Ayah 11:17فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ اور آخرت کا وہی شخص انکار کرسکتا ہے۔ جس کا ضمیر مردہ ہوچکا ہو۔ زندہ ضمیر شخص کی ہدایت کے لیے درج ذیل دلائل میں سے کوئی ایک دلیل بھی کافی ہے۔
یہاں اس سے پہلی آیات کا مضمون سامنے رکھتے ہوئے اس شخص کے ساتھ مقابلہ کیا جارہا ہے جو زندہ ضمیر ہو اور اس کے سامنے آسمانی کتابوں کے دلائل ہوں۔ وہ اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے قرآن مجید کی تصدیق کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جو مردہ ضمیر ہونے کی وجہ سے حقائق کا انکار کرنے پر تل چکا ہو، اس کے ساتھ جہنم کے سوا کیا وعدہ کیا جاسکتا ہے ؟
اے رسول ﷺ ! آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ جس میں شک کرنے کی ذرہ برابر گنجائش نہیں۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا عالم یہ ہے کہ وہ حقائق سننے اور جاننے کے باوجود ایمان نہیں لاتے۔
اس آیت کریمہ کے مفسرین نے دو مفہوم اخذ کیے ہیں۔ اہل علم کی ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ اس آیت میں رسول مکرم ﷺ مخاطب ہیں۔ آپ کو نبوت سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوچکی تھی۔ پھر جبریل امین (علیہ السلام) نے آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر سنایا اور گواہی دی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ پر ویسی ہی کتاب نازل کی گئی ہے جیسی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی۔ جو لوگوں کے لیے رہنما اور رحمت تھی۔ لہٰذا آپ ﷺ کو کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت نہیں مانے گی۔ اس طرح کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور باقی جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
دوسری جماعت کا خیال ہے :” اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ “ سے مراد وہ شخص ہے جسے فطری طور پر اس شعور کی بیداری حاصل ہو۔ یعنی اسے ” اَلَسَتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی “ (کیا میں تمہارا رب ہوں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں) کا وعدہ یاد ہو اور پھر اسے قرآن مجید کی صورت میں رسول ﷺ کا پیغام پہنچ جائے جو اللہ کی رحمت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب تورات جو لوگوں کے لیے رحمت اور پیشوا تھی۔ پھر کچھ لوگ ایمان لاتے ہیں اور اکثرانکار کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔” فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِنْہُ “ کا خطاب مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ سے ہے جیسا کہ اور مقامات پر بھی ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقتاً ان الفاظ سے مراد ” آپ ﷺ کی امت کے لوگ ہیں “۔
مسائل
1۔ قرآن مجید کا تابع دار اور انکار کرنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔
2۔ قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کی گواہی تورات نے دی ہے۔
3۔ قرآن کا انکار کرنے والوں کے لیے جہنم ہے۔
4۔ کلام اللہ کے متعلق کسی قسم کے شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
5۔ قرآن مجیدبرحق ہے۔
6۔ لوگوں کی اکثریت قرآن مجید پر ایمان نہیں لاتی۔
تفسیر بالقرآن
لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لایا کرتی :
1۔ تیرے پروردگار کا کلام سچا ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ (ہود : 17)
2۔ لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔ اگرچہ آپ ان کے ایمان پر کو شاں ہوں۔ (یوسف : 103)
3۔ قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ لیکن لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی۔ (المومن : 59)
4۔ بیشک اس میں نشانی اور عبرت ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (الشعراء : 8)
Ayahs 11:18–19فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی تکذیب، آخرت کا انکار کرنا۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔
کفار یہ الزام عائد کرتے کہ محمد ﷺ قرآن مجید اپنی طرف سے بنالیتا ہے۔ ان کا یہ الزام بھی تھا کہ مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے کا تصور اس شخص کے الفاظ کی جادوگری ہے حالانکہ آپ ﷺ یہ باتیں من جانب اللہ کیا کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے رسول ﷺ ! یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے ! بلکہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ جو حقیقت میں اللہ کو جھٹلانا ہے۔ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولتا ہے اس سے بڑھ کر کون بڑا ظالم ہوسکتا ہے ؟ ان جھوٹوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا اور ان پر شہادتیں قائم کی جائیں گی۔ تب یہ کوئی جواب نہیں دے پائیں گے۔ اس وقت گواہ کہیں گے کہ ظالموں پر اللہ کی پھٹکارہو۔ یہ لوگ قیامت کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی وجہ سے یہ لوگ قولاً اور عملاً اللہ کی راہ میں رکاوٹ بننے کے ساتھ کفر کررہے ہیں۔
(عَنْ کَنَانَۃَ الْعَدَوِیِّ قَالََ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ؓ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ،
أخْبَرَنِیْ عنِ الْعَبْدِ ، کَمْ مَعَہٗ مِنْ مَلَکٍ ؟ فَقَالَ مَلَکٌ عَلٰی یَمِیْنِکَ عَلٰی حَسُنَاتِکَ ، وَھُوَ آمِرٌ عَلٰی اَّلذِی عَلٰی الشِّمَالِ ، إذَا عَمِلْتَ حَسَنَۃً کُتِبَتْ عَشْرًا، فَإذَا عَمِلْتَ سَیِّءَۃً قَالَ الَّذِی عَلٰی الشِّمَالِ لِلَّذِیْ عَلٰی الْیَمِیْنِ اَکْتُبُ ؟ قَالَ لَا لَعَلَّہٗ یَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَیَتُوْبُ )[ ابن کثیر ]
” کنانہ بن عدی کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ کے رسول آدمی کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں آپ نے فرمایا ایک فرشتہ دائیں جانب جو نیکیاں تحریر کرتا ہے اور وہ بائیں جانب والے فرشتے سے با اختیار ہوتا ہے۔ جب انسان نیکی کرتا ہے تو وہ دس نیکیاں لکھ لیتا ہے۔ جب برائی کرتا ہے تو بائیں جانب والا دائیں جانب والے سے کہتا ہے کیا میں لکھ لوں ؟ وہ کہتا ہے نہیں شاید کہ استغفار کرلے اور توبہ کرلے۔ “
مسائل
1۔ اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں جو اللہ پر افترا بازی کرتا ہے۔
2۔ قیامت کے دن جھوٹے اللہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
3۔ جھوٹوں کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے۔
4۔ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے۔
5۔ آخرت کا انکار کرنے والے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرم کے خلاف شہادتیں :
1۔ قیامت کے دن جھوٹ باندھنے والوں کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے۔ (ہود : 18)
2۔ قیامت کے دن مجرم کے ہاتھ، پاؤں اور زبان اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ (النور : 24)
3۔ قیامت کے دن مجرموں کے مونہہ پر مہر لگادی جائے گی ہاتھ اور پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ (یٰس : 65)
4۔ یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے۔ تو ان کے کان، آنکھیں اور جسم ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (حٰم السجدۃ : 20)
5۔ نبی اکرم ﷺ اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (البقرۃ : 143)
Ayahs 11:20–22فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کا انکار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے لوگوں کی دنیا میں حیثیت اور آخرت میں ان کا انجام۔
آخرت کا انکار کرنے والے دنیا میں تو حقائق کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جانا۔ لیکن قیامت کے دن جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے انکار نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اٹھائے گا اور انھیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہ اپنی پیشی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ انسان جب اللہ کی ذات کا منکر اور آخرت کا انکاری ہوجائے تو پھر اس کے گناہ اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور آخرت کے انکار کی وجہ سے وہ اس حد تک باغی بن جاتا ہے کہ اس کی ذات اور اس کے کام لوگوں کے لیے اللہ کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور ایسے لوگ منفی فکر اور خودسری کی وجہ سے سرعام انبیاء سے مطالبہ کرتے تھے کہ اگر ہم واقعی مجرم ہیں تو ہماری گرفت کیوں نہیں ہوتی۔ ان کی ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ انہیں ڈھیل دینا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے عین مطابق ہے۔ ورنہ یہ اور ان کے پیرو مرشد اللہ کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ دنیا میں انہیں مہلت دینے کا یہ معنی نہیں کہ قیامت کے دن بھی یونہی چھوٹ جائیں گے، بلکہ انہیں اور ان کی وجہ سے جو لوگ گمراہ ہوئے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سننے کے لیے کان دیے اور دیکھنے کے لیے آنکھیں عطا فرمائیں۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ اور گم ہوگیا ان سے جو تھے وہ وہ افترا باندھتے ہی کی عطا کردہ صلاحیتوں سے حقیقی فائدہ نہ اٹھایا۔ مرید غلط پیروں کی وجہ سے اور ور کر اپنے لیڈروں کے پیچھے اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے پیروں کی وجہ سے ان کے مرید گمراہ ہوئے اور پھر دوسروں کو گمراہ کرتے رہے۔ اس بنا پر یہ لوگ اپنے اور دوسروں کے گناہوں کے ذمہ دار ٹھہرے۔ جس وجہ سے انہیں دوگنا عذاب ہوگا۔ لہٰذا یہ لوگ نقصان میں ہونگے اور آخرت کا نقصان ناقابل تلافی اور سب سے بڑا نقصان ہے۔ بلاشبہ ایسے لوگ بھاری اور نہ ختم ہونے والا نشان پائیں گے۔ اس وقت پیر اپنے مرید اور لیڈر اپنے ور کروں کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ بلکہ جہنم کا عذاب دیکھ کر اس قدر حواس باختہ ہوں گے کہ دنیا کے تعلقات اور دعوے سب بھول جائیں گے۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی بھی عاجز نہیں کرسکتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
3۔ گمراہی کے ذمہ دار لوگوں کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ 4۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے خسارہ پائیں گے۔
5۔ قیامت کے دن معبودان باطل نظر نہیں آئیں گے۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن مجرموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا :
1۔ اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ (ہود : 20)
2۔ تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔ (البقرۃ : 107)
3۔ اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو تمہاری مدد کرسکے۔ (البقرۃ : 120)
4۔ اللہ کے سوا کوئی ولی اور بچانے والا نہیں ہے۔ (الرعد : 37)
5۔ اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔ (العنکبوت : 22)
6۔ اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔ (الشوریٰ : 31)
Ayahs 11:23–24فہم القرآن
ربط کلام : ملعون لوگوں کے بعد نیک مخلصین کا ذکر۔
قرآن مجید حسب دستور دو قسم کے لوگوں اور کرداروں کے درمیان تقابل بیان کرتا ہے۔ کیا اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ حقائق نہ دیکھنے اور نہ سننے کی وجہ سے اندھوں اور بہروں کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ جو ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اتنا فرق ہونے کے باوجود لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اللہ کے حضور عاجزی کرنیوالے لوگ اپنے رب کی رضا کے لیے حقیقت کو بغور دیکھتے اور سنتے ہیں۔ عاجزی کرنے والوں سے مراد اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ جس کی تاکید اور وضاحت ایمان اور عمل صالح سے کردی ہے۔
” اَخْبَتُوْٓا “ کا لغوی معنی ” عاجزی اختیار کرنا “ جس کا اجر جنت ہے اور اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ قرآن مجید باربار بتلاتا اور سمجھاتا ہے کہ ایمان کے ساتھ صالح عمل کرنا لازم ہے۔ ایمان اور عمل صالح کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ یہ ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔ نہ ہی ایک دوسرے سے جدا ہو کر ان کی کوئی حیثیت رہتی ہے۔
جنت کی سجاوٹ :
(عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ الْجَنَّۃُ مَا بِنَاؤُہَا قَالَ لَبِنَۃٌ مِنْ فِضَّۃٍ وَلَبِنَۃٌ مِنْ ذَہَبٍ وَمِلاَطُہَا الْمِسْکُ الأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُہَا اللُّؤْلُؤُ وَالْیَاقُوتُ وَتُرْبَتُہَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ یَّدْخُلْہَا یَنْعَمْ وَلاَ یَبْأَسْ وَیُخَلَّدْ وَلاَ یَمُوْتُ لاَ تَبْلَی ثِیَابُہُمْ وَلاَ یَفْنَی شَبَابُہُمْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ الجنۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کی بناوٹ اس طرح ہے کہ ایک اینٹ چاندی کی اور ایک سونے کی اور اس کا گارا خوشبودار کستوری ہے۔ اس کے کنکر لؤلؤ اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے جو اس میں داخل ہوگا وہ خوش و خرم ہوگا اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اسے موت نہیں آئے گی کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے اور نہ جوانی ختم ہوگی۔ “
(عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ یُؤْتَی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِأَنْعَمِ أَہْلِ الدُّنْیَا مِنَ الْکُفَّارِ فَیُقَالُ اغْمِسُوْہُ فِی النَّارِ غَمْسَۃً فَیُغْمَسُ فِیْہَا ثُمَّ یُقَالُ لَہُ أَیْ فُلاَنٌ ہَلْ أَصَابَکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لاَ مَا أَصَابَنِی نَعِیْمٌ قَطُّ وَیُؤْتَی بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِینَ ضُرًّا وَبَلاَءً فَیُقَالُ اغْمِسُوْہُ غَمْسَۃً فِی الْجَنَّۃِفَیُغْمَسُ فِیْہَا غَمْسَۃً فَیُقَالُ لَہُ أَیْ فُلاَنٌ ہَلْ أَصَابَکَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلاَءٌ فَیَقُوْلُ مَا أَصَابَنِی قَطُّ ضُرٌّ وَلاَ بَلاَءٌ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب صفۃ النار ]
” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دن کفار میں سے دنیا کے خوشحال ترین آدمی کو لایا جائے گا اور حکم ہوگا اسے جہنم میں غوطہ دلواؤ۔ اسے غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھاجائے گا کیا تجھے دنیا میں کبھی کوئی نعمت حاصل ہوئی ہے۔ وہ کہے گا نہیں مجھے کبھی کوئی نعمت نہیں ملی۔ سخت تکالیف پھر آزمائشوں میں مبتلا رہنے والے مومن کو لایا جائے گا کہا جائے گا اسے جنت کی ایک جھلک دکھلاؤ پھر اس سے پوچھاجائے گا۔ کیا تجھے کبھی کوئی تکلیف لاحق ہوئی ؟ وہ کہے گا میں کبھی بھی تکلیف و آزمائش میں مبتلا نہیں کیا گیا۔ “
مسائل
1۔ اللہ پر ایمان لانے والے، عمل صالح کرنے والے اور اپنے رب کی طرف جھکنے والے ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
2۔ اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے۔ 3۔ بہرا اور سننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔
4۔ اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے نقصان اٹھائیں گے۔
تفسیر بالقرآن
نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے :
1۔ کیا اندھا اور بینا، بہرا اور سننے والا برابر ہوسکتے ہیں ؟ (ہود : 24)
2۔ اندھا اور دیکھنے والا، نیک اور بدبرابر نہیں ہوسکتے۔ (المومن : 58)
3۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18)
4۔ اللہ مجرموں اور مومنوں کو برابر نہیں رکھے گا۔ (القلم : 35۔ 36)
Ayahs 11:25–26فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔
قرآن پاک کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھی جاچکی ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی توحید سمجھانے سے کیا۔ جس کا تقاضا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جن کو اوّلُ الرُّسُل بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو یہی فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ میں تمہیں اس طریقہ عبادت کے انجام سے واشگاف الفاظ میں آگاہ کررہا ہوں جس طریقہ سے تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ اگر تم اس طریقہ عبادت سے باز نہ آئے تو تم پر اذیت ناک عذاب نازل کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے فوت شدہ انبیاء اور بزرگوں کے مجسمے بنائے ہوئے تھے۔ جنہیں سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس طرح اللہ کی عبادت کرنے کا زیادہ لطف آتا ہے اور ان کی ارواح ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے سمجھانے پر وہ لوگ سمجھنے کی بجائے یہ کہنے لگے کہ اے نوح ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ وہ لوگ ایک دوسرے کو پکا کرتے ہوئے کہتے کہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو ہرگز نہیں چھوڑنا۔ یہ اس قوم کے پانچ فوت شدہ بزرگ تھے۔
عبادت کا مفہوم :
اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے۔ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو زبان سے اقرار کرے اور اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے رہا ہو۔ اے اللہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک لے جائے گویا کہ وہ پستیوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ زبان جنبش کرے تو اس کی حمد و ثنا کے گیت گائے۔ دست سوال دراز کرے تو سراپا التجا بن جائے۔ مال خرچ کرے تو اس عاجزی کے ساتھ کہ میں تو مالک کی ملکیت ہی واپس لوٹا رہا ہوں نہ یہ میرا مال ہے ہے اور نہ اس میں میرا کمال ہے۔
اس عہد کو نمازی پانچ وقت تشہد میں دہراتا ہے :
(اَلتَّحَیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰاتُ وَالطَّیِّبَاتُ )
” تمام قسم کی قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ “
نبی اکرم ﷺ کو حکم :
(قُلْ إِنَّ صَلَاتِیْْ وَنُسُکِیْْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ )[ الانعام : 162۔ 163]
” کہہ دیجیے ! یقیناً میری نماز، قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا اسلام لانے والا ہوں۔ “
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف ڈرانے والا بناکر بھیجا گیا۔
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلایا۔
3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
تفسیر بالقرآن
تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی توحید سے کیا کرتے تھے :
1۔ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (ہود : 26)
2۔ حضرت ہود نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں۔ (الاعراف : 65)
3۔ حضرت صالح نے کہا اللہ کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں اسی کی عبادت کرو۔ (الاعراف : 73)
4۔ حضرت شعیب نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (ہود : 84)
5۔ ہم نے ہر قوم کی طرف رسول بھیجے اور انہوں نے دعوت دی کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے بچو۔ (النحل : 36)
6۔ بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے، اسی کی عبادت کرو۔ (الزخرف : 64)
Ayah 11:27فہم القرآن
ربط کلام : قوم نوح کا حضرت نوح (علیہ السلام) کو جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نمائندوں یعنی سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور جو تیرے پیچھے چلنے والے ہیں۔ وہ ہم میں نہایت گھٹیا لوگ ہیں اور ہم اپنے آپ پر تم میں کوئی فوقیت نہیں دیکھتے بلکہ ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اور تاریخ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو آدمی اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی طرف سے سب سے پہلے ایسے ہی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی بنا پر ہی اہل مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ نبی ہماری طرح کا انسان ہے۔ نبی تو انسان کی بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ جس کا جواب آپ کی زبان اطہر سے یوں کہلوایا گیا کہ ان سے فرمائیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چلنے پھرنے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور دیگر حاجات انسانی کے حوالے سے میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ جو حاجات اور ضروریات تمہیں پیش آتی ہیں بحیثیت انسان میں ان حاجات سے مبرا نہیں ہوں۔ اس لحاظ سے میں تمہارے جیسا انسان ہوں یعنی بنی نوع انسان میں سے ہوں۔ لیکن مجھ پر اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے گویا کہ میں اس کا نامزد نمائندہ ہوں اور اسکا پیغام یہ ہے کہ لوگو ! اللہ ایک کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں۔ (الکہف : 110) حضرت نوح (علیہ السلام) کو دوسرا طعنہ یہ دیا گیا کہ تیرے ماننے والے ہماری سوسائٹی کے نچلے درجے کے لوگ ہیں۔ یہی طعنہ نبی معظم ﷺ کو بھی دیا گیا کہ تیرے قریب رہنے والے لوگ غریب کنگال اور نوکرچاکر قسم کے لوگ ہیں۔ اگر ان کو تو اپنے آپ سے دور ہٹائے تو ہم آپ کے قریب ہونے کے لیے تیار ہیں۔ قوم نوح کا یہ بھی کہنا تھا کہ تم لوگوں میں ہم اپنے پر کوئی فضیلت اور فوقیت نہیں دیکھتے یہ کہنا بھی ان کے تکبر اور رعونت کی وجہ سے تھا۔ ورنہ انبیاء کے پیروکار کردار کے سچے اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے ہوا کرتے تھے جن میں سے کسی ایک کا مقابلہ ان کی پوری قوم سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جہاں تک پیغمبر کی سیرت کا تعلق ہے وہ تو اپنے دور کا منفرد اور ممتاز انسان ہوا کرتا ہے اس لیے یہ کہنا کہ پیغمبر یا اس کے تابع فرماں لوگوں میں کوئی افضلیت کی بات نہیں۔ اس سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ لیکن کفار بالخصوص ان کے لیڈروں کا یہی پروپیگنڈہ ہوا کرتا تھا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔
اہل مکہ کا وطیرہ :
(عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ أنَّہٗ قَالَ مَرَّ الْمَلأ مِنْ قُرَیْشٍ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ وَعِنْدَہٗ صُُہَیْبٌ وَخَبَابٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ وَغَیْرُہُمْ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَقَالُوْا یَا مُحَمَّدُ اأرَضِیْتَ بِہَؤلَاءِ عَنْ قَوْمِکَ ؟ أفَنَحْنُ نَکُوْنُ تَبَعاً لِہَؤُلَاءِ ؟ أطْرُدْہُمْ عَنْ نَفْسِکَ ، فَلَعَلَّکَ إنَ طَرَدْتَہُمْ اتَّبَعْنَاکَ ، فَقَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَا أنَا بِطَارِدِ الْمُؤمِنِیْنَ فَقَالُوْا فَأقُمْہُمْ عَنَّا إذَا جِءْنَا، فَإذَا أقَمْنَا فَأقْعُدْہُمْ مَعَکَ إنْ شِءْتَ ، فَقَالَ نَعَمْ طَمْعاً فِیْ إیْمَانِہِمْ ) [ تفسیر الرازی ]
” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے اور آپ کے پاس صہیب، خباب، بلال، عمار اور ان جیسے کمزور مسلمان بیٹھے ہوئے تھے قریش نے کہا کیا آپ اپنی قوم میں سے ان کے ساتھ راضی ہیں اور ہم ان کی وجہ سے آپ کی تابعداری کرنے والے نہیں ہیں ان کو اپنے آپ سے دور کردیجیے۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ انہیں اپنے سے دور کردیں تو ہم آپ کی اطاعت کرلیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں مومنوں کو دور نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا جب ہم آئیں تب آپ انہیں اٹھا دیا کریں جب ہم اٹھ جائیں۔ پھر انہیں اپنے پاس بٹھانا چاہیں تو بٹھا لیں آپ نے ان کے ایمان لانے کے لالچ سے فرمایا ٹھیک ہے۔ “
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو قوم نے اپنے جیسا انسان سمجھ کر جھٹلایا۔ 2۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے تابع فرماں اکثر غرباء ہوتے ہیں۔
3۔ کفار ایمانداروں کو حقیر جانتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) پر کفار کے الزامات :
1۔ حضرت نوح کو ان کی قوم نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (ہود : 27)
2۔ کفار نے تمام انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
3۔ نبی ﷺ کو اہل مکہ نے جادوگر کہا۔ (الصف : 6) 4۔ کفار آپ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ (الطور : 30)
5۔ قوم فرعون نے موسیٰ کو جادوگر ہونے کا الزام لگایا۔ (القصص : 36)
Ayahs 11:28–30فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی سطحی اور بےبنیاد گفتگو کا نہایت ہی مدبرانہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اے میری قوم کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کہ میں نے تمہارے سامنے جو دعوت پیش کی ہے اس کے کتنے واضح دلائل اپنے رب کی طرف سے پیش کیے ہیں، جہاں تک میرے بشرہونے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ میں واقعی بشرہی ہوں۔ لیکن اس میں بھی غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنافضل وکرم فرمایا ہے۔ اس نے تم سب میں سے مجھے ہی اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اگر تم جان بوجھ کر حقائق دیکھنے اور ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو میں کس طرح تم پر ہدایت مسلط کرسکتا ہوں۔ اللہ کی ہدایت کو قبول کرنا اس کی رحمت اور فضل کے بغیر ممکن نہیں ہوا کرتا۔ پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ میں تمہیں یہ دعوت اس لیے نہیں دے رہا کہ اس کے بدلے مجھے کسی مال، منصب یا شہرت کی غرض ہے۔ میں آپ سے اجرکاطالب ہونے کی بجائے اپنے رب پر بھروسہ رکھتا ہوں کہ وہی مجھے اس کا اجر عنایت فرمائے۔ جہاں تک آپ کے اس مطالبے کا تعلق ہے کہ میں غریب اور کمزور ایمانداروں کو چھوڑدوں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ جو اپنے رب کی رضا اور ملاقات کی چاہت رکھتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں۔ میں رب کے منکروں کو ترجیح دوں، تمہارا یہ مطالبہ سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ اگر میں مخلص اور ایمان میں سچے لوگوں کو اپنے سے دور کردوں تو اس جرم کے بدلے اللہ تعالیٰ سے مجھے کون چھڑائے گا ؟ کیا تم اس حقیقت اور دعوت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو ؟
مسائل
1۔ انبیاء ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات لے کر آتے ہیں۔ 2۔ کسی کو ہدایت دیناانبیاء کے اختیار میں نہیں تھا۔
3۔ انبیاء (علیہ السلام) لوگوں سے اجر کے خواہاں نہیں ہوتے تھے۔ 4۔ انبیاء (علیہ السلام) مسکینوں کو التفات خاص سے محروم نہیں کرتے۔
5۔ ایمان والے اپنے رب سے ملاقات کریں گے۔ 6۔ ایمان والوں کو کم تر اور حقیر جاننے والے جاہل ہوتے ہیں۔
7۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ 8۔ اللہ تعالیٰ کے تابع داروں سے کبھی اعراض نہیں کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) نبوت کے کام پر کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے :
1۔ حضرت نوح نے فرمایا میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔ (ہود : 29)
2۔ حضرت ہود نے فرمایا کہ میں تم سے تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ (الشعرا : 127)
3۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ میرا اجر اللہ رب العالمین پر ہے اور تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ (الشعرا : 141، 145)
4۔ میرا اجر اللہ پر ہے اور وہی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (سبا : 47) 5۔ میرا اجر اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ (ہود : 51)
6۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں تجھ سے نہ اجر چاہتا ہوں اور نہ کسی قسم کا تکلف کرتا ہوں۔ (ص : 86)
Ayah 11:31فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو چوتھا جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کو فقط اتنی دعوت دی تھی کہ اے لوگو ! اللہ ہی سب کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ لہٰذا ادھر ادھر کے واسطے چھوڑ کر براہ راست صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ مگر قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) پر اعتراضات کیے اور ان سے مختلف قسم کے مطالبات کرنے شروع کردیئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے بالترتیب یہ جواب دیئے :
1۔ اے میری قوم ! اللہ نے مجھے اپنی رحمت کے ساتھ منتخب فرماکر حق کے ٹھوس اور واضح دلائل دیئے ہیں۔ اگر تم جان بوجھ کر انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو میں ہدایت کو کس طرح تم پر مسلط کرسکتا ہوں۔
2۔ اے میری قوم کے لوگو ! نہ تم سے اس کام کا معاوضہ طلب کرتا ہوں اور نہ ہی تمہارے کہنے پر صاحب ایمان لوگوں کو اپنے سے دور کرسکتا ہوں۔
3۔ اے میری قوم ! اگر میں مخلص اور نیک لوگوں کو تمہاری وجہ سے اپنے آپ سے دور کردوں تو اس جرم پر اللہ تعالیٰ کے سامنے میری کون مدد کرسکتا ہے ؟
باطل پرست لوگوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ حق پرستوں کو الجھانے کے لیے وہ باتیں کرتے ہیں۔ جن کا حق والوں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا اور ان باتوں کا سب سے پہلے نشانہ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مقدس شخصیات کو بنایا گیا، عجب بات یہ ہے کہ اس کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہی ہوگئی تھی۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر مذکورہ بالا اعتراضات کے ساتھ یہ مطالبات کیے گئے جن کے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ جوابات دیئے :
1۔ اے میری قوم ! میں نے یہ کب دعویٰ کیا تھا کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک ہوں اور تم میری نبوت کو تسلیم کرو میں تمہارے لیے شہد کی نہریں بہادوں گا۔ خزانوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ اپنی تقسیم کے مطابق جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے۔
2۔ اے میری قوم : میں نے کبھی غیب دانی کا دعویٰ نہیں کیا۔ غیب کے معاملات اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ولی اور نبی نہیں جانتا کسی کو کوئی خبر نہیں کی چند لمحوں کے بعد کیا کچھ ہونے والا ہے۔
3۔ اے قوم ! تم مجھ پر یہ بھی اعتراض کرتے ہو میں شکل و صورت اور انسانی حاجات کے حوالے سے تمہارے جیسا انسان ہوں۔ جس طرح تمہارے ایک دوسرے کے ساتھ رشتے ناطے ہیں۔ اسی طرح میرا بھی تمہارے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول منتخب کیا ہے۔ لہٰذا میں فقط اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اس لیے مجھ سے یہ امید رکھنا کہ میں فرشتہ بن جاؤں ایک بشر کے لیے یہ ممکن نہیں اور نہ ہی میں نے فرشتہ ہونے کا کبھی دعویٰ کیا ہے۔
4۔ اے لوگو ! میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جنہیں تم اپنے سے کم تر سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ انہیں کسی خیر سے نہیں نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور اخلاص کو جانتا ہے۔ اگر میں تمہارے مطالبہ پر انہیں اپنے آپ سے دور کردوں۔ تو یقیناً میں اس وقت ظالموں میں شمارہوں گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے آیت نمبر 27 کی تفسیر میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ منکرین حق نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ کہہ کر مطالبہ کیا تھا کہ اے نوح ! تیرے ماننے والے سماجی زندگی کے اعتبار سے ادنیٰ لوگ ہیں اگر ہم سے ایمان لانے کی توقع رکھتے ہو تو ان کو اپنے آپ سے دور کردو جس کا نوح (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا تھا کہ میں نیک لوگوں کو اپنے آپ سے کس طرح دور کرسکتا ہوں ؟ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی جواب دیا کہ تمہارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ انہیں خیر سے نہیں نوازے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایمانداروں کو خیر سے نہ نوازنے کا کفار کا عقیدہ دو طرح سے تھا۔ ایک تو وہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ دین کے حوالے سے کاروبار میں جس طرح کی پابندیاں عائد کرتے ہیں اس طرح یہ کبھی بھی دنیا میں خوشحالی اور ترقی نہیں پاسکتے۔ دوسرا اس لیے کہتے تھے کہ جس طرح ہم ایمانداروں کے مقابلے میں دنیا میں بہتر ہیں اور آخرت میں بھی ان سے بہتر ہوں گے۔
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس دنیا کے خزانے نہیں تھے۔
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) غیب نہیں جانتے تھے۔
3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرشتہ نہیں تھے۔
4۔ دنیا دار نیک لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔
5۔ دلوں کی کیفیت جاننے والاصرف ایک اللہ ہے۔
6۔ دین والوں کو حقیر جاننے والا ظالم ہوتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) غیب نہیں جانتے تھے :
1۔ حضرت نوح نے فرمایا میرے پاس خزانے نہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (ہود : 31)
2۔ آپ فرما دیں میں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں۔ (الانعام : 50)
3۔ فرمادیجیے کہ زمین و آسمان کے غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : 65)
4۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا۔ (الاعراف : 188)
5۔ اللہ کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ (الانعام : 59)
Ayahs 11:32–34فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے حکیمانہ جوابات کا قوم کی طرف سے بدترین ردِّعمل۔
حضرات ! کفار اور مشرکین کے مزاج کا اندازہ لگائیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کس قدر ناصحانہ اور ان کا انداز کتنا حکیمانہ ہے۔ لیکن ان کے مخالف کتنے کج فہم اور منفی سوچ کے حامل لوگ تھے کہ انہوں نے دعوت توحید اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخلصانہ اور طویل ترین جدوجہد کو بحث و تکرار اور ایک جھگڑے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دی۔ ایسے لوگوں کا شروع سے یہ مزاج ہے کہ یہ دین کے بنیادی مسائل کو بھی علماء کا باہمی جھگڑا قرار دے کر اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ سوچ کا یہی انداز نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تھا۔ چناچہ انہوں نے حق تسلیم کرنے کی بجائے جناب نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ اے نوح تو نے ہم سے بہت مدت تک بحث و تکرار اور جھگڑا کرلیا۔ اب اس کا ایک ہی حل ہے کہ جس عذاب کی تو دھمکیاں دیتا ہے۔ اسے ہم پر جلدی لے آو۔ اگر واقعی تو نبوت میں سچا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا عذاب لانا میرے بس میں نہیں۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوگا تو تم کسی طرح بھی اس کو ٹال نہیں سکو گے۔ جہاں تک تمہارا یہ کہنا ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ بہت جھگڑا کیا ہے یہ تمہاری منفی سوچ کا نتیجہ ہے۔ ورنہ میں نے طویل عرصہ تک نہایت خیرخواہی کے ساتھ تمہیں نصیحت کی ہے۔ اگر تم ہدایت پانے کے لیے تیار نہیں تو میری نصیحت کا تمہیں کیا فائدہ ؟ جبکہ تم اپنی منفی سوچ اور بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ کے علم میں گمراہ ٹھہر چکے ہو۔ میں پھر تمہیں یہی کہوں گا کہ اپنے رب کو پہچانو۔ بالآخر تم نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ اس نے ہدایت کا معاملہ جبری نہیں رکھا۔ لہٰذا جو گمراہ ہونا چاہتا ہے اسے وہ اس راستے پر کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
مسائل
1۔ انبیاء (علیہ السلام) کی باتوں کی کفار پرواہ نہیں کرتے۔ 2۔ انبیاء (علیہ السلام) سے کفار عذاب الہٰی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
3۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنا ہر معاملہ اللہ کے سپرد کرتے تھے۔ 4۔ اللہ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔
5۔ اللہ کی مرضی کے بغیر کسی کی خیر خواہی کام نہیں آتی 6۔ اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
7۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ 8۔ ہر کسی کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
تفسیر بالقرآن
انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اقوام کا عذاب کا مطالبہ :
1۔ حضرت نوح کو قوم نے کہا کہ جو ہمارے ساتھ عذاب کا وعدہ کرتا ہے وہ لے آ۔ (ہود : 32)
2۔ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاعراف : 77)
3۔ مدین والوں نے شعیب (علیہ السلام) سے عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کیا۔ (الشعرا : 187)
4۔ قوم عاد نے ہود سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : 22)
5۔ کفار نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑاگرادے۔ (بنی اسرائیل : 92)
Ayah 11:35فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے ردِّعمل کا ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔
انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے واقعات بیان کرنے کا مقصد محض داستان گوئی اور تاریخ برائے تاریخ دہرانا نہیں۔ قرآن مجید موقع ومحل کے مطابق انبیاء اور ان کی اقوام کی تاریخ کا اتنا ہی ذکر کرتا ہے جتنا مخاطب کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کے بیان کے دورانیہ میں حقیقت کی نقاب کشائی اور رسول کریم ﷺ کو حوصلہ دینے کی خاطر فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! نوح (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد اور بےمثال حوصلے کو سامنے رکھ کر اپنا کام جاری رکھو۔ قرآن مجید کے مخالفوں کو اس موقع پر صرف اتنا فرمائیں کہ تمہارا یہ کہنا کہ میں نے قرآن مجید اپنی طرف سے بنا لیا ہے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر رہنے دو ۔ لیکن یادرکھو جو کچھ تم بلا دلیل میری ذات اور قرآن پر الزام لگاتے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔ لیکن تمہیں اس جرم کا اس طرح خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کو اپنی کذب بیانی اور حق کی مخالفت کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔
نبی اکرم ﷺ قرآن مجید میں ردّ و بدل نہیں کرسکتے :
(وَإِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا اءْتِ بِقُرْاَٰنٍ غَیْرِ ہَذَا أَوْ بَدِّلْہُ قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْ أَنْ أُبَدِّلَہُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِیْ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا یُوْحٰی إِلَیَّ إِنِّیْ أَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ قُلْ لَوْ شَاء اللَّہُ مَا تَلَوْتُہُ عَلَیْکُمْ وَلَا أَدْرَاکُمْ بِہِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِہِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ )[ یونس : 15۔ 16]
” اور جب ان کے سامنے آپ ہماری واضح آیات تلاوت کرتے ہیں۔ ہماری ملاقات کی امید نہ رکھنے والے کہتے ہیں اس قرآن کے علاوہ کوئی قرآن لے آیا اسے بدل ڈال۔ فرما دیجئے میرے لیے لائق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے تبدیل کروں۔ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے عذاب عظیم کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہوش کرو اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو میں کبھی تمہارے سامنے قرآن پڑھتا اور نہ ہی توحید لے کر اٹھتا۔ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ میں نے چالیس سال کا عرصہ تم میں گزارا ہے اور اس پورے عرصہ میں نہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ ہی اللہ کے ذمہ کوئی بات لگائی۔ اگر تم تھوڑا سا عقل سے کام لو تو میری سچائی اور قرآن کی صداقت کو سمجھ جاؤ گے۔ “
(وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ ، لَأَخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِیْنِ ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ )
[ الحاقۃ : 44 تا 46]
” اگر رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے پھر اس کی شہ رگ کاٹ ڈالتے۔ “
مسائل
1۔ رسول کریم ﷺ کفار پر قرآن مجید کے متعلق الزام لگاتے ہیں۔
2۔ افتراء پردازی کا وبال اسی پر ہے۔
3۔ کوئی کسی کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
نبی ﷺ پر کفار کے الزامات :
1۔ کفار نے کہا کہ آپ ﷺ نے قرآن کو خودبنالیا ہے۔ (ہود : 35)
2۔ نبی کریم ﷺ کو کفار نے جادوگر کہا۔ (الصف : 6)
3۔ نبی اکرم کو کفار جادوزدہ کہا کرتے تھے۔ (الفرقان : 8)
4۔ کفار کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہا یہ تو جادو ہے۔ (سبا : 43)
5۔ کفارکہتے ہیں کہ آپ ﷺ مجنوں ہیں۔ (القلم : 51)
6۔ کفار نے کہا کیا ہم اپنے معبودوں کو شاعر ومجنوں کی خاطر چھوڑ دیں ؟ (الصٰفٰت : 36)
Ayahs 11:36–39فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کو حوصلہ دینے اور اہل مکہ کو انتباہ کرنے کے بعد بطور مثال حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی انتھک اور شب وروز کی طویل کوشش کے باوجود قوم اس بات پر مصرہوجاتی ہے کہ اے نوح ! تیرے اور ہمارے درمیان اب فیصلے کی ایک ہی صورت باقی ہے کہ حسب اعلان ہم پر اپنے رب کا عذاب نازل کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انتہائی مجبور ہو کر اپنے رب کے حضور یہ بددعا کی :
(وَقَالَ نُوْحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ إِنَّکَ إِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْا إِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا)[ نوح : 26۔ 27]
” اور نوح نے کہا اے میرے رب ! کفار کا زمین پر کوئی گھر نہیں بچنا چاہیے۔ یقیناً اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل بھی کافر ہی ہوگی۔ “
آیت میں مذکورہ بددعا کے نتیجہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو مخاطب کیا گیا۔ اے نوح ! تیری قوم میں سے اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا جو ایمان لانا چاہتے تھے سو لاچکے۔ لہٰذا جو کچھ یہ کررہے ہیں اب اس پر غمگین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ ہمارے سامنے ہماری ہدایات کے مطابق ایک کشتی تیار کریں۔ ظالموں کو سمجھانے کی اب ضرورت نہیں اور نہ ہی ان سے بحث کرنے کا کچھ فائدہ۔ کیونکہ یہ غرق ہو کر رہیں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور وحی کے مطابق کشتی بنانا شروع کی جوں ہی انکی قوم کے سردار قریب سے گزرتے تو انہیں ٹھٹھا اور مذاق کرتے کبھی کہتے کہ نبوت کے ساتھ ساتھ ترکھانہ کام بھی شروع کردیا ہے۔ کبھی کہتے یہاں کون سا دریا ہے جس میں کشتی چلاؤ گے ؟ نہ معلوم سردار اپنی قوم کو کن کن الفاظ میں یہ بات کہتے ہوں گے کہ دیکھ لیا کہ ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ اس شخص کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ دیکھ لو ! لوگ بارش کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہے ہیں۔ کوئی دریا بھی قریب نہیں مگر یہ بوڑھا دن رات کشتی بنانے پر لگا ہوا ہے اور ہمیں یہ کہتے ہوئے دھمکیاں دیتا ہے کہ میں کشتی اس لیے بنا رہا ہوں کہ عنقریب اس علاقہ میں بہت بڑا سیلاب آنے والا ہے۔ سرداروں کے ٹھٹھا اور مذاق کا حضرت نوح (علیہ السلام) صرف اتنا جواب دیتے کہ جس طرح تم آج میرا مذاق اڑاتے ہو عنقریب ہم بھی تمہارا ایسا ہی مذاق اڑائیں گے۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلیل کردینے والا، دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، چالیس دن اور چالیس رات تک برابر آسمان سے پانی برستا اور زمین کے چشموں سے پانی اچھلتا رہا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی ساخت :
جو کشتی حضرت نوح (علیہ السلام) نے بنائی تھی اس کا طول (200) ہاتھ، عرض (50) ہاتھ، بلندی (30) ہاتھ تھی اور اس کے اندر تین طبقے تھے یعنی یہ کشتی تین سٹوری تھی۔ (بحوالہ : رحمۃ للعالمین : مصنف قاضی سلیمان منصورپوری )
مسائل
1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو بتلادیا گیا کہ اب تیری قوم سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا۔
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کشتی تیار کرنے کا حکم دیا۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو تنبیہ فرمائی کہ غرق ہونے والوں کے متعلق سوال نہ کرنا۔
4۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کفار مذاق اڑاتے تھے۔
5۔ مصلحین کا مذاق اڑانے والے ایک دن خود مذاق بن جاتے ہیں۔
تفسیر بالقرآن
اقوام نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا :
1۔ جب حضرت نوح کی قوم کے لوگ ان کے پاس سے گذرتے تھے تو ان سے مذاق کرتے۔ (ہود : 38)
2۔ یہ مذاق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مذاق کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (التوبۃ : 79)
3۔ وہ تعجب کرتے اور مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفٰت : 12)
4۔ جب وہ ہماری نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق کرتے ہیں۔ (الصٰفٰت : 14)
5۔ جب بھی ان کے پاس رسول آتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ (الحجر : 11)
6۔ ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے۔ (الزخرف : 7)
7۔ جب بھی ان کے پاس آپ سے پہلے رسول آئے انہوں نے انہیں جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذاریات : 52)
8۔ لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جب کبھی رسول آئے تو انہوں نے ان کے ساتھ استہزاء کیا۔ (یٰس : 30)
Ayah 11:40فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بددعا کے نتیجہ میں بارش کا پانی سیلاب کی صورت میں عذاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کرچکے تو اللہ کے غضب کا آغاز ہوا۔ جس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زوردار بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔ جگہ جگہ زمین کو پھاڑ کر چشمے جاری کردیئے یہاں تک کہ زمین اور آسمان کا پانی مل کر طوفان کی شکل اختیار کرگیا۔ ( القمر : 11۔ 12)
اس کے ساتھ ہی اللہ کے حکم کے ساتھ تنور پھٹ گیا التنور کے مفسرین نے کئی معانی کیے ہیں۔ کچھ مفسرین نے صحابہ کرام ؓ کے حوالے سے لکھا کہ التنور سے مرادسطح زمین ہے جو مختلف مقامات سے پھٹی اور جگہ، جگہ چشمے جاری ہوگئے۔ بعض نے لکھا کہ التنور سے مراد اس بستی کا کوئی خاص مقام ہے۔ جس کی پہلے سے حضرت نوح (علیہ السلام) کو نشاندہی کردی گئی تھی کہ جب التنور پھٹ جائے تو اپنے ایماندار ساتھیوں اور ہر جاندار کے دو دو جوڑے کشتی میں بٹھانا شروع کرنا۔ کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ التنور سے مراد یہی تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں ” اللہ اعلم “ ممکن ہے کہ اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا غضب اس انداز میں نازل ہوا ہو کہ التنور میں بھڑکنے والے انگارے پانی کے بلبلے بن چکے ہوں۔ کیونکہ اگر قوم لوط پر نامزد پتھروں کی بارش ہوسکتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے دہکتی ہوئی آگ ٹھنڈی ہوسکتی ہے۔ تو التنور کے شعلے پانی کے بلبلے کیوں نہیں بن سکتے ؟ بہرکیف جوں ہی زمین و آسمان کے پانی نے مل کر بےپناہ طوفان کی ابتدائی شکل اختیار کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ ہر جاندار کا جوڑا جوڑا اور اپنے اہل کو بیڑے میں سوار کرلو۔ اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرمادی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے نہایت ہی تھوڑے لوگ تھے تاکہ آئندہ نسلوں کو معلوم ہو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل ترین کوشش کے باوجود لوگوں نے کفر و شرک نہیں چھوڑا تھا۔ جس بنا پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور قوم نوح کو غرقاب کردیا گیا۔
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَوْمًا فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ فَجَعَلَ یَمُرُّ النَّبِیُّ وَمَعَہٗ الرَّجُلُ وَالنَّبِیُّ وَمَعَہٗ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِیُّ وَمَعَہٗ الرَّھْطُ وَالنَّبِیُّ وَلَیْسَ مَعَہٗ اَحَدٌ فَرَأَیْتُ سَوَادًا کَثِیْرًا سَدَّ الْاُفُقِ فَرَجَوْتُ اَن یَّکُوْنَ اُمَّتِیْ فَقِیْلَ ھٰذٰا مُوْسٰی فِیْ قَوْمِہٖ ثُمَّ قِیْلَ لِیَ أنْظُرْ فَرَأَیْتُ سَوَادًا کَثِیْرًا سَدَّ الْاُفُقِ فَقِیْلَ لِیَ انْظُرْ ھٰکَذَاوَھٰکَذَا فَرَأَیْتُ سَوَادًا کَثِیْرًا سَدَّ الْاُفُقُ فَقَالَ ھٰؤُلٰآءِ اُمَّتُکَ وَمَعَ ھٰؤُلَاءِ سَبْعُوْنَ اَلْفًا قُدَّامَھُمْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَکْتَوُوْنَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) [ رواہ البخاری : باب من لم یرق ]
” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز نبی محترم ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا ‘ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں۔ ایک پیغمبر گزرا ‘ اس کے ساتھ اس کا ایک پیروکار تھا۔ کسی کے ساتھ دو آدمی تھے۔ کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی۔ اور بعض ایسے پیغمبر بھی ہوئے ‘ جن کا کوئی پیروکار نہیں تھا۔ میں نے اپنے سامنے ایک بہت بڑا اجتماع دیکھا ‘ جو آسمان کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا ‘ شاید میری امت ہے لیکن بتایا گیا کہ یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی امت ہے۔ پھر مجھے کہا گیا ‘ آپ دیکھیں تو میں نے بہت بڑا اجتماع دیکھا۔ جس نے آسمان کے کناروں کو بھرا ہوا ہے۔ مجھ سے دائیں اور بائیں جانب بھی دیکھنے کے لیے کہا گیا۔ میں نے ہر طرف دیکھا بہت سے لوگ آسمان کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں مجھے کہا گیا ‘ یہ سب آپ کے امتی ہیں۔ ان کے ساتھ ستر ہزار وہ بھی ہیں۔ جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ وہ ایسے لوگ ہیں ‘ جو نہ بدفالی اور نہ دم کراتے ہیں اور نہ گرم لوہے سے داغتے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ “
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو عذاب کی نشانی سے آگاہ کردیا تھا۔
2۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہر قسم کے جوڑوں میں سے دو ، دو سوار کرنے کا حکم ملا تھا۔
3۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے۔
4۔ عذاب کی ابتدا تنور سے ہوئی تھی۔