9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفہم القرآن

Ayahs 9:62–63

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

” تمہیں خوش کرنے کے لیے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے خوش کریں اگر وہ مومن ہیں۔ (62)

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا انہیں نہیں معلوم کہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے گا یقیناً اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اس میں ہمیشہ رہنے والا ہوگا یہی بہت بڑی ذلت ہے۔ “ (63)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے کردار اور گفتار کا بیان جاری ہے۔ منافق محض اپنی چرب لسانی سے مومنوں کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہیے تھا۔ اگر اللہ اور اس کا رسول راضی ہوجاتا ہے تو مومن خود بخود راضی ہوجاتے لیکن اے منافقو ! تمہاری حالت یہ ہے کہ جو کچھ بھی کر رہے ہو وہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھو تمہیں دنیا میں مہلت دی جا رہی ہے لیکن بالآخر تم نے ہمیشہ جہنم میں جلنا ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور تکلیف اور رسوائی نہیں ہوسکتی۔ منافق کو منافق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دوہرے کردار اور گفتار کا مالک ہوتا ہے۔ منافقین جب نبی اکرم ﷺ کی شان میں کسی گستاخی کا ارتکاب کرتے تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان کے سامنے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہتے کہ ہماری بات کا فلاں شخص نے غلط مفہوم لیا ہے ہم تو اللہ کے رسول کے بارے میں کسی گستاخی کا تصور نہیں کرسکتے۔ اس طرح وہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے اس پر انھیں سمجھایا گیا کہ اگر تم سچا ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان کو راضی کرو کیونکہ اللہ اور اس کا رسول تم پر راضی ہوں گے۔ تو صحابہ کرام ؓ خود بخود راضی ہوجائیں گے یہاں ضمیر تثنیہ کی آنی چاہیے تھی۔ لیکن ضمیر واحد کی لا کر ثابت کیا ہے کہ اصل رضا مندی اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے رسول تو اپنے رب کی رضا کا پابند ہوتا ہے اور مومن رسول کے تابع ہوتے ہیں اس لیے اسی سورة کی آیت 96 میں وضاحت فرمائی کہ نبی ﷺ اگر منافقوں پر کسی وجہ سے راضی ہو بھی جائیں تو اللہ ان پر ہرگز راضی نہ ہوگا۔ جہنم کی سزا : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ نَارُکُمْ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِینَ جُزْءً ا مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ قیلَ یَا رَسُول اللّٰہِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِیَۃً قَالَ فُضِّلَتْ عَلَیْہِنَّ بِتِسْعَۃٍ وَسِتِّینَ جُزْءً ا کُلُّہُنَّ مِثْلُ حَرِّہَا) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے سترویں درجے پر ہے۔ رسول معظم ﷺ سے عرض کیا گیا آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا وہ اس سے انہتر درجے زیادہ تیز ہے اور ہر درجہ دوسرے سے زیادہ تیز ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا حتیٰ کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتیٰکہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔ “ (عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِی قَوْلِہٖ وَیُسْقٰی مِنْ مَّاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہٗ قَالَ یُقَرَّبُ إِلَیْہِ فَیَتَکَرَّہُہٗ فَإِذَا دَنَا مِنْہُ شُوِیَ وَجْہُہٗ وَوَقَعَتْ فَرْوَۃُ رَأْسِہٖ وَإِذَا شَرِبَہٗ قَطَّعَ أَمْعَاءَ ہٗ حَتَّی خَرَجَ مِنْ دُبُرِہٖ ) [ رواہ احمد ] ” حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جہنمیوں کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا وہ ان کو جلا دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ ان کے قریب کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کرے گا جونہی وہ اس کے قریب ہوگا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کے بال بھی گرجائیں گے اور جب وہ پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ جائیں گی یہاں تک کہ وہ پانی اس کی پشت سے نکل جائے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی رضا میں نبی ﷺ اور مومنوں کی رضا ہے۔ 2۔ انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 3۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
Ayahs 9:64–66

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

” منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی ایسی سورت اتاری جائے جو انہیں وہ بتادے جو ان کے دلوں میں ہے فرما دیں تم مذاق کرتے رہو، بیشک اللہ ان باتوں کو ظاہر کرنے والا ہے جن سے تم ڈرتے ہو۔ (64)

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور بلاشبہ اگر آپ ان سے پوچھیں تو یقیناً کہیں گے ہم تو صرف شغل اور دل لگی کر رہے تھے۔ فرمادیں کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے ہو ؟ (65)

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

نہ عذر پیش کرو بیشک تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوچکے۔ ہم تم میں ایک گروہ کو معاف کردیں تو ایک گروہ کو عذاب دیں گے اس وجہ سے کہ یقیناً وہ مجرم تھے۔ “ (66)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقوں کا اپنے دل ہی دل میں خوف زدہ رہنا۔ منافق دوغلا ہوتا ہے دو غلاشخص اخلاقی لحاظ سے اندر سے کھوکھلا اور ضمیر کا چور ہوتا ہے کیونکہ وہ مختلف لوگوں سے ایک ہی بات مختلف مفہوم اور مذموم مقاصد کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے اسے ہر وقت اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر لوگوں کو میری بات کی اصلیت کا پتہ چل گیا تو میں ہر طرف سے ذلیل اور لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوجاؤں گا۔ یہ خوف اسے ہر وقت بےچین رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی یہی حالت تھی وہ ہر وقت ڈرے اور سہمے رہتے تھے کہ نہ معلوم اللہ کے رسول پر کب وحی نازل ہوجائے جس میں ہماری سازشوں کو طشت ازبام کردیا جائے اور ہماری باتوں کی قلعی کھول دی جائے۔ بالخصوص غزوۂ تبوک کے موقع پر انھوں نے مسلمانوں کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا کہ یہ ہیں وہ جیالے جو سلطنت روما کو فتح کرنے کے لیے نکلے ہیں۔ ایک کہتا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ کل رومی جرنیل اچھی طرح ان کے ہاتھ پاؤں میں بیڑیاں پہنائے۔ دوسرا کہنے لگا مزا تو یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان کی پیٹھوں پر کوڑے برستے ہوئے دیکھیں۔ اسی طرح وہ قرآن مجید کی پیش گوئیوں اور نبی اکرم ﷺ کے ارشاد ات کو استہزا کا نشانہ بناتے۔ جب ان کی باتیں رسول معظم ﷺ تک پہنچتیں اور آپ کبھی کبھار ان کی تفتیش کرتے تو یہ لوگ جھوٹا حلف دے کر کہتے کہ ہم تو دل لگی اور شغل کے طور پر باتیں کر رہے تھے۔ اس پر انھیں ڈانٹا گیا ہے کہ تم کس قدر ناعاقبت اندیش ہو کہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے ہو ؟ جب تم سے پوچھا جاتا ہے تو مختلف قسم کے بہانے بنا کر معذرت کرتے ہو۔ اب تمہاری معذرتوں کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تم ایمان کے دعویدار ہو کر کفر کا مسلسل ارتکاب کرر ہے ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ تم سے درگزر کرتا ہے لیکن ان لوگوں کو ضرور عذاب دے گا جو سرغنہ ہیں۔ یہاں معاف کردینے کا اشارہ فرما کر چھوٹے منافقین کے لیے ایک دفعہ پھر معافی کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے تاکہ وہ اپنے کردار پر نظرثانی کرسکیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے منافقوں میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اللہ کے رسول کی سواری کے پیچھے اس حال میں دوڑ رہا تھا کہ اس کے پاؤں زخمی ہوچکے تھے اور وہ رسول معظم ﷺ سے فریاد کر رہا تھا کہ جو باتیں آپ تک پہنچی ہیں ہم نے محض خوش طبعی اور دل لگی کے لیے کی تھیں لیکن رسول اکرم ﷺ نے اس کے جواب میں فقط اتنا فرمایا کہ کیا تم اللہ کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے ہو ؟ (رازی) مسائل 1۔ منافق اللہ کی ذات، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے تھے۔ 2۔ اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول کو مذاق کرنا کفر ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ایک ایک سرغنہ کو دنیا میں ذلیل کیا اور قیامت کو منافقوں کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن منافق دین کو کھیل تماشہ سمجھتے ہیں : 1۔ اے ایمان والو ! اہل کتاب اور کفار کی طرح دین کو کھیل تماشہ نہ سمجھ۔ (المائدۃ : 57) 2۔ جب منافقوں کو نماز کے لیے بلایا جاتا تو اسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں۔ (المائدۃ : 58) 3۔ کافروں نے میری آیات اور میرے ڈرانے کو کھیل تماشہ سمجھ لیا۔ (الکہف : 56) 4۔ ان کافروں کی سزا جہنم ہے جنھوں نے میری آیات اور رسولوں کو مذاق سمجھا۔ (الکہف : 106)
Ayahs 9:67–68

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

” منافق مرد اور منافق عورتیں یہ ایک دوسرے سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں وہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا یقیناً منافق نافرمان ہیں۔ (67)

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں وہی ان کو کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے لیے ہمیشہ رہنے والاعذاب ہے۔ “ (68)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافق اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے۔ لیکن وہ ایک دوسرے کے ساتھ ضرور مخلص ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کا عقیدہ اور مشن ایک ہوتا ہے۔ منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مشن برے کاموں کی تلقین اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا، نیکی کے معاملات میں رکاوٹ ڈالنا اور دین کی راہ میں روڑے اٹکانا، مسلمانوں کے صدقہ و خیرات کے بارے میں حوصلہ شکنی کرنا اور خود کنجوسی اختیار کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو فراموش کردینا۔ منافقین کا مشغلہ ہوتا ہے۔ ان اعمال کا بالآخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھلا دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے بھلا دینے سے یہ مراد نہیں کہ اس کا حافظہ بھول جاتا ہے۔ بلکہ اس سے مرادیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و کرم سے دور کردیتا ہے۔ تاکہ گناہ کرنے میں ان کی حسرت باقی نہ رہے۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں، اللہ تعالیٰ کو منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کفار پر اس قدر ناراضگی ہے کہ سزا سناتے ہوئے چار تاکیدی الفاظ استعمال کرکے فرمایا کہ ان کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے کہ انھیں جہنم میں ضرور پھینکے گا۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کا وعدہ سچا اور پکا نہیں ہوسکتا۔ ان کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ جہنم ان کے لیے کافی ہے۔ یعنی اس میں انھیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار برستی رہے گی اور ان پر عذاب جہنم قائم دائم رہے گا جس میں کبھی تخفیف نہ ہوگی۔ ایک جیسے الفاظ میں منافقین اور کفار کی سزا ذکر فرما کر اشارہ دیا ہے کہ منافق بیشک تمام کام بظاہر مسلمانوں کی طرح کرتے اور اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن عملاً یہ کافر ہیں۔ اس لیے آخرت میں انھیں اکٹھا جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ برائی کی بنیاد قائم کرنے والے کی سزا : (عن عاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ رَأَیْتُ جَہَنَّمَ یَحْطِمُ بَعْضُہَا بَعْضًا وَرَأَیْتُ عَمْرًا یَجُرُّ قُصْبَہٗ وَہْوَ أَوَّلُ مَنْ سَیَّبَ السَّوَاءِبَ ) [ رواہ البخاری : کتاب تفسیر القران، باب ماجعل اللہ من بحیرۃ ولاسائبۃ ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا تھا اور میں نے اس میں عمرو کو دیکھا جو اپنی چادر کو گھسیٹ رہا تھا اور وہ پہلا شخص تھا جس نے ” بحیرہ اور سائبہ “ کا رواج ڈالا تھا “ مسائل 1۔ منافق مرد، منافق عورتیں اور کفار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ 2۔ ان پر مسلسل اللہ تعالیٰ کی پھٹکار برستی رہے گی۔ 3۔ ان پر ہمیشہ عذاب قائم رہے گا۔ تفسیر بالقرآن منافقوں کا کردار اور انجام : 1۔ منافق اللہ کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔ (النساء : 142) 2۔ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ (النساء : 145) 3۔ اے نبی منافقین اور کفار کے ساتھ سختی سے جہاد کریں۔ (التوبۃ : 73، التحریم : 9) 4۔ کفار اور منافقین کے ساتھ اللہ کا وعدہ جہنم کا ہے۔ (التوبۃ : 68)
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

” ان لوگوں کی طرح جو تم سے پہلے تھے وہ قوت میں تم سے زیادہ اور اموال اور اولاد میں بہت زیادہ تھے وہ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، جس طرح ان لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا جو تم سے پہلے تھے اور تم نے بھی فضول باتیں کیں، جس طرح انہوں نے فضول باتیں کیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی خسارہ پانے والے ہیں۔ “ (69)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین بھی پہلی قوموں کی طرح مغضوب ہیں جس طرح ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوئے اسی طرح منافقین کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوں گے۔ جس طرح ان پر دنیا میں اللہ کا غضب ہوا۔ منافقوں پر بھی اللہ کا غضب ہوگا۔ عربی زبان میں ” ک “ کا حرف تشبیہ اور مانند کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں منافقین کی مغضوب اور ملعون قوموں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو مال و اسباب، اولاد اور افرادی قوت کے لحاظ سے بڑے کشادہ ہاتھ اور طاقت ور تھے۔ لیکن جب ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا تو ان کے مال واسباب اور اولاد انھیں کچھ فائدہ نہ دے سکے بلکہ وہ بھی ان کے ساتھ تباہی کے گھاٹ اتر گئے۔ اس اشارے اور تشبیہ کے بعد منافقین کو وارننگ دی گئی ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے۔ تم بھی ان چیزوں سے فائدہ اٹھالو جس طرح مغضوب اور ملعون لوگوں نے اٹھایا تھا۔ لیکن یاد رکھو جس طرح ان پر غضب ہوا تم پر بھی اسی طرح غضب ہوگا۔” خَلَاقُ “ کا معنی ہے حصہ جس طرح انھوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا تمہارے لیے بھی جو حصہ عمر اور وسائل کے حوالے سے مقرر کیا گیا ہے فائدہ اٹھالو۔ اس میں یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ انسان جس قدر باغی ہو اور جتنا چاہے دنیا میں بھاگ دوڑ کرلے وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود اور وسائل سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ بھلا ہے وہ انسان جو اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی دنیا اور آخرت سنوارلے۔ لیکن منافق اور خدا کے نافرمان اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ وہ دنیا کے عارضی وقار اور وسائل کی خاطر اپنے رب کی نافرمانی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں جیسا کہ ان سے پہلے لوگ دنیا طلبی میں بڑھتے ہی چلے گئے ان کے دنیا اور آخرت دونوں میں اعمال ضائع ہوئے اور وہ نقصان پانے والے بنے۔ اسی طرح ہی منافقوں کا حال ہوگا۔ (عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ السَّاعِدِیِّ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ۔۔ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ۔۔إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فیمَا یَبْدُو للنَّاسِ وَہُوَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَہْلِ النَّار فیمَا یَبْدُو للنَّاسِ وَہُوَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب لایقول فلان شہید ] ” حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ بندہ بعض اوقات اہل جنت کے اعمال سر انجام دیتا ہے لوگوں کے لیے بھی ایسے ظاہر ہوتا ہے حالانکہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے اور بلاشبہ کوئی بندہ جہنمیوں والے کام کرتا ہے اور لوگوں کو بھی ایسے ہی نظر آتا ہے جبکہ وہ اہل جنت سے ہوتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی پکڑ آنے پر منافق کو اس کی اولاد اور مال کچھ فائدہ نہیں دیتے۔ 2۔ منافقین کے اعمال پہلی مغضوب قوموں کی طرح ضائع ہوں گے۔ 3۔ منافقین دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ تفسیر بالقرآن مغضوب قومیں مال اور اولاد میں زیادہ ہوتی ہے : 1۔ لوگوں کو مال اور اولاد کی کثرت نے ہلاک کردیا۔ (التکاثر : 1) 2۔ کافروں نے کہا ہم مال و اولاد کے لحاظ سے زیادہ ہیں۔ (سبا : 35) 3۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہے۔ (حٰمٓ السجدۃ : 15) 4۔ دنیا کی زندگی کھیل، تماشہ، زینت، مال و اولاد کی کثرت ہے۔ (الحدید : 20)
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

” کیا ان کو ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ؟ نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے۔ اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ “ (70)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کو پہلے اشارے کی زبان سے مغضوب قوموں کے حوالے سے وارننگ دی گئی اور اب دو ٹوک الفاظ میں ہلاک ہونے والی قوموں کا ذ کر ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں عربی کے حرف ” ک کے ذریعے مغضوب قوموں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اب منافقین کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں مغضوب اور ملعون قوموں کا ذکر کیا ہے تاکہ انھیں معلوم ہو کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طویل عمر اور عاد، ثمود، اہل مدین کے مال و اسباب اور ان کی افرادی قوت انھیں رب ذوالجلال کے عذاب سے نہیں بچا سکی تھی اور نہ ہی ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کو ان کی تہذیب و تمدن اور دنیوی ترقی اللہ کی گرفت سے محفوظ رکھ سکی حالانکہ ان کے پاس انبیاء عظام تشریف لائے اور انھوں نے اپنی اپنی قوم کی اصلاح اور فلاح کے لیے بےپناہ کوشش کی لیکن نافرمان اقوام نے انبیاء کے ساتھ ناروا سلوک کیا اور ان کی دعوت کو ٹھکرا یا جس کے نتیجے میں انھیں اللہ کے عذاب نے آلیا اور وہ اپنے سے بعد والی اقوام کے لیے نشان عبرت بن گئے انھوں نے اپنی ہلاکت و بربادی کا خود ہی سامان مہیا کیا جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ذرہ برابر بھی زیادتی نہیں کی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ أَسَآءَ فَعَلَیْہَا وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِیْدِ )[ حم السجدۃ : 46] ” جس نے کوئی نیک عمل کیا اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو برائی کرے اس کا وبال اسی پر ہے اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ “ (قُلْ أَغَیْرَ اللّٰہِ أَبْغِیْ رَبًّا وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی ثُمَّ إِلٰی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّءُکُم بِمَا کُنتُمْ فیہِ تَخْتَلِفُونَ )[ الأنعام : 164] ” کہیں : کیا میں اللہ کے علاوہ دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے اور جو کوئی برا کام کرے گا تو اس کا بار اسی پر ہوگا۔ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا پھر تمہیں اپنے رب کے ہاں لوٹنا ہے اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو وہ تمہیں بتلا دے گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام کو ان کے ظلم کی وجہ سے تباہ کیا۔ 2۔ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا : 1۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا مگر لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (العنکبوت : 40) 2۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس : 44) 3۔ اللہ نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 57) 4۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ (النساء : 40) 5۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا مگر خود انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ (الروم : 9) 6۔ اللہ تعالیٰ کا قول تبدیل نہیں ہوا کرتا اور نہ وہ اپنے بندوں پر ظلم فرماتا ہے۔ (قٓ: 29) 7۔ نیک اعمال کرنے والے کو اس کی نیکی کا صلہ ملے گا اور برے کو برائی کا اور تیرا رب ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ (حٰم السجدۃ : 46) 8۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان میں حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ (الزمر : 69) 9۔ قیامت کے دن ہر کوئی اپنا نامہ اعمال پڑھ لے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا۔ (بنی اسرائیل : 71)
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

” اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ یقیناً رحم کرے گا بیشک اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ (71)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے بعد مومنین کا تذکرہ۔ ان کے اوصاف اور اجر وثواب کا بیان۔ پہلے پانچ پاروں کی تفسیر کے دوران دو تین مرتبہ عرض کیا ہے کہ قرآن مجید کا مستقل اسلوب ہے کہ وہ جنت اور جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ قاری تلاوت قرآن کرتے ہوئے ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے کہ اس نے دونوں میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا یہ بھی طرز بیان ہے کہ وہ کفار اور منافقین کے بعد اکثر مقامات پر مومنوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتا ہے تاکہ قرآن مجید پڑھنے والا موقعہ پر فیصلہ کرپائے کہ مجھے کون سا کردار اختیار کرنا چاہیے۔ اسی اصول کے پیش نظر منافقوں کے بعد مخلص مسلمانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ اگر منافق ایک دوسرے کے ساتھی ہیں تو ایمان والے بھی ایک دوسرے کے جانثار اور خیر خواہ ہیں۔ اسی بھائی چارے اور خیر خواہی کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو نیکی کی تلقین کرتے اور حکم دیتے ہیں اور برائی سے ایک دوسرے کو روکتے ہیں۔ نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے کے ساتھ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہر حال میں اطاعت کرتے ہیں۔ ایسے خوش بخت لوگوں پر اللہ ضرور کرم فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر فیصلہ کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پنہاں ہوتی ہے۔ آیت کے آخر میں عزیز کا لفظ استعمال فرما کر مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایک دوسرے کی خیر خواہی اور نیکی کے کاموں پر عمل کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور غالب کرے گا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَی ہُدًی کَانَ لَہٗ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْءًا وَّمَنْ دَعَا إِلَی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَہٗ لَا یَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ آثَامِہِمْ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : کتاب العلم، باب من سن سنۃ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو کوئی کسی کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے اس کے لیے اتنا ہی اجر ہوگا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور اس کے اجر سے کچھ بھی کم نہیں ہوگا اور جو کوئی گمراہی کی طرف بلائے اس کے لیے بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا اس کی پیروی کرنے والوں پر۔ اور مجرموں کے گناہوں سے کچھ کم نہیں ہوگا۔ “ مسائل 1۔ مومن ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ 2۔ مومن وہ ہے جو نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔ 3۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتا ہے۔ 4۔ مومن ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومنوں کے کردار کی ایک جھلک : 1۔ مومن ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبۃ : 71) 2۔ مومنوں کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور جب اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مومن اپنے رب پہ توکل کرتے ہیں۔ (الانفال : 2) 3۔ مومن ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ (الانفال : 74) 4۔ مومن نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔ (المؤمنون : 1 تا 2) 5۔ مومن دنیا کے لاؤ لشکر کو دیکھ کر ڈرتے نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ہے۔ (الاحزاب : 22) 6۔ مومن اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور مشکلات و مصائب کی وجہ سے ایمان سے پھرتے نہیں۔ (الحجرات : 15)
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

” اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور پاک، صاف رہنے کے لیے مکانات کا جو ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گی اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی نعمت ہے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ (72)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مومنوں کا انجام اور ان کا صلہ۔ مومن مرد اور عورتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سچا اور پکا وعدہ ہے کہ انھیں ایسی جنت میں داخل فرمائے گا جس میں آبشاریں اور نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے صاف ستھرے اور بہترین محلات ہوں گے۔ ان نعمتوں کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا ہمیشہ کے لیے سر ٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ یاد رکھیں کہ اللہ کی رضا تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بڑھ کر ہے یہی وہ عظیم کامیابی ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ۔۔إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِینَ فِی سَبِیل اللّٰہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہٗ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ أُرَاہُ فَوْقَہٗ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا۔۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں سودرجے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے برابر فاصلہ ہے۔ جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس سے جنت الفردوس کا سوال کرو۔ بلاشبہ وہ وسط اور سب سے بلند جنت ہے میں نے دیکھا کہ اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اس سے ہی جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ “ (عَنْ أَبِی سَعِیدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ إِنَّ اللّٰہَ یَقُولُ لِأَہْلِ الْجَنَّۃِ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ فَیَقُولُونَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ فَیَقُولُ ہَلْ رَضِیتُمْ فَیَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضٰی یَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَیْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ فَیَقُولُ أَلَا أُعْطِیکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُولُونَ یَا رَبِّ وَأَیُّ شَیْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ فَیَقُولُ أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِی فَلَا أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہٗ أَبَدًا) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ ] ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں نبی معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا اے جنت والو ! وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں اور تمام بھلائی آپ ہی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہو ؟ جنتی کہیں گے۔ ہمارے رب ہمیں کیا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں اے اللہ تو نے ہمیں وہ کچھ دیا ہے جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے بہتر نہ عطاکروں ؟ وہ کہیں گے اے باری تعالیٰ اس سے کون سی چیز بہتر ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تم پر اپنی رضا واجب کردی ہے آج کے بعد کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ 2۔ مومنوں کے لیے جنت میں عمدہ رہائش گاہیں ہوں گی۔ 3۔ مومن اللہ کی رضا کے مستحق ہیں۔ تفسیر بالقرآن مومنوں کے ساتھ اللہ کے وعدے : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ باغات، نہروں، اچھی رہائش گاہوں اور اپنی رضا مندی کا وعدہ فرمایا ہے۔ (التوبۃ : 72) 2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشگی کی جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (مریم : 61) 3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے ساتھ زمین کی خلافت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (النور : 55) 4۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ (الفتح : 29)
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

” اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ پلٹ کرجانے کی بری جگہ ہے۔ “ (73)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کو انتباہ کرنے کے بعد مومنوں کے اوصاف اور ان کے انعامات کا ذکر فرمایا۔ درمیان میں آٹھ آیات چھوڑ کر ایک سو دس آیات تک مسلسل منافقین کے کردار اور انجام کا ذکر ہوگا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد نبی محترم ﷺ کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا آپ آٹھ سال مسلسل انھیں سمجھاتے اور معاف کرتے رہے۔ اس کے باوجود یہ باز نہ آئے یہاں تک کہ آپ تبوک سے کامیاب واپس آئے۔ لیکن ان بدفطرت لوگوں نے تبوک کے سفر میں بھی اپنی سازشیں جاری رکھیں۔ اس کے باوجود آپ درگزر سے کام لیتے رہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ لہٰذا منافقین سے سختی اختیار کیجیے۔ یہاں منافقین پر سختی سے یہ مراد نہیں کہ سماجی اور معاشرتی زندگی میں ان کے ساتھ بد اخلاقی یا کسی قسم کی زیادتی کی جائے۔ اسلامی معاشرے میں منافق اور مسلمان کے معاشرتی حقوق یکساں ہوتے ہیں۔ جس طرح مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو محترم ہے اسی طرح ہی کافر اور منافق کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ ہونے چاہییں۔ منافقین پر سختی کا حکم اسلام نے پہلے دن سے ہی جاری نہیں کردیا تھا بلکہ انھیں مسلسل آٹھ سال موقعہ دیا کہ اپنی اصلاح کرلیں بار بار معافی دینے کے باوجود یہ لوگ اپنی منافقت میں دلیر ہوتے چلے گئے ہر جنگ میں کفار کا ساتھ دیتے مکہ فتح ہونے کے بعد رومیوں کے ساتھ ساز باز کی۔ مسلمانوں کو جنگ میں شرکت اور جہاد کے لیے صدقہ کرنے سے روکا۔ رسول محترم اور مسلمانوں کو خاکم بدہن ذلیل کیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کیں گویا کہ ان کے جرائم کی فہرست دن بدن طول پکڑتی جارہی تھی لہٰذا اب وقت آن پہنچا تھا کہ منافقین پر سختی کی جائے اس سختی سے مراد یہ ہے کہ آئندہ ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا وطیرہ اختیار کیا جائے کہ انھیں پوری طرح احساس ہو کہ مسلمان ہماری منافقت کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں کوئی مسلمان ان کے ساتھ ہم مشرب اور ہم مجلس ہونے کے لیے تیار نہیں تھا یہ لوگ مسلم معاشرے میں خود بخود اچھوت بن کر رہ گئے۔ اخلاقی دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں ہوسکتی آخرت میں ان کے لیے جہنم ہوگی جو مجرموں کیلئے بدترین ٹھکانہ ہے۔ دنیا میں اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہوسکتی ہے کہ اللہ کے رسول نے غزوۂ تبوک سے واپس آکر منافقین کی بنائی ہوئی مسجد کو جسے اللہ تعالیٰ نے مسجد ضرار قرار دیا آگ لگا کر ختم کردیا تھا جس کی تفصیل اسی سورة کی، آیت : 108 میں ملاحظہ فرمائیں۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اٰےَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اءْتُمَنَّ خَانَ ۔ )[ مسلم ] حضرت ابوہریرہ ؓ آپ ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ (بخاری اور مسلم نے اس پر اتفاق کیا ہے) کہ (1) جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے (2) اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرتا ہے (3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرتا ہے۔ مسلم نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے ” چاہے روزے رکھتا اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ “ مسائل 1۔ کفار کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ 2۔ منافقین کے ساتھ بےرخی اختیار کرنا لازم ہے۔ 3۔ کفار اور منافقین کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ تفسیر بالقرآن منافق کا انجام : 1۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ساتھ جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (التوبۃ : 73) 2۔ منافق کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 10) 3۔ منافق جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوں گے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (النساء : 145) 4۔ منافق جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت و پھٹکار پڑتی رہے گی۔ (التوبۃ : 68) 5۔ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں منافق لعنتی ہیں۔ (الاحزاب : 61) 6۔ اے نبی ﷺ کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ( التحریم : )
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

” وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے بات نہیں کہی، حالانکہ یقیناً انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے اور اس چیز کا ارادہ کیا جو انہیں نہیں ملی اور انہوں نے اس کے سوا کسی چیز کا انتقام نہیں لیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا، پس اگر وہ توبہ کریں تو ان کے لیے بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیرلیں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین میں نہ ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔ “ (74)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی کذب بیانی، جھوٹی قسمیں اور احسان فراموشی۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ منافق اپنی منافقت کی وجہ سے اخلاقی طور پر اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے اور اسے اپنی بات پر قرار اور اعتماد نہیں ہوتا۔ اس کے جھوٹے پن کی وجہ سے لوگ بھی اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنا اعتماد قائم کرنے کے لیے جھوٹی قسموں کا سہارا لیتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ کے رسول کے دور میں منافقین کی تھی جب بھی ان کی منافقت کا پر دہ چاک ہوتا تو وہ اللہ کے عظیم اور پاک نام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر انھوں نے کئی بار ایسا کیا۔ جس کے لیے انھیں کہا گیا ہے تم تو وہ لوگ ہو کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود بار بار کفر کی حرکات اور باتیں کرتے ہو اس لیے اب تمہاری قسموں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ پھر تم وہ لوگ ہو کہ تم نے ایسے کام کا ارادہ کیا جس کو تم نہ کرسکے یہ اشارہ اس سازش کی طرف ہے جو غزوۂ تبوک سے واپسی پر دس منافقین نے اپنے چہروں پر کپڑے لپیٹ کر رات کے وقت سفر کے دوران اللہ کے رسول کو قتل کرنے کی سازش کی تھی جب آپ نے انھیں پہچان کر للکارا تو وہ لشکر میں گھس گئے آپ نے ان کے نام حضرت حذیفہ ؓ کو بتلاتے ہوئے فرمایا کہ راز رکھنا اور انھیں نظر انداز کردیا جائے۔ منافقین کی سازشیں اور شرارتیں اس لیے تھیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان سے بار بار درگزر کیا۔ ان میں اکثر غریب اور کنگلے تھے مال غنیمت ملنے پر یہ دولت مند ہوئے جس کی وجہ سے یہ منافقت میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو ان کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا جاتا مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی بےپناہ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود اگر یہ لوگ اب بھی توبہ کرلیں تو ان کے لیے میری طرف سے خیر کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیا اور آخرت میں اذیت ناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور ان کے لیے کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوگا۔ مسائل 1۔ منافق اپنا نفاق چھپانے کے لیے جھوٹی قسموں کا سہارالیتے ہیں۔ 2۔ منافق ظاہری طور پر ایمان لانے کے بعد کفر کرتے ہیں۔ 3۔ منافقین نے آپ ﷺ کو شھید کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے۔ 4۔ منافق بھی سچے دل سے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے۔ 5۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے منہ موڑنے والوں کے لیے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول سے منہ پھیرنے والوں کی سزا : 1۔ دنیا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا اور ان کا دنیا میں کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا۔ (التوبۃ : 74) 2۔ اللہ اور اس کے رسول سے منہ پھیرنے والوں کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔ (النساء : 14) 3۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ (النساء : 115) 4۔ قیامت کے دن مجرم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے۔ (الفرقان : 27) 5۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے منہ موڑنے والے فتنے اور عذاب الیم میں مبتلا ہوں گے۔ (النور : 63) 6۔ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الجن : 23)
Ayahs 9:75–77

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

” اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمایا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیک لوگوں سے ہوجائیں گے۔ (75)

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

پھر جب اس نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا تو انہوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ گئے کیونکہ وہ بےرخی کرنے والے تھے۔ (76)

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو اس کے نتیجے میں اس نے ان کے دلوں میں اس دن تک نفاق رکھ دیا جس میں وہ اس سے ملیں گے، اس لیے کہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ (77)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کا صدقہ کرنے کے بارے میں فکر و عمل۔ عام طور پر انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی عسر اور تنگدستی کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کی بار گاہ میں بار بار التجا کرتا ہے کہ اگر مجھے تو نگری عطا کردی جائے تو میں شکر ادا کرتے ہوئے تیری راہ میں بےدریغ خرچ کروں گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجائے تو پھر انسان کو کئی قسم کی سوچیں لاحق ہوجاتی ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنی ضروریات بڑھاتا چلا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام مکمل ہونے کے بعد میں ضرور رب کی راہ میں خرچ کروں گا۔ بالآخر وہ بخل کی زنجیر میں اس طرح جکڑا جاتا ہے کہ جس سے نکلنا اس کے لیے زندگی بھر مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی صورتحال مدینہ کے منافقین کی تھی۔ غنائم ملنے اور خوش حال ہونے سے پہلے اپنی مجالس میں بیٹھے ہوئے کہا کرتے تھے کہ قتال میں حصہ لینا تو مشکل ہے البتہ جب ہمارا ہاتھ کشادہ ہوا تو ہم بھرپور طریقے سے مجاہدین کی مدد اور غرباء کے ساتھ تعاون کریں گے۔ لیکن جوں جوں ان کے پاس مال کی فراوانی ہوتی گئی وہ کنجوس سے کنجوس تر ہوتے چلے گئے۔ اسی کیفیت کو یہاں بیان کیا گیا ہے کہ ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے عہد کرتے رہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نواز دے تو ہم اس کی راہ میں ضرور صدقہ کریں گے اور اس کے صالح بندوں میں شمار ہوں گے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے انھیں کشادگی سے نوازا اور رسول کریم ﷺ نے غنیمت کے مال سے انھیں مالا مال کردیا۔ خرچ کرنا تو درکنار وہ اپنی منافقت اور کنجوسی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ثعلبہ ؓ کا واقعہ بیان جاتا کیا ہے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا انہیں معلوم نہیں کہ بیشک اللہ ان کے راز اور ان کی سرگوشیاں جانتا ہے اور بیشک اللہ غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (78)

جو پہلے اس قدر غریب تھے کہ غربت اور تنگدستی کی وجہ سے زیادہ وقت مسجد نبوی میں بسر کرتے یہاں تک کہ لوگوں نے انھیں حمامۃ المسجد کا لقب دیا یعنی مسجد میں رہنے والی کبوتری۔ ایک دن وہ اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کرنے لگے کہ مجھے اللہ تعالیٰ مال عنایت فرما دے تو میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح دل کھول کر صدقہ کروں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے ثعلبہ ! مال ایک آزمائش ہے اس لیے اس طرح ہی گزر بسر کرتے رہو۔ لیکن اس نے اصرار کیا۔ بالآخر آپ نے اس کے حق میں دعا کی نتیجتاً اس کی بھیڑ بکریاں اور اونٹ اس قدر زیادہ ہوگئے کہ پہلے جماعت کے ساتھ نماز چھوٹی پھر جمعہ بھی مسجد نبوی میں پڑھنا مشکل ہوگیا۔ زکوٰۃ کا مہینہ آیا۔ اللہ کے رسول کے نمائندے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے پہنچے تو کہنے لگا یہ ایک چٹی اور جرمانے کے سوا کچھ نہیں۔ عاملین نے رسول معظم کو رپورٹ پیش کی تو آپ نے فرمایا۔ ثعلبہ ہلاک ہوگیا۔ جب اسے آپ کے الفاظ پہنچے تو وہ زکوٰۃ کا مال لے کر حاضر ہوا لیکن آپ نے اس کی زکوٰۃ وصول کرنے سے انکار کردیا۔ اگلا سال آنے سے پہلے نبی اکرم ﷺ وفات پا گئے۔ وہ اپنی زکوٰۃ خلیفہ اول کے پاس لایا۔ خلیفہ نے یہ کہہ کر زکوٰۃ کی وصولی سے انکار کیا کہ جس مال کو رسول معظم ﷺ نے قبول نہیں کیا میں قبول کرنے والا کون ہوتا ہوں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بعد خلیفہ ثانی حضرت عمر ؓ نے بھی اس کی زکوٰۃ قبول نہ کی۔ صحیح تحقیق کے مطابق یہ واقعہ ثابت نہیں ہے کیونکہ حضرت ثعلبہ ؓ بدری صحابی ہیں جو نہایت مخلص اور سچے مسلمان تھے۔ اس لیے ان آیات کو منافقین پر ہی چسپاں کرنا چاہیے اور وہی ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے تھے۔ جہاں تک ان کی زکوٰۃ قبول نہ کرنے کا معاملہ ہے وہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ اعلان کردیا ہے کہ ان کے دلوں میں ان کے مرنے تک نفاق گھر کرچکا ہے۔ اب انھیں توبہ نصیب نہیں ہوگی کیونکہ یہ اپنے رب سے بار بار عہد شکنی اور کذب بیانی کرنے والے ہیں۔ انھیں اس بات کی خبر ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جلوت و خلوت اور ان کی زندگی کے خفیہ رازوں سے پوری طرح واقف ہے۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ۔ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِّنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ )[ رواہ مسلم ] ” حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں نبی مکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی دبر کے قریب جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا ‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔ “ مسائل 1۔ منافق اللہ تعالیٰ سے جھوٹے وعدے کرتا ہے۔ 2۔ خوشحالی ہوتے ہی منافق اللہ تعالیٰ سے کیے وعدوں کو بھول جاتے ہیں۔ 3۔ اللہ تعالیٰ پوشیدہ باتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ 4۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے : 1۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔ (البقرۃ : 77) 2۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ہر ظاہر اور پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ (الانعام : 3) 3۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ سرگرشیوں کو بھی جانتا ہے۔ (التوبۃ : 78) 4۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : 19) 5۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور آہستہ کہی ہوئی بات جانتا ہے۔ (طٰہٰ : 7) 6۔ اس کتاب کو نازل کرنے والی وہ ذات ہے جو آسمانوں و زمین کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہے۔ (الفرقان : 6)
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

” صدقات میں فراخ دلی سے حصہ لینے والے ایمانداروں پر جو لگ طعن کرتے ہیں اور لوگوں پر جو اپنی محنت کے سواکچھ نہیں پاتے وہ انہیں مذاق کرتے ہیں اللہ ان سے مذاق کرے گا ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ “ (79)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین نہ صرف خود زکوٰۃ اور صدقات نہیں دیتے بلکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں پر غلط الزام لگاتے اور ان کی نیت پر شک کرتے تھے ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں غزوۂ تبوک کے حوالے سے منافقین کی بری عادات کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے بدبخت منافقوں کی حالت یہ تھی کہ نہ صرف اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے سے خود پیچھے رہتے بلکہ اپنی برادری کے مخلص صحابہ کی دل شکنی بھی کرتے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے تبوک کے معرکہ کا ایک مہینہ پہلے سر عام اعلان فرمایا تھا۔ اور لوگوں کو چوکنا کیا کہ ہم پہلی دفعہ عرب کی سرحد سے باہر اور دنیا کی منظم ترین فوج کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہر قسم کی تیاری کے ساتھ دفاعی فنڈ میں دل کھول کر حصہ لیجیے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس نے اپنی طاقت سے بڑھ کر دامے درمے حصہ نہ لیا ہو۔ یہاں تک کہ ایک صحابی جن کا نام ابو عقیل ؓ تھا اس نے رات بھر ایک یہودی کے ہاں مزدوری کی اور صبح اس کے بدلے ملنے والی تقریباً دو کلو کھجوریں لے کر اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے برکت کی دعا دی۔ یہ ماجرا دیکھ کر منافقین نے باہر جا کر آوازے کسے کہ اب تو ضرور سلطنت رومہ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکے گی۔ کیونکہ ان لوگوں نے صدقہ کے ڈھیر لگا دیے ہیں۔ اس طرح انھوں نے صحابہ کرام ؓ کی جنگی تیاریوں کا تمسخر اڑا دیا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے غیرت میں آکر فرمایا ہے کہ یہ مسلمانوں سے مذاق نہیں کرتے درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انھیں تمسخر کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ چناچہ مسلمان جب تبوک سے کامیاب ہو کر واپس آئے تو منافقین ذلت اور شرمندگی کی وجہ سے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ اس طرح یہ لوگ پورے عرب کے سامنے ذلت کا نشان بن کر رہ گئے۔ (عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ؓ قَالَ أُمِرْنَا بالصَّدَقَۃِ قَالَ کُنَّا نُحَامِلُ قَالَ فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِیلٍ ؓ بِنِصْفِ صَاعٍ قَالَ وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَیْءٍ أَکْثَرَ مِنْہُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنْ صَدَقَۃِ ہَذَا وَمَا فَعَلَ ہَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِیَاءً فَنَزَلَتْ الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَا یَجِدُونَ إِلَّا جُہْدَہُمْ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکوٰۃ، باب الحمل باجرۃ تیصدق بھا ] ” حضرت ابو مسعود انصاری ؓ فرماتے ہیں جب ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا ہم اس وقت مزدوری کیا کرتے اور اپنے کندھوں پر بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ ابو عقیل ؓ اس مزدوری سے آدھا صاع کھجور لے کر آئے تو منافق کہنے لگے ابو عقیل کی خیرات کی بھلا اللہ کو کیا پروا تھی عبدالرحمن بن عوف بہت سامال لائے تو منافق کہنے لگے کہ اس نے تو ریاکاری کے لیے بھاری مال خیرات کیا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ “ مسائل 1۔ منافق مومنوں کی نیت پر شک کرتے ہیں۔ 2۔ منافق مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ 3۔ قیامت کے دن اللہ منافقوں سے مذاق کرے گا۔ 4۔ منافقوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ اور اس کے رسول کو مذاق کرنے والوں کی سزا : 1۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کو دردناک عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (التوبۃ : 79) 2۔ اللہ تعالیٰ مذاق کرنے والوں کے لیے کافی ہے۔ (الحجر : 95) 3۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے کی وجہ سے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا۔ (یٰسٓ: 31) 4۔ اللہ تعالیٰ مذاق کرنے والوں کو ڈھیل دیتا رہا اور پھر انھیں عذاب میں مبتلا کردیا۔ (الرعد : 32) 5۔ اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے والوں کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا۔ (الانعام : 10) 6۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کی سزا جہنم ہے۔ (الکہف : 106)
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

” ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں اگر آپ ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کریں گے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا، اس لیے کہ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (80)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین پر مزید سختی اور ان کی محرومیاں۔ اس خطاب کے آغاز میں رسول محترم ﷺ کو حکم ہوا تھا کہ کفار کے خلاف جہاد کرو اور منافقین پر سختی کرو۔ اب حکم ہوتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی کرلیں ان کے لیے بخشش کی دعا نہیں کرنا۔ اگر آپ ستر (70) مرتبہ بھی ان کے لیے بخشش کی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہرگز انھیں معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔ ایسے نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ کے غضب کی انتہا ہوجاتی ہے جس کے لیے اللہ کا رسول یہ بد دعا کرے کہ اے اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہ دے۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے بارے میں عذاب کی بد دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے اللہ اب کفار کا ایک شخص بھی باقی نہیں رہنا چاہیے ان میں جو بھی پیدا ہوا وہ فاسق اور کافر ہی پیدا ہوگا۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے آل فرعون کے لیے بد دعا کی۔ الٰہی ! ان کے مال تباہ اور دل سخت کر دے اور انھیں ایمان کی توفیق نہ دے یہاں تک کہ اذیت ناک عذاب آلے۔ ( یونس آیت : 88) نبی کریم ﷺ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) سے حوصلہ والے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ مدینہ میں نو سال تک منافقین کی ہرزہ سرائی اور اذیتیں برداشت کرتے رہے۔ منافق جب بھی آپ کی خدمت میں آکر کوئی بہانہ یا معذرت کرتے آپ اسے قبول فرماتے۔ لیکن اب وہ وقت آچکا تھا کہ ان پر ہمیشہ کے لیے معافی کا دروازہ بند کردیا جائے۔ چناچہ آپ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے لیے ایک نہیں ستر بار معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ پھر بھی انھیں معاف نہیں کرے گا۔ یاد رہے اس زمانے میں عربوں کے ہاں کسی بات کی اہمیت اور اس کو بڑھا کر بیان کرنے کے لیے ستر کا عدد استعمال کیا جاتا تھا۔ تاکہ سننے والے کو بات کی اہمیت یا اس کی برائی کا احساس ہوجائے۔ اس آیت کی تفسیر میں امام رازی (رح) نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ غزوۂ تبوک کے بعد منافقین جب پوری طرح بےنقاب ہوگئے تو ان کا سردار عبداللہ بن ابی نے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور اپنے وقار کو بحال کرنے کے لیے نماز کے بعد کھڑا ہو کر اللہ کے رسول کی تعریف کرنے لگا۔ جس پر حضرت عمر ؓ نے اسے ڈانٹتے ہوئے فرمایا ” بیٹھ جاؤ “ ہمیں تیری حقیقت اچھی طرح معلوم ہوچکی ہے۔ یہ بڑ بڑاتا ہوا مسجد سے باہر نکلا جس پر اس کی برادری کے مخلص مسلمانوں نے اسے سمجھایا۔ برباد کیوں ہوتے ہوجا کر اللہ کے رسول سے معافی مانگو۔ اس پر چلا کر کہنے لگا کہ مجھے معافی اور کسی کی دعا کی ضرورت نہیں۔ اس پر اس آیت کریمہ کا نزول ہوا۔ مسائل 1۔ منافقین کے لیے دعا کرنا اور نہ کرنا برابر ہے۔ 2۔ اللہ منافقین کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ 3۔ منافق کے جرائم کی وجہ سے اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو معاف نہیں کرے گا : 1۔ اللہ تعالیٰ منافقین کو معاف نہیں کرے گا۔ (التوبۃ : 80) 2۔ اللہ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 48) 3۔ اللہ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 116) 4۔ اللہ تعالیٰ مرتد کو معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 137) 5۔ اللہ تعالیٰ کفر اور ظلم کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گا۔ (النساء : 168) 6۔ اللہ تعالیٰ منافقین کو معاف نہیں کرے گا۔ (المنافقون : 6) 7۔ اگر آپ منافق کے لیے ستر بار بھی بخشش طلب کریں اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ (التوبہ : 80) 8۔ آپ منافقوں کے لیے بخشش طلب کریں یا نہ کریں اللہ انہیں معاف نہیں کرئے گا۔ ( المنافقوں : 6)
Ayahs 9:81–82

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

” جو لگ پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے بیٹھ رہنے پر خوش ہوگئے اور انہوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا گرمی میں مت نکلو۔ بتلادیں کہ جہنم کی آگ اس سے بہت زیادہ گرم ہے کاش وہ سمجھتے ہوتے۔ (81)

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

بس وہ کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں اس کے بدلے جو وہ کماتے ہیں۔ “ (82)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کے لیے بخشش کی دعا کرنا اس لیے بھی جائز نہیں یہ خود جان بوجھ کر جہاد سے پیچھے رہنے والے اور لوگوں کو جہاد سے بددل کرنے والے ہیں۔ مُخَلّفَ کی جمع مُخَلَّفُوْنَ ہے جس کا معنی ہے وہ لوگ جنھیں ان کے عذربہانوں اور شرارتوں کی وجہ سے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ منافقین کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جہاد کے لیے نکلنے کے بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں بظاہر تو وہ اپنے آپ میں خوش ہوتے کہ ہم نے پیچھے رہنے کی باضابطہ اجازت لی ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ اللہ کے رسول جانتے تھے کہ یہ لوگ جھوٹے بہانے اور خود ساختہ مجبوریاں پیش کرکے جہاد سے پیچھے رہنا چاہتے ہیں اس لیے آپ انھیں بیٹھ رہنے کی اجازت دیتے تاکہ ان کی شرارتوں سے اسلامی لشکر مامون ہوجائے اور دوسری طرف لوگوں کے سامنے یہ بات آشکار ہوجائے کہ یہ لوگ اسلام کے بارے میں مخلص نہیں ہیں اس کے باوجود مال غنیمت کے لالچ اور مسلمانوں کی مخبری کرنے کے لیے کچھ منافق شریک جہاد ہوجایا کرتے تھے۔ یہاں پیچھے رہنے والوں کے لیے مُخَلَّفُوْنَ کا لفظ استعمال فرما کر واضح کیا گیا ہے کہ ان کو ان کی شرارت اور بدنیتی کی وجہ سے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کو ناپسند کیا اور لوگوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ تبوک کا سفر طویل ہے اور شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ جہاد کے لیے نکلنا گویا کہ اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہے۔ اس پر انھیں بتلایا گیا کہ تم دنیا کی گرمی کا بہانہ بناتے ہو ذرا اپنے مستقبل کی طرف جھانکو اور وہ وقت یاد کرو کہ جب جہنم میں تمہیں جھونکا جائے گا اس کی آگ کتنی شدید تر ہوگی کاش تم لوگ سمجھ جاؤ۔ منافق غزوۂ تبوک کی طرف نکلنے والے مسلمانوں کو یہ کہہ کر مذاق اڑاتے کہ یہ ہیں سلطنت رومہ کے فاتح جو اسے فتح کرنے کے لیے نکل رہے ہیں۔ اس پر منافقوں کو سمجھایا گیا کہ ہنسو تھوڑا اور روؤ زیادہ جو کچھ کر رہے ہو اس کی سزا پاؤ گے کیونکہ دنیا کی خوشیاں آخرت کے مقابلے میں نہایت قلیل ہیں اور جو لوگ کفر و شرک اور منافقت کی حالت میں مریں گے ان کے لیے جہنم میں رونا ہی رونا ہوگا۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکا یا گیا حتیٰ کہ وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک بھڑکایا گیا حتیٰ کہ وہ سیاہ ہوگئی اب وہ سیاہ ہے۔ “ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا تمہاری دنیاوی آگ جہنم کی آگ کے سترویں درجے کی ہے۔ رسول معظم ﷺ سے عرض کی گئی یہ ہی کافی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ اس سے انہتر درجے زیادہ سخت ہے اور ہر درجہ دوسرے سے زیادہ تیزتر ہے۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق ] مسائل 1۔ منافق کی منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کہ یہ اس کی راہ میں جہاد کرے۔ 2۔ منافقوں کو پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ 3۔ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر گنا زیادہ ہے۔ 4۔ انسان کو تھوڑا ہنسنا اور اللہ کے حضور زیادہ رونا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن جہنم کی آگ کی کیفیت : 1۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ (البقرۃ : 24) 2۔ جہنم کی آگ بہت زیادہ گرم ہوگی۔ (التوبۃ : 81) 3۔ مجرم لوگ جہنم کے گرجنے برسنے کی آوازیں سنیں گے۔ (الفرقان : 12) 4۔ جہنم بھرنے کا نام نہیں لے گی۔ (ق : 30) 5۔ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اور اس پر سخت گیر فرشتوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ (التحریم : 6) 6۔ مجرموں کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ اس کی گرج دار آواز سنیں گے۔ (الملک : 7) 7۔ جہنم سے بڑے بڑے محلات کے برابر شعلے اٹھیں گے۔ ( المرسلٰت : 32)