11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم تعارف سورة ھود اس سورة مبارکہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کا ذکر قدرے تفصیل کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اس سورت کا نام سورة ھود رکھا گیا۔ اس کا نزول مکہ معظمہ میں ہوا۔ یہ سورت (١٢٣) آیات پر مشتمل ہے۔ اس میں قرآن مجید کا تعارف کروانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ کی توحید کی دعوت دینے کے ساتھ لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ استغفار کا راستہ اختیار کریں تو انہیں دنیا میں بھی عزت و عظمت عطا کی جائے گی۔ جو لوگ توبہ استغفار کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تو انہیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رزاق ہونے کے دلائل دیے ہیں۔ ساتھ ہی شکوہ کیا ہے کہ انسان کو تکلیف پہنچے تو اپنے رب سے مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ اگر اسے فضل و کرم سے نوازا جائے تو وہ فخر و غرور کا اظہار کرتا ہے اس کے بعد۔ قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر تم اس کو من جانب من اللہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو قرآن مجید کی کسی دس سورتوں کے مقابلے میں ان جیسی سورتیں بنا کر لاؤ۔ اگر تم یہ چیلنج قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو تمہیں کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرنا چاہیے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس سورت کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی قوم کا انجام ذکر کیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ھود کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کو یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر تم توبہ استغفار کا راستہ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاشی طور پر مستحکم فرمائے گا۔ لیکن ان کی قوم نے اپنے رب کے حضور توبہ استغفار کرنے کی بجائے سرکشی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ جس کے نتیجہ میں اس قوم پر اللہ کی پھٹکار نازل ہوئی اور اسے نیست و نابود کردیا گیا۔ قوم ھود کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ قوم صالح کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی آمد، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ان سے خوفزدہ ہونا ملائکہ کا خوشخبری دینا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا اور پوتا عنایت فرمائیں گے۔ ان سے فارغ ہونے کے بعد ملائکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس جاتے ہیں۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہم جنسی کے جرم میں ملوث تھی۔ ملائکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے۔ قوم نے مہمانوں کے ساتھ بدکرداری کا ارادہ کیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملائکہ نے پوری بستی کو اٹھا کر آسمان کے قریب لے جا کر زمین پردے مارا اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی۔ قوم لوط کی تباہی کے تذکرہ کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے کردار کا بیان کیا ہے۔ جو لین دین اور ماپ تول میں خیانت کی مرتکب ہونے کے ساتھ شرک میں مبتلا تھی۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں منع کیا تو قوم نے طعنہ دیا کہ اے شعیب تیری نمازیں تجھے یہی کچھ سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ کو چھوڑ دیں۔ جب قوم باز نہ آئی تو چیخ نے آلیا جس کی وجہ سے وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں اوندھے منہ تباہی کے گھاٹ اتر گئے۔ سورة ھود کا اختتام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کے بیان پر ہوا۔ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! انجام کار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر تم دنیا و آخرت میں اچھا انجام چاہتے ہو تو پھر ایک اللہ کی عبادت کرو اور اسی کی ذات پر بھروسہ کرو۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ وہ تمہارے احوال سے لمحہ لمحہ آگاہ رہتا ہے۔ ( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ أَبُوْ بَکْرِ الصِّدِیْقِ سَأَلْتُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا شَیْبَکَ ؟ قَالَ سُوْرَۃُ ہُوْدٍ وَالْوَاقِعَۃِ وَالْمُرْسَلاَتِ وَ عَمَّ یَتَسَاءَ لُوْنَ وَ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ) [ المستد رک للحاکم ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی۔ اللہ کے محبوب پیغمبر آپ کو کس چیز نے بوڑھا کردیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے سورة ھود، الواقعۃ، المرسلات، عما یتساء لون، اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا ہے۔ “

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

” الر۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی ہیں انھیں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو خوب خبردار ہے۔ “ (1)

فہم القرآن ربط کلام : سورة یونس اور ہود کا باہمی ربط (تفسیر): سورة یونس کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی حاکم ہے اور وہ بہترین حکم دینے والا ہے سورة ہود کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے احکام محکم اور تفصیلی ہیں۔ اآر۔ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کے بارے میں سورة البقرۃ کی ابتدا میں عرض کیا جا چکا ہے۔ کہ ان کا حقیقی معنی اور مفہوم۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا تفصیل کے لیے سورة البقرۃ کی ابتدملاحظہ فرمائیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس کے احکام محکم ہیں جو پہلی کتابوں کی طرح منسوخ نہیں ہوسکتے۔ اس میں جامعیت کے ساتھ تفصیلات بھی ہیں تاکہ ہر دور کے تقاضے پورے ہوں اور لوگوں کو پیش آمدہ مسائل کا حل معلوم ہوسکے۔ ایسا اس لیے ہے کہ قرآن مجید کے احکام اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ ہیں جو لوگوں کے جذبات اور حالات کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور اس کے ہر حکم میں حکمت موجود ہوتی ہے جو سچائی، دانائی اور علم کے معیار پر پورا اترتی ہے۔ (عَنْ عُمَرَبْنِ الخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَالْکِتَابِ اَقْوَامًاوَیَضَعُ بِہٖ اٰخَرِیْنَ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلوٰۃ، باب فضل من یقوم بالقراٰن ] ” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو جو اس پر عمل کریں گی بام عروج پر پہنچائے گا اور بہت سی قوموں کو جو اس کو چھوڑ دیں گی قعر مذلت میں گرادے گا۔ “ (ےَقُوْلُ الرَّبُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَنْ شَغَلَہٗ الْقُرْآنُ عَنْ ذِکْرِیْ وَسُؤَالِیْ أعْطَےْتُہٗ أفْضَلَ مَا أَعْطَیَ السَّاءِلِےْنَ ) [ رواہ الترمذی، باب فضائل القرآن ] ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جسے قرآن پاک کی تلاوت نے میرے اذکار اور مانگنے سے مصروف رکھا میں اسے سو ال کرنے والوں سے زیا دہ عطاکرونگا۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات عظمت وکبریائی اور خیرو برکت کے لحاظ سے یکتا اور تنہا ہے۔ ذکر واذ کار میں یہی حیثیت تلاوت قرآن مجید کو حاصل ہے۔ قرآن مجید کو زندگی کا رہنما بنانے سے دنیا و آخرت کے مسائل اور دکھوں کا مداوا ہونے کی ضمانت مل جاتی ہے۔ اس کتاب مقدس سے انحراف اور بےاعتنائی پریشانیوں اور مشکلات کو دعوت دینے کے مترادف سمجھنا چاہیے۔ رسول کریم ﷺ اس کتاب عظیم کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کو عزت و عظمت سے نوازتا رہے گا اور اس کے چھوڑنے کی وجہ سے میری امت دنیا میں ہی ذلیل و خوار ہوجائے گی۔ مسائل 1۔ گمراہی اختیار کرنے والے کو گمراہی کا نقصان ہوگا۔ 2۔ قرآن کریم کی آیات محکم ہیں۔ 3۔ قرآن مجید میں ہدایت کے متعلق تفصیلات دی گئی ہیں۔ 4۔ قرآن مجید اللہ حکیم وخبیر کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے چند اوصاف : 1۔ قرآن مجید کی آیات محکم ہیں اس میں احکام کی تفصیلات ہیں۔ (ہود : 1) 2۔ قرآن مجید لا ریب کتاب ہے۔ (البقرۃ : 2) 3۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 4۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : 138) 5۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے ہدایت ہے، رحمت اور نصیحت ہے۔ (البقرۃ : 185) 6۔ قرآن مجید برہان اور نور مبین ہے۔ (النساء : 174) 7۔ قرآن مجید لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لانے کا ذریعہ ہے۔ (ابراہیم : 1) 8۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : 82) 9۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : 57) 10۔ ہم نے ہی اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : 9)
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

” کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یقیناً میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔ “ (2)

فہم القرآن ربط کلام : سورة یونس کے اختتام میں حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے سورة ہود کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے ہوا۔ پہلے کی طرح اس میں صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ کہ اے انسانو اور جنو ! میں نے تمہیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الذاریات : 56۔ 58) انسان کو اس کی زندگی کا مقصد سمجھانے کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیائے عظام مبعوث کیے گئے۔ قرآن مجید ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ تمام کے تمام انبیاء اپنی دعوت کا آغاز اسی مقصد حیات سے کرتے تھے۔ آٹھویں پارے کے آخری پاؤ نکال کر دیکھیں کہ ہر رکوع کی ابتداء ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ ہم نے نوح، ہود، صالح، شعیب کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی فرمایا کہ لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں سورة الانبیاء آیت 25 میں ارشادہوتا ہے کہ اے رسول ﷺ آپ سے پہلے جتنے پیغمبر جلوہ گر کیے گئے۔ وہ لوگوں کو یہی بتلاتے اور سمجھاتے رہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے کہ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو زبان سے اقرار کرے اور اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے رہا ہو کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے۔ دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ یہ میرا مال ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔ اس عہد کو نمازی پانچ وقت تشہد میں زبان سے دہراتا ہے کیونکہ عبادت تین ہی طریقوں سے ہوسکتی ہے۔ (اَلتَّحَیَاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ) ” تمام قسم کی قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ “ (قُلْ إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ )[ الانعام : 162۔ 163] ” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز، قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں۔ “ اس تصور کے ساتھ قرآن مجید نے عبادت کا وسیع تر تخیل پیش کیا ہے کہ آدمی منڈی یا بازار میں ہو تو امانت و دیانت کا ترجمان بن جائے، کسی کے ہاں مزدور اور خدمت گزار ہو تو وفا داری کا پیکر ہوجائے، حکمران ہو یا کوئی ذمہ داری اٹھائے تو قوم کا خادم اور مالک حقیقی کا غلام بن کر رہے۔ غرضیکہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور شعبہ رب کی غلامی اور سرافگندگی کے لیے وقف کرنے کا نام ہی عبادت ہے۔ یہی انسان کی تخلیق کا مقصد اور اسی کے لیے انسان کا ہر عمل وقف ہونا چاہیے۔ انبیائے عظام اپنی دعوت کا آغاز اسی سے کیا کرتے تھے۔ اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ عبادات میں سب سے پہلا درجہ نماز کا ہے۔ جسے اس کے تقاضوں کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنا جائز نہیں۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ کو بشیر و نذیر بناکر بھیجا گیا تھا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت : 1۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (ہود : 2) 2۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور شیاطین کی عبادت نہ کرو۔ (المومنون : 23) 3۔ حضرت ہودنے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ اور غیر اللہ کی عبادت سے روکا۔ (الاعراف : 65) 4۔ حضرت صالح نے ایک اللہ کی عبادت کے لیے بلایا اور ماسوائے اللہ کے دوسروں کی عبادت کو شیطان کی عبادت قرار دیا۔ (الاعراف : 73) 5۔ حضرت شعیب نے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے منع کیا۔ (ہود : 84) 6۔ تمام امتوں کی طرف رسول بھیجے گئے اور سبھی نے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ (النمل : 36)
Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

” اور یہ کہ اپنے رب سے مغفرت مانگو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمہیں ایک معین مدت تک اچھا فائدہ دے گا اور ہر فضل والے کو اس کا فضل دے گا اور اگر تم پھرگئے تو یقیناً میں تمہیں بڑے دن کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔ “ (3)

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

” اللہ ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (4)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت تب ہی قبول ہوسکتی ہے جب انسان اپنے گناہوں بالخصوص شرک سے توبہ کرے گا۔ قرآن مجید اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ انبیاء کرام نہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیتے تھے بلکہ وہ اللہ کی عبادت کرنے کے ساتھ گناہوں سے معافی مانگنے اور شرک سے توبہ کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو بیشک وہ معاف کرنے والا ہے۔ استغفار کے بدلے وہ تم پر رحمت کی برکھا برسائے گا اور تمہیں مال اور بیٹے عنایت فرمائے گا۔ (نوح : 11۔ 12) استغفار کرنے کا یہ بھی فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر اپنا عذاب مسلط نہیں کرتا۔ ایک دفعہ مکہ کے سردار جمع ہو کر بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر اپنے لیے بدعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اگر یہ رسول سچا ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا۔ اس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اس لیے تم پر عذاب نازل نہیں کررہا کہ تم میں اس کا رسول اور استغفار کرنے والے مسلمان موجود ہیں۔ (الانفال ،: 32۔ 33) یہاں توبہ و استغفار کے تین فائدے بتائے گئے ہیں۔ 1۔ اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کرنے والوں کو دنیا کے بہترین اسباب عنایت فرمائے گا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ انسان کی موت تک اسے مہلت دے گا اور کسی ذلیل کردینے والی آزمائش میں مبتلا نہیں کرے گا۔ 3۔ توبہ و استغفار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مزید نوازے گا۔ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے انکار اور اس کے حضور توبہ و استغفار نہ کریں گے تو دنیا میں ذلیل کردینے والا عذاب اور آخرت میں بڑے اور لا متناہی مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا ہوں گے۔ کیونکہ بالآخر ہر کسی نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور وہ لوگوں کو اپنے حضور پیش کرنے پر پوری طاقت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ذرے ذرے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْ لُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ عَبْدًا اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ فَاغْفِرْہُ فَقَالَ رَبُّہُ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُبِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَا شَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْہُ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَ ےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ مَکَثَ مَاشَآء اللّٰہُ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا قَالَ رَبِّ اَذْنَبْتُ ذَنْبًا اٰخَرَ فَاغْفِرْہُ لِیْ فَقَالَ اَعَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَّغْفِرُ الذَّنْبَ وَےَاْخُذُ بِہٖ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْےَفْعَلْ مَا شَآءَ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ کوئی شخص گناہ کرتا ہے پھر اپنے رب سے عرض کرتا ہے کہ میں گناہ کر بیٹھا ہوں تو اے رب مجھے معاف فرما۔ اس کا رب فرشتوں سے کہتا ہے ‘ کیا میرے بندے کو معلوم ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے ؟ لہٰذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ کی توفیق ہوتی ہے وہ گناہ سے باز رہتا ہے ‘ پھر اس سے گناہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنے رب کو پکارتا ہے۔ میرے پروردگار مجھ سے گناہ ہوگیا ہے۔ میرے اللہ ! مجھے معاف فرما۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے استفسار کرتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ کوئی اس کا مالک ہے جو گناہوں کو معاف بھی کرتا ہے اور ان پر پکڑتا بھی ہے ؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا ! اب وہ جو چاہے کرے۔ “ (یعنی سابقہ گناہ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ ) “ توبہ استغفار کے چند وظائف : (رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ ) [ المومنون : 118] ” یارب معاف اور رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ “ (أَسْتَغْفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبِ وَّأَتُوْبُ إِلَیْہِ ) [ مشکوٰۃ ‘ باب الاستغفار ] ” میں اللہ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔ “ (اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ ) [ مشکوٰۃ ‘ باب السجود ] ” اے اللہ مجھے معاف اور مجھ پہ رحم فرما۔ “ (اَللّٰھُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ ) [ مشکوٰۃ ‘ کتاب الصوم ] ” اے اللہ آپ معاف کرنیوالے، معافی کو پسند کرتے ہیں اس لیے مجھے معاف فرما دیجیے۔ “ یہاں قیامت کے دن کو یوم کبیر کہا گیا ہے جو اپنی طوالت کے اعتبار سے پچاس ہزارسال پر مشتمل ہوگا۔ (حم السجدۃ : 5 ا) اور سختی کے حوالے سے اس قدر سخت ہوگا کہ بچہ جنم دینے والی ماؤں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اور لوگ اس دن کی سختیوں سے مدہوش اور بدحواس ہوں گے۔ دیکھنے والا یوں سمجھے گا جیسے کسی نشے کی وجہ سے سر گرداں پھر رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ یوم عظیم کی سختی اور تلخی کا نتیجہ ہوگا۔ (الحج : 2) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنی چاہیے۔ 2۔ ہر شخص کو اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ 3۔ استغفار کی برکت سے اللہ تعالیٰ دنیوی فوائد بھی عطا فرماتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے فضل سے نوازنے والا ہے۔ 5۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 6۔ سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ 7۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن توبہ و استغفار کا حکم اور فوائد : 1۔ اپنے پروردگار سے توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو وہ تمہیں خوشی و عیش دے گا۔ (ہود : 3) 2۔ اپنے رب سے بخشش طلب کرو وہ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا۔ (ہود : 52) 3۔ تم اس سے بخشش طلب کرو میرا رب تمہاری توبہ قبول کرے گا۔ (ہود : 61) 4۔ اپنے رب سے بخشش طلب کرو وہ تمہیں معاف کردے گا اور بارش، مال اور اولاد سے نوازے گا۔ (نوح : 10۔ 12) 5۔ اللہ سے بخشش طلب کرو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ (المزمل : 20) 6۔ جب تک لوگ بخشش طلب کرتے رہیں گے ہم انہیں عذاب نہیں دیں گے۔ (الانفال : 33)
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

” آگاہ رہو ! بیشک وہ اپنے سینوں کو اس لیے دہرے کرتے ہیں کہ اس سے چھپے رہیں، آگاہ رہو ! جب وہ اپنے کپڑے اچھی طرح اوڑھتے ہیں اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ یقیناً سینوں کے رازوں کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (5)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے حضور توبہ و استغفار کرنے کی بجائے منکرین کا رویہ۔ منکرین حق نہ صرف انبیاء کی دعوت کا انکار کرتے بلکہ ہر اعتبار سے انبیاء کو اذیت پہنچانے اور انہیں زچ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا انبیاء ( علیہ السلام) کو اذیت دینے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ جب وقت کا پیغمبر انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے، شرک سے بچنے اور گناہوں کی معافی مانگنے کے لیے کہتا تو وہ لوگ وقت کے پیغمبر کا مذاق اڑانے کے ساتھ یہ بھی کرتے کہ جوں ہی پیغمبر کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتے یا کہیں ملاقات ہوجاتی تو اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا کرتے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کفار اور مشرکین کا رویہ اس حد تک ناروا تھا کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے اور چہروں کو چھپائے ہوئے انتہائی نفرت اور نکیر کا اظہار کیا کرتے تھے۔ (نوح : 7) ایسا ہی رویہ کفار مکہ میں سے کچھ لوگ رسول محترم ﷺ کے ساتھ اختیار کرتے تھے۔ مکہ میں آنے والے ہر شخص کو یہ باور کرواتے کہ ہم میں ایک شخص نبوت کا دعوی کرتا ہے جو حقیقتاً جادوگر ہے اگر تم اس سے بچنا چاہتے ہو تو اس کے قریب نہ جانا۔ (کبھی یوں بھی کرتے کہ) آپ کی مجلس میں بیٹھتے تو اپنے سینوں کو اپنی رانوں میں سکیڑ لیتے تاکہ آپ کی بات سے بےپرواہی کا اظہار کیا جائے۔ اس پر انہیں انتباہ کیا جارہا ہے کہ تم ایک داعی سے چھپ سکتے ہو لیکن اللہ سے نہیں چھپ سکتے کیونکہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں سے چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اللہ تمہارے دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ طفیل دوسی جو قبیلہ دوس کا سردار تھا وہ عمرہ کی غرض سے مکہ آیا مکہ کے لوگوں نے حسب عادت رسول کریم ﷺ کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کیا جس کے رد عمل میں طفیل دوسی نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیں اس شخص کی آواز اچانک مجھے متاثر نہ کردے۔ لیکن اللہ کی شان دیکھیے جوں ہی اس نے طواف شروع کیا تو کیا دیکھتا ہے کہ رسول محترم ﷺ مطاف میں اللہ کے حضور کھڑے ہو کر نوافل میں قرآن مجید تلاوت کررہے ہیں۔ طفیل طواف کے ہر چکر میں آپ کو غور سے دیکھتا ہے۔ اس کا طواف مکمل ہوا تو وہ آپ کے چہر پر انوار اور قیام و سجود سے اس قدر متاثر ہوا۔ کہ اپنے آپ کو ملامت کرتے ہوئے دل ہی دل میں کہنے لگا کہ طفیل کیسی حماقت ہے ؟ تو اپنی قوم کا مانا ہوا شاعر، اپنے قبیلے کا سردار، اور لوگوں کے تنازعات میں فیصلے کرنے والا ہے۔ تجھے اس شخص کی بات سن کر اندازہ تو کرنا چاہیے کہ اس کا کلام کیسا ہے ؟ اس کے ساتھ ہی اس نے کانوں سے روئی نکالی اور ایک طرف کھڑا ہو کر رسول محترم کی تلاوت سنتا رہا جب آپ نوافل سے فارغ ہو کر گھر جانے لگے تو آپ کے پیچھے ہو لیا آپ اپنے دروازے کے قریب پہنچے تو عرض کرتا ہے۔ کہ اے محمد ! مجھے وہ سناؤ جو آپ نماز میں پڑھ رہے تھے۔ آپ نے اس کی مہمان نوازی کرتے ہوئے قرآن مجید کی چند آیات کی تلاوت کی طفیل اسی وقت مسلمان ہوگیا۔ مسائل 1۔ منافق اللہ تعالیٰ سے اپنی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سینے کے رازوں سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظاہر اور باطن کو جانتا ہے : 1۔ اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور تم چھپاتے ہو وہ دل کے رازوں سے واقف ہے۔ (ہود : 5) 2۔ اللہ جانتا ہے جو تم خفیہ کرتے ہو اور جو تم سرعام کرتے ہو۔ (النحل : 19) 3۔ اللہ غائب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ (الحشر : 22) 6۔ اللہ کے لیے ظاہر اور پوشیدہ برابر ہے۔ (الرعد : 10) 4۔ اللہ جانتا ہے جو تم چھپا کر کرتے ہو اور جو تم سر عام کرتے ہو۔ (البقرۃ : 77) 5۔ اللہ آسمان کی ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ (الانعام : 3) 7۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کی سرگوشیوں سے بھی واقف ہے۔ (التوبۃ : 78) 8۔ تم بات کو پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو اللہ دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات کو بھی جانتا ہے۔ (الملک : 13) 9۔ کہہ دیجیے اس (قرآن مجید) کو اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو آسمان و زمین کے اسرار و رموز کو جانتا ہے۔ (الفرقان : 6)
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

” اور زمین میں کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی کے ذمہ ہے اور وہ اس کی قرار گاہ اور اس کے دفن کیے جانے کی جگہ کو جانتا ہے سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ “ (6)

فہم القرآن ربط کلام : گیارہویں پارے کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر اور خفیہ حالات سے واقف ہے اور دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ یہاں ارشاد فرمایا کہ وہ انسان کے مستقل ٹھہراؤ اور عارضی قیام گاہوں کو بھی جانتا ہے۔ ” دابۃ “ ہر جاندار کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں خطاب انسانوں سے کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی انسان کو پیدا کرنے والا ہے اور اس نے ہی اس کے رزق کا ذمہ لے رکھا ہے۔ رزق سے مراد صرف کھانے پینے والی چیزیں نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ایک ذی روح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں ہوا، پانی، خوراک اور رہن سہن کی ضروریات شامل ہیں۔ یہ سب چیزیں عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنا دسترخوان اتنا وسیع اور Mobile بنایا ہے کہ ہر کھانے والے کو اس کی خوراک مل رہی ہے گوشت کھانے والے درندے کو گوشت مل رہا ہے اور دانہ دنکا لینے والے کو دانہ دنکا صبح وشام میسر ہے۔ چند جمع کرنے والوں کے سوا باقی سب کے سب کھانے والے صبح وشام تازہ خوراک سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے اس کا رزق بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہے البتہ حکم ہے کہ اللہ کا رزق تلاش کیا کرو۔ اس کے لیے محنت ومشقت کرنا لازم ہے لیکن رزق کی کمی وبیشی کا انحصار انسان کی محنت پر نہیں۔ اگر رزق محنت کی بنیاد پر دیا جاتا تو معذور اور لاچار بھوکے مرجاتے۔ جہاں تک رزق کی کمی و بیشی کا تعلق ہے یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے مطابق ہے جس کے پیش نظر وہ لوگوں کا رزق بڑھاتا اور گھٹاتا رہتا ہے۔ اگر کہیں قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے طے شدہ اصول کے مطابق ہوتی ہے جس کا سبب بنیادی طور پر انسان ہی ہوا کرتا ہے۔ بیشک وہ قحط سالی پانی کی قلت اور بارش کی کمی کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔ وہ بھی انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ وہ لوگوں کی مستقل قیام گاہوں اور عارضی رہائش کو جانتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کو رزق پہنچانا اور ان کے اعمال اور ضروریات سے باخبر رہنا اس کی صفت کاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر لحاظ سے باخبر رہتا ہے بلکہ اس نے انسان اور دنیا کی ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے۔ مستقرہا و مستودعہا بالترتیب ان کا معنی ہے ” مستقل قیام گاہ اور عارضی ٹھہراؤ “۔ مفسرین نے مستقرہا سے مراد بطن مادر اور مستودعہا کا معنی دنیا کی زندگی لیا ہے اور کچھ اہل علم نے مستودعھا کا معنٰی دنیا کی زندگی اور مستقرھا قبر کا قیام سمجھا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نہ صرف انسان کے ہر قول وفعل سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ اس نے انسان کی زندگی کا پورا ریکارڈ اپنے ہاں محفوظ کر رکھا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا) [ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فی التوکل علی اللہ ] ” حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اگر تم اللہ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تم پرندوں کی طرح زرق دیے جاؤ وہ صبح خالی پیٹ ہوتے ہیں اور شام کو بھرے ہوئے پیٹ ہوتے ہیں۔ “ رزق حلال کے لیے دعا : (اَللّٰہُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ) [ رواہ الترمذی : باب اللھم اکفنی حلالک عن حرامک ] ” اے اللہ ! مجھے حرام سے بچا اور اپنے حلال کے ساتھ میری کفالت فرما اور اپنے فضل کے ساتھ مجھے بےنیاز کردے۔ “ مسائل 1۔ ہر چیز کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔ 3۔ ہر چیز کتاب مبین میں درج ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ سب کو رزق دیتا ہے۔ 5۔ ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا ہے : 1۔ ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ (ھود : 6) 2۔ کتنے ہی چوپائے ہیں تم ان کے رزق کا بندوبست نہیں کرتے اللہ ہی انہیں رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : 60) 3۔ بیشک اللہ بغیر حساب کے جس کو چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے۔ (آل عمران : 37) 4۔ ہم تم سے رزق کے طالب نہیں بلکہ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں۔ (طٰہٰ : 132) 5۔ بیشک اللہ ہی رزاق ہے اور بڑی قوت کا مالک ہے۔ (الذاریات : 58)
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

” اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور بیشک اگر آپ کہیں کہ تم موت کے بعد ضرور اٹھائے جانے والے ہو تو جو لوگ منکر ہیں ضرور ہی کہیں گے یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔ “ (7)

فہم القرآن ربط کلام : کھا نے پینے کے انتظام کے ساتھ ہر ذی روح کی رہائش کا بندوبست۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلیفہ بنا کر زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور انسان کی زندگی کے لیے تمام اسباب مہیا فرمائے زمین و آسمان کی تخلیق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمان کو بغیر کسی نقشے اور میٹیریل کے پیدا فرمایا ہے۔ جس کے لیے بدیع کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سورة الانعام آیت : 101 ” بدیع “ کا معنی ہے کہ جس چیز کا اس سے پہلے کسی اعتبار سے وجود نہ ہو۔ پھر زمین و آسمان کو بننے کا حکم دیا جن کی حالت ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ زمین و آسمان دونوں آپس میں جڑے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا۔ جسے سائنسدان بگ ہینگ کا نام دیتے ہیں۔ سورۃ الانبیاء آیت : 30 میں بیان کیا ہے کہ پھر زمین کو دو دن میں بنایا اور دو یوم میں اس پر پہاڑ نصب کیے اور باقی تمام چیزیں زمین میں رکھ دیں۔ اس کے بعد دو یوم میں سات آسمان اور آسمان دنیا کو مزین فرمایا۔ جبکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ پانی زمین و آسمان سے بھی پہلے پیدا کیا۔ اس لیے ارشاد ہوا کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ (الانبیاء : 30) پھر اللہ تعالیٰ ساتوں آسمانوں سے اوپر متمکن ہوا جس طرح اس کے شایان شان ہے۔ (البقرۃ : 29) ہمیں یہ سوچنے کی اجازت نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر کس حالت میں ہے ؟ زمین پر انسان کو خلافت اور مہلت اس لیے دی تاکہ وہ آزمائے کہ انسان تھوڑی سی مہلت اور معمولی سے اختیارات حاصل ہونے کے بعد کیا کردارا دا کرتا ہے یہی انسان کی موت وحیات کا مقصد ہے کہ وہ بہتر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ (الملک : 2) سورۃ التین میں انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے سے پہلے چار قسمیں کھائیں اور فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے نیک اعمال کرنے کا احساس دلا کر یہ کہا جائے کہ موت کے بعد ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا محاسبہ کرے گا اس کے جواب میں خدا کے باغی اور قیامت کے منکر کہتے ہیں کہ یہ تو الفاظ کی جادوگری ہے۔ جو شخص مرنے کے بعد اٹھنے کا دعویٰ کرتا ہے درحقیقت یہ عقیدہ سحر کے سوا کچھ بھی نہیں گویا کہ قیامت کے منکرین کے نزدیک جس طرح جادوگر اپنے جادو کا مظاہرہ کرکے محض وقتی طور پر ایک تماشا کرتا ہے ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے انسان اور دنیا کو محض تماشا کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے۔ کھیل تماشا کے طور پر پیدا نہیں کیا اگر ہمارے نزدیک اس کی حیثیت ایک کھیل تماشا کی ہوتی تو ہم اس کا مظاہرہ اپنے پاس کرتے۔ (الانبیاء : 15، 16) اس لیے یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم تمہیں موت کے بعدضرور اٹھائیں گے۔ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ منکرین قیامت سے کہہ دیجیے کہ بیشک تم پتھر بن جاؤ یا لوہا یا اس سے بڑھ کر کچھ اور ہوجاؤ۔ جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ تمہیں دوسری دفعہ بھی پیدا کرے گا۔ ( بنی اسرائیل : 50، 51) مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں تخلیق فرمایا۔ 2۔ زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آزماتا ہے۔ 4۔ کفار مرنے کے بعد جی اٹھنے کے قائل نہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ہر جاندار کو پیدا کرے گا : 1۔ بیشک تمہیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا۔ (ہود : 7) 2۔ بیشک جس نے پیدا کیا وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔ (حٰم السجدہ : 39) 3۔ اللہ تمہارا ولی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الشورٰی : 9) 4۔ اللہ ہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (الروم : 50) 5۔ ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے۔ (یٰس : 12)
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

” اور بلا شبہ اگر ہم ان سے عذاب کو ایک متعین مدت تک موخر کردیں تو ضرور کہیں گے اسے کون سی چیز روک رہی ہے ؟ خبردار ! جس دن عذاب ان پر آئے گا تو ان سے کسی طرح ہٹایا جانے والا نہیں اور انہیں عذاب گھیر لے گا جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ “ (8)

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق نہ صرف قرآن مجید کو جادو قرار دیتے اور قیامت کا انکار کرتے تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور عذاب کے بھی منکر تھے۔ جب انسان کا اللہ تعالیٰ پر ایمان کمزور ہوجائے تو وہ نہ صرف قیامت کا انکار کرتا ہے بلکہ اپنے آپ کو پہنچنے والی تکلیف اور آزمائش کو اپنے اعمال کی شامت اور ان کے نتیجہ میں آنے والی گرفت کو من جانب اللہ قرار دینے کی بجائے اسے حالات کا ردّعمل سمجھتا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ جب سرور دو عالم ﷺ انہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب سے متنبہ کرتے تو وہ اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہتے کہ جس عذاب کی آپ دھمکی دیتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے ؟ کہ اب تک ہم پر نازل نہیں ہوا۔ ایک طرف آپ ہمیں ہمارے اعمال کے نتیجہ سے ڈراتے ہیں دوسری طرف وہ عذاب ہمیں دوردور تک آتا دکھائی نہیں دیتا۔ آخر اس عذاب کو کس چیز نے روک رکھا ہے ؟ اس پر انہیں وارننگ دی جارہی ہے کہ جس عذاب کو مذاق کا نشانہ بنائے ہوئے ہو جب وارد ہوگا تو نہ اس کے راستے میں رکاوٹ حائل ہوگی اور نہ ہی کوئی روکنے والا اسے روک سکے گا۔ بس اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کردار اور عقیدہ پر نظرثانی کرو اور اپنے خالق ومالک کے سامنے آہ وزاری کے ساتھ تائب ہوجاؤ۔ یہی تمہاری دنیا اور آخرت کے لیے بہتر ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دیتا ہے تو اس میں اس کی یہ حکمت بھی کارفرما ہوتی ہے کہ ظالموں کو ظلم کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا أَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِأَنْفُسِہِمْ إِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْا إِثْمًا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُہِیْنٌ)[ آل عمران : 178] ” کافر لوگ ہرگز یہ نہ سمجھ بیٹھیں ہم جو انہیں ڈھیل دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے ہم انہیں صرف اس لیے ڈھیل دیتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ گناہ کرلیں اور انہیں رسوا کن عذاب ہوگا۔ “ دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا : (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوْا بِمَا أُوتُوْا أَخَذْنَاہُمْ بَغْتَۃً فَإِذَا ہُمْ مُبْلِسُوْنَ )[ الانعام : 44] ” پھر جب انہوں نے وہ نصیحت بھلا دی جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر خوشحالی کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ اس میں مگن ہوگئے تو ہم نے یک دم ہی انہیں پکڑ لیا تو وہ ہر چیز سے مایوس ہوگئے۔ “ (إِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ۔ إِنَّہُ ہُوَ یُبْدِئُ وَیُعِیْدُ )[ البروج : 12۔ 13] ” یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ وہی پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب مؤخر ہونے پر کفار انبیاء (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول سے مذاق کرنے والوں کا انجام : 1۔ وہ چیز ان کو آہی گھیرے گی جس کی بنا پر یہ مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 8) 2۔ جب وہ ہماری نشانیاں دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفت : 14) 3۔ وہ تعجب کرتے ہیں اور مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفت : 12) 4۔ جب ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق کرتے تھے۔ (ہود : 38) 5۔ اور کافرلوگوں نے رسولوں سے باطل دلائل کے ساتھ جھگڑا کیا تاکہ وہ حق کو نیچا دکھائیں میری آیات اور تنبیہات کا مذاق اڑائیں۔ (الکہف : 56) 6۔ یہ جہنم ان کے کفر اختیار کرنے کا بدلا ہے وہ میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ (الکہف : 106)
Ayahs 11:9–10

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

” اور بلاشبہ اگر ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازیں پھر اسے اس سے چھین لیں تو یقیناً وہ انتہائی ناامید اور بےحد ناشکرا ہوتا ہے۔ “ (9)

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

” اور اگر ہم انسان کو کسی تکلیف کے بعد کوئی نعمت عنایت کریں تو یقیناً وہ کہے گا تمام تکلیفیں مجھ سے دور ہوگئیں بلاشبہ وہ بہت اترانے والابہت فخر کرنے والا ہے۔ “ (10)

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور قیامت کو بھول جاتے ہیں ان کی طبیعت میں ناشکری اور فخروغرور پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ایسے آدمی کو ہم اپنی رحمت سے بہرہ ور کریں اور اس کے بعد اپنے کرم کا ہاتھ پیچھے ہٹائیں تو وہ حوصلہ کرنے کی بجائے ناشکری کا اظہار کرتا ہے۔ اگر تکلیف کے بعد اسے راحت اور خوشی عطا کریں تو وہ یہ کہتے ہوئے فخروغرور کا مظاہرہ کرتا ہے کہ میرے دکھ دور ہوگئے۔ گویا کہ اسے نعمت عطا ہو تو ناشکری کی صورت میں اور اس کا دکھ دور ہوجائے تو فخروغرور کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔ اس طرح اللہ اور قیامت پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے نہ خوشی اسے اپنے رب کی طرف لاتی ہے اور نہ غم اسے اپنے رب کے قریب کرتا ہے۔ فخر اللہ تعالیٰ کی چادر ہے : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَقُوْلُ اللَّہُ سُبْحَانَہُ اَلْکِبْرِیَآءُ رِدَآءِیْ وَالْعَظَمَۃُ إِزَارِیْ مَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًا مِنْہُمَا أَلْقَیْتُہٗ فِیْ جَہَنَّمَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : باب البراء ۃ من الکبر التواضع ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تکبر میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے جو ان میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو جہنم میں پھینک دوں گا۔ “ شکرو کفر کا انجام : (وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَءِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ )[ ابراہیم : 7] ” اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ “ (اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ أَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ )[ الزمر : 10] ” صبر کروگے تو اس کا بےحدوحساب اجرپاؤ گے۔ “ مومن کا کردار : (عَنْ صُہَیْبٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہُ کُلُّہُ خَیْرٌ] ” حضرت صہیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کا معاملہ عجب ہے بیشک اس کے تمام کاموں میں بہتری ہے۔ مومن کے سوا ایسا کسی کے لیے نہیں ہے اگر مومن کو کوئی خوش کردینے والی چیز پہنچتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے پس یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی نعمت دینے کے بعد چھین لے تو انسان ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ 2۔ انسان کو تکلیف کے بعد آسائش آئے تو فخر کرنا شروع کردیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انسانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہوتی ہے : 1۔ اگر انسان کو اللہ رحمت دے کر چھین لے تو یہ مایوس اور ناشکرا ہوجاتا ہے۔ (ہود : 9) 2۔ اگر انسان پر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے مصیبت آجائے تو ناشکرا ہوجاتا ہے۔ (الشوریٰ : 48) 3۔ بیشک انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ (ابراہیم : 34) 4۔ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل : 100) 5۔ اللہ تعالیٰ انسانوں پر فضل فرماتا ہے لیکن ان کی اکثریت شکرادا نہیں کرتی۔ (یونس : 60)
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

” مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : کافر اور ناشکرگزار کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے تابعدار اور قیامت پر یقین رکھنے والوں کا کردار۔ پہلی آیات میں ” الانسان “ کے حوالے سے قیامت کے منکر اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والا کا ذکر ہوا۔ اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو اپنے رب پر سچا ایمان رکھتے ہوئے نیک اعمال اختیار کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے فخروغرور کے مقابلے میں صبر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا جامع معنی ہے کہ ” مصیبت کے وقت حوصلہ کرنا، خوشی اور کامیابی ملنے پر اپنے آپ پر قابو رکھنا “ دوسرے الفاظ میں صبر کا معنی ہے ” غم اور خوشی کے وقت شریعت کی مقرر کردہ حدود وقیود کا خیال رکھنا “ ایسے لوگوں سے بتقاضائے بشریت کوتاہی سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے ان کی کوتاہیوں کو معاف کرے گا اور اپنی رحمت سے اجر کبیر عنایت فرمائے گا۔ صبر و استقامت : صبر بےبسی اور بےکسی کا نام نہیں۔ صبر قوت برداشت ‘ قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں جرأت ‘ بہادری اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسائل و مصائب کا سامنا کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ آخرت میں بغیرحساب و کتاب کے جنت میں داخلہ نصیب ہوگا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رفاقت ودستگیری حاصل ہوگی۔ ہر قسم کے مسائل اور مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے سچ اور حقیقت پر قائم رہنے کا نام صبر و استقامت ہے۔ اس کے بغیر کسی شخص کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں ان سے نکلنے کے لیے روحانی اور الہامی طریقے اختیار کرنے کے ساتھ مادی وسائل اپنانے کا حکم ہے مگر جب تک پوری دلجمعی اور صبر و استقلال کے ساتھ اسباب کو استعمال اور ان کے اثرات و نتائج کا انتظا رنہ کیا جائے اس وقت تک مشکلات سے نکلنا ناممکن ہے۔ شریعت نے صبر و استقامت کو مشکلات سے نجات پانے کا اولین درجہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ جب تک آدمی مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے اسباب کو مستقل مزاجی اور حو صلے کے ساتھ اختیار نہیں کرے گا تو نہ صرف اس کی جسمانی اور روحانی تکلیف میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ اپنے جذبات اور عجلت پسندی کی وجہ سے دنیا وآخرت میں بہتر نتائج سے محروم رہے گا جو صبر و استقامت کے سبب اس کو حاصل ہونے والے تھے۔ اس لیے مشکلات اور آزمائش کے وقت صبر و استقامت سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ صبر و استقامت کی دعائیں : جب آدمی بیماری، پریشانی یا کسی مشکل اور غم میں مبتلا ہو تو اسے کثرت کے ساتھ یہ دعائیں پڑھنی چاہییں اللہ تعالیٰ اسے صبروحوصلہ دیتے ہوئے اس مصیبت سے نجات دے گا۔ (رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًاوَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ) [ الاعراف : 126] ” اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما اور مسلمانی کی حالت میں فوت کرنا۔ “ (رَبَّنَا أَفرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ ) [ البقرۃ : 250] ” اے اللہ ہمیں صبر و استقامت نصیب فرماتے ہوئے دشمن پر غلبہ نصیب فرما۔ “ مشکل میں صبر کرنے کا ثواب : (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ُ وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَا ےُصِےْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَّصَبٍ وَّلَا وَصَبٍ وَلَا ھَمِّ وَّلَا حُزْنٍ وَّلَا اَذًی وَّلَا غَمٍّ حَتَّی الشَّوْکَۃِ ےُشَاکُھَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ خَطَاے اہُ )[ رواہ البخاری : باب ماجاء فی کفارۃ المرض ] ” حضرت ابوہریرہ اور ابوسعید ؓ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بیان کرتے ہیں کوئی بھی مسلمان کسی طرح کی تھکاوٹ، درد، فکر، غم، تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہو یہاں تک کہ اس کو کانٹا بھی چبھے تو اس کو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ مصیبت کے وقت صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ 2۔ نیک اعمال کرنے والوں اور صابرلوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجرکبیر کا وعدہ کیا ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر کرنے والوں کا صلہ : 1۔ جو لوگ صبر اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور اجرعظیم ہے۔ (ہود : 11) 2۔ صبربڑے کاموں میں سے ہے۔ (الاحقاف : 35) 3۔ صبر کرنے والوں کا انجام بہترین ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5) 4۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 5۔ صبر کرنے والے کامیاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 6۔ صبر کرنے والے بغیرحساب کے جنت میں جائیں گے۔ (الزمر : 10)
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

” شاید آپ اس کا کچھ حصہ چھوڑدینے والے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کہ آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔ جو وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا ؟ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ “ (12)

فہم القرآن ربط کلام : صبر کا اجروثواب ذکر کرنے کے بعدرسول محترم ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا گیا ہے۔ جس میں بالواسطہ صبر کی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول محترم ﷺ بےپناہ اخلاص اور انتھک محنت کے ساتھ صبح وشام لوگوں کو سمجھاتے کہ جس راہ پر تم چلے جا رہے ہو یہ تمہیں تباہی کے گھاٹ اتار دے گا۔ لیکن لوگ سمجھنے کی بجائے آپ ﷺ کی ذات اقدس پر مختلف قسم کے الزامات اور آپ سے الٹے سیدھے مطالبات کرتے۔ ان مطالبات میں یہ مطالبے بھی تھے کہ تم کیسے رسول ہو کہ نہ تیری تائید اور حمایت کے لیے فرشتہ بھیجا گیا اور نہ ہی تجھے خوشحالی حاصل ہے۔ تیرے پاس تو کثیر مال ہونا چاہیے تھا۔ اس کے جواب میں ایک طرف رسول محترم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ اے نبی ! آپ کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا ہے کہ آپ انہیں ان کے برے اعمال کے انجام سے متنبہ فرمائیں۔ ہم نے آپ کو چوکیدار مقرر نہیں کیا۔ لہٰذا ! نہ آپ کو دل تنگ کرنا چاہیے اور نہ ہی وحی میں سے کچھ حصہ چھوڑنے کا خیال آنا چاہیے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ ایسا کرنے کے لیے سوچتے تھے۔ بلکہ اس سے آپ کے دل کی پریشانی اور غم بیان کرنا مقصود اور تسلی دینا مطلوب ہے، جس کا یہ بھی مفہوم ہے کہ کیا آپ ایسے الزامات اور اعتراضات سے پریشان ہو کر وحی کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اسی بات کا المائدۃ آیت 67 میں یوں حکم دیا : ” اے رسول جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا یقیناً اللہ انکار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ دوسری طرف کفار کو سمجھایا گیا کہ اگر ہم اپنے رسول کی تائید میں فرشتہ نازل کرتے۔ تو تمہارے انجام کا فیصلہ موقع پر ہی کردیا جاتا۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو بھی عرصہ دراز تک مہلت دیے رکھتا ہے۔ رسول محترم ﷺ کے مخالف کس قدر بےاصول اور سفلی مزاج تھے کہ وہ بیک موقع اور زبان ایک طرف یہ مطالبہ کرتے کہ آپ کی تائید میں ایک فرشتہ کی ڈیوٹی ہونی چاہیے تھی۔ دوسری طرف کبھی آپ ﷺ کو جادوگر قرار دیتے اور اسی زبان سے یہ الزام دیتے کہ آپ پر جادو ہوچکا ہے۔ ایسے بےاصول اور بدزبان لوگوں کے بارے میں آپ کو یہ کہہ کر تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے کی بجائے فقط اتناہی فرمائیں کہ میں رسول ہوں چوکیدار نہیں۔ مسائل 1۔ وحی میں سے کوئی بات چھوڑدینا آپ ﷺ کے اختیار میں نہ تھا۔ 2۔ کفار نبی مکرم ﷺ پر خزانہ اترنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ 3۔ کفار آپ کے ساتھ فرشتے کی تائید کا مطالبہ کرتے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر کارساز ہے۔ تفسیر بالقرآن نبی، مبلغ ہوتا ہے نہ کہ چوکیدار : 1۔ آپ ﷺ تو ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (ہود : 12) 2۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : 40) 3۔ رسولوں کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ (النحل : 35) 4۔ آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا گیا آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے۔ (الشوریٰ : 48) 5۔ (پیغمبروں نے کہا) ہمارے ذمہ دین کی تبلیغ کرنا ہے۔ (یٰس : 17) 6۔ آپ نصیحت کریں آپ کا کام بس نصیحت کرنا ہے، آپ کو کو توال نہیں بنایا گیا۔ (الغاشیۃ : 21۔ 22)
Ayahs 11:13–14

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

” یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن بنا لیا ہے ؟ فرما دیں پھر اس جیسی دس سورتیں بنا کرلے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہو بلا لو اگر تم سچے ہو۔ “ (13)

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

” پس اگر وہ آپ کی بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا تم حکم ماننے والے ہو ؟ “ (14)

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی مزید ہرزہ سرائی۔ رسول اللہ ﷺ کی مزید تسلی کے لیے کفار کو چیلنج کہ اس قرآن جیسی دس سورتیں بنالاؤ۔ انسان جب جان بوجھ کر ضد اور کفرکا راستہ اختیار کرلے۔ تو پھر اسے کسی دلیل سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ رسول معظم ﷺ کے مخالفوں کی یہی حالت تھی کہ وہ کسی صورت میں بھی آپ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن جب آپ ﷺ کی سیرت اور دلائل کے مقابلے میں لاجواب ہوجاتے تو پھر قرآن مجید کی تکذیب کرتے۔ اس میں بھی ان کا موقف تبدیل ہوتا رہتا تھا۔ ایک بار کہتے کہ یہ شخص اپنی طرف سے کلام بنا کر اللہ کے ذمہ لگاتا ہے۔ دوسری مرتبہ یہ کہتے کہ یہ روم کے فلاں شخص سے کلام سیکھ کر ہمارے سامنے قرآن کے نام سے پیش کرتا ہے۔ ان کے اس الزام کے جواب میں بالترتیب پانچ مرتبہ چیلنج دیا گیا۔ 1۔ اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا کے لائیں۔ (الطور : 34) 2۔ دس آیات بناکر پیش کرو۔ (ھود : 13) 3۔ کہہ دو اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنالاؤ۔ (یونس : 38) 4۔ پورا قرآن مجید نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آؤ۔ (البقرۃ : 23) اے گروہ کفار و مشرکین ! اس چیلنج کو قبول نہیں کرتے ہو تو جان جاؤ کہ اسے اس اللہ نے اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ جس کے سوا کوئی ایسا کلام نہیں بناسکتا کیونکہ وہی معبود برحق ہے ان سے پوچھو کہ کیا تم ماننے کے لیے تیارہو ؟ عیسائی ڈاکٹر کا اعتراف : فرانس کا مشہور مستشرق ڈاکٹر مارڈ ریس جس کو حکومت فرانس کی وزارت معارف نے قرآن حکیم کی باسٹھ سورتوں کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کرنے پر مامور کیا تھا اس نے اعتراف کیا : ” بیشک قرآن کا طرز بیان اللہ تعالیٰ کا طرز بیان ہے، بلاشبہ جن حقائق و معارف پر یہ کلام حاوی ہے وہ کلام الٰہی ہی ہوسکتا ہے، واقعہ یہ ہے کہ اس میں شک و شبہ کرنے والے بھی جب اس کی عظیم تاثیر کو دیکھتے ہیں تو تسلیم و اعتراف پر مجبور ہوجاتے ہیں، پچاس کروڑ مسلمان (اس تحریر کے وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی ہی تھی 2005 ء میں یہ تعداد سوا ارب سے زائد ہے) جو روئے زمین کے ہر حصہ پر پھیلے ہوئے ہیں ان میں قرآن کی خاص تاثیر کو دیکھ کر مسیح مشن میں کام کرنے والے بالا جماع اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ “ (فہم القرآن : جلد 1 ) مسائل 1۔ کفار رسول کریم ﷺ پر الزام لگاتے کہ آپ قرآن مجید خود بنا کرلے آتے ہیں۔ 2۔ دنیا والے قرآن مجید کی مثل لانے سے قاصر ہیں۔ 3۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کا چیلنج : 1۔ اس جیسی کوئی آیت لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ (الطور : 34) 2۔ جن اور انسان مل کر بھی اس جیسا قرآن نہیں لاسکتے۔ (بنی اسرائیل : 88) 3۔ آپ فرمادیں کہ اللہ کے سوا سبھی کو بلا لو اور دس سورتیں اس جیسی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ (ہود : 13) 4۔ اس جیسی کوئی ایک سورة بنا لاؤ۔ (یونس : 38) 5۔ قیامت تک قرآن کی مثل نہیں بنا سکتے۔ (البقرۃ : 23)
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

” جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتا ہے ہم انہیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ اسی دنیا میں دیں گے اور اس میں ان کے لیے کمی نہ کی جائے گی۔ “ (15) ”

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہوگیا جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا اور ضائع ہوگیا جو کچھ وہ کرتے رہے تھے۔ “ (16)

فہم القرآن ربط کلام : لوگ دنیا کے مفاد اور اس کی زیب وزینت کے لیے حقائق کو ٹھکراتے ہیں جس بنا پر دنیا کی حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص جس نیت کے ساتھ کسی کام کے لیے کوشش کرے گا اسے اس کی نیت اور کوشش کے مطابق صلہ دے گا۔ اگر کوئی آدمی صرف دنیا اور اس کی اچھی شہرت کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اسے دنیا میں نیک نامی مل جائے گی۔ اگر وہ دنیا اور آخرت کے لیے کوشاں ہے تو اسے دنیا کے ساتھ آخرت میں بھی اس کی کوشش سے کئی گنازیادہ صلہ دیا جائے گا۔ دونوں قسم کے لوگوں کے بدلہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہاں اسی اصول کو یوں بیان فرمایا ہے کہ جو شخص دنیا اور اس کی آسایش وزیبایش یعنی اس کی ترقی کے لیے کوشش کرے گا۔ اس کے صلہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ چناچہ مختلف مذاہب اوراقوام کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی اپنی قوم اور نظریہ کے لیے جس جس انداز میں محنت اور قربانیاں پیش کیں۔ اسی قدر ہی وہ لوگ اپنی اپنی قوم کے ہیرو ٹھہرے۔ جنہیں لوگ اپنے اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ گنگارام، میو اور لیڈی ولنگٹن نے لاہور میں ہسپتال بنائے۔ تو انہیں سرکاری خطاب دیا گیا اور آج تک لوگ انہیں اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ کبھی کسی نے برے الفاظ میں ان کا نام نہیں لیا۔ یہ شہرت اور نیک نامی اللہ تعالیٰ کے اسی اصول اور فرمان کا نتیجہ ہے کہ جو کوئی دنیا کے لیے اچھی کوشش کرے گا اس کی کوشش کے صلہ میں کوئی کمی نہیں رہنے دی جائے گی۔ اِلّا یہ کہ اس نے یہ کام اپنی قوم اور ملک کے لیے خلوص کے ساتھ کیا ہو۔ اس کے ساتھ وضاحت فرمادی کہ آخرت میں آگ کے سوا یہ کچھ نہیں پائیں گے۔ کیونکہ دنیا کی خاطرکوشش کرنے والا انسان آخرت کی جوابدہی پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس لیے انہیں آخرت میں آگ کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ انہوں نے دنیافانی کے لیے محنت کی دنیا بالآخر ختم ہوجائے گی۔ لہٰذا دنیا کے خاتمہ کے ساتھ ہی ان کے کارنامے اور ان کی شہرت ختم ہوجائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ آخرت کی جزا اور اللہ تعالیٰ کے مالک یوم الدین ہونے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے انھیں قیامت کے دن کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ عقیدہ آخرت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے عدل و انصاف کے ساتھ ہے۔ اس لیے آخرت کا منکر بیک وقت اسلام کے دو بنیادی عقائد کا انکار کرتا ہے۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللَّہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہٗ قَالَ لاَ یَنْفَعُہٗ إِنَّہُ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیْءَٓتِی یَوْمَ الدِّیْنِ ) [ رواہ مسلم : باب الدلیل علی ان من مات علی الکفر لاینفعہ عمل ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ عبداللہ بن جدعان جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا اس کے یہ اعمال اسے نفع دیں گے آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ اس نے کبھی یہ بات نہیں کہی تھی کہ اے اللہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف کردینا۔ “ مسائل 1۔ دنیا دار لوگوں کو دنیا میں ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کسی کے اجر میں کمی نہیں کرتا۔ 3۔ صرف دنیا کے خواہش مند کو آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ 4۔ کفار کے اعمال تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر اچھے کام کا صلہ دیتا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ ہر اچھے کام کا اچھاصلہ دیتا ہے۔ (النجم : 25) 2۔ ہم ان کے اعمال کی جزا پوری دیں گے اور کوئی کمی نہیں کریں گے۔ (ہود : 15) 3۔ اللہ ان کی نیکی کا صلہ اچھائی کی صورت میں دے گا۔ (النجم : 31) 4۔ جو نیک اعمال کرتے رہے ہیں اللہ ان کا بدلہ دے گا۔ (الزمر : 35) 5۔ اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کو جزا دے گا۔ (سبا : 4) 6۔ جو صبر کرتے رہے ہم ان کو بہترین صلہ عطا کریں گے۔ (النحل : 96)