Ayahs 11:94–95فہم القرآن
ربط کلام : قوم مدین جرائم سے تائب ہونے کی بجائے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کرتی ہے۔
قوم مدین نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو کلی طور پر ٹھکراتے ہوئے نہ صرف انہیں ان کی گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں بلکہ یہ بھی بار بار مطالبہ کیا کہ اگر تو اپنے وعدہ میں سچا ہے تو آسمان کا کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دو ۔ اس کے نتیجہ میں قوم مدین پر بیک وقت آسمان اور زمین سے عذاب نازل ہوا۔ جس کی کیفیت مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات دن تک اس علاقہ کی ہوا کو جامد کردیا۔ سورج کی گرمی اور حبس نے ان لوگوں کو ہلکان کردیا۔ دن کو سکون اور نہ ہی رات کو نیند، جس کی وجہ سے ان کے جسم اکڑ گئے۔ ہوا کی کمی اور گرمی کی شدت کی وجہ سے ان کے لیے سانس لینا اس طرح مشکل ہوگیا۔ جس طرح تپ دق یا دل کا مریض آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کھینچ کھینچ کر سانس لیتا ہے۔ بسا اوقات اس طرح سانس لینے سے اس کے سینے کی ہڈیوں سے آوازیں نکلتی ہیں۔ قوم شعیب اس کربناک عذاب سے دوچار کی گئی۔ اس صورت حال میں ساتویں دن آسمان پر کالے بادل آئے اور ان لوگوں نے سمجھا کہ بارش ہونے والی ہے۔ گرمی کی شدت اور حبس کی گھٹن کی وجہ سے لوگ بادلوں کے سائے تلے جمع ہوئے۔ تو آسمان سے کان پھاڑ دینے والی گرج اور زمین سے کلیجہ ہلا دینے والا زلزلہ آیا۔ گویا کہ انہیں اوپر نیچے سے دبوچ لیا گیا۔ اس طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) کا فرمان حرف بحرف سچ ثابت ہوا۔ اور ان کی قوم تباہ و برباد کردی گئی۔ انھیں اس طرح ہی رحمت خداوندی سے دور کردیا گیا جس طرح قوم ثمود کو اللہ تعالیٰ نے دھتکار دیا تھا۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو انتباہ :
(وَإِنِّیْ أَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیْطٍ )[ ھود : 84]
” یقیناً مجھے ڈر ہے تم پر ایسا عذاب آئے گا جو تمہیں ہر طرف سے گھیر لے گا۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور مومنوں کو نجات عطا فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ظالم بچ نہیں سکتے۔
3۔ مدین والوں کا نام و نشان مٹ گیا۔
4۔ مدین والے اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔
تفسیر بالقرآن
قوم مدین کے جرائم :
1۔ قوم مدین شرک جیسے سنگین جرم میں ملوث تھی۔ (ھود : 84)
2۔ ناپ تول میں کمی و بیشی کرنے والے لوگ تھے۔ (ھود : 85)
3۔ ڈاکو اور راہ زن تھے۔ (الاعراف : 85)
4۔ ایمانداروں کو کفر کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ (الاعراف : 89)
5۔ حضرت شعیب پر جھوٹا ہونے کا الزام لگایا۔ ( الشعراء : 186)
6۔ حضرت شعیب کو سحر زدہ قرار دیا۔ ( الشعراء : 185)
7۔ حضرت شعیب کی پیروی کو نقصان کا باعث قرار دیا۔ (الاعراف : 90)
8۔ حضرت شعیب کی نماز کو ان کے لیے طعنہ بنایا۔ ( ھود : 87)
9۔ شعیب (علیہ السلام) کی مخالفت برائے مخالفت کرتے تھے۔ ( ھود : 89)
10۔ شعیب (علیہ السلام) کو سنگسار کرنے کی دھمکیاں دیں۔ (ھود : 91)
Ayahs 11:96–97فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم اور دوسری اقوام کا انجام بیان کرنے کے بعد حضرت موسیٰ کی قوم کا کردار اور انجام کا مختصر بیان۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی کئی اعتبار سے نبی اکرم ﷺ اور آپ کی قوم کے ساتھ مماثلت پائی جاتی ہے۔ جس کی ابتدا موقعہ کی مناسبت سے یوں فرمائی کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل اور کھلے معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے لیڈروں کی طرف بھیجا۔ کیونکہ فرعون کی قوم اس کے ہر کام کی پیروی کرتی تھی۔ جبکہ فرعون کا کوئی کام بھی اچھا نہ تھا ” الرشید “ کا معنیٰ ہے نیک یا اچھا کام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو عظیم معجزوں سے نوازا۔ عصا پھینکتے تو اللہ کے حکم سے بہت بڑا اژدھا بن جاتا۔ اپنا دایاں ہاتھ بغل میں دبا کر باہر نکالتے تو وہ اس قدر چمکتا ہوا دکھائی دیتا کہ سورج کی روشنی بھی اس کے سامنے ماند پڑجاتی اور موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کی آزادی اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل دیتے تو فرعون اور اس کے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہوجاتیں۔ وہ دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے الزامات لگانے کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے مظالم جب حد سے گزر گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آل فرعون پر یکے بعد دیگرے پانچ عذاب مسلط کیے۔ زبردست سیلاب، ہر جگہ ٹڈیوں کے دَل کے دَل، جوئیں، مینڈکوں کی بہتات اور ہر چیز کا خون سے بھرجانا۔ فرعون اور اس کے ساتھی ہر عذاب کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے ایمان لانے کے وعدہ پر فریاد کرتے لیکن جب موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں عذاب ٹل جاتا تو پھر پہلے سے زیادہ مظالم ڈھاتے۔ اور فرعون کی تابع داری میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے۔ جس کے بارے میں قرآن مجید واضح انداز میں بتلاتا ہے کہ فرعون اس قدر ظالم اور نافرمان ہوچکا تھا کہ اس کے کسی حکم اور کام میں خیرباقی نہ رہی۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا۔ 2۔ فرعون کا کوئی کام درست نہ تھا۔
Ayahs 11:98–99فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح فرعون اپنی قوم کا دنیا میں لیڈر بنا ہوا تھا اسی طرح ہی آخرت میں جہنم جاتے وقت ان کے آگے آگے ہوگا۔
قرآن مجید اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں کسی جماعت یا قوم کو گمراہ کرنے کا سبب بنتے ہیں اگر یہ سچی توبہ کے بغیر مرجائیں تو قیامت کے دن اپنے گمراہ کردہ ساتھیوں کے ساتھ اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ اسی صورتحال کا فرعون اور اہل فرعون کو سامنا کرنا پڑے گا۔ چناچہ جب آل فرعون کو جہنم کی طرف جانے کا حکم ہوگا تو وہ فرعون کی قیادت میں جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے۔
قرآن مجید کے مفہوم سے یہ بات اخذ ہوتی ہے جب فرعون اور اس کی قوم کو جہنم جانے کا حکم ہوگا تو ابتدا کسی اچھی امید کے ساتھ وہ خراماں خراماں فرعون کے پیچھے دوڑتے ہوئے جائیں گے لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب انہیں جہنم کی دہکتی ہوئی آگ نظر آئے گی۔ تو ایک دوسرے پر لعنت اور پھٹکار کریں گے۔ اس طرح ان کا جہنم میں داخل ہونا بد ترین انداز میں ہوگا۔ جس کے لیے قرآن مجید میں (الرِّفْدُالْمَرْفُوْدُ ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن کا معنی عربی ڈکشنری کے لحاظ سے ہے سہارا۔ گویا کہ جو دنیا میں ایک دوسرے کا سہارا بنے ہوئے تھے وہ سہارا بدترین ثابت ہوگا جس کی وجہ سے لیڈر اور ان کے پیروکار ایک دوسرے کو جہنم میں داخل کرنے کا سبب ثابت ہوں گے۔
لیڈر کا کردار اور انجام :
(عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ ) [ رواہ مسلم : باب تحریم الغدر ]
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا، جو اس کی عہد شکنی کے بقدر بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا قَالَ لَا إِیمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ احمد ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا جو بندہ امانت دار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن فرعون کو اس کے لشکر سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
2۔ جہنم بدترین ٹھکانہ ہے۔ 3۔ فرعونیوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنمیوں کا ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا :
1۔ دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کو بھی لگی رہے گی (ھود : 99)
2۔ دنیا میں بھی ان پر لعنت ہے اور قیامت کو بھی۔ (ھود : 60)
3۔ اے ہمارے پروردگار ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو لعنت سے دوچار فرما۔ (الاحزاب : 68)
4۔ قیامت والے دن بعض بعض کا انکار کریں گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔ (العنکبوت : 25)
5۔ اللہ کی کافروں پر لعنت ہے اور اللہ نے ان کے لیے جہنم کو بھڑکا یا ہے۔ (الاحزاب : 64)
Ayahs 11:100–103فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کا انجام بتلانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کی دنیا میں بھی تباہی دیکھی جاسکتی ہے۔
یہ وہ بستیاں ہیں جن میں کچھ کے نشانات اور کھنڈرات باقی ہیں۔ کچھ ہیں جن کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے یہ جس حالت میں بھی ہیں ہم نے انکے رہنے والوں پر ظلم نہیں کیا یہ تو خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ جب ہمارے عتاب کا کوڑا برساتو جن کو اللہ کے سوا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا کرتے تھے۔ کسی ایک نے انکی مددنہ کی بلکہ یہ انکی بربادی میں اضافہ کا باعث بنے۔ مجرموں کی تباہی میں اضافہ بننے کے دو مفہوم ہیں۔ جن بتوں اور مزارات پر مریدوں کا بھروسہ تھا کہ مشکل آنے پر ہماری مدد کرینگے انہوں نے نہ انکی مدد کی اور نہ وہ کرسکتے تھے۔ بلکہ ان سے مشکل کشائی کا عقیدہ رکھنے والے آخر دم تک اس عقیدہ سے توبہ نہ کرسکے۔ اس طرح ان کے مشکل کشا ان کی تباہی میں اضافہ کا سبب ثابت ہوئے۔ دوسرا ” غَیْرَتَتْبِیْبٍ “ کا معنی ہے کہ جن لیڈروں اور غلط پیروں کے پیچھے لگے ہوئے وہ فائدے کی بجائے اپنی اور مریدوں کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ اے نبی ﷺ ! تیرے رب کی پکڑ جب کسی بستی پر نازل ہوتی ہے تو وہ بڑی شدید ہوا کرتی ہے۔ اس میں عبرت کا بڑا سامان ہوتا ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت کی فکر کرتے ہیں جس دن تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا ہر کسی پر گواہ لائے جائیں گے۔ یہ گواہ مجرم کے اپنے اعضاء، موقعہ واردات اور اس کے اعمال نامہ کے ساتھ وہ لوگ ہوں گے۔ جو کسی نہ کسی حوالے سے اس کی بداعمالیوں کو جانتے ہوں گے۔ یہاں تک کہ جس زمین پر گناہ کیا ہوگا وہ بھی گواہی دے گی۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرم کے بارے میں شہادتیں :
1۔ اس دن تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ حاضری کا دن ہوگا۔ (ھود : 103)
2۔ افترا پردازی کرنے والوں کے خلاف شہادتیں پیش کی جائیں گی۔ (ھود : 18)
3۔ قیامت کے دن مجرم کے منہ پر مہر لگادی جائے گی ہاتھ اور پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ ( یٰس : 65)
4۔ قیامت کے روز ہاتھ، پاؤں اور زبان مجرم کے خلاف شہادت دیں گے۔ ( النور : 24)
5۔ قیامت کے دن مجرم کے خلاف اس کے کان، آنکھیں اور جسم گواہی دے گا۔ (حٰم السجدۃ : 20)
6۔ ان کا حساب کتاب لکھا ہوا ہے اور فرشتے ان پر گواہی دیں گے۔ (المطففین : 20۔ 21)
7۔ مجرم کہیں گے ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔ (الانعام : 130)
Ayahs 11:104–105فہم القرآن
ربط کلام : جس دن تمام کے تمام لوگ حاضر ہوں گے اور ان پر گواہ پیش کیے جائیں گے۔ اس دن کا پہلا قانون یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی بات نہ کر پائے گا۔
قیامت کے دن تمام کے تمام لوگ رب زوالجلال کی عدالت میں دست بستہ پیش کیے جائینگے۔ وہ دن اتنا بھاری اور خوفناک ہوگا۔ کہ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔ سب لوگوں کی حالت یوں ہوگی جیسے کسی نے انہیں نشہ پلارکھا ہو۔ یہ حالت کسی نشہ کی وجہ سے نہیں بلکہ رب ذوالجلال کے جلال اور خوف کی وجہ سے ہوگی۔ ( الحج : 2) حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ دم بخودقطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ کوئی نبی، ولی اور فرشتہ۔ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے کی جرأت نہیں کرپائے گا۔ سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائیں گے اور وہ بھی وہی بات کرپائے گا جس کے کہنے کی اسے اجازت ہوگی۔ یہ دن آکے رہے گا یہ انسان کی مرضی پر ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف جانے کے راستہ کو اختیار کرے (النساء : 38۔ 39) دنیا میں لوگوں نے اپنے امتیاز ات قائم کر رکھے ہیں۔ ایک گورا ہے دوسرا کالا ہے، کوئی سیّد اور کوئی راجپوت، ایک امیر ہے دوسرا غریب، ایک حکمران ہے اور دوسرا محکوم علیٰ ہذا القیاس۔ قیامت کے دن صرف دو طبقے ہوں گے۔ ایک نیک اور دوسرا بد۔ جنہیں قرآن مجید شقی اور سعید کے لقب سے پکارتا ہے ان میں سے کوئی بھی اللہ جل جلالہ کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرسکے گا یہاں تک کہ سروردوعالم ﷺ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکیں گے۔ آپسفارش کرنے کے لیے پہلے اپنے رب کی بارگاہ میں طویل سجدہ کریں گے نہ معلوم وہ سجدہ کس قدر طویل ہوگا۔ آپ کا ارشاد ہے کہ میں اپنے رب کی وہ تعریف کروں گا جو اسی وقت مجھے القا کی جائے گی۔ یوں آپ کو اجازت مرحمت فرمائی جائے گی۔
قیامت کے دن آپ ﷺ کے سفارش کرنے کا انداز :
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایمان دار لوگوں کو روک لیا جائے گا ‘ یہاں تک کہ وہ اس وجہ سے پریشان ہو کر کہیں گے کہ کاش ! ہم کسی کو اپنے پروردگار کی خدمت میں سفارشی پیش کریں تاکہ وہ ہمیں اس سے نجات دلائے چناچہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے ‘ کہ آپ آدم ہیں اور سب کے باپ ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا ‘ آپ کو جنت میں ٹھہرایا ‘ ملائکہ سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام بتائے۔ آپ اپنے پروردگار کے حضور ہمارے لیے سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے حضرت آدم (علیہ السلام) کہیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ہے وہ عذر پیش کرتے ہوئے اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جو انہوں نے ممنوعہ درخت سے تناول کرکے کی تھی جب کہ انہیں اس کے قریب جانے سے روکا گیا تھا۔ وہ فرمائیں گے کہ تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ ! وہ پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبی بناکر بھیجا۔ چناچہ وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے۔ وہ جواب دیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ہے اور وہ اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے۔ انہوں نے اپنے پروردگار سے اپنے بیٹے کے بارے میں علم کے بغیرسوال کیا تھا۔ وہ فرمائیں گے کہ تم ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ۔ آپ نے فرمایا ‘ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے تو وہ جواب دیں گے ‘ کہ میری یہ شان نہیں ہے اور وہ اپنے تین مرتبہ جھوٹ بولنے کا ذکر کریں گے ‘ جو ان کی زبان سے نکلے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ ‘ وہ ایسے بندے ہیں ‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے تورات عطا کی اور اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوئے اور ان سے قریب ہو کے سرگوشی فرمائی آپ ﷺ نے فرمایا تب لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے تو وہ جواب دیں گے کہ میرا یہ مقام نہیں ہے۔ وہ اپنی اس غلطی کا تذکرہ کریں گے جو ایک شخص کو قتل کرنے کی صورت میں ان سے سرزد ہوئی تھی تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ‘ اس کے رسول ہیں ‘ روح اللہ ہیں ‘ اور اس کے کلمہ ہیں ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ‘ تب لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کریں گے ‘ کہ میرا یہ مرتبہ نہیں ہے۔ تم حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں جاؤ ! وہ ایسے بندے ہیں جن کے اللہ تعالیٰ نے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ‘ چناچہ لوگ میرے پاس آئیں گے ‘ میں اپنے رب سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا چناچہ مجھے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجازت دے دی جائے گی جب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا پس اللہ تعالیٰ مجھے سجدے میں پڑا رہنے دیں گے جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : محمد ! سر اٹھاؤ اور کہو آپ کی بات کو سنا جائے گا اور سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی اور مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا آپ نے فرمایا چناچہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں اپنے رب کی پھر حمد و ثنا بیان کروں گا ‘ اس کے بعد میں سفارش کروں گا ‘ چناچہ میرے لیے ایک حد مقرر کردی جائے گی۔ میں واپس آؤں گا اور میں انہیں دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا پھر میں دوسری مرتبہ جاؤں گا اور اپنے رب سے اس کی بار گاہ میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں گا حاضری کی اجازت عطا کی جائے گی۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو میں سجدے میں گر پڑوں گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ سجدے میں رہنے دیں گے ‘ جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے محمد ! سر اٹھائیں اور عرض کریں ‘ آپ کی بات سنی جائے گی اور سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی اور سوال کریں آپ کا سوال پورا کیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں اپنے رب کی حمد وثناء بیان کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھلائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا ‘ تو میرے لیے ایک حد مقرر کردی جائے گی ‘ تو میں بارگاہ عزت سے باہر آؤں گا اور میں لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا پھر میں تیسری مرتبہ آؤں گا اور اپنے رب سے اس کی بار گاہ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اس میں حاضری کی اجازت عطا کی جائے گی جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو میں سجدہ ریز ہوجاؤں گا پس مجھے اللہ تعالیٰ سجدے میں رہنے دیں گے ‘ جب تک اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ وہ مجھے سجدے میں رہنے دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ‘ اے محمد ! سر اٹھائیں اور بات کریں ‘ آپ کی بات سنی جائے گی اور سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی اور سوال کریں آپ کا سوال پورا کیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں اپنے رب کی حمد وثناء بیان کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھلائے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کردی جائے گی تو میں بارگاہ رب العزت سے باہر آؤں گا اور میں دوزخیوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ یہاں تک کہ دوزخ میں صرف وہی لوگ رہ جائیں گے ‘ جن کو قرآن نے روک رکھا ہوگا ‘ یعنی ان کے لیے دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ثابت ہوچکا ہوگا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” عنقریب آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر فائز کرے گا اور یہی وہ مقام ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی سے وعدہ کر رکھا ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وُجُوہٌ یَوْمَءِذٍ نَاضِرَۃٌ إِلَی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ )]
مسائل
1۔ قیامت کا دن مقرر ہے۔ 2۔ قیامت کے دن اللہ کے حکم کے بغیر کوئی بول نہیں سکے گا۔ 3۔ محشر میں نیک و بد کو جمع کیا جائیگا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بول نہیں سکے گا :
1۔ اس دن اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرسکے گا۔ (ھود : 105)
2۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہ کرسکے گا۔ ( البقرۃ : 255)
3۔ قیامت کے دن اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرسکے گا۔ (النباء : 38)
Ayahs 11:106–107فہم القرآن
ربط کلام : شقی یعنی بدعقیدہ اور برے اعمال والے لوگوں کا انجام۔
یہ بات پہلے بھی عرض کی ہے کہ قرآن مجید کا مستقل یہ اسلوب ہے کہ وہ نیک اور بد، اچھے اور برے، جنت اور جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے والاشخص بیک وقت اور برمحل فیصلہ کرسکے کہ اسے کونسا عقیدہ اور راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں نیک وبد کا بیک محل ذکر کیا جارہا ہے۔ چناچہ کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کے مرتکب مجرموں کو دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا جس آگ کے بارے میں قرآن مجید بتلاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جلائی ہوئی آگ ہے جو لوگوں کے کلیجوں پر اتر جائے گی اور مجرموں کو آگ کے ستونوں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا۔ ( ابراہیم : 49)
اس آگ میں اس قدر جوش اور شدت ہوگی کہ اس سے گدھے کے ہینگنے کی طرح آوازیں نکلیں گی۔ ” زَفِیْرٌ“ گدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز کو کہتے ہیں اور ” شَھِیْقٌ“ سے مراد گدھے کی وہ آواز ہے جب اسکے ہینگنے کا اختتام ہوتا ہے تو گلے کی آواز کے ساتھ اس کے سینے کی آواز بھی شامل ہوجاتی ہے۔ جہنم کی آگ کے جوش کی وجہ سے اس طرح آوازیں نکلیں گی۔ مجرم اس وقت تک جہنم میں رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے۔ اللہ تعالیٰ وہی کچھ کرتا ہے جس کا وہ ارادہ فرماتا ہے۔ یہاں جہنمیوں کی سزا کی مدت کا ذکر کرتے ہوئے دو الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
1۔ جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے جہنمی جہنم میں جلتے اور چلاتے رہیں گے۔ زمین و آسمان سے مراد دنیا کے زمین و آسمان نہیں ہیں یہ تو ختم کردیئے جائیں گے۔ قرآن مجید وضاحت کرتا ہے کہ اس دنیا کے خاتمے کے ساتھ قیامت کے دن دنیا کے زمین و آسمان کے علاوہ اور زمین و آسمان ہوں گے جن کے لیے کوئی فنا نہیں ہوگی۔ (ابراہیم : 48)
2۔ اس فرمان میں دوسرے الفاظ ” اِلََّامَاشَاءَ رَبُّکَ “ استعمال فرمائے ہیں۔ جن کا لفظی معنی ہے ” مگر تیرا رب جس طرح چاہے “ جس کا عمومی مفہوم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید کفار اور مشرکین کو بھی کسی وقت جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اس بارے میں اہل علم کے ذاتی اقوال اور استنباط ہیں۔ کہ ایک مدت کے بعد کفار اور مشرکین کو بھی جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ جس کی قرآن و حدیث سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔ البتہ عقیدۂ توحید رکھنے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکب مجرموں کو ان کی سزا پوری ہونے کے بعد جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں مستند دلائل موجود ہیں۔ اس لیے اِلَّامَاشَاءَ رَبُّکَ ‘ کا یہی مفہوم لینا چاہیے۔
(عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یُجَاٗٗءُ بالْمَوْتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَأَنَّہُ کَبْشٌ أَمْلَحُ ۔۔ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَیُقَالُ یَا أَہْلَ النَّارِ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہَذَا قَالَ فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ وَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَیُؤْمَرُ بِہِ فَیُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ یُقَالُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ وَیَا أَہْلَ النَّارِ خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ )[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ ]
” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موت قیامت کے دن مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو کریب نے کچھ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان روک لیا جائے گا۔ پھر جنتیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو تو وہ اسے پہچاننے کی کوشش کریں گے اور اس کی طرف دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ جہنمیوں سے کہا جائے گا کیا تم اسے پہچانتے ہو وہ بھی پہچاننے کی کوشش کریں گے۔ دیکھیں گے اور کہیں گے ہاں یہ موت ہے پھر حکم ہوگا اور اسے ذبح کردیا جائے گا پھر کہا جائے گا اے جنتیو ! جنت میں ہمیشہ رہو تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو ! جہنم میں ہمیشہ رہو تمہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی اور انہیں حسرت والے دن سے ڈرایئے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لائیں گے۔ “
مسائل
1۔ بد بخت جہنم میں جائیں گے۔ 2۔ جہنم میں مجرم چیخ و پکار کریں گے۔
3۔ جب تک اللہ چاہے گا مجرم جہنم میں رہیں گے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرسکتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
جہنم میں مشرک اور کفار کا ہمیشہ رہنا اور چلانا :
1۔ بدبخت لوگ جہنم میں ہمیشہ چیختے اور چلاتے رہیں گے۔ (ھود : 106) 2۔ مجرم لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الز خرف : 74)
3۔ جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 39)
4۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الاعراف : 36)
Ayah 11:108فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے بعدنیک لوگوں کا تذکرہ اور ان کا انعام۔
ایک طرف جہنمی اپنے برے عقیدہ اور گھناؤ نے اعمال کی سزا پاتے ہوئے جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں گدھے کی طرح آوازیں نکال رہے ہوں گے۔ دوسری طرف صحیح عقیدہ رکھنے اور اس کے مطابق نیک اعمال کرنے والے سعادت مند حضرات، اللہ تعالیٰ کی میزبانی اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے رب کے شکریہ کے ترانے گا رہے ہوں گے۔ جب یہ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے تو اظہار تشکر کے طور پر برملا اعتراف کریں گے کہ ہمارے رب نے ہمارے ساتھ دنیا میں جو وعدے کیے تھے۔ ان سے ہم کئی گنا زیادہ پا رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ اعلان ہوگا کہ اب تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں قیام اور آرام کرو گے۔ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نہ ختم ہونے والی عطا اور جزا کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہاں پھر ” اِلَّامَاشَآءَ رَبُّکَ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ” مَا شَآءَ “ کا معنی عربی میں سَوَاءٌ کا بھی آتا ہے یعنی کسی چیز کے برابر ہونا جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح قیامت برپا ہونے کے بعد نئے زمین و آسمان کو دوام اور ہمیشگی ہوگی اسی طرح جنتیوں کا جنت میں ہمیشہ ہمیشہ قیام ہوگا۔
(عَنْ جَاِبٍر ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ اَھْلَ الْجَنَّۃِ یَاْ کُلُوْنَ فِیْھَاوَیَشْرَبُوْنَ وَلَایَتْفُلُوْنَ وَلَایَبُوْلُوْنَ وَلَا یَتَغَوَّطُوْنَ وَلَا یَمْتَخِطُوْنَ قَالُوْا فَمَا بَال الطَّعَامِ قَالَ جُشَآءٌ وَرَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ یُلْھَمُوْنَ التَّسْبِیْحَ وَالتَّحْمِیْدَ کَمَا تُلْھَمُوْنَ النَّفَسَ ) [ رواہ مسلم : باب فی صفات الجنۃ ]
” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ جنتی لوگ جنت میں خوب کھائیں پیئیں گے، نہ تھوکیں گے ‘ نہ پیشاب کریں گے ‘ نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ہی ناک بہائیں گے۔ صحابہ کرام ؓ نے استفسار کیا تو پھر کھانے کا فضلہ کیا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ‘ کھانے کا فضلہ ڈکار سے ختم ہوجائے گا ان کا پسینہ کستوری کا طرح ہوگا۔ اہل جنت کے دل میں سبحان اللہ ‘ الحمد للہ کا الہام کیا جائیگا جیسے تمہاری سانس جاری رہتی ہے۔ “
(عَنْ صُھَیْبٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اِذَا دَخَلَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًااَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْھَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَتُنْجِنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیُرْفَعُ الْحِجَابُ فَیَنْظُرُوْنَ اِلٰی وَجْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا اَحَبَّ اِلَیْھِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّھِمْ ثُمَّ تَلَا لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ)[ رواہ مسلم : باب اثبات رؤیۃ المؤمنین ]
” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کسی نعمت کو چاہتے ہو ‘ جو میں تمہیں عطا کروں۔ جنتی عرض کریں گے ‘ کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا ؟ کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور دوزخ سے ہمیں نہیں بچایا ہے ؟ آپ نے فرمایا ‘ تب پردہ اٹھا دیا جائے گا۔ تمام جنتی رب العزت کے چہرے کا دیدار کریں گے۔ انہیں ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی ‘ جو پر ور دگار کی زیارت سے انہیں زیادہ محبوب ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔ “
مسائل
1۔ نیکو کار جنت میں جائیں گے۔ 2۔ سعادت مند ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
3۔ جنتیوں پر اللہ کی عطا ہمیشہ جاری رہے گی۔
تفسیر بالقرآن
جنتیوں کا جنت میں قیام اور آرام ہمیشہ کے لیے ہوگا :
1۔ نیک لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے اور جو کچھ اللہ نے ان کو عطا کیا ہے ختم نہ ہوگا۔ (ھود : 108)
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والوں کو ہمیشہ کیلئے جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (الفتح : 17)
3۔ ایمان والے اور عمل صالح کرنے والے ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ (البقرۃ : 82)
4۔ ایمان والوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا جس میں نہریں بہتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ( النساء : 57)
5۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے کو جنت میں داخلہ نصیب ہوگا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (النساء : 13)
Ayah 11:109فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام کی دعوت کی یاد دہانی۔
جہنمیوں اور جنتیوں کی سزا، جزا سے پہلے مسلسل انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور اس کے ردّ عمل کا ذکر ہو رہا تھا۔ جس کے آخر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی آویزش کا ذکرہوا۔ اب درمیان میں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے توجہ دلائی جارہی ہے کہ اے نبی ! جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں ان کے باطل ہونے کے بارے میں آپ کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو ان کی محض اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ ان سے پہلے ان کے باپ داداعبادت کرتے آرہے ہیں۔ ہم ان کو کسی کمی و بیشی کے بغیر اس کا پورا پورا بدلہ چکائیں گے۔ اس فرمان میں بظاہر رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے مگر تمام اہل علم کا نقطہ نظر ہے کہ اصل مخاطب اس سے آپ کی امت ہے۔ جس کا مقصد مسئلہ توحید کی افادیت اجاگر کرنا ہے۔ یہ بات سامنے رہے کہ ہر دور کے مشرک اور کفار جنکی وہ عبادت کرتے ہیں۔ جب انہیں اس سے روکا جاتا ہے تو وہ یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ تو پتھر، مٹی یا لکڑی کے مجسمے ہیں۔ ہماری مراد تو ان کی ارواح ہیں۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہتے ہیں اور یہ ہماری دعائیں اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید اس طریقہ کو عبادت قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس کی تردید اور مذمت کرتا ہے۔ بلکہ اسے اللہ کے ساتھ شرک قرار دیتا ہے۔ جو تمام گناہوں کا منبع اور سب سے بڑا ظلم اور جرم ہے۔ اس طرح کی عبادت کرنے والوں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ جس کے بارے میں فرمایا ہے کہ انہیں اس کا پورا پورا حصہ دیا جائے گا جس میں کوئی کمی نہ ہونے پائے گی۔
(عَنْ اَنَسٍٖ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ لِاَھْوَنِ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ لَوْ اَنَّ لَکَ مَا فِیْ الْاَرْضِ مِنْ شَیْءٍ اَکُنْتَ تَفْتَدِیْ بِہٖ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیَقُوْلُ اَرَدْتُّ مِنْکَ اَھْوَنَ مِنْ ھٰذَا وَاَنْتَ فِیْ صُلْبِ اٰدَمَ اَنْ لَّا تُشْرِکَ بِیْ شَیْءًا فَاَبَیْتَ اِلَّا اَنْ تُشْرِکَ بِیْ )[ رواہ البخاری : باب خلق آدم ]
” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دوزخیوں میں سے سب سے ہلکے عذاب والے سے پوچھیں گے اگر تیرے پاس زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اسے اس عذاب سے چھٹکارے کے بدلے میں دے دیتا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ سے اس وقت بہت ہی معمولی مطالبہ کیا تھا۔ جب تو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہر انا ‘ لیکن تو نے انکار کیا اور میرے ساتھ شریک ٹھہراتا رہا۔ “
مسائل
1۔ کفار اپنے اباء و اجداد کے طور طریقہ پر معبود ان باطل کی پرستش کرتے ہیں۔
2۔ ہر کسی کو اس کے اعمال کی پوری جزا یا سزا ملے گی۔
تفسیر با لقرآن
ظالموں کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی :
1۔ بیشک ہم ان کو ان کا حصہ بغیر کم وکاست دیں گے۔ (ھود : 109)
2۔ قیامت کے دن ہر آدمی کو اس کی کمائی کا پورا پورا صلہ دیا جائیگا۔ ( المومن : 17)
3۔ قیامت کے دن کسی پر ظلم نہ کیا جائیگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق صلہ دیا جائیگا۔ ( یٰس : 54)
4۔ جو آدمی برائیاں کرتا رہا اس کو اسی کی مثل سزا دی جائیگی۔ ( المومن : 40)
5۔ اللہ بروں کو ان کی برائی کی ٹھیک ٹھیک سزا دے گا۔ (النجم : 31)
6۔ قیامت کے دن تمہیں اسی چیز کا بدلہ دیا جائے گا جو تم عمل کرتے ہو۔ (النمل : 90)
Ayahs 11:110–111فہم القرآن
ربط کلام : چند آیات پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے مقابلہ میں فرعون کا رد عمل اور اس کا انجام ذکر ہوا تھا اور اب پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دے کر سورة ھود کا اختتام ہو رہا ہے۔
فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور ان کے معجزات کا انکار کیا تھا۔ فرعون سے آزادی ملنے کے بعد جب بنی اسرائیل کو تختیوں کی شکل میں مفصل کتاب عنایت کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کر تورات کا انکار کیا کہ ہم اس وقت تک اس کے منجانب اللہ ہونے کا اقرار نہیں کریں گے۔ جب تک ہم براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل نہ کرلیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بہت سمجھایا مگر وہ اپنی بات پر مصر رہے۔ تب مجبور ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی۔ جس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے ستر (70) نمائندوں کو لے کر کوہ طور پر گئے وہاں ان لوگوں کو ایک مختصر مدت کے لیے موت نے آلیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں انہیں پھر زندگی عطا ہوئی تفصیل جاننے کیلئے الا عراف 155 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ فرعون اور بنی اسرائیل کی طرح ہی اہل مکہ اور یہود و نصاریٰ قرآن مجید کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ اور بری طرح اس کتاب کے بارے میں ذہنی کشمکش کا شکار ہیں۔ آپ کا رب انہیں ان کے کردار کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ کیونکہ وہ ان کے فکر و عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی گرفت کا ایک اصول بیان فرمایا ہے وہ یہ کہ قرآن مجید کے بارے میں اختلاف کرنے والے اور باغی، اللہ کی گرفت اور دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی سزا اور جزا کا وقت مقرر کر رکھا ہے جب یہ وقت پورا ہوجائے تو ہر کسی کو اس کے فکرو عمل کے مطابق دنیا میں ہی کچھ نہ کچھ جزا یا سزا مل جاتی ہے۔ البتہ کچھ لوگوں کی رسی اللہ تعالیٰ اس قدر دراز کردیتا ہے انہیں دنیا میں کوئی خاص سزا نہیں ملتی۔ ایسے لوگوں کو ان کی موت کے بعد ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔
مسائل
1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کتاب دی۔
2۔ تورات کے بارے میں یہودیوں نے اختلاف کیا۔
3۔ کفار کتاب اللہ کے متعلق شک میں مبتلا رہتے ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔
5۔ اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
جزا و سزا کا ایک وقت مقرر ہے :
1۔ تیرے پروردگار کی طرف سے اگر ایک بات پہلے سے مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ (ھود : 110)
2۔ اگر تیرے پروردگار کی طرف سے پہلے سے بات مقرر نہ چکی ہوتی تو ان کے اختلافات کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ (یونس : 19)
3۔ اگر تیرے رب کے کلمات سبقت نہ لے چکے ہوتے تو ان لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ ( حم السجدۃ : 45)
4۔ تیرے رب کے کلمات اگر سبقت نہ لے جا چکے ہوتے تو ان کے درمیان فیصلہ ہوجاتا۔ (الشوریٰ : 14)
5۔ اگر ایک بات کی تمہارے پروردگار کی طرف سے میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب لازم ہوجاتا۔ (طٰہٰ : 129)
6۔ اس دن سے ڈر جاؤ جس دن تمہیں پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (البقرۃ : 281)
Ayahs 11:112–113فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے رد عمل کے مقابلہ میں نبی اکرم ﷺ کو استقامت اختیار کرنے کا حکم۔
کفار، مشرکین اور یہود و نصاریٰ اس حد تک آپ کی مخالفت پر اتر آئے تھے کہ آپ کو صادق و امین ماننے کے باوجود آپ کو کذّاب اور جادو گر قرار دیتے تھے۔ جس کا بحیثیت انسان آپ کو بہت رنج ہوتا تھا۔ آپ کی ڈھارس بندھانے اور مستقل مزاجی کا سبق دینے کے لیے آپ ﷺ اور آپ کے متبعین کو مسلسل ہدایات دی گئی ہیں۔
1۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس پر قائم رہیے۔
2۔ کسی حال میں بھی اللہ کی نازل کردہ وحی سے سرتابی نہیں کرنی۔
3۔ ہر دم یہ خیال رہنا چاہیی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
4۔ ظالموں کی طرف کسی حال میں بھی جھکاؤ نہیں ہونا چاہیے۔
5۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ اور مدد کرنے والا نہیں ہوتا۔
استقامت کا معنی ہے کسی طرف جھکنے کی بجائے سیدھا کھڑے رہنا۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک داعی نہ کسی قسم کے دباؤ کی پرواہ کرے اور نہ ہی کسی مفاد اور لالچ کے سامنے جھکے۔ ایسا شخص ہی صحیح معنوں میں حق کا ترجمان اور اس کا پاسبان ہوسکتا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ” وَلَاتَرْکَنُوْا “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ جس کا معنی ہے کہ دنیا کا کوئی خوف آپ اور آپ کے متبعین کو باطل کے سامنے جھکنے پر مجبور نہ کرسکے۔ اگر تم لوگ جھک گئے تو پھر تمہیں جہنم کی آگ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی تمہارا خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ ظلم سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ جس کی سزا جہنم ہوگی۔
ترکنو کا لغوی معنی ہے : محبت اور دلی میلان۔ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ظالموں کی خوشامد مت کرو۔ (ضیاء القرآن، ج : 2۔ ص : 396)
(عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ (الَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ ) قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ]
” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ کہنے لگے ہم میں سے کون ہے جو ظلم نہیں کرتا یعنی ہر انسان سے غلطی ہوجاتی ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ “
(عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ ) [ رواہ البخاری : باب الظلم ]
” حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ “
مسائل
1۔ اللہ کے حکم پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔ 2۔ حق کے داعی کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ 4۔ ظالموں کی طرف جھکاؤ نہیں کرنا چاہیے۔
5۔ اللہ کے علاوہ کوئی رفیق اور مدد کرنے والا نہیں ہے۔
تفسیر بالقرآن
ظلم اور ظالم :
1۔ ظالموں کی طرف نہ جھکیں ورنہ تمہیں بھی جہنم کی آگ چھوئے گی۔ (ھود : 113)
2۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے۔ ( البقرۃ : 114) 3۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ( لقمان : 13)
4۔ نبی کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : 93)
5۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف : 37)
6۔ اللہ نے بستیوں والوں کو ظلم کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ (یونس : 13)
Ayah 11:114فہم القرآن
ربط کلام : داعی کے لیے مزید ہدایات۔
حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد پہلا فرض مسلمان پر جو عائد ہوتا ہے۔ وہ پانچ وقت کی نماز کی ادائیگی ہے۔ یہ وہ فرض ہے جو ہوش و حواس قائم ہونے کی صورت میں مسلمان پر لازم ہے۔ نماز ایسا فرض ہے جس کی سب سے زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہاں ایک خاص پس منظر کے تحت اس کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس کا یہ عظیم فائدہ بیان فرمایا ہے کہ نماز کی ادائیگی سے انسان کی برائیاں دور ہوجاتی ہیں۔ یہ فائدہ اور نصیحت ان لوگوں کے لیے ہے جو اس سے مستفیض ہونے کی کوشش اور تمنا رکھتے ہیں۔ یہاں غم اور برائیوں سے بچنے کے لیے نماز کی ادائیگی کے دو اوقات ذکر کیے ہیں۔ جن کے بارے میں جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ ان سے مراد صبح اور مغرب کی نماز کا وقت ہے۔ بعض اہل علم نے یہ نقطہ بھی اٹھایا ہے کہ ” زُلف “ کی جمع زُلُفاً ہے جو عربی میں جمع کا لفظ کم از کم تین کے لیے بولا جاتا ہے۔ لہٰذا اس میں عشاء کی نماز بھی شامل ہے۔ بہر حال حکم یہ ہے کہ دن کے اطراف یعنی اختتام اور آغاز پر نماز کا اہتمام کیجئے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان نماز کے تقاضے پورے کرتے ہوئے صبح شام کی نماز ادا کرے تو رات کی پریشانیاں صبح کی نماز کے وقت اور دن بھر کی غمناکیاں مغرب کی نماز کی ادائیگی کے ساتھ ہلکی ہوجائیں گی۔ نماز پڑھنے سے گناہ دور ہونے کے دو مفہوم ہیں۔ سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر نماز کے تقاضے پیش نظر رہیں تو آدمی آئندہ کے گناہوں سے بھی بچ جاتا ہے۔
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ ) [ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمعۃِ
” حضرت ابوہریرہ ؓ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک کفارہ ہیں ان گناہوں کا، جو ان کے درمیان سرزدہوتے ہیں۔
(عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ۔ أَنَّ رَجُلاً أَصَابَ مِنَ امْرَأَۃٍ قُبْلَۃً فَأَتَی النَّبِیَّ ﷺ فَأَخْبَرَہُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (أَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّءَاتِ ) فَقَال الرَّجُلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَلِی ہَذَا قَالَ لِجَمِیْعِ أُمَّتِی کُلِّہِمْ ) [ رواہ ا لبخا ری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب الصلاۃ کفارۃ ]
” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لیا۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اپنے گناہ کے بارے میں بتلایا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (نماز قائم کرو دن کے کناروں میں اور رات کی گھڑیوں میں بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں) پھر اس آدمی نے عرض کی۔ اے اللہ کے رسول ! یہ میرے لیے ہے یا تمام امت کے لیے آپ ﷺ نے فرمایا تمام امت کے لیے۔ “
” حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول محترم ﷺ سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ فرماتے ہیں تم ہمارے ساتھ دو دن نمازیں ادا کرو۔ پہلے دن جب سورج ڈھلا ہی تھا تو بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اس کے بعد اقامت ظہر ہوئی پھر بلال ؓ کو نماز عصر کی اقامت کا حکم فرمایا جبکہ سورج کافی بلند اور دھوپ تیز تھی پھر سورج غروب ہوتے ہی مغرب کی نماز کھڑی فرمائی ابھی سورج کی سرخی ختم ہونے ہی پائی تھی تو عشاء کی نماز قائم کرنے کا حکم فرمایا۔ پھر صبح کی نماز کا حکم دیاجب کہ فجر ابھی نمودارہی ہوئی تھی۔ جب دوسرا دن ہوا تو بلال ؓ کو نماز ظہر ٹھنڈی کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس نے خوب ٹھنڈے وقت میں اذان کہی۔ نماز عصر تاخیر سے ادا فرمائی اسے پہلے دن سے قدرے مؤخر کیا لیکن سورج ابھی بلندی پر تھا۔ نماز مغرب سورج کی روشنی کے آثار ختم ہونے سے پہلے ادا کی۔ جب رات کا تیسرا حصہ گزر گیا تو نماز عشا ادا کی گئی، نماز فجر اس وقت ادا کی جب صبح کی روشنی خوب پھیل چکی تھی۔ اب ارشاد ہوا کہ نمازوں کے اوقات پوچھنے والا کہاں ہے ؟ وہ عرض کرتا ہے کہ اللہ کے رسول میں حاضر ہوں۔ فرمایا کہ تمہاری نمازوں کے وقت ان اوقات کے درمیان ہیں۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلٰوۃ ]
مسائل
1۔ نمازوں کی پابندی کرنے کا حکم ہے۔ 2۔ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں۔
3۔ نصیحت حاصل کرنے والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
تفسیر باالقرآن
نماز کے اوقات اور فوائد :
1۔ نماز کی پابندی کیجئے دن کے دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ ( العنکبوت : 45)
2۔ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کیلئے صبر کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ہم ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ (الرعد : 22)
3۔ نماز قائم کرنے والوں پر کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔ (البقرۃ : 277)
4۔ اگر کفار توبہ کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ (التوبۃ : 5)
Ayah 11:115فہم القرآن
ربط کلام : مبلّغ کو ساتویں ہدایت۔
صبر کا جامع معنی ہے کہ ایک مسلمان ہر حال میں شریعت کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرتا رہے اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے حضور صبر و شکر کا مظاہرہ کرے۔ لیکن سیاق وسباق کے حوالے سے یہاں صبر کا معنی یہ ہے کہ ایک داعی اور مسلمان پریشانیوں اور مشکلات کے مقابلے میں اپنا حوصلہ قائم رکھے۔ ایسے صابر شخص کو تسلی دینے کے ساتھ خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا اجر کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ صبر بےبسی اور بےکسی کا نام نہیں۔ صبر قوت برداشت ‘ قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ دشمن کے مقابلے میں جرأت ‘ بہادری اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسائل و مصائب کا سامنا کرنے سے مسائل حل ہوتے ہیں، آخرت میں بغیرحساب و کتاب کے جنت میں داخلہ نصیب ہوگا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رفاقت ودستگیری حاصل ہوگی۔
مسائل
1۔ صبر اختیار اختیار کرنے کا حکم ہے۔ 2۔ نیکو کاروں اور صبر کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔
تفسیر بالقرآن
صبر کی حقیقت اور اس کا اجر :
1۔ صبر کیجئے اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : 115) 2۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ( البقرۃ : 153)
3۔ صبر کرنے والے کا میاب ہوں گے۔ (المومنون : 111) 4۔ صبر کرنے والے کی آخرت اچھی ہوگی۔ (الرعد : 24)
5۔ صبر کرنے والوں کو جنت میں سلامتی کی دعائیں دی جائیں گی۔ ( الفرقان : 75)
6۔ صبر کرنے والے بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ( الزمر : 10)
7۔ اگر تم صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہترین چیز ہے۔ (النحل : 126)
8۔ صبر کرو یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (الانفال : 46)
9۔ بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 249)
Ayahs 11:116–117فہم القرآن
ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کے دو بنیادی اسباب۔
اس سورة مبارکہ میں حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت لوط، حضرت صالح، حضرت شعیب، اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی اقوام کی تباہی اور اس کی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے۔ آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں فرعون کا انجام بیان کرنے کے بعد سرور دوعالم کو مخاطب کرتے ہوئے آپ اور آپ کی امت کے مبلغین کو چند بنیادی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ حق کے راستے میں آنے والی ذہنی جسمانی اور مالی مشکلات پر صبر کرتے رہیے۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کسی نیکی کرنے والے کے اجرو ثواب کو ضائع نہیں کرتا۔ اس کے بعد پہلی اقوام کی تباہی کے دو بنیادی اسباب کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بےمثال اور انتھک کوشش کے باوجود ایسے لوگ کیوں نہ تیار ہوئے جو ان کو ملک میں دنگا فساد کرنے سے روکتے۔ جنہوں نے دنیا پرست ظالموں کی پیروی کی اور مجرمانہ طرز عمل اختیار کیا۔ ان کی تباہی کا سبب ان کا اپنا کردار تھا۔ اگر یہ اپنے آپ پر ظلم نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ کبھی انہیں اس انجام سے دو چار نہ کرتا کیونکہ وہ اصلاح کرنے والوں کو کبھی ہلاک نہیں کرتا۔ کسی قوم کی بقا اور اس کے ارتقاء کے لیے لازم ہے کہ اس میں اصلاح احوال کے لیے ایک منظم جماعت موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ افراد کی انفرادی اور ذاتی کمزوریوں سے در گزر کرلیتا ہے لیکن جب انفرادی کمزوریاں جرائم کی صورت اختیار کرتے ہوئے اجتماعی شکل اختیار کرلیں اور ان کی اصلاح کرنے والی کوئی منظم جماعت بھی پیدا نہ ہو۔ تو اس قوم کا وجود دنیا میں کینسر کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ جس کے منفی اثرات ہر جاندار یہاں تک کہ بلوں میں رہنے والی چیونٹیاں بھی محسوس کرتی ہیں۔ اس صورت حال کو بدلنے اور دنیا کے نظام کو متوازن اور ہموار رکھنے کے لیے ظالم قوم کو تباہی کے گھاٹ اتار کر انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا جاتا ہے۔ عذاب عام کے وقت نیک لوگوں کو بچانے کا وعدہ انبیاء اکرام کی ذات کے ساتھ مشروط ہوا کرتا تھا۔ جب تک نبی کسی قوم میں موجود ہو اللہ تعالیٰ اس کی موجودگی میں بد سے بد ترین قوم پر بھی عذاب نازل نہیں کرتا۔ جس کا ثبوت انبیاء کرام یکے بعد دیگرے رخصت ہوچکے۔ اب اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے وہ چاہے تو برے لوگوں کے ساتھ نیک لوگ بھی اس تباہی اور عذاب میں سپرد خاک ہوجائیں۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم :
” حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی محترم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ‘ تم میں سے جو برائی دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکے۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے ‘ اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر کم از کم دل سے نفرت کرے۔ یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ “ [ رواہ مسلم : باب امر بالمعروف ]
مسائل
1۔ سابقہ امم میں فساد سے روکنے والے لوگ بہت کم تھے۔ 2۔ ظالموں کو دنیا کی عیش پرستی سے فرصت نہیں ملتی۔
3۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والوں کو ہلاک نہیں کرتا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا :
1۔ اللہ کسی پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔ (یونس : 44)
2۔ بیشک اللہ کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ (النساء : 40)
3۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا۔ (المومن : 31)
4۔ بیشک اللہ بندوں کے ساتھ ظلم نہیں کرتا۔ (الحج : 10)
5۔ قیامت کے دن ہم عدل و انصاف کا ترازو قائم کریں گے اور کسی جان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء : 47)
6۔ جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اس کا تمہیں پورا پورا صلہ دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ : 272)
7۔ اللہ ان پر ظلم نہیں کرتا لیکن وہ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے ہیں۔ (التوبۃ : 70۔ العنکبوت : 40۔ الروم : 9)