11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsفہم القرآن

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

” اور نوح نے کہا اس میں سوار ہوجاؤ۔ اللہ کے نام کے ساتھ کشتی کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ “ (41)

فہم القرآن ربط کلام : طوفان نوح کی کیفیت اور اس کی ہولناکیاں، حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ بسم اللّٰہ مجرہا ومرسہا پڑھ کر کشتی میں سوار ہوجائیں اس بیڑے کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے حکم سے ہی ہوگا یقیناً وہ نہایت رحم فرمانے اور معاف کرنے والا ہے۔ دنیا میں یہ پہلا بحری بیڑا تھا۔ چپو اور انجن کے بغیر بےانتہا طوفان میں اپنی پوری سلامتی اور خیروبرکت کے ساتھ نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ جس میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر اس کے مومن ساتھی اور جانوروں کے دو ، دو جوڑے سوار تھے گویا کہ ایک دنیا بیڑے میں سوار کردی گئی۔ جوں ہی حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھی کشتی میں سوار ہوئے۔ تو یکدم پانی کے ریلے بڑے بڑے پہاڑوں کی شکل اختیار کرگئے۔ یہ ریلے اس قدر طاقتور اور تندوتیز تھے کہ جگہ جگہ پانی کے بھنور بننے لگے اور ہر لمحہ ان میں تلخی اور تیزی پیدا ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ پانی کی موجیں پہاڑوں کی مانند ایک دوسرے سے اوپر اٹھتیں اور ٹکراتیں۔ طوفان کے جوش و خروش سے یوں خوفناک آوازیں بلند ہوئیں کہ لوگوں کے کلیجے دہل گئے اور موجیں پہاڑوں کی بلندیوں سے ٹکرانے لگیں، اس خطرناک اور ہولناک صورت حال میں اللہ کا عظیم پیغمبر اور اس کے مخلص ساتھی اپنے رب کے حضور سرفگندہ ہوئے اس کا شکرادا کرتے ہوئے اس سے رحمت اور بخشش کی دعائیں کر رہے تھے۔ سواری پر سوار ہونے کی دعائیں : (وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْہَا بِسْمِ اللَّہِ مَجْرٖہَا وَمُرْسَاہَا إِنَّ رَبِّی لَغَفُوْرٌ رَحِیْمٌ )[ ھود : 41] ” اور نوح نے کہا تم اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے یقیناً میرا رب معاف فرمانے اور مہربانی کرنے والا ہے۔ “ (وَقُلْ رَبِّ أَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُبَارَکًا وَأَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ )[ المومنون : 29] ” اور کہیے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتارنا اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔ “ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ اِذَا اسْتَوٰی عَلٰی بَعِےْرِہٖ خَارِجًا اِلَی السَّفَرِ کَبَّرَ ثَلٰثًا ثُمَّ قَالَ (سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِےْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَاالْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَےْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِلَنَا بُعْدَہُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِےْفَۃُ فِی الْاَھْلِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَآء السَّفَرِ وَکَآبَّۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالاَھْلِ ) وَاِذَا رَجَعَ قَالَ ھُنَّ وَزَادَ فِےْھِنَّ (اآءِبُوْنَ تَآءِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ ) [ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَکِبَ إِلَی سَفَرٍ ا لْحَجِّ وَغَیْرِہِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سفر پر روانہ ہوتے وقت جب اپنے اونٹ پر بیٹھتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے ” پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے مسخر کردیا۔ حالانکہ ہم اس پر قابو پانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ بارالٰہا ! ہم اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور ایسے عمل کی آرزو کرتے ہیں جس میں تیری رضا ہو۔ اے ہمارے معبود ! ہمارے اس سفرکو آسان بنا دے۔ اس کی دوری کو سمیٹ دے۔ بارِ الٰہا ! تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور اہل و عیال کی حفاظت فرمانے والا ہے۔ بارِالٰہا ! میں سفر کی مشقتوں، غمناک منظر اور اپنے اہل و عیال اور مال میں پریشان حالت میں واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ “ جب واپس آتے تو ان کلمات کا اضافہ فرماتے۔” ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے خالق ومالک کی حمدوثنا کے گن گانے والے ہیں۔ “ مسائل 1۔ دعا پڑھ کر سواری پر سوار ہونا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہیکشتیوں کو چلانے اور بچانے والا ہے۔ 3۔ کشتیوں کو ٹھہرانے والی اللہ کی ذات ہے۔ 4۔ اللہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن سواری پر بیٹھنے کی دعا : 1۔ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے، میرا رب بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (ہود : 41) 2۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ( اسے ہمارے) تابع کردیا۔ ہم تو اسے قابو کرنے کے قابل نہ تھے اور ہم نے اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ (الزخرف : 13۔ 14)
Ayahs 11:42–43

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

” اور کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلی جارہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک الگ جگہ میں تھا۔ اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو۔ “ (42)

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

” اس نے کہا میں جلد ہی کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں۔ مگر جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی تو وہ غرق ہونے والوں میں سے ہوگیا۔ “ (43)

فہم القرآن ربط کلام : کشتی کا پانی کی موجوں کے ساتھ چلنا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنے بیٹے کو سمجھانا۔ کشتی پانی کے ساتھ رواں ہوئی تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے دور کھڑے اپنے لخت جگر کو آخری بار سمجھایا کہ میرے پیارے بیٹے ! کلمہ پڑھو اور کشتی پر سوار ہوجاؤ۔ کفار کے ساتھی نہ بنو۔ لیکن گستاخ بیٹے نے بیزاری کے ساتھ کہا کہ مجھے آپ کے بیڑے کی ضرورت نہیں۔ پانی زیادہ ہوا تو میں پہاڑ پر چڑھ کر جان بچا لوں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت کے ساتھ سمجھایا کہ بیٹا آج اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ لیکن نافرمان بیٹے نے بوڑھے باپ کی شفقت اور خیرخواہی کا جواب گستاخانہ اور مشرکانہ انداز میں دیا۔ نہیں پہاڑ مجھے بچائے گا۔ باپ اور بیٹے کے درمیان گفتگو جاری تھی کہ پانی کی تندو تیز موج نے بیٹے کو آلیا اور وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے سامنے ان کا بیٹا ڈبکیاں لیتے ہوئے طوفان کی نظر ہوا۔ ہر کوئی اللہ کے رحم کا محتاج ہے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ بھی اللہ کی رحمت کے محتاج ہیں : (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَنْ یُّنْجِیَ اَحَدًا مِّنْکُمْ عَمَلُہُ قَالُوْا وَلَا اَنْتَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَلَا اَنَا اِلَّا اَن یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ بِرَحْمَتِہٖ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاغْدُوْا وَرُوْحُوْ ا وَشَیْءٌ مِّنَ الدُّلْجَۃِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوْا )[ رواہ البخاری : باب تمنی المریض الموت ] آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں۔ مگر جس پر وہ رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی تو وہ غرق ہونے والوں میں سے ہوگیا۔ “ (43) ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو بھی اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا۔ صحابہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ کو بھی ؟ فرمایا ! مجھے بھی میرے عمل نہیں بچا سکتا الاَّ یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے دامن میں ڈھانپ لے۔ سو تم صحیح راستے پر چلو ‘ اللہ تعالیٰ کی قربت اختیار کرو ‘ صبح وشام اور رات کے کچھ حصہ میں نیک عمل کرو لیکن میانہ روی اختیار کرومنزل مقصود پالو گے۔ “ ہمیشہ اللہ کی رحمت کا طلب گار رہنا چاہیے : (اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلاَ تَکِلْنِیْ إِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَّأَصْلِحْ لِی شَأْنِیْ کُلَّہُ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ) [ رواہ ابو داؤد : باب مایقول اذا اصبح ] ” اے اللہ میں تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا اور میرے تمام معاملات درست فرما دے تیرے علاوہ کوئی الٰہ نہیں۔ “ مسائل 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر جو سیلاب آیا اس کی موجیں پہاڑوں کی مانند تھیں۔ 2۔ کفار عذاب الٰہی کے وقت بھی مادی وسائل پر نگاہ رکھتے ہیں۔ 3۔ جسے اللہ غرق کرنا چاہے اسے کوئی نہیں بچاسکتا۔ 4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا ان کے سامنے غر قاب ہوگیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں : 1۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو فرمایا کہ آج کے دن اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ (ھود : 43) 2۔ کافروں کے چہروں پر ذلت و رسوائی چھا جائے گی اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ (یونس : 27) 3۔ اس دن تم پیٹھیں پھیر کر بھاگو گے لیکن تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔ (المومن : 33)
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

” اور حکم دیا گیا اے زمین ! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جاؤ۔ پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی جودی پہاڑ پر جاٹھہری اور کہا گیا ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔ “ (44)

فہم القرآن ربط کلام : طوفان کا تھمنا اور کشتی کا ٹھہرنا۔ مؤرخین اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سیلاب چالیس دن تک رہا۔ جس کی کیفیت یہ تھی کہ پانی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی سے بھی بیس فٹ اونچا بہتا رہا۔ علاقہ میں کوئی چیز زندہ نہ بچی گویا کہ زمین کو اچھی طرح شرک و کفر کی غلاظت سے دھودیا گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے حکم صادر فرمایا کہ : اے زمین پانی کو پی جا اور آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جاؤ۔ اس طرح ظالم قوم کا صفایا ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی۔ جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرۂ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب واقع ہے۔ بائبل میں اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ ارارا ط بتائی گئی ہے جو آرمینیا کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو ایک سلسلہ کوہستان کا نام بھی ہے۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھہرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے۔ چناچہ حضرت مسیح سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بریاسس (Berasus) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی تاریخ لکھی ہے اس میں وہ کشتی نوح کے ٹھہرنے کا مقام جودی ہی بتاتا ہے۔ ارسطو کا شاگرد ابیڈینوس (Abydenus) بھی اپنی تاریخ میں اس کی تصدیق کرتا ہے۔ نیز وہ اپنے زمانہ کا حال بیان کرتا ہے کہ عراق میں بہت سے لوگوں کے پاس اس کشتی کے ٹکڑے محفوظ ہیں جنہیں وہ گھول گھول کر بیماروں کو پلاتے ہیں۔ یہ طوفان، جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی۔ یہ ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا (پیدائش 7: 18۔ 24) مگر قرآن میں یہ بات نہیں کہی گئی۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں جو طوفان نوح سے بچا لیے گئے تھے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت تک بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود رہی ہو جہاں طوفان آیا تھا، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ دجلہ و فرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے۔ دوسری یہ کہ روئے زمین کی اکثر و بیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں۔ حتی کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیو گنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباء و اجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا اور پھر جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ پھیل گئیں۔ (تفہیم القرآن، ج : 2) بُعداً کا لغوی معنی ہے ہلاک ہونا۔ مرجانا۔ دور ہونا۔ اصطلاحاً اللہ کی رحمت سے دور ہونا مسائل 1۔ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ 2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔ 3۔ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکار دیئے جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ظالم دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمت سے دور ہوتے ہیں : 1۔ ظلم کرنے والے لوگ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔ (ھود : 44) 2۔ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (القصص : 50) 3۔ ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (الشوریٰ : 21) 4۔ بیشک اللہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔ (الشوریٰ : 40) 5۔ ظالم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ یہی ان کا بدلہ ہے۔ (الحشر : 17) 6۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔ (آل عمران : 140) 7۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (المائدۃ : 72)
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

” اور نوح نے اپنے رب کو پکارا، کہا اے میرے رب ! بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ “ (45)

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

” فرمایا اے نوح ! بلا شک تیرا بیٹا تیرے گھر والوں سے نہیں۔ بیشک اس کا عمل صالح نہیں پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرنا جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بیشک میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔ “ (46) ”

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

اس نے کہا اے رب ! بیشک میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں تجھ سے اس بات کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ اور اگر تو نے مجھے معاف نہ اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں نقصان پانے والوں سے ہوجاؤں گا۔ “ (47)

فہم القرآن ربط کلام : بیٹے کی غرقابی کے وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےساختہ اللہ تعالیٰ سے فریاد۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو بار بار سمجھایا کہ جان پدر کلمہ پڑھو اور کفار کا ساتھ چھوڑ کر میرے ساتھ ہم رکاب ہوجاؤ۔ لیکن بیٹے نے عظیم باپ کی ایک نہ مانی اور پانی میں ڈبکیاں لیتے ہوئے جان دے دی۔ جب یہ کربناک منظر بوڑھے باپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو پدرانہ شفقت جوش میں آئی اور بےساختہ اپنے رب کی بارگاہ میں فریاد کناں ہوئے کہ اے میرے رب آپ نے ازراہ کرم میرے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ میں آپ کے اہل کو بچالوں گا۔ آپ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوا کرتا ہے اور وعدہ پورا کرنے پر آپ ہر اعتبار سے قادر ہیں۔ کیونکہ آپ حاکموں کے حاکم اور آپ کا حکم ہی غالب آیا کرتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پرجلال انداز میں فرمایا کہ اے نوح ! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں کیونکہ اس کا عقیدہ اور اعمال اچھے نہیں۔ میں تجھے کو نصیحت کرتا ہوں اب کے بعد میرے حضور یہ درخواست نہ کرنا۔ ورنہ تم جاہلوں میں شمار کیے جاؤگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنتے ہی نوح (علیہ السلام) کانپ اٹھے اور اپنے رب کے حضور نہایت عاجزانہ انداز میں استدعا کی کہ میرے رب ! میں آپ کی حفظ وامان چاہتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ میں آئندہ ہرگز ایسا سوال نہیں کروں گا جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو۔ بس مجھے معاف کیجیے مجھ پر رحم فرمائیے۔ اگر آپ نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں نقصان پانے والوں میں ہوں گا۔ اس فرمان میں چارباتیں عیاں ہوتی ہیں۔ 1۔ پیغمبر بھی مشرک اور کافر کے بارے میں بخشش کی دعا نہیں کرسکتا خواہ وہ اس کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ 2۔ پیغمبر کسی کو بچانا چاہے بھی تو نہیں بچاسکتا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کسی کو نہ بچائے۔ 3۔ پیغمبر اللہ تعالیٰ کے حکم کا سب سے زیادہ پابند ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے طے شدہ ضابطے کے خلاف بات نہیں کرسکتا۔ بیشک اسے پہلے سے اس ضابطے کا علم نہ ہو۔ 4۔ پیغمبر سے انجانے میں لغزش ہوجائے تو بھی اپنے رب سے استغفار کرتا اور پناہ مانگتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی دعا : (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّمَا لَمْ اَعْمَلْ ) [ رواہ مسلم : باب التعوذ من شرما عمل ] ” حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ” اے اللہ ! میں اپنے کردہ اور ناکردہ اعمال کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ “ مومنوں کی دعا : (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ )[ البقرۃ : 286] ” اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ کرنا۔ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو، ہم سے درگزر فرما اور ہمیں معاف فرما دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرما۔ ‘ ‘ مسائل 1۔ انبیاء ( علیہ السلام) ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے تھے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ تمام حاکموں کا حاکم ہے۔ 4۔ صالح عمل کرنے والے لوگ ہی انبیاء (علیہ السلام) کے اہل ہوتے ہیں۔ 5۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہر بات کا علم نہ تھا۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے انبیاء (علیہ السلام) بھی دم نہیں مارسکتے۔ 7۔ بےعلمی میں اگر کوئی بات سرزد ہوجائے تو پھر بھی اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہیے۔ 8۔ جسے اللہ معاف نہ کرے اور رحم نہ فرمائے وہ خائب و خاسر ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا فرمان اور وعدہ سچا ہوتا ہے : 1۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ حاکموں کا حاکم ہے۔ (ھود : 45) 2۔ اللہ کا فرمان سچ ہے۔ (الاحزاب : 4) 3۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (القصص : 13) 4۔ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ (الروم : 6) 5۔ صبر کرو اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (الروم : 60) 6۔ اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ (فاطر : 5) 7۔ اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے بات کرنے میں کون زیادہ سچا ہوسکتا ہے ؟ (النساء : 122) 8۔ خبردار اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یونس : 55) 9۔ قیامت کے دن شیطان کہے گا یقیناً اللہ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا (ابراہیم : 22) 10۔ وہ کہیں گے پاک ہے ہمارا رب یقیناً اسکا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : 108)
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

” کہا گیا اے نوح ! ہماری طرف سے سلامتی اور برکات کے ساتھ اتر جاؤ۔ تجھ پر اور ان جماعتوں پر جو ان لوگوں سے ہوں گی جو تیرے ساتھ ہیں۔ اور جماعتیں ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔ “ (48)

فہم القرآن ربط کلام : عذاب کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا کشتی سے سلامت اترنا اور ان کے لیے برکات کے دروازے کھلنا۔ بارش تھم جانے اور زمین کے خشک ہونے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اے نوح ! آپ اور آپ کے ساتھی زمین پر اتر جائیں۔ ہماری طرف سے آپ اور آپ کے متبعین پر سلامتی اور برکات کا نزول ہوگا۔ جو لوگ کفرو شرک کا راستہ اختیار کریں گے، ہم انہیں دنیا میں اسباب و وسائل دیں گے پھر آخرت میں انہیں اذیّت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ دنیا کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بنیادی اصول ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور اس کے تقاضے پورے کریں انہیں دنیا کی ترقی سے سرفراز کیا جائے گا۔ اس کے لیے قرآن مجید ” یُمَتِّعْکُمْ مَتَاعًا حَسَنًا “ یعنی انہیں متاع حسنہ سے نوازا جاتا ہے۔ حسنۃ کا لفظ جب دنیا کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا معنی ہے کہ دنیا کی ایسی ترقی جو انسان کو خوشحالی کے ساتھ ساتھ عزت دے۔ اور حسنۃ کا لفظ جب آخرت کے بارے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا معنی ہے وہ نیکی اور بھلائی جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردے۔ مسائل 1۔ انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں پر اللہ کی طرف سے سلامتی اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ 2۔ کفر کرنے والوں کو عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم پس صبر کرو یقیناً متقی لوگوں کا انجام بہتر ہے۔ “ (49)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے ذکر کے بعد نبی کریم ﷺ کو تکالیف پر صبر کرنے کا حکم۔ قرآن مجید مختلف الفاظ اور انداز میں موقع بہ موقع یہ وضاحت کرتا ہے کہ رسول کا مقام، حدود کار اور اس کے علم کی کیا حقیقت ہے۔ کفار اور مشرک انبیاء کو الجھانے اور لوگوں کو ورغلانے کے لیے یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ اسے تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا یا اس کے پاس خدا کی خدائی میں سے کچھ اختیار ہونے چاہییں تھے۔ اسی بنا پر وہ رسول معظم ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ آپ کے پاس دنیا کے خزانے ہونے چاہییں۔ ” فرما دیجیے میں اپنے نفع نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو لوگوں کو ڈرانے اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔ (الاعراف : 188) ” فرما دیجئے میں تو اپنے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے جب وہ آجاتا ہے تو اس میں کمی بیشی نہیں کی جاتی۔ “ (یونس : 49) کفار اور مشرک رسول معظم ﷺ کو الجھانے اور لوگوں کو ورغلانے کے لیے یہ باتیں کیا کرتے تھے۔ جس کی قرآن مجید متعدد مقامات پر نفی کرتا ہے۔ لیکن افسوس آج کے کچھ مسلمان انہی باتوں کو رسول محترم ﷺ کی محبت کے دائرہ میں لاکر آپ کے ذمہ لگاتے ہیں کہ آپ ﷺ مختار کل تھے۔ یعنی ہر چیز پر اختیار رکھنے والے تھے اور غیب کی باتیں جاننے والے تھے۔ پھر اس کی تقسیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کو ذاتی نہیں عطائی اختیار اور غیب کا علم تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان اطہر سے یہ بات کہلوائی ہے کہ اے نبی ﷺ آپ خود اعلان فرمائیں۔” کہ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ “ (الاعراف : 188) جبکہ قرآن مجید بار بار اس بات کی نفی کرتا ہے کہ نبی ہو یا ولی، ملائکہ ہوں یا جنات کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ غیب سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے بھی کوئی چیز غیب یا پوشیدہ ہے۔ جب غیب کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد ملائکہ، جنات اور انسان ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ میرے لیے غیب اور ظاہر دونوں برابر ہیں۔ سورة الرعد آیت : 10 یہاں کھلے الفاظ میں آپ اور آپ کی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے بتلایا جارہا ہے کہ اے رسول ! تم اور تمہاری قوم، نوح کے زمانے میں موجود تھے اور نہ ہی تم نے قوم نوح کا براہ راست خوفناک انجام دیکھا۔ یہ تو ہم آپ کے سامنے یہ واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ آپ صبرو شکر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔ اگر آپ کے مخالف اپنے عقیدہ اور طرز زندگی سے باز نہ آئے تو ان کا انجام قوم نوح سے مختلف نہیں ہوگا۔ لہٰذا حوصلہ قائم رکھیں اور یاد رکھیں کہ انجام کار متقین کے حق میں ہوگا۔ ضیاء القرآن کے مفسرکا اعتراف : اگرچہ نوح (علیہ السلام) کے نام سے لوگ آگاہ تھے اور ان کے احوال کی بھی کچھ کچھ انہیں خبر تھی۔ لیکن وہ سب وہم و گمان کے تراشیدہ افسانے تھے۔ حقیقت حال سے کوئی واقف نہ تھا۔ اے میرے نبی ! تمہیں بھی ان کے صحیح حالات کا علم نہ تھا اور تیری قوم بھی جاہل اور اَن پڑھ تھی۔ اس غیب کو ہم نے آپ پر بذریعہ وحی کے ذریعہ منکشف فرمایا۔ (ضیاء القرآن، جلد : 2، ص 366) مسائل 1۔ غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 2۔ انبیاء (علیہ السلام) کو اسی چیز کا علم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے۔ 3۔ مصائب و پریشانی میں صبر کرنا چاہیے۔ 4۔ پرہیزگاروں کا بہتر انجام ہوگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : 1۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ (ھود : 49) 2۔ اللہ آسمان و زمین کے غائب کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 33) 3۔ اللہ کے پاس ہی غیب کی چابیاں ہیں۔ (الانعام : 59) 4۔ نبی کریم غیب نہیں جانتے تھے۔ (الانعام : 50) 5۔ اللہ حاضر اور غائب کو جاننے والا ہے۔ (الانعام : 73)
Ayahs 11:50–51

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم تو محض جھوٹ باندھنے والے ہو۔ “ (50) ”

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم ! میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے ؟ “ (51)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا سب سے بڑا جرم اللہ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔ قوم عاد شرک کے گھناؤنے جرم کے ساتھ کمزور لوگوں پر ظلم ستم کرنے والے تھے۔ یہ قوم تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اپنے زمانے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی۔ بڑے لینڈ لارڈ، باغات کے مالک اور پہاڑ تراش تراش کر عظیم الشان گھر تیار کرتے تھے۔ (الشعراء : 128 تا 134) ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قدو قامت کے لحاظ سے دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں پیدا کیا گیا۔ سورة الفجر : 8 حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور کمزوروں پر ظلم کرنے سے باز آجاؤ۔ اے میری قوم ! میں اس کام کے بدلے تم سے کسی قسم کی ستائش اور صلہ نہیں چاہتا۔ میرا صلہ اس ذات کبریا کے پاس ہے۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ میری مخالفت کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچو ! کہ اس دعوت میں میرا کیا مفاد اور تمہارا نقصان کیا ہے ؟ میں تمہیں لوگوں پر ظلم کرنے اور غیر اللہ کی عبادت کرنے سے روکتا ہوں۔ جن کو تم بلاتے اور پکارتے ہو۔ وہ تو اللہ کے سوا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ جو تم ان کے بارے میں دعوے کرتے ہو اس کی کوئی بنیاد نہیں یہ سراسر جھوٹ اور بناوٹی باتیں ہیں۔ کیا تم سوچنے کے لیے تیار ہو ؟ یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ عقیدہ کا فرق ہونے کے باوجود حضرت ھود (علیہ السلام) اور آگے چل کر حضرت صالح، حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی اقوام کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ یہ انبیاء اکرام (علیہ السلام) اپنی اپنی قوم میں سے تھے۔ یہاں اہل مکہ کو احساس دلایا گیا ہے۔ کہ جس طرح ان انبیاء کی اقوام نے اپنے انبیاء کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور برا انجام دیکھا۔ اے اہل مکہ تم بھی دیکھ لو کہ یہ نبی جو رشتہ کے اعتبار سے تمہارا بھائی لگتا ہے اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہو۔ یاد رکھو تمہارا انجام قوم ثمود اور قوم صالح سے مختلف نہ ہوگا۔ دوسرا سوال یہ ابھرتا ہے کہ حضرت ھود، حضرت نوح اور دیگر انبیاء ( علیہ السلام) نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعارف کیوں نہیں کرایا۔ اس کی وجہ امام رازی یہ کہہ کر بیان کرتے ہیں کیونکہ تمام اقوام اللہ کو اللہ یعنی اپنا خالق، مالک، رازق مانتے تھے۔ لیکن ایک الٰہ نہیں مانتے تھے۔ جس بنا پر انبیاء ( علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اس بات سے کیا ہے۔ جس کا وہ انکار کرتے تھے اس کے بعد امام موصوف لکھتے ہیں کہ میں ترکی اور ہند میں گیا اور وہاں دیکھا کہ یہاں کے لوگ اللہ کو ایک ماننے کے باوجود بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ یہی حالت عاد، ثمودو قوم مدین کی تھی۔ تفصیل جاننے کے لیے سورة الاعراف کے 16 رکوع کی تفسیر دیکھیں۔ مسائل 1۔ قوم عاد کی طرف ھود (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ 2۔ ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت : 1۔ حضرت ھودنے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ (ھود : 50) 2۔ حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک رب کی عبادت کرنے کا حکم دیا۔ (ھود : 61) 3۔ حضرت شعیب نے فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سواتمہارا کوئی معبود نہیں۔ (ھود : 84) 4۔ حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو فرمایا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ (العنکبوت : 16) 5۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے اسی کی عبادت کرو۔ (مریم : 36) 6۔ ہم نے ہر جماعت میں رسول بھیجے انہوں نے لوگوں کو کہا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ (النحل : 36)
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

” اور اے میری قوم ! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ۔ وہ تم پر بادل بھیجے گا۔ جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہیں تمہاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرموں کی طرح رو گر دانی نہ کرو۔ “ (52)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا قوم سے خطاب جاری ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے اپنی قوم کو یہ حکم بھی دیا کہ اے میری قوم ! اپنے رب سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ کے لیے کفرو شرک اور ظلم و زیادتی سے باز آجاؤ۔ تمہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہونے کے ساتھ دنیا میں اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کی بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں اور زیادہ اضافہ کرے گا۔ ان باتوں کا انکار کرکے مجرم نہ بنو۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کے خطاب سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے کا فائدہ صرف آخرت میں ہی نہیں ہوگا بلکہ انبیاء کی دعوت قبول کرنے سے دنیا کی خوشحالی اور ترقی بھی حاصل ہوتی ہے۔ ترقی کے لیے جو چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں وہ اسباب کی فراوانی اور جسمانی صحت کا بہترین ہونا ہیں۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ماضی کے گناہوں پر استغفار اور کفرو شرک اور ظلم سے بچنے پر اپنی قوم کو دونوں قسم کی ضمانتیں دی تھیں۔ اس سورت کی پہلی اور دوسری آیت میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو یہی ضمانت دی ہے کہ لوگو ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو میں اس کی طرف سے تمہارے لیے نذیر اور بشیر بنایا گیا ہوں۔ اپنے رب کے حضور توبہ و استغفار کرو۔ وہ تمہیں دنیا میں بہترین اسباب اور اپنے فضل وکرم سے نوازے گا۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نفاذ دین سے تنگی اور مشکلات پیدا ہونے کی بجائے ہر قسم کی فراوانی اور خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے : (وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الْقُرٰی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَأَخَذْنَاہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ )[ الاعراف : 96] ” اگر لوگ سچا ایمان لائیں۔ کفرو شرک اور جرائم سے بچیں۔ تو ہم زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیں گے۔ “ ایک حد نافذ کرنے کی برکات : (عَنِ ابِنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِنْ حُدُود اللَّہِ خَیْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فِی بلاَدِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الحد ود، باب اقامۃ الحد ود ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو قائم کرنا۔ زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔ 2۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ رہنا چاہیے۔ 3۔ استغفار کی برکت سے اللہ تعالیٰ بارشیں نازل فرماتا ہے۔ 4۔ استغفار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن توبہ و استغفار کی اہمیت اور فوائد : 1۔ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو، اسی کی طرف متوجہ رہو۔ وہ تم پر بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا۔ (ھود : 52) 2۔ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والوں کو عذاب نہیں دیتا۔ (الانفال : 33) 3۔ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور اسی کی طرف متوجہ رہو۔ اللہ تمہیں اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔ (ھود : 3) 4۔ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ بیشک اللہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (المزمل : 20) 5۔ اللہ سے معافی طلب کرو اور اسی کی طرف متوجہ رہو۔ بیشک میرا رب نرمی کرنے اور شفقت کرنے والا ہے۔ (ھود : 90) 6۔ اللہ سے مغفرت طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ (نوح : 10) 7۔ اگر تم توبہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ (التوبۃ : 30)
Ayahs 11:53–54

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اے ہود ! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے پر ہرگز چھوڑنے والے نہیں اور نہ کسی طرح تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔ “ (53) ”

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے مصیبت میں مبتلا کردیا ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ بیشک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔ “ (54)

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کا ردعمل۔ غور فرمائیں کہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور توبہ و استغفار کی دعوت دی۔ لیکن قوم نے اس کا کس قدر الٹا جواب دیا۔ قوم کہنے لگی کہ اے ھود ! تو ہمارے پاس ٹھوس اور واضح دلائل نہیں لایا۔ تیری بےبنیاد باتوں پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت کی وجہ سے کچھ معبودوں کی تجھ پر مار پڑگئی ہے۔ جس کی وجہ سے تو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا تم جو کچھ چاہو کہو۔ لیکن میں اس بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ سچ اور حق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور حاجت روا، مشکل کشا نہیں۔ گواہ رہو کہ جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو میں ان سے نفرت اور برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ مجھے تمہارے معبودوں نے کچھ کردیا ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ میں تمہیں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اور تمہارے الٰہ اکٹھے ہو کر جو اقدام میرے خلاف کرنا چاہتے ہو کرو۔ میں تم سے ایک لمحہ بھی مہلت مانگنے کے تیار نہیں ہوں۔ یاد رہے کہ یہ بھی مشرکین کی شروع سے عادت ہے کہ وہ اپنے باطل عقیدہ کو سچ ثابت کرنے کے لیے نہ صرف اپنے معبودوں کے متعلق جھوٹے دعوے اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ بلکہ وہ توحید کی دعوت دینے والوں کو یہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ اگر تم نے ہمارے حاجت روا اور مشکل کشاؤں کی توہین جاری رکھی تو وہ تمہارا قلع قمع کردیں گے۔ اگر کسی مواحد کو کوئی ناگہانی مشکل آن پڑے یا کوئی نقصان ہوجائے تو مشرکین یہ کہنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ ہمارے بزرگوں کا کیا دھرا ہے۔ ایسا ہی دعویٰ حضرت ھود (علیہ السلام) کے مخالفوں نے کیا تھا حالانکہ ہر دور میں یہ مثالیں موجود رہی ہیں کہ مشرکین جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں وہ اپنے اور کسی دوسرے کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ مسائل 1۔ قوم عاد نے نبی کے سمجھانے کے باوجود معبود ان باطل کو نہ چھوڑا۔ 2۔ حضرت ھود (علیہ السلام) پر ان کی قوم ایمان نہ لائی۔ 3۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم سمجھتی تھی کہ حضرت ھود (علیہ السلام) کو ان کے دیوتاؤں نے مشکل میں مبتلا کیا ہے۔ 4۔ انبیاء ( علیہ السلام) کا ہمیشہ اللہ کی ذات پر بھروسہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء (علیہ السلام) کا اپنی اقوام کو چیلنج : 1۔ حضرت ھود نے اپنی قوم سے کہا اللہ کے علاوہ تم سارے کے سارے جو کرسکتے ہو میرے خلاف کرگزرو۔ (ھود : 55) 2۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارو نہ وہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ (یونس : 106) 3۔ اللہ کے سوا کوئی ذرہ بھر بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے۔ (الانبیاء : 66) 4۔ اے نبی ! اعلان کردیں کہ میں اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں۔ (الاعراف : 188) 5۔ کیا تم ایسوں کو معبود مانتے ہو جو تمہارے نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : 16) 6۔ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (المائدۃ : 76)
Ayah 11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

” اس کے سوا۔ پھر تم سب میرے خلاف تد بیر کرلو پھر مجھے مہلت نہ دو “ (55)

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب جاری ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے نہ معلوم کتنی مدت تک قوم کو سمجھایا ہوگا۔ لیکن قوم نے ان کی دعوت کو نہصرف کوئی حیثیت نہ دی تھی بلکہ کہنے لگے کہ تیری بہکی بہکی باتیں کرنے کا سبب یہ ہے کہ ہمارے مدفون بزرگوں کی تم پر مار پڑی ہے لہٰذا ہمیں سمجھائے یا نہ سمجھائے ہم تجھ پر ہرگز ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں یہ چیلنج دیا کہ تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرلو۔ میرا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ میرا بھروسہ اس ذات پر ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ وہ اتنا بااختیار اور طاقتور ہے کہ ہر جاندار کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور میرا رب صراط مستقیم پر ہے۔ یعنی اس کا ہر حکم اور فیصلہ ہر اعتبار سے صحیح اور عدل پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی بےانصافی اور ٹیڑھا پن نہیں ہوتا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے یہاں اللہ کی دو صفات کا ذکر کیا ہے۔ 1۔ ” اللہ “ میرا اور تمہارا رب ہے۔ (رب کا معنی : پیدا کرنے والا، روزی دینے والا، مالک، سردار، نگران، منتظم ) 2۔ اتنا طاقتور ہے کہ ہر جاندار کی پیشانی اس کے قبضہ میں ہے۔ یہ ہر زبان میں محاورہ بھی ہے اور ایک حقیقت بھی۔ جب کسی کی طاقت کا اعتراف اور اپنی وفاداری جتلانا مقصود ہو تو آدمی کہتا ہے کہ میرے سر کے بال تیرے ہاتھ میں ہیں۔ میری پیشانی تیرے سامنے جھکی ہوئی ہے یعنی میں تیرا غلام مہمل ہوں۔ دوسرا ان کے فرمان کا مقصد یہ ہوسکتا ہے۔ کہ ہر کسی کی جان اللہ کے اختیار میں ہے۔ کیوں کہ مرتے وقت آدمی کی جان اس کے چہرے کی جانب سے نکلتی ہے۔ اس لیے انہوں نے پیشانی کا نام لیا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوتی : 1۔ اللہ کے علاوہ تم سارے میرے ساتھ تدابیر کرلو اور مجھے مہلت نہ دو ۔ (ھود : 55) 2۔ کہہ دیجیے ! تم اپنے شرکاء کو بلالو اور پھر تدابیر کرلو اور مجھ مہلت نہ دو ۔ (الاعراف : 195) 3۔ اللہ کفار کی تدابیر کو ناکام و نامراد کرنے والا ہے۔ (الانفال : 18) 4۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تدبیر کی۔ اللہ نے انہیں خائب و خاسر کردیا۔ (الانبیاء : 70)
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

” بیشک میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ کوئی چلنے والا جاندار نہیں مگر اسکی پیشانی اس کے قبضے میں ہے۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔ “ (56) ”

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تیسرا جواب۔ قوم نے جب کھلے الفاظ میں بار بار یہ کہا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور تمہاری دعوت کو دعوت حق سمجھنے کی بجائے اپنے بزرگوں کی بددعا اور ان کی سزا کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ تو حضرت ھود (علیہ السلام) نے یکے بعد تین جواب دئیے۔ 1۔ میں اللہ اور تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا تمہارے شرک کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ 2۔ میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرگزرو۔ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے، وہی میری حفاظت کرے گا۔ 3۔ اگر تم نے واقعی مجھ سے دور رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو یاد رکھو میں نے اپنے رب کا پیغام ٹھیک ٹھیک طریقہ سے پہنچا دیا ہے۔ لیکن یاد رکھنا اب تم زیادہ دیر تک زمین پر نہیں رہ سکو گے۔ میرا رب تمہیں مٹا کر کوئی دوسری قوم تمہاری جگہ لائے گا، تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے۔ یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے یہاں اللہ تعالیٰ کی صفت ” حَفِیْظٌ“ استعمال کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی طاقت سے باہر نہیں بیشک تم دنیاوی وسائل، افرادی قوت اور جسمانی طاقت کے اعتبار سے ساری دنیا سے بڑھ کر ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلے میں تمہارا کوئی بس نہیں
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم پھر جاؤ تو بلاشبہ میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا۔ جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمہارے سوا کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز پر پوری طرح نگہبان ہے۔ “ (57)

چلے گا۔ کیونکہ جب وہ اپنے حفظ وامان کا ہاتھ پیچھے ہٹا لیتا ہے تو پھر کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی۔ عنِ الْمُغِےْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ (لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ ) (متفق علیہ) ” حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ذکر کرتے ہیں نبی کریم ﷺ فرض نماز کے بعد اکثر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے۔ ” صرف ایک اللہ ہی معبود حق ہے اس کا کسی لحاظ سے کوئی شریک نہیں اس کی حکمرانی ہے ‘ وہی تعریفات کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ الٰہی جسے تو کوئی چیز عنایت فرمائے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ تیری کبریائی کے مقابلے میں کسی بڑے کی بڑائی فائدہ نہیں دے سکتی۔ “ مسائل 1۔ انبیاء (علیہ السلام) کسی کے گناہوں کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ 2۔ انبیاء (علیہ السلام) کا کام اللہ تعالیٰ کے پیغام پہچانا ہوتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لے آتا ہے۔ 4۔ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ 5۔ اللہ ہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے : 1۔ بیشک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : 57) 4۔ اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (الشوریٰ : 6) 2۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : 21) 3۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : 102) 5۔ اللہ پر توکل کرو، اللہ بہترین کارساز ہے۔ (الاحزاب : 3)
Ayahs 11:58–60

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

” جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ اپنی رحمت کے ساتھ نجات دی اور انہیں ایک سخت عذاب سے بچا لیا۔ “ (58) ”

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ عاد تھے جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جابر، سخت عناد والے کے حکم کی پیروی کی۔ “ (59) ”

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سن لو ! بیشک عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سن لو ! ہود کی قوم عاد کے لیے ہلاکت ہے۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : قوم ھود کا انجام۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اس قوم کا انجام ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ان میں رسول بھیجا۔ جس نے انہیں فرمایا کہ ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ لیکن قوم کے سرداروں نے اس بات کا انکار کیا اور آخرت کو جھٹلایا۔ مال دار طبقے نے کہا یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے۔ جو تم کھاتے پیتے ہو یہ بھی وہی کچھ کھاتا پیتا ہے۔ سردار اپنے اپنے قبیلوں کو کہنے لگے کہ اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی پیروی کی تو یاد رکھو تم بڑا نقصان پاؤ گے۔ ھود تمہیں یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ تم مر کر بوسیدہ ہڈیوں اور مٹی میں تبدیل ہوجاؤ گے۔ پھر اللہ تمہیں زندہ کرے گا۔ یہ بات ہمارے لیے بڑی ہی تعجب کا باعث ہے۔ حالانکہ ہم ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے یہ شخص اللہ پر جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے حضرت ھود کی نافرمانی کی اور ہر ظالم، جابر کے پیچھے لگے رہے اور صاف صاف کہا کہ اے ھود ہم تجھ پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اس پر حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنے رب سے عرض کی کہ میرے رب انہوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلادیا ہے۔ میری مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ اے ھود ! اب یہ لوگ تھوڑی ہی مدت کے بعد پچھتائیں گے۔ چناچہ انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دھماکے نے آلیا اور جس نے ظالموں کو خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا۔ ( المومنون : 32 تا 41) اس طرح قوم ھودتباہ ہوئی اور دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کی مستحق قرار پائی۔ آخرت میں ہر صورت انھیں عذاب ہوگا۔ لیکن دنیا میں عذاب سے دو چار ہوئے اور قیامت تک ان کا اچھے طریقے سے نام لیوا کوئی نہ ہوگا۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کے تابعداروں کو عذاب سے بچالیا۔ 2۔ قوم عاد نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ 3۔ قوم عاد نے اللہ کے رسول کی نافرمانی کی۔ 4۔ قوم عاد ظالموں اور سرکشوں کے پیچھے لگتی تھی۔ تفسیر بالقرآن حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب : 1۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المومنون : 39) 2۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : 7) 3۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : 24) 4۔ آندھی نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : 7) 5۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : 41۔ 42) 6۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ (حٰم السجدۃ : 16) 7۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : 72) 8۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : 58)
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

” اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی سچا معبود نہیں۔ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں آباد کیا۔ سو اس سے بخشش مانگو، اس کیطرف پلٹ آؤ۔ یقیناً میرا رب بہت جلد توبہ قبول کرنے والا ہے۔ “ (61)

فہم القرآن ربط کلام : قوم ھود کے بعد قوم ثمود کو دنیا کی فراوانی عطا کی گئی۔ مگر انہوں نے بھی قوم عاد کا رویہ اختیار کیا۔ قوم ثمود دنیا کی ترقی میں یدطولیٰ رکھتی تھی۔ یہ قوم اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے میں بڑے بڑے محلات بنا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ان کے بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز وہیں سے کیا جہاں سے حضرت نوح اور حضرت ھود ( علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عبادت کا جامع مفہوم یہ ہے کہ آدمی اپنے فکر و عمل کو پوری طرح اللہ کے حکم کے تابع کردے۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی عبادت کا حکم دیا جا رہا ہے، جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور پھر تمہیں اس میں آباد کیا۔ لیکن تم اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی غلامی کی بجائے بغاوت پر اتر آئے ہو۔ تمہیں سابقہ گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے آئندہ کے لیے سچی توبہ کرنی چاہیے۔ یقین کرو کہ میرا رب ہر انسان کے قریب ہے اور سچے دل سے توبہ کرنے والے کی جلدہی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنے خطاب میں ” ھو انشاکم فی الارض “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر انسان یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس مٹی سے انسان کی خوراک کا بندوست کیا اور زمینی وسائل کی بنیاد پر ہی انسان نشوونما پاتا ہے۔ بالآخر اسی زمین میں اس نے دفن ہونا ہے اور دوبارہ اسی سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس خطاب میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے قریب تر ہے اور اس کی عبادت اور توبہ و استغفار کو قبول کرتا ہے۔ قوم ثمود نے قوم نوح اور قوم ھود کی طرح اپنے بزرگوں کے مجسمے بنا رکھے تھے اور ان کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ نہ صرف اس طرح اللہ کی عبادت کرنے میں لذت آتی ہے بلکہ ان کی ارواح ہماری فریادیں سن کر اللہ کے حضور پہنچاتی ہیں۔ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ طریقہ کے ساتھ انہیں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان سچے دل سے توبہ و استغفار کرتے ہوئے براہ راست ایک اللہ کی عبادت کرے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یَا أَیُّہَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللَّہِ فَإِنِّی أَتُوْبُ فِی الْیَوْمِ إِلَیْہِ ماءَۃَ مَرَّۃٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، باب اسْتِحْبَاب الاِسْتِغْفَارِ وَالاِسْتِکْثَارِ مِنْہُ ] ” حضرت ابن عمر ؓ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو۔ بلاشبہ میں ہر روز سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ “ مسائل 1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ 3۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے معبود ان باطل کی نفی کی۔ 5۔ اللہ تعالیٰ بندے کے قریب تر ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور اس سے بخشش طلب کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ بندے کے قریب تر ہے : 1۔ میرا پروردگار قریب ہے اور قبول کرنے والا ہے۔ (ھود : 61) 2۔ جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بتادیں بیشک میں قریب ہوں۔ (البقرۃ : 186) 3۔ ہم ان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ (ق : 16) 4۔ ہم تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں۔ (الواقعۃ : 85) 5۔ آدمی جہاں کہیں ہو اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (الحدید : 4) 6۔ آدمی تین ہوں تو چوتھا ان کے ساتھ اللہ ہوتا ہے۔ پانچ ہوں تو چھٹا اللہ ہوتا ہے اس سے زیادہ ہوں یا کم ” اللہ “ ہر وقت آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ (المجادلۃ : 7)
Ayahs 11:62–63

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

” انہوں نے کہا اے صالح ! یقیناً تو ہم میں سے وہ تھا جس کے بارے میں اس سے پہلے امیدیں لگائیں گئیں تھیں۔ کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم ان کی عبادت نہ کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اور بیشک ہم اس بات کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے یقیناً ایک اضطراب میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ “ (62) ”

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

اس نے کہا اے میری قوم ! کیا تم نے دیکھا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی جناب سے رحمت عطا کی کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کرے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ پھر نقصان پہنچانے کے سوا تم کیا مجھے زیادہ دو گے۔ “ (63)

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت صالح (علیہ السلام) سے مکالمہ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنے پیغمبر جلوہ گر فرمائے ہیں وہ حسن و جمال، سیرت اور لیاقت کے اعتبار سے بچپن میں ہی اپنی قوم میں منفرد اور ممتاز ہوا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں ہر حوالے سے ممتاز اور منفرد تھے۔ اس بنا پر قوم ان کے بارے میں بڑی توقعات رکھتی تھی۔ لیکن حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب انہیں ان کے طریقہ عبادت سے منع کیا اور فرمایا کہ تم بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے بلاواسطہ اس کی عبادت کرو اور براہ راست اس سے مانگا کرو۔ قوم نے اس سیدھے اور صحیح طریقے کو اپنانے کی بجائے ان سے کہا کہ ہمیں تو تجھ پر بڑی توقعات اور اعتماد تھا کہ تم ہم میں اتحاد کی علامت اور ہماری دینی اور دنیوی ترقی کا ذریعہ بنو گے۔ لیکن تو نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور ہماری توقعات کے خلاف طرز عمل اختیار کرلیا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ عبادت کو چھوڑ دیں۔ ہمیں تو تیری دعوت اور عقیدہ کے بارے میں تردُّد ہے۔ اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں اس دعوت کے بارے میں کسی تردد اور شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میرے رب نے مجھ پر کرم فرما کر مجھے اپنا رسول منتخب کیا ہے اور میں تمہیں اپنے رب کی طرف سے ٹھوس اور واضح دلائل کے ساتھی یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔ لیکن قوم نے صحیح طریقہ سے عبادت اپنانے کی بجائے حضرت صالح (علیہ السلام) پر ہر طرف سے دباؤ ڈالا کہ تمہیں اس دعوت سے دستکش ہوجانا چاہیے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس دباؤ کے جواب میں فرمایا کہ اگر میں دعوت توحید کو چھوڑ دوں تو یہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوگی۔ بلکہ تم مجھے ناقابل تلافی نقصان میں ڈال دو گے۔ اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا ؟ قوم ثمودنے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی جب انہیں صالح (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں میں تمہارے لیے ایک امین رسول ہوں لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں تم سے اس کام کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے۔ کیا تم اسی طرح چھوڑ دیے جاؤ گے ان باغات، چشموں، کھیتوں، اور کھجوروں میں جن کے خوشے بہت ملائم ہیں اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے گزرنے والوں کی اطاعت نہ کرو جو ملک میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح کا کام نہیں کرتے۔ کفار کے پاس حضرت صالح (علیہ السلام) کے دلائل کے مقابلہ میں اس کے سوا کوئی بات نہ تھی کہ ہم اپنے والدین کے طرز زندگی اور طریقہ عبادت کو تیرے کہنے پر کس طرح چھوڑ سکتے ہیں۔ دراصل یہی وہ بہانہ ہے جس کو لوگ مختلف الفاظ میں بزرگوں کے نام پر پیش کرتے آرہے ہیں جس کو مذہبی لوگ آئمہ کی تقلید کا نام دیتے ہیں۔ جس کا قرآن مجید نے ایک موقعہ پر یہ جواب دیا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تم اس بات کی اتباع کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے۔ یہ کہتے ہیں ہم تو اس طریقہ پر چلیں گے جس پہ اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔ اگرچہ ان کے آباؤ اجداد دین کے بارے میں سمجھ اور ہدایت نہ رکھنے والے ہوں۔ تب بھی یہ ان کے راستے پر چلتے رہیں گے ؟ مسائل 1۔ معبودان باطل کی عبادت سے روکنا مشرکین کو ناگوار گزرتا ہے۔ 2۔ انبیاء (علیہ السلام) اللہ کے سوا کسی کو مددگار نہیں سمجھتے تھے۔ 3۔ انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلائل لے کر آتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ تفسیر بالقرآن تقلید آباء پر اصرار : 1۔ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباء کرتے رہے ہیں۔ (ھود : 61) 2۔ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں ہمارے آباء و اجداد کافی ہیں۔ (المائدۃ : 104) 3۔ جب قرآن کی طرف بلایا جاتا ہے کہتے ہیں ہم اپنے آباء کی پیروی کریں گے۔ (لقمان : 21) 4۔ جب انہیں قرآن کی پیروی کے لیے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں باپ دادا کافی ہیں۔ (البقرۃ : 170)