9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفہم القرآن

Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

” پھر اگر اللہ آپ کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے وہ پھر آپ سے لڑائی کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ فرما دیں تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑسکتے بیشک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے بس پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ “ (83)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کا ذکر جاری ہے۔ منافقین کو چھوڑجانے کی وجہ یہ بھی تھی کیونکہ وہ خود جھوٹے بہانوں کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہنا چاہتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مبارکہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران نازل ہوئی جس میں ایک طرف رسول اکرم ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب اور بامراد مدینہ واپس لائے گا اور دوسری طرف یہ ہدایت کی گئی جب آپ مدینہ تشریف لائیں تو منافقین کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں آکر یہ کہے گا آئندہ ہمیں بھی ضرور اپنے ساتھ جہاد کے لیے لے جائیے صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ تبوک کے محاذ سے حقیقی مجبوری کی وجہ سے ہم پیچھے رہے ہیں ورنہ ہم جہاد سے جی کترانے والے نہیں تھے۔ اس موقعہ پر آپ انھیں یہ جواب دیں کہ تم ایسے لوگ ہو کہ ہرگز ہمارے ساتھ نہیں نکل سکتے اور نہ ہی دشمن کے خلاف تم برسرپیکار ہونے کے لیے تیار ہو۔ زبانی جمع خرچ کے سوا تم کسی کام کے لیے تیار نہیں ہوتے کیونکہ ابتدا ہی سے میدان کارزار سے پیچھے رہنا بچوں، عورتوں اور معذور لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہنا تمہاری خواہش اور عادت ہے۔ خالفین کا لفظ بول کر منافقین کو ایک طرح عار دلائی گئی ہے کہ تم صحت مند، مال دار اور ایمان کے بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود معذوروں اور عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہنا پسند کرتے ہو جو ایک غیور اور مخلص مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ اس فرمان کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اب کبھی تمہیں شریک جہاد نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ غزوۂ تبوک کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کو اب کوئی بڑا معرکہ درپیش نہیں ہوگا کیونکہ تبوک کی طرف آپ کی پیش قدمی نے دنیا پر رعب اور دبدبہ طاری کردیا تھا۔ اسی بناء پر آپ کا ارشاد ہے : (عَنْ أَبِی ذَرٍّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِی بُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُورًا وَّمَسْجِدًا وَّأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی وَنُصِرْتُ بالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ الْعَدُوُّ وَہُوَ مِنِّی مَسِیرَۃَ شَہْرٍ وَقِیلَ لِی سَلْ تُعْطَہْ وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی فَہِیَ نَاءِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَاء اللّٰہُ تَعَالَی مَنْ لَمْ یُشْرِکْ باللّٰہِ شَیْءًا)[ مسند احمد ] حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی محترم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں عنایت کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں۔ 1۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر کالے اور گورے کے لیے رسول بنایا ہے۔ 2۔ میرے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ 3۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے کسی رسول کے لیے حلال نہیں تھا۔ 4۔ ایک مہینہ کی مسافت پر ہونے کے باوجود دشمن مجھ سے لرزاں رہتا ہے۔ 5۔ مجھے قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کا حق دیا جائے گا۔ مسائل 1۔ منافق جہاد سے بچنے کے لیے جھوٹے بہانے تلاش کرتا ہے۔ 2۔ منافق کو بار بار موقع دینے کے بعد ہمیشہ کے لیے مسترد کردینا چاہیے۔ 3۔ منافق کبھی میدان کارزار کے لیے نکلنا پسند نہیں کرتا۔ 4۔ منافق عورتوں اور معذوروں کی طرح جہاد سے پیچھے بیٹھے رہنا پسند کرتا ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

” اور ان میں سے جو کوئی مرجائے اس کا جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔ “ (84)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دنیا میں منافق کے لیے آخری سزا۔ منافقین کو بار بار موقع دینے اور پے درپے آزمانے کے بعد مرحلہ وار سخت احکامات جاری ہوئے۔ اسی سورة کی آیت 73 میں حکم ہوا کہ منافقین پر سختی کا وقت آگیا ہے۔ لہٰذا ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیجیے۔ پھر آیت 80 میں ارشاد ہوا کہ ان کے لیے دعائے مغفرت سے اجتناب فرمائیں بالفرض آپ 70 مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ ان کی نماز جنازہ سے روکنے سے پہلے فرمایا کہ اب ہمیشہ کے لیے انھیں شرکت جہاد سے روک دیجیے کیونکہ یہ کبھی مخلص ہو کر ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اب آخری حکم صادر ہوتا ہے کہ اے نبی ! اگر منافقین میں سے کوئی مرجائے تو نہ اس کا جنازہ پڑھنا اور نہ ہی اس کی قبر پر تشریف لے جانا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے والے اور اسی حالت میں مرنے والے ہیں۔ یہاں فسق سے مراد بھی کفر ہے اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول مرا تو اس کے بیٹے جن کا نام بھی عبداللہ ؓ تھا جو نہایت ہی مخلص، اسلام کے بارے میں خوددار، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ محبت کرنے والا تھا۔ اس نے آکر عرض کی کہ اللہ کے رسول میرے باپ کے بارے میں آپ کو سب کچھ معلوم ہے اس کے باوجود آپ سے درخواست ہے کہ آپ اس کا جنازہ پڑھائیں۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے نبی اکرم ﷺ فطری طور پر نہایت ہی مہربان اور درگزر کرنے والے تھے۔ آپ نے فرمایا جب جنازہ تیار ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ آپ جنازہ پڑھنے کے لیے نکلے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی اس ظالم کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا ہے کہ انھیں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا اس کے جواب میں رحمت عالم نے فرمایا کہ مجھے اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے کہ اگر میں چاہوں تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرسکتا ہوں۔ لہٰذا میں ستر مرتبہ سے زائد بھی اس کے لیے دعا کرنے کے لیے تیارہوں۔ چناچہ آپ نے جنازہ پڑھا اور اسے دفناتے ہوئے اس کے منہ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور اپنا مبارک کرتہ اس کی لاش کے اوپر رکھا مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ نے دو وجہ سے اس کے جسم پر اپنا کرتہ ڈالا تھا۔ ایک تو اس خواہش کے ساتھ کہ شاید اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ غزوۂ احد کے موقع پر حضرت عباس ؓ قیدیوں میں شامل تھے افراتفری میں ان کا کرتا پھٹ گیا جس کے لیے عبداللہ بن ابی ابن سلول نے اپنا کرتہ دیا تھا آپ نے اسی احسان کا بدلہ چکایا تھا۔ بعض مفسرین نے لکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس موقع پر فرمایا تھا کہ میرے جنازہ پڑھنے کی وجہ سے اسے کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن ایک ہزار منافق مسلمان ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہوا لیکن مجھے اس روایت کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا بہر صورت جب آپ جنازہ پڑھا کر واپس تشریف لائے تو یہ حکم صادر ہوا کہ آئندہ آپ کو کسی منافق کا جنازہ پڑھنے اور اس کی قبر پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں۔ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول معظم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ سے قمیص کا مطالبہ کیا کہ اس میں اس کے والد کو کفن دیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے قمیص عنایت کردی۔ پھر اس نے آپ ﷺ سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی۔ جب رسول معظم ﷺ نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے رسول معظم ﷺ کے کپڑے کو پکڑکرعرض کی اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منع کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کریں میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا یہ تو منافق ہے۔ پھر رسول اکرم ﷺ نے اس کی نماز پڑھائی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ” آپ منافقوں میں سے کسی پر بھی نماز نہ پڑھائیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن ] (إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا)[ النساء : 145] ” بلاشبہ یہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور آپ ان کا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔ “ مسائل 1۔ منافق اور بد عقیدہ شخص کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ 2۔ منافق بظاہر کلمہ پڑھنے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کا منکر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرک اور منافق کے لیے دعا کرنا جائز نہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو منافقین کی نماز جنازہ اور ان کی قبر پر کھڑے ہونے سے منع فرمایا۔ (التوبۃ : 84) 2۔ نبی اکرم ﷺ اور مومنوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے دعا کریں۔ (التوبۃ : 113) 3۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کے لیے وعدے کے مطابق دعا کرتے رہے۔ 4۔ جب معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا دشمن ہے تو پھر دعا نہیں کی۔ (التوبۃ : 114)
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

” اور آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں اللہ چاہتا ہے کہ انہیں دنیا میں ان کے ذریعے سزا دے اور ان کی جانیں کفر کی حالت میں نکلیں۔ “ (85)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق کے انجام میں اس کے مال اور اولاد کا کردار۔ منافقین کے مال اور اولاد پر تعجب نہ کرنے کا حکم اس سورة میں دوسری مرتبہ نازل ہوا ہے چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ یہ حکم آیت 55 میں گزر چکا ہے اب پھر قریب، قریب انھی الفاظ کے ساتھ حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ! منافقین کے مال و اسباب اور ان کی اولاد پر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی مسلسل نافرمانیوں اور دائمی منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انھیں ان کے مال اور اولاد کے ساتھ دنیا میں سزا دے اور کفر کی حالت میں ہی ان کی جانیں نکل جائیں۔ یہ بات پہلے عرض ہوئی ہے کہ منافقین کے اکثر لوگ مال اور اولاد کے حوالے سے بہت سے مسلمانوں سے آگے تھے۔ لیکن انھوں نے اپنے مال سے آخرت کمانے کی بجائے جہنم خریدنا بہتر جانا۔ جہاں تک ان کی اولاد کا تعلق ہے چند کے سوا باقی اپنے بڑوں کی روش اختیار کیے ہوئے تھی۔ جن منافقوں کے بیٹے مخلص مسلمان تھے۔ ان کے باپ اپنے بیٹوں کے اخلاص پر نہایت پریشان رہتے اور انھیں اللہ کے رسول کی رفاقت اور جہاد فی سبیل اللہ سے روکتے۔ اس صورت حال کو وہ اپنے لیے ذلت سمجھتے تھے۔ گویا کہ دنیا اور آخرت میں ان کے مال اور اولاد عذاب کا باعث ثابت ہوئے۔ مسائل 1۔ محض دنیاوی مال ومتاع پر اکتفا کرنے کے بجائے آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ 2۔ منافقین کے لیے دنیاوی مال عذاب کا سبب ہے۔ 3۔ کافرو منافق مال واولاد کے فتنے میں مبتلا رہتے ہیں۔
Ayahs 9:86–87

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

” اور جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔ ان میں سے دولت مند آپ سے اجازت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دے کہ ہم بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہوجائیں۔ (86)

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی، لہٰذاوہ نہیں سمجھتے۔ “ (87)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ منافقین کا رویہ۔ منافقین کی حالت یہ تھی کہ جب بھی کوئی آیت یا سورة نازل ہوتی جس میں اللہ تعالیٰ پر مخلصانہ ایمان لانے کی دعوت اور رسول معظم ﷺ کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا جاتا تو یہ لوگ اس کے ساتھ سراسر انحراف کرتے اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر مختلف بہانے بنا کر کہتے کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہنے کی اجازت دیجیے حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس کوئی نام نہاد عذر بھی نہیں تھا کیونکہ وہ صحت مند اور وسائل رکھنے والے تھے۔ دراصل یہ اس بات پر خوش تھے کہ انھیں جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گویا کہ وہ ہر حال میں جہاد سے پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ ان کی اس روش اور منافقت کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی جس کی وجہ سے ایمان خالص اور جہاد کی عظمت کو سمجھنے سے قاصر ہوئے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ کَانَتْ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ فِی قَلْبِہٖ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُہٗ فَإِنْ زَادَ زَادَتْ فَذَلِکَ الرَّانُ الَّذِی ذَکَرَہُ اللّٰہُ فِی کِتَابِہٖ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب ذکر الذنوب ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے اگر وہ توبہ کرتا ہے اس گناہ کو چھوڑ کر بخشش طلب کرتا ہے اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اگر وہ گناہ زیادہ کرتا ہے وہ نکتہ بھی بڑھا دیا جاتا ہے یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔ خبر دار وہ زنگ ہے جو ان کے دلوں پر ہے اس وجہ سے جو وہ اعمال کرتے تھے۔ “ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ )[ المطففین : 14] ” ہرگز یہ بات نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں پر انکے برے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے۔ “ مسائل 1۔ منافق بلا عذر جہاد سے پیچھے رہتا ہے۔ 2۔ منافق کے دل پر گمراہی کی مہر لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کن کے دلوں پر مہریں ثبت ہوتی ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے۔ (البقرۃ : 7) 2۔ جھوٹوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے گا۔ (الشوریٰ : 24) 3۔ نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ (الجاثیۃ : 23)
Ayahs 9:88–89

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

” لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اسکے ساتھ ایمان لائے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔ (88)

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ (89)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے مقابلہ میں مخلص مسلمانوں کا کردار۔ منافق اپنے ایمان میں غیر مخلص ہونے کی وجہ سے جہاد اور نیکی کے کاموں میں پیچھے رہنا پسند کرتا ہے اس کے مقابلے میں حقیقی مسلمان ہر وقت اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتا ہے یہاں تک کہ وقت آنے پر وہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ ان لوگوں کے لیے دنیا میں خیر ہی خیر ہے اور آخرت میں فلاح اور کامیابی پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حقیقت میں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہاں تک کہ نبی معظم ﷺ کی ذات کا معاملہ، آپ نیکی کے معاملہ میں سب سے آگے اور جہاد فی سبیل اللہ کے بارے میں سب سے زیادہ ولولہ رکھتے تھے۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللّٰہُ أَرْوَاحَہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّۃِ تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا وَتَأْوِی إِلَی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ مُّعَلَّقَۃٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طیبَ مَأْکَلِہِمْ وَمَشْرَبِہِمْ وَمَقِیلِہِمْ قَالُوا مَنْ یُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْیَاءٌ فِی الْجَنَّۃِ نُرْزَقُ لِءَلَّا یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ وَلَا یَنْکُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ فَقَال اللّٰہُ سُبْحَانَہُ أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ قَالَ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیل اللّٰہِ إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ ) [ رواہ ابوداؤد : کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ ] ” عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کیے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹوں میں رکھ دیا وہ بہشت کی نہروں پر پھرتی ہیں اور اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں سونے کی قندیلوں میں بسیرا اور ٹھکانہ کرتی ہیں جب ان کی روحوں کو کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل ہوئی، تو کہا کون ہے جو ہماری طرف سے ہمارے بھائیوں کو یہ خبر پہنچا دے کہ ہم بہشت میں زندہ ہیں اور کھانا کھاتے ہیں تاکہ وہ بھی بہشت کے حاصل کرنے میں بےرغبتی نہ کریں اور قتال کے وقت سستی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری خبر میں پہنچاؤں گا پس نازل کی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس کھانا کھلائے جاتے ہیں۔ “ جنت کے درخت کا طول و عرض : (عَنْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃً یَسِیر الرَّاکِبُ فِی ظِلِّہَا ماءَۃَ عَامٍ لَا یَقْطَعُہَا) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ] ” حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک سو سال تک سوار چلتا رہے تب بھی وہ سایہ ختم نہیں ہوگا۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کرنے والے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ 2۔ مجاہدین کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت تیار کر رکھی ہے جس میں نہریں جاری ہیں۔ 3۔ جسے جنت عطا کردی گئی اس نے عظیم کامیابی حاصل کی۔ تفسیر بالقرآن عظیم کامیابی کیا ہے : 1۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو ہمیشگی والی جنت میں داخل فرمائے گا۔ (التوبۃ : 89) 2۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو باغات عطا کرنا اور اپنی رضا مندی کا سر ٹیفکیٹ عطا فرمانا۔ (التوبۃ : 72) 3۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین کے ساتھ ان کی جانوں اور مالوں کے بدلے جنت کا سودا فرمانا۔ (التوبۃ : 111) 4۔ اللہ تعالیٰ پہ ایمان لانا اور اسی سے ڈرنا اور اللہ تعالیٰ کا انھیں بشارت سے نوازنا۔ (یونس : 63 تا 64) 5۔ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے برائی سے بچ جانا۔ (المؤمن : 9) 6۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنا اور ہمیشہ رہنے والے باغات اور رہائش گاہوں کا وعدہ فرمانا۔ (الصف : 12)
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

” اور دیہاتیوں میں سے کئی بہانے بنانے والے آئے تاکہ انہیں اجازت دی جائے اور وہ لوگ بیٹھ رہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا جلد ہی انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔ “ (90)

فہم القرآن ربط کلام : مدینہ کے منافقین کے بعد دیہاتی منافقین کا ذکر۔ مدینہ کے منافقین کی دیکھا دیکھی دیہات کے منافقین نے بھی جہاد فی سبیل اللہ سے جان چھڑانے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر بہانے پیش کرتے آپ ان کے اطوار دیکھ کر ان سے صرف نظر فرماتے منافقین میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ وہ اللہ کے رسول کے پاس حاضر ہو کر کوئی عذر پیش کرتے یا اتنے کڑے وقت میں پیچھے بیٹھے رہنے سے اجتناب کرتے۔ لیکن انھوں نے دونوں میں سے کوئی ایک کام بھی نہ کیا۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے والے تھے جنھیں کافر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھیں اذیت ناک عذاب پہنچے گا مُعَذِّرُوْنَ کا واحد مُعَذِّرُ ہے جس سے مراد ایسا شخص جس کے پاس کوئی حقیقی عذر نہ ہو اس کے باوجود وہ عذر پیش کرے۔ نیکی کے معاملہ میں جھوٹا عذر پیش کرنے والا مجرم ہوتا ہے لہٰذا مجرموں کو اذیت ناک عذاب دیا جائے گا۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِیُّ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاکِنَ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ أَنْ یُّصِیبَکُمْ مَا أَصَابَہُمْ إِلَّا أَنْ تَکُونُوا باکِینَ ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَہٗ وَأَسْرَعَ السَّیْرَ حَتَّی أَجَازَ الْوَادِیَ ) [ رواہ البخاری، کتاب المغازی، باب نزول النبی الحجر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ حجر کے مقام سے گزرے آپ نے فرمایا ان لوگوں کے مقام سے نہ گزرا کرو جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہیں تم پر وہ آفت نہ آن پڑے۔ جو ان پر آن پڑی تھی۔ اگر گزرنا نا گزیر ہو تو روتے ہوئے گزرا کرو پھر آپ نے اپنا سر جھکایا اور سواری کو تیزچلایا یہاں تک کہ اس وادی سے گزر گئے۔ “
Ayahs 9:91–93

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

” کوئی حرج نہیں کمزوروں پر، نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جو خرچ کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں پاتے جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخلص ہوں نیکی کرنے والوں پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں اور اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ “

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

” اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے جو آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ تو انہیں سواری دے تو آپ نے کہا کہ میں کوئی چیز نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کروں تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں اس غم سے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ “ (92)

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

” گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں، حالانکہ وہ دولت مند ہیں وہ اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی سو وہ نہیں جانتے۔ “ (93)

فہم القرآن ربط کلام : جھوٹے عذر پیش کرنے والوں کے لیے اذیت ناک عذاب ہے اور حقیقی عذر رکھنے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ بعض حالات میں ہر مسلمان پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے تبوک کا جہاد بھی فرض عین ہوچکا تھا۔ جہاد فرض عین ہونے کے باوجود چار قسم کے لوگوں کو جہا د سے رخصت دی گئی ہے۔ 1۔ ایسا کمزور جو بڑھا پا، صغر سنی یا کسی جسمانی کمزوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت کرنے سے قاصر ہو۔ 2۔ وہ شخص جو دائمی مرض یا وقتی بیماری کی وجہ سے جہاد میں شامل نہ ہو سکے۔ 3۔ جہاد مال اور جان کے ساتھ کرنا فرض ہے اگر کوئی غربت کی وجہ سے دفاعی فنڈ میں حصہ نہیں لے سکتا تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ 4۔ جو شخص سواری نہ ہونے کی وجہ سے میدان کار زار میں نہیں پہنچ سکتا، باوجود اس کے کہ اس کے پاس کوئی اور عذر نہیں اسے مجبور سمجھ کر معاف کردیا گیا ہے کیونکہ محاذ جنگ دور ہونے کی وجہ سے وہ اس میں شریک نہیں ہوسکتا۔ غزوۂ تبوک کے موقعہ پر کچھ مخلص مسلمان ایسے بھی تھے جن کے پاس 300 میل طویل سفر کرنے کے لیے سواری نہیں تھی وہ آپ کی خدمت میں آکر عرض کرتے کہ اے اللہ کے رسول ہماری جان حاضر ہے مگر محاذ پر پہنچنے کے لیے ہم سواری نہیں رکھتے۔ لہٰذا ہمارے لیے سواری کا بندوبست فرمائیں آپ نے فرمایا کہ ہمارے پاس مزید سواریوں کا انتظام نہیں ہے جواب سن کر یہ لوگ زار و قطار روتے ہوئے واپس ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا اخلاص اس قدر پسند آیا کہ رہتی دنیا تک ان کے اخلاص کو خراج تحسین عطا فرمایا اور ایسے لوگوں کی ڈھارس بند ھاتے ہوئے فرمایا کہ جو شرعی عذر کی بنا پر جہاد میں شرکت نہ کرسکیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ایک دفعہ پھر ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو مال دار اور وسائل رکھنے کے باوجود جہاد سے جی چراتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ رہنے پر راضی ہیں درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے بہانوں اور منافقت کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی ہے اب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھنے کے شعور سے محروم ہوچکے ہیں۔ معذور مخلصین کا مقام : (عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ﷺ فِی غَزَاۃٍ فَقَالَ إِنَّ بالْمَدِینَۃِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوا مَعَکُمْ حَبَسَہُمْ الْمَرَضُ )[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ باب ثواب من جسہ عن النفر مرض اور عذر ] ” حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں ہم ایک غزوۂ میں رسول معظم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا بلاشبہ مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں وہ تمہارے ساتھ تھے جہاں تم لوگوں نے قیام کیا یا کسی وادی کو عبور کیا وہ مدینے میں اپنی بیماری کی وجہ سے ٹھہرے رہے۔ “ اس فرمان میں نبی ﷺ نے ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں شریک تصور کیا ہے جو بیماری یا سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے اس غزوہ میں عملاً ا شریک نہیں ہوسکے تھے بیشک وہ شریک سفر نہ تھے لیکن ان کے جذبات اور دعائیں ہمہ وقت مسلمانوں کی کامیابی کے لیے وقف تھیں۔ اس لیے آپ نے انہیں شریک ثواب گردانا ہے۔ غزوہ تبوک میں سواریوں کی قلت کا یہ عالم تھا کہ ایک اونٹ پر کئی کئی صحابہ سوار ہوتے اس کے باوجود انہوں نے باریاں مقرر کر رکھی تھیں جس بنا پر کچھ لوگ اپنی باری پر پیدل چلنے پر مجبور تھے۔ (عَنْ أَبِی مُوسَی ؓ قَالَ أَرْسَلَنِی أَصْحَابِی إِلَی رَسُول اللَّہِ ﷺ سْأَلُہُ الْحُمْلاَنَ لَہُمْ ، إِذْ ہُمْ مَعَہُ فِی جَیْشِ الْعُسْرَۃِ وَہْیَ غَزْوَۃُ تَبُوکَ فَقُلْتُ یَا نَبِیَّ اللَّہِ ، إِنَّ أَصْحَابِی أَرْسَلُونِی إِلَیْکَ لِتَحْمِلَہُمْ فَقَالَ وَاللَّہِ لاَ أَحْمِلُکُمْ عَلَی شَیْءٍ وَوَافَقْتُہُ ، وَہْوَ غَضْبَانُ وَلاَ أَشْعُرُ ، وَرَجَعْتُ حَزِینًا مِنْ مَنْعِ النَّبِیِّ ﷺ وَمِنْ مَخَافَۃِ أَنْ یَکُون النَّبِیُّ ﷺ وَجَدَ فِی نَفْسِہِ عَلَیَّ ، فَرَجَعْتُ إِلَی أَصْحَابِی فَأَخْبَرْتُہُمُ الَّذِی قَال النَّبِیُّ ﷺ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلاَّ سُوَیْعَۃً إِذْ سَمِعْتُ بلاَلاً یُنَادِی أَیْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ فَأَجَبْتُہُ ، فَقَالَ أَجِبْ رَسُول اللَّہِ ﷺ یَدْعوکَ ، فَلَمَّا أَتَیْتُہُ ، قَالَ خُذْ ہَذَیْنِ الْقَرِینَیْنِ وَہَذَیْنِ الْقَرِینَیْنِ لِسِتَّۃِ أَبْعِرَۃٍ ابْتَاعَہُنَّ حینَءِذٍ مِنْ سَعْدٍ فَانْطَلِقْ بِہِنَّ إِلَی أَصْحَابِکَ فَقُلْ إِنَّ اللَّہَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُول اللہ ﷺ یَحْمِلُکُمْ عَلَی ہَؤُلاَءِ فَارْکَبُوہُنَّ فَانْطَلَقْتُ إِلَیْہِمْ بِہِنَّ ، فَقُلْتُ إِنَّ النَّبِیَّ ﷺ حْمِلُکُمْ عَلَی ہَؤُلاَءِ وَلَکِنِّی وَاللَّہِ لاَ أَدَعُکُمْ حَتَّی یَنْطَلِقَ مَعِی بَعْضُکُمْ إِلَی مَنْ سَمِعَ مَقَالَۃَ رَسُول اللَّہِ ﷺ لاَ تَظُنُّوا أَنِّی حَدَّثْتُکُمْ شَیْءًا لَمْ یَقُلْہُ رَسُول اللَّہِ ﷺ فقالُوا لِی إِنَّکَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ، وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَی بِنَفَرٍ مِنْہُمْ حَتَّی أَتَوُا الَّذِینَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُول اللَّہِ ﷺ مَنْعَہُ إِیَّاہُمْ ، ثُمَّ إِعْطَاءَ ہُمْ بَعْدُ )[ رواہ البخاری : باب غَزْوَۃُ تَبُوکَ ، وَہْیَ غَزْوَۃُ الْعُسْرَۃِ ] ” حضرت ابی موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے ساتھیوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا تاکہ میں آپ سے سواریوں کا مطالبہکروں تاکہ وہ آپ کے ساتھ جنگ تبوک میں شریک ہو سکیں۔ میں نے عرض کی اللہ کے نبی مجھے میرے ساتھیوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکے آپ ہمارے لیے سواریوں کا انتظام فرمایں۔ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دونگا میں نے آپ کو غصے کے عالم میں پایا۔ میں آپ کی کیفیت نہ سمجھ سکا۔ میں نبی کریم ﷺ کی ناراضگی اور نہ دینے کی وجہ سے پریشان لوٹا اور اپنے ساتھیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔ میں تھوڑی ہی دیر ٹھہراتھا کہ میں نے بلال کی آواز کو سنا وہ آوازیں دے رہا تھا اے عبداللہ بن قیس میں نے بلال کو جواب دیا اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کا پیغام ہے کہ آپ کی بات سنیں۔ جب میں آپ کے پاس آیاتو آپ نے مجھے چھ اونٹ دیتے ہوئے فرمایا یہ سواریاں لے جا میں نے یہ ابھی ابھی سعد سے خریدی ہیں۔ جاکر اپنے ساتھیوں سے کہو کہ اللہ کے رسول نے یہ سواریاں دی ہیں۔ میں نے وہاں موجود صحابہ سے کہا اللہ کی قسم میں تب تلک یہاں سے نہیں جاؤنگا جب تک یہاں بیٹھنے والوں میں سے کوئی جاکر نہ کہ دے جس نے رسول اللہ ﷺ کی بات کو سنا ہے تاکہ میرے ساتھی یہ تصور نہ کریں کہ میں ایسی بات کر رہا ہوں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی انہوں نے کہا ہم تیری بات کی تصدیق کرتے ہیں تو حضرت ابو موسیٰ ان لوگوں کو ساتھ لیکر آیا جنہوں نے آپ کی بات کو سنا تھا کہ آپ نے پہلے انکار کیا اس کے بعد سواریاں عطا کردیں۔ “ مسائل 1۔ کمزوروں، مریضوں اور سواری نہ پانے والوں پر جہاد میں عدم شرکت پر کوئی گناہ نہیں۔ 2۔ غربت کی بنا پر جہاد میں چندہ نہ دینے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ 3۔ شرعی عذر کے بغیر جہاد فرض ہونے کے باوجود جو لوگ شرکت نہیں کرتے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر ثبت کردیتا ہے۔
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

” تمہارے سامنے بہانے پیش کریں گے، جب تم ان کی طرف واپس لوٹو گے، فرما دیں کہ بہانے مت کرو، ہم تم پر ہرگز نہیں یقین کریں گے، بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے متعلق بتاچکا ہے۔ اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارا عمل دیکھیں گے، پھر تم ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والے اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے وہ تمہیں خبر دے گا جو کچھ تم عمل کرتے رہے تھے۔ “ (94)

فہم القرآن ربط کلام : دسویں پارے کے آخر اور اس آیت سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ جن منافقوں نے غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی ہے۔ اب وہ جہاد کی فضیلت اور دین کی حقیقت کو نہیں جان سکتے۔ لہٰذا یہ لوگ آپ کی واپسی پر معذرت کریں تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے۔ منافقوں کا اندازہ اور ان کی تمنا یہ تھی کہ سلطنت روما کا فرماں روا مسلمانوں کی طاقت کو اس طرح کچل ڈالے گا کہ یہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے لیکن روم کے لشکر مسلمانوں کی تاب نہ لاسکے اور انھوں نے اپنی پسپائی میں خیر سمجھی۔ نبی اکرم ﷺ نے رومیوں کا تعاقب کرنے کی بجائے کچھ دن محاذ پر قیام فرمایا اور بالآخر لشکر اسلام کو واپسی کا حکم دیا۔ منافقین کو اس صورت حال کی خبر پہنچی تو انھوں نے آپ ﷺ کی واپسی پر روایتی حیلہ سازیوں سے آپ کی خدمت میں معذرتیں پیش کرنا
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

” وہ عنقریب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں اٹھائیں گے جب تم ان کی طرف لوٹو گے تاکہ تم ان سے اعراض کرو سو ان سے اعراض کرو، بیشک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اس کے سبب جو وہ کماتے رہے ہیں۔ “ (95)

شروع کیں۔ ادھر راستہ میں ہی رب کریم نے اپنے رسول کو آگاہ فرمادیا کہ آپ جوں ہی مدینہ ورود مسعود فرمائیں گے تو منافق ٹولیوں کی صورت میں آپ کے سامنے اپنی معذرتیں پیش کریں گے۔ لیکن اب ان کی کسی معذرت کو درخور اعتنا نہ سمجھا جائے بلکہ منافقین کو کھلے الفاظ میں بتلایا جائے کہ میرے رب نے مجھے تمہاری سازشوں اور ملمع سازیوں سے پوری طرح آگاہ فرما دیا ہے لہٰذا تمہارے کسی عذر اور بہانہ کو قبول نہیں کیا جائے گا البتہ تم آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کی کوشش کرو تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے کردار کو دیکھیں اور جانچیں گے کہ تم اپنے قول و فعل میں کتنے سچے ثابت ہوتے ہو۔ اے منافقو ! نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ سے کوئی بات چھپا سکتے ہو لیکن تم اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔ دنیا میں اللہ تمہیں مہلت دیے ہوئے ہے لیکن آخرت میں تم اس کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔ وہ تمہاری ایک ایک حرکت اور بات سے تمہیں آگاہ کرے گا اور اسی کے مطابق تمہیں سزا دی جائے گی۔ اس انتباہ کے ساتھ منافقوں کو پھر ایک موقع دیا گیا ہے۔ کہ وہ سچی توبہ کریں اور اپنے کردار کو بہتر بنائیں۔ البتہ اس موقعہ پر ان کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔ خواہ یہ کتنی عاجزی کے ساتھ قسمیں اٹھائیں اور یقین دہانی کروائیں۔ ان سے اعراض ہی کرنا ہے۔ کیونکہ اب تک یہ دل کے برے اور کردار کے گندے ثابت ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے جہنم ہے جس میں انھیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ منافق کی نشانیاں : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اٰےَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہٗ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اءْتُمِنَ خَانَ ) [ رواہ مسلم : باب الکبائر و علامات النفاق ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ ( مسلم نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے ” چاہے روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ “ ) (1) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے (2) اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرتا ہے (3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرتا ہے۔ “ (عَنْ اَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَا تَزَالُ جَھَنَّمُ یُلْقٰی فِیْھاَ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ حَتّٰی یَضَعَ رَبُّ الْعِزَّۃِ فِیْھَا قَدَمَہٗ فَیَنْزَوِیْ بَعْضُھَا اِلٰی بَعْضٍ فَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِکَ وَکَرَمِکَ وَلَا یَزَالُ فِیْ الْجَنَّۃِ فَضْلٌ حَتّٰی یُنْشِئَ اللّٰہُ لَھَا خَلْقًا فَیُسْکِنُھُمْ فَضْلَ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب النار لایدخلھا الا الجبارون ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم میں مسلسل لوگوں کو ڈالا جاتا رہے گا اور جہنم کہتی رہے گی، کہ کچھ اور بھی ؟ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم جہنم میں رکھیں گے تو جہنم کا ایک حصہ دوسرے سے مل جائے گا۔ اور جہنم کہے گی بس ! بس ! تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم ! جنت میں ہمیشہ وسعت اور فراخی ہوگی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ جنت کے لیے نئی مخلوق پیدا فرمائیں گے جنہیں جنت کے وسیع علاقے میں آباد کیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ منافق جھوٹے عذر بہانے پیش کرتے ہیں۔ 2۔ منافق قسم کو بہانے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ 4۔ ہر قسم اٹھانے والا سچا نہیں ہوتا۔ 5۔ منافق عقیدہ اور کردار کے اعتبار سے گندہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ غیب وحا ضر کو جاننے والا ہے : 1۔ اللہ ظاہر اور غائب کو جانتا ہے۔ (التوبۃ : 94) 2۔ اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : 19) 3۔ تم اپنی بات کو پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو اللہ سینوں کے بھید جانتا ہے۔ (الملک : 13) 4۔ اللہ کے لیے برابر ہے جو انسان چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ (الرعد : 10) 5۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ (الحشر : 22) 6۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے ؟ (البقرۃ : 77) 7۔ کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اللہ ان کی پوشیدہ سرگوشیوں سے بھی واقف ہے ؟ (التوبۃ : 78)
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

” تمہارے لیے قسمیں اٹھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ تو یقیناً اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوگا۔ “ (96)

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ منافقوں کے بارے میں مزید ناراضگی کا اظہار۔ منافقین کے بارے میں مزید سختی کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر آپ ان کی جھوٹی قسموں، مصنوعی عاجزی اور ظاہری درماندگی پر راضی ہو بھی جائیں تو یاد رکھیں اللہ تعالیٰ ہرگز ان پر راضی نہیں ہوگا۔ کیونکہ حقیقتاً یہ لوگ نافرمان ہیں اس آیت میں یہ اصول دو ٹوک انداز میں سمجھا دیا گیا ہے کہ اصل رضامندی اللہ ہی کی ہوتی ہے اگر نبی آخر الزماں بھی کسی شخص سے راضی ہوجائیں تو یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوجائے۔ اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں تاکہ لوگ اپنے باطل عقیدہ پر غور کرسکیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ساڑھے نوسو سال سمجھا یا۔ لیکن قوم ایمان نہ لائی بالآخر خضرت نوح (علیہ السلام) کی بددعا کے نتیجہ میں قوم پر عذاب آیا اور انکا بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے غرقآب ہوا حضرت نوح (علیہ السلام) نے بےساختہ اپنے رب سے فریاد کی کہ الٰہی ! آپ نے میرے اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا مگر میرا بیٹا میرے سامنے ڈبکیاں لے رہا ہے۔ اس پر نوح (علیہ السلام) کو ان الفاظ میں وارننگ دی گئی کہ اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں کیونکہ یہ اعمال صالح کا خوگر نہیں۔ (ھود۔ 46) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس پر راضی نہ ہو اس پر وقت کا پیغمبر بیشک وہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو راضی ہوجائے تو پیغمبر کی رضا ربِّ ذوالجلال کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ نبی اکرم ﷺ کا اپنی بیٹی اور خاندان کو نصیحت کرنا : (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ یَا بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ ، اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللَّہِ ، یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللَّہِ ، یَآ أُمَّ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّۃَ رَسُول اللَّہِ ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، اشْتَرِیَا أَنْفُسَکُمَا مِنَ اللَّہِ ، لاَ أَمْلِکُ لَکُمَا مِنَ اللَّہِ شَیْءًا، سَلاَنِی مِنْ مَّالِی مَا شِءْتُمَا) [ رواہ البخاری : کتاب المناقب باب من انتسب الی آباۂ فی الاسلام والجاہلیۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے بنی عبد مناف اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچالو، اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ کو اللہ سے بچا لو، اے زبیر بن عوام کی والدہ، رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ بنت محمد اپنے آپ کو اللہ سے بچا لو۔ میں تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ میرے مال میں سے جو لینا چاہتی ہو لے لو۔ “ آپ ﷺ کی دعا کے باوجود عبداللہ بن ابی کا انجام : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ لَمَّا تُوُفِّیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُبَیٍّ جَاءَ ابْنُہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ إِلٰی رَسُول اللّٰہِ َ فَسَأَلَہٗ أَنْ یُّعْطِیَہٗ قَمِیصَہٗ یُکَفِّنُ فیہِ أَبَاہُ فَأَعْطَاہُ ثُمَّ سَأَلَہٗ أَنْ یُّصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقَامَ رَسُول اللّٰہِ َ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ تُصَلِّی عَلَیْہِ وَقَدْ نَہَاکَ رَبُّکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ إِنَّمَا خَیَّرَنِی اللّٰہُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً وَسَأَزِیدُہٗ عَلَی السَّبْعِیْنَ قَالَ إِنَّہٗ مُنَافِقٌ قَالَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تُصَلِّ عَلٰی أَحَدٍ مِّنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِہٖ ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القران ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں جب عبداللہ بن ابی فوت ہوا۔ اس کا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول معظم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ سے قمیص کا مطالبہ کیا کہ اس میں اس کے والد کو کفن دیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے قمیص عنایت کردی۔ پھر اس نے آپ ﷺ سے نماز جنازہ پڑھانے کی گزارش کی۔ جب رسول معظم ﷺ نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے رسول معظم ﷺ کے کپڑے کو پکڑکرعرض کی اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان لوگوں کی نماز جنازہ پڑھانے سے منع کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ حضرت عمر ؓ نے کہا یہ تو منافق ہے۔ پھر رسول اکرم ﷺ نے اس کی نماز پڑھائی۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ” آپ ان میں سے کسی پر بھی نماز نہ پڑھائیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ “ (التوبۃ : 84) مسائل 1۔ منافق رسول اللہ ﷺ کو یقین دلانے کے لیے جھوٹی قسمیں اٹھاتے تھے۔ 2۔ نبی اکرم ﷺ اللہ کی رضا کے پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کی رضا کا پابند نہیں۔ 3۔ منافق اپنے رب کا نافرمان ہوتا ہے۔ 4۔ منافق کی قسم پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔
Ayahs 9:97–98

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

” دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ امکان ہے کہ وہ احکام نہ جانیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیے ہیں اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے۔ “ (97)

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

” اور کچھ ایسے دیہاتی ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم پر حالات کی گردشوں کا انتظار کرتے ہیں، انھی پر برا وقت آئے گا اور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔ “ (98)

فہم القرآن ربط کلام : شہری منافقین کے ذکر کے بعد دیہاتی منافقوں کا ذکر۔ کفر اور منافقت بذات خود بد ترین روحانی اور اخلاقی امراض ہیں۔ مگر دیہاتی ماحول کی وجہ سے ان میں اور بھی شدت پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ دیہات میں تہذیب و تمدن کا فقدان، تعلیم و تربیت کی کمی، آب و ہوا کی شدت اور جسمانی مشقت کی وجہ سے دیہات میں رہنے والوں کی طبیعت میں سختی اور اجڈپن پیدا ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے دیہات کے لوگ غلط یا صحیح جس نظریہ کو اپنا لیں اس پر اس قدر سخت ہوجاتے ہیں کہ اس کے خلاف کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتے۔ پھر دیہات کے لوگوں میں خاندانی عصبیت اور قومی تعصب بھی شہروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر وہ کفر و نفاق میں سخت تر ہوتے ہیں۔ یہی کیفیت رسول معظم ﷺ کے زمانے میں مدینے کے مضافات میں رہنے والے دیہاتیوں کی تھی۔ یہ لوگ جس قدر مدینہ سے دور رہتے تھے اسی قدر ان میں اسلام اور نبی ﷺ کے بارے میں نفرت اور دوری پائی جاتی تھی۔ کیونکہ عصبیت اور بعد مکانی کی وجہ سے انھیں اخلاقی قدروں اور دینی حدود کا علم نہیں تھا اور نہ ہی اپنی جہالت اور عصبیت کی وجہ سے حدود اللہ کو جاننے کی کوشش کرتے تھے۔ جس وجہ سے یہ دیہاتی کفرو نفاق میں متشدّد ہوتے چلے گئے کیونکہ یہ منافق تھے اپنی منافقت چھپانے کے لیے مسلمانوں جیسے اعمال کرتے تھے۔ لیکن جہاد کے موقع پر جب ان سے دفاعی فنڈ کی اپیل کی جاتی تو یہ لوگ نہ صرف اپنے آپ پر بوجھ محسوس کرتے بلکہ یہ اس انتظار میں رہتے کہ مسلمانوں پر کب کوئی افتاد پڑے۔ اور ہماری جان چھوٹ جائے اس لیے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اسے اتار پھینکیں۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر یہ لوگ اسی انتظار میں تھے کہ مسلمانوں کو رومیوں کے ہاتھوں ذلت ناک شکست ہوگی اور ہمیں اسلام سے آزادی مل جائے گی۔ لیکن معاملہ ان کی امیدوں کے برعکس ہوا۔ اور یہ لوگ زندگی بھر اسی ذہنی کشمکش میں رہے۔ یہاں تک کہ انہیں موت نے آلیا۔ اس آیت میں ( عَلَیْھِمْ دَاءِرَۃُ السَّوْءِ ) کے الفاظ میں منافقوں کو اسی بھیانک مستقبل کی وارننگ دی گئی ہے۔ مَغْرَمًا : معناہ غرما واصلہ لزوم الشی[ قرطبی ] اس کا معنی جرمانہ ہے یعنی کسی چیز کو لازم کردینا۔ دَآءِرَۃُ السَّوْءِ ۔ کا معنی ہے اچھی حالت کا بری حالت سے بدل جانا جسے گردش زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تو وہ دل پر جبر کرکے کچھ نہ کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن وہ دلی طور پر اس بات کے خواہاں ہیں کہ گردش زمانہ مسلمانوں کی قوت ختم کر دے اور ہم چندہ دینے سے بچ جائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا : ( عَلَیْھِمْ دَاءِرَۃُ السَّوْءِ ) ” برے ایام تمہارا ہی مقدر ہیں۔ “ مسائل 1۔ دیہاتی نفاق میں زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ 2۔ دیہاتی احکام اور حدود وقیود کا زیادہ علم نہیں رکھتے۔ 3۔ منافق انفاق فی سبیل اللہ کو جرمانہ سمجھتے ہیں۔ 4۔ منافقین اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ مسلمان کب گردش ایام کا شکار ہوتے ہیں۔ 5۔ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی راہ میں خرچ کرنا : 1۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ ( التوبۃ : 99) 2۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : 39) 3۔ مومنین اللہ کے راستے میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ (الرعد : 22) 4۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : 134) 5۔ مسلمان کو اس کے دئیے ہوئے صدقہ پر سات سو گنا ثواب دیا جائے گا۔ ( البقرۃ : 261) 6۔ منافق صدقہ کرنے کو جرمانہ سمجھتا ہے۔ (التوبۃ : 98)
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

” اور کچھ دیہاتی وہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کی قربتوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آگاہ رہو ! یقیناً صدقہ ان کے لیے قربت کا ذریعہ ہے، عنقریب انھیں اللہ اپنی رحمت میں لے گا۔ بیشک اللہ بہت بخشنے، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (99)

فہم القرآن ربط کلام : دیہاتی منافقین کے بعد دیہاتی مومنوں کے ایمان اور کردار کا تذکرہ۔ یہ بات کئی مرتبہ عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کی عدل پسندی اور طرز بیان ہے کہ جہنم کے ساتھ جنت، برے انجام کے ساتھ اچھے انجام، کفار اور منافقین کے بیان کے معاً بعد مخلص مسلمانوں اور مومنوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ تاکہ قارئ قرآن کو دونوں کردار اور انجام کا تجزیہ کرنے میں آسانی رہے چناچہ اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ دیہات میں رہنے والے سب کے سب کافر اور منافق نہیں بلکہ ان میں ایسے خوش بخت بھی ہیں جو اپنے رب پر کامل ایمان اور قیامت کے دن اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا پکا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کے پیچھے ان کی صرف اور صرف یہی تمنا ہوتی ہے کہ انہیں اپنے رب کا قرب حاصل ہو۔ اور رسول کریم ﷺ خوش ہو کر ان کے لیے دعائے خیر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور رسول اکرم ﷺ کی دعائیں ان کے لیے دنیا اور آخرت کا خزانہ ہیں۔ ان کے اخلاص اور نیک اعمال کی وجہ سے انہیں خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ خوش ہوجاؤ کہ اللہ کی قربت و رحمت تمہارے لیے ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت میں اپنی نعمتوں اور رحمتوں سے نوازے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی کمزوریوں کو معاف کرتے ہوئے ان پر رحم و کرم فرمانے والا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ صدقہ کرنے والے صحابہ ؓ کے بارے میں یہ الفاظ استعمال فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک موقع پر آپ ﷺ کی خدمت میں صدقہ پیش کیا جس پر آپ نے مجھے اس دعا سے نوازا۔ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَتَاہُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِھِمْ قَال اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ فُلَانٍ فَاَتَاہُ اَبِیْ بِصَدَقَتِہٖ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ اَبِیْ اَوْفٰی (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ ) وَفِیْ رِوَاے َۃٍ اِذَا اَتَی الرَّجُلُ النَّبِیَّ ﷺ بِصَدَقَتِہٖ قَالَ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَےْہِ )[ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ ] ” حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب لوگ زکوٰۃ لے کر آتے تو آپ ﷺ ان کے لیے دعا فرماتے۔ اے اللہ فلاں کے اہل و عیال پر رحمت فرما۔ میرے والد آپ کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر آئے تو آپ نے دعا فرمائی اے اللہ ابو اوفی ٰکے اہل و عیال پر رحمت نازل فرما۔ دوسری روایت میں ہے جب کوئی آدمی زکوٰۃ پیش کرتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ اس پر رحمت فرما۔ “ مسائل 1۔ دیہاتیوں میں سے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔ 2۔ ہر نیک عمل اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول کے لیے ہونا چاہیے۔ 3۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے اللہ کی رحمت کے حقدار ہوتے ہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحمت فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونے والے لوگ : 1۔ اللہ، انبیاء کو اپنی رحمت کے ساتھ مخصوص کرتا ہے۔ (الانبیاء : 86) 2۔ اللہ نیک لوگوں کو اپنی رحمت سے ہمکنار کرتا ہے۔ (الانبیاء : 75) 3۔ ایمان میں پختہ رہنے والے کو اللہ اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (النساء : 175) 4۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ (الشورٰی : 8) 5۔ اللہ کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ( الاعراف : 156) 6۔ اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہوتی ہے۔ (الاعراف : 56) 7۔ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ (التوبۃ : 99)
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

” اور سب سے پہلے لوگ ہیں جو مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے نیک کاموں میں ان کی اتباع کی اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ پر راضی ہوگئے۔ اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (100)

فہم القرآن ربط کلام : منافقت سے اجتناب کرنے، نیکی کا حکم دینے کے بعد نیکی میں سبقت اختیار کرنے کی ترغیب : دیہاتی مخلصین کے تذکرہ کے بعد اسلام میں سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار کی فضیلت و منقبت کا بیان کیا گیا ہے۔ جس میں ان کی حوصلہ افزائی اور دوسروں کے لیے نیکیوں میں سبقت کرنے کی تلقین پائی جاتی ہے۔ اب ان پاکباز ہستیوں کی خدمات کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی خاطر سب کچھ قربان کیا اور اپنا وطن چھوڑ کر بےخانماں ہوئے۔ مہاجرین اور انصار میں سابقون الاولون کے بارے میں اہل علم کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں جن میں اکثریت کا خیال ہے کہ ” سابقون الاولون “ سے مراد وہ صحابہ کرام ؓ ہیں جو غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے۔ کیونکہ انہوں نے اسلام کے راستے میں وہ مصائب و آلام برداشت کیے جن کے ساتھ ان کے بعد آنے والے ایمان والوں کو واسطہ نہیں پڑا۔ اس لیے دیہاتی مخلصین کے تذکرہ کے بعد ضروری سمجھا گیا کہ ان لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرکے قیامت تک کے لیے ان کے مرتبہ و مقام کو نمایاں اور ممتاز کردیا جائے۔ ان کے بعد ایمان لانے والے حضرات کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں بھی عظیم خوشخبری سے نوازا گیا ہے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام اس بات پر گواہ ہے کہ ” مردوں میں سابقون الاولون “ کے سرخیل حضرت ابوبکرصدیق ؓ ، خواتین میں یہ شان ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کو حاصل ہوئی، نو عمر لوگوں میں یہ مرتبہ حضرت علی ؓ کو ملا، مجبور اور غلاموں میں یہ شان حضرت زید بن حارثہ ؓ کو حاصل ہوئی۔ جہاں تک ” سابقون الاولون “ کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں کا تعلق ہے ان سے مراد وہ صحابہ ؓ ہیں جو غزوہ بدر کے بعد ایمان لائے قرآن مجید سب کے لیے انعام و اکرام کا اعلان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوا، وہ اپنے رب پر راضی ہوگئے۔ ایمان کا درجہ حاصل ہوجائے تو انسان بےانتہا تکلیف، حد درجے کے رنج و غم اور بےپناہ تنگی میں بھی اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ ایسے حضرات کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابدی باغات اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہی دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ صحابہ ؓ کے بعد ان کی اولاد جو نبی اکرم ﷺ کی زیارت کا شرف نہ پاس کی، نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی اعزاز بخشا ہے۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ إِنِّیْ لَوَاقِفٌ فِیْ قَوْمٍ ، فَدَعَوُا اللَّہَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَیْ سَرِیرِہِ ، إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَہُ عَلَیْ مَنْکِبِیْ ، یَقُوْلُ رَحِمَکَ اللَّہُ ، إِنْ کُنْتُ لأَرْجُوْ أَنْ یَجْعَلَکَ اللَّہُ مَعَ صَاحِبَیْکَ ، لأَنِّیْ کَثِیرًا مِمَّا کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ یَقُوْلُ کُنْتُ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ، وَفَعَلْتُ وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ ، وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَإِنْ کُنْتُ لأَرْجُوْ أَنْ یَجْعَلَکَ اللَّہُ مَعَہُمَا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا ہُوَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب فضائل الصحابۃ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں میں کھڑا تھا، حضرت عمر ؓ کی چار پائی رکھی ہوئی تھی ان کے لیے دعائیں کی جا رہی تھیں۔ ایک آدمی نے پیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ کہہ رہا تھا اللہ تجھ پر رحم فرمائے یقیناً میں امید کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے ساتھیوں کی معیت عطا فرمائے گا۔ میں اکثر رسول اللہ ﷺ سے سنا کرتا تھا کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے میں، ابوبکر اور عمر وہاں تھے میں نے اور ابوبکر اور عمر ؓ نے یہ کام کیا۔ میں ابوبکر اور عمر وہاں گئے یقیناً میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تجھے تیرے ساتھیوں کا ساتھ عطا فرمائے گا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے۔ “ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَیْ امْرَأَۃٍ مَا غِرْتُ عَلَیْ خَدِیجَۃَ ، مِنْ کَثْرَۃِ ذِکْرِ رَسُوْلِ اللَّہِ ِ اِیَّاہَا قَالَتْ وَتَزَوَّجَنِیْ بَعْدَہَا بِثَلاَثِ سِنِینَ ، وَأَمَرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ جِبْرِیلُ أَنْ یُبَشِّرَہَا بِبَیْتٍ فِیْ الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ )[ رواہ البخاری : کتاب مناقب الأنصار، باب تزویج النبی ﷺ ] ” حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ سے میں نے سیدہ خدیجہ ؓ سے بڑھ کر کسی عورت پر رشک نہیں کیا، آپ فرماتی ہیں کہ آپ نے میرے ساتھ ان کی وفات کے تین سال بعد شادی کی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے برائے راست یا جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے حکم دیا کہ آپ خدیجہ کو جنت میں موتی کے گھر کی خوشخبری دے دیں۔ “ (عن عِمْرَانَ بن حُصَیْنٍ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ خَیْرُکُمْ قَرْنِیْ ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُوْنَہُمْ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشہادات، باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ] ” حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان کے بعد والوں کا اور پھر ان کے بعد والوں کا۔ “ مسائل 1۔ صحابہ ؓ اللہ پر اور اللہ تعالیٰ صحابہ پر راضی ہوا۔ 2۔ صحابہ ؓ میں سابقون الاولون صحابہ افضل ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو دنیا میں جنت کا سرٹیفکیٹ عنایت فرمایا۔ 4۔ مہاجرین اور انصار کے نقش قدم پر چلنے والوں سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ 5۔ صحابہ ؓ کے نقش قدم پر چلنے والوں سے بھی اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ 6۔ جنت نصیب ہونا مومن کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ صحابہ کرام ؓ پہ راضی ہوا اور صحابہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوگئے : 1۔ صحابہ اللہ پر راضی ہوئے اور اللہ ان سے راضی ہوا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ (المائدۃ : 119) 2۔ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والوں پر اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ (التوبۃ : 100) 3۔ اللہ اصحاب شجرہ پر راضی ہوگیا۔ (الفتح : 18) 4۔ صحابہ اللہ کی جماعت ہیں اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اپنے اللہ پر راضی ہوگئے۔ (مجادلۃ : 22) 5۔ صحابہ اللہ سے ڈرنے والے تھے اللہ ان سے راضی ہوگیا۔ (البینۃ : 8) 6۔ اللہ انہیں ایسی جگہ داخل فرمائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ (الحج : 59) 7۔ اللہ انہیں اپنی رحمت، رضامندی اور جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ : التوبۃ : 21)