9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفہم القرآن

Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

” اگر جلدی ملنے والا اور درمیانہ سفرہوتا تو وہ ضرور آپ کے پیچھے آتے لیکن انہیں سفر کی دوری مشکل نظر آئی اور عنقریب وہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو تمہارے ساتھ ضرور نکلتے وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں۔ “ (42)

فہم القرآن ربط کلام : مخلص مسلمانوں سے خطاب کے بعد منافقوں کا کردارواضح کیا جارہا ہے۔ مکہ معظمہ میں اعتقاد کے اعتبار سے دوہی قسم کے لوگ تھے ایک کافر اور دوسرے مخلص مسلمان، لیکن مدینہ طیبہ میں نبی اکرم ﷺ کو کفار کے ساتھ یہودیوں اور منافقین کے ساتھ بھی واسطہ پڑا ان میں خطرناک گروہ منافقین کا تھا جو مارآستین تھے۔ کیونکہ یہ لوگ بظاہر کلمہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمانوں جیسے کام کرتے اور ہرو قت مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہتی تھے۔ ان کو پہچاننا اور ان سے کنارہ کش ہونا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ یہ لوگ سوائے کڑی آزمائش کے پہچانے نہیں جاتے تھے۔ البتہ بدر، احد اور دیگر معرکوں کے وقت کافی حد تک نمایاں ہوچکے تھے لیکن وقت گزر جانے کے بعد یہ لوگ اپنی چرب لسانی اور جھوٹے حلف دے کر کچھ مسلمانوں کو اپنا ہمدرد بنا لیا کرتے تھے۔ غزوۂ تبوک کے ابتدائی ایام میں یہ لوگ شریک جنگ ہونے کے لیے مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ لیکن جوں ہی وقت قریب آتا گیا تو ان کے حیلے بہانے سامنے آنے لگے چناچہ ان میں کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں آکر اللہ کو گواہ بنا کر کہتے کہ ہماری فلاں فلاں مجبوری نہ ہوتی تو ہم آپ کے ساتھ ضرور شریک جنگ ہوتے۔ نبی اکرم ﷺ اپنے حلم و بردباری اور وسعت قلبی کی بناء پر انھیں اجازت عنایت فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے منافقین کی قلبی خیانت کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ دل کے کھوٹے ہیں اور دین کی خاطر کوئی مشقت اٹھانے کے لیے تیار نہیں اس سے کسی آزمائش میں اپنے آپ کو ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت کہ کسی صورت بھی تمہارے ساتھ شریک ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں جہاں تک ان کے حلف اٹھانے کا تعلق ہے اللہ اس پر گواہ ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ أَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فیہِ خَصْلَۃٌ مِّنْہُنَّ کَانَتْ فیہِ خَصْلَۃٌ مِّنْ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی وہ پکا منافق ہوگا اور جس میں ان میں سے کوئی ایک بھی ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔ جب اسے امانت دی جائے وہ خیانت کرے اور جب بات کرے جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب کسی سے الجھاؤ ہو تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔ “ مسائل 1۔ دین کے لیے منافق کسی بڑی آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ 2۔ منافق کا حلف بھی جھوٹا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہلاک ہونے والے لوگ : 1۔ اللہ نے حق کی تکذیب کرنے والوں کو انکے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر کے دوسری قوم کو پیدا فرمایا۔ (الانعام : 6) 2۔ آل فرعون نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کیوجہ سے ہلاک کردیا۔ (الانفال : 54) 3۔ بستی والوں نے جب ظلم کیا اللہ نے انھیں ہلاک کردیا۔ (الکہف : 59) 4۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : 139) 5۔ قوم تبع اور ان سے پہلے مجرموں کو اللہ نے ہلاک کردیا۔ (الدخان : 37) 6۔ اللہ نے انبیاء کی طرف وحی کہ کہ ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا۔ (ابراہیم : 13) 7۔ ہم کسی بستی والوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک ان میں ڈرانے والے نہ بھیج دوں۔ (الشعراء 208) 8۔ کیا وہ نہیں جانتے اللہ نے ان سے بھی بڑے مجرموں کو ہلاک کردیا۔ (القصص : 78) 9۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : 6)
Ayahs 9:43–45

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

” اللہ نے آپ کو معاف کردیا آپ نے انہیں کیوں اجازت دی یہاں تک کہ آپ کے لیے وہ لوگ واضح ہوجاتے جنہوں نے سچ کہا اور جھوٹوں کو بھی جان لیتا۔ (43)

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

وہ لوگ آپ سے اجازت نہیں مانگیں گے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کریں اور اللہ متقی لوگوں کو خوب جاننے والا ہے۔ (44)

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

آپ سے اجازت صرف وہ لوگ مانگتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں تو وہ اپنے شک میں حیران پھرتے ہیں۔ “ (45)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا کردار پیش کیا جا رہا ہے۔ منافق کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے کے بجائے اسے اچھی طرح جاننا اور پرکھنا چاہیے۔ رسول رحمت ﷺ نے اپنے حلم اور بردباری کی بناء پر منافقین کو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہنے کی اجازت دی لیکن وقت آچکا تھا کہ انھیں بالکل آشکار کردیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت شفقت و مہربانی کے لہجے کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے نبی ! اللہ آپ کو معاف کرے جس کا دوسرا مطلب ہے کہ اللہ نے آپ کو معاف کردیا ہے۔ منافقین کو اس وقت تک اجازت نہیں دینا چاہیے تھی جب تک کھرے اور کھوٹے، سچے اور جھوٹے کا فرق نمایاں نہ ہوجاتا۔ آپ کے اجازت دینے کی وجہ سے منافقین آپس میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے نبی کو ہمارے عزائم کا علم نہیں ہے کیونکہ یہ دور اندیش اور زیادہ بصیرت رکھنے والا نہیں۔ منافق اس بات پر خوش ہیں کہ اس نے ہمیں خود ہی اجازت دے دی ہے ہمارے ذمہ اب کوئی گناہ نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری رسول پر عائد ہوتی ہے۔ منافقین کی اس ہر زہ سرائی کو طشت ازبام کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ پر واضح کیا گیا ہے کہ آپ سے اجازت لینے والے وہ لوگ نہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے میں مخلص ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو خوب جانتا ہے جو حیلے بہانوں سے اجتناب کرنے والے ہیں۔ آپ سے جنگ میں عدم شرکت کی اجازت تو وہ لوگ مانگتے ہیں جن کا اللہ پر یقین نہیں اور ان کے دلوں میں اللہ اور آخرت کے بارے میں شک ہے اور وہ بےیقینی کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔ 1 قارئین محترم ” عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ “ لام عرب میں تعظیم اور تکریم کا کلمہ ہے۔ جس کو کلام کی ابتدا میں ذکر کیا جاتا ہے اور جو شخص متکلم کے نزدیک محترم اور مکرم ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے میرے معاملہ میں کیا کردیا ہے یا اللہ آپ سے راضی ہو۔ آپ نے میری بات کا کیا جواب دیا ہے لہٰذا اس آیت میں نبی مکرم ﷺ سے فرمایا ہے ” عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ “ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سے کوئی گناہ سرزد ہو اہو۔ 2 نبی اکرم ﷺ کا منافقین کو جہاد میں عدم شرکت کی اجازت دینا کیا آپ کی خطا تھی۔ اگر یہ خطا تھی تو ” عَفَا اللّٰہُ عَنْکَ “ سے اللہ نے اس کو معاف فرمادیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ” آپ نے ان کو اجازت کیوں دی “ فرمانا خطا کو مستلزم نہیں کرتا۔ لہٰذا اس قول کو ترک اولیٰ اور ترک اکمل پر محمول کیا جائے۔ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ پر صدق دل سے ایمان لانے والے نیکی کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ 2۔ منافق لوگ نیکی کرنے میں تردد سے کام لیتے ہیں۔ 3۔ منافق مشکل کے وقت مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیتا۔ تفسیر بالقرآن کن کے دلوں میں مرض ہے : 1۔ منافقین کے دلوں میں بیماری ہے اللہ نے ان کی بیماری کو بڑھادیا۔ (البقرۃ : 10 2۔ منافقین اور ان کے ساتھیوں کے دلوں میں بیماری ہے۔ (الاحزاب : 12)
Ayahs 9:46–47

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

” اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن اللہ نے ان کا اٹھناپسند نہیں کیا انہیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ (46)

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں نکلتے تو خرابی کے سوا تم میں کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور تم میں فتنہ کی غرض سے تمہارے درمیان دوڑتے پھرتے اور تم میں کچھ ان کی باتیں کان لگاکر سننے والے ہیں اور اللہ ان ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (47)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی مزید عادات۔ منافق نقصان کے خوف یا کسی مفاد کے حصول کے لیے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھتا ہے اس کے دینی کاموں میں اخلاص نہیں پایا جاتا وہ مفاد کا بندہ اور ابن الوقت ہونے کی وجہ سے موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ جونہی اسے موقعہ ملتا ہے تو وہ معمولی مفاد کی خاطر ملت کو نقصان پہنچانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ یہی حال رسول کریم ﷺ کے دور میں منافقین کا تھا۔ غزوۂ احد کے موقعہ پر جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے خلاف مورچہ زن ہوچکا تھا تو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے تین سو منافق ٹولیوں کی شکل میں مدینہ کی طرف بھاگ نکلے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر بھی منافقین کی ہمدردیاں اور خفیہ سرگرمیاں اہل مکہ اور مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی انھوں نے اپنی مذموم حرکتیں جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت کھل کر سامنے آگئے اور حیلے بہانوں سے جان چھڑاتے رہے۔ جو منافق کسی مجبوری کے عالم میں لشکر کے ساتھ گئے انھوں نے تبوک سے واپسی پر رات کے وقت نبی اکرم ﷺ پر حملہ کرنے کی کوشش کی جن کو آپ نے پہچان لیا اور حضرت حذیفہ کو ان کے نام بتلاتے ہوئے فرمایا کہ کسی کو بتلانے کی ضرورت نہیں ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دو ۔ منافقین کے اسی گھناؤنے کردار کی وجہ سے مسلمانوں کو بتلایا جا رہا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمہارے ساتھ نکلنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے۔ اگر انھوں نے جہاد کے لیے نکلنا ہوتا تو یہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ تیاری کرتے۔ ان کا جہاد کے لیے تیاری نہ کرنا درحقیقت میں اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کا تمہارے ساتھ نکلنا پسند نہیں کرتا تھا اس لیے ان کی سستی اور غفلت کو برقرار رہنے دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔ اللہ تعالیٰ اسی شخص کو نیکی کی توفیق دیتا ہے جو دل میں اس کی چاہت اور اس کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ اگر منافق نکلتے بھی تو ماضی کی طرح مسلمانوں میں انتشار اور بددلی پیدا کرنے کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ یہ تم میں ایسے لوگ ہیں جو غیروں کے لیے سنتے ہیں اور دشمن کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ بعض مفسرین نے ” فِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ “ کا معنی یہ لیا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے بھولے بھالے تھے جو ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منافقوں کو راز کی باتیں بتلا دیا کرتے تھے انھیں یہ حکم دے کر آئندہ کے لیے متنبہ کیا گیا ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَر َ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیرُ إِلٰی ہَذِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی ہَذِہِ مَرَّۃً ) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کا بیان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان بکری کی ہے کبھی ایک طرف جاتی ہے اور کبھی دوسری جانب۔ “ تفسیر بالقرآن فتنہ کیا ہے : 1۔ فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔ (البقرۃ : 191) 2۔ فتنہ کی موجودگی تک لڑتے رہو یہاں تک کہ دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ (البقرۃ : 193) 3۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ فتنہ تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : 7) 4۔ جان لو تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔ (الانفال : 28) 5۔ وہ کام نہ کرو جس سے زمین میں فساد اور فتنہ برپا ہو۔ (الانفال : 73)
Ayahs 9:48–49

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

” بیشک انہوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ ڈالنا چاہا اور آپ کے لیے کئی معاملات الٹ پلٹ کیے یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا حالانکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے۔ (48)

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں سے وہ ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دیجیے مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں۔ آگاہ رہو کہ وہ فتنے میں تو پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔ “ (49)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کی مزیدعادات کا بیان جاری ہے۔ اس سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر منافق لشکر اسلام کے ساتھ شامل ہوتے تو فتنہ پر وری کے سوا کسی بات میں اضافہ نہ کرتے کیونکہ یہ پہلے بھی مختلف موقعوں پر شر انگیزی اور فتنہ پردازی کرچکے ہیں۔ جس کی مثالیں احد، احزاب، فتح مکہ کے حوالے سے دی جا چکی ہیں ان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ معاملات کو گڑ بڑ کردیا جائے اور مسلمان کامیابی کی بجائے ناکامیوں سے دو چار ہوتے رہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر فضل ہے کہ اس نے منافقوں اور کفار کی کوئی سازش بھی کارگر نہ ہونے دی اور وہی کچھ ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ کر رکھا تھا۔ منافقین نبی ﷺ اور مسلمانوں کی کامیابیوں پر خوش ہونے کی بجائے ہمیشہ اسے ناپسند کرتے رہے۔ ان میں ایسا شخص بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ مجھے جنگ کے فتنہ میں نہ ڈالیے۔ کیا اسے خبر نہیں کہ یہ تو پہلے ہی منافقت کے فتنہ میں مبتلا ہوچکا ہے درحقیقت منافقت کفر کی ہی ایک صورت ہے یقیناً جہنم کفر کرنے والوں کو گھیرلے گی۔ ایک شخص سے مراد ایک کردار ہے۔ یہاں مفسرین نے منافقوں کے سردار جد بن قیس کا ذکر کیا ہے کہ وہ نبی محترم ﷺ کے پاس آکر بڑی معصومیت کے ساتھ کہنے لگا کہ آپ مجھے تبوک کے محاذ سے پیچھے چھوڑجائیں اگر میں آپ کے ساتھ گیا تو رومی دوشیزاؤں کو دیکھ کر میرا ایمان خطرے میں پڑجائے گا۔ گویا کہ جنگ سے جان بچانے کے لیے اس نے مصنوعی تقدس کا بہانہ بنایا جس پر کہا گیا کہ کیا ایسے لوگ نہیں سوچتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ منافقت کرنے سے بڑھ کر آدمی کے لیے کوئی اور آزمائش اور فتنہ کیا ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے منافقت سے بڑھ کر ایمان برباد کردینے والا کوئی اور فتنہ نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ منافقت اختیار کرنے اور جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے اس طرح کے بہانے بناتے ہیں دنیا میں تو شاید ان کی سازشوں اور شرارتوں کا کوئی احاطہ نہ کرسکے لیکن جہنم میں ان پر پوری طرح قابو پاکر ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے گی۔ مسائل 1۔ منافقین ہر وقت دین اسلام سے راہ فرار ڈھونڈتے ہیں۔ 2۔ منافق سرور دو عالم ﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالا کرتے تھے۔ 3۔ منافق فطرتاً شرارتی ہوتا ہے۔ 4۔ منافق اسلام کی سربلندی کو پسند نہیں کرتا۔ 5۔ فتنہ کا معنی شرارت اور آزمائش ہوتا ہے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور منصوبہ کو غالب کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن فتنہ کیا ہے ؟ 1۔ مال و دولت اور دنیا کی زندگی انسان کے لیے فتنہ ہے۔ (طٰہ : 131 2۔ اللہ تعالیٰ کے گھروں سے روکنا بہت بڑا فتنہ ہے۔ (البقرۃ : 217) 3۔ کیا وہ خیال نہیں کرتے کہ انہیں ہر سال ایک مرتبہ یا دو مرتبہ آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ (التوبۃ : 126) 4۔ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ پھیلانے کے لیے متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں۔ (آل عمران : 7) 5۔ تھور کا درخت جہنمیوں کے لیے آزمائش ہے۔ (الصٰفٰت : 63) 6۔ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہے۔ (التغابن : 15)
Ayahs 9:50–51

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

” اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور اس حال میں وہ بہت خوش پھرتے ہیں۔ (50)

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

فرما دیں ہمیں اس کے سواہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہی ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ “ (51)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں قلبی کیفیت اور ان کا حسد و بغض کا اظہار۔ منافقت کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب حسد بھی ہے۔ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کی منافقت کا بنیادی سبب حسد ہی تھا۔ جس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی معظم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے انصار کے قبیلے اوس اور خزرج نے یہودیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عبداللہ بن ابی کو اپنا قائد بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جب رسول معظم ﷺ کا مدینہ میں ورود مسعود ہوا تو لوگوں کی توجہ کا مرکز آپ کی ذات اقدس بن گئی جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کی تاج پوشی کا پروگرام ہمیشہ کے لیے ختم ہوا۔ اس بنا پر عبداللہ بن ابی ہمیشہ کے لیے آپ اور مسلمانوں کا دشمن بنا لیکن مسلمانوں کی طاقت اور اوس و خزرج کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے وہ کھل کر مخالفت نہیں کرسکتا تھا۔ اس بنا پر اس نے اندر ہی اندر منافقوں کی اچھی خاصی تعداد تیار کرلی اور یہ لوگ ہر آڑے وقت میں خفیہ یا اعلانیہ مسلمانوں کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ مسلمانوں کو بدر، احزاب، خیبر اور فتح مکہ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ شرح صدر کے ساتھ سمجھتے کہ مسلمان اسلام کی حقانیت کی وجہ سے کامیاب ہو رہے ہیں لیکن حسد وہ بیماری ہے کہ جب تک انسان اس سے سچی توبہ اور حاسدانہ حرکات سے اجتناب نہیں کرتا یہ مرض کینسر کی طرح پھیلتا ہی جاتا ہے یہی سبب تھا کہ منافقین ہر وقت اس انتظار میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو کب نقصان پہنچتا ہے۔ منافقین کے اسی برے جذبہ کی نشاندہی کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کو باخبر کیا گیا ہے کہ اے رسول ﷺ اگر آپ کو اچھائی نصیب ہو تو منافقین کہ انتہائی دکھ پہنچتا ہے اور اگر آپ کو کسی قسم کی مصیبت اور پریشانی لاحق ہو تو یہ خوش ہو کر کہتے ہیں کہ ہم بھی اس مصیبت سے دو چار ہوجاتے اگر ہم نے اس کے خلاف منصوبہ بندی نہ کرلی ہوتی۔ انھیں فرمادیجیے کہ جو ہمیں مصیبت یا پریشان پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا نتیجہ ہے۔ وہی ہمارا مالک اور مولا ہے ہمارا اسی پر بھروسہ اور اعتماد ہے اور ہم اپنے مالک کی تقدیر پر دل و جان کے ساتھ راضی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر صاحب ایمان کو اللہ تعالیٰ پر ہی اعتماد اور بھروسہ کرنا چاہیے۔ یہاں ” ہَوَ مُوَلَانَا “ کے الفاظ استعمال فرما کر منافقین کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ اور مومن کامل کی دل کی کیفیت بیان کی گئی ہے مومن وہ ہوتا ہے جو عسرو یسر میں اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُؤْمِنَ بالْقَدَرِ خَیْرِہِ وَشَرِّہِ حَتَّی یَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِءَہُ وَأَنَّ مَا أَخْطَأَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیبَہُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب القدر، باب ماجاء فی الایمان بالقدر ] ” حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا کوئی بھی شخص ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک وہ تقدیر کی اچھائی یا برائی پر ایمان نہ لے آئے۔ یہاں تک کہ وہ جان لے جو اس کو ملنے والا ہے وہ اس سے رک نہیں سکتا اور جو اس کو نہیں ملناوہ اس کو مل نہیں سکتا۔ “ (عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِیمَانِ مَنْ رَضِیَ باللّٰہِ رَبًّا وَّبِا لإِْسْلَام دینًا وَّبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من رضی باللہ ربا ] ” حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا جو شخص اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوگیا اس نے ایمان کا لطف اٹھا لیا۔ “ مسائل 1۔ منافق مسلمانوں کو مشقت میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے تنگدستی و خوشحالی پہلے دن انسان کے لیے لکھ دی ہے۔ 3۔ سچے مسلمان اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ پر توکل کے فائدے : 1۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : 3) 2۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : 159) 3۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : 59) 4۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : 36)
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

” فرمادیں تم ہمارے بارے میں دو بہترین چیزوں میں سے ایک کے سوا کس کا انتظار کرتے ہو اور ہم تمہارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے کوئی عذاب پہنچائے یا ہمارے ہاتھوں سے۔ سو انتظار کرو بیشک ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔ “ (52)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کو دوسرا جواب۔ منافقین کو پہلا جواب یہ دیا گیا تھا کہ جو کچھ ہمیں مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے رب نے ہماری قسمت میں پہلے سے لکھ رکھی ہے۔ ہم اپنے رب کے ہر فیصلے پر راضی ہیں۔ اب ان کو دوسرا جواب دیا جا رہا ہے کہ اے منافقو ! تم ہمارے بارے میں دو میں سے کسی ایک بات کا انتظار کرتے ہو۔ یاد رکھو اگر ہمیں میدان کارزار میں موت آجائے یا فتح کی صورت میں کامیابی حاصل ہو۔ دونوں ہی ہمارے لیے بہتر ہیں ہاں ہم بھی تمہارے متعلق اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ براہ راست تم پر اپنا غضب نازل فرمائے یا ہمارے ہاتھوں تمہیں ذلیل کرے۔ بس انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں، چناچہ یہی کچھ ہوا کہ منافق دنیا میں ہی ایک ایک کرکے ذلیل ہوئے جن کے بارے میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن اللہ کے نبی کی خدمت میں عرض کی کہ اجازت ہو تو میں عبداللہ بن ابی کا سر قلم کردوں لیکن آپ نے فرمایا کیونکہ لوگ اس کے اصلی کردار کو نہیں جانتے اس لیے وہ پروپیگنڈہ کریں گے کہ ” اِنَّ مُحَمَّدًا یَقْتُلُ اَصْحَابَہٗ “۔ کہ ” محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔ “ حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ عبداللہ بن ابی لوگوں کی نظر میں ذلیل اور بےاثر ہوگیا۔ (البدایہ والنہایہ) (عَنْ صُہَیْبٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزہد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر ] ” حضرت صہیب ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے معاملات عجیب ہیں۔ اس کے تمام معاملات میں خیر ہے اور یہ صرف مومن کے لیے ہے اگر اس کو آسانی ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یہ اسکے لیے بہتر ہے اور اگر اسے تنگدستی آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ “ (عَنْ أبی ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ انْتَدَبَ اللّٰہُ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہٖ لَا یُخْرِجُہٗ إِلَّا إِیمَانٌ بِی وَتَصْدِیقٌ بِرُسُلِی أَنْ أُرْجِعَہٗ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ أَوْ أُدْخِلَہٗ الْجَنَّۃَ وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِی مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ وَلَوَدِدْتُ أَنِّی أُقْتَلُ فِی سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب الجہاد من الایمان ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے اعلان کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اس کے رستے میں نکلتا ہے اسے صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نکالتی ہے میں اس کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ لٹاؤں گا یا اسے جنت میں داخل کروں۔ اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ محسوس کرتا تو میں کسی بھی غزوۂ سے پیچھے نہ رہتا۔ میں اس بات کی خواہش کرتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کردیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں۔ “ مسائل 1۔ مومن فتح یاب ہو یا شہید ہوجائے اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر ہی اجر ہے۔ 2۔ منافق دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے۔ 3۔ منافق مومن کے لیے برائی کے سوا کچھ نہیں سوچتا۔
Ayahs 9:53–54

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

” فرما دیں کہ خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے ہرگز تم سے قبول نہیں کیا جائے گا بیشک تم نافرمان لوگ ہو۔ (53)

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور انہیں کوئی چیز مانع نہیں ہوئی ان کی خرچ کی ہوئی چیز قبول ہے سوائے یہ بات کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نماز کو نہیں آتے مگر سستی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری سے۔ “ (54)

فہم القرآن ربط کلام : منافق کے طرزعمل پر تبصرہ جاری ہے۔ منافق کی منافقت کی وجہ سے جس طرح اس کے دیگر اعمال ضائع ہوتے ہیں اسی طرح اس کا صدقہ و خیرات بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ ایمان میں کھوٹے لوگ جب مسلمانوں کی طاقت محسوس کرتے ہیں تو منافقت کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں تاکہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ حال نبی ﷺ کے زمانے کے منافقوں کا تھا اس کے لیے کفار کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر میدان کار زار میں پہنچتے اور اپنی منافقت کو چھپانے کے لیے مال خرچ کرتے تھے تاکہ ان کی منافقت چھپ سکے۔ انھیں ان کے صدقہ و خیرات کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ بیشک تم خوشی سے خرچ کرو یا بادل نخواستہ۔ تمہاری منافقت کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس کی دمڑی بھر بھی حیثیت نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ منافق اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے والے، نماز میں جان بوجھ کر سستی اختیار کرنے کے ساتھ جو کچھ خرچ کرتے ہیں بادل نخواستہ خرچ کرتے ہیں۔ یہاں منافق کی تین خصلتیں بیان کرکے ان کے عقیدہ کو کفر قرار دیا گیا ہے گویا کہ منافق کلمہ پڑھنے اور بظاہر ارکان اسلام پر عمل کرنے کے باوجود حقیقتاً کافر ہوتا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اٰےَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اءْتُمَنَّ خَانَ ) (رواہ مسلم : باب خصائل المنافق) ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ 1 جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے 2 جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے 3 جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (متفق علیہ) مسلم شریف میں ان الفاظ کا اضافہ ہے ” چاہے روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ “ مسائل 1۔ منافق کی کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی۔ 2۔ منافق اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ حقیقتاً کفر کرتا ہے۔ 3۔ منافق جان بوجھ کر نماز میں بےتوجہگی اور کاہلی اختیار کرتا ہے۔ 4۔ منافق نمود و نمائش اور مجبوری کی بنا پر صدقہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن منافق کی نماز : 1۔ منافق اللہ کو دھوکہ دیتا ہے نماز میں سستی و کاہلی، ریاکاری اختیاری کرتا ہے، اللہ کو تھوڑا یاد کرتا ہے۔ (النساء : 142) 2۔ دوزخ کا عذاب ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل اور ریا کار ہیں۔ (الماعون : 4 تا 6 ) 3۔ ایسے کفار اور منافقین کے ساتھ اللہ کا وعدہ جہنم کا ہے۔ (التوبۃ : 68)
Ayahs 9:55–56

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

” نہ حیرت میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اور اولاد اللہ چاہتا ہے کہ انہیں ان کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں کفر کی حالت میں نکلیں۔ (55)

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ بیشک وہ تم میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں اور لیکن وہ ڈرپوک لوگ ہیں “ (56)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی مزید نشانیوں کا تذکرہ جاری ہے۔ مدینہ کے منافق مال اور اولاد کے اعتبار سے بیشمار لوگوں سے زیادہ حیثیت کے مالک تھے۔ لیکن کمینے اور منافق شخص کے پاس مال کی کثرت اور افرادی قوت ہو تو وہ اپنی خباثت میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ کیونکہ معاشرے میں جس شخص کے پاس یہ دو چیزیں وافر ہوں تو اسے کوئی ٹوکنے اور روکنے والا نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے قول و فعل میں سچا ہوں۔ عوام الناس ایسے شخص سے متاثر اور مرعوب ہوجاتے ہیں اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگوں کے سامنے منافقوں کی بےوقعتی ثابت ہوجائے۔ آپ کو حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کو منافقوں کے کاروبار، محلات، مال و اسباب اور افرادی قوت دیکھ کر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں انھیں بطور خیر کے عطا نہیں کی گئیں بلکہ اس لیے دی گئیں ہیں کہ ان کے مال اور اولاد دنیا میں ان کے لیے ذلت کا باعث اور آخرت میں ان کے لیے عذاب کا سبب ثابت ہوں اور یہ کفر کی حالت میں ہی جان دیں۔ یہ حلف دے دے کر آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ تمہارے ساتھی ہیں حالانکہ وہ ایمان، اخلاص اور ہمدردی کے حوالے سے تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے ایسی باتیں محض اپنی منافقت اور بزدلی چھپانے کے لیے کرتے ہیں۔ منافقین کو چاہیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر اس کے شکر گزار ہوتے ہوئے، اخلاص اور تابعداری کا مظاہرہ کرتے لیکن منافق ان نعمتوں کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انھی چیزوں کے ساتھ انھیں دنیا میں سزا دی جائے گی۔ اگر سوچا جائے تو کیا یہ سزا کم ہے ؟ کہ عبداللہ بن ابی نے جب غزوۂ بنی مصطلق سے واپسی پر اپنے مخصوص ساتھیوں میں یہ کہا کہ مدینہ پہنچ کر گھٹیا لوگوں یعنی صحابہ کرام ؓ کو شہر سے نکال دیا جائے گا۔ حالانکہ وہ اس قابل نہیں تھا۔ کیونکہ آج تو سلطنت رومہ کا حکمران بھی صحابہ کی تاب نہیں لاسکا۔ جس کی وجہ سے اس نے تبوک کے محاذ سے پسپائی اختیار کی تھی یہ صرف منافق کی یا وہ گوئی اور ہرزہ سرائی تھی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا : (ہُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْاطوَ لِلّٰہِ خَزَآءِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَہُوْنَ یَقُوْلُوْنَ لَءِنْ رَّجَعْنَآ اِلٰی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّطوَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ )[ المنافقون : آیْت، 7۔ 8] ” یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں نہ خرچ کرو ان (درویشوں) پر جو اللہ کے رسول کے پاس ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ (بھوک سے تنگ آکر) تِتر بتر ہوجائیں، اور اللہ کے لیے ہی ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے لیکن منافقین ( اس حقیقت کو) سمجھتے ہی نہیں۔ منافق کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر گئے مدینہ میں تو نکال دیں گے عزت والے وہاں سے ذلیلوں کو حالانکہ (ساری) عزت تو صرف اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے مگر منافقوں کو ( اس بات کا) علم ہی نہیں۔ “ جو نہی وہ مدینہ داخل ہوا۔ اس کا بیٹا جس کا نام بھی عبداللہ تھا وہ تلوار سونت کر سامنے آیا اور اپنے باپ سے کہا کہ میں تم کو مدینہ داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک آپ اپنے الفاظ واپس لے کر معذرت نہیں کرتے چناچہ عبداللہ بن ابی نے اس سے معافی مانگی۔ اس کے باوجود یہ شخص منافقت کی حالت میں مرا تھا یہاں تک منافقوں کے مال کا تعلق ہے وہ بھی منافقین کی زندگی میں ختم ہوا۔ صحابہ کرام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے عزت و اقبال کے ساتھ دنیا کی فراوانی سے ہم کنار فرمایا۔ مسائل 1۔ منافق اور کافر کے مال اور اولاد پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ 2۔ منافق اور کافر کا مال اور اولاد اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت کا باعث بنتے ہیں۔ 3۔ منافق کا حلف جھوٹا اور یہ بزدل ہوتا ہے۔ 4۔ منافق کی جان بھی منافقت کی حالت میں نکلتی ہے۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

” اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پائیں یا کوئی غاریں یاگھس بیٹھنے کی جگہ تو اس کی طرف بھاگ جائیں اس حال میں کہ وہ رسیاں تڑا رہے ہوں۔ “ (57)

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو حلف دینے اور اس بات کی یقین دہانی کروانے کے باوجود کہ ہم کفار کی بجائے تمہارے ساتھی ہیں منافقوں کے دل کی کیفیت یہ تھی۔ منافقت کے دیگر اسباب کے ساتھ ایک سبب یہ بھی ہے کہ منافق بزدل اور ڈرپوک ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ظاہر اور باطن میں تضاد قائم رہتا ہے۔ خاص کر جب مسلمان طاقت ور ہوں تو منافق اپنی منافقت میں پکا اور گہرا ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال مدینہ کے منافقین کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں کو ہر میدان میں کامیابیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ اس زمانے کی واحد سیاسی سپر پاور روم بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ کرسکی۔ ادھر پورا حجاز بھی اسلام کے زیر نگین ہوچکا تھا ایسی صورت حال میں منافق جائیں تو کہاں جائیں حالانکہ کہ ان کے دل کی کیفیت اور منفی جذبات کا عالم یہ تھا کہ اگر انھیں دنیا میں کوئی پناہ گاہ ملتی تو ضرور اس کی طرف نکل کھڑے ہوتے۔ ان کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے اگر انھیں پناہ گاہ یا کوئی غار یا سرچھپانے کی معمولی جگہ ملے تو یہ وہاں جانے کے لیے بےتاب ہوں۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق منافقوں کو کس طرح حقیر اور ذلیل کیا کہ وہ اپنے اندر ہی اندر گھلتے جا رہے تھے اور اس فکر میں تھے کہ سرچھپانے کی کوئی جگہ مل جائے لیکن مسلمانوں کے بغیر انھیں کہیں بھی پناہ نہ مل سکی۔ اس طرح رب ذوالجلال کا یہ فرمان حرف بہ حرف پور اہو ا۔ (وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَعْلَمُونَ )[ المنافقون : 8] ” کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے لیکن منافق اسے نہیں سمجھتے۔ “ مسائل 1۔ منافق ہر وقت اپنے دل میں پریشان رہتا ہے۔ 2۔ مسلمانوں کا غلبہ دیکھ کر منافق کسی پناہ گاہ کی تلاش میں رہتا ہے۔
Ayahs 9:58–59

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

” اور ان میں سے وہ ہیں جو آپ پر صدقات (کی تقسیم) کے بارے میں طعن کرتے ہیں اگر انہیں ان میں سے دے دیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں ان میں سے نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ (58)

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور کاش کہ واقعی وہ اس پر راضی ہوجاتے جو انہیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے کہ اللہ کافی ہے جلدہی اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے دے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں۔ “ (59)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دنیا میں ذلیل ہونے کے باوجود مال کے بارے میں منافق کی حرص و ہوس کا حال۔ مدینہ کے منافقین چاروں طرف سے مایوس اور ہر سہارے سے بےسہارا ہونے کے باوجود دنیا کے مال میں اس قدر حریص تھے کہ جب بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے حکم اور اس کی حکمت کے مطابق مال غنیمت تقسیم فرمایا اور اس میں منافقوں کو مخلصین کے مقابلے میں کم حصہ دیا تو وہ اللہ کے رسول کی امانت و دیانت پر یقین رکھنے کے باوجود ہرزہ سرائی پر اتر آتے اور دیانت و امانت کے پیکر رسول کریم ﷺ کو الزام دیتے کہ یہ نبی غنائم کی تقسیم میں عدل و انصاف کا خیال نہیں رکھتا۔ حالانکہ ظالم کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے تھے کہ جب بھی مال غنیمت آتا تو رسول کریم ﷺ سب کچھ تقسیم کرکے خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹا کرتے تھے۔ منافقین کو ان کے مطالبہ کے مطابق مل جاتا تو بغلیں بجاتے ورنہ سخت ناراضگی کا اظہار اور منفی پروپیگنڈہ کرتے۔ ایسے لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر یہ اللہ اور اس کے رسول کی تقسیم اور منشا پر خوش ہوجاتے اور کہتے کہ ہمیں اللہ ہی کافی ہے عنقریب ہمارا اللہ اپنے فضل سے مزید عطا کرے گا جس سے اس کا رسول ﷺ ہمیں خوش کر دے گا۔ لیکن منافقین نے مال کے حصول کو معیار بنا کر اللہ کے رسول کو ہدف تنقیدبنا لیا تھا یہاں فضل و کرم کی نسبت نبی اکرم ﷺ کی طرف کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ اپنی طرف کی ہے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی شخص یہ عقیدہ اختیار نہ کرے کہ مشکلات کے حل اور فضل و کرم کی عطا کا اختیار اللہ کے رسول کو بھی حاصل ہے۔ اس لیے اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔ فضل و کرم کا مالک اور حل المشکلات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نبی ﷺ تو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال میں سے دیا کرتے تھے۔ اسی تناظر میں آپ نے وضاحت فرمائی ہے۔ (عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ ﷺ یَقُولُ مَنْ یُّرِدْ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّہْہُ فِی الدِّینِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللّٰہُ یُعْطِی وَلَنْ تَزَالَ ہَذِہِ الْأُمَّۃُ قَاءِمَۃً عَلَی أَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّہُمْ مَنْ خَالَفَہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَ أَمْرُ اللّٰہِ ) [ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب من یرد اللہ بہ خیرا ] ” حضرت معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت کرتا ہے میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اللہ تعالیٰ دیتا ہے یہ امت ہمیشہ دین حق پر رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ اس کی مخالفت کرنے والا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ “ (عَن أَبِی سَعِیدِ الْخُدْرِیِّ ؓ یَقُولُ بَعَثَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ؓ إِلٰی رَسُول اللّٰہِ ﷺ مِنَ الْیَمَنِ بِذُہَیْبَۃٍ فِی أَدِیمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِہَا قَالَ فَقَسَمَہَا بَیْنَ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ بَیْنَ عُیَیْنَۃَ بْنِ بَدْرٍ وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ وَزَیْدِ الْخَیْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَۃُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَیْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہٖ کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِہَذَا مِنْ ہٰؤُلَاءِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ ﷺ فَقَالَ أَلَا تَأْمَنُونِی وَأَنَا أَمِینُ مَنْ فِی السَّمَاءِ یَأْتِینِی خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَّمَسَاءً قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَاءِرُ الْعَیْنَیْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ نَاشِزُ الْجَبْہَۃِ کَثُّ اللِّحْیَۃِ مَحْلُوق الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ فَقَالَ یَا رَسُول اللّٰہِ اتَّقِ اللّٰہَ قَالَ وَیْلَکَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَہْلِ الْأَرْضِ أَنْ یَتَّقِیَ اللّٰہَ قَالَ ثُمَّ وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ یَا رَسُول اللّٰہِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہٗ قَالَ لَا لَعَلَّہُ أَنْ یَکُونَ یُصَلِّی فَقَالَ خَالِدٌ وَکَمْ مِنْ مُّصَلٍّ یَقُولُ بِلِسَانِہٖ مَا لَیْسَ فِی قَلْبِہٖ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ إِنِّی لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوب النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَہُمْ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَیْہِ وَہُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ إِنَّہٗ یَخْرُجُ مِنْ ضِءْضِءِ ہَذَا قَوْمٌ یَتْلُونَ کِتَاب اللّٰہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ وَأَظُنُّہٗ قَالَ لَءِنْ أَدْرَکْتُہُمْ لَأَقْتُلَنَّہُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب بعث علی بن أبی طالب ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا، جس سے مٹی علیحدہ نہیں کی گئی تھی یمن سے رسول مکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ آپ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل ؓ کے درمیان تقسیم کردیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار ہیں آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کیا تم لوگوں کو مجھ پر اطمینان نہیں حالانکہ میں آسمان والے کا امین ہوں۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، ڈاڑھی گھنی اور سرمنڈا ہوا تھا۔ اپنا تہبند پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا اللہ کے رسول ! اللہ سے ڈریے۔ آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو۔ کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا نہیں ہوں ؟ وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں اس کی گردن نہ اڑادوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ خالد ؓ کہنے لگے کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے اچھی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں۔ آپ نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں میں نقب لگانے اور ان کے پیٹوں کو چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ابو سعید ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا اس کی نسل سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے کر پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ابو سعید ؓ کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انھیں ہلاک کر دوں گا۔ “ (عن عَمْرو بن تَغْلِبَ ؓ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أُتِیَ بِمَالٍ أَوْ سَبْیٍ فَقَسَمَہٗ فَأَعْطَی رِجَالًا وَتَرَکَ رِجَالًا فَبَلَغَہٗ أَنَّ الَّذِینَ تَرَکَ عَتَبُوا فَحَمِدَ اللّٰہَ ثُمَّ أَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَوَاللّٰہِ إِنِّی لَأُعْطِی الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ وَالَّذِی أَدَعُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الَّذِی أُعْطِی وَلٰکِنْ أُعْطِی أَقْوَامًا لِمَا أَرٰی فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْہَلَعِ وَأَکِلُ أَقْوَامًا إِلٰی مَا جَعَلَ اللّٰہُ فِی قُلُوبِہِمْ مِنَ الْغِنٰی وَالْخَیْرِ فیہِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ فَوَاللّٰہِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی بِکَلِمَۃِ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجمعۃ، باب خطبۃ الجمعۃ ] ” عمرو بن تغلب ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال یا قیدی آئے۔ آپ نے اسے تقسیم کردیا۔ کسی کو آپ نے دیا اور کسی کو نہ دیا۔ آپ تک یہ بات پہنچی کہ جنھیں نہیں دیا گیا وہ ناراض ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا۔ جنھیں میں دیتا ہوں وہ اس لیے نہیں دیتا کہ مجھے زیادہ محبوب ہیں بلکہ اس لیے دیتا ہوں کہ میں ان میں بےچینی اور بوکھلا ہٹ پاتا ہوں اور جنھیں نہیں دیتا ان کی سیر چشمی اور بھلائی پر بھروسہ کرتا ہوں جو اللہ نے انھیں دے رکھی ہے ایسے لوگوں میں سے ایک عمرو بن تغلب ہے۔ آپ کے منہ سے یہ بات سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر مجھے سرخ اونٹ بھی مل جاتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ “ مسائل 1۔ منافق مال و دولت کا بہت حریص ہوتا ہے۔ 2۔ منافق کے دل میں للہیت کے بجائے دنیاکا مفاد ہوتا ہے۔ 3۔ منافق کو اگر مفادات ملتے رہیں تو راضی رہتا ہے اگر نہ ملیں تو ناراض ہوجاتا ہے۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

” صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر کے لیے یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ “ (60)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا اعتراض اور ان کی عادت بیان کرنے کے بعد زکوٰۃ کے مستحق حضرات کی فہرست کا بیان۔ منافقین بلاا ستحقاق اپنے آپ کو صدقہ و خیرات کا مستحق سمجھتے اور نہ ملنے پر رسول معظم ﷺ کی دیانت و امانت پر ہرزہ سرائی کرتے تھے۔ ان کے الزام کی شدید ترین الفاظ میں تردید کرنے کے بعد مناسب سمجھا گیا کہ صدقات کے مستحقین کی فہرست جاری کردی جائے تاکہ صدقہ کرنے والوں کی رہنمائی اور غیر مستحقین ہمیشہ کے لیے صدقات سے مایوس ہوجائیں۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے لیے بھی صدقے کا لفظ استعمال ہوا ہے یہاں تمام اہل علم نے صدقات سے مراد زکوٰۃ کا مال لیا ہے جس کے آٹھ مصارف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ زکوٰۃ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے۔ جسے اس فہرست کے مطابق خرچ کرنا لازم ہے۔ 1۔ فقیر کی جمع ہے فقراء جس کا معنی ہے ایسا شخص جو کسی بھی حقیقی مصیبت، روز گار کی کمی یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے نہایت تنگ دست ہوچکا ہو۔ یہاں تک کہ اس کے پاس ایک وقت کے کھانے کے سوا کچھ نہ ہو ایسے فقیر کو زکوٰۃ دینی چاہیے۔ (عن أَبَی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَیْسَ الْمِسْکِینُ الَّذِی تَرُدُّہُ الْأُکْلَۃَ وَالْأُکْلَتَانِ وَلٰکِنِ الْمِسْکِینُ الَّذِی لَیْسَ لَہٗ غِنًی وَیَسْتَحْیِی أَوْ لَا یَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب قول اللہ تعالیٰ لایسألون الناس الحافا ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی معظم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں کے ساتھ لوٹے۔ مسکین وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو اور وہ حیا کی وجہ سے لوگوں سے چمٹ کر سوال نہ کرے۔ “ مساکین : 2۔ مسکین کی جمع مساکین ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مسکین کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جو دربدر مانگتا پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جو خود داری کی بنا پر نہیں مانگتا لیکن بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ مثلاً بچوں کے تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے نہیں۔ بیٹی کی شادی کرنے کے لیے معمولی سے معمولی سامان نہیں۔ ایسی بیماری اور بوجھ تلے دب گیا ہے جس سے نکلنا کسی کے تعاون کے بغیر اس کے لیے ممکن نہیں۔ عاملین زکوٰۃ : 3۔ عامل کی جمع عاملین ہے ان سے مراد وہ افراد ہیں جو محکمہ زکوٰۃ کے تحت کام کرتے ہیں جس کے ذریعے زکوٰۃ کا حساب و کتاب، اس کی تقسیم اور دوسرے امور سر انجام دئیے جاتے ہیں بیشک وہ شخص خود بھی صاحب نصاب ہی کیوں نہ ہو اسے محکمہ سے تنخواہ لینی جائز ہے۔ مؤلفۃ القلوب : 4۔ ان سے فقہاء اور محدثین نے وہ لوگ مراد لیے ہیں جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہوں اور معاشی طور پر حکومت کے تعاون کے خواستگار ہوں یا وہ لوگ جن سے یہ امید ہو کہ اگر ان کے ساتھ مالی تعاون کیا جائے تو یہ حلقہ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن بعض اہل علم ایسے لوگوں کو زکوٰۃ کا حق دار نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے دلائل کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے جس مال سے کفار کی مدد کی تھی وہ مال غنیمت کا مال تھا۔ میرے نزدیک حالات کے مطابق دونوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ الرقاب : 5۔ رقبۃ کی جمع الرقاب ہے جس کا مفہوم کسی شخص کی گردن چھڑانا ہے یعنی جو مسلمان کسی وجہ سے غلامی کے چنگل میں پھنس گیا ہو جس کی آج کل صورت یہ ہے کہ بےگناہ ہونے کے باوجود غیر مسلم کی قید میں جا چکا ہے جرمانہ دیے بغیر اس کی رہائی ممکن نہیں۔ جیسا کہ کوئی غلطی سے غیر مسلم حکومت کا بارڈر کر اس کر جائے تو ایسی صورت میں اس کا جرمانہ دے کر رہائی دلوانا اس کی گردن چھڑوانے کے مترادف ہے۔ اس پر بھی زکوٰۃ خرچ کی جاسکتی ہے۔ غارم : 6۔ اس کی جمع غارمین ہے۔ جس سے مراد وہ شخص جو کسی بیماری، ناگہانی آفت یا کسی ملزم کی ضمانت کے سلسلہ میں مقروض ہوچکا ہو۔ ایسے مقروض کا قرض بھی زکوٰۃ کے مال سے چکایاجا سکتا ہے۔ 7۔ فی سبیل اللہ ایسی شق ہے جس کے بارے میں اہل علم کا بہت اختلاف ہے ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ اس میں دینی کتب کی اشاعت، تبلیغ، مدارس، جہاد یہاں تک کہ غریب مساجد اور ہسپتالوں پر بھی زکوٰۃ خرچ ہوسکتی ہے۔ دوسرے مکتب کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد صرف دشمن کے خلاف جہاد اور قتال کرنا ہے اس لیے دوسرے رفاہی کاموں پر زکوٰۃ صرف کرنا جائز نہیں۔ ابن السبیل : 8۔ عربی میں عام طور پر ابن کا معنی بیٹا لیا جاتا ہے السبیل راستہ کو کہتے ہیں عربی محاورہ کے اعتبار سے مسافر کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ اگر کوئی مسافر کسی وجہ سے زاد سفر سے محروم ہوجائے یا منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے زاد سفر تھوڑا ہو تو اسے بھی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بیشک وہ اپنے گھر میں صاحب نصاب ہی کیوں نہ ہو۔ تفصیل کے لیے میری کتاب ” زکوٰۃ کے مسائل ملاحظہ فرمائیں۔ مسائل 1۔ زکوٰۃ صرف مستحقین کو دینا چاہیے۔ 2۔ زکوٰۃ اللہ تعالیٰ نے صاحب حیثیت لوگوں پر فرض قرار دی ہے۔ تفسیر بالقرآن زکوٰۃ کے مصارف : 1۔ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کس طرح مال خرچ کریں ؟ کہہ دو جو مال خرچ کرنا چاہو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں یتیم، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو۔ (البقرۃ : 215) 2۔ صدقات مفلسوں، محتاجوں، عاملین، تالیف قلب، غلاموں کی آزادی، قرض داروں، اللہ کی راہ اور مسافروں کے لیے ہیں۔ (التوبۃ : 60) 3۔ اور اپنے مال اللہ کی رضا کے لیے قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں اور قیدیوں کو چھوڑانے کے لیے سرف کرو۔ (البقرۃ : 177)
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

” اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان کا کچا ہے۔ فرما دیں وہ تمہارے لیے خیر کا کان ہے اللہ پر اور مومنوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور ایمان والوں کے لیے رحمت ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ “ (61)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کی ہر زہ سرائی کا ایک اور انداز۔ منافقین اپنی سازشوں اور شرارتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑے رکھتے تھے بالخصوص رسول محترم ﷺ کی ذات اطہر کے بارے میں یا وہ گوئی کرنے کے لیے نئے سے نیا اور اوچھے سے اوچھا انداز اختیار کرتے تاکہ رسول معظم ﷺ کسی بات میں ان کو سرزنش نہ کرسکیں۔ اگر کوئی مسلمان منافقین کی یا وہ گوئی اور خباثتوں سے نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کرتا تو منافق آپ ﷺ کے استفسار کرنے سے پہلے ہی پروپیگنڈہ شروع کردیتے کہ یہ نبی ﷺ معاملہ فہمی سے عاری اور کانوں کا کچا ہے ان کے رد عمل میں رب ذوالجلال نے آپ ﷺ کو جواب دینے کے لیے فرمایا کہ ان سے فرما دیجیے کہ کان کھول کر سن لو جس رسول کو کانوں کا کچا کہتے ہو وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر ہمارا نبی ﷺ تمہاری باتوں اور حرکتوں پر گرفت کرنے پر آئے تو تمہارا جینا مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے انھیں اپنے حق میں بہتر سمجھو۔ ہمارے نبی ﷺ کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی بردباری اور حکمت عملی کے تحت تمہارے منہ پر تمہیں جھوٹا نہیں کہتا حالانکہ وہ تمہاری حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے اگر وہ کانوں کا کچا اور نافہم ہوتا تو وہ تمہاری جھوٹی قسموں پر یقین کرلیتا اگر وہ تمہاری یا وہ گوئی کے مطابق کانوں کا کچا ہوتا تو تمہاری چاپلوسی کے فریب میں آجاتا وہ تو اپنے اللہ کے فرامین پر پختہ یقین اور مومنوں کی باتوں پر اعتماد کرنے والا ہے جو بات میں سچے ہیں نبی اکرم ﷺ مومنوں کے لیے سراسر رحمت ہے۔ سن لو جو اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے اذیت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ (عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ وَلَا یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ قَالَ فَقَرَأَہَا رَسُول اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثَ مِرَارًا قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ ہُمْ یَا رَسُول اللّٰہِ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَہٗ بالْحَلِفِ الْکَاذِبِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب غلظ تحیرم اسبال الإزار ] ” حضرت ابوذر ؓ نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا تین اشخاص ایسے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بات نہیں کرے گا نہ ان کو قیامت کے دن دیکھے گا نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ ابوذر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ نے اس آیت مبارکہ کو تین مرتبہ پڑھا۔ ابوذر ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ! وہ برباد ہوگئے انہوں نے نقصان اٹھا یا یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تہبند لٹکا کر چلنے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسمیں کھا کر سودا فروخت کرنے والا۔ “ مسائل 1۔ اللہ کے رسول ﷺ منافقوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ 2۔ رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرامین پر یقین رکھنے والے اور مومنوں کی باتوں پر اعتماد کرنے والے تھے۔ 3۔ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام ؓ کے لیے اللہ کی رحمت تھے۔ 4۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دینے والے لوگوں کی سز ا : 1۔ آپ ﷺ کو تکلیف دینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ (الاحزاب : 53) 2۔ اللہ اور رسول ﷺ کو تکلیف دینے والے دنیا میں لعنت اور آخرت میں عذاب ذلیل کے مستحق ہیں۔ (الاحزاب : 57) 3۔ جو نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں وہ کافر ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (البقرۃ : 104)