Ayahs 11:118–119فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا اصول اور اس کی مشیّت۔
اس سے پہلے آیت نمبر 115 میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر اپنے حبیب ﷺ کو صبر کی تلقین فرمائی کہ حوصلہ رکھیے اور صبر کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہاں دوسرے پیرائے میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کے رب کا اصول اور اس کی مشیت ہے کہ اس نے لوگوں کو جبراً ایک امت نہیں بنایا یعنی ہدایت پر اکٹھا نہیں کیا اسی اصول کے پیش نظر لوگ ہمیشہ سے حق والوں کے ساتھ اختلاف کرتے آئے ہیں اور تاقیام قیامت اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس فرد اور جماعت کے جس پر آپ کا رب رحم فرما دے۔
لوگوں کے اختلافات کی فطری وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آپ کے رب کا فرمان سچ ثابت ہوگا کہ وہ بیشمار باغی جنوں اور انسانوں کے ساتھ جہنم کو بھرے گا۔ قرآن مجید میں یہ اصول مختلف الفاظ میں کئی مرتبہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کے بارے میں کسی پر جبر نہیں کرتا۔ اس نے ہر انسان کو عقل و فکر اور ایک حد تک آزادی عنایت فرمائی کہ جس میں رہ کر ہر انسان کو کفرو شرک، ہدایت اور گمراہی کے درمیان فیصلہ کرنا ہے۔ یہ آزادی فکر اس لیے عنایت کی ہے کیونکہ اس نے انسان کو عقل و فکر کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ کچھ انسان فطری طور پر گمراہ پیدا ہوتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ زندگی بھر گمراہی کا راستہ اختیار کیے رکھتے ہیں ایسا ہرگز نہیں کیونکہ اللہ نے انسان کو فطری طور پر حق اور ہدایت پر پیدا فرمایا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک انسان میں طبیعت کے بعض پہلوؤں کے اعتبار سے منفی قوت زیادہ ہوتی ہے جو اس کے لیے بطور آزمائش ہوتی ہے۔ منفی قوت پر قابو پانے اور آزمائش میں سرخرو ہونے میں ہی کامیابی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و شعور کی قوت دینے کے ساتھ قرآن و سنت کی شکل میں مفصل ہدایت نامہ عطا فرمایا ہے تاکہ ہر انسان اس کے مطابق اپنی منفی قوتوں پر قابو پائے اور طبعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدایت کے راستے پر گامزن رہے۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ اَوْ ےُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِےْمَۃُ بَھِےْمَۃً جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِےْھَا مِنْ جَدْعَآءَ ثُمَّ ےَقُوْلُ ” فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَےْھَا لَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ “ ) [ رواہ البخاری : باب اذا اسلم الصبی فمات ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول محترم ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقتجنم دیتے ہیں۔ کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو ؟ پھر آپ ﷺ نے آیت تلاوت کی۔” اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور درست دین ہے۔ “
مسائل
1۔ اختلاف کرنے والے ہمیشہ موجود رہیں گے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی ہر بات پوری ہوتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ جس پر رحمت فرماتا ہے وہ حق کے ساتھ اختلاف کرنے سے اجتناب برتتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ باغی جنوں اور انسانوں سے جہنم کو بھریں گے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کسی کو جبراً ہدایت نہیں دیتا :
1۔ اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن لوگ ہمیشہ ہی اختلاف کرتے رہیں گے۔ (ھود : 118)
2۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع فرما دیتا پس آپ جاہلوں میں سے نہ ہوں۔ (الانعام : 35)
3۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور ہدایت دیتا۔ (الانعام : 149)
4۔ اگر تیرا رب چاہتا تو سارے کے سارے لوگ مومن ہوجاتے۔ (یونس : 99)
5۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : 213)
Ayahs 11:120–122فہم القرآن
ربط کلام : سرور دو عالم ﷺ کو تیسری مرتبہ پھر تسلّی اور حوصلہ دیا گیا ہے۔
دین کا داعی وقت کا پیغمبر ہو یا ایک عام مبلغ اس کے راستے میں بہرحال ایسے مشکل مقام آتے ہیں۔ جن کا سامنا کرتے ہوئے دل پسیجتا ہے اور اسے اپنا حوصلہ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ڈھارس اور اطمینان دلانے کے لیے اس کے سامنے دنیا سے رخصت ہونے والے عظیم لوگوں کے عظیم الشان کارنامے بیان کیے جائیں تو اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قوت کار میں اضافہپاتے ہوئے منزل مقصود کے لیے ان واقعات کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھتا ہے۔ بیشک نبی اکرم ﷺ سرور دو عالم تھے مگر ایک انسان ہونے کے ناطے حوصلہ افزا معاملات سے آپ کا دل ڈھارس حاصل کرتا۔ اور منفی رد عمل سے آپ کو غم اور پریشانی لاحق ہوتی تھی۔ جسے دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء کرام کے واقعات بیان فرمائے ہیں۔ آپ کے حسب حال کچھ انبیاء کے واقعات مختصر اور باقی کے قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ جنہیں آپ کے لیے اطمینان کا باعث قرار دیتے ہوئے حق کی تائید میں ٹھوس دلائل دیے ہیں تاکہ لوگوں کے دل حق کی طرف مائل ہوں اور عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے بہترین نصیحت کا مواد موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر لوگ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو آپ ﷺ کو ارشاد ہے کہ آپ انہیں فرمائیں کہ حق کا انکار کرنے والو ! میرے ساتھ مزید الجھنے اور حق کے راستہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے تم اپنے کام کیے جاؤ اور مجھے اپنا کام کرنے دو ۔ اس کے نتیجے کا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی اپنی جگہ انتظار کرتا ہوں۔
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ ﷺ یُکْثِرُ أَنْ یَّقُوْلَ اللَّہُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دینِکَ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُول اللَّہِ تَخَافُ عَلَیْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَصَدَّقْنَاکَ بِمَا جِءْتَ بِہِ فَقَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بَیْنَ إِصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ یُقَلِّبُہَا وَأَشَا رَ الأَعْمَشُ بِإِصْبَعَیْہِ )
[ رواہ ابن ماجۃ : باب دعاء الرسول ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ میرے دل کو دین پر قائم فرما، ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! آپ ہمارے بارے میں ڈرتے ہیں جبکہ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور آپ کی تصدیق کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یقیناً دل رحمن کی دوانگلیوں کے درمیان ہیں وہ انہیں جدھر چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اور اعمش نے اپنی انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔ “
مسائل
1۔ رسول اللہ ﷺ کے دل کو تقویت دینے کے لیے سابقہ انبیاء کے قصے بیان کیے گئے۔
2۔ سابقہ انبیاء و رسل کے قصے برحق ہیں۔ 3۔ انبیاء (علیہ السلام) کے قصص میں مومنین کے لیے نصیحت ہے۔
4۔ ایمان نہ لانے والوں کو عنقریب سب کچھمعلوم ہوجائے گا۔
تفسیر بالقرآن
قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات کی حیثیت :
1۔ قرآن مجید کے بیان کردہ واقعات سچے ہیں ان میں اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے۔ (ھود : 120)
2۔ بیشک یہ قصے بالکل برحق ہیں اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ (آل عمران : 62)
3۔ ہم ان کی خبریں آپ پر حق کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ (الکہف : 13)
4۔ ہم آپ پر سابقہ امم کی خبریں بیان کرتے ہیں۔ (طہٰ : 99)
5۔ ہم نے آپ سے پہلے ان میں رسول بھیجے ان میں سے بعض کے واقعات ہم نے آپ پر بیان کیے۔ (المومن : 78)
Ayah 11:123فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اس فرمان میں ایک طرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ کیا ہونا چاہیے اور دوسری طرف داعی حق کے لیے تسلی ہے کہ جو خدمت وہ سرانجام دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے۔ انجام کار اور صلہ اس کی جناب میں موجود ہے۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ دل چھوٹا کرنے اور مخالفین کی مخالفت کی طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے رب کی عبادت یعنی اس کی یاد میں مگن رہیں اور اس کی ذات پر بھروسہ اور اعتماد رکھیں۔ آپ کا رب نہ آپ کی بےمثال محنت واخلاص سے غافل ہے اور نہ ہی حق کے منکروں اور آپ کی مخالفت کرنے والوں کی سازشوں اور شرارتوں سے بیخبر ہے۔ توکل کا معنی ہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا مفہوم ہے کہ بندہ اپنے خالق ومالک پر کامل اعتماد و یقین کا اظہار کرے۔ جو اپنے رب پر بھروسہ اور توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ لہٰذا تنگی اور آسانی ‘ خوشی اور غمی میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے۔ یہ غموں کا تریاق اور مشکلات کا مداوا ہے۔
(وَمَنْ یَّتَوَ کَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَحَسْبُہُ إِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ أَمرِہٖ قَد جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیءٍ قَدرًا)
[ الطلاق : 3]
” جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے اللہ کافی ہے۔ اللہ اپنا حکم نافذ کرکے رہتا ہے اس نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ “
(وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ) [ یوسف : 67]
” اس پر ہی بھر وسہ کرنے والوں کو اعتماد کرنا چاہیے۔ “
قرآن و سنت کی روشنی میں توکل کا کامل تصور یہ بنتا ہے کہ وسائل اور اسباب کو استعمال کرتے ہوئے۔ کام کا نتیجہ اور انجام اللہ کے سپرد کیا جائے۔ توکل پریشانیوں سے نجات پانے کا پہلا ذریعہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل ہی نہیں اس کے مسائل کس طرح حل ہوں گے۔ اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جب اپنے جواں سال بیٹوں کو شہرمصر کی طرف روانہ کیا تو اس وقت کچھ ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں شہر میں داخل ہونے کے لیے ایک ہی راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ میری طرف سے یہ احتیاطی تدابیر ہیں۔ انجام کار تو اللہ ہی کے اختیار میں ہوا کرتا ہے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے غیب کو جانتا ہے۔ 2۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی دسترس میں ہیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کی جائے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کیا جائے۔
5۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے غافل نہیں۔
تفسیر بالقرآن
ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے :
1۔ اللہ کی عبادت کرو اور اسی پر توکل کرو۔ (ھود : 123)
2۔ جب کسی کام کا عزم کرو تو اللہ پر توکل کرو۔ (آل عمران : 159)
3۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اس کو کافی ہوتا ہے۔ (الطلاق : 3)
4۔ مومنوں کو اللہ پر توکل کرنے کا حکم ہے۔ (المجادلۃ : 10)
5۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : 67)
6۔ رسول اکرم ﷺ کو اللہ پر توکل کرنے کی نصیحت کی گئی۔ (النمل : 79)
7۔ حضرت نوح نے فرمایا میں نے اللہ پر توکل کیا ہے تم اپنی تدبیریں اور شریک جمع کرکے زورلگالو۔ (یونس : 71)
8۔ حضرت ہود نے فرمایا میں نے اپنے اللہ پر توکل کیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ (ہود : 56)