیں جو کئی کئی سال تک زمین میں دفن رہتے ہیں لیکن اگنے کا نام نہیں لیتے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے تو زمین سے نکل کر بڑے بڑے درختوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو متعین مدت کے بعد اٹھایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی صفات کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان قدرت اور صفات پر غور وفکر نہیں کرتے۔ اسی کا نتیجہ ہے یہ کہتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ کس طرح اٹھائے جائیں گے۔ یہ بڑی نادانی اور حیرت انگیز بات ہونے کے ساتھ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرنا ہے جو لوگ اللہ کی ذات اور صفات کا انکار کرتے ہیں قیامت کے دن ان کی گردنوں میں جہنم کے طوق پہنائے جائیں گے اور انہیں ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنا ہوگا۔ دنیا میں بھی ایسے لوگوں کی زندگی بےیقینی کی کشمکش میں جکڑی رہتی ہے۔ توحید اور آخرت کا عقیدہ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے اور لازم ملزوم ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا دعوے دار ہے مگر آخرت کا انکار کرتا ہے تو اس کا صاف معنیٰ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عادل، منصف اور جزاوسزا کا مالک تسلیم نہیں کرتا۔ حالانکہ آخرت کا برپا ہونا اور ہر انسان کا اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جواب دینا نہ صرف ہر آسمانی کتاب سے ثابت ہے بلکہ عام عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قیامت کا دن ضرور برپا ہونا چاہیے تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور برے کو اس کی برائی کا بدلہ چکایا جائے۔ اگر آخرت کا برپا ہونا یقینی نہ ہو تو دنیا میں کتنے ظالم ہوئے اور ہوں گے جنہیں منصف سے منصف عدالت بھی پوری پوری سزا نہیں دے سکتی۔ مثال کے طور پر ایک آدمی دس آدمیوں کو قتل کرتا ہے تو اسے عدالت ایک قتل کے بدلے قتل کرسکتی ہے باقی مقتولوں کی سزا اسے کس طرح دی جائے گی ؟ ایسے ظالم کو صرف قیامت کے دن ہی ٹھیک ٹھیک سزادی جاسکتی ہے کیونکہ وہاں موت کا تصور ختم ہوجائے گا۔ اسی طرح دنیا میں کتنے ہی ایماندار اور صالح کردار لوگ ہوئے اور ہوں گے جنہیں دنیا میں ان کے کردار اور خدمات کا اس طرح صلہ نہ مل پایا جس کا وہ استحقاق رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کو مرنے کے بعد دائمی زندگی سے نوازتے ہوئے نہ صرف ان کے صالح کردار کا اجردیا جائے گا بلکہ رب کریم اپنی طرف سے کئی گنا اجرعنایت فرمائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیش جنت میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں گے ان دلائل کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی ذات اور صفات کو مانتا ہے اس کے لیے آخرت پر یقین رکھنا لازم ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِیْ خَطِیْٓءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ) [ رواہ مسلم : باب الدَّلِیلِ عَلٰٓی أَنَّ مَنْ مَّاتَ عَلَی الْکُفْرِ لاَ یَنْفَعُہٗ عَمَلٌ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ ! ابن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ اعمال اس کے لیے سود مند ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں کیونکہ اس نے ایک دن بھی نہیں کہا تھا اے میرے رب ! میری خطائیں قیامت کے دن بخش دے۔ “ مسائل 1۔ آخرت کا انکار کرنے والے کافر ہیں۔ 2۔ کفار بعث بعد الموت کے قائل نہیں۔ 3۔ کافروں کی گرد نوں میں طوق پہنائے جائیں گے۔ 4۔ کافر جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد جی اٹھنے کا ثبوت : 1۔ تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : 5) 2۔ مردوں کو اللہ تعالیٰ اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : 36 ) 3۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ : 6)
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے انکار کیا، کہتے ہیں اس کے رب کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہوتا ہے۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کا منکر ہونے کی وجہ سے کفار جلد بازی کا مظاہرہ کرکے دنیا میں عذاب کا مطالبہ کیا کرتے ہیں۔ آخرت کا انکار کرنے والے شخص میں خدا خوفی کا تصور بالآخرختم ہوجاتا ہے۔ جس کی بنا پر اس سے ایسے گناہ اور جرائم سرزد ہوتے ہیں جس کا ایماندار شخص تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آخرت کے انکار کی وجہ سے کفار جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ سے بار بار یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اگر تو واقعی اللہ کا پیغمبر اور یہ قرآن من جانب اللہ ہے تو اس کا انکار کرنے کی وجہ سے ہم پر عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ قرآن مجید نے کفار کے اس مطالبے کا مختلف انداز میں جواب دیا ہے۔ یہاں اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے رسول ﷺ ! یہ لوگ کس قدر ناعاقبت اندیش ہیں۔ نیکی کی بجائے برائی اچھائی کی بجائے خرابی میں عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ ان سے پہلی اقوام جنہوں نے عذاب کا مطالبہ کیا ان کا انجام کیسا ہوا۔ آخرت کے منکر اپنے رب سے خیر اور اچھائی طلب کرنے کی بجائے بار بار آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان سے فرمائیں کہ عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے انتباہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ سو میں تمہیں مسلسل انتباہ کر رہا ہوں۔ اگر تم نے اپنی حالت نہ بدلی تو اللہ کا عذاب تمہیں آلے گا۔ انہیں یہ بھی فرمائیں کہ تم سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے ہادی مبعوث فرمائے تھے۔ جن کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ رہی بات ان لوگوں کے فکرو عمل کی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے جرائم اس قدر زیادہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر سخت عذاب نازل کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گناہوں پر فوری پکڑنے کی بجائے اپنے فضل وکرم سے بار بار درگزر کرتا اور مہلت دیتا ہے۔ اسی بنا پر انہیں ڈھیل پر ڈھیل دی جارہی ہے جس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے یہ لوگ اس قدر دلیر ہوچکے ہیں کہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ آپ کا رب شدید گرفت کرنے والا ہے جب وہ کسی فردیا قوم کو پکڑتا ہے تو پھر ولی کی ولایت اور کسی طاقتور کی طاقت مجرموں کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا نہیں سکتی اس لیے انہیں اپنے سے پہلی اقوام کا انجام سامنے رکھنا چاہیے۔ اے نبی تو انھیں اللہ کی پکڑ سے ڈرانے والے ہیں لہٰذا آپ انھیں ڈراتے جائیں ہر قوم کے لیے ایک ڈرانے والا ہوتا ہے۔ مسائل 1۔ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت مانگنے کی بجائے عذاب مانگتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سخت سزاد ینے والا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو ان کے جرائم کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ 4۔ ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہوتا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم کے باوجود درگزر کرنے والا ہے۔ 6۔ نبی کریم ﷺ کو ڈرانے والا بناکر بھیجا گیا۔ تفسیر بالقرآن پہلی اقوام کا انجام : 1۔ یہ لوگ عذاب الٰہی میں جلدی کرتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے عذاب آنے کے واقعات گزرچکے ہیں۔ (الرعد : 6) 2۔ تم سے پہلے لوگوں نے ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ (یونس : 13) 3۔ اللہ نے بہت سی اقوام کو تباہ کیا۔ (الانعام : 6) 4۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقہ : 5) 5۔ قوم لوط پر جب ہمارا عذاب آیا تو ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹا کر پتھروں کی بارش کی۔ (ھود : 82)
Ayahs 13:8–10

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ “ (8) ”

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ “ (9) ”

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے اور رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔ “ (10)

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیت میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ہادی ہیں لہٰذا لوگوں کو سمجھاتے جائیں۔ جہاں تک ان کے مال اور اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی پیدائش کے وقت سے جاتا اور اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس عقیدہ کا تقاضا ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان لائے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ اے انسان ! تجھے کسی وقت بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں تیری حرکات و سکنات سے بیخبر ہوں بلکہ میں تجھے اس وقت سے جان رہا ہوں جب تیرا تخم ماں کے رحم میں داخل ہوا تھا۔ پرانی طب اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ جب میاں بیوی کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے تو مرد کے مادہ منویہ میں جو جرثومے ہوتے ہیں وہ عورت کے بیضا سے مل کر رحم میں داخل ہوجاتے ہیں پھر ان کا آپس میں ملاپ ہوتا ہے جس سے انسان کی تخلیق کی ابتدا ہوتی ہے۔ قرآن مجید اس کی اجمالی تفسیر بیان کرتا ہے پھر یہ قرآن کی زبان میں نطفہ امشاج (مخلوط نطفہ) ماں کے رحم میں ایک محفوظ مقام پر جا کر ٹھہر جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس نطفہ کو لوتھڑے میں تبدیل کرتا ہے اس کے بعد اسے ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل دیتا ہے، پھر اس میں نہایت ہی باریک اور لطیف ہڈیاں تیار کرتا ہے اور پھر اس کے بعد ہڈیوں کو گوشت پہناتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے انسان کی شکل میں پیدا کرتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ (المومنون : 14) ” پھر انسان دنیا میں اپنی عمر گزارنے کے بعد فوت کیا جاتا ہے پھر سب کے مرنے کے بعد اللہ قیامت کے دن سب کو اٹھائے گا۔ “ (المومنون : 13 تا 16) دوسرے مقام پر اسے یوں بیان کیا ہے کہ ” اللہ کی ذات سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں، وہی ماؤں کے رحم میں تمہاری شکل و صورت بناتا ہے جس طرح وہ پسند کرتا ہے پس وہی معبود برحق ہے اور ہر چیز پر غالب حکمت والا ہے۔ “ (آل عمران : 5 تا 6) ” حضرت عبداللہ بن سالم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غیب کی پانچ چابیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحم ﷺ مادر میں کیا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کل کیا کرنا ہے ؟ اور کسی کو علم نہیں کہ اسے کس سرزمین پر موت آئے گی۔ یقیناً اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب وَعِنْدَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوْ ] مسائل 1۔ ہر مادہ کا حمل اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ 2۔ رِحم میں جو کمی و بیشی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے آگاہ ہے۔ 3۔ ہر چیز کی مقدار اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے۔ 5۔ رات کے اندھیروں اور دن کے اجالوں میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے علم میں ہے۔ تفسیر بالقرآن غائب اور ظاہر کو جاننے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : 1۔ اللہ کے لیے غیب اور ظاہر برابر ہیں وہ ہر چیز کو جانتا ہے وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، بلندو بالا اور عالی شان والا ہے۔ (الرعد : 9) 2۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ اللہ پوشیدہ اور آہستہ کہی ہوئی بات کو جانتا ہے۔ (طہ : 7) 3۔ اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : 19) 4۔ اللہ آسمان و زمین کے رازوں سے واقف ہے۔ (الفرقان : 6) 5۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 77)
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

” اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے مقرر کیے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خود بدلے جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی ہٹانے والا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے براہ راست بندے کی نگرانی کرنے کے علاوہ ہر انسان پر محافظ بھی مقرر کر رکھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدا اور انتہا، اس کے ظاہر اور باطن سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس نے ہر بات اپنے ہاں لوح محفوظ پر ثبت کر رکھی ہے۔ اس کے باو جود اس نے ہر انسان پر فرشتے تعینات کر رکھے ہیں جو اس کے تمام امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ جن میں محافظ فرشتوں کے ساتھ کراماً کاتبین بھی ہیں۔ جو صبح وشام انسان کی تمام حرکات و سکنات کا اندراج کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محافظ فرشتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہر انسان کے آگے پیچھے رہتے ہیں اور ہر انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن جب اللہ کا حکم غالب آتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مقابلے میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس طرح انسان پر اللہ کا لکھا غالب آجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا۔ جب تک وہ اپنی حالت خود نہیں بدلتی۔ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو برے اعمال کے بدلے اس کے برے انجام میں مبتلا کرتا ہے تو پھر اس کے عذاب کو ٹالنے اور اس قوم کو بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس فرمان کے مفسرین نے دو مفہوم اخد کیے ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کر وہ نعمت کو اس وقت تک زحمت میں تبدیل نہیں کرتاجب تک کوئی قوم اپنے کردار کی وجہ سے اسے تبدیل نہ کرے۔ 2۔ ” جب تک کوئی قوم اپنی حالت سنوار نے کی کوشش نہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی بری عادت کو نیکی میں تبدیل نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کا اصول ہے کہ جو لوگ اس کے راستے میں کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے ضرور راستے کھول دیتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ نیک کام کرنے والوں کا ساتھی ہے۔ “ (الروم : 69) اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ ” ہم نے انسان کو کفر و شرک کا راستہ بتلا یا ہے یہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ “ (الدھر : 3) اس فرمان سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل دیتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس وقت سے جانتا ہے جب یہ ماں کے رحم میں تھا اور اس سے انسان کی کوئی خفیہ اور ظاہر بات پوشیدہ نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ انسان کی راتوں اور دنوں سے واقف ہے۔ جس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ جب تک انسان عقیدہ توحید کے تقاضے پورے نہیں کرتا اس وقت تک اس کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ کرامًا کاتبین کی ڈیوٹی : (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَتَعَاقَبُوْنَ فِےْکُمْ مَلَآءِکَۃٌ باللَّےْلِ وَمَلَآءِکَۃٌ بالنَّھَارِ وَےَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ ےَعْرُجُ الَّذِےْنَ بَاتُوْا فِےْکُمْ فَےَسْأَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ کَےْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ فَےَقُوْلُوْنَ تَرَکْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ وَاٰتَےْنٰھُمْ وَھُمْ ےُصَلُّوْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فَضْلِ صَلاَۃِ الْعَصْر ] ” حضرت ابو ہریرۃ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں رات اور دن کو آگے پیچھے فرشتے آتے ہیں۔ اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر رات والے فرشتے چلے جاتے ہیں تو ان سے پروردگار سوال کرتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ اوہ جواب دیتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان سے واپس آئے تو وہ نماز ہی کی حالت میں تھے۔ انسان پر ایک فرشتہ اور ایک شیطان مقرر ہے : (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِہٖ قَرِےْنُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَ قَرِےْنُہٗ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ قَالُوْا وَاِیَّاکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَ اِیَّایَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَےْہِ فَاَسْلَمَ فَلَا ےَاْمُرُنِیْ اِلَّا بِخَےْر)[ رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب تحریش الشیطان وبعثہ سرایاہ لفتنۃ الناس ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک جن اور ایک فرشتہ مقرر کیا گیا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا کیوں نہیں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی جس سے وہ میرے تابع ہوچکا ہے۔ وہ مجھے نیکی کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت کے لیے فرشتے کو مقرر کیا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ تب تلک کسی کے حالات نہیں بدلتا جب تک وہ خود تبدیل کرنے کا ارادہ نہ کرے۔ 3۔ اللہ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کا حکم کوئی نہیں ٹال سکتا : 1۔ جب اللہ کسی قوم پر مصیبت نازل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں اور نہ کوئی بچانے والا ہے۔ (الرعد : 11) 2۔ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ (الرعد : 34) 3۔ اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑلیا اور انہیں کوئی بچانے والا نہیں تھا۔ ( المومن : 21) 4۔ اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔ (ہود : 43) 5۔ قوم لوط پر نہ ٹلنے والا عذاب آیا ہے۔ (ھود : 76) 6۔ اللہ کی گرفت بہت سخت ہوا کرتی ہے۔ (البروج : 12)
Ayahs 13:12–13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

” وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ “ (12) ”

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور بجلی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے پھر انہیں جن پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے، جبکہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بہت سخت قوت والا ہے۔ “ (13)

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدا، انتہا سے باخبر ہے اور اسی نے انسان پر نگران مقرر کیے ہوئے ہیں۔ اب ارشاد ہوتا ہے، کہ وہی ذات ہے جو تمہیں آسمان سے گرجتی اور چمکتی ہوئی بجلی دکھاتا ہے۔ جس کے گرجنے چمکنے سے تم سہمے جاتے ہو، اس حال میں کہ اپنے دلوں میں بارش کی امید لیے ہوئے ہوتے ہو۔ وہی فضا اور ہوا میں بھاری بھر کم بادلوں کو اٹھائے اور چلائے رکھتا ہے جس بجلی کی کڑک سے تم ڈرتے ہو۔ درحقیقت وہ اپنی زبان میں اپنے رب کی حمد کرتی ہے اور فرشتے اپنے رب سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں۔ اللہ جہاں چاہتا ہے بجلی کو گرنے کا حکم صادر کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر تدبیر اور منصوبہ بندی کرنے والا ہے۔ لیکن مشرکوں اور منکروں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ کافر اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر ہوتا ہے اور مشرک اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جھگڑا کرنے کے مترادف قرار دیا ہے حالانکہ مشرک اور کافر جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کو بنانے والا شمس و قمر کو تسخیر کرنے والا، پہاڑوں کو نصب کرنے والا اور ان کے درمیان دریا بہانے والا۔ پانی سے مختلف قسم کے پھل پیدا کرنے والا اور انسان کو اس کی ماں کے رحم سے لے کر موت تک پالنے اور اس کی نگرانی کرنے والا۔ موت کے بعد اٹھا کر محشر میں اپنے سامنے کھڑا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ ان تمام کاموں اور امور میں زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک وسہیم ہو۔ مشرک یہ حقیقت جاننے کے باوجود باطل معبودوں کے بارے میں بحث و تکرار کرتا ہے اور کافر اتنی بڑی حقیقت کا انکار کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ أَقْبَلَتْ یَہُودُ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوْا یَآأَبَا الْقَاسِمِ أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا ہُوَ قَالَ مَلَکٌ مِّنَ الْمَلاآءِکَۃِ مُوَکَّلٌ بالسَّحَابِ مَعَہٗ مَخَارِیْقُ مِّنْ نَارٍ یَّسُوقُ بِہَا السَّحَابَ حَیْثُ شَآء اللّٰہُ فَقَالُوْا فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِیْ نَسْمَعُ قَالَ زَجْرُہٗ بالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَہٗ حَتّٰی یَنْتَہِیَ إِلٰی حَیْثُ أُمِرَ قَا لُوْا صَدَقْتَ )[ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة الرعد وہو حدیث صحیح ] ” حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم ! ہمیں کڑک کے بارے میں خبر دیجئے کہ وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بادلوں پر مقرر ہے۔ اس کے پاس آگ کے کوڑے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بادلوں کو ہانکتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ آواز کیا ہے جو ہم سنتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ فرشتہ بادلوں کو چلاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ “ مسائل 1۔ آسمانوں سے بجلیوں کی چمک دکھانے والا اور بھاری بادلوں کو بلند کرنے والا اللہ ہے۔ 2۔ آسمانی بجلی بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتی ہے۔ 3۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جب اور جہاں چاہے بجلیاں گرا دیتا ہے۔ 5۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر رہی ہے : 1۔ رعد اس کی حمد و تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرعد : 12) 2۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : 1) 3۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (نبی اسرائیل : 44) 4۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : 5) 5۔ مومن اللہ کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ (السجدۃ : 15)
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

” اسی کو پکارنا حق ہے اور جن کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ پانی اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔ “ (14)

فہم القرآن ربط کلام : کافر اور مشرک کو توحید کے ٹھوس دلائل دینے کے بعد اسے دعوت دی گئی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کو پکارے۔ لہٰذا ذات حق اور اس کی بات پر ایمان لاؤ۔ مشرک کا غیر اللہ کو پکارنا اس قدر بےفائدہ اور بےحیثیت ہے جس طرح کوئی شخص نہریا کنویں کے کنارے کھڑا ہو کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر آواز پر آواز دے کہ اے پانی میری پیاس بجھادے لیکن وہ پانی کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ایسا شخص پانی کے کنارے کھڑا ہو کر تڑپ تڑپ کر مرسکتا ہے مگر پانی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی صورت حال مشرک کی ہوتی ہے اس کی اپنے معبودوں کے سامنے آہ و پکار گمراہی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مشرک بظاہر اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا منکر ہوتا ہے اس لیے یہاں لفظ کافر استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے پارہ میں دین اسلام کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی گئی جس میں اندھیرے بجلی اور گرج چمک بھی ہوا کرتی ہے۔ اس حالت میں لوگ موت کے ڈر کی وجہ سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اسلام کے بارے میں منافق کا یہی رویہ ہوتا ہے۔ (البقرۃ : 19) یہاں عقیدۂ توحید کی مثال پانی کے ساتھ دی گئی ہے جس میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں جس طرح پانی کے بغیر انسان کی زندگی محال ہے اسی طرح عقیدۂ توحید کے بغیر انسان روحانی طور پر مردہ ہوتا ہے۔ پانی کے بغیر کوئی چیز نشوونما نہیں پاسکتی عقیدۂ توحید کے بغیر انسان کا کوئی عمل شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ جس طرح پانی کے کنارے کھڑا ہوا انسان کوشش کے بغیر پانی نہیں پی سکتا اسی طرح عقیدہ توحید سمجھنے کے لیے توجہ اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح پانی پینے سے پیاسے کی روح تازہ ہوجاتی ہے اسی طرح توحید کے دلائل سے مومن کی روح میں نشاط پیدا ہوتی ہے۔ اس مثال سے یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ان کی پکار سوائے پکار کے کچھ نہیں۔ کیونکہ نہ فوت شدگان سنتے ہیں، نہ پتھر اور لکڑی کے بت سن سکتے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ ایک اور مثال کے ذریعے یوں بیان کیا گیا ہے : اے لوگو تمہاری سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ سب کے سب اکٹھے ہو کر بھی ایک مکھی پیدا نہیں کرسکتے مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی ان سے کوئی چیز اٹھالے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ لہٰذا مدد کے طالب اور جن سے مدد طلب کی جاتی ہے یہ سب کے سب کمزور ہیں درحقیقت ایسے لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جس طرح پہچاننی چاہیے تھی یقیناً اللہ تعالیٰ بڑا طاقت ور اور ہر چیز پر غالب ہے۔ (الحج : 73 تا 74) (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ قَال اللّٰہُ تَعَالٰی اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنِ الشِّرْکِ ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًااَشْرَکَ فِیْہِ مَعِیَ غَیْرِیْ ، تَرَکْتُہٗ وَشِرْکَہٗ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْءٌ ھُوَ لِلَّذِیْ عَمِلَہٗ )[ رواہ مسلم، باب من اشرک فی عملہ غیراللّٰہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول گرامی ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے میں شریکوں کے شرک سے پاک ہوں۔ جو شخص بھی کوئی شرکیہ عمل کرتا ہے، میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے تو میں اس کو اور اس کے شرک کو مسترد کردیتا ہوں۔ دوسری روایت میں ہے کہ میں اس سے بری ہوں اور اس نے جو عمل جس کے لیے کیا وہ اسی کے لیے ہے۔ “ مسائل 1۔ پکارنے کے لائق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ 2۔ پانی پانی کہنے سے پانی منہ میں نہیں آسکتا۔ 3۔ فوت شدگان اور بت کسی کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے۔ 4۔ کافروں کا پکارنا بےکار ہی جاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرک کی عبادت اور پکار کی کوئی حیثیت نہیں : 1۔ کافروں کی پکار بےاثر ہے۔ (الرعد : 14) 2۔ کافروں کی پکار بےکار ہی جائے گی۔ (المومن : 50) 3۔ معبودان باطل اپنے چاہنے والوں کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (مریم : 82) 4۔ اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے اگر سن لیں تو جواب نہیں دے سکتے۔ (فاطر : 14)