Ayahs 11:64–65فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) کے شاندار ماضی، عمر بھر کی صداقت اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دلائل پر ایمان لانے کی بجائے یہ مطالبہ کرڈالا۔ صالح ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمارے سامنے اس پہاڑ سے ایک گابھن اونٹنی ظاہر نہ ہو۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا کہ معجزہ طلب کرنے کے بعد اگر تم ایمان نہ لائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں مہلت نہ دی جائے گی۔ لیکن ان کی قوم نے صاف طور پر کہا کہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ (النحل : 49) ۔ تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ باری تعالیٰ ان کا یہ مطالبہ پورا فرما شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور مطالبہ کرنے والوں کے سامنے پہاڑ سے ایک گابھن اونٹنی بلبلاتے ہوئے باہر نکلی۔ کچھ مدت کے بعد اس نے ایک بچہ جنم دیا۔ یہ تفصیلات مختلف ذرائع سے مفسرین نے جمع کی ہیں۔ جبکہ قرآن مجید سے فقط اتنا ثابت ہے کہ جب پہاڑ سے اونٹنی برآمد ہوئی تو حضرت صالح نے اپنی قوم کو فرمایا یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ جو معجزہ کے طور پر تمہارے سامنے لائی گئی ہے۔ جسے آپ نے ناقۃ اللہ قرار دیا ‘ حضرت صالح کا اس اونٹنی کو ناقۃ اللّٰہ قرار دینا دو وجہ سے تھا۔ ایک تو قوم کے مطالبہ پر معجزہ کے طور پر پہاڑ کو دو ٹکڑے کرتے ہوئے نکلی تھی۔ دوسری وجہ ناقۃ اللّٰہ قرار دینے کی یہ تھی کہ وہ اونٹنی رنگ روپ، قدو قامت کے اعتبار سے عام اونٹنیوں سے بالکل ہی مختلف تھی۔ اس کا کھانا پینا بھی غیر معمولی تھا۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ کئی اونٹنیوں کے برابر اکیلی پانی پیتی اور منوں کے حساب سے چارہ ہڑپ کر جاتی۔ اونٹنی کے ظاہر ہونے پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ اللہ کی اونٹنی کو اللہ کی زمین پر چلنے پھرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ نہ بننا اور نہ ہی اسے کسی قسم کی تکلیف دینا ورنہ تمہیں اللہ کا عذاب دبوچ لے گا۔ کیونکہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ بستی کے کنویں سے ایک دن تمہارے جانور پانی پئیں گے اور ایک دن یہ اونٹنی اکیلی پیا کرے گی۔ اسے تکلیف نہ دینا ورنہ تم پر عظیم عذاب آئے گا۔ (الشعراء : 155۔ 156) لیکن منہ مانگا معجزہ پانے کے باوجود کچھ لوگوں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں اور مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اونٹنی چیختی چلاتی ہوئی اپنے بچے کے ساتھ اسی پہاڑ میں داخل ہوگئی۔
اس واقعہ کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا کہ بس تین دن تک اپنے گھروں میں رہو۔ چوتھے دن تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اب بھی قوم حضرت صالح (علیہ السلام) سے معذرت کرتے ہوئے درخواست کرتی کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی جائے کہ وہ ان کے سنگین جرم کو معاف کردے۔ لیکن بدبخت قوم کہنے لگی کہ اے صالح ! تو جس عذاب سے ہمیں ڈراتا ہے اسے جلدی لے آؤ۔ ( الاعراف : 77)
مسائل
1۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اونٹنی معجزہ کے طور پر عطا فرمائی تھی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو پامال کرنا عذاب الٰہی کو دعوت دینا ہے۔
تفسیر بالقرآن
مجرموں کا عذاب کا مطالبہ کرنا :
1۔ حضرت نوح کی قوم نے ان سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (ھود : 32)
2۔ قوم ثمود نے حضرت صالح کو عذاب لانے کا چیلنج دیا۔ (الاعراف : 77)
3۔ مدین والوں نے حضرت شعیب سے عذاب الٰہی کا مطالبہ کیا۔ (الشعراء : 187)
4۔ قوم عاد نے حضرت ھود سے عذاب کے نزول کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : 22)
5۔ کفار نے نبی کریم سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (بنی اسرائیل : 92)
6۔ اہل مکہ نے اللہ تعالیٰ سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ ( الانفال : 31)
Ayahs 11:66–68فہم القرآن
ربط کلام : حسب وعدہ عذاب کا نازل ہونا، حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا نجات پانا۔
قرآن مجید اس واقعہ کی یوں تفصیل بیان کرتا ہے۔ کہ ثمود نے سرکشی کی بنا پر حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا۔ پھر ان کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا اور اس نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اس بات کو مسترد کیا جو انہوں نے فرمائی تھی کہ اس اونٹنی کو پانی پینے دینا۔ اس بدبخت نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور ان کو زمین بوس کردیا۔ ( الشمس : 11 تا 15) بدبخت قوم نے یہ قسمیں بھی اٹھائیں۔ کہ ہم صالح (علیہ السلام) کو اس کے اہل و عیال سمیت ختم کر ڈالیں گے۔ (النمل : 49)
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے صالح اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو اس دن کی ذلت سے بچالیا۔ یقیناً آپ کا رب بڑا طاقتور اور ہمیشہ غالب رہنے والا ہے۔ ظالموں کو ایک چیخ نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں الٹے منہ پڑے ہوئے اس طرح ہوگئے جیسے وہ کبھی آباد ہی نہ ہوئے تھے۔ خبردار ! بلاشک ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ خبردار ! قوم ثمود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پھٹکار دیا گیا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب قوم صالح پر عذاب آیا اس کی کیفیت اس طرح سے تھی کہ پہلے دن ثمودیوں کے چہرے زرد ہوئے دوسرے دن سرخ ہوئے اور تیسرے دن سیاہ اور چوتھے دن انہیں چیخ نے آلیا جس کی ہیبت سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل گرپڑے۔
مسائل
1۔ اللہ کے عذاب سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ محفوظ فرمائے۔
2۔ اللہ تعالیٰ بڑی قوت اور غلبہ والا ہے۔ 3۔ قوم ثمود پر چیخ کی صورت میں عذاب آیا۔
4۔ قوم ثمود نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔ 5۔ ثمودیوں کا اللہ تعالیٰ نے نام و نشان مٹا دیا۔
6۔ قوم ثمود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئی۔
تفسیر بالقرآن
دھتکاری اور پھٹکاری ہوئی اقوام :
1۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 68)
2۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 95)
3۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : 60)
4۔ یہودیوں پر اللہ نے ذلت و محتاجی مسلط کردی۔ (البقرۃ : ا 6)
5۔ یہودی اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (البقرۃ : 90)
6۔ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ نے لعنت کی۔ (المائدۃ : 78)
7۔ کفار پر اللہ، اس کے ملائکہ اور کائنات کی ہر چیز لعنت کرتی ہے۔ (البقرۃ : 161)
Ayahs 11:69–70فہم القرآن
ربط کلام : قوم ثمود کی تباہی کے بعد قوم لوط کا واقعہ مگر اس کے بیان کرنے سے پہلے ضمناً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک واقعہ کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔
قوم لوط کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے فرشتے بھیجے گئے۔ مگر پہلے ان کو حکم دیا گیا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں۔ انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائیں۔ جب یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے سلام عرض کیا۔ جواباً سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بھی ملائکہ کو سلام کہتے ہیں۔ خیرو عافیت پوچھنے کے بعد کوئی تاخیر کیے بغیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا پیش کرتے ہیں۔ لیکن دیکھا کہ مہمان کھانے کی طرف ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ دیکھ کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دل میں ان سے خوفزدہ ہوئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کیفیت بھانپ کر ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے تسلی دیتے ہیں کہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اللہ کی طرف سے قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں اور اپنے بھیجے جانے کا مقصد بیان کیا کہ اس قوم کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ملائکہ سے خوفزدہ ہونے کے بارے میں اہل علم نے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔
1۔ اس زمانے میں چوروں اور ڈاکوؤں میں بھی یہ اخلاق ہوا کرتا تھا کہ جس گھر میں نقب لگانا ہوتی۔ اس کا پانی تک نہیں پیا کرتے تھے تاکہ نمک حرامی نہ ہوجائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ یہ مہمان کی بجائے ڈاکو ہیں۔
2۔ مہمانوں کی شکل میں ملائکہ کچھ دیر کے بعد قوم لوط کو تباہ کرنے والے تھے۔ اس لیے ان کے چہروں پر تلخی نمایاں تھی اور انہوں نے اب تک اپنا تعارف بھی نہیں کروایا تھا۔ جس وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے خوفزدہ ہوئے۔ یہ مفسر کا اپنا استنباط ہے۔ جس کے ساتھ اتفاق کرنا اس لیے مشکل ہے کہ یہ فرشتے نہ صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان بن کر آئے بلکہ وہ انہیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری بھی سناتے ہیں۔ اس لیے ان کے چہروں پر تلخی کے آثار نمایاں ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
3۔ ایک مفسّر کا استدلال ہے کیونکہ ملائکہ نے ابھی تک انہیں خوشخبری نہیں سنائی تھی اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خوفزدہ ہوئے کہ تین ملائکہ کا جڑ کر آنا کسی خطرے کے سوا نہیں ہوسکتا۔ یہ استدلال اس لیے بےجوڑ نظر آتا ہے کہ قرآن مجید نے فرشتوں کا اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خوفزدہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ اسی بناء پر فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو اپنا تعارف کرواتے ہوئے عرض کیا تھا کہ ہمارے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے آپ کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ مہمانوں کے کھانانہ کھانے کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) شاید اس لیے خوفزدہ ہوئے تھے ممکن ہے کہ ہماری مہمان نوازی میں کوئی فرق رہ گیا ہو۔ کیونکہ کھانا چننے کے بعد اگر مہمان کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے تو میزبان کو خواہ مخواہ تشویش لاحق ہوجاتی ہے۔ یہی حالت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہوگی جس کے پیش نظر ملائکہ نے انہیں اپنا تعارف کرواتے ہوئے تسلی دی کہ کسی قسم کے فکر اور ہم سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ نوری مخلوق ہونے کی وجہ سے ہم کھانے پینے سے بےنیاز ہیں۔ اس واقعہ سے یہ حقیقت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ کے پیغمبر بھی غیب نہیں جانتے۔ اگر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) غیب جانتے ہوتے کہ یہ ملائکہ ہیں اور ہمیں بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دینے کے لیے آئے ہیں تو انہیں ڈرنے کی بجائے خوش ہونا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس اتنی واضح حقیقت ہونے کے باوجود ایک مفسر نے اس بات کو یوں توڑ مروڑ کر بیان کیا ہے۔ بعض صاحبان اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس آیت سے حضرت ابراہیم کی بےعلمی پر استدلال کرنے لگتے ہیں کہ دیکھو انہیں پتہ نہ چلا کہ یہ فرشتے ہیں۔[ ضیاء القرآن : ج 2، ص 377]
مہمان نوازی کی اہمیت :
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہٗ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہٗ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوِلْیَصْمُتْ وَفِیْ رِوَایَۃٍ بَدْلَ الْجَارِ وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الاْٰخِرِ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ ) [ رواہ البخاری : باب اکرام الضیف وخدمتہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف میں مبتلا نہ کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ایک روایت میں پڑ وسی کے بجائے یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔ “
مسائل
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتے خوشخبری دینے کے لیے آئے۔
2۔ سلام کا جواب سلام سے دینا چاہیے۔
3۔ مہمان نوازی کرنا انبیاء ( علیہ السلام) کی سنت ہے۔
4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔
5۔ نوری مخلوق کھانے پینے اور انسانی حاجات سے پاک ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا :
1۔ حضرت ابراہیم کو فرشتوں کے متعلق علم نہ ہوسکا۔ (ھود : 69)
2۔ حضرت لوط فرشتوں کو نہ پہچان سکے۔ (ھود : 77)
3۔ نبی اکرم نے فرمایا اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188)
4۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ میں غیب نہیں جانتا۔ (ھود : 31)
5۔ جنات غیب نہیں جانتے۔ (سبا : 14)
6۔ اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
Ayahs 11:71–75فہم القرآن
ربط کلام : ملائکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد بیان کرتے ہیں۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ اس موقعہ پر کھڑی ملائکہ کی گفتگو سن رہی تھیں۔ کچھ مفسرین نے ان کے اس طرح کھڑے ہونے کے بارے میں قیل وقال کی ہے۔ حالانکہ قریب کھڑے ہونے کا یہ معنی نہیں لیا جاسکتا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ مکرمہ جن کا اسم گرامی حضرت سارہ ہے کہ وہ بےپردہ اس مجلس میں آکھڑی ہو۔ کیا عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کے وقت باپردہ حاضر نہیں ہوسکتی ؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا پکڑا رہی ہوں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں کو کھانا پیش کرنے کی خدمت سرانجام دے دیتے ہوں ؟ بہرکیف قریب کھڑی ہوئی حضرت سارہ کو ملائکہ نے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا اور پوتا عنایت فرمائے گا۔ بیٹے کا نام اسحاق اور پوتے کا نام یعقوب رکھا ہے۔ یہاں ملائکہ نے خوشخبری حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو براہ راست پیش کرنے کی بجائے ان کی زوجہ مکرمہ کو اس لیے دی کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں حضرت ھاجرہ سے حضرت اسماعیل موجود تھے۔ حضرت سارہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پہلی بیوی تھیں۔ جو ان کی چچا زاد تھیں اور یہ اسی (80) سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود اولاد سے محروم تھیں۔ جس بناء پر انہیں براہ راست بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سنائی گئی۔ خوشخبری سنتے ہی بےساختہ ان کے منہ سے نکلا کہ آہ آہ یہ کیسے ہوگا ؟ جبکہ میں بانجھ اور میرے خاوند ابراہیم انتہائی بوڑھے ہوچکے ہیں۔ اس حالت میں یہ خوشخبری انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر (120) سال کے قریب تھی۔ حضرت سارہ کی حیرانگی اور تعجب دیکھ کر ملائکہ نے انہیں کہا کیا آپ اللہ کے حکم اور اس کی رحمت کے بارے میں تعجب کرتی ہیں۔ حالانکہ آپ کے گھرانے پر اللہ کی بےپناہ رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے تعریف والا اور بڑا ہے۔
یہ بات فہم القرآن کی جلد اول اور جلد دوم میں بیان ہوچکی ہے کہ ہر آیت کے اختتامی الفاظ اس کے مرکزی مفہوم کے کسی نہ کسی انداز میں ترجمان ہوتے ہیں۔ ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کا ذکر فرما کر انہیں مزید تسلی دی کہ بیشک آپ کی اور ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر زیادہ ہوچکی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے سامنے کوئی کام بھی مشکل اور بڑا نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ حمد و ستائش کے لائق ہے لہٰذا تمہیں تعجب کرنے کی بجائے اس کی حمد اور شکر ادا کرنا چاہیے۔
b حمید کا معنی : قابل تعریف، قابل ستائش، مستحسن، پسندیدہ۔
b مجید کا معنی : جلیل القدر، نمایاں، شاندار، معروف، محمود، قابل تعریف، عالی شان۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان پر اللہ کی رحمت کی چند جھلکیاں :
1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو گلزار بنا دیا۔ 2۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست قرار دیا۔
3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل خانہ کو بڑے وقار اور سلامتی کے ساتھ کفار کی سرزمین سے نجات دی۔
4۔ راستہ میں جب حضرت سارہ پر ایک ظالم حکمران نے دست درازی کی کوشش کی تو ظالم کو زمین پر گرا دیا گیا۔
5۔ حضرت سارہ نہ صرف بحفاظت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس واپس آئی بلکہ انہیں حضرت ہاجرہ کی شکل میں کنیز بھی دی گئی۔
6۔ حضرت سارہ کو بیک وقت بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی گئی۔ 7۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو رہتی دنیا تک سب کا امام بنایا گیا۔
8۔ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی یاد گاروں کو اللہ تعالیٰ نے شعائر اللہ قرار دیا۔
9۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت لوگوں پر فرض قرار دی گئی۔
10۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی کو ہمیشہ کے لیے ہر امت کے لیے سنت قرار دیا گیا۔ علیٰ ھذہٖ القیاس۔
ملائکہ سے تکرار کرنے کا ذکر کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے اس تکرار کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ کیونکہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور اسی کے حکم کی تعمیل کے لیے قوم لوط کی طرف جانے والے تھے۔ پھر تکرار کی بجائے جھگڑے کا لفظ استعمال فرمایا جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ پیار کی جھلک دکھائی دیتی۔ کیونکہ جھگڑے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کرنے کی بجائے ان کی تعریف فرمائی گئی۔
1۔ حَلِیْمٌ (خوش، غم اور غصہ میں حوصلہ رکھنے والا، اللہ کے حضور آہ زاری کرنے والا)
2۔ اَوَّاہٌ (انتہائی خیر خواہ اور دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانے والا)
3۔ مُنِیْبٌ (غمی و خوشی اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا)
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ جب اور جسے چاہتا ہے اولاد عطا فرماتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اہل پر رحمت و برکت نازل فرمائی۔
3۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ تعریف کے لائق ہے۔ 4۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم اور نرم دل تھے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ تعریف والا اور بزرگی والا ہے :
1۔ بیشک اللہ تعریف کے لائق اور بڑی شان والا ہے۔ (ھود : 73)
2۔ زمین و آسمان میں سبھی کچھ اللہ کا ہے اور اللہ ہر تعریف کے لائق ہے۔ (النساء : 131)
3۔ اللہ قرآن مجید نازل کرنے والا حکمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔ (حم السجدۃ : 42)
4۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (الحشر : 1)
5۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ (الفاتحۃ : 1)
Ayahs 11:76–78فہم القرآن
ربط کلام : ملائکہ کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فارغ ہونے کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری۔
جب ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ کی زبان سے بیٹے اور پوتے کی خوشخبری سن چکے۔ تو پھر قوم لوط کے بارے میں ملائکہ سے تکرار کرنے لگے۔ جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ مجرموں کے حمایتی تھے۔ بلکہ وہ اس وجہ سے قوم لوط کے بارے میں تکرار کر رہے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت حوصلہ مند، دوسرے کی تکلیف دیکھ کر تڑپ جانے والے اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ جس بناء پر وہ ملائکہ سے تکرار کرنے لگے کہ آپ انہیں کچھ اور مہلت دیں۔ شاید وہ سنبھل جائیں۔ حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ آپ اس قوم کو عذاب کرنے چلے ہیں جن میں لوط بھی موجود ہیں۔ ملائکہ نے اس کا جواب دیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ان میں لوط موجود ہیں۔ لیکن ان کی بیوی کے سوا لوط اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو بچالیاجائے گا۔ (العنکبوت : 32)
نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کن الفاظ اور کس، کس انداز میں ملائکہ سے تکرار کرتے ہوں گے۔ لیکن بالآخر ملائکہ نے کہا کہ حضرت جانے دیجیے اب یہ عذاب ٹلنے والا نہیں۔ تب ملائکہ ان سے رخصت ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچے۔ مفسرین نے اسرائیلی روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملائکہ انتہائی خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ملائکہ کی آمد پر حضرت لوط (علیہ السلام) نے ناگواری محسوس کی اپنی قوم کا کردار جانتے ہوئے اور دل ہی دل میں پریشان ہونے لگے۔ اس حالت میں ان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے کہ آج تو بڑا مصیبت کا دن ہے۔ مہمانوں کی اطلاع پاکر ان کی قوم کے لوگ ان کے ہاں دوڑتے ہوئے آئے۔ کیونکہ وہ پہلے سے ہی بدکاری کے عادی تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں شرم دلانے کے لیے فرمایا یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ جب اوباش بےحیائی کی باتیں اور بدمستی دکھانے لگے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے پھر شرم دلائی کہ کیا تم میں سے کوئی ایک بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ بےشرم جواب دیتے ہیں۔ تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ تو یہ جانتا ہے کہ ہم کس ارادے سے آئے ہیں۔ یہاں ” یُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ “ کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ جس کی تشریح کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ جب اوباش لوگ دوڑتے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے گھر کے سامنے پہنچے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنے گھر کے کواڑ بند کرلیے لیکن وہ دیواریں پھلانگتے ہوئے اندر آگھسے۔ جس پر لوط (علیہ السلام) نے انہیں بار بار شرم دلائی مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا یہ فرمان کہ میری بیٹیاں تمہارے لیے حاضر ہیں۔ اس کا یہ معنیٰ نہیں کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ بدکاری کی دعوت دی تھی۔ وہ ہرگز ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ پیغمبر سب سے زیادہ غیرت والا اور سب سے بڑھ کر صاحب حوصلہ ہوتا ہے۔ پیغمبر نازک سے نازک ترین حالات میں بھی اپنی غیرت اور حیاء کے خلاف بات نہیں کرسکتا۔ ان کے فرمان کے مفسرین نے دو معنی لیے ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے گھروں میں جو تمہاری بیویاں ہیں۔ وہ تمہارے لیے حلال ہیں کیونکہ پیغمبر امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اس لیے قوم کی بیٹیاں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں تھیں۔
دوسرا ان کے فرمان کا مقصد یہ تھا کہ نکاح کے لیے میری بیٹیاں حاضر ہیں۔ جن کے ساتھ تعلقات قائم کرنا تمہارے لیے فطری اور حلال طریقہ ہوگا۔ لیکن بدمعاش کسی طرح بھی سمجھنے کے لیے تیار نہ تھے۔
لواطت کی سزا :
( عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ مَنْ وَجَدْتُمُوْہُ یَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ فَاقْتُلُوْا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُوْلَ بِہِ )[ رواہ ابو داؤد : باب فیمن عمل عمل قوم لوط ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جسے قوم لوط والا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔
2۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو فرشتوں کے متعلق علم نہیں تھا۔
3۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پرلے درجے کی بدکار تھی۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو تباہ و برباد کردیا :
1۔ تمہارے پروردگار کا حکم آچکا اور ان پر نہ ٹلنے والا عذاب آنے والا ہے۔ (ھود : 76)
2۔ ہم نے تم سے پہلے بستیوں والوں کو ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا۔ (یونس : 13)
3۔ کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں اور وہ ظلم کرنے والی تھیں۔ (الحج : 45)
4۔ اللہ نے انبیاء کی طرف وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے۔ (ابراہیم : 13)
5۔ اللہ ظالم لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔ (الانعام : 47)
6۔ نہیں ہم نے ہلاک کیں بستیاں مگر ان کے رہنے والے ظالم تھے۔ (القصص : 59)
Ayahs 11:79–80فہم القرآن
ربط کلام : اوباشوں کی بےانتہا بدمعاشی پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی انتہا درجے کی پریشانی اور اپنی کمزوری پر حسرت کا اظہار۔
حضرت لوط (علیہ السلام) نے انہیں بہت سمجھایا مگر اوباش کہنے لگے کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم جس کام کے لیے آئے ہیں۔ تو اچھی طرح جانتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کے سامنے اپنی بےعزتی کو اس قدر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی زبان سے بےساختہ یہ الفاظ نکلے۔ کاش ان کے مقابلے میں میرے پاس طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ قوم کی بدمعاشی پر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےبسی اور غم دیکھ کر ملائکہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا اے اللہ کے پیغمبر ! آپ کو ان کی بدمعاشی سے ڈرنے اور اس صورت حال پر غم کھانے کی ضرورت نہیں۔ آپ حوصلہ رکھیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس لیے بھیجا ہے کہ آپ اور آپ کے ایماندار ساتھیوں کے سوا باقی سب کو تہس نہس کردیا جائے۔ جن میں آپ کی بیوی بھی شامل ہوگی۔ کیونکہ یہ سب کے سب برے ہیں۔ ( العنکبوت : 33۔ 34)
اے لوط ! ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ملائکہ ہیں اس لیے یہ بدمعاش آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ آپ رات کے پچھلے پہر اپنے ساتھیوں کو لے کر اس بستی سے نکل جائیں اور انمیں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ آپ کی بیوی پر وہی عذاب نازل ہوگا جو بدمعاشوں پر رات کے پچھلے پہرصبح کے قریب نازل ہوگا۔ قرآن مجید کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس صورت حال سے اس قدر پریشان تھے کہ وہ پوچھتے ہیں کہ صبح کب ہوگی ؟ حالانکہ ملائکہ نے انہیں عذاب کا ٹھیک ٹھیک وقت بتادیا تھا کہ وہ صبح کے وقت نازل ہوگا اس کے باوجود حضرت لوط (علیہ السلام) پوچھتے ہیں کہ صبح کب ہوگی۔
جس پر ملائکہ عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ کے محبوب پیغمبر صبح تو ہوا چاہتی ہے یہ بتلانے کے بعد ملائکہ نے بدمعاشوں کی آنکھیں مسخ کردیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا انتہا درجے کی پریشانی اور گھبراہٹ میں یہ کہنا کہ کاش میرے پاس پناہ کے لیے مضبوط سہارا ہوتا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ان کے پاس تو اللہ کی ذات کا بہت بڑا سہارا تھا۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ نَحْنُ اَحَقُّ بالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ اِذْقَالَ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًالَقَدْکَانَ یَأْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِیْ السِّجْنِ طُوْلَ مَا لَبِثَ یُوْسُفُ لَاَجَبْتُ الدَّاعِیَ ) [ رواہ البخاری : باب زیادۃ طمانینۃ القلب ]
حضرت ابوہریرہ ؓ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا، ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کا حق رکھتے ہیں جب ابراہیم نے التجا کی تھی ‘ اے میرے پروردگار مجھے دکھا کہ آپ کس طرح مردوں کو زندہ کرتے ہیں ؟ حضرت لوط (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو، وہ بڑی قوت والے کی پناہ میں تھے۔ اگر میں قید خانے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) جتنا عرصہ رہتا ‘ تو میں بلانے والے کی دعوت فوراً قبول کرلیتا۔
Ayahs 11:81–83فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط پر نازل ہونے والے عذاب کی کیفیت بیان کی جارہی ہے۔
قوم لوط نے نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ میں مرتکب چکے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ بلکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔
(أَءِنَّکُمْ لَتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَأْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلَّا أَنْ قَالُوْا اءْتِنَا بِعَذَاب اللَّہِ إِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ )[ العنکبوت : 29]
” کیا تم لوگ مردوں کے پاس جاتے ہو، راہزنی کرتے اور اپنی مجالس میں برے کام کرتے ہو۔ اس کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہنے لگے اگر تو سچا ہے تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آ۔ “
سورۃ الشعراء کی آیت 160 تا 166 میں یوں ارشاد ہوتا ہے کہ : قوم لوط نے بھی پیغمبر کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں۔ اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو۔ جو تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے بڑھنے والے ہو۔
قوم لوط پر جس علاقے میں عذاب نازل ہوا اسے بحرمردار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ جو پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اسکی سطح کا کل رقبہ 351 مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحیرہ روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق شیخ عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ جب اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے پانی کی خصوصیت ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد شمار کیا گیا ہے۔ اس کے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنیوالی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں۔ اہل عرب اسکو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے علاقے کو الٹا دیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش برسائی۔
3۔ ظالموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ 4۔ حضرت لوط کی بیوی بھی اپنی قوم کے ساتھ تباہ ہوئی۔
تفسیر بالقرآن
قوم لوط پر عذاب کی کیفیت :
1۔ جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ان کی بستی کو الٹا دیا اور ان پر پتھروں کی بارش برسا دی۔ (ھود : 82)
2۔ قوم لوط کو ایک سخت آواز نے پکڑ لیا۔ (الحجر : 73)
3۔ ہم نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش نازل کی دیکھیے مجرموں کا انجام کیسے ہوا۔ (الاعراف : 84)
4۔ ہم نے قوم لوط پر پتھر برسائے۔ (القمر : 34)
5۔ قوم لوط پر کنکر کے پتھر برسائے گئے۔ (الذاریات : 33)
Ayahs 11:84–86فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کے انجام کے بعد قوم صالح کے کردار اور انجام کا ذکر۔
قوم مدین کی طرف انہیں میں سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو پیغمبر منتخب کیا گیا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز اسی بات سے کیا جس کی دعوت ان سے پہلے انبیاء دیتے آرہے تھے۔ چناچہ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا الٰہ نہیں۔ قرآن مجید میں الٰہ کے کئی معانی ہیں۔ جن میں سب سے پہلا معنی ہے کہ وہ ہستی جس کی والہانہ طور پر بندگی کی جائے۔ انتہائی مشکل کے وقت صرف اس کو پکارا جائے اور اس کے سوا کسی کو مشکل کشا اور حاجت روا تسلیم نہ کیا جائے۔ ( سورة النحل : 2 تا 65) کیونکہ یہ صفات صرف ایک اللہ کی ذات میں ہیں اور کسی نبی، ولی، فرشتہ اور دیگر مخلوق میں نہیں ہیں۔ جس بناء پر ہر انسان کو اللہ کی ذات اور صفات پر مکمل ایمان لاکرصرف اسی کی عبادت کرنا چاہیے۔ عبادت کا معنی ہے کہ انسان اپنے آپ کو صرف اور صرف ایک اللہ کی غلامی کے لیے وقف کردے۔ یہی کلمہ طیبہ کے پہلے حصہ کا مفہوم اور تقاضا ہے۔ محمد رسول اللہ کا معنی ہے جو بات حضرت محمد ﷺ نے بتلائی اور کرکے دکھائی ہے ہر کام اس کے مطابق کیا جائے چناچہ شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو فرماتے ہیں اے قوم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اس کی بندگی کا تقاضا ہے کہ صرف اسی کی اطاعت و پرستش کی جائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو میں دیکھ رہا ہوں حالانکہ تم مال دار ہو۔ یہاں خیر سے مراد دنیا کا مال و متاع ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ میں خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر تم کفرو شرک اور ماپ تول میں کمی وبیشی کرنے سے باز نہ آئے تو تم پر ایسا عذاب آئے گا جو تمہیں چاروں طرف سے گھیرلے گا۔ اس سے بچ نکلنا تمہارے بس کی بات نہ ہوگی۔ اے میری قوم ناپ تول میں خیانت کرنے کی بجائے اس کو عدل و انصاف کے ساتھ ناپا اور تولا کرو اور دوسروں کی چیزوں میں کسی طریقہ سے کمی و بیشی نہ کرو۔ یہ سراسر فساد کا راستہ ہے۔ تمہیں ملک میں فساد کرنے سے بچنا چاہیے۔ اللہ نے جو تمہیں خیر و برکت عطا کر رکھی ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے اگر تم اس پر ایمان رکھنے والے ہو۔ میں تو تمہیں بار بار نصیحت ہی کرسکتا ہوں۔ کیونکہ میں تم پر نگران نہیں بنایا گیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنے پہلے خطاب میں تین باتیں ارشاد فرمائیں :
1۔ صرف ایک اللہ کی بندگی کرو اور اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔
2۔ لوگوں کا مال کم ناپنے اور تھوڑا تولنے کی بجائے اسے عدل و انصاف کے ساتھ ناپا اور تولاکرو۔ اس میں کسی قسم کی کمی وبیشی نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ عدل و انصاف کے ساتھ ناپ تول کرنے کے بعد جو تمہارا حق بنتا ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے۔
جہاں تک ماپ تول کا معاملہ ہے کہ کسی کو چیز دیتے ہوئے مقرر شدہ وزن سے کم دینا اور اس سے لیتے ہوئے مقررہ شرائط سے زیادہ لینا یہ بدترین قسم کا معاشی استحاصل ہے۔ اس سے نہ صرف معیشت عدم توازن کا شکار ہوتی ہے بلکہ اس زیادتی سے آپس میں شدید نفرت پیدا ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر فساد کی ابتدا نفرت سے ہی ہوا کرتی ہے۔ جس سے منع کرتے ہوئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین طریقوں سے سمجھایا۔
1۔ اے میری قوم کے لوگو ! تم مال دار ہو، اس لیے تمہیں خیانت نہیں کرنا چاہیے۔ اس فرمان کا مقصد یہ تھا کہ ایک غریب آدمی کسی وجہ سے خیانت کرے تو اس کے پاس ایک بہانہ ہوتا ہے گو ایسا بہانہ جائز نہیں لیکن تم کس بنیاد پر اس خیانت کے مرتکب ہو رہے ہو ؟ تم تو مالدار ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم سرمایہ دار ہونے کے باوجود خائن تھی۔
2۔ حلال اور جائز طریقے سے کمایا اور بچایا ہوا مال انسان کے لیے بہتر ہے یعنی بابرکت ہوا کرتا ہے۔
3۔ مجھے اللہ نے تمہیں سمجھانے کے لیے بھیجا ہے، تم پر نگران مقرر نہیں کیا۔
(مَا طَفِفَ قَوْمُ الْمِیْزَانَ إلَّا أخَذَہُمُ اللّٰہُ بالسِّنِیْنَ ) [ السلسلۃ الصحیحۃ : 107]
” جو بھی قوم تولنے میں کمی کرتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر قحط سالی مسلط فرما دیتا ہے۔ “
(وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ ۔ الَّذِینَ إِذَا اکْتَالُوا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُونَ ۔ وَإِذَا کَالُوہُمْ أَوْ وَزَنُوہُمْ یُخْسِرُونَ )[ المطففین : 1۔ 3]
” ہلاکت ہے کم تولنے والوں کے لیے کہ وہ جب لوگوں سے تول کرلیتے ہیں تو زیادہ لیتے ہیں اور جب ان کے لیے تولتے ہیں یا وزن کرتے ہیں تو کمی کرتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ مدین والوں کی طرف شعیب (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ 2۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے جھوٹے معبودوں کی نفی کی۔
3۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔
4۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا۔
5۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔
6۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو زمین میں فساد کرنے سے روکا۔
7۔ ماپ تول میں کمی کرنا ملک میں فساد کرنے کے مترادف ہے۔
تفسیر بالقرآن
نبی نگران نہیں مبلغ ہوتا ہے :
1۔ میں تم پر نگراں نہیں ہوں۔ (ھود : 86) 2۔ آپ ﷺ ان کے لیے نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ (النساء : 80)
3۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان کے لیے نگران نہیں بنایا۔ (الانعام : 107)
4۔ اگر وہ اعراض کریں تو آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ (الشوریٰ : 48)
5۔ رسولوں کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے۔ (النحل : 35) 6۔ آپ کا کام تبلیغ کرنا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ (الرعد : 40)
Ayahs 11:87–88فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم کا جواب۔
مشرکوں اور سچائی کے منکروں کا شروع سے یہ رویہ رہا ہے کہ وہ توحید کو قبول اور حق کو تسلیم کرنے کی بجائے عقیدہ توحید اور حق کے جواب میں نہ صرف انبیاء اور مصلحین پر مختلف قسم کے الزامات لگاتے ہیں بلکہ وہ انبیاء اور مصلحین کے نیک کاموں کو طعنہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہ روّیہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اے شعیب کیا تیری نمازیں تجھے یہی سبق سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ عبادت اور ان کے طرز زندگی کو چھوڑ دیں اور تیری وجہ سے ہم اپنا کاروبار اپنی مرضی اور طریقہ کے مطابق نہ کریں۔ یہ باتیں تجھے زیب نہیں دیتیں کیونکہ ہم تجھے بردبار اور نیک سمجھتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے قوم ! کیا آپ غور نہیں کرتے کہ میں جن کاموں سے تمہیں روکتا ہوں ان سے روکنے کا حکم اور دلائل میرے رب نے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہیں ان برائیوں سے منع کروں۔ پھر تم یہ بھی غور کرو کہ مجھے تمہارے کاروبار کے ساتھ کوئی حسد اور رشک نہیں۔ کیونکہ میرے رب نے مجھے فراوانی کے ساتھ رزق حلال دے رکھا ہے۔ میں تمہیں کسی کاروباری رقابت یا ذاتی مفاد کی خاطر ان کاموں سے نہیں روکتا۔ بلکہ میرا مقصد تو اپنی ہمت کے مطابق اور محض اللہ کی توفیق سے تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ اس کام کے ردّعمل پر میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔ قوم شعیب کا آپ کو نمازوں کا طعنہ دینا اور آپ کی تعریف کرنا اس لیے تھا کہ ایک شریف آدمی کو دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے اور اسے عبادات کو اپنی ذات کی حد تک رکھنا چاہیے۔
یہی وہ غلط فہمی اور پراپیگنڈہ ہے جو جرائم پیشہ لوگ ابتدا ہی سے کرتے آرہے ہیں۔ کہ جب بھی انہیں سمجھایا جائے تو وہ سمجھانے والے کے اچھے کاموں کا اسے طعنہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دین کو کاروبار اور سیاست میں دخل انداز نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح تو دینوی اور سیاسی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ گویا کہ ان کے نزدیک دین ان کی ترقی میں حائل ہوتا ہے۔ جس بناء پر بالآخر حکمران سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جس کے پردے میں مادر پدر آزاد ہونے کے سوا کوئی بات نہیں ہوتی۔
رزقًا حسنًا : الحسنۃ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو انتہائی خوبصورت ہو اور اس کی طرف انسان کا دل مائل ہوجائے یہ دنیا کی کوئی بھی نعمت ہوسکتی ہے اور یہ لفظ نیکی اور خیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ نیکی سے بڑھ کر نیک آدمی کو کوئی چیز مرغوب نہیں ہوتی۔
قوم کے طعنے کے جواب میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے جواب میں نہایت حکیمانہ طریقے سے چھ باتیں ارشاد فرمائیں جوہر مبلغ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
1۔ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں۔
2۔ میرے رب نے مجھے بہترین رزق عنایت فرمایا ہے۔
3۔ میں مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر تمہیں برائی سے منع نہیں کرتا۔
4۔ میرا مقصد اپنی ہمت کے مطابق تمہاری اصلاح کرنا ہے۔
5۔ میں ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہوں۔
6۔ میں ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
مسائل
1۔ بدکار لوگ نیکو کاروں کو نیکیوں کا طعنہ دیتے ہیں۔
2۔ برے لوگ نیک لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو دلائل عطا فرماتا ہے۔
4۔ اللہ ہی رزق عطا فرمانے والا ہے۔
5۔ اپنی ہمت کے مطابق لوگوں کی اصلاح کرتے رہنا چاہیے۔
6۔ نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔
7۔ انسان کو اللہ پر توکل اور اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے :
1۔ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ھود : 88)
2۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3)
3۔ مومن کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (آل عمران : 122)
4۔ ایمان والے اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : 36)
5۔ آپ کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ (الاحزاب : 18)
Ayahs 11:89–90فہم القرآن
ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قوم کو دوسرا جواب اور خدشہ کا اظہار۔
اس سے پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ سمجھایا تھا کہ میں مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر تمہیں برائی سے نہیں منع کرتا۔ میرا مقصد تو تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ مگر قوم ان کی بات سمجھنے کی بجائے تعصب اور ضد کی بنیاد پر مخالفت برائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ اس صورت حال پر جناب شعیب (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا کہ اے میری قوم تمہاری مخالفت اور ہٹ دھرمی تمہیں اس مقام پر لاکر کھڑا نہ کردے جس جگہ پر پہنچ کر حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم تباہ ہوئی تھی۔ جہاں تک قوم لوط کی تاریخ اور کھنڈرات کا تعلق ہے وہ تم سے دور نہیں ہیں۔
اے میری قوم ! اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی اور آئندہ کے لیے سچی توبہ کرو یقیناً میرا رب نہایت ہی مہربان اور بہت ہی زیادہ محبت کرنے والا ہے۔
کسی شخص یا قوم کی گمراہی کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب وہ حقیقت سمجھنے کے باوجود تعصب اور ہٹ دھرمی میں آکر مخالفت برائے مخالفت کا وطیرہ اختیار کرلے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اقوام یہی وطیرہ اختیار کرتی تھیں۔ ایسا ہی انداز اہل مکہ نے نبی معظم ﷺ کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا۔ بدر کے میدان میں مکی لشکرکے ایک شخص نے ابو جہل سے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ کبھی محمد نے ہم سے جھوٹ بولا ہے ؟ ابو جہل نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ سوال کرنے والے نے کہا اب کیا اس کی عمر چوّ ن (54) سال سے زائد ہونے والی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بول سکتا ہے ؟ ابو جہل نے کہا بالکل نہیں۔ سوال کرنے والے نے پوچھا کہ ہم پھر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟ ابو جہل نے کہا دراصل اس کے خاندان کے پاس زم زم کا کنٹرول، منیٰ اور عرفات میں حجاج کی خدمت اور دیگر اعزازات ہیں۔ اگر ہم اس کی نبوت کا بھی اقرار کرلیں تو ہمارے پلے کیا رہ جائے گا۔
یہ ہے وہ قومی اور شخصی تعصب جو حقیقت سمجھنے کے باوجود حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اس قسم کی عصبیت اور خواہ مخواہ کی مخالفت سے منع کرتے ہوئے اپنی قوم کو فرمایا کہ تم ماضی پر استغفار اور مستقبل کے لیے سچے دل سے توبہ کرو۔ یقیناً میرا رب نہایت ہی مہربان اور بڑا محبت کرنے والا ہے۔
(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ ےَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ وَاَنَا مَعَہُ اِذَا ذَکَرَنِیْ فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہُ فِیْ نَفْسِیْ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَاأ ذَکَرْتُہُ فِیْ مَلَاأ خَےْرٍ مِّنْھُمْ ) [ رواہ البخاری : باب یحذرکم اللہ نفسہ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں اپنے بندے کے ساتھ اپنے بارے میں اس کے ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ وہ جب میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذکر کسی گروہ میں کرتا ہے تو میں اسکا ذکر اس سے بہتر گروہ میں کرتا ہوں۔ “
مسائل
1۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ سے ہر حال میں بخشش طلب کرنی چاہیے۔
3۔ انسان کو اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمانے والا اور محبت کرنے والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ نہایت رحم فرمانے اور محبت کرنے والا ہے :
1۔ اگر لوگ شکر کریں تو اللہ کو لوگوں کو عذاب دینے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ (النساء : 147)
2۔ میرا پروردگار بڑا رحم فرمانے اور محبت کرنے والا ہے۔ (ھود : 90)
3۔ اللہ بخشنے اور شفقت کرنے والا ہے۔ (البروج : 14)
4۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ نرمی کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (البقرۃ : 143)
5۔ تمہارا پروردگار شفقت کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (النحل : 47)
6۔ بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (النساء : 16)
Ayahs 11:91–92فہم القرآن
ربط کلام : قوم اور حضرت شعیب کے آپس میں سوال و جواب۔
توبہ استغفار کرنے کی بجائے قوم کے نمائندے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہنے لگے۔ اے شعیب تیری اکثر باتیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں۔ آپ ہر روز ہمیں روکتے ٹوکتے ہیں۔ ہم آپ سے نمٹ لیتے اگر آپ کی برادری مضبوط نہ ہوتی ورنہ تیری تو ہم میں کوئی حیثیت نہیں۔ ہم تجھے اپنے میں نہایت کمزور سمجھتے ہیں۔ تو کسی طرح بھی ہم پر غالب نہیں آسکتا۔
حضرت نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا۔ کیا تمہارے لیے میری برادری اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟ جس اللہ کو تم نے میری برادری کے مقابلے میں پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اگر تم باز نہیں آئے تو تم اپنا کام کرو اور مجھے اپنا کام کرنے دو ۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا کون ہے اور کس پر ذلیل کردینے والا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یقین جانو کہ میرا رب تمہاری تمام حرکات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس فرمان میں یہ کھلا اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے غلط فائدہ نہ اٹھاؤ اور نہ یہ سمجھو تم اس کے احاطہ قدرت سے باہر ہو۔ یہ تو اس کا اصول ہے کہ وہ ظالموں کو ایک مدت معینہ تک مہلت دیتا ہے۔ تاکہ انہیں گناہ کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا پرست لوگوں کی ہمیشہ سے یہ سوچ رہی ہے کہ وہ رب ذوالجلال سے ڈرنے کی بجائے دنیا کے نقصان اور لوگوں کی طاقت سے ڈرتے ہیں۔ ورنہ کتنے لوگ ہیں جو حقیقت سمجھ جاتے ہیں۔ مگر منفی رائے عامہ کے خوف سے اسے قبول نہیں کرتے۔ اس خوف کو دور کرنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھایا کہ بددیانتی چھوڑ کر دیانت اختیار کرو اور شرک سے اجتناب کرتے ہوئے توحید خالص کا عقیدہ اختیار کرو۔ میری برادری سے ڈرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
لوگوں سے ڈرنے کی بجائے اللہ سے ڈرنا چاہیے :
(فَلَا تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِی وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ )[ البقرۃ : 150]
” تم ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا تاکہ تم پر اپنی نعمتوں کو پورا کروں اور تم راہ راست پر چلو۔ “
مسائل
1۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے انہیں کمزور جانا۔
2۔ کافر دنیا والوں کا لحاظ کرتے ہیں عرش والے کا نہیں۔
3۔ انبیاء (علیہ السلام) کی دنیاوی وسائل پر نہیں اللہ پر نظر ہوتی ہے۔
4۔ کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔
تفسیر بالقرآن
ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے :
1۔ بیشک میرا پروردگار جو تم عمل کرتے ہو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (ھود : 92)
2۔ ہر چیز اللہ کے احاطہ علم میں ہے۔ (الطلاق : 12)
3۔ ہمارے رب نے علم کے ذریعے ہر چیز کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ (الاعراف : 89)
4۔ بیشک اللہ لوگوں کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے۔ (آل عمران : 120)
5۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ (حٰم السجدۃ : 54)
6۔ اللہ ہر چیزکا احاطہ کرنے والا ہے۔ (النساء : 126)
Ayah 11:93فہم القرآن
ربط کلام : قوم کی پے درپے مخالفت اور الزامات کے بعد بالآخر حضرت شعیب (علیہ السلام) مجبور ہو کر یہ جواب دیتے ہیں۔
اے میری قوم ! تم میرے ساتھ مزید اختلاف کرنے اور میرے راستے میں رکاوٹ بننے کی بجائے اپنے انداز سے عمل کرو اور میں اپنی جگہ مستقل مزاجی سے کام کرتا ہوں۔ بہت جلد تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کردینے والا عذاب آتا ہے اور ہم میں سے کون جھوٹا ہے۔ بس تم انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ انیسویں پارے میں موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں یہ بھی فرمایا کہ میری برادری یا کسی اور سے ڈرنے کی بجائے اس ذات کبریا سے ڈرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے اس کے جواب میں قوم نے انہیں کہا کہ تم پر تو جادو ہوچکا ہے۔ ہم تیری پیروی کیونکر کریں۔ تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ ہم تجھے کذّاب سمجھتے ہیں۔ اگر تو واقعی سچا ہے تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں صرف اتنا فرمایا کہ میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو کلی طور پر جھٹلادیا۔ (الشعراء : 184 تا 189) چناچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) انہیں یہ فرما کر تم اپنی جگہ انتظار کرو۔ میں اپنی جگہ انتظار کرتا ہوں۔ ان سے الگ تھلگ ہوگئے۔
مسائل
1۔ ہر عمل کرنے والے کو اپنے اعمال کا پتہ چل جائے گا۔
2۔ قوم شعیب پر ذلیل کردینے والا عذاب آیا۔