10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة یونس کا تعارف سورۃ کا نام حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا حضرت یونس (علیہ السلام) کا اسم مبارک اس سورة کی آیت ٩٨ میں موجود ہے۔ سورة کے گیارہ رکوع ١٠٩ آیات ہیں۔ چند آیات مدنی ہیں باقی تمام آیات مکی دور میں نازل ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے رسول کی بشریت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا گیا ہے۔ رسول کی بشریت اور نبوت ثابت کرنے کے بعد توحید کے ٹھوس دلائل دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ زمین، آسمانوں کا پیدا کرنے والا اور وہی ان کا نظام چلانے والا ہے۔ زمین و آسمانوں کی تخلیق اور کائنات کے نظام چلانے میں اللہ کا کوئی شریک اور معاون نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے سورج اور چاند بنائے، ان کی منزلیں مقرر کیں اور وہی رات اور دن کو بنانے والا ہے۔ مشرک کی عادت یہ ہے کہ وہ صرف مصیبت کے وقت اپنے رب کو پکارتا ہے مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ مشرک ان سے مدد طلب کرتا اور ان کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتا ہے جو نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ مشرک قرآن مجید کے دلائل کی تاب نہ لاکر مطالبہ کرتے ہیں کہ قرآن مجید کو بدل دیا جائے۔ دنیا عارضی ہے اور اس کی مثال گھاس پھونس کی مانند ہے۔ آخرت یقینی اور ابدی ہے۔ قرآن مجید کو جھٹلانے والوں کو اس سورة میں ایک سورة بنا لانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول سے کہلوایا گیا ہے کہ میں بھی اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ قرآن مجید بہترین نصیحت اور نسخۂ شفا ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک اور بےنیاز ہے۔ سورۂ یونس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا مختصر بیان ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا گیا مگر فرعون کی لاش عبرت کے لیے باقی رکھی گئی۔ قوم یونس کی اجتماعی توبہ کی وجہ سے ان کے سروں پر منڈلانے والا عذاب ٹال دیا گیا۔ آخر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے مشرکوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اللہ کی ذات میں شک کرتے ہو تو کرو میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کرنا اپنے آپ پر لازم کر رکھا ہے۔

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

” ا ل ر ۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ “ (1) ”

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا ہے کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈرائے اور جو لوگ ایمان لے آئیں انھیں خوشخبری دے یقیناً ان کے لیے ان کے رب کے ہاں بہترین مقام ہے۔ کافروں نے کہا یقیناً یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ “ (2)

فہم القرآن اآرٰ ۔ حروف مقطعات میں سے ہیں۔ حروف مقطعات کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور نہ اس کا عملی زندگی سے تعلق ہے۔ جس بنا پر نبی اکرم ﷺ نے ان کا معنی نہیں بتلایا اور نہ ہی صحابہ ؓ نے آپ سے استفسار کیا۔ جن بزرگوں نے ان کے معنیٰ کیے ہیں۔ یہ ان کی ذہنی کاوش ہے۔ جس کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس لیے آخر میں وہ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہیں۔ کہ اللہ ہی حروف مقطعات کے معنی جانتا ہے۔ لیکن افسوس ہمارے دور کے ایک مفسر نے ایسا دعویٰ کیا ہے جس سے علم کے نام پر جہالت اور حروف مقطعات کے بہانے شرک پھیلانے کا دروازہ کھولا ہے چناچہ لکھتے ہیں : کہ یہ حروف خود بول کر اپنا مفہوم اولیاء کرام سے بیان کردیتے ہیں جیسے یہ حروف اس ذات پاک سے گویا ہوتے تھے جس کی ہتھیلی میں کنکریوں نے اللہ کی تسبیح بیان کی تھی۔ معاذاللہ۔ (ضیاء القرآن، جلد 2، ص : 275) بہرحال یہ حروف ایسے ہیں جن کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ لوگوں نے تعجب کیا کہ ہم نے انہیں میں ایک آدمی پر قرآن مجید نازل کیا ہے۔ جو انھیں کفرو شرک اور برے اعمال کے انجام سے خبر دار کرتا ہے۔ اور مسرت و شادمانی کا پیغام دیتا ہے جو اس پر ایمان لائے ان کے لیے ان کے رب کے پاس عزت و عظمت کا مقام ہے۔ کفار کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے۔ (یہاں قدم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کی جمع اقدام ہوتی ہے۔ جس کا مفہوم آگے بڑھنا ہے۔ یہاں قَدَمَ صِدْقٍ کے الفاظ لائے گئے ہیں یعنی یہ ترقی اور مرتبہ ان کو صدق نیت اور حق قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوگا، یہی نبوت کی دعوت کا خلاصہ ہے۔ ) پہلی اقوام سے بھی جب کتاب الٰہی کا جواب نہ بن پایا تو انہوں نے اپنے انبیاء ( علیہ السلام) کو جادو گر قرار دیا۔ کتاب الٰہی کی تاثیر سے متاثر ہونے کی وجہ سے کفار اسے جادو قرار دیتے ہیں۔ سنجیدہ لوگوں کو جادو گروں سے نفرت ہوتی ہے۔ لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے کفار انبیاء (علیہ السلام) کو جادوگر ہونے کا الزام دیتی تھے۔ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی کفار ثابت کرنا چاہتے تھے کہ نبی کی بات ویسے ہی آدمی کو متاثر کرتی ہے ورنہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جادو گر شعبدہ باز ہوتے ہیں۔ کفار نبی ﷺ کے معجزہ کو جادو اور شعبدہ قرار دیتے تھے۔ حالانکہ : وحی اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا ہے۔ مخلوق میں کوئی بھی اس جیسا کلام نہیں کرسکتا۔ جادو کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ جب کہ وحی دائمی اور اس پر ایمان لانے کے بعد آدمی مرنا قبول کرلیتا ہے اس سے انکار نہیں کرتا۔ جادوگر روحانی اور جسمانی طور پر گندہ ہوتا ہے۔ پیغمبر پاکباز اور صاف ستھرا ہوتا ہے۔ جادوگر پیٹ کے دھندے کے لیے کرتب دکھاتا ہے۔ نبی ساری عمر کسی سے ایک دمڑی کا روا دار نہیں ہوتا۔ جادو ڈرامہ ہے۔ قرآن مجید ابدی حقیقت ہے۔ جادوگر جھوٹ بولتا ہے۔ اللہ کا رسول کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ جادو سے دین ودنیا کا نقصان ہوتا ہے۔ نبی کی اتباع سے دین و دنیا کی بھلائی اور عزت حاصل ہوتی ہے۔ جادو کی اقسام، معنی اور حقیقت : مشہور مفسر امام رازی نے جادو کو آٹھ قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں جادوگروں نے اپنے فن کے لیے کون کون سے طریقے ایجاد کر رکھے تھے۔ جادو کوئی مستقل اور مستند علم نہیں کہ جس کو کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ متعین کیا گیا ہو کیونکہ جادو تصنّع بازی کا نام ہے اس لیے ہر دور میں اس کی کرشمہ سازی اور اثر انگیزی میں اضافہ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے گئے تاہم جدید وقدیم جادو کا خلاصہ درج ذیل ہے : 1۔ کفر یہ ‘ شرکیہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ذریعے جادو کرنا۔ 2۔ برے لوگوں ‘ خبیث جنّات اور شیاطین کے ذریعے کسی پر اثر انداز ہونا۔ 3۔ علم نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں دینا اور دوسرے کو متاثر کرنا۔ 4۔ توجہ ‘ مسمریزم کی مخصوص حرکات، (ہپناٹیزم) کے ذریعیحواس خمسہ کو قابو کرنا۔ مسائل 1۔ قرآن مجید کی آیات پُر حکمت ہیں۔ 2۔ قرآن مجید ایمان داروں کے لیے خوشخبری کا پیغام ہے۔ 3۔ کفار انبیاء کی بشریت پر اعتراض کرتے تھے۔ 4۔ اللہ تعالیٰلوگوں کو ڈرانے اور خوشخبری سنانے کے لیے انسانوں میں سے ہی نبی بناتا رہا ہے۔ 5۔ مومنین کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مرتبہ ہے۔ 6۔ کفار نبی ﷺ کو جادوگر کہتے تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ پر کفار کے الزامات : 1۔ کفار نبی کریم کو جادوگر کہا کرتے تھے۔ (یونس : 3) 2۔ کفار آپ کو کاہن اور مجنون کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا کہ آپ کاہن اور مجنون نہیں ہیں۔ (الطور : 29) 3۔ کفار آپ کو شاعر کہتے تھے۔ (الطور : 30) 4۔ کفار آپ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ قرآن مجید خود بنا لیتے ہیں۔ (النحل : 101) 5۔ کفار نبی اکرم کو جادوگر اور کذاب کہتے تھے۔ (ص : 4) 6۔ کفار نے انبیاء کو جادو گر اور مجنوں قرار دیا۔ (الذاریات : 52) 7۔ ظالموں نے کہا تم جادو کیے گئے شخص کی پیروی کرتے ہو۔ (الفرقان : 8)
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

” یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر بلند ہوا۔ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بعد کوئی سفارش کرنے والا نہیں، وہی اللہ تمہارا رب ہے، بس اس کی عبادت کرو۔ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ “ (3)

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنے کی سب سے بڑی وجہ عقیدہ توحید تھا اس لیے نبی کی بشریت کا ذکر کرنے کے بعد توحید کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ اے لوگو ! تم نبی کے انسان ہونے پر تعجب کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ معمولی بات ہے کہ کسی شخص کو اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرمائے۔ اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ اس نے زمین و آسمان صرف چھ دن میں پیدا فرمائے اور پھر ذات کبریا عرش عظیم پر متمکن ہوئی جس طرح اس کی شان ہے۔ البتہ ہمارے لیے یہ سوچنا عظیم تر گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں وقت کس حالت میں ہوگا ایسی سوچ آنے پر اعوذ باللہ۔۔ پڑھنا چاہیے جہاں تک زمین و آسمان پیدا کرنے کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بغیر کسی Sample کے چھ دن میں پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو وہ ایک لمحہ میں بھی زمین و آسمان پیدا کرسکتے تھے۔ لیکن اس میں یہ حکمت ہے کہ ہر کام کو مناسب وقت دینا فطری امر ہے جس کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ہر چیز یا کام اپنے فطرتی تقاضوں کے مطابق کما حقہ سر انجام پائے۔ وہی زمین و آسمان اور پوری کائنات کا نظام سنبھالے ہوئے ہے۔ زمین و آسمانوں کی پیدائش اور کائنات کا نظام سنبھالنے میں اس کا کوئی ساجھی، شریک اور مشیر نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا اور نہ اس نے کسی کو ذرہ برابر اختیار دے رکھا ہے۔ جب کائنات کی تخلیق اور نظام چلانے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک، معاون اور مشیر نہیں تو اس کے سامنے اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے کی جرأت کیسے کرسکتا ہے ؟ لوگو اللہ ہی تمہارا رب ہے لہٰذا صرف اور صرف اسی ایک کی عبادت کیا کرو۔ اتنے بڑے حقائق اور ناقابل تردید دلائل کی موجودگی میں کیا تم نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار ہو ؟ نصیحت سے مراد یہاں توحید کا عقیدہ اور خالصتاً اللہ کی عبادت کرنا ہے جو شخص اس کو نہیں مانتا وہ ہدایت یافتہ نہیں ہوسکتا۔ اس آیت مبارکہ میں تخلیقِ کائنات کا ثبوت دینے کے بعد اس بات کی پرزور تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی سفارش کا محتاج اور اسے ماننے پر مجبور نہیں ہیجب کہ مشرک کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بزرگوں کی ریاضت و عبادت سے خوش ہو کر انہیں کچھ اختیار دے رکھے ہیں جس بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی خدائی میں شریک کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی سفارش مسترد نہیں کرتا۔ یہ باطل عقیدہ انسان کو اللہ سے بےخوف، بدعمل اور اپنے رب سے دور کردیتا ہے جس سے معاشرتی، معاشی اور دینی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہر نبی نے اس عقیدہ کی تردید کی۔ (عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ السُّلَمِیُّ کُنْتُ وَأَنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَی ضَلاَلَۃٍ وَأَنَّہُمْ لَیْسُوْا عَلٰی شَیْءٍ وَہُمْ یَعْبُدُوْنَ الأَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلٰی رَاحِلَتِی فَقَدِمْتُ عَلَیْہِ فَإِذَا رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ مُسْتَخْفِیًا جُرَءَ آءُ عَلَیْہِ قَوْمُہٗ فَتَلَطَّفْتُ حَتّٰی دَخَلْتُ عَلَیْہِ بِمَکَّۃَ فَقُلْتُ لَہٗ مَآ أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِیٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِیٌّ قَالَ أَرْسَلَنِی اللَّہُ فَقُلْتُ وَبِأَیِّ شَیْءٍ أَرْسَلَکَ قَالَ أَرْسَلَنِیْ بِصِلَۃِ الأَرْحَامِ وَکَسْرِ الأَوْثَانِ وَأَنْ یُوَحَّدَ اللَّہُ لاَ یُشْرَکُ بِہِ شَیْءٌ قُلْتُ لَہٗ فَمَنْ مَّعَکَ عَلٰی ہَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ) [ رواہ مسلم : کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب اسلام عمرو بن عبسۃ ] ” حضرت ابو امامۃ کہتے ہیں کہ عمرو بن عبسہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جاہلیت میں لوگوں کو گمراہی پر تصور کیا کرتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ کسی مذہب پر بھی نہیں ہیں کیونکہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ میں نے سنا کہ ایک آدمی مکہ میں ہے جن کے متعلق خبریں مشہورتھیں۔ میں سواری پر بیٹھا اور آپ کے پاس آیا اور رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کے سرپھروں سے چھپ کر رہتے تھے۔ میں نے احتیاط برتی حتی کہ مکہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے کہا آپ کون ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں نبی ہوں، میں نے کہا نبی کون ہوتا ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ نے مجھے اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ میں نے کہا کس چیز کے ساتھ آپ نے فرمایا صلہ رحمی اور بتوں کو توڑنے کے لیے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک جانا جائے اور اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرایا جائے میں نے کہا آپ کے ساتھ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا آزاد اور غلام۔ “ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَیْکَ وَقَالَ یَدُ اللَّہِ مَلأَی لاَ تَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ، سَحَّاء اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ وَقَالَ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَآءَ وَالأَرْضَ فَإِنَّہٗ لَمْ یَغِضْ مَا فِیْ یَدِہِ ، وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَاءِ ، وَبِیَدِہِ الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَیَرْفَعُ ) [ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ تعالیٰ وکان عرشہ علی الماء ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں انسان خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ اس میں سے رات دن خرچ کرنے سے کمی نہیں آتی، آپ نے فرمایا کیا خیال ہے تمہارا کس قدر اللہ نے خرچ کیا ہوگا ؟ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین بنائے ہیں یقیناً اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ترازو ہے وہ اسے اوپر کرتا اور نیچے کرتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کرسکے گا۔ 5۔ ایک اللہ کی ہی عبادت کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن سفارش کے دلائل : 1۔ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کا حقدار نہ ہوگا۔ (یونس : 3) 2۔ اللہ کی اجازت سے سفارش ہو سکے گی۔ (البقرۃ : 255) 3۔ سفارش کا اختیار اسی کو ہوگا جسے رحمٰن اجازت دے گا۔ (مریم : 87) 4۔ شفاعت اسی کے کام آئے گی جس پر رحمٰن راضی ہوا۔ (طٰہٰ : 109) 5۔ اگر رحمٰن نقصان پہنچانا چاہے تو کسی کی سفارش کچھ کام نہ آئے گی۔ (یٰس : 23) 6۔ سفارشیوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ (المدثر : 48) 7۔ وہی سفارش کرسکے گا جس کی سفارش پر رب راضی ہوگا۔ (الانبیاء : 28)
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

” اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کرجانا ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ بیشک وہی پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ لوٹائے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے انھیں انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لیے کھولتے ہوئے پانی سے پینا ہے اور دردناک عذاب ہے، اس کے بدلے جو وہ کفر کیا کرتے تھے۔ “ (4)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ ہی نے ساری کائنات اور انسان کو پیدا کیا وہی اس کائنات کو ملیا میٹ کرکے نئی صورت میں پیدا کرے گا۔ ہر انسان کو اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ ہر دور میں بیشمار ایسے لوگ رہے ہیں اور ہوں گے۔ جن کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام اسی طرح ہی چلتا رہتا ہے۔ انسان بھی مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ ہندوؤں اور کچھ لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام اس طرح چلتا رہے گا۔ مگر انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی روح دنیا میں کسی دوسرے روپ میں پلٹ آتی ہے۔ جسے آواگون کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ آخرت کے منکرین میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ کائنات اور انسان بالآخر ختم ہوجائیں گے اور انسان کو دنیا میں ہی مکافات عمل کے اصول کے تحت جزا اور سزا مل جاتی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ موت کے بعد زندہ ہونا اور اللہ کے حضور پیش ہونے کے عقیدہ کا انکار کرتے ہیں۔ جبکہ قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابیں اور عقل سلیم اس بات پر متفق ہیں کہ ایک دن ضرور ایسا آئے گا اور اسے آنا چاہیے کہ جب برے کو اس کی برائی کے برابر اور نیک کو اس کی نیکی کا پورا پورا اجر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں کتنے قاتل ہیں جنہیں عدالت ایک ہی دفعہ پھانسی دے سکتی ہے اور دوسرے مقتولوں کا بدلہ اور مظلوموں کو حق نہیں دلوا سکتی۔ اسی طرح انبیاء (علیہ السلام) ، صحابہ کرام ؓ اور مصلحین کس قدر محنت کرتے اور تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ جن کا پورا اجر دنیا میں ملنا مشکل ہے۔ اس بنا پر آخرت کی حاضری اور اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کا عقیدہ رکھنا فرض ہے۔ یہی عقیدہ انسان میں نیکی کا شوق اور برائی کا خوف پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ایمانیات میں بعثت بعد الموت کا تیسرا نمبر اور عقیدہ توحید کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ جو شخص آخرت کی حاضری اور حساب و کتاب کو نہیں مانتا۔ حقیقتاً وہ اللہ تعالیٰ کی دائمی خدائی اور اس کے جزا اور سزا کے نظام کا انکار کرتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے قیامت برپا کرنا اللہ کا سچا وعدہ ہے کہ ہر کسی نے ضرور اس کے حضور پیش ہونا ہے۔ جہاں تک بعض لوگوں کے بوسیدہ خیالات کا تعلق ہے کہ انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ دوبارہ کس طرح انسان بنے گا اور پیدا ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے آسان ہے یا مشکل ؟ اور پھر سوچو کیا آدم کو مٹی سے نہیں پیدا کیا تھا۔ اللہ تمہارے باپ آدم کو پیدا کرسکتا ہے تو اس کی اولاد کو پیدا نہیں کرسکتا ؟ وہ تمہیں پیدا ہی نہیں کرے گا بلکہ اپنی عدالت میں پیش کرے گا۔ جہاں نیکوں کو ان کی نیکی کی جزا دے گا اور منکروں کو جہنم میں کھولتا ہوا پانی پلانے کے ساتھ انہیں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ سوچ لو ! اللہ کی ذات اور اس کے احکام کا انکار کرنا بہتر ہے یا اقرار۔ (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ سب نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پہلی بار پیدا فرمایا اور وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ایمان دار اور نیکی کرنے والے کو صلہ عطا فرمائے گا۔ 5۔ کفار کو جہنم کے کھولتے ہوئے پانی کے ساتھ اذیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ 7۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دلائل : 1۔ قیامت قریب ہے۔ (الانبیاء : 1) 2۔ قیامت کی ہولناکیاں بڑی سخت ہوں گی۔ (الحج : 1) 3۔ قیامت قریب آگئی اور اس کے آنے کو اللہ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ (النجم : 57۔ 58) 4۔ قیامت واقع ہوگی اس کے واقع ہونے کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ (الواقعۃ : 201) 5۔ اللہ مخلوق کو دوبارہ لوٹائے گا تاکہ نیک و بد کو جزاو سزا مل سکے۔ (یونس : 4) 6۔ جس نے ذرہ برابر نیکی کی اسے اجر ملے گا۔ جس نے ذرہ برابر برائی کی اسے اس کی سزا ملے گی۔ (الزلزال : 7۔ 8)
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

” وہی ہے جس نے سورج کو تیز روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اللہ نے ان چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ آیات کو ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔ “ (5) ”

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات اور دن کے بدلنے اور ان چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں، یقیناً ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔ “ (6)

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت میں مرنے کے بعد جی اٹھنے کی یہ دلیل دی تھی کہ وہ ذات تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گی جس نے ابتدا میں تمہیں پیدا کیا اب شمس و قمر کے حوالے سے موت کے بعد اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اختیار کی دلیل سنو۔ وہی ایک ذات ہے جس نے زمین و آسمان اور انسان کو پیدا کیا۔ وہی ذات ہے جس نے سورج کو روشنی دی اور چاند کو چاندنی عطا فرمائی۔ سورج کی روشنی ہلکی سرخ اور تیز گرم ہوتی ہے۔ چاند کی روشنی سفید ٹھنڈی اور پر کشش ہوتی ہے۔ جس وجہ سے کچھ فصلیں سورج کی تیز روشنی میں اور کچھ فصلیں چاند کی پر کشش روشنی میں تیار ہوتی ہیں۔ دنیا کو دونوں قسم کی روشنی کی ضرورت تھی۔ جس کا دائمی انتظام کردیا گیا ہے۔ چاند اور سورج دو ہیں۔ لیکن خبر واحد کی لائی گئی جس میں اشارہ ہے کہ تم چاند کے حساب سے اپنے معاملات متعین کرو۔ اسی لیے مسلمانوں کی تقویم کی بنیاد چاند پر رکھی گئی ہے۔ پھر ان کی منازل متعین کیں جن پر یہ دن رات سفر کرتے ہیں۔ اے لوگو ! جن کے مطابق تم اپنی زندگی کا حساب و کتاب اور دینی معاملات کو چلاتے ہو جس طرح کہ رمضان کے روزے، حج کی ادائیگی، صبح و شام کی نمازوں کا وقت یہ تمام امور شمسی حساب کی بجائے قمری حساب کی بنیاد پر مقرر اور ادا کیے جاتے ہیں۔ ایک معمولی عقل رکھنے والا انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس نظام کو کوئی پیدا کرنے والا اور چلانے والا نہیں۔ جب چاند اور سورج جیسے عظیم سیارے رات اور دن کا لامحدود نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قبضہ میں ہے اور وہی رات دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لاتا ہے۔ کبھی رات طویل تر ہوجاتی ہے اور کبھی دن رات کے وجود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ رات اور دن وقت کے اعتبار سے یکساں ہوجاتے ہیں۔ اسی نظام کے مطابق ہی انسان کی زندگی ہے۔ پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر جوان ہو کر بھرپور صلاحیتوں کا پیکر بن جاتا ہے۔ آخر عمر میں بچوں کی طرح کمزور اور دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کبھی تندرستی کبھی بیماری کبھی خوشحالی اور تنگدستی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ گویا کہ شمس و قمر کا غروب اور طلوع ہونا۔ زندگی اور موت اور جی اٹھنے کی واضح دلیل ہے۔ اسی طرح یہ اس بات کی واضح اور ٹھوس دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی موت کے بعد انہیں زندہ کرنے پر قاد رہے اور ان سے حساب ضرور لے گا۔ (اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدِ وَلاَ لِحَیَاتِہٖ وَلَکِنَّھُمَا اٰیَتَانِ مِنْ اٰیَات اللّٰہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ یُخَوِّفُ بِھَا عِبَادَہٗ ) ۔ )[ رواہ البخاری : کتاب الصلٰوۃ، باب قول النبی ﷺ ] ” سورج اور چاند کو کسی کی موت و زیست سے گر ہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے دو نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ “ مسائل 1۔ سورج کو ضیاء اور چاند کو چاندنی اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ 2۔ سورج اور چاند کی منازل اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں۔ 3۔ چاند اور سورج کی گردش اس لیے مقرر کی گئی کہ لوگ اس سے ایام، ماہ اور سال کا حساب لگائیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ جاننے والوں کے لیے اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے۔ 5۔ رات اور دن کا مختلف ہونا اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ 6۔ آسمانوں و زمین کی تخلیق اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں۔ تفسیر بالقرآن لیل و نہار کی گردش اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں : 1۔ دن اور ات کے مختلف ہونے اور زمین و آسمان کی پیدائش میں نشانیاں ہیں۔ (یونس : 6) 2۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش، دن اور رات کی گردش، سمندر میں کشتیوں کے چلنے، آسمان سے بارش نازل ہونے، بارش سے زمین کو زندہ کرنے، چوپایوں کے پھیلنے، ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے مسخر ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (البقرۃ : 164) 3۔ آسمانوں و زمین کی پیدائش اور دن رات کے مختلف ہونے میں نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : 190) 4۔ رات اور دن کے مختلف ہونے، آسمان سے رزق اتارنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (الجاثیۃ : 5)
Ayahs 10:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

” بیشک جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہوئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔ “ (7) ”

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

انھی لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔ “ (8)

فہم القرآن ربط کلام : اتنے کھلے اور بھاری دلائل موجود ہونے کے باوجود کچھ لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں تو اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر راضی ہوچکے ہیں۔ آخرت کے انکار کا پہلا اور بنیادی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان دنیا کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ساری محنت دنیا کی خاطر ہوتی ہے۔ انسان دنیا کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے سامنے اخلاقی قدروں اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ضابطوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، وہ معمولی مفاد کی خاطر ایمان اور اپنی عزت کو بیچ دیتا ہے۔ بسا اوقات دنیا کے لالچ میں اس قدر اندھا ہوجاتا ہے کہ اسے اپنے جگر گوشوں سے بھی زیادہ دولت، منصب اور شہرتپیاری ہوتی ہے۔ یہ مفاد پرستی اور غفلت کی انتہا ہے۔ بڑی سے بڑی دلیل اور عبرت ناک حادثات بھی اس کی آنکھوں سے غفلت کی پٹی ہٹا نے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے جس میں انہیں ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ ‘ قَالَ : خَطَّ النَّبِیُّ ﷺ خَطَّامُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِیْ فِی الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِیْْ فِی الْوَسَطِ فَقَالَ ھٰذَا الْاِنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ خَارِجٌ اَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الصِّغَارُ الْاَعْرَاضُ فَاِنْ اَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَسَہٗ ھٰذَا وَاِنْ اَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَسَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : باب فی الامل وطولہ ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے ایک دفعہ ایک مربع شکل کا خط کھینچا اور وسطی خط کے درمیان سے کچھ خطوط کھینچے۔ ایک درمیان سے باہر نکلنے والا خط کھینچا اور فرمایا ‘ یہ انسان ہے۔ اور یہ مربع اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے۔ اور جو خط باہر نکل رہے ہیں ‘ وہ اس کی خواہشات ہیں۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط آفات وبیماریاں ہیں۔ اگر ایک سے محفوظ رہا تو یہ دوسری اسے آلے گی۔ اگر یہ بھی اس سے خطا کر جائے ‘ تو تیسری آفت اسے اپنا نشانہ بنالے گی۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَوْکَان لابْنِ اٰدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَّالٍ لَابْتَغٰی ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ إِلَّاالتُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ ) [ رواہ البخاری : باب مایتقی من فتنۃ المال ] ” حضرت ابن عباس ؓ نبی گرامی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں ‘ تو وہ تیسری کی خواہش کرے گا۔ ابن آدم کے پیٹ کو مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ “ (عَنْ سَھْلِ ابْنِ سَعْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُحْشَرُالنَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی اَرْضٍ بَیْضَاءَ عَفْرَاءَ کَقُرْصَۃِ النَقِیِّ لَیْسَ فِیْھَا عَلََمٌ لِاَحَدٍ ) [ رواہ البخاری : باب یقبض اللہ الارض ] ” حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز لوگوں کو سرخی مائل سفید زمین پر جمع کیا جائے گا زمین میدے کی روٹی کی مانند ہوگی زمین پر کسی قسم کا نشیب و فراز نہ ہوگا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے منکر اور دنیا کی عیش و عشرت پر مطمئن ہونے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات سے غافل ہوتے ہیں۔ 2۔ جو لوگ دنیا کے پیچھے لگ کر اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کا اپنے گناہوں کا اعتراف : 1۔ اللہ سے ملاقات کی امید نہ رکھنے اور اللہ کی آیات سے غفلت برتنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (یونس 7۔ 8) 2۔ جہنمی جہنم میں چلائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں جہنم سے نکال دے ہم برے اعمال کی بجائے نیک عمل کریں گے۔ (فاطر : 37) 3۔ اے ہمارے پروردگار ہماری بدبختی نے ہمیں گھیر لیا تھا اور ہم کافر ہوئے۔ (المومنون : 106) 4۔ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کیا یہاں سے نکلنے کا راستہ ہے۔ (المومن : 11)
Ayahs 10:9–10

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ان کی رہنمائی کرے گا، ان کے نیچے سے جنت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔ “ (9) ”

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان کی دعا اس میں یہ ہوگی ” اے اللہ تو پاک ہے ! “ اور ان کی آپس کی دعا اس میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “ (10)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی چیخ و پکار اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد جنتیوں کا صلہ اور جنت میں ان کے اخلاق اور کلام کا ذکر ہوتا ہے۔ جنتی جنت میں اپنے تصوّرات سے کروڑ ہا گنا بیش بہا نعمتیں پا کر پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ تو پاک ہے۔ ہم تو اس قابل نہ تھے کہ یہ مقام اور انعام پاتے۔ ہماری حقیر سی محنت کے بدلے جو کچھ آپ نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بعض اہل علم نے یہ بھی لکھا ہے کہ جنتی کسی چیز کی خواہش کریں گے تو مانگنے کی بجائے لفظ سبحان استعمال کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق وہ چیز ان کی خدمت میں پیش کردی جائے گی۔ (واللہ اعلم) جنتی جب آپس میں ملاقات کریں گے تو ایک دوسرے کو سلام اور مبارک پیش کریں گے۔ اکل وشرب اور مجلس برخاست کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی حمدو ستائش کے ترانے گائیں گے گویا کہ ہر طرف اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی فضا ہوگی۔ یہاں تک کہ دنیا میں آپس میں سلام کہنے کے آداب ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو حکم دیا کہ دیکھو وہ ملائکہ کی جماعت بیٹھی ہوئی ہے ان کے پاس جاؤ، وہ تمہیں جو کلمات کہیں گے وہ تیری اولاد کے آپس میں ملنے کے آداب ہوں گے۔ جب آدم (علیہ السلام) ملائکہ کے پاس گئے تو انہوں نے ان کو سلام علیکم کہا۔ ملائکہ نے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کے الفاظ کہے۔ اسی وقت سے ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت یہ کلمات اور آداب مقرر کردئیے گئے ہیں، جس بنا پر جنتی ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔ (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ خَلَقَ اللّٰہُ اٰدَمَ عَلَیٰ صُوْرَتِہٖ طُوْلُہٗ سِتُّوْنَ ذِرَاعاً فَلَمَّا خَلَقَہٗ قَالَ اذْھَبْ فَسَلِّمْ عَلٰی اُوْلٰٓءِکَ النَّفَرِ وَھُمْ نَفَرٌ مِّنَ الْمَلآ ءِکَۃِ جُلُوْسٌ فَاسْتَمِعْ مَایُحَیُّوْنَکَ فَاِنَّھاَ تَحِیَّتُکَ وَتَحِیَّۃُ ذُرِّیَّتِکَ فَذَھَبَ فَقَالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ فَقَالُوْا اَلسَّلَاَمُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ قَالَ : فَزَادُوْہُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ قَالَ فَکُلُّ مَنْ یَّدْخُلُ الجَنَّۃَ عَلٰی صُوْرَۃِ اٰدَمَ وَطُوْلُہٗ سِتُّوْنَ ذِرَاعاً فَلَمْ یَزَلِ الْخَلْقُ یَنْقُصُ بَعْدَہٗ حَتَّی اَلْآنَ )[ رواہ البخاری : باب بدء السلام ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ ذکر کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر تخلیق فرمایا۔ ان کا قد ساٹھ (60) ہاتھ لمبا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ ان کی تخلیق سے فارغ ہوا تو حکم فرمایا : آدم اس جماعت کے پاس جاکر سلام کہو۔ وہ فرشتوں کی مجلس ہے۔ جو وہ جواب دیں اسے سنو، وہی جواب تیرا اور تیری اولاد کا ہوگا۔ جب حضرت آدم نے جاکرالسلام علیکم کہا تو انہوں نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ سے جواب دیا۔ نبی محترم ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ آپ فرماتے ہیں : جنت میں داخل ہونے والا ہر شخص آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت پر ہوگا اور ہر جنتی کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔ لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد انسانی قد میں مسلسل کمی ہوتی رہی یہاں تک کہ انسان کا قد اتنا رہ گیا۔ “ اس گھڑی سے لے کرملاقات کا یہی طریقہ انسان کے لیے پسند کیا گیا۔ اس لیے ہمیں ادھر ادھر کے الفاظ استعمال کرنے کی بجائے فطری اور طبعی طریقے کو اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس میں اس قدرجامعیت ہے کہ ملنے والے ایک دوسرے کیلئے ہر لحاظ سے خیرسگالی کے جذبات اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ دنیا کے کسی مذہب اور سوسائٹی میں ملاقات کے وقت اسقدر سلامتی کے جامع الفاظ نہیں پائے جاتے۔ ان کے انداز میں وقتی اور جزوی خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے۔ جیسے :Good Morning ، Goodevening، صباح الخیر، شب الخیروغیرہ۔ (عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ أَکَانَتِ الْمُصَافَحَۃُ فِی أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ قَالَ نَعَمْ ) [ رواہ البخاری : باب المصافحۃ ] ” حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ کے صحابہ ؓ آپس میں مصافحہ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ “ ( اِذَا الْتَقٰی اَلْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَاہُ غُفِرَلَھُمَا) [ رواہ ابو داؤد : باب المصافحۃ و المعانقۃ ] ” جب دو مسلمانوں کی باہم ملاقات ہو اور وہ مصافحہ کریں اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اپنے لیے مغفرت طلب کریں تو ان کی مغفرت ہو ہی جائے گی۔ “ کچھ عرصہ اور مدت کے بعد ملنے پر بغل گیر ہونا اسلامی معا شرت کا حصہ قرارپایا۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ اپنا واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے ہاں آنے کا پیغام بھیجا۔ میں اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا بعد ازاں میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ مصافحہ کرتے ہوئے میرے ساتھ بغلگیر ہوئے : ( فَاَتَیْتُہٗ وَھُوَعَلَی سَرِیْرٍ فَالْتَزَمَنِیْ فَکَانَتْ تِلْکَ اَجْوَدَ وَالْجُوْدَ ) [ رواہ ابو داؤد : باب المصافحۃ و المعانقۃ ] ” آپ ﷺ نے مجھ سے معانقہ فرمایا اور آپ کا یہ اندازنہایت ہی شفقت سے لبریز تھا۔ “ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ؓ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمَْ قَال النَّبِیُّ ﷺ عَشْرٌ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ عِشْرُونَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَال السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ فَقَال النَّبِیُّ ﷺ ثَلاَثُونَ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الاستئذان، باب ماذکر فی فضل السلام ] ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا السلام علیکم، آپ نے فرمایا اس کے لیے دس نیکیاں ہیں، پھر ایک اور آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ہیں پھر ایک اور آیا اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ہیں۔ “ مسائل 1۔ ایمان دار عمل صالح کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ رہنمائی کرتا ہے۔ 2۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ جنت النعیم عطا فرمائے گا۔ 3۔ جنتی جنت میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کریں گے۔ 4۔ جنت میں مومن باہم ملاقات کے وقت اول و آخر اللہ کی تعریف کریں گے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں کا جنت میں ایک دوسرے سے ملاقات کا طریقہ : 1۔ جنتی جنت میں باہم ملاقات کے وقت اللہ کی تسبیح بیان کریں گے اور سلام کہیں گے۔ (یونس : 10) 2۔ جنتیوں کا ایک دوسرے کو تحفہ سلام ہوگا۔ (الاحزاب : 44) 3۔ جنتیوں کو بالاخانے ملیں گے اور وہ آپس میں ملتے وقت دعا وسلام کریں گے۔ (الفرقان : 75)
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

” اور اگر اللہ لوگوں کو بہت جلد بھلائی دینے کی طرح جلد نقصان پہنچائے تو ان کی طرف ان کی مدت پوری کردی جائے۔ تو جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ہم انھیں چھوڑ دیتے ہیں، وہ اپنی سرکشی ہی میں حیران پھرتے ہیں۔ “ (11)

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کی سزا اور صلہ بیان کرنے کے بعد انسان کی فطرت بیان کی جارہی ہے۔ انسان جلد باز ہے لیکن اللہ تعالیٰ برد بار اور غفور الرحیم ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی کو تاہیوں اور گناہوں پر پکڑنا چاہے تو کسی ایک کا بھی بچنا محال ہوجائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور بردباری کی وجہ سے لوگوں کو ڈھیل اور مہلت دیتا ہے تاکہ لوگ اپنے افکار اور کردار پر نظر ثانی کریں اور اس کی بارگاہ میں تائب ہوجائیں۔ عادی مجرموں کو اس لیے ڈھیل دیتا ہے تاکہ انہیں گناہ اور جرائم کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ ایسے لوگ اپنے گناہوں میں گھرے اور پریشان رہتے ہیں۔ یاد رہے نیکی میں سکون اور اطمینان ہے۔ جس کا لطف آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور کسی بھائی کے ساتھ تعاون کرکے فوری طور پر محسوس کرتا ہے۔ برائی بظاہر کتنی ہی اچھی اور وقتی طور پر اس میں کتنی لذت اور فائدہ ہو۔ بالآخر اس میں پریشانی، مال اور صحت کا نقصان ہی ہوتا ہے۔ جس شخص کو گناہوں میں ڈھیل دی جائے اسے خوش ہونے کے بجائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان (فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) ” وہ اپنی نافرمانیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں “ پڑھ کر سوچنا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنی چاہیے۔ انسان صرف جلد باز ہی نہیں بلکہ احسان فراموش بھی ہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو لیٹے ہوئے اور اٹھتے بیٹھتے اپنے رب کو یاد کرتا اور آہیں بھرتا ہے۔ جوں ہی اس کی تکلیف دور کردی جائے تو اپنے منعم حقیقی اور محسن ابدی کو بھول جاتا ہے۔ گویا کہ اس کو کبھی تکلیف پہنچی ہی نہیں اور نہ ہی اس نے اپنے خالق کو پکارا تھا۔ ایسا وہی کرتے ہیں جنہوں نے اسراف وتبذیر کا رویہ اختیار کر رکھا ہوتا ہے۔ جس میں کافر اور مشرک سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب مشرک سمندر کا سفر کرتے ہیں تو صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں بھنور سے جب انہیں اللہ تعالیٰ نجات دیتا ہے تو اس کے ساتھ شرک کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ( لقمان : 32)
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

” اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر بیٹھا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ اسی طرح حد سے بڑھ جانے والوں کے لیے عمل مزین کردیے گئے جو وہ کیا کرتے تھے۔ “ (12)

اسراف کا معنی ہے : زیادتی کرنا، حد سے تجاوز کرنا، فضول خرچی کرنا۔ اسراف میں یہ جرم بھی شامل ہوتا ہے کہ کسی فرد، خاندان یا قوم کے لیے گناہ فیشن کا درجہ اختیار کر جائے اگر اسے روکا جائے تو وہ اس میں اپنی توہین اور گناہ کو چھوڑنے میں دقیانوسی ہونے کا طعنہ محسوس کرتا ہے۔ (إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوْا إِخْوَان الشَّیَاطِینِ وَکَان الشَّیْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوْرًا)[ بنی اسرائیل : 27] ” بلاشبہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان تھا۔ “ فضول خرچی کی ممانعت : (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَتَصَدَّقُوْا وَالْبَسُوْا مَا لَمْ یُخَالِطْ إِسْرَافٌ وَلَا مَخِیْلَۃٌ )[ رواہ ابن ماجہ : باب البس ماشئت ] ” حضرت عمر بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو جب تک اس میں فضول خرچی اور فخر نہ آئے۔ “ (وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا )[ الفرقان : 67] ” نیک لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔ “ جلد بازی شیطان کی حرکت : (حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُہَیْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ ﷺ الأَنَاۃُ مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ ) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی التانی ] ” حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا بردباری اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرمانے میں جلدی کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا منکر اپنے گناہوں میں پریشان رہتا ہے۔ 4۔ دنیا دار انسان مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔ 5۔ دنیا پرست اور مشرک مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ 6۔ گناہ کرنے والوں کے لیے ان کے گناہ خوبصورت بنا دیے جاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انسان جلد باز اور احسان فراموش ہے : 1۔ انسان جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : 11) 2۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔ (الانبیاء : 37) 3۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : 6) 3۔ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الحج : 47) 4۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے معاملے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الشعرا : 204) 5۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا سو جلدی نہ کرو۔ (الانبیاء : 37) 6۔ اللہ کا حکم آنے والا ہے جلدی نہ کرو۔ (النحل : 1)
Ayahs 10:13–14

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

” اور بلاشبہ ہم نے تم سے پہلے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا، جب انھوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے اور وہ ہرگز ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہم مجرم لوگوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ “ (13) ’

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

’ پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنا دیا، تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ “ (14)

فہم القرآن ربط کلام : حد سے گزر جانے والوں اور جرائم کا وطیرہ اختیار کرنے والوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی سزا بیان کی جارہی ہے۔ جن لوگوں نے گناہوں کو فیشن اور جرائم کو وطیرہ بنا لیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے گزر جائیں تو اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کی ضرور گرفت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ظالموں اور مجرموں کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے جب حد عبور کرنے سے دنیا کا نظام درہم برہم ہونا شروع ہوجاتا ہے تب اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ حالانکہ ان کے پاس رسول بھیجے گئے جنہوں نے روشن اور ٹھوس دلائل کے ساتھ انہیں راہ راست پر لانے کی بےپناہ کوششیں فرمائیں۔ جب وہ کسی طرح بھی ہدایت کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں تہس نہس کردیا۔ ظلم سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفرو شرک کرنا اور لوگوں پر مظالم ڈھانا ہے۔ قرن کی جمع قرون ہے جس کے اہل علم نے تین معنی کیے ہیں۔ (1) ایک نسل۔ (2) سو سال۔ (3) کسی قوم کے اقتدار کا مخصوص دور۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی دوسری نسل یا کسی اور قوم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنایا۔ تاکہ وہ انہیں بھی آزمائے اور دیکھے کہ وہ کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں مخاطب کی ضمیر لاکرہر دور کے انسانوں کو متنبہ کیا ہے کہ تم آزمائش گاہ میں ہو اور تمہارا رب تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ لہٰذا ہوش سے کام لو اور نیک بن کر رہو۔ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک قوم کے بعد دوسری قوم نے کس طرح اس کی جگہ سنبھالی حالانکہ ظالموں کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ کہ ان کے جورو استبداد سے لوگوں کی جان چھوٹ جائے گی۔ لیکن جب اللہ کا فیصلہ صادر ہوا تو وہ اس طرح نَسْیًا مَنْسِیًِا ہوئے کہ کوئی ان کی مدد کرنے اور ان کو یاد کرنے والا نہ تھا۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ فَالْاِمَامُ الَّذِیْ عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَھُوَ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِہٖ وَھُوَ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیّتِہٖ وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِھَا وَوَلَدِہٖ وَھِیَ مَسْءُوْلَۃٌ عَنْھُمْ وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلٰی مَالِ سَیِّدِہٖ وَھُوَ مَسْءُوْلٌ عَنْہُ اَ لَا فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّتِہٖ ) [ رواہ البخاری : باب الْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِی بَیْتِ زَوْجِہَا ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ خبردار ! تم سب ذمہ دار ہو۔ تم سب سے تمہارے ماتحت لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ لوگوں کا امیر ذمہ دار ہے ‘ اس سے عوام کے بارے میں سوال ہوگا۔ گھر کا فرد اعلیٰ اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہ ہے ‘ اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے ‘ اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا۔ آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے ‘ اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ خبردار ! تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے ما تحت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ نے لوگوں کی ظلم کی وجہ سے ان کو ہلاک کیا۔ 3۔ کچھ لوگ واضح دلائل دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف رسول مبعوث کرنے سے پہلے اس کو عذاب نہیں دیتا۔ 5۔ ظالم قوم کی جگہ اللہ دوسری قوم لے آتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تفسیر بالقرآن خلافت اور اس کی ذمہ داریاں : 1۔ پھر ہم نے زمین میں ان کے بعد تمہیں خلافت دی تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (یونس : 14) 2۔ اگر اللہ چاہتا تو تمہیں لے جاتا اور تمہارے بعد کسی اور کو خلیفہ بنا دیتا۔ (الانعام : 133) 3۔ میرا رب تمہارے سوا کسی اور کو خلافت دے دے تو تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ہود : 57) 4۔ عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین کی خلافت عطا کرے گا۔ (الاعراف : 129) 5۔ اللہ نے مومنین اور عمل صالح کرنے والوں کے ساتھ خلافت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (النور : 55)
Ayahs 10:15–18

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

” اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، کہتے ہیں کوئی قرآن اس کے سوا لے آ، یا اسے بدل دے۔ فرما دیں میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو صرف اسی کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، بیشک اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ “ (15)

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

” فرما دیں اگر اللہ چاہتا تو نہ میں اسے تمہارے سامنے پڑھتا اور نہ وہ تمہیں اس کی خبر دیتا، پس میں تو اس سے پہلے تم میں ایک عمر گزار چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟ “ (16) ”

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجرم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ “ (17)

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچاتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ فرما دیجیے کیا تم اللہ کو ان چیزوں کی خبر دیتے ہو جنہیں وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے ان چیزوں سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

فہم القرآن ربط کلام : مجر موں اور ہلاک ہونے والوں کا یہ بھی جرم تھا کہ وہ کتاب الٰہی کا انکار کرتے اور آخرت کے منکر تھے۔ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح اہل مکہ کا کردار بھی یہی تھا کہ وہ قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور بھول چکے تھے۔ جس بنا پر اس قدر بےخوف اور دلیر ہوئے کہ جب بھی ان کے سامنے ٹھوس اور واضح آیات نازل ہوتیں یا نبی معظم ﷺ ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کرتے تو وہ سر تسلیم خم کرنے کی بجائے گردن اکڑا کر یہ کہتے کہ ہم اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگر ہمیں منوانا چاہتے ہو تو۔ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے آؤ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس میں اتنی تبدیلی ضرور کرو۔ جس میں ہمارے اور تمہارے درمیان مفاہمت کی کوئی راہ نکل آئے۔ اس کے لیے ان کی ایک تجویز یہ تھی کہ کچھ تم نرمی اختیار کرو اور کچھ ہم اپنے موقف سے ہٹ جاتے ہیں۔ (القلم : 9) اس طرح ایک اللہ کی عبادت کے ساتھ ہمارے معبودوں کی عبادت کے لیے بھی گنجائش ہونی چاہیے۔ اس کے جواب میں رسول مکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان سے فرمائیں کہ میں اپنی طرف سے قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔ میں تو کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی طرف سے وحی کا پابند ہوں۔ میں اس قدر اللہ کے حکم کا تابع ہوں کہ اگر میں کوئی ایک بات چھپاؤں تو گویا کہ میں نے اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ (المائدہ : 67) مجھے ڈر ہے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے عظیم عذاب دبوچ لے گا۔ ہوش کرو ! اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا تو میں کبھی بھی تمہارے سامنے قرآن پڑھتا اور نہ ہی توحید کی دعوت پیش کرتا۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ میں نے چالیس سال کا عرصہ تم میں گزارا ہے۔ اور اس پورے عرصہ میں نہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ ہی اللہ کے ذمہ کوئی بات لگائی۔ اگر تم تھوڑا سا عقل سے کام لو تو میری سچائی اور قرآن کی صداقت کو سمجھ جاؤ گے۔ لیکن قرآن کے دلائل، نبی اکرم ﷺ کی صداقت اور عقلی دلیل کے باوجود کفار یہی پروپیگنڈہ کرتے رہے کہ ” محمد ﷺ “ نے یہ کتاب اپنی طرف سے بنا ڈالی ہے۔ جس پر انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے یا تمہاری طرح اس کی آیات کو جھٹلائے جس کا صاف معنیٰ ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے ہیں مگر تم جھوٹے اور کذّاب ہو۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا یا اس کی آیات اور ضابطوں کو ٹھکرانا سب سے بڑا جرم ہے۔ مجرم کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ اس میں بیک وقت دو اشارے دیے جارہے ہیں۔ کہ رسول کامیاب ہوں گے اور اس کا انکار کرنے والے ہر صورت دنیا اور آخرت میں ناکام ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول اور یہ قرآن من جانب اللہ اور تم اپنے موقف اور الزام میں سر اسر جھوٹے ہو۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ” وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ “ خَرَجَ النَّبِیُّ ﷺ حَتّٰی صَعِدَ الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَابَنِیْ فِھْرٍ یَابَنِیْ عَدِیٍّ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ حَتَّی اجْتَمَعُوْا فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ اَنْ یَّخْرُجَ اَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ مَاھُوَ فَجَاءَ اَبُوْ لَھَبٍ وَقُرَیْشٌ فَقَالَ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلاً تَخْرُجُ مِنْ سَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ اَنَّ خَیْلًا تَخْرُجُ بالْوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ قَالُوْا نَعَمْ مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا قَالَ فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ قَالَ اَبُوْ لَھَبٍ تَبًّا لَّکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ تَبَّتْ یَدَااَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ ) [ رواہ البخا ری : باب وانذرعشیرتک الاقربین ] ” عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں “ تو نبی ﷺ نکلے اور صفا پہاڑی پر چڑھ گئے ‘ آپ پکارنے لگے ‘ اے بنو فہر ! اے بنوعدی ! اسی طرح آپ نے قریش کے تمام قبائل کو مخاطب کیا۔ یہاں تک کہ وہ آپ ﷺ کے گرد جمع ہوگئے۔ اور جو شخص نہ آسکا تو اس نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کیا معاملہ ہے، اپنا نمائندہ بھیج دیا۔ چناچہ ابولہب اور قریش کے لوگ آئے۔ آپ نے فرمایا ‘ تم مجھے بتاؤ ‘ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ ایک لشکر اس پہاڑ کی اوٹ سے نکل رہا ہے۔ اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایک لشکر وادی سے نکل رہا ہے وہ تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے ‘ تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟ ان سب نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ ہم نے آپ کے بارے میں ہمیشہ سچائی کا تجربہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ‘ میں تمہیں اس شدید عذاب سے ڈرا رہا ہوں جو تمہیں پیش آنے والا ہے۔ یہ سن کر ابو لہب کہنے لگا ‘ تباہ ہوجائے کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا ؟ اس پر یہ سورت نازل ہوئی ” ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و بربادہو جائے۔ “ مسائل 1۔ آخرت کے منکر اس قرآن کے علاوہ کسی اور قرآن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3۔ رسول اکرم ﷺ بھی وحی کے تابع تھے۔