Ayahs 12:1–3فہم القرآن
اآرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان کا حقیقی معنیٰ اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ عرب دانشوروں کا طریقہ تھا کہ شاعر اور ادیب اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے ” طرح مصرعہ کے طور پر “ چند الفاظ کہتے جس کا مفہوم بیان کرنا ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ اسی روایت کے پیش نظر صحابہ ؓ نے اس کا معنیٰ جاننے اور اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی معظم ﷺ سے استفسار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی نبی معظم ﷺ نے حروف مقطعات کا مفہوم بتلانے کی ضرورت محسوس فرمائی۔ کیونکہ اس کا دین کی تفہیم اور عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ ورنہ آپ اس کا مفہوم ضرور بیان فرماتے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ یعنی ایسی کتاب جس نے حق و باطل کے درمیان حدِّ فاصل قائم کردی ہے۔ اس کے احکام اور ارشادات بالکل غیر مبہم ہیں۔ اسے رب ذوالجلال نے واضح اور عربی زبان میں نازل فرمایا ہے تاکہ تم عقل و فکر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کتاب اہل عرب کے لیے ہی نازل کی گئی ہے۔ بلکہ اس فقرے کا اصل مدعا یہ ہے کہ ” اے اہل عرب، تمہیں یہ باتیں کسی یونانی یا ایرانی زبان میں تو نہیں سنائی جا رہی ہیں، یہ تمہاری اپنی زبان میں ہیں، لہٰذا تم یہ عذر نہیں پیش کرسکتے کہ اس کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں، اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس کتاب میں اعجاز کے جو پہلو ہیں جو کلام الٰہی ہونے کی شہادت دیتے ہیں، وہ تمہاری نگاہوں سے پوشیدہ رہ جائیں۔ “
بعض لوگ قرآن مجید میں اس طرح کے فقرے دیکھ کر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کتاب تو اہل عرب کے لیے ہے، غیر اہل عرب کے لیے نازل ہی نہیں کی گئی ہے، پھر اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت کیسے کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ محض ایک سرسری سا اعتراض ہے جو حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیے بغیر جڑ دیا جاتا ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے جو چیز بھی پیش کی جائے گی وہ بہر حال انسانی زبانوں میں سے کسی ایک زبان ہی میں پیش کی جائے گی۔ اس کے پیش کرنے والے کی کوشش ہوگی کہ پہلے اس قوم کو متاثر کرے جس کی زبان میں کتاب نازل کی گئی ہے اس کے بعد پھر وہ قوم دوسری قوموں تک اس تعلیم کے پہنچانے کا وسیلہ بنے۔ یہی ایک فطری طریقہ ہے کسی دعوت و تحریک کے بین الاقوامی پیمانے پر پھیلنے کا۔
اے نبی ﷺ ! ہم آپ کو قرآن کی زبان میں بہترین واقعہ سناتے ہیں جسے آپ پہلے سے نہیں جانتے۔ واقعہ کی اہمیت اور اس کے محکم اور سچا ہونے کے لیے چھ الفاظ استعمال فرمائے تاکہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اس کی حقیقت تک پہنچ سکے۔
1۔ ” تِلْکَ “ عربی زبان میں دور کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس زمانے میں اہل علم کا یہ طریقہ تھا کہ جب کسی عظیم چیز یا واقعہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا بالخصوص جو چیز یا واقعہ سامع کے احاطۂ شعور میں ہوتا۔ اس کی یاد دہانی کے لیے دور کا اشارہ استعمال کرتے تاکہ سننے والا اس کی اہمیت کا فی الفور احساس کرے۔ لہٰذا اس احساس کو اجاگر کرنے کے لیے ارشاد ہوتا ہے۔ کہ یہ وہی کتاب ہے۔ جس کا تذکرہ تورات، انجیل اور زبور میں پڑھتے ہو۔
2۔ یہ واقعہ قرآن مجید کے الفاظ میں بیان کیا جا رہا ہے۔ جس کی آیات بالکل واضح اور اس کا مفہوم غیر مبہم ہے۔
3۔ اسے نبی اکرم ﷺ نے نہ کسی سے سنا ہے اور نہ پڑھا ہے بلکہ اسے رب ذوالجلال نے آپ پر نازل فرمایا ہے۔ کلام میں رعب پیدا کرنے اور اسے سچ ثابت کرنے کے لیے ایک ہی آیت میں دو مرتبہ ’ ہم ‘ کی ضمیر استعمال فرمائی ہے۔
4۔ قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا۔ جو قواعد و ضوابط، فصاحت و بلاغت اور اثر انگیزی کے اعتبار سے دنیا کی تمام زبانوں سے جامع اور موثر زبان ہے۔ نزول قرآن کے وقت دنیا میں سب سے زیادہ یہی زبان بولی اور لکھی جاتی تھی۔ لسانیات کے حوالے سے اب بھی عربی زبان پوری دنیا میں اپنی نظیر آپ ہے۔
5۔ قرآن مجید میں مختلف اقوام اور بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جو قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موقعہ محل کے مطابق بیان ہوئے ہیں۔ لیکن جس ترتیب کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ شروع سے آخر تک بیان ہوا ہے یہ ترتیب کسی اور واقعہ میں نہیں پائی جاتی۔ اس لیے اس کے آغاز میں فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو بہترین انداز میں بیان کررہے ہیں۔ یہاں بھی جمع متکلم کی ضمیر دوبارہ استعمال فرمائی ہے۔ تاکہ سننے والے کو کامل یقین ہوجائے کہ اسے بیان کرنے والا کوئی عربی یا عجمی شخص نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔
6۔ واقعہ کی سچائی اور اس کی اسنادی قوت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے آخر میں پھر فرمایا کہ ہم ہی واقعہ کو بیان کرنے اور اس قرآن کو نازل کرنے والے ہیں۔ اے رسول ﷺ ! آپ اس کے ذکر سے پہلے بالکل اس سے ناآشنا تھے۔
مسائل
1۔ قرآن مجید ایک واضح کتاب ہے۔ 2۔ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا۔
3۔ کلام اللہ کو سمجھنے، پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
4۔ قرآن مجید میں بہترین واقعات موجود ہیں۔
5۔ قرآن کریم کے نزول سے پہلے آپ ﷺ ان واقعات سے بیخبر تھے۔
6۔ وحی الٰہی سے پہلے نبی ﷺ بھی بیخبر ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے اوصاف :
1۔ قرآن مجید کی آیات واضح ہیں۔ (یوسف : 1) 2۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں۔ (ھود : 1)
3۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 4۔ قرآن کریم لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرۃ : 185)
5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138)
6۔ قرآن مجیدلاریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 7۔ قرآن مجیددلوں کے لیے شفا ہے۔ (یونس : 57)
8۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82)
9۔ ہم ہی قرآن مجید کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
10۔ جن و انس مل کر اس قرآن جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88)
11۔ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔ (البقرۃ : 185)
12۔ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ (القدر : 1)
Ayahs 12:4–5فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ جس واقعہ سے ناآشنا تھے اس کی ابتدا یوں ہوتی ہے۔
مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دو بیویوں سے گیارہ بیٹے تھے۔ جن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان سے چھوٹے بنیامین آپس میں حقیقی بھائی تھے۔ حضرت یوسف نہایت ہی خوبصورت، ذہین و فطین اور سمجھدار تھے۔ ان کی دانش مندی کا اس بات سے انداہ لگائیں کہ ابھی ان کی عمر مبارک آٹھ؍نوسال کی تھی کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے گیارہ ستارے، چاند اور سورج سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب کسی کے سامنے بیان کرنے کی بجائے اپنے والد گرامی کے سامنے بیان کیا۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس خواب کی تعبیر میرے والد گرامی کے سوا کوئی اور نہیں جان سکتا۔ گویا کہ صغر سنی کے باوجود اپنے باپ کی سیرت طیبہ اور ان کی دانشمندی کا ادراک کرچکے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے خواب کا تذکرہ صرف اپنے باپ کے سامنے کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) معصوم لخت جگر کا خواب سنتے ہی چونک گئے اور فرمایا۔ پیارے بیٹے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے ذکر نہ کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کے خلاف کوئی سازش کریں۔ کیونکہ شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے عیاں ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب یوسف کے بارے میں ان کے بھائیوں کے رویے سے منفی اثرات محسوس کر رہے تھے۔ جس کی وجہ سے انہیں احساس ہوا کہ ماں کی طرف سے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کا علم ہوا تو ان کے لیے اسے برداشت کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پیغمبر اپنے زمانے کا سب سے بڑا دانشور انسان ہوا کرتا تھا۔ اسی بنا پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ” اے یوسف اپنے خواب کا اپنے بھائیوں کے سامنے ذکر نہ کرنا۔ کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ “ ایک طرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کو شیطان کی دشمنی سے آگاہ فرمایا اور دوسری طرف اس کے بھائیوں کے بارے میں کھلے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے مبہم الفاظ کے ذریعے محتاط رہنے کی تلقین فرمائی۔ گیارہ ستاروں اور شمس و قمر کے سجدہ کرنے سے مراد یہ تھی۔ ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس قدر بلند اقبال اور سرفرازی عطا کرے گا کہ اس کے گیارہ بھائی اور والدین اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ چناچہ خواب کے تقریباً چالیس سال بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک مصر جیسی عظیم الشان ترقی یافتہ مملکت کے فرماں روا بنے تو ان کے گیارہ بھائیوں اور والدین نے اس زمانے کی شریعت اور پروٹوکول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا۔ جس کی تفصیل اسی سورت کی آیت 100 سو میں بیان کی گئی ہے۔ سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت کی شریعت میں کسی بزرگ اور بڑے آدمی کو تکریمی سجدہ کرنا جائز تھا۔ لیکن شریعت محمدی میں اسے مطلقاً ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیں۔ فہم القرآن، جلد اول، البقرۃ : 34)
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) نے خواب میں گیارہ ستارے، چاند اور سورج کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے پایا۔
2۔ ہر کسی سے خواب بیان نہیں کرنا چاہیے۔ 3۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں :
1۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو، سجدہ اسے کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 37)
2۔ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجاؤ۔ (الحجر : 98)
3۔ اے ایمان والو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ (الحج : 77)
4۔ اللہ کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (النجم : 62) 5۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ کو سجدہ کرتا ہے۔ (النحل : 45)
6۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (النحل : 46)
7۔ ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الرحمٰن : 6)
8۔ یقیناً جو ملائکہ آپ کے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ (الاعراف : 206)
Ayah 12:6فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کھلے الفاظ میں خواب کی تعبیر کرنے کی بجائے اشارات کی زبان میں تعبیر کرتے ہیں۔ خواب کی تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ میرے بیٹے اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرمائے گا اور تجھے خوابوں کی تعبیر، معاملات کو سمجھنے اور سمجھانے کی دانشمندی کی نعمت سے بدرجۂ اتم سرفراز کرئے گا جو انعام و اکرام رب کریم نے میرے خاندان یعنی تیرے دادا اور پڑ دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو عنایت فرمائے تھے۔ یقیناً رب تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔ اور اس کے فرمان اور کام میں بےحد و حساب حکمتیں مضمر ہوا کرتی ہیں۔ بیٹے کا خواب سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اشاروں کی زبان میں اس کی تعبیر بتلائی کہ اے یوسف ! اللہ تعالیٰ تجھے وقت کا نبی بنانے اور دنیا و آخرت کی عزت و عظمت عطاء کرنے کے ساتھ خصوصی طور پر ” تاویل الاحادیث “ کے علم سے مالا مال کرے گا۔ اہل علم ” تاویل الاحادیث “ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد صرف خوابوں کی تعبیر نہیں بلکہ معاملہ فہمی اور امور مملکت سے آگاہ کرنا بھی ہے جس کے بغیر کوئی حکمران صحیح طریقے سے نظام حکومت نہیں چلا سکتا۔ چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) خواب کی صحیح تعبیر بتلانے کی وجہ سے جیل کی کال کوٹھری سے رہا ہوئے اور ان کے علم بصیرت سے متاثر ہو کر مصر کے حکمران نے انہیں مصر کی وزارت خزانہ کا اس وقت قلم دان سونپا جب مصر شدید قحط سالی اور معاشی بحران کا شکار ہونے والا تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خداداد فہم و فراست کی بنیاد پر آنے والے معاشی بحران پر کامیابی کے ساتھ قابوپایا کہ جس سے مصر کے عوام اور ان کے حکمران عش عش کر اٹھے۔ اس کی تفصیل آپ انشاء اللہ اسی سورة کی 41 تا 49 آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں گے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے خاندان کی عزت و عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی ذات کی بجائے اپنے بزرگوں کا ذکر کیا ہے۔ جس سے مراد عاجزی کا اظہار اور پورے خاندان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور اس کے انعام و اکرام کا اعتراف ہے۔
عظیم ترین خاندان :
(عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ الْکَرِیمُ بْنُ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ بْنِ الْکَرِیْمِ یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہِ (وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلٓی آلِ یَعْقُوبَ کَمَآ أَتَمَّہَا عَلَی أَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْحَاقَ )]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا عزت مند یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ہے۔ “
مسائل
1۔ اللہ جسے چاہتا ہے خوابوں کی تعبیر اور علم وفہم عطا فرماتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل کرتا ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔
تفسیر بالقرآن
حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے احسانات :
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو نبوت اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا۔ (یوسف : 6)
2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف پر وحی کی کہ ایک دن ضرور تو اپنے بھائیوں کو ان کی حرکت سے آگاہ کرے گا۔ (یوسف : 15)
3۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو زمین میں اقتدار بخشا اور اسے خوابوں کی تعبیر سکھلائی۔ (یوسف : 21)
4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو حکومت اور علم عطا فرمایا۔ (یوسف : 22)
5۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی دعا قبول فرمائی اور اسے عورتوں کے فریب سے نجات عطا فرمائی۔ (یوسف : 34)
6۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو مصر میں با اختیار بنا دیا۔ (یوسف : 56)
7۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم پر احسانات فرمائے۔ (یوسف : 90)
8۔ اللہ تعالیٰ نے قید خانہ سے نکال کر حضرت یوسف کو حکمران بنایا۔ (یوسف : 100)
Ayah 12:7فہم القرآن
ربط کلام : اے اہل مکہ جس واقعہ کے بارے میں تم نے سوال کیا ہے۔ اس کو واقعہ برائے واقعہ کے طور پر سننے کی بجائے اسے سبق آموزی اور عبرت حاصل کرنے کے لیے سنو۔
اس سورة کے تعارف میں عرض کیا ہے کہ اہل مکہ نے حسب عادت رسول معظم کو لاجواب اور پریشان کرنے کے لیے سوال کیا تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کنعان میں رہائش پذیر تھے۔ ان کا بیٹا یوسف کس طرح مصر کا حکمران بنا۔ اور بنی اسرائیل کیونکہ مصر پہنچے ؟ اس سوال کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے اہل مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے متعلق تم نے جو سوال کیا ہے۔ اگر تم اس کے جواب پر غور کرو تو تمہارے لیے اس واقعہ کی ایک ایک کڑی میں راہنمائی اور بےانتہا سامان عبرت موجود ہے۔
1۔ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوتیلا پن اور اپنے بھائی یوسف کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ان کے مخالف ہوئے تھے۔ اسی طرح تم حسد و بغض میں آکر اپنے بھائی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر کمربستہ ہوچکے ہو۔
2۔ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی مخالفت اور سازش اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھی ایسے ہی تمہاری مخالفت اور سازشیں رسول معظم ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گی۔
3۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے اپنی طرف سے ختم کرنے کی پوری کوشش کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں مامون اور محفوظ فرمایا۔ اسی طرح تم بھی رسول معظم ﷺ کو ختم کرنے کے درپے ہو جس میں تم کبھی کامیاب نہیں ہوپاؤ گے۔
4۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا گھر سے نکلنا ان کے عروج و اقبال کا ذریعہ بنا تھا۔ تم بھی نبی ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہو لیکن یاد رکھو یوسف (علیہ السلام) سے کئی گنا زیادہ رسول معظم ﷺ کی ہجرت ان کے عروج و اقبال کا زینہ ثابت ہوگی۔
5۔ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے مجبور اور لاچار ہو کر یوسف (علیہ السلام) کے سامنے دست سوال پھیلایا تھا وقت آئے گا کہ تمہیں بھی حضرت محمد ﷺ کے سامنے دست سوال پھیلانا پڑے گا۔
6۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے بالآخر اس سے معافی کی درخواست کی تھی۔ یہ وقت بھی آکر رہے گا کہ تم رسول معظم ﷺ کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ معافی کے خواستگار ہو گے۔
7۔ یوسف (علیہ السلام) ملک مصر کے حکمران بنے تھے۔ ان کے بعد ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل ایک مدت تک مصر میں حکمرانی کرتے رہے۔ جس رسول کی مخالفت میں تم ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو عنقریب وقت آنے والا ہے کہ نبی معظم ﷺ اور آپ کے متبعین کی پوری دنیا میں عزت اور حکمرانی کا پھریرا بلند ہوگا۔
فضول سوال سے بچنا چاہیے :
سوال کرتے وقت اس چیز کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ فضول قسم کا سوال نہ کیا جائے اس سے اللہ تعالیٰ نے مومنین کو منع فرمایا ہے۔
(یَآأَیُّہَا الَّذِیْنَ اَمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَآءَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوْا عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہَا وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ قَدْ سَأَلَہَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوْا بِہَا کَافِرِیْنَ )[ المائدۃ : 101۔ 102]
” اے ایمان والو ! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمہارے لیے ظاہر کردی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے درگزر فرمایا اور اللہ خوب بخشنے والا نہایت بردبار ہے۔ تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگ سوال کرچکے، پھر وہ ان سے منکر ہوگئے۔ “
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں نشانیاں ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے :
1۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یوسف : 7)
2۔ انبیاء کے قصے برحق ہیں مومنین کے لیے اس میں نصیحت ہے۔ (ھود : 120)
3۔ یہ قصے برحق ہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ (آل عمران : 62)
4۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصے میں عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ (یوسف : 111)
5۔ انبیاء کے واقعات میں نبی کریم اور آپ کے تابع داروں کے لیے تسلی کا سامان ہے۔ ( ہود : 120)
Ayah 12:8فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں حسد و بغض رکھنا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال، لیاقت و صلاحیت اور مستقبل میں ان کے نبی بننے کے آثار دیکھ کر ( جن کی نشاندہی خواب کی تعبیر میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کرچکے تھے۔ ) ان اوصاف حمیدہ کی بنیاد پر حضرت یعقوب کا دوسرے بیٹوں کی نسبت یوسف (علیہ السلام) سے زیادہ شفقت اور محبت کا اظہار کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے ان سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی محبت کا سبب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا چھوٹا ہونا بیان کیا ہے۔ یہ وجہ اس لیے لائق توجہ نہیں کہ عمر کے لحاظ سے حضرت بنیامین سب سے چھوٹے تھے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی محبت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی حسدو بغض کا شکار ہوئے۔ اور انہوں نے خفیہ مشاورت میں یہ بات طے کی کہ ہمارے والد واضح طور پر بھٹک چکے ہیں۔ کیونکہ وہ ہم سے زیادہ یوسف کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم طاقتور ہیں۔ حسدو بغض اس قدر مہلک مرض ہے کہ جس شخص میں یہ پیدا ہوجائے وہ دوسرے کے بارے میں اس قدر منفی اور سطحی خیالات کا اظہار کرتا ہے جن کا کوئی معقول آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادوں نے اپنے عظیم اور مشفق باپ جو وقت کے نبی ہونے کے علاوہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے پوتے ہیں۔ ایسے عظیم المرتبت باپ کے بارے کہنے لگے کہ ہمارا باپ واضح طور پر بھٹک چکا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ بوڑھے باپ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خدمت اور ان کی تابعداری کا رویہ اختیار کرتے اور اپنے منفی کردار پر نظر ثانی کرتے۔ اس کی بجائے انہوں نے اپنی طاقت اور جتھا بندی پر فخر کا اظہار کیا۔ اور اس کے لیے جائز طریقہ استعمال کرنے کے بجائے غلط طریقہ کار اختیار کیا۔ جس سے نہ صرف ان کے بوڑھے باپ اور چھوٹے بھائی کو تکلیفیں پہنچیں بلکہ ان کے اپنے دامن پر بھی دھبہ لگا۔ انہوں نے حسد میں آکر یہ بھی نہ سوچا کسی کی الفت اور محبت حاصل کرنے کے لیے طاقت نہیں، اس کے لیے عاجزی، احترام اور بڑوں کی خدمت کرنا پڑتی ہے۔ کیونکہ محبت اور الفت کسی منڈی کا مال نہیں کہ اسے سرمایہ یا طاقت کی بنیاد پر حاصل کیا جاسکے۔ یہ تو دل کا معاملہ ہے اور تمام انسانوں کے دل اللہ کے اختیار میں ہیں۔ اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اچھے کام کے لیے اچھا طریقۂ کار اختیار کرنا لازم ہے۔ اسی لیے قرآن مجید میں نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ کہ اے رسول ! اگر آپ ساری زمین کے خزانے خرچ کردیتے تب بھی اپنے ساتھیوں کے دلوں میں محبت و الفت پیدا نہیں کرسکتے تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ اس نے آپ کے اصحاب کے دلوں میں یکجہتی اور محبت پیدا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔ ( الانفال : 63)
باہمی محبت کے لیے نبی اکرم ﷺ کی دعا :
(عَنْ أَبِیْ وَآءِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بِمِثْلِہٖ قَالَ وَکَانَ یُعَلِّمُنَا کَلِمَاتٍ وَلَمْ یَکُنْ یُعَلِّمُنَاہُنَّ کَمَا یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ اللَّہُمَّ أَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِنَا وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِنَا وَاہْدِنَا سُبُلَ السَّلاَمِ وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَبَارِکْ لَنَا فِیْٓ أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوْبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ وَاجْعَلْنَا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِہَا قَابِلِیْہَا وَأَتِمَّہَا عَلَیْنَا )[ رواہ ابو داؤد، باب التشھد ]
” حضرت ابو وائل اور حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ یہ کلمات سکھلایا کرتے تھے جس طرح کہ آپ ہمیں تشہد کے کلمات سکھلاتے تھے۔ اے اللہ ہمارے معاملات درست فرما، ہمارے دلوں میں محبت پیدا فرما، ہمیں سیدھی راہ دکھا، ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف رہنمائی عطا فرما اور ہمیں ظاہری اور باطنی فحاشی سے بچا۔ اے اللہ ہماری سماعت، بصارت، دلوں، بیویوں اور اولاد میں برکت عطا فرما اور ہم پر رجوع فرما۔ یقیناً تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور اپنی تعریف کرنے والے بنا اور ہمیں اس کے قابل بنا اور انہیں ہم پر پورا فرما۔ “
مسائل
1۔ حسد بہت بری چیز ہے۔ 2۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے باپ کو غلطی پر سمجھتے تھے۔
تفسیر بالقرآن
برادران یوسف کا اپنے عظیم باپ کے بارے میں روّیہ :
1۔ بیشک ہمارا باپ بہک گیا ہے۔ (یوسف : 8)
2۔ واللہ تم تو یوسف کی یاد میں لگے رہو گے یہاں تک کہ ہلاک ہوجاؤ۔ (یوسف : 85)
3۔ حضرت یعقوب کے بیٹوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ تو پرانے وہم میں مبتلا ہیں۔ (یوسف : 95)
Ayahs 12:9–10فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بردران یوسف کا اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں منفی خیالات کے تحت خفیہ اجلاس کرنا اور ایک گھناؤنے فعل پر متفق ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دس بیٹے اپنے بھائی کے خلاف سازش کرنے کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور یہ سوچ و بچار کرنے لگے کہ یوسف سے کس طرح چھٹکارا پایا جائے۔ جن میں 9 (نو) بھائی اس بات پر متفق ہوئے کہ یوسف کو جان سے مار ڈالنا چاہیے یا کہیں دور پھینک دینا چاہیے۔ اس کے بعد باپ کی توجہ خود بخود تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اس جرم کے بعد ہم اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے پھر نیکو کار بن جائیں گے۔ (یاد رہے کہ بعد میں توبہ کرنے کی نیت سے گناہ کرنے سے گناہ میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی فکر سے محفوظ فرمائے۔ ) برادران یوسف نے اسی سوچ کے تحت یہ سازش تیار کی تھی۔ دسویں بھائی جس کا نام یہودہ بیان کیا گیا ہے جو سب سے بڑا تھا۔ اس نے برادران کو قتل یوسف سے منع کیا اور انہیں سمجھایا کہ ہمارا مقصد تو اپنے باپ کی توجہ چاہنا ہے۔ اس لیے ہمیں قتل جیسا سنگین جرم نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ یوسف سے ضرور چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو یوسف کو کسی گمنام کنویں میں پھینک دو اسے کوئی راہ گذر قافلہ اٹھا کے لے جائے گا۔ اس بات پر متفق ہونے کے بعد وہ سب کے سب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ اسی طرح کی سوچ و بچار اور سازش اہل مکہ نے رسول محترم ﷺ کے خلاف کی تھی۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ لوگوں کی توجہ روز بروز نبی ﷺ کی طرف ہو رہی ہے۔ اور ہر روز کسی نہ کسی خاندان سے کوئی نہ کوئی شخص حلقۂ اسلام میں داخل ہو رہا ہے۔ تو انہوں نے ایک خفیہ مشاورت میں طے کیا تھا۔
(وَإِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْالِیُثْبِتُوْکَ أَوْ یَقْتُلُوْکَ أَوْ یُخْرِجُوْکَ وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللَّہُ وَاللَّہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ )[ الانفال : 30]
” اے رسول وہ وقت یاد کیجیے جب کافر آپ کے خلاف سازش کرتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ اسے قید کردیا جائے یا قتل کردینا چاہیے یا اسے ہمیشہ کے لیے اپنی سرزمین سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ وہ اس طرح کی سازشیں کر رہے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے بھی ایک تدبیر کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ “
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے انہیں قتل کرنے کا مشورہ کیا۔
2۔ بعض لوگ جرم اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ بعد میں توبہ کرلیں گے جو پرلے درجے کا گناہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
کفار مکرو فریب کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے :
1۔ کفار نے مکرو فریب کیا اور اللہ نے تدبیر کی، اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 54)
2۔ انہوں نے مکر کیا اور اللہ نے تدبیر کی اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ (الانفال : 30)
3۔ ان کے مکر کا انجام دیکھیں ہم نے مکر کرنے والوں اور ان کی قوم کو ہلاک کردیا۔ (النمل : 51)
4۔ عنقریب جرائم اور مکر و فریب کرنے والوں کو اللہ کے ہاں سے ذلت اور سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (الانعام : 124)
5۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کے مکر کے مقابلہ میں تدبیر کی اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں تھا۔ (النمل : 50)
Ayahs 12:11–14فہم القرآن
ربط کلام : سازش پر متفق ہونے کے بعد برادران یوسف کا اپنے باپ کی خدمت میں پیش ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ کرنا۔
برادران یوسف اپنے باپ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابا جان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے بارے میں نہایت ہی خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ کھلی فضا میں یوسف سیرو سیاحت اور کھیل کود میں ہمارے ساتھ شریک ہو۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔ بیٹوں کے مطالبہ کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس بات کا اظہار کیا کہ میں خدشہ محسوس کرتا ہوں کہ تم یوسف کو اپنے ساتھ لے جانے کے بعد غفلت کا مظاہرہ کرو اور کوئی بھیڑیا یوسف کو کھاجائے۔ باپ کے جواب میں سب کے سب کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے یوسف کو بھیڑیا کھاجائے۔ جبکہ ہم سب کے سب اکٹھے اور طاقتور ہیں۔ اگر یوسف کو ہمارے جیتے جی کوئی نقصان پہنچا تو ہم سے بڑھ کر کون نقصان پانے والا ہوگا۔ عُصْبَۃ کا معنیٰ گھوڑوں، پرندوں کا جھنڈ اور مردوں کی اس جماعت کو بھی کہا جاتا ہے جو دس افراد پر مشتمل اور ایک دوسرے کے ممدو معاون ہوں۔ قرآن مجید کے الفاظ اس حقیقت کی نقاب کشائی کر رہے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں اپنے بیٹوں کے بارے میں یوسف (علیہ السلام) کے متعلق منفی خیالات کا احساس موجود تھا۔ اور ان کے بیٹوں کو بھی احساس تھا کہ یوسف کے بارے میں ہمارے والد ہم پر پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ جس بنا پر انہوں نے مثبت کے بجائے منفی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا اے ہمارے والد آپ یوسف کے بارے میں ہم پر کیوں اعتماد نہیں کرتے ؟ ان کے انداز گفتگو سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انہوں نے عاجزانہ اور مؤدبانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے دباؤ ڈالنے کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے باپ کو اطمینان دلانے اور اپنی سازش کو کامیاب کرنے کے لیے پے درپے ایسے الفاظ استعمال کیے کہ جن سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یقین آجائے اس لیے وہ بار بار کہتے ہیں کہ یقین فرمائیں کہ ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔ یقین دہانیوں کے باوجود حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ لیکن پیغمبرانہ اور پدری اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے فقط اتنا ہی فرماتے ہیں کہ میرے بیٹو ! میں ڈرتا ہوں کہیں تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف کو بھیڑیا نہ کھاجائے !
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے بظاہر ان کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ 2۔ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کے متعلق خوف کا اظہار کیا۔
3۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے غلط انداز میں باپ کو اطمینان دلایا۔
تفسیر بالقرآن
نقصان پانے والے لوگ :
1۔ انہوں نے کہا اگر یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم نقصان پانے والے ہوجائیں گے۔ (یوسف : 14)
2۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والے ہوں گے۔ (الاعراف : 23)
3۔ زمین میں فساد کرنے والے لوگ خسارہ اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : 27)
4۔ اللہ کفار کے اعمال دنیا میں تباہ کرے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (التوبۃ : 69)
5۔ جس نے اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنالیا اس نے بہت نقصان پایا۔ (النساء : 119)
6۔ ان لوگوں نے نقصان پایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی۔ (الانعام : 31)
Ayah 12:15فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں کے سپرد کرنا۔ اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا انہیں ویران اور گمنام کنویں میں پھینکنا۔
برادران جب یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر اپنے ہدف کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے بالاتفاق یوسف (علیہ السلام) کو ایک ویران کنویں میں پھینک دیا۔ اس موقع پر بعض مفسرین نے غیر مستند تاریخی روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ جونہی یوسف (علیہ السلام) کے برادر اپنی بستی سے دور ہوئے تو انہوں نے یوسف کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔ یوسف زار و قطار روتے ہوئے کبھی ایک اور کبھی دوسرے بھائی کے ساتھ چمٹ جاتے مگر وہ ترس کھانے کے بجائے اپنے سے اگلے کی طرف دھکیل دیتا۔ ممکن ہے یہی کچھ ہوا ہو کیونکہ قرآن مجید کسی واقعہ کی غیر اہم جزئیات بیان نہیں کرتا۔ اس لیے سب سے بڑے اور آخری اقدام کا ذکر کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ انہوں نے جب یوسف کو ویران کنویں میں پھینک دیا تو ہم نے یوسف کو وحی کی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ وقت آئے گا کہ جو کچھ انھوں نے کیا اس کے بارے میں تم ضرور اور ہر صورت انھیں بتلاؤ گے۔ ہندو پاک کے معروف اہل قلم اور ریاست پٹیالہ کے سیشن جج قاضی سلیمان منصور پوری تفسیر سورة یوسف المسمٰی بہ الجمال والکمال میں (لَتُنَبِّءَنَّھُمْ ) کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کا معنیٰ ہے۔ اے یوسف فکر نہ کر تو باعزت اس مصیبت سے نجات پائے گا۔ اور تجھے اعلیٰ منصب عطا کیا جائے گا۔ تیرے بھائی تیرے سامنے ذلیل ہو کر حاضر ہوں گے اور تجھے ان کے سامنے سب کچھ بیان کرنے کا موقع عنایت کیا جائے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو مصر کی مملکت کا حکمران بنایا۔ قحط سالی سے تنگ آکر امداد کے لیے برادران یوسف ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں معاف کرتے ہوئے، عزت و احترام سے نوازا۔ اس کی تفصیل آیت 89 تا 92 میں ملاحظہ فرمائیں۔
ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی۔ حالانکہ اس وقت حضرت یوسف کی عمر آٹھ، نو سال یا 16، 17 سال کی بتلائی جاتی ہے۔ میرا قلبی میلان یہ ہے کہ حضرت یوسف کی عمرآٹھ یانو سال تھی۔ 16 تا 17 سال کا بچہ جوان یا جوانی کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ بالخصوص جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر نامزد کرنا ہوتا ہے وہ صحت کے اعتبار سے اپنی عمر سے بہت زیادہ سمجھدار اور کافی حد تک جسمانی طور پر بڑا دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا نہایت چھوٹی عمر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قلبی طور پر اطمینان بخشا اور فکری اعتبار سے انہیں پرسکون کردیا کہ تجھے گھبرانا نہیں چاہیے۔ وقت آنے پر سب کچھ تیرے سامنے کردیا جائے گا۔ وحی کی اقسام میں ایک قسم یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی سے جو کام لینا چاہتا ہے اس کے کرنے کا اس کے دل میں القاء کردیتا ہے۔ جس کی قرآن مجید کے حوالے سے دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔ اے انسان تیرے رب نے مکھی کی طرف وحی کی ہے کہ وہ پہاڑوں اور انگور کی بیلوں میں اپنا گھر بنائے پھر پھلوں سے رس چوس کر اپنے رب کی ہموار کردہ راہوں پر چلتی ہوئی اپنے پیٹ سے مختلف رنگوں کا شہد نکالے جس میں لوگوں کے لیے شفاء رکھ دی گئی ہے۔ یقیناً اس میں غور کرنے والے لوگوں کے لیے راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ (النحل : 68 تا 69)
موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی (یعنی القا کیا) کہ اسے دریا میں ڈال دے، اس پر ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم موسیٰ کو آپ کی طرف لوٹائیں گے۔ اور اسے نبوت سے سرفراز کریں گے۔ ( القصص : 7)
مسائل
1۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں نے اندھیرے کنویں میں پھینک دیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ القا کے ذریعے جسے چاہے آگاہ فرماتا ہے۔
Ayahs 12:16–17فہم القرآن
ربط کلام : برادران یوسف غلطی پر غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ویران کنویں میں پھینک کر۔ برادران یوسف روتے ہوئے دانستہ تاخیر سے عشاء کے وقت گھر آئے تاکہ ان کی من گھڑت کہانی پر والد کو یقین آجائے۔
یاد رہے کہ عشاء کا وقت مغرب کے بعد اچھی طرح اندھیرا چھا جانے سے لے کر آدھی رات تک شمار ہوتا ہے۔ برادران یوسف گھر داخل ہوتے ہی ہچکیاں لیتے اور زارو قطار روتے ہوئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہتے ہیں۔ اباجان ! ہم یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ کر کھیل کود میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں بہت دور نکل گئے۔ ہمارے پیچھے بھیڑئیے نے یوسف کو کھالیا۔ یہ حقیقت ہے مگر ہمارے سچا ہونے کے باوجود آپ ہم پر یقین نہیں کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حضرت یوسف کی خون آلود قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے رکھ دی۔ جس پر کسی جانور کا خون لگا رکھا تھا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ صورت حال دیکھ کر صرف اتنا ہی فرمایا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس پر میں اللہ ہی سے مدد کا طلب گار ہوں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف کو اس کے بھائیوں کے سپرد کرتے ہوئے جس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا برادران یوسف نے پورے غورو خوض کے بعد سوچا چونکہ ہمارے والد کے دل میں بھیڑئیے کا یوسف کو کھانے کے بارے میں اندیشہ پختہ ہوچکا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی یہی بات ان کے سامنے کہنا چاہیے۔ اس کے لیے انہوں نے حضرت یوسف کی قمیص کو کسی جانور کے خون کے ساتھ آلودہ کرلیا۔ گویا کہ انہوں نے من گھڑت کہانی کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے یکے بعددیگرے چار غلط اقدام کیے۔
1۔ بلا وجہ رات تاخیر سے گھر آنا۔ 2۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کو کسی جانور کے خون کے ساتھ لت پت کرنا۔
3۔ زار و قطار رونا اور مصنوعی ہچکیاں لینا۔ 4۔ باپ کے خدشے کے مطابق جھوٹی کہانی بنانا۔
تحقیق و تفتیش کی تاریخ میں یہ بات بڑی مسلمہ ہے کہ واردات کرنے والے شخص سے کوئی نہ کوئی ایسی غلطی یا کوتاہی رہ جاتی ہے جس سے جرم کا سراغ لگانا آسان ہوجاتا ہے۔ جسے تفتیشی زبان میں کہا جاتا ہے کہ چور کوئی نہ کوئی نشان چھوڑجاتا ہے۔
کہانی بیان کرنے سے پہلے ہی اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ کہا ہمارے سچا ہونے کے باوجود آپ ہماری بات پر یقین نہیں کریں گے۔ بعض مفسرین نے بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر جھوٹا خون لگانے کے وقت وہ بھول گئے تھے۔ کہ قمیص کو مخصوص انداز میں پھاڑنا بھی چاہیے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص صحیح سالم دیکھی تو وہ فرمانے لگے کہ یہ کیسا بھیڑیا تھا ؟ جس نے یوسف کو پھاڑ ڈالا مگر قمیص کو آنچ نہ آنے دی۔ ممکن ہے اس طرح ہوا ہو لیکن میرے خیال میں حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لیے بھائیوں کا یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ برتاؤ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے تھا۔ جس بنا پر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سپرد کرتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار فرمایا تھا کہ کہیں تمہاری غفلت کی وجہ سے بھیڑیا یوسف کو نقصان نہ پہنچائے۔ پھر جس انداز سے انہوں نے من گھڑت کہانی بیان کی اس سے ایک دانشور انسان کو حقیقت تک پہنچنے کے لیے کوئی خاص دشواری پیش نہیں آتی۔
کیونکہ قتل جیسا سانحہ رونما ہونے کے بعد مقتول کے قریبی اعزا و اقرباء کے رونے کا انداز اور ان کی طبیعت پر مرتب ہونے والے غم کے اثرات سے آدمی اچھی طرح اندازہ کرلیتا ہے کہ مقتول کے بارے میں رونے والے کے غم کی کیا کیفیت ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) تو یوسف (علیہ السلام) کے باپ اور اللہ کے عظیم پیغمبر تھے۔ انہیں بات کی تہہ تک پہنچنے میں ذرا دیر نہ لگی فوراً فرمایا کہ تمہارے دلوں نے یوسف کے ساتھ زیادتی کرنے اور جھوٹی کہانی بنانے کو آسان بنا دیا ہے۔ کیونکہ بیٹوں نے اپنی طاقت پر ناز کرتے ہوئے یہ جرم کیا تھا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نہایت ہی دانشمندی اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوان بیٹوں سے جھگڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کرنی چاہیے۔ لہٰذاحضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ” اللہ “ ہی سے مدد طلب کی۔
اس قسم کے حالات میں ایک دانشور باپ کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے ورنہ بدنامی کے ساتھ صورت حال اور گھمبیر ہوجایا کرتی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) صبر جمیل کے ساتھ اس غم کو پی جاتے ہیں۔ صبر جمیل سے مراد ایسا صبر جس میں کسی قسم کا گلہ شکوہ نہ پایا جائے۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ ﷺ بِامْرَأَۃٍ تَبْکِی عِنْدَ قَبْرٍ فَقَالَ اتَّقِی اللَّہَ وَاصْبِرِی قَالَتْ إِلَیْکَ عَنِّی، فَإِنَّکَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِیبَتِی، وَلَمْ تَعْرِفْہُ فَقِیلَ لَہَا إِنَّہُ النَّبِیُّ ﷺ فَأَتَتْ بَاب النَّبِیِّ ﷺ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَہُ بَوَّابِینَ فَقَالَتْ لَمْ أَعْرِفْکَ فَقَالَ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الأُولَی)
[ رواہ البخاری : باب زِیَارَۃِ الْقُبُورِ ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا گزر ایک ایسی عورت کے پاس سے ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر اختیار کر اس نے کہا تمہیں کیا جو مصیبت مجھے پہنچی ہے وہ آپ کو نہیں اور اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا اسے کہا گیا کہ بیشک آپ نبی ﷺ تھے تو وہ آپ کے دروازے پر آئی تو کوئی دربان نہ پایا اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے نبی میں آپ کو پہچان نہیں سکی تھی آپ نے فرمایا صبر وہی ہوتا ہے جو صدمے کے آغاز پر کیا جائے۔ “
مسائل
1۔ مکارمجرم اکثر زیادہ رویا کرتے ہیں۔ 2۔ صبر بہترین عمل ہے اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی فضیلت اور اجر :
1۔ صبر بہترین عمل ہے اور اللہ ہی اس پر مدد کرے گا جو تم بیان کرتے ہو۔ (یوسف : 18)
2۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 3۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111)
4۔ صبر کرنے والوں کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24)
5۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ (الفرقان : 75)
6۔ صبر کرنے والے بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر : 10)
Ayahs 12:18–20فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائی کنویں میں پھینک کر واپس چلے آئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک قافلہ کنویں کے قریب اترا اور انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکال لیا۔
مفسرین کی غالب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک اس ویران کنویں میں پڑے رہے اور آخری دن ایک قافلہ وہاں سے گزرا جنہوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق ایک آدمی کو اپنے سے پہلے روانہ کیا تاکہ جہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالنا ہے اس کے گردو جوار پانی تلاش کرے۔ پانی تلاش کرنے والے شخص نے جب کنویں میں ڈول ڈالا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ڈول میں بیٹھ کر باہر نکلے۔ جنہیں دیکھتے ہی وہ شخص چلا اٹھا کہ قافلے والو ! خوش ہوجاؤ۔ ہمیں ایک غلام مل گیا ہے۔ ظاہر ہے قافلے والوں نے آج تک ایسا غلام نہیں دیکھا ہوگا۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پیغمبروں کے عظیم خاندان کا صاحبزادہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسا حسن و جمال عنایت فرمایا تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ آٹھ، نو سال کی عمر کا پیغمبر زادہ اس کے حسن و جمال اور چہرے کی نورانیت اور معصومیت چودھویں رات کے چاند کو شرما رہی تھی۔
قافلہ والوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی مگر یہ لوگ بردہ فروش نہ تھے۔ اس لیے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو چند درہموں کے عوض یعنی حقیر سی رقم پر بیچ ڈالا۔ کیونکہ انہیں بردہ فروشی کے کارو بار کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کچھ لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لکھا ہے کہ بیچنے والے قافلے کی بجائے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تھے۔ جو کسی نہ کسی انداز میں ان کی نگرانی کر رہے تھے۔ کہ یوسف کا کیا انجام ہوتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ قافلے والے اسے نکال کرلے جا رہے ہیں۔ تو انہوں نے مختلف بہانے بنا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان سے حاصل کیا اور بعد ازاں انہیں کے ہاتھوں معمولی قیمت لے کر فروخت کردیا۔ لیکن پختہ اہل علم، اس بات کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے انہوں نے فروخت کنند گان سے مراد قافلے کے لوگ سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پہلی آیت کے آخر میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا جو وہ کررہے تھے۔ جس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔
1۔ برادران یوسف کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا انجام یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کتنا بہتر ہوگا۔
2۔ قافلے والوں کو بھی یہ خبر نہ تھی کہ جسے وہ عام بچہ اور غلام سمجھ رہے ہیں وہ کس قدر بڑے خاندان کا لخت جگر اور کس قدر عظیم الشان قسمت کا مالک ہوگا۔ غلام عربی زبان میں صرف زرخرید شخص کے لیے نہیں بلکہ غلام کا لفظ چھوٹے بچے سے لے کر ایسے نوجوان کے بارے میں بھی بولا جاتا ہے جس کے چہرے پر جوانی کا سبزہ نمودار ہورہاہو۔
مسائل
1۔ یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر پانی لانے والا خوشی سے چلا اٹھا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل سے خوب واقف ہے۔
3۔ یوسف (علیہ السلام) کو معمولی قیمت پر فروخت کردیا گیا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے :
1۔ اللہ خوب واقف تھا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔ (یوسف : 19)
2۔ اللہ دیکھنے والا ہے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ (آل عمران : 163)
3۔ نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو لوگ عمل کرتے ہیں۔ (الانعام : 132)
4۔ بیشک جو وہ عمل کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔ (ھود : 111)
5۔ ہم ان کو خبر دیں گے جو وہ اعمال کرتے رہے۔ (الانعام : 109)
6۔ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل تصور نہ کریں۔ (ابراہیم : 42)
Ayah 12:21فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بازار میں بکنا اور عزیز مصر کا انہیں خریدنا۔
جن اہل علم نے اس سے پہلی آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فروخت کرنے والے ان کے بھائی تھے۔ انھوں نے مختلف غیر مستند روایات سے ثابت کیا ہے کہ جب قافلہ والے حضرت یوسف کو بیچنے کی غرض سے بازار میں لائے۔ تو ہر خریدار ان پر اس قدر فریفتہ ہوا جس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بولی لگتے لگتے ڈھیروں درہم و دینار اور قیمتی کپڑوں کے انبار لگ گئے مگر عزیز مصر نے سب سے زیادہ بولی چکا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید لیا۔ آیات کے سیاق وسباق سے یہ بات زیادہ واضح ہوتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں سے قافلے والوں نے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا تھا کیونکہ یہ لوگ بنیادی طور پر بردہ فروش نہ تھے۔ جس و جہ سے انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قیمت بڑھانے میں زیادہ دلچسپی نہ لی۔ بہرحال حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر خرید کر اپنے گھر لے جاتا ہے۔ عزیز مصر کون تھا ؟ اکثر مفسرین اور مؤرخین کا خیال ہے کہ مصر کا وزیر خزانہ تھا۔ سوسائٹی کا بڑا آدمی اور حکومت کے اہم عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدتے وقت پہچان گیا کہ یہ بچہ کوئی عام بچہ نہیں ہے بلکہ کسی بڑے خاندان کا چشم وچراغ ہے لیکن زمانے کے حوادث نے اسے منڈی کا مال بنا دیا ہے۔
اسے یہ فیصلہ کرنا اس لیے بھی آسان ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عمر کے اعتبار سے بچہ ہونے کے باوجود اپنے حسن و جمال میں سب سے نمایاں تھے۔ اس لیے اس نے گھر جاتے ہی اپنی بیوی سے کہا کہ اس کا خیال رکھنا۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے لیے بڑا مفید ثابت ہو یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنالیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عزیز مصر کے ہاں پہنچنا اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا نتیجہ تھا۔ جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یوسف کو زمین میں یعنی مصر میں اچھا ٹھکانہ دیا تاکہ اسے معاملہ فہمی اور امور مملکت سکھلائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی تدبیر کامیاب کرنے اور ہر حکم کو نافذ کرنے پر قادر ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اللہ کی تقدیر اور اس کے احکام کی حکمت کو نہیں جانتی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں تین آدمی بڑے ہی عقلمند اور قیافہ شناس ثابت ہوئے ہیں۔
1۔ عزیز مصر جس نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی گوہر نایاب کے طور پر پہچان لیا اور اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ اس بچے کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا۔ یہ بڑا ہو کر ہمارے لیے بڑا ہی سود مند ثابت ہوگا۔
2۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دختر نیک اختر جس نے ایک مسافر یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو شرم وحیا کے ساتھ ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا تھا کہ یہ جوان نہایت ہی باحیا، صاحب کردار، خیر خواہ اور دیانت دار ہے۔ بعد ازاں اسی کی رائے کے نتیجے میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو آٹھ سے دس سال کے لیے اپنے گھر رکھا پھر اسی بیٹی کو ان کے نکاح میں دیا۔
3۔ تیسرے ” سیدنا “ صدیق اکبر ؓ ہیں۔ جنہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کیا۔ جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی وہ خدمت کی جس کی مثال قیامت تک نہ مل سکے گی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بہتر ٹھکانہ عطا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کام پر غالب ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ کا حکم ہر حال میں غالب ہوتا ہے :
1۔ اللہ اپنے ہر کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : 21)
2۔ اللہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو حکم کرتا ہے۔ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 117)
3۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ : 20)