Ayah 9:1تعارف سورة التوبۃ
یہ مدنی سورة 16 رکوع 129 آیات اور 4078 کلمات پر محیط ہے۔ اس مبارک سورة کے دو نام ہیں التوبہ اور برأت۔ التوبۃ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورة کی آیت 118 میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص صحابہ کی توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے۔ اس سورت کو سورة البرأۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ہی اس لفظ سے ہوا ہے کہ جس میں مشرکین مکہ اور ان کے گرد وپیش لوگوں سے کیے گئے معاہدات سے برأت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سورة کا نزول 9 ہجری کے قریب ہوا ہے جب نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق کو حجاج کا امیر بنا کر روانہ کرچکے تھے ان کے رخصت کرنے کے فوراً بعد اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تب اللہ کے پیغمبر نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی کو مکہ روانہ فرمایا کہ وہ آپ کی طرف سے حج کے موقع پر مشرکین کے ساتھ معاہدہ سے برأت کا اعلان کریں چناچہ حضرت علی ؓ نے حجاج میں سرعام یہ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ میں داخل نہیں ہوسکتا گویا کہ اس اعلان کا مدعا یہ تھا کہ اب وہ دور گزر چکا ہے جب مشرکین بیت اللہ کی تولیت کا دعوٰی کرتے تھے اور مسلمانوں کو اس کے داخلہ سے روکتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں مسلمانوں کی طرف سے بیت اللہ کی تولیت اور اسلام کے مکمل غلبہ کا اعلان تھا۔
چنانچہ اعلان ہوتا ہے کہ آج کے بعد اللہ اور اس کے رسول ﷺ اعلان کرتے ہیں کہ ان کا مشرکین کے ساتھ کیے گئے عہد سے کوئی واسطہ نہیں تاہم اس اعلان میں یہ گنجائش رکھی گئی کہ جن مشرکین کے ساتھ کیے گئے عہد کی مدت باقی ہے اس کی پاسداری کی جائے گی جس کا مفہوم یہ ہے کہ آئندہ سر زمین حجاز میں مشرکوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوگا جس کے بنیادی طور پر دو اسباب تھے۔ ایک مشرکین کا بار بار مسلمانوں سے عہد شکنی کرنا اور دوسرا مرکز اسلام کو ہمیشہ کے لیے اغیار سے پاک کرنا تھا جس طرح آج بھی نظر یاتی حکومت اپنے دارالحکومت میں اغیار کو رہنے کا حق نہیں دیتی البتہ ایسے لوگ سچی توبہ کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہو کر نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ اپنی مسلمانی ثابت کریں تو وہ مسلمانوں کے بھائی تصور ہوں گے اور اسلامی مملکت میں جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آیت 16 سے لے کر آیت 24 میں واضح فرمایا مساجد کی تولیت اور نگرانی کا صرف ان لوگوں کو حق پہنچتا ہے جو عقیدہ توحید رکھنے کے ساتھ ارکان اسلام کی پابندی کرنے والے ہوں اگر وہ عقیدہ توحید اور ارکان اسلام سے لاپرواہی کرتے ہیں تو بیت اللہ اور حجاج کرام کی خدمت کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ ہی ایسے لوگوں کے ساتھ دلی محبت اور رشتہ ناطہ قائم کرنے کی اجازت ہے، پھر مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے انھیں غزوۂ بدر اور حنین کا واقعہ یاد کروایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کے ساتھ مسلمانوں کی تائید فرمائی تھی، پھر یہود و نصاریٰ کے علماء اور عوام کے دینی اور اخلاقی کردار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی غالب اکثریت حرام خور اور دین اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن چکی ہے۔
اس کے بعد غزوۂ تبوک کا پس منظر اور اس کے حالات کا ذکر کیا جس کا منظر یہ تھا ایک طرف مسلمانوں کی فصلیں تیار تھیں اور دوسری طرف موسم کی شدت اور تبوک کا دور دراز کا سفر سامنے تھا۔ ان حالات میں منافقوں نے ایک ایک کرکے اس غزوہ سے فرار کا راستہ اختیار کیا جن میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے مختلف بہانے بنا کر رسول اکرم ﷺ سے جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کی آپ منافقین کی بد نیتی اور لشکر اسلام کو ان کی شرارتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اجازت دیتے رہے۔ منافقین کے سوا مدینہ میں مسلم خواتین اور معذور صحابہ باقی تھے جو چند صحابہ کسی عذر کے بغیر محض سستی کی بنا پر پیچھے رہ گئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے تبوک سے واپسی پر ان لوگوں کے ساتھ سوشل بائیکاٹ کا اعلان کیا جس پر صحابہ کرام ؓ نے اتنی سختی کے ساتھ عمل کیا جس کی مثال دنیا کی کسی منظم جماعت میں بھی نہیں پائی جاتی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جنگ سے پیچھے رہ جانے والے صحابہ کے لیے مدینہ کی سرزمین اس طرح تنگ ہوگئی کہ ان کے لیے ان کے وجود بھی بوجھ بن گئے۔ بالآخر ان کی توبہ قبول ہوئی التوبہ کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانوں کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے اس لیے مومن اللہ کے راستے میں لڑنے مرنے سے جی نہیں چراتے ان کے ساتھ جنت کا وعدہ سچا اور پکا ہے جس کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی پایا جاتا ہے ان لوگوں کی صفات یہ ہیں یہ سچی توبہ کرنے والے عبادت گزار، ذکر و فکر میں مشغول، روزے کے اہتمام کرنے والے اپنے رب کی بار گاہ میں رکوع، سجود کرنے کے ساتھ امر بالمعروف نہی عن المنکر کے ساتھ اپنی حیا اور حدود اللہ کی حفاظت کرنے والے ہیں اس سورة کی ابتدا میں مشرکین سے براءت کا اعلان ہوا ہے لہٰذا اس کے آخر میں دو ٹوک انداز میں حکم دیا ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ اور آپ پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ کسی مشرک کی بخشش کے لیے دعا کریں۔ جہاں تک ابراہیم (علیہ السلام) کا معاملہ ہے انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان کی بخشش کے لیے دعا کا وعدہ کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے صحابہ ؓ کی توبہ قبول کرنے کا اعلان فرماتے ہوئے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ ذاتی تعلقات اور دنیاوی مفاد کی خاطر کسی کا ساتھ دینے کی بجائے ہمیشہ سچائی کی بنیاد پر لوگوں کا ساتھ دیا کرو۔ سورة کا اختتام سرور دو عالم ﷺ کے اوصاف حمیدہ پر کیا گیا کہ آپ اپنے ساتھیوں کے لیے نہایت مشفق و مہربان ان کی غلطیوں سے درگزر فرمانے والے اور ساتھیوں کی تکلیف کو ان سے بڑھ کر اپنی تکلیف محسوس کرنے والے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی عظیم جدوجہد، بےمثال کاوش اور شفقت و مہربانی کے باوجود اگر لوگ آپ سے اعراض کرتے ہیں تو آپ کو ان کی مخالفت اور بےاعتنائی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسی صورتحال پر آپ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے کہ آپ کو رب عرش عظیم پر اعتماد کرنا چاہیے اس کے سوا کوئی معبود حق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔
نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ہر داعی کو یہ فرمان ہے کہ وہ توحید اور دین کی دعوت دیتے ہوئے مشکلات اور پریشانیوں کی پروا کیے بغیر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھے۔
Ayah 9:2فہم القرآن
ربط کلام : سورة انفال کے اختتام میں ایمان، ہجرت اور جہاد کو باہم بھائی چارے کی بنیاد قرار دیا گیا۔ جو اس معیاد پر پورا نہیں اترتا اس کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی رشتہ ناطہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس بنا پر سورة التوبۃ کی ابتدا میں ایسے لوگوں سے برأت کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس سورة کے تعارف میں اس کے نام کی وضاحت کردی گئی ہے تفصیل جاننے کے لیے اس کا تعارف ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ کے رسول نے صلح حدیبیہ میں مشرکین مکہ سے اور دوسرے موقعوں پر مشرکین کے ساتھ بقائے باہمی کی بنیاد پر معاہدات کیے تھے۔ صلح حدیبیہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ یہ شرائط طے پائی تھیں کہ آپس میں دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔ عرب کا جو قبیلہ ہمارا اور تمہارا حلیف بنے گا اس پر بھی اس معاہدہ کا اطلاق ہوگا۔ اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اگر کوئی مسلمان مکہ والوں کے ساتھ آملے تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے لیکن اگر کفار میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے ساتھ آملے گا تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس معاہدہ کی پوری سختی کے ساتھ پابندی فرمائی۔ معاہدہ کی تحریر کے وقت ابو جندل ؓ کو واپس کیا اور کچھ عرصہ کے بعد ابوبصیر ؓ مسلمان ہو کر مدینہ آیا تو آپ نے اسے بھی واپس جانے کا حکم دیا لیکن مکہ والوں نے اس معاہدہ کے اس وقت پر خچے اڑا دیے جب ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف قبیلے بنو خزاعہ پر رات کے وقت شب خون مارا اور ان کا مالی و جانی نقصان کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ کے رسول فی الفور معاہدہ ختم کرنے کا اعلان فرماتے لیکن آپ رحمۃ اللعالمین اور صلح جو شخصیت کے مالک تھے اس لیے آپ نے مکہ والوں کو پیغام بھیجا کہ معاہدہ کی رو سے بنو بکر کو مجبور کریں کہ وہ بنو خزاعہ کا مال واپس کریں اور ان کے مقتولوں کی دیت ادا کریں۔ مکہ والوں نے اس پیغام کا بڑا متکبرانہ جواب دیتے ہوئے اس شق کو ماننے سے انکار کردیا گویا کہ دوسرے لفظوں میں ان کی طرف سے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صحابہ کرام ؓ کو جہاد کی تیاری کا حکم صادر فرمایا۔ آٹھ ہجری دس رمضان المبارک کو دس ہزار کا لشکر جرار لے کر مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی اور اس طرح منصوبہ بندی کی کہ مکہ میں داخل ہوئے تو ایک معمولی واقعہ کے سوا کسی کو ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہوسکی اس موقع پر آپ نے بےپناہ شفقت و مہربانی فرماتے ہوئے چار پانچ قومی مجرموں کے سوا باقی سب کو معاف فرما دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مکہ اور حجاز کے لوگ جوق در جوق اور فوج در فوج حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اس کے باوجود کچھ مشرکین ایسے تھے کہ جو اس امید پر رومیوں اور یہودیوں کے ساتھ مل کر ساز باز کرتے رہتے کہ عنقریب سلطنت رومہ کا حکمران قیصر مسلمانوں کو تہس نہس کر دے گا۔ خاص کر غزوۂ تبوک کے موقع پر مشرکین کے حوصلے اس قدر بڑھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اب مسلمانوں کا باقی رہنا چند دنوں کی بات ہے۔ ایسی صورت حال میں بیت اللہ کے تقدس اور اس کی مرکزیت کا تقاضا تھا کہ مشرکین کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے نکال دیا جائے۔ چناچہ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا اور 9 ہجری کو اللہ کے پاک نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا ابھی حجاج کا قافلہ راستے میں تھا کہ مدینہ میں آپ پر اس سورة مبارکہ کی تیس کے قریب آیات نازل ہوئیں۔ جن میں دو ٹوک اور قطعی طور پر اعلان کیا گیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ مشرکین سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے لیے آپ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا کیونکہ اس زمانے میں کسی اہم عہد کی منسوخی، کے لیے قوم کا نمائندہ خود اعلان کرتا یا قریبی عزیز کے ذریعے اعلان کروایا جاتا تھا۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا کہ آپ میرے نمائندہ بن کر چار باتوں کا اعلان کریں حضرت علی ؓ تیز رفتاری کے ساتھ امیر حج حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں پہنچے امیر حج نے ان سے استفسار فرمایا۔ امیرًاومامورًا کہ آپ امیر حج بن کر تشریف لائے ہیں یا مامور کی حیثیت سے ؟
حضرت علی ؓ نے عرض کی میں ماتحت کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں کیونکہ میرے ذمہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک اعلان کرنے کی ڈیوٹی لگائی ہے۔ چناچہ انھوں نے جمرہ، عقبیٰ کے قریب کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ یہ برأت کا اعلان اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہاں برأت کا اعلان اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہے جب کہ معاہدہ کی نسبت مسلمانوں کی طرف سے کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیبیہ کا معاہدہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوا تھا کیونکہ جب حضرت عمر ؓ نے اس پر اعتراض کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہٰذا یہ معاہدہ صرف آپ کی طرف سے ہی نہیں تھا بلکہ تمام صحابہ نے اسے تسلیم کیا جس وجہ سے اسے مسلمانوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
1۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے کیے ہوئے عہد سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔
2۔ مشرکین چار مہینے کے اندر حدود حرم کو ہمیشہ کے لیے خالی کردیں۔ اس کے بعد کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔
3۔ اگر تم ایمان لے آؤ تو دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے بہتر ہوگا۔
4۔ اے مشرکو تم کبھی اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ تمہارے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہوگا۔
5۔ جن مشرکوں نے اپنے عہد کی پاسداری کی ہے اس عہد کی تکمیل کی جائے گی۔
6۔ آئندہ کوئی شخص برہنہ طواف نہیں کرسکتا۔
7۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے بغیر کوئی آدمی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے برأت کا اعلان فرما دیا۔
2۔ کوئی بھی مشرک حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔
3۔ اللہ کافروں کو ذلیل و رسوا کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کفار اور مشرکوں کو دنیا میں ہی ذلیل کرتا ہے :
1۔ ہجرت کے موقعہ پر کفار ذلیل ہوئے۔ (التوبۃ : 40)
2۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے موقعہ پر مسلمانوں کو فتح سے ہمکنارفرما کر کفار کو ذلیل کیا۔ (آل عمران : 23 اتا 127)
3۔ فتح مکہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے کفار کو ذلیل و خوار کیا۔ (الفتح : 1)
4۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست فاش سے دو چار ہو کر ذلیل ہوئے۔ (التوبۃ : 26)
5۔ جنگ خندق میں کفار اور اہل کتاب ذلیل ہوئے۔ (الاحزاب : 25 تا 27)
Ayah 9:3فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
مشرکین کی سازشوں اور بد عہدیوں کی ٹھیک ٹھیک سزا تو یہ تھی کہ انھیں فوری طور پر حدود حرم سے نکال باہر کیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اور اس کے رسول کی شفقت کا نتیجہ تھا کہ ان کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ چار مہینے تک تم کھلے عام حدود حرم کے اندر رہتے ہوئے اپنے کام کاج اور معاملات کو سمیٹ کر نکل جاؤ اور ساتھ ہی انھیں یہ انتباہ فرمایا کہ وہ دن گزر گئے کہ جب تم سازشیں کیا کرتے تھے اب ایسا کرو گے تو انتہائی ذلیل کردیے جاؤ گے اور تم کسی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ کفار اور مشرکین کی حرم کی تولیت سے محرومی اور ہمیشہ کے لیے اپنے گھروں سے بےدخل ہونا کچھ کم ذلت نہ تھی مگر اس کے باوجود انھیں متنبہ کردیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو دنیا میں ذلیل اور آخرت میں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے البتہ تم ایمان لے آؤ تو تمہارے لیے دنیا میں خیر ہی خیر اور آخرت میں بہترین جزا ہوگی۔ عام لوگ عرفہ کے دن جمعہ ہو تو اسے حج اکبر کہتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ حج اکبر کی اصطلاح عمرہ کے مقابلہ میں ہے کیونکہ عرب عمرہ کو حج اصغر اور حج کو حج اکبر کہا کرتے تھے۔ حدود حرم سے غیر مسلموں کو نکالنا اس لیے ضروری تھا تاکہ امت مسلمہ کا مرکز روحانی نجاست اور سیاسی سازشوں سے ہمیشہ کے لیے پاک ہوجائے۔ وفات سے پہلے آپ ﷺ نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نما عرب سے نکل جانے کا حکم دیا کیونکہ اس قوم نے بھی شرارتوں اور سازشوں کی حد کردی تھی۔ اس لیے آپ نے حکم صادر فرمایا کہ انھیں ہمیشہ کے لیے سر زمین حجاز سے نکال باہر کیا جائے۔
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ بَیْنَا نَحْنُ فِی الْمَسْجِد خَرَجَ النَّبِیُّ فَقَالَ انْطَلِقُوْا اِلٰی یَہُوْدَ فَخَرَجْنَا مَعَہٗ حَتّٰی جِءْنَا بَیْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَام النَّبِیُّ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ یَہُوْدَ اَسْلِمُوْا تَسلَمُوْا اِعْلَمُوْا اَنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہٖ وَاِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اُجْلِیَکُمْ مِنْ ھٰذِہٖ الْاَرْضِ فَمَنْ وَّجَدَ مِنْکُمْ بِمَالِہٖ شَیْءًا فَلْیَبِعْہُ )
[ رواہ البخاری : کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ہم مسجد میں موجود تھے کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا یہودیوں کی جانب چلو۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ چلے اور ان کے مدرسہ میں پہنچے۔ نبی مکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے یہود مسلمان ہوجاؤ تم محفوظ رہو گے اور یقین کرلو یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کے قبضہ میں ہے میں تمہیں اس سرزمین سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں۔ تم میں سے جس شخص کو اس کے مال کے بدلے کچھ دستیاب ہوتا ہے تو وہ اسے فروخت کر دے۔ “
مسائل
1۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مشرکین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
2۔ عمرہ کے مقابلے میں حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے۔
3۔ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنے والا دنیا اور آخرت میں بہترین اجر پائے گا۔
4۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں اور کافروں کو بالآخر ذلیل کرے گا۔
تفسیر بالقرآن
کفار کی سزا :
1۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکفیر کی ان کے لیے شدید عذاب ہے۔ ( آل عمران : 4)
2۔ کفار کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (آل عمران : 91)
3۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 114)
4۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ عذاب میں مبتلا ہونگے۔ (المائدۃ : 73)
5۔ کفار کے چمڑے جب جل جائیں گے تو ہم انہیں عذاب کا مزہ چکھانے کے لیے انکے چمڑے تبدیل کردیں گے۔ (النساء : 56)
Ayah 9:4” مگر مشرکوں میں سے وہ لوگ جن سے تم نے عہد کیا، پھر انہوں نے تم سے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ان کے ساتھ عہد کی مدت پوری کرو۔ بیشک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ (4)
Ayah 9:5فہم القرآن
ربط کلام : جن مشرکوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی ان کو چار مہینے اور جنھوں نے مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کی ان کو معاہدے کے اختتام تک مہلت دی گئی ہے۔
نبی اکرم ﷺ سے معاہدات کرنے والے کفار اور مشرکین کی دو قسمیں تھیں ایک وہ جنھوں نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ کرنے کے باوجود اسے توڑ دیا تھا۔ ان کو چار مہینے کی مہلت دی گئی لیکن جو لوگ آپ سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کر رہے تھے انھیں عہد کے اختتام تک مہلت دی گئی ہے۔ اس لیے انھیں برأتِ عہد سے مستثنٰی قرار دیتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ ان مشرکوں کے ساتھ ابھی برأت کا اعلان نہیں ہے جنھوں نے نہ عہد کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف کسی کے ساتھ تعاون کیا۔ ان کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی مکمل طور پر پاسداری ہونی چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ متقین کو پسند کرتا ہے یہاں تقویٰ سے پہلی مراد عہد شکنی سے بچنا ہے جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو پھر مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور ان کو ہر کمین گاہ سے گرفتار کرلو اور ان کے لیے پوری طرح مورچہ بندی کرو۔ اگر یہ ایمان لے آئیں اور اس کے ثبوت میں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر ان کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ گیارہویں آیت میں فرمایا کہ اگر توبہ کرکے نماز اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں یہاں صرف نماز، زکوٰۃ کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ نماز بدنی عبادات کی ترجمان ہے۔ جس میں روزہ اور حج بھی شامل ہیں اور زکوٰۃ مالی عبادات کا سرچشمہ ہے جس میں صدقہ و خیرات، حقوق العباد شامل ہیں۔ یاد رہے کہ مشرکین کو ہر مقام پر قتل کرنے کا حکم حالت جنگ میں ہے۔ عام حالات میں کسی مشرک یا کافر کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔
(عَنْ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْہَدُوا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّی دِمَاءَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُہُمْ عَلٰی اللّٰہِ ) [ رواہ بخاری : کتاب الایمان، باب فان کان تابوا ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے یہ کام کرلیے تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور مال بچا لیا سوائے اسلام کے حق کے اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ “ (اسلام کے حقوق سے مراد حدود اللہ کا نفاذ ہے )
مسائل
1۔ عہد کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ عہد کا احترام کرنا چاہیے۔
2۔ اللہ تعالیٰ متقین کو پسند کرتا ہے۔
3۔ کفر و شرک سے توبہ کرنے کے بعد نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی توبہ کرنے کی نشانی ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔
Ayah 9:6فہم القرآن
ربط کلام : دین میں کفر و شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں اس کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے، نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے والے کو اپنی بخشش اور رحمت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس کے لیے مشرکین کو موقع فراہم کیا جا رہا ہے جو کسی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں پناہ گزیں ہونا چاہے۔ تو حکم ہے کہ انھیں پناہ دینی چاہیے تاکہ قرآن مجید سننے اور سمجھنے کے ساتھ انھیں مسلمانوں کا اخلاق اور کردار دیکھنے کا موقع ملے اگر وہ ایمان نہ لائیں گے تو ان پر پوری طرح اتمام حجت ہوجائے گی۔ پناہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی باسلامت واپسی بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پناہ دینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے دین کو براہ راست نہیں جانتے۔ اس فرمان میں مشرکین کو پناہ دینے کی حکمت یہ بیان فرمائی تاکہ یہ اللہ کا کلام براہ راست سنیں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ دین سمجھنے اور اس کی ہدایت پانے کا پہلا اور بنیادی اصول یہی ہے کہ آدمی تعصب سے پاک ہو کر دل کے کانوں کے ساتھ سننے کی کوشش کرے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کی اکثریت دین قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائے گی۔ اس کی بیشمار مثالیں نبی اکرم ﷺ کے دور میں اور ہزاروں امثال صحابہ ؓ اور ہر دور میں پائی جاتی ہیں۔ اسی حکم کے تحت آپ حالت جنگ میں بھی غیر مسلم کو پناہ دیا کرتے تھے یہاں تک کہ عام مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو اپنی پناہ تصور فرماتے تھے۔
(عَنْ أَبِی النَّضْر أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أُمَّ ہَانِیءٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ تَقُولُ ذَہَبْتُ إِلٰی رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُہُ یَغْتَسِلُ وَفَاطِمَۃُ ابْنَتُہُ تَسْتُرُہٗ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ مَنْ ہَذِہِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ ہَانِیءٍ بِنْتُ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ ہَانِءٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِہِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّی عَلِیٌّ أَنَّہُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُہُ فُلَانُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ یَا أُمَّ ہَانِیءٍ قَالَتْ أُمُّ ہَانِءٍ وَذَلِکَ ضُحًی )[ رواہ البخاری : کتاب المغازی باب، امان النساء وجوارہن ]
” حضرت ابو نضر بیان کرتے ہیں انھوں نے ام ھانی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں رسول مکرم ﷺ کے پاس فتح مکہ کے سال گئی آپ ﷺ غسل فرما رہے تھے جبکہ ان کی بیٹی فاطمہ ان کے لیے پردہ کا اہتمام کیے ہوئے تھی۔ میں نے آپ کو سلام کیا آپ ﷺ نے پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا میں ام ھانی ہوں آپ نے خوش آمدید کہا۔ جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے آپ نے آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی۔ آپ نے ایک ہی کپڑے کو اپنے ارد گرد لپیٹا ہوا تھا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میرا ماں جایا بھائی علی ؓ کہتا ہے کہ اس نے فلاں کافر کو قتل کرنا ہے جبکہ میں نے اسے امان دے دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے ام ھانی جس کو تو نے امان دی ہم بھی اس کو امان دیتے ہیں۔ ام ھانی ؓ فرماتی ہیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ “
(عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِیِّ قَالَ لَوْلَا کَلِمَۃٌ سَمِعْتُہَا مِنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِیِّ ؓ لَمَشَیْتُ فیمَا بَیْنَ رَأْسِ الْمُخْتَارِ وَجَسَدِہٖ سَمِعْتُہٗ یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ أَمِنَ رَجُلًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہٗ فَإِنَّہُ یَحْمِلُ لِوَاءَ غَدْرٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )[ رواہ ابن ماجہ : کتاب الدیات، باب من امن رجلا علی دمہ ]
” رفاعہ بن شداد قتبانی بیان کرتے ہیں اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی ؓ سے سنی تو میں مختار کے سر اور جسم کے درمیان چلتا میں نے سنا عمرو بیان کرتے تھے رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو جان کی امان دے کر قتل کر دے۔ قیامت کے دن اس کی پشت پر دھوکے باز کا جھنڈالگایا جائے گا۔ “
مسائل
1۔ غیر مسلم پناہ مانگیں تو انھیں پناہ دینی چاہیے۔ 2۔ وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
3۔ قیدیوں کو دین کی دعوت دینی چاہیے۔ 4۔ امان دے کر اس کو پورا کرنا چاہیے۔
تفسیر بالقرآن
نہ جاننے اور نہ سمجھنے والے لوگ :
1۔ متقین کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے مگر کافر نہیں سمجھتے۔ (الاعراف : 169)
2۔ میرا اجر میرے پیدا کرنے والے اللہ کے ذمہ ہے بےعقل نہیں سمجھتے۔ حضرت صالح کا اعلان۔ (ھود : 51)
3۔ منافق بےسمجھ ہوتے ہیں۔ (المنافقون : 7)
4۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ (التوبۃ : 127)
5۔ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کی اکثریت بےعقل ہوتی ہے۔ ( المائدۃ : 103)
6۔ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں اور وہ عقل نہیں کرتے۔ (البقرۃ : 171)
Ayah 9:7فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین سے کیے ہوئے معاہدات سے برأت کرنے کی وجوہات۔
اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری اور مکمل دین ہے اسے اللہ تعالیٰ نے باقی ادیان پر غالب رہنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ اس کا غلبہ اس صورت میں ہی ہوسکتا ہے جب سچے مسلمان باہم متحد اور اپنے وسائل کو یکجا کرتے ہوئے جہاد کے لیے تیار رہیں گے۔ نبی ﷺ نے انھی بنیادوں پر صحابہ ؓ کی جماعت تیار فرمائی تھی جو جماعت اس قابل ہوئی کہ انھوں نے حدود حرم سے مشرکین کو نکال باہر کیا جب مشرکین کے دیس نکالے کا اعلان ہوا۔ تو انھوں نے اس پر مسلمانوں کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا جس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ مشرکین کے عہد کی اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں کیونکہ مشرک کئی بار معاہدہ کرنے کے بعد توڑ چکے ہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے مسجد حرام کے قریب رہتے ہوئے اپنے عہد کی پاسداری کی ان کے عہد کی مدت معینہ تک پاسداری کی جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ عہد شکنی اور کسی پر زیادتی کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام کی روشن خیالی اور وسعت طرفی کا عالم یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنوں کے ساتھ عہد شکنی اور زیادتی پسند نہیں کرتا بلکہ وہ بدترین دشمنوں اور مخالفوں کے ساتھ بھی ایفائے عہد اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ بشرطیکہ وہ بھی اخلاقی قدروں کا احترام اور ایفائے عہد کا خیال رکھیں۔ آپ کی نبوت سے پہلے مکہ میں چند لوگوں نے یہ عہد کیا کہ آج کے بعد کسی شخص کو کمزور، پردیسی اور بےسہارا پر ظلم نہیں کرنے دیا جائے گا۔ اس کے لیے انھوں نے اجتماعی حلف اٹھایا جسے حلف الفضول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نبوت کے بعد آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر آج بھی مجھے کوئی اس حلف اور عہد کے لیے بلائے تو میں سب سے پہلے اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں گا۔ یہی تعلیم آپ نے صحابہ ؓ اور ہر امتی کو دی ہے۔ (الرحیق المختوم)
(عن حُذَیْفَۃ بن الْیَمَانِ ؓ قَالَ مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی حُسَیْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ قَالُوا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِیدُہُ مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ فَأَتَیْنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ فَقَالَ انْصَرِفَا نَفِی لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِین اللّٰہَ عَلَیْہِمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجہاد والسیر، باب الوفاء بالعہد ]
” حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں مجھے اور ابو حسیل کو غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے کسی نے نہیں روکا تھا۔ ہمیں قریش مکہ نے پکڑ لیا انھوں نے پوچھا کہ بلاشبہ تم محمد ﷺ کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ ہم نے کہا نہیں ہمارا ان کی مدد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انھوں نے ہم سے اللہ کے نام پر حلف لیا ہم نے اس کی توثیق کردی کہ ہم مدینہ کی طرف ضرور جائیں گے مگر محمد ﷺ کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے۔ ہم رسول مکرم ﷺ کے پاس آئے ہم نے آپ کو راستہ میں پیش آنے والے واقعہ کی خبر دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا دونوں چلے جاؤ ہم اس عہد کی پاسداری کریں گے اور کفار کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں گے۔ “
مسائل
1۔ کفار اور مشرکین کی عہد شکنی کے مقابلے میں عہد توڑنا جائز ہے۔
2۔ اگر کوئی عہد کی پاسداری کرے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ بھی عہد کو نبھائیں۔
3۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگار اور عہد کی پاسداری کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے :
1۔ جو اللہ سے ڈریں ان سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 76)
2۔ صبر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 146)
3۔ نیکی کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 148)
4۔ توکل کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (آل عمران : 159)
5۔ انصاف کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (الممتحنۃ : 8)
6۔ صاف ستھرا رہنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔ (التوبۃ : 108)
Ayahs 9:8–10فہم القرآن
ربط کلام : عہد اور رشتہ داری کے بارے میں کفار اور مشرکین کا رویہ۔
مشرکین اور اسلام دشمن طاقتوں کا ہمیشہ سے رویہ رہا ہے کہ جب مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو کمزور پاتے ہیں تو صلح اور اتحاد کا پرچم اٹھاکر مسلمانوں کو زبانی کلامی راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے لیے، بقائے باہمی، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے نعرے لگاتے ہیں۔ حالانکہ ان باتوں کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور دل ہی دل میں یہ انکار کررہے ہوتے ہیں۔ جونہی مشکل وقت گزر جائے اور اپنے آپ کو طاقت ورمحسوس کریں تو کسی معاہدے اور تعلق داری کا پاس نہیں کرتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے ہمیشہ مالی فائدہ اور سیاسی مفاد رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے دنیا کمانے سے نہیں چوکتے اس طرح وہ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں مکہ کے مشرکین کا یہی رویہ تھا کہ جوں جوں اللہ کی آیات کا نزول ہوتا توں توں دنیا کے مفاد اور دین کی مخالفت میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ ان کا فکر و کردار ہمیشہ بدترین رہا ہے یہ لوگ مسلمانوں کے بارے میں کسی رشتہ داری اور عہد کا خیال نہیں رکھتے دراصل یہ زیادتی کرنے والے لوگ ہیں مدینہ میں یہودیوں کی بار بار عہد شکنی اور مشرکین کا صلح حدیبیہ کو توڑنے سے لے کر تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے ہر دور میں مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی ہے۔
یہاں سقوط غرناطہ کا واقعہ عیسائیوں کی عہد شکنی کی ناقابل فراموش مثال پیش خدمت ہے :
ابو عبداللہ نے قصر الحمرء میں ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں غرناطہ کے بڑے بڑے شیوخ وعمائد اور امراء ووزراء شریک تھے۔ ان میں جو بعض بڑے پرجوش اور غیرت مند تھے ان کی رائے قطعی طور پر یہی تھی کہ مسلمانوں کو اپنے آخری قطرہ خون تک لڑنا چاہیے چاہے انجام کچھ بھی ہو۔ بہر حال غرناطہ کو اس طرح دشمن کے حوالہ کردینا سخت ننگ وعار اور بزدلی کی بات ہے۔ لیکن اکثریت کے نقارخانہ میں اکیلے طوطی کی آواز کیا اثر پیدا کرسکتی ہے ؟ آخر ابو عبداللہ نے اپنے وزیر ابو القاسم عبدالملک کی معرفت فرڈیننڈ سے صلح کی بات چیت شروع کی اور انجام کار ایک صلح نامہ مرتب ہوا جس پر شاہ کیسٹل اور ابو عبداللہ دونوں کے دستخط ہوگئے اور اس پر مسلمانوں کی حکومت کا جو تقریباً آٹھ سو سال قائم تھی بالکل خاتمہ ہوگیا۔
یہ صلح نامہ جو درحقیقت مسلمانان اندلس کی بدبختی کی آخری دستاویز تھا جیسا کہ امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب ” آخر نبی سراج “ میں تصریح کی ہے کہ یہ پچپن دفعات پر مشتمل تھا۔ ان میں سے چند اہم دفعات کا خلاصہ یہ ہے کہ ” تمام چھوٹے بڑے مسلمانوں کو امن دیا جائے گا۔ ان کے اموال اور جاگیریں اور جائیدادیں سب محفوظ رہیں گی۔ ان کے مذہبی معاملات وخصومات کا تصفیہ خود مسلمان قاضی یا حاکم کرے گا۔ جنگ میں جو مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آگیا ہے اس کو غصب نہ کیا جائے گا۔ مقررہ ٹیکس کے علاوہ ان پر کوئی زائد ٹیکس نہ لگایا جائے گا۔ جو عیسائی مسلمان ہوگئے ہیں ان کو ترک اسلام پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ اور اسی طرح کسی مسلمان کو بجز عیسائی بنانے کی کوشش نہ کی جائے گی۔ اگر کوئی مسلمان افریقہ جانا چاہے تو حکومت اس کو اپنے انتظام پر افریقہ پہنچائے گی۔ کوئی عیسائی کسی مسلمان کے گھر داخل نہ ہوگا اور نہ ہی اس کی دیوار پر چڑھے گا۔ مسلمانوں کو عیسائی فوجیوں کی دعوت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ مسلمانوں کو لباس میں پوری آزادی رہے گی۔ یعنی انہیں کسی خاص وضع قطع کے اختیار کرنے یا کوئی خاص علامت لگانے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔ کوئی عیسائی کسی مسلمان کا راہ چلتے یا کہیں اور مذاق نہ اڑائے گا۔ اس پر فقرہ نہ کسے گا۔ اس کے ساتھ تمسخر نہ کرے گا۔ اور اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کو سزا دی جائے گی جو مسلمان جنگی مجرم ہیں اس کو رہا کردیا جائے گا۔ اگر کوئی مسلمان غلام اپنے مالک کے پاس سے بھاگ کر غرناطہ آجائے تو اسے مامون سمجھاجائے گا۔ بادشاہ اس کی قیمت غلام کے مالک کو ادا کردے گا۔
یہ معاہدہ عیسوی تاریخ کے لحاظ سے 30 دسمبر 1491 مطابق یکم ربیع الاول 897 ھ کو ہوا تھا اور اس پر علاوہ فرڈیننڈ کے ملکہ ازبلا، شاہی خاندان کے شہزادے اور شہزادیاں پادری اور دیگر مذہبی پیشوا، امراء اور وزراء دربار وعمائدو ارکان سلطنت کے دستخط ثبت تھے۔ اور اس میں فرڈیننڈ اور اس کی بیوی ازبلا نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ دونوں اس صلح نامہ کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کی پابندی کریں گے اور جس طرح یہ عہد نامہ خود ان دونوں کے لیے اور ان کے تمام حکام وعمال اور امراء واعیان کے لیے واجب العمل ہے اسی طرح ان کے قائم مقام، ان کی اولاد، اور ان کی اولاد کی اولاد سب اس عہد نامہ کے مطابق عمل کریں گے اور اس سے سر موانحراف نہ کریں گے۔
یہ عہد نامہ تو وہ تھا جس کا تعلق عام مسلمانوں اور ان کے مفاد سے تھا۔ اس کے علاوہ ایک اور عہد نامہ ترتیب دیا گیا۔ جو خاص ابو عبداللہ کی ذات سے تعلق رکھتا تھا۔ اس عہد نامہ میں چودہ دفعات تھیں جن کا ماحصل یہ تھا کہ شاہ فرڈیننڈ اور ازبلا ان دونوں نے کچھ املاک واراضی اور شہر سلطان ابوعبداللہ کو دیے ہیں۔ انہیں میں سے ایک البشرات بھی تھا۔
علاوہ بریں اس بات کا بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ ابو عبداللہ کو وہاں کے سکہ کے حساب سے جس کو ” یراوید “ کہا جاتا تھا ایک کڑور چالیس لاکھ اور پانچ سو کی رقم ادا کی جائے گی۔ لیکن شرط یہ تھی کہ یہ رقم اس وقت حوالے کی جائے گی جب کہ فرڈیننڈ اور ازبلا قلعہ الحمرء میں داخل ہوجائیں گے۔ پھر خاص ابو عبداللہ سے یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ جب تک وہ اندلس میں قیام کرے گا اس سے کوئی محصول نہیں لیا جائے گا۔ اور اگر اس نے کبھی اس ملک کو چھوڑ کر کہیں اور آباد ہونا چاہا تو اس کی زمینوں اور جائیدادوں کو مناسب قیمت پر خرید لیاجائے گا۔ اگر اس نے ان کو فروخت کرنا نہ چاہا تو وہ اپنا کوئی قائم مقام یا کارندہ ان کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے چھوڑ جائے۔ وہ ہر سال جائیدادوں اور جاگیروں کی آمدنی وصول کر کے ابوعبداللہ کو بھیج دیا کریگا۔ ابو عبداللہ بحری سفر کرے گا تو اس کے تمام متعلقین کے لیے کشتیوں وغیرہ کا انتظام فرڈیننڈ کی حکومت کی جانب سے کیا جائے گا۔ امیر شکیب رسلان کی تحقیق کے مطابق یہ دوسرا معاہدہ بتاریخ 25 دسمبر 1491 ء کو ہوا تھا۔
یہ یا در کھنا چاہیے ابو عبداللہ نے اپنے وزیر کے توسط سے یہ معاہدہ بالا بالا ہی کرلیا تھا۔ اہل غرناطہ کو اس کی کوئی خبر نہ تھی جب ان کو معلوم ہوا تو وہ سخت برہم اور پریشان ہوئے۔ حامد بن زرارۃ نامی ایک درویش کے جوش دلانے اور اکسانے پر بیس ہزار اہل غرناطہ مسلح ہو کر جنگ کرنے کے لیے نکلے بھی لیکن کچھ ایسے اسباب سماویہ پیش آئے کہ یہ اس مشکل سے عہدہ براء نہ ہوسکے اس واقعہ کے دوسرے دن ابوعبداللہ شہر کے روساء کی ایک جماعت کے ساتھ قلعہ الحمرء سے نکلا اور مسلمانوں کو خطاب کر کے کہا :
” مسلمانوں ! میں اقرار کرتا ہوں کہ اس ذلت و رسوائی میں کسی کا کوئی گناہ نہیں ہے گنہگار صرف میں ہوں میں نے اپنے باپ کے ساتھ نافرمانی اور سرکشی کا معاملہ کیا، اور دشمنوں کو ملک پر حملہ کرنے کی دعوت دی لیکن بہر حال خدا نے مجھ کو میرے گناہوں کی سزادے دی ہے تاہم یہ باور کرنا چاہیے کہ میں نے اس وقت یہ معاہدہ جو قبول کیا ہے محض اس لیے کیا ہے کہ تم لوگوں اور تمہارے بچوں کے خون خواہ مخواہ نہ بہیں۔ تمہاری عورتیں لونڈیاں اور باندیاں نہ بنیں اور تمہاری شریعت اور تمہاری املاک ومتاع ان بادشاہوں کے زیر سایہ محفوظ رہیں جو بہرحال بد نصیب ابو عبداللہ سے بہتر ہوں گے۔ “
فرڈیننڈ کی طرف سے دو ماہ دس دن کی مدت دی گئی تھی کہ ابو عبداللہ اس مدت کے اندر اندر فرڈیننڈ کا قبضہ الحمراء پر کرا دے گا۔ لیکن ابو عبداللہ اس درجہ پریشان اور سراسمیہ تھا کہ اس نے اس مدت سے پہلے ہی مندرجہ بالا تقریر کے دوسرے دن فریننڈ کو پیغام بھیجا کہ شہر پر قبضہ کر لیجیے۔ فرڈیننڈ نے ایک پادری کو مقرر کیا کہ سب سے پہلے وہ ایک جماعت کیساتھ غرناطہ میں داخل ہو کر قلعہ الحمراء کے سب سے بڑے برج سے اسلامی نشان کو گرا کر اس کی جگہ صلیب کا نشان نصب کرے تاکہ اسے دیکھتے ہی پرجوش طریقہ سے بادشاہ اور اس کی ملکہ شہر میں داخل ہوں۔ اسی قرارداد کے مطابق اب دونوں طرف غرناطہ کو الوداع کہنے اور اس میں داخل ہونے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ ایک جانب بدنصیب ابو عبداللہ اور اس کا تمام خاندان تھا جو رات بھر اپنا سازوسامان درست کرتا رہا اور غرناطہ سے پیش آنے والی جدائی کے غم میں الحمراء کے ایک ایک درودیوار کو حسرت وافسوس سے تکتا اور ان پر آنسو بہاتا رہا اور دوسری طرف شاہ کیسٹل کے کیمپ میں خوشی کے شادیا نے بج رہے تھے کہ بس اب رات کا تاریک پر دہ درمیان میں حائل ہے۔ اس کے اٹھنے کی دیر ہے کہ علیٰ الصباح غرناطہ پر قبضہ ہوجائے گا۔
چنانچہ ابو عبداللہ علیٰ الصباح اپنے متعلقین کو لے کر الحمراء سے نکلا اور ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اس کو فرڈیننڈ کا فرستادہ پادری مع ایک جماعت کے ملا۔ ابو عبداللہ نے قلعہ کی کنجیاں اس کے سپرد کرتے ہوئے کہا ” جاؤ ! اب ان قلعوں پر قبضہ کرلو جن کو اللہ نے ہماری بد اعمالیوں کے باعث ہمارے قبضہ سے نکال کر تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے “ پادری نے الحمراء میں داخل ہو کر امر شاہی کے مطابق اسلامی نشان کو گرا کر اس کی جگہ صلیبی پرچم لہرایا۔ فرڈیننڈ، ازبلا اور تمام عیسائی فوج نے اسے دیکھا تو ان کی خوشی کی حد نہ رہی فوراً بادشاہ اور ملکہ گھٹنوں کے بل بارگاہ خداوندی میں شکر بجا لائے۔ تمام فوج نے ان کی پیروی کی اس سے فارغ ہو کر یہ لوگ غرناطہ میں داخلہ کے لیے روانہ ہوئے دریا کے کنارے ایک چھوٹی جامع مسجد تھی ابھی وہاں پہنچے ہی تھے کہ یہاں ابو عبداللہ مل گیا۔ ابو عبداللہ نے فرڈیننڈ کو دیکھتے ہی چاہا کہ سواری سے اتر پڑے لیکن بادشاہ اور ملکہ دونوں نے منع کیا۔
اب ابو عبداللہ نے چاہا کہ بادشاہ کی دست بوسی کرے لیکن اس نے اسے یہ بھی نہ کرنے دیا۔ امیر شکیب ارسلان نے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابو عبداللہ نے ملکہ ازبلا کے ہاتھوں کو چومنا چاہاتو اس نے اپنے ہاتھ نہ پھیلائے اور ابو عبداللہ کا اضطراب دیکھ کر اسے دلاسہ دیا۔ ابو عبداللہ کا جو بیٹا اس کے پاس بطور ضمانت گرفتار تھا۔ وہ اس کے سپرد کردیا اس کے بعد ابو عبداللہ نے شہر کی کنجیاں بادشاہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا ” یہ کنجیاں اسپین میں عربوں کے اقتدار کی آخری نشانی ہیں۔ آپ انہیں لے لیجیے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت کے مطابق اب ہمارا ملک، متاع اور ہمارے جسم یہ سب آپ کی ملکیت ہوگئے ہیں۔ امید ہے کہ آپ نے جیسا وعدہ کیا اسی طرح آپ ان کے ساتھ رحم وکرم اور رافت ونرمی کا معاملہ کریں گے۔ “ فرڈیننڈ نے جواب دیا ” کوئی شبہ نہیں کہ ہم نے جو وعدہ کیا ہے اس کے مطابق ہی معاملہ کریں گے۔ “ اس گفتگو کے بعدکنجیاں فرڈیننڈ نے ملکہ ازبلا کے سپرد کردیں اس نے اپنے بیٹے پرنس جو ن کو دیں اور جون نے کاؤنٹ ٹنڈل کے حوالے کردیں جو غرناطہ کا کمانڈر بنایا گیا تھا۔
اب فرڈیننڈ اس کی ملکہ ازبلا، اور اس کا تمام لاؤ لشکر غرناطہ کی طرف اس پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے ادھر بدبخت وبدنصیب ابو عبداللہ نے وادی برشانہ میں اس مقام کا رخ کیا جو اس کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد ایک پہاڑی پر کھڑے ہوکر اس نے اپنی پشت کی جانب ایک حسرت آمیز نگاہ سے غرناطہ کی آبادی اور قصر الحمراء کے میناروں اور گبندوں پر نظر ڈالی۔ اس کے تمام ساتھی بھی اس وقت اس کے ساتھ غرناطہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن ان کی زبانیں گنگ تھیں۔ منہ سے ایک حرف نہ بول سکے ابھی وہ اس حسرت انگیز اور درد ناک نظارہ میں محو ہی تھے کہ قلعہ الحمراء کے اوپر سے تو پوں اور گولوں کے چلنے کی آواز آئی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب غرناطہ سے مسلمانوں کی حکومت ختم ہوگئی اور عیسائیوں کی فوج نے اسے فتح کرلیا ہے۔ ابو عبداللہ اس وقت ضبط نہ کرسکا بےساختہ اس کا جی بھر آیا اور زاروقطار رونے لگا۔ ابو عبداللہ کی ماں عائشہ جو نہایت عقل مند عورت تھی۔ اس نے بیٹے کو اس طرح روتے ہوئے دیکھا تو بولی ” اب عورتوں کی طرح رو رہا ہے۔ لیکن تجھ سے یہ نہ ہو سکا کہ مردوں کی طرح غرناطہ کا دفاع کرتا “ ابو عبداللہ کے وزیر نے بھی اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ البشرات کی پہاڑی جس پر کھڑے ہو کر ابو عبداللہ اور اس کے ساتھیوں نے غرناطہ پر حسرت آمیز نگاہ واپسیں ڈالی ” دم واپسیں عرب “ کے نام سے ہی مشہور ہوگئی۔ اور اب تک اسی نام سے یاد کی جاتی ہے۔ امیر شکیب ارسلان لکھتے ہیں۔ کہ انہوں نے اپنی سیاحت اسپین کے دوران اس مقام کو دیکھا۔
ابو عبداللہ کی وفات :
فرڈیننڈ نے البشرات کا علاقہ ابو عبداللہ اور اس کے خاندان کی رہائش کے لیے متعین کردیا تھا۔ اور اس سلسلہ میں اس نے بہت کچھ عہد وپیماں بھی کیے تھے۔ لیکن غرناطہ پر اقتدار پانے کے بعد اس نے تمام عہود ومواثیق کو گلدستہ طاق نسیان بنا کر رکھ دیا۔ چناچہ ابو عبداللہ پر اندلس کی وسیع سرزمین کا چپہ چپہ تنگ ہوگیا اور آخر کار انجام یہ ہوا کہ فرڈیننڈ نے البشرات کا علاقہ بھی اونے پونے کر کے خرید لیا اور ابو عبداللہ اندلس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ کر افریقہ چلا آیا۔ یہاں مراکش کے بادشاہ کا ملازم ہوگیا اور اسی حالت میں 940 ھ میں اس دنیا سے بھی رخصت ہوگیا۔ (بحوالہ مسلمانوں کا عروج وزوال)
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ کی آیات کو فروخت کرنے والے :
1۔ اللہ کی آیات کو تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرو اللہ سے ڈر جاؤ۔ (البقرۃ : 41)
2۔ ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے جو اللہ کی آیات کو فروخت کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 79)
3۔ اللہ کی آیات کو چھپانا اور تھوڑی قیمت کے بدلہ میں فروخت کرنا۔ پیٹ میں آگ بھرنا ہے۔ (البقرۃ : 174 تا 176)
4۔ اللہ سے ڈر و لوگوں سے نہ ڈرو۔ اور اللہ کی آیات کو فروخت نہ کرو۔ (المائدۃ : 44)
Ayah 9:11فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کی وسعت ظرفی اور عفو درگزر کی بےمثال پالیسی۔
اسلام ہی ایسا دین ہے جس نے انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر بار بار توبہ کا موقع فراہم فرمایا ہے اور یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی فرد یا قوم جب بھی اپنے جرائم سے سچی توبہ کرلے تو انھیں صرف اللہ تعالیٰ ہی معاف نہیں کرتا ہے بلکہ حکم ہے کہ مسلمان بھی اسے معاف کردیں۔ مکہ میں نبی اکرم ﷺ کی ذات آپ کے اعزاء و اقرباء اور صحابہ کرام ؓ پر مشرکین نے مظالم کی انتہا کی مگر جب بھی ان میں سے کوئی تائب ہو کر حلقہ اسلام میں داخل ہوا تو نہ صرف اسے معاف کردیا گیا بلکہ مسلمانوں کی طرف سے ایسی محبت کا اظہار ہوا کہ جس سے کل کا ظالم آج اسلام اور مسلمانوں پر جان نچھاور کرنا اپنے لیے دو جہانوں کی سعادت سمجھنے لگا۔ بدر، احد، احزاب اور دوسرے مواقعوں پر مسلمانوں کے خلاف تلواریں سونتنے والے جب بھی حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو انھیں پورا، پورا اعزاز دیا گیا اس سے بڑھ کر کیا مثال ہوگی جنھوں نے احد کے موقعہ پر آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ کا مثلہ کیا تھا۔ آپ نے انھیں بھی معاف فرما دیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے مسلمانوں کا جنگ و قتال کبھی بھی اپنی ذات کے لیے نہیں رہا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کافر کے لیے صرف کلمہ پڑھنا کافی نہیں۔ بلکہ کلمہ کے اقرار کے بعد نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی یاد رہے نماز حقوق اللہ ادا کرنے کی ضمانت ہے اور زکوٰۃ حقوق العباد کی ترجمان ہے۔ جو شخص ان کا خیال رکھے گا اس کے لیے رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا آسان ہوجائے گا جہاں تک کہ اسلام میں توبہ کرنے کا تعلق ہے یہ تو حالت جنگ اور حالت نزع میں بھی قبول ہوجاتی ہے۔
(عَنْ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ؓ یَقُولُ بَعَثَنَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِلَی الْحُرَقَۃِ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَہَزَمْنَاہُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْہُمْ فَلَمَّا غَشِینَاہُ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ فَکَفَّ الْأَنْصَارِیُّ فَطَعَنْتُہٗ بِرُمْحِی حَتّٰی قَتَلْتُہٗ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ یَا أُسَامَۃُ أَقَتَلْتَہُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قُلْتُ کَانَ مُتَعَوِّذًا فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتّٰی تَمَنَّیْتُ أَنِّی لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِکَ الْیَوْمِ )
[ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب بعث النبی اسامۃ ]
” حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے ہمیں حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور انھیں شکست سے دو چار کیا۔ میں اور ایک انصاری نے دشمن کے ایک آدمی پر غلبہ پایا تو اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا۔ انصاری نے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں کو روک لیا مگر میں نے اسے اپنا نیزا مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر ڈالا۔ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے سامنے تفصیل بیان کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اسامہ کیا تو نے اسے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ؟ میں نے عرض کی کہ وہ تو مجھ سے بچنے کے لیے ایسا کر رہا تھا۔ آپ ﷺ اپنے الفاظ بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش میں نے آج سے پہلے اسلام قبول نہ کیا ہوتا۔ “ (یعنی مسلمان ہوتے ہوئے مجھے یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ )
(عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ )
[ رواہ ابوداؤد : کتاب الجنائز، باب فی التلقین ]
” حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جس کا آخری کلام لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ “
مسائل
1۔ توبہ کرنے سے شرک و کفر بھی معاف ہوجاتا ہے۔
2۔ ایمان لانے کے بعد نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ایمان لانے کا عملی ثبوت ہے۔
3۔ دین باہمی اخوت کے لیے مضبوط ترین رشتہ ہے۔
تفسیر بالقرآن
مسلمانوں کے باہمی تعلقات :
1۔ مومن آپس میں بھائی ہیں اگر وہ جھگڑپڑیں تو ان میں صلح کروادو۔ (الحجرات : 10)
2۔ محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی آپس میں بڑے رحمدل اور کفار پر بڑے سخت ہیں۔ (الفتح : 29)
3۔ اے ایمان والو ! اگر تم مرتد ہو جاؤتو اللہ ایسی قوم لے آئے گا جو آپس میں محبت کرنے والے ہوں۔ (المائدۃ : 54)
Ayah 9:12فہم القرآن
ربط کلام : دین دار لوگوں کی آپس میں محبت ہونی چاہیے جو لوگ عہد شکنی کریں اور دین اسلام کو طعن و تضحیک کا نشانہ بنائیں ان سے نہ صرف نفرت ہونی چاہیے بلکہ جنگ کے دوران انھیں خاص طور پر نشانہ بنانا چاہیے۔
کفار اور منافقین تائب ہونے کی بجائے عہد شکنی اور دین میں طعن وتشنیع کا سلسلہ جاری رکھیں۔ تو ان کی قسموں پر اعتماد کرنے کی بجائے کفر کے سرداروں کو قتل کر دو ۔ شاید اس طرح باقی ماندہ لوگ کفر و شرک کی کھلم کھلا مخالفت سے باز آجائیں۔ دین میں طعن سے مراد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا اور دین کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرنا ہے۔ اس آیت میں دو باتیں بالخصوص کہی گئی ہیں۔ ائمۃ الکفر کے قتل کا حکم اور ان کے عہد کو بےحیثیت قرار دینے کی ہدایت۔ یہ اس لیے ہے کہ کفار جب اپنے آپ کو طاقتور سمجھتے ہیں۔ تو مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے عہد کی پرواہ نہیں کرتے اور جب مسلمانوں کو مضبوط تصور کرتے ہیں تو پھر عہد کی پاسداری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ جس طرح حدیبیہ کا عہد توڑنے کے بعد انھوں نے محسوس کیا کہ مسلمان ہم پر حملہ آور ہونے والے ہیں تو انھوں نے اپنے سربراہ ابو سفیان کو تجدید عہد کے لیے مدینہ بھیجا لیکن نبی اکرم ﷺ سمجھتے تھے کہ یہ صرف دفع الوقتی کی خاطر ایسا کر رہے ہیں اور بنو بکر کو بنو خزاعہ کی دیت دینے کے لیے مجبور کرنے پر تیار نہیں ہیں جس بناء پر آپ تجدید عہد کے لیے تیار نہ ہوئے اور مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی جب آپ نے مکہ کا کنٹرول سنبھالا تو چار پانچ آدمیوں کے سوا باقی کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا جن لوگوں کو اس موقع پر قتل کیا گیا ان کے بارے میں اعلان یہ تھا کہ اگر یہ لوگ کعبہ کے غلاف کے ساتھ چمٹ جائیں تو پھر بھی انھیں معاف نہ کیا جائے۔ اس کا سبب یہی تھا کہ یہ لوگ ائمۃ الکفر تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی گستاخیاں کرنے کے ساتھ دین پر غلیظ ترین طعن وتشنیع کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے حکم جاری فرمایا کہ ان لوگوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو ۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے اکابر مجرمین میں سے نو آدمیوں کا خون رائیگاں قرار دے کر حکم دیا کہ اگر وہ کعبے کے پردے کے پیچھے بھی پائے جائیں تو انھیں قتل کردیا جائے ان کے نام یہ ہیں۔
(1) عبدالعزیٰ بن خطل (2) عبداللہ سعد بن ابی سرح (3) عکرمہ بن ابی جہل (4) حارث بن نفیل بن وہب ( 5) مقیس بن صبابہ (6) ہبار بن اسود (7، 8) ابن خطل کی دو لونڈیاں جو نبی ﷺ کی ہجو گایا کرتی تھیں (9) سارہ، جو اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کی لونڈی تھی۔ ابن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ اسے حضرت عثمان بن عفان ؓ نے خدمت نبوی ﷺ میں لے جا کر جان بخشی کی سفارش کردی اور آپ نے ان کی جان بخشی فرماتے ہوئے اس کا اسلام قبول کرلیا۔ لیکن اس سے پہلے آپ کچھ دیر تک اس امید میں خاموش رہے کہ کوئی صحابی اٹھ کر اسے قتل کردے گا۔ کیونکہ یہ شخص اس سے پہلے بھی ایک بار اسلام قبول کرچکا تھا اور ہجرت کرکے مدینہ آیا تھا لیکن پھر مرتد ہو کر بھاگ گیا تھا تاہم اس کے بعد یہ شخص مخلص مسلمان ثابت ہوا۔
عکرمہ بن ابی جہل نے بھاگ کر یمن کی راہ لی لیکن اس کی بیوی خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر اس کے لیے امان کی طالب ہوئی اور آپ نے اسے امان دے دی۔ اس کے بعد وہ عکرمہ کے پیچھے گئی اور اسے واپس لے آئی۔ اس نے اسلام قبول کیا۔
ابن خطل خانہ کعبہ کا پردہ پکڑ کر لٹکا ہوا تھا۔ ایک صحابی نے خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کر دو ۔ اس نے اسے قتل کردیا۔ مقیس بن صبابہ کو حضرت نمیلہ بن عبداللہ نے قتل کیا۔ مقیس بھی پہلے مسلمان ہوچکا تھا۔ لیکن پھر ایک انصاری کو قتل کرکے مرتد ہوگیا اور بھاگ کر مشرکین کے پاس چلا گیا تھا۔ حارث، مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو سخت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔ اسے حضرت علی ؓ نے قتل کیا۔ ہبار بن اسود وہی شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کو ان کی ہجرت کے موقع پر ایسا کچو کا مارا جس سے وہ ہودج سے نکل کر ایک چٹان پر جا گری تھیں اور اس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔ یہ شخص مکہ سے نکل بھاگا۔ بعد ازاں مسلمان ہوگیا اور اس کا اسلام اور کردار بہت اچھا رہا۔ ابن خطل کی دونوں لونڈیوں میں سے ایک قتل کی گئی۔ دوسری کے لیے امان طلب کی گئی اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی طرح سارہ کے لیے امان طلب کی گئی اور وہ بھی مسلمان ہوگئی۔ (گویا کہ نو میں سے چار قتل کیے گئے، پانچ کی جان بخشی ہوئی اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ )
مسائل
1۔ جو لوگ بار بار عہد شکنی کریں ان کے عہد کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔
2۔ اللہ اور اس کے رسول کی گستاخی اور دین میں طعن کرنے والوں کو قتل کردینا چاہیے۔
3۔ جنگ میں کفر کے لیڈروں کو قتل کردینا چاہیے۔