9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفہم القرآن

Ayahs 9:101–102

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

” اور تمہارے ارد گرد کے جو دیہاتی ہیں ان میں کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انھیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انھیں دو بار عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ “ (101) ”

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ دوسرے ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا کچھ عمل نیک اور کچھ برے کیے، قریب ہے اللہ ان پر توجہ فرمائے۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (102)

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے دوسرے اور تیسرے طبقہ کا ذکر، مدینہ کے منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اب ان منافقین کا بیان ہوتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہتے تھے۔ مومنوں کے اعلیٰ طبقات بیان کرنے کے بعد منافقین کے اس گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہنے کی وجہ سے ہر وقت مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہتے تھے لیکن حقیقتاً پکے منافق تھے مگر تمام کام مسلمانوں جیسے کرتے اور ہر کام میں مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے عام مسلمان ان کے اصلی کردار سے ناواقف تھے۔ یہ منافق مسلمانوں کے لیے آستین کے سانپ تھے۔ جنہیں پہچاننا عام مسلمانوں کے بس کی بات نہیں تھی اس لیے یہ گاہے بگاہے سازشیں کرتے رہتے تھے۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر بارہ منافقین نے اپنے چہروں پر کپڑے لپیٹ کر رات کے وقت اللہ کے رسول کو قتل کرنے کی سازش کی تھی جب آپ نے انھیں پہچان کر للکارا تو وہ لشکر میں گھس گئے۔ آپ نے ان کے نام حضرت حذیفہ ؓ کو بتلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ راز رکھنا اور انھیں نظر انداز کردیا جائے۔ منافقین کی سازشیں اور شرارتیں اس لیے تھیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان سے بار بار درگزر کیا۔ ان میں اکثر غریب اور کنگلے تھے مال غنیمت ملنے پر دولت مند ہوئے جس کی وجہ سے یہ منافقت میں آگے ہی بڑھتے گئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو ان کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا جاتا مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنی بےپناہ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود اگر یہ لوگ اب بھی توبہ کرلیں تو ان کے لیے میری طرف سے خیر کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔ اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیا اور آخرت میں اذّیت ناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور ان کے لیے کوئی خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوگا۔ یہی منافقین کفار کو مسلمانوں کی سرگرمیوں سے پل پل باخبر رکھتے تھے۔ ان سے الگ تھلگ رہنا تمدنی لحاظ سے مشکل تھا کیونکہ ان کا رہن سہن بظاہر مسلمانوں جیسا تھا، پھر وہ مسلمانوں کے ساتھ پرانی رشتے داریوں کی وجہ سے جڑے ہوئے تھے ان کے نفاق اور سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ مسلمانو ! تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ انہیں خوب جانتا ہے۔ اس نشان دہی کے بعد مسلمانوں کو ایسے منافقوں کو پہچاننا آسان ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی منافقین کو انتباہ کیا گیا کہ عنقریب تمہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا اور پھر مرنے کے بعد تمہیں عظیم عذاب میں مبتلا رہنا ہوگا۔ دوگنے عذاب سے مراد حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک یہ ہے کہ دنیا میں مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوں گے اور آخرت میں شدید ترین عذاب سے دوچار ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیمار تو مومن بھی ہوا کرتا ہے جس کا جواب ابن عباس ؓ یہ دیا کرتے تھے کہ بیماری اور تکلیف کے وقت مومن کے گناہ جھڑتے اور آخرت میں اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں بیماری اور تکلیف کے وقت منافق اپنی منافقت میں اور زیادہ ہوجاتا ہے اور آخرت میں اسے دوگنا عذاب ہوگا۔ کچھ اہل علم نے یہ لکھا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد کچھ منافقین کو نبی اکرم ﷺ نے خطبہ جمعہ کے دوران مسجد سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ (واللہ اعلم) اس طرح منافق دنیا میں ذلیل ہوئے اور مرنے کے وقت ملائکہ ان کے چہروں پر تھپڑ رسید کرتے اور انھیں جھڑکیاں دیتے ہوئے ذلیل کریں گے۔ ایسے لوگوں کو دوگنا عذاب اس لیے دیا جاتا ہے کہ یہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ گویا کہ گناہوں کے سرغنہہونے کی وجہ سے دوگنا عذاب پائیں گے۔ منافقین کا تیسرا طبقہ : یہ لوگ عقیدہ کے اعتبار سے منافق نہ تھے لیکن ان کے عمل مخلص مسلمانوں جیسے نہ تھے۔ گویا کہ اعتقادی نہیں عملی منافق تھے۔ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عملی کمزوریوں کو معاف کر دے گا کیونکہ بڑا مہربان اور معاف کردینے والا ہے۔ منافقین کی سزا : (إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا)[ النساء : 145] ” یقیناً منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔ “ مسائل 1۔ منافق کو دنیا اور آخرت میں عذاب ہوگا۔ 2۔ گناہ کا اعتراف کرنے اور معافی مانگنے سے اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی توبہ قبول کرتا ہے : 1۔ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (التوبۃ : 104) 2۔ اللہ غلطیاں معاف کرکے توبہ قبول کرتا ہے۔ (الشورٰی : 25) 3۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی اللہ نے توبہ قبول فرمائی۔ (التوبۃ : 102) 4۔ غلطی کی اصلاح کرنے والوں کی اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ (البقرۃ : 160) 5۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222) 6۔ جس نے ظلم کرنے کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کی، اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (المائدۃ : 39) 7۔ اللہ ہر توبہ کرنے والے کو معاف فرما دیتا ہے۔ (طٰہٰ : 82) 8۔ جو گناہ کرنے کے بعد جلدی سے توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (النساء : 17)
Ayahs 9:103–104

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

” ان کے مالوں سے صدقہ وصول کیجیے، اس کے ساتھ انھیں پاک، صاف کیجیے اور ان کے لیے دعا کیجیے، بیشک آپ کی دعا ان کے لیے باعث سکون ہے اور اللہ خوب سننے، خوب جاننے والا ہے۔ “ (103) ’

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

’ کیا وہ نہیں جانتے کہ یقیناً اللہ اپنے بندوں کی توبہ اور صدقہ قبول کرتا ہے اور یقیناً اللہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ “ (104)

فہم القرآن ربط کلام : چھپے ہوئے منافقوں کے بیان کے بعد ان مسلمانوں کا ذکر جو معقول عذر نہ رکھنے کے باوجود غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ نیز اس میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ اگر منافق بھی اخلاص کے ساتھ توبہ اور صدقہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے اور صدقہ منظور فرمانے والا ہے۔ اس سے پہلے منافقوں کے گھناؤنے کردار اور مخلص مسلمانوں کے درجات اور مقام کا ذکر فرمایا۔ ان کے بعد عملی منافقوں کو بخشش کی امید دلانے کے بعد ان مسلمانوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ جنہوں نے تبوک کے موقع پر سستی کا مظاہرہ کیا تھا۔ چھپے ہوئے منافقوں کے بیان کے معاً بعد سستی کے مرتکب حضرات کا ذکر ایک طرح کی سرزنش ہے مزید یہ کہ انھیں دوسرے کہہ کر پکارا گیا ہے۔ جس میں واضح طور پر بیگانگی کا تصور پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ لوگ اپنے ایمان میں نہایت مخلص تھے اور اسلام لانے کے بعد ان کا کردار بےداغ تھا۔ محض بشری سستی کی بنا پر عساکر اسلام سے پیچھے رہ گئے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے جھوٹے عذر بہانے بنانے کی بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اور خودہی اپنی سزا تجویز کی کہ اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے جکڑ لیا۔ کہ جب تک نبی کریم ﷺ ہمیں نہ کھولیں تادم مرگ اسی طرح اپنے آپ کو جکڑے رکھیں گے۔ جن کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے نیک اعمال بھی ہیں اور برے بھی۔ برے اعمال سے مراد جہاد کا حکم سننے کے باوجود سستی دکھانا یہاں تک کہ لشکر اسلام سے پیچھے رہ جانا اور پیچھے رہنے والے منافقوں کی تقویت کا باعث بننا۔ تاہم اپنے ایمان میں مخلص تھے۔ اس لیے اعلان ہوا۔ کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہوگا۔ چناچہ چند دنوں کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔ توبہ قبول ہوتے ہی ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں سارا مال پیش کرتے ہوئے درخواست کی کہ اے اللہ کے حبیب ﷺ یہ مال قبول فرمائیں۔ کیونکہ اس مال کی وجہ سے ہم اس غلطی کے مرتکب ہوئے۔ اس موقع پر یہ فرمان نازل ہوا۔ اے نبی ﷺ ان کے مال سے کچھ حصہ قبول فرمائیں اور ان کے لیے دعا کریں۔ آپ کی دعا ان کے زخمی دلوں پر مرہم اور ان کی بیقرار روح کے لیے تسکین کا سبب ہوگی۔ ان کا صدقہ قبول کرنے سے ان کا مال پاک اور ان کی طبیعت سے بخل دور ہوگا اور انھیں یقین ہوجائے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی ہے۔ اس سے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور لوگوں کے صدقات منظور فرمانے والا ہے۔ جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ اجازت نہ دے تو نبی بھی کسی کا صدقہ قبول نہیں کرسکتا۔ صرف اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ اور صدقات قبول کرنے والا ہے کیونکہ وہ نہایت ہی فضل و کرم کا مالک ہے۔ یاد رہے یہاں صدقہ سے مراد عام صدقہ ہے زکوٰۃ نہیں۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ إِنَّ اللَّہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات، باب قبول توبۃ العبد مالم یغرغر ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا حالت نزع طاری ہونے سے پہلے پہلے اللہ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ “ مسائل 1۔ صدقہ دینے سے مال پاک ہوتا ہے۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کی دعا صحابہ کے لیے باعث تسکین تھی۔ 3۔ اللہ ہی بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ 4۔ صدقات و خیرات کو اللہ ہی شرف قبولیت سے نوازتا ہے۔ 5۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ رحم فرمانے والا ہے : 1۔ اللہ ہی رحم کرنے والا ہے۔ (الانعام : 133) 2۔ مہربانی فرمانا اللہ نے اپنے آپ پر لازم کرلیا ہے۔ (الانعام : 54) 3۔ اللہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (یوسف : 64) 4۔ میرے بندوں کو میری طرف سے خبر کردو کہ میں بخشنے والا، رحم کرنے والا ہوں۔ (الحجر : 49) 5۔ اللہ مومنوں کو اندھیروں سے نکالتا ہے کیونکہ وہ رحم کرنے والا ہے۔ (الاحزاب : 43)
Ayahs 9:105–106

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

” اور فرما دیجیے عمل کرو، پس عنقریب اللہ تمہارا عمل اور اس کا رسول اور مومن دیکھیں گے اور عنقریب تم چھپی اور کھلی بات کو جاننے والے اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہ تمہیں خبر دے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ “ (105)

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

” کچھ اور ہیں جو اللہ کے حکم سے چھوڑ دیے گئے ہیں، چاہے انھیں سزا دے اور چاہے وہ ان پر متوجہ ہوجائے۔ اور اللہ خوب جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔ “ (106)

فہم القرآن ربط کلام : توبہ اور صدقات قبول کرنے کے باوجود وارننگ۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی توبہ قبول کرلی گئی۔ مگر اس کے باوجود انھیں یہ کہہ کر وارننگ دی گئی۔ کہ آئندہ تمہیں دیکھا جائے گا کہ تم کیسا کردار پیش کرتے ہو۔ گویا اللہ اس کا رسول اور مومن تم پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔ کہ تم دوبارہ ایسی غلطی تو نہیں کرتے۔ ہاں یاد رکھنا تم بالآخر اس ذات کبریا کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں ہے۔ باطن کا معنی جو چیز انسان کی نظروں سے اوجھل ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ظاہر اور باطن دونوں برابر ہیں۔ ان سات صحابہ کی توبہ قبول ہوئی مگر حضرت کعب بن مالک ؓ حضرت ھلال بن امیہ ؓ اور مرارہ بن ربیع ؓ کا معاملہ یہ فرما کر معلق کردیا گیا کہ اللہ چاہے انھیں سزادے یا انھیں معاف فرما دے۔ تاہم عذاب کے بعد معافی کا بیان فرماکر واضح اشارہ دیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی معاف فرما دیں گے، کیونکہ وہ ان کی نیتوں کو جانتا ہے۔ توبہ قبول کرنے کی تاخیر کی حکمت بھی اچھی طرح اس کے علم میں ہے۔ تفصیل کے لیے اسی سورة کی آیت 118 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ کَان النَّبِیُّ ﷺ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّےْلِ افْتَتَحَ صَلٰوتَہُ (فَقَالَ اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَآءِےْلَ وَمِےْکَآءِےْلَ وَاِسْرَافِےْلَ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَےْبِ وَالشَّھَادَ ۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَےْنَ عِبَادِکَ فِےْمَا کَانُوْا فِےْہِ ےَخْتَلِفُوْنَ اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِےْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِےْمٍ )[ رواہ مسلم : باب الدعاء فی الصلوۃ اللیل ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اے الٰہی ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل ( علیہ السلام) کے رب، تو ہی زمین و آسمانوں کا پیدا کرنے اور حاضر و غائب کا علم رکھنے والا ہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اختلافی معاملات میں حق اور سچ کے ساتھ میری رہنمائی فرما۔ یقیناً تو جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا کرتا ہے۔ “ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے : (عَنْ عَآءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَاب اللّٰہُ عَلَےْہِ ) [ رواہ البخاری : باب تعدیل النساء بعضھن بعضا ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد ہر کسی کو اس کے عمل سے آگاہ فرمائے گا۔ 2۔ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے معاف فرما دے چاہے سزا دے۔ 3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ غیب اور ظاہر کو جانتا ہے : 1۔ اللہ غیب اور ظاہر کو جانتا ہے۔ (التوبۃ : 105) 2۔ اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور چھپاتے ہو۔ وہ دل کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ (ہود : 5) 3۔ اللہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے۔ (النحل : 19) 4۔ اللہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ (الحشر : 22) 5۔ اللہ زمین و آسمانوں کی ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ (الانعام : 3) 6۔ جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو اللہ کے لیے برابر ہے۔ (الرعد : 10)
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

” اور وہ لوگ جنھوں نے مسجد بنائی تکلیف دینے اور کفر پھیلانے اور ایمان والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے لیے اور گھات لگانے کے لیے جنھوں نے اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کی اور یقیناً وہ ضرور قسمیں اٹھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کچھ ارادہ نہیں کیا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں۔ “ (107)

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں اور مومنوں کے کردار اور انجام کا تقابل جاری ہے۔ منافقوں کی ایک اور سازش کا ذکر شروع ہوتا ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے۔ ابو عامر جو مدینہ کا ہی رہنے والا تھا۔ نبی محترم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے اس کی مدینہ میں بڑی عزت و تکریم کی جاتی تھی۔ اس نے آپ ﷺ کے ورودمدینہ سے پہلے عیسائیت قبول کی اور لوگوں میں راہب کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا۔ آپ کی آمد پر اس نے منافقت کا لبادہ اوڑھا اور آئے روز نئی سے نئی سازش تیار کرتا۔ اس شخص کو غسیل الملائکہ حضرت ابو حنظلہ ؓ کا باپ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اللہ کی شان بہترین بیٹے کا بد ترین باپ حضرت ابو حنظلہ ؓ کا منفرد اعزاز ہے کہ جب احد میں شہید ہوئے تو ان کی بیوی نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بڑی حیا داری سے عرض کی کہ اللہ کے رسول مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے شہیدوں کو بغیر غسل کے دفنانے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ لیکن میرا خاوند حنظلہ واجب الغسل ہے۔ آپ نے فرمایا بی بی فکر نہ کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے خاوند کو ملائکہ نے غسل دے دیا ہے۔ اس فرمان کے بعد انھیں غسیل الملائکہ کہا جانے لگا۔ (سنن البیہقی) غسیل الملائکہ کے باپ ابو عامر نے منافقین کو مشورہ دیا کہ مدینہ میں ہمارے لیے کسی الگ جگہ اکٹھا ہونا مشکل ہوگیا ہے۔ تم مسجد کے نام پر ایک ایسی عمارت بناؤ جس میں ہم نبی کو ناکام کرنے کا منصوبہ بنایا کریں چناچہ انھوں نے اس نیت اور غرض سے مسجد بنائی۔ ان کے پروگرام میں مسلمانوں کو
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق رکھتی ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے آدمی ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ “ (108)

ایذا دینا، کفر پر پکے رہنا اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف مورچہ بندی کرنا شامل تھا۔ مسجد بنانے کے بعد منافقین نے آپ ﷺ کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ آپ برکت کے طور پر اس مسجد میں ایک نماز پڑھائیں تاکہ ہم باقاعدہ اس میں نمازیں ادا کرنا شروع کریں۔ ان کے مذموم عزائم سے آگاہ کرنے کے لیے آپ کو حکم ہوا کہ : اے رسول ! آپ اس مسجد میں ہرگز داخل نہ ہوں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تبوک سے واپسی پر اس مسجد میں نماز پڑھائیں گے لیکن تبوک سے واپسی پر آپ کو اس مسجد کی حقیقت بتلا کر منع کردیا گیا کہ آپ نے اس مسجد میں ہرگز قدم رنجہ نہیں فرمانا۔ کیوں کہ اس کی تعمیر کا مقصد اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا نہیں بلکہ کفر کی ترویج، مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے ساتھ، اللہ اور آپ کے خلاف مورچہ بندی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خلاف مورچہ بندی کرنے سے مراد کفر و شرک کی حمایت کرنا ہے۔ یہ حکم نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے اس مسجد کو مسمار کروادیا تھا۔ یاد رہے کہ منافقوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے قسمیں اٹھا اٹھا کر کہا تھا کہ مسجد قبا ہمارے گھروں سے دور ہے۔ ہم نے آنے جانے کی سہولت اور خالص عبادت کی غرض سے یہ مسجد تعمیر کی ہے۔ جس کی تردید کرتے ہوئے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ کو اس مسجد کی بجائے اس مسجد میں جانا چاہیے جس کی بنیاد خدا خوفی اور یاد الٰہی کے لیے رکھی گئی ہے۔ بعض اہل علم نے مسجد قبا کی بجائے اس سے مسجد نبوی مراد لی ہے اس میں کوئی شک نہیں مسجد نبوی مسجد قبا سے افضل ہے مگر قرآن مجید کے اشارات اور سیرت کی کتب سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسجد قبا ہے جس کے نمازیوں کی تعریف کی گئی ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَر ؓ قَالَ کَان النَّبِیُّ ﷺ ےَاْتِیْ مَسْجِدَ قُبَاءٍ کُلَّ سَبْتٍ مَّاشِےًا وَّرَاکِبًا فَےُصَلِّیْ فِےْہِ رَکْعَتَےْنِ )[ رواہ مسلم : کتاب الحج، باب فضل مسجد قباء و فضل الصلاۃ فیہ وزیادتہ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہر ہفتے پیدل یا سوار ہو کر مسجد قباء تشریف لے جاتے اور اس میں دو نفل ادا کیا کرتے تھے۔ “ (عن أُسَیْد بن حُضِیْرِنِ الأَنْصَارِی وَکَانَ مِنْ أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال الصَّلاَۃُ فِی مَسْجِدِ قُبَاءٍ کَعُمْرَۃٍ )[ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی الصلاۃ فی مسجد قباء ] ” حضرت اسید بن حضیر انصاری ؓ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے تھے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرہ ادا کرنے کی مانند ہے۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی أَہْلِ قُبَاءَ (فِیہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ أَنْ یَتَطَہَّرُوا واللَّہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِینَ ) قَالَ کَانُوا یَسْتَنْجُون بالْمَاءِ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فیہِمْ ) [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب وَمِنْ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ آیت قباء والوں کے متعلق نازل ہوئی اس کے نمازی طہارت کو پسند کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پاک صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے کیونکہ قباء والے پانی سے بھی استنجاء کیا کرتے تھے تب یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی۔ “ مسائل 1۔ منافقین شروع سے ہی دین اسلام کے خلاف سازشیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ 2۔ مسجد ضرار دین حق کے مقابلہ میں بنائی گئی۔ 3۔ اہل کفر دین اسلام کے کبھی خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ 4۔ ظاہر اور باطنی طور پر پاک رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ 5۔ مسجد کی بنیاد خدا خوفی پر ہونی چاہیے۔ 6۔ مسجد میں کفر و شرک اور تفرقہ بازی کی تبلیغ نہیں ہونی چاہیے۔ 7۔ منافق کی قسم پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ 8۔ جس مسجد میں کفرو شرک اور لڑائی جھگڑے کا ماحول پیدا کیا جائے اس میں نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ پاک باز لوگوں کو پسند کرتا ہے : 1۔ اللہ پاک باز لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (التوبۃ : 108) 2۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ : 222) 3۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اسماعیل کو بیت اللہ کو پاک، صاف رکھنے کا حکم دیا تھا۔ (البقرۃ : 125) 4۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تاکہ تم طہارت حاصل کرو۔ (الانفال : 11) 5۔ اے نبی اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھیں۔ (المدثر : 4)
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

” کیا وہ شخص، جس نے اس عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضا مندی پر رکھی، بہتر ہے، یا وہ جس نے اس عمارت کی بنیاد نیچے سے کھوکھلے تو دے کے کنارے پر رکھی، جو گرنے ہی والا تھا ؟ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گرگیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (109) ”

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ پچھلی آیت میں حکم ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس مسجد میں نماز پڑھنا ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر اٹھائی گئی ہے۔ اس مسجد کو آپ ﷺ نے مدینہ داخل ہونے سے پہلے قبا محلہ میں اس وقت تعمیر فرمایا تھا۔ جب آپ تقریبًا پندرہ دن کے لیے قبا میں قیام پذیر ہوئے تھے۔ یہاں نہ صرف اس مسجد کی تعریف فرمائی گئی ہے۔ بلکہ وہاں کے نمازیوں کے اوصاف بھی گنوائے گئے ہیں کہ یہ لوگ طہارت کا خیال رکھنے والے نہایت پاکباز ہیں۔ اللہ پاکباز لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کے بعد دونوں مسجدوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ کہ کیا دونوں برابر ہوسکتی ہیں ؟ ایک کی بنیاد خدا خوفی اور اپنے رب کی خوشنودی پر اٹھائی گئی ہے اور نام نہاد مسجد کی اٹھان کفرو تفریق پر رکھی ہے۔ جس کی حیثیت یہ ہے گویا کہ یہ ایسی عمارت ہے جس کی بنیاد ہی نہیں۔” شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ “ کا معنی ہے دریا کا وہ کنارہ جس کے نیچے سے زمین دریا برد ہوچکی ہو اور وہ گرنے ہی والا ہو۔ یہی حالت اس کے بنانے والوں کی ہے۔ ان کا کردار اس قدر گھناؤنا اور عقیدہ اس قدر گندہ ہے کہ یہ لوگ جہنم کے کنارے بیٹھے ہوئے ہیں۔ بس ان کے مرنے کی دیر ہے ادھر مرے اور ادھر جہنم میں دھڑام سے گرے۔ کیونکہ کفر ان کے دلوں میں اس طرح رچ بس گیا ہے کہ
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

انھوں نے جو عمارت بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بےچینی کا باعث بنی رہے گی مگر اس صورت میں کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے۔ “ (110)

بیشک ان کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو بھی ان کے دلوں سے کفر نکلنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ یہ اسی حالت میں مریں گے۔ لہٰذا ان کو اپنی حکمت کے مطابق مہلت دیے جارہا ہے۔” شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ “ کے الفاظ استعمال فرما کر اس مسجد کے گرانے کا واضح اشارہ دیا گیا جس بناء پر رسول معظم ﷺ نے اسے گرانے اور جلانے کا حکم صادر فرمایا۔ مسائل 1۔ ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ 2۔ ایمان اور نفاق کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ 3۔ ایمان ایک عمارت کی طرح ہے جس کی بنیاد پختہ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 5۔ جس عمل کی بنیاد نفاق پر ہو خواہ کتنا ہی اچھا لگے وہ جہنم کا سبب ہوگا۔ 6۔ اعتقادی منافق مرتے دم تک نفاق سے چھٹکارا نہیں پاتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظالم اور فاسق کو ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (التوبۃ : 109) 2۔ یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرنے والا انہی میں سے ہے اس کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔ ( المائدۃ : 51) 3۔ اللہ منافقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الصف : 5) 4۔ اللہ منافقوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المنافقون : 6) 5۔ جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ برے لوگ ہیں۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الجمعۃ : 5)
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

” یقیناً اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں۔ اس کے بدلے کہ یقیناً ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، تورات اور انجیل اور قرآن میں اللہ کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے ؟ اس سودے پر خوب خوش ہوجاؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ “ (111)

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور مخلص مسلمان کے کردار میں فرق۔ منافق کفرو نفاق چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جبکہ مخلص مسلمان اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر لیے پھرتا ہے۔ یہاں نہایت ہی اچھوتے انداز میں منافق اور مسلمان کے کردار کا موازنہ پیش کیا جارہا ہے۔ منافق دنیا کے لیے اپنا ایمان اور غیرت داؤ پر لگا دیتا ہے اس کے مقابلے میں مومن اپنے خالق ومالک کی رضا کی خاطر مال، عزت و اقبال، اقتدار اور اختیار یہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کردیتا ہے۔ مومن کے اسی کردار کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے عوض جنت کا سودا کر رکھا ہے۔ مومن اس کے حصول کے لیے ہر چیز قربان کرنے اور بڑی سے بڑی دشمنی مول لینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم پر اللہ کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں شہید بھی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جہاد اور ایثار کے بدلے جنت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جس کا تذکرہ تورات، انجیل اور قرآن مجید میں پایا جاتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اپنے وعدہ پورا کرنے والا نہیں ہے۔ لہٰذا اے مجاہدو اور مومنو ! اس سوداگری پر خوش ہوجاؤ۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں اس کامیابی کا صلہ یہ ہے کہ اگر مسلمان کامیاب ہوں تو نہ صرف اللہ تعالیٰ کا دین سر بلند ہوتا ہے بلکہ مسلمانوں کی عزت و اقبال میں اضافہ اور انہیں کفار پر غلبہ اور اقتدار حاصل ہوتا ہے۔ آخرت میں غازیوں اور شہیدوں کو اس قدر اعلی مقام پر فائز کیا جائے گا کہ جنتی بھی ان کی طرف حسرت کی نگاہ سے دیکھا کریں گے امام قرطبی ؓ نے اپنی تفسیر میں نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ پر انصار کی بیعت عقبہ کا ذکر کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جب انصار کا وفد حج کے موقع پر بیعت کررہا تھا۔ عقبہ پہاڑ کے حصہ کو کہا جاتا ہے یہاں عقبہ سے مراد منیٰ میں جمرہ عقبہ کے ساتھ پہاڑ کا وہ حصہ جہاں نبوت کے گیارہویں سال چھ آدمیوں نے بیعت کی تھی جیسے بیعت عقبہ کہا جاتا ہے۔ اس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ اللہ کے رسول ہمیں اپنی بیعت کی شرائط بتلائیں آپ نے فرمایا اللہ کے لیے یہ عہد کرو کہ صرف اسی کی عبادت کرو گے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے اور میری حفاظت اس طرح کرو گے جس طرح اپنے مال وجان کی کرتے ہو۔ ابن رواحہ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس کے بدلے اللہ جنت عطا فرمائے گا یہ سنتے ہی انصار نے بیک زبان ہو کر کہا کہ ہمیں یہ سودا منظور ہے ہم جیتے جی یہ بیع ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ امام رازی ؓ نے یہاں ایک خاص نقطہ اٹھایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ چیز وہ خریدی جاتی ہے جو خریدار کے پاس نہ ہو اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے پھر خریداری کا کیا معنی ؟ امام محترم ؓ خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ مومن کو دی ہوئی چیز اس سے لیتے ہوئے بھی اس کا بدلہ عنایت کرتا ہے۔ (عَنْ اَنَسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ اَحَدٍ ےَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ےُحِبُّ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْےَا وَلَہٗ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَےْئٍ اِلَّا الشَّھِےْدُ ےَتَمَنّٰی اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْےَا فَےُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا ےَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ )[ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ ] ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا، جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرے گا۔ اگرچہ اسے دنیا کی تمام چیزیں بھی دی جائیں۔ مگر شہید آرزو کرے گا کہ وہ دنیا میں جائے اور دس بار شہید کیا جائے۔ کیونکہ وہ عزت و شرف دیکھ چکا ہوتا ہے۔ “ (أول ما یہراق من دم الشہید یغفر لہ ذنبہ کلہ إلا الدین )[ حدیث رقم : 2578، فی صحیح الجامع ] ” پہلے قطرہ خون سے شہید کے قرض کے سوا سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ “ (عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ یَقُوْلُ رِبَاطُ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَہْرٍ وَّ قِیَامِہٖ وَاِنْ مَّاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہٗ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ وَاُجْرِیَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ وَاَمِنَ الْفَتَّانَ ) [ رواہ مسلم : باب فضل الرباط فی سبیل اللہ ] ” حضرت سلمان فارسی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی گرامی ﷺ سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے اللہ کے راستے میں ایک دن اور رات کا پہرہ دینا ایک مہینہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اگر وہ فوت ہوجائے تو اس کا عمل برابر جاری رہتا ہے اسے رزق دیا جاتا ہے اور وہ قبر کے فتنہ سے محفوظ رہتا ہے۔ “ مسائل 1۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے بدلے مومنوں کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے۔ 2۔ اللہ کے ساتھ سودا کرنے والوں کو عظیم خوشخبری دی گئی ہے۔ 3۔ انسان کی جان اور مال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ 4۔ اللہ کے راستے میں قتال کرنا اللہ تعالیٰ سے تجارت کرنا ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ مومنین کی آزمائش کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مجاہدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے : 1۔ مجاہدین کے ساتھ اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (التوبۃ : 111) 2۔ مومنین میں سے مجاہد اور غیر مجاہد برابر نہیں ہوسکتے۔ (النساء : 95) 3۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھنے والوں پر فضیلت دی ہے۔ (النساء : 95) 4۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اللہ کی رحمت کے امید وار ہیں۔ (البقرۃ : 218) 5۔ اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے لیے اچھائیاں اور کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 88) 6۔ اللہ نے مجاہدین کے ساتھ بلند درجات کا وعدہ فرمایا ہے۔ (النساء : 96) 7۔ ایمان لانے والوں، ہجرت کرنے والوں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور رزق کریم ہے۔ (الانفال : 74)
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

”(وہ مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ایمان والوں کو خوش خبری دیجیے۔ “ (112)

فہم القرآن ربط کلام : مجاہد صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے مرنے والے ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ ان اوصاف حمیدہ کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ یہاں مجاہدوں اور مومنوں کی نو صفات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں پہلی اور بنیادی صفت کفرو شرک اور گناہوں سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنا ہے۔ 1۔ اَلتَّآءِبُوْنَ : توبہ کرنے والے کافر اور مشرک کے لیے پہلا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے کفرو شرک سے سچی توبہ کرے اور حلقہ اسلام میں داخل ہوجائے۔ اسلام میں توبہ کا مرتبہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہوں کو بیک جنبش قلم معاف کردیا جاتا ہے وہ اپنے رب کے ہاں اس طرح ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ توبہ کرنے سے انسان کے نہ صرف گناہ معاف ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے توبہ کی بنیادی شرائط یہ ہیں : 1۔ سابقہ گناہ پر شرمسار ہو کر معافی مانگنا۔ 2۔ آئندہ کے لیے گناہ سے بچنے کا عزم بالجزم کرنا۔ 3۔ اپنی اصلاح کرنا۔ (عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ التَّآءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لاَّ ذَنْبَ لَہُ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ ] ” حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا گناہوں سے توبہ کرنے والا اس طرح پاک ہوجاتا ہے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ “ 2۔ اَلْعَابِدُوْنَ : عبادت کرنے والے عبادت کی تین قسمیں ہیں جن کا اقرار ہر نمازی تشہد میں کرتا ہے۔ 1۔ التَّحِیَّاتُ : دعا کرنا اور زبان سے ذکر و اذکار کرنا 2۔ وَالصَّلَواتُ : نماز میں آدمی چار حالتیں اختیار کرتا ہے۔ قیام، رکوع، سجدہ اور تشہد۔ ان میں سے کوئی ایک طریقہ بھی کسی بزرگ یا قبر کے سامنے اختیار کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک اور اس کی خالص عبادت کرنے سے انکار کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے عبادت اور ثواب سمجھ کر یہ آداب بجا لانا حرام ہیں۔ 3۔ والطَّیِّبَاتُ : مالی عبادت۔ یہ بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے اسی بناء پر غیر اللہ کے لیے نذرانہ پیش کرنا، بتوں یاقبروں پر چڑھاوے چڑھانا یا کوئی چیزنذرانہ کرنا۔ کلی طور پر ناجائز اور حرام ہے نبی اکرم ﷺ نے اس سے یہاں تک بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔” حضرت ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ ” بوانہ “ مقام پر اونٹ ذبح کرے گا۔ سرور دو عالم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو ؟ اس نے نفی میں جواب دیا۔ سرور کائنات نے استفسار فرمایا : بھلا وہاں جاہلیت کے میلوں میں سے کوئی میلہ لگتا تھا ؟ اس نے عرض کی کہ نہیں۔ حبیب کبریا ﷺ نے فرمایا پھر تجھے نذر پوری کرنا چاہے۔ اس نذر کو پورا نہ کیا جائے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو اور نہ جس کو انسان پورا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ “ [ رواہ ابو داؤد ] 3۔ الْحَامِدُوْنَ : حمد کرنے والے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے۔ قرآن مجید نے ہمیں یہ حقیقت بتلائی ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمدو ستائش بیان کرنے میں لگی ہوئی ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ” تسبیح بیان کرتے ہیں اسی کی ساتوں آسمان اور زمین اور جو چیزان میں ہے۔ اور (اس کائنات میں) کوئی بھی ایسی چیز نہیں مگر وہ اس کی تسبیح اور حمد بیان کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ بیشک اللہ بہت بردبار، بہت بخشنے والا ہے۔ “ بنی اسرائیل : 44 (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَال النَّبِیُّ ﷺ کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمَنِ ، خَفِیْفَتَانِ عَلَیْ اللِّسَانِِ ، ثَقِیْلَتَانِ فِیْ الْمِیْزَانِ سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ ) [ رواہ البخاری : کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ونضع الموازین القسط ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دو کلمے رحمٰن کو بڑے پسند ہیں، زبان سے ادا کرنے میں آسان اور وزن کے لحاظ سے بھاری ہیں۔ ” سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ ، سُبْحَان اللّٰہِ العَظِیْم۔ “ 4۔ اَلسَّاءِحُوْنَ : روزے دار روزہ وہ عمل ہے جس کے بارے میں رسول محترم کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے سب کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ جہاں تک نفلی روزے کا تعلق ہے اس کا اجروثواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ روزے دار جہنم سے کوسوں میل دور کردیا جاتا ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی معظم ﷺ نے فرمایا آدم کے بیٹے کو تمام نیک اعمال کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک دیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے روزہ کے سوا کیونکہ روزہ میرے ٍ لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میری خوشنودی کے ٍ لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی جب وہ روزہ افطار کرتا ہے . دوسری خوشی جب اس کی ملاقات اپنے رب سے ہوگی۔ روزے دار کے منہ کی بو، اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے۔ روزہ ڈھال ہے جب تم روزہ رکھو تو فحش کلامی سے احتراز اور جھگڑے سے اجتناب کرو۔ اگر کوئی شخص روزہ دار کو گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو روزے دار کو کہنا چاہیے میں روزہ دار ہوں۔ “ راوہ البخاری : باب ھل یقول انی صا ئم (تفصیل کے لیے میری کتاب برکات رمضان کا مطالعہ فرمائیں۔ ) 5۔ اَلرَّاکِعُوْنَ : رکوع کرنے والے نماز میں رکوع خاص اہمیت کا حامل رکن ہے اس کے بغیر رکعت مکمل نہیں ہوتی اگر رکعت میں رکوع رہ جائے تو رکعت لوٹانا پڑے گی یہودیوں نے اپنی نماز میں رکوع کو خارج کردیا تھا جس وجہ سے قرآن مجید میں بالخصوص رکوع کی فضیلت و فرضیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ 6۔ اَلسَّاجِدُوْنَ : سجدہ کرنے والے سجدہ مومن کے لیے سکون کا خزینہ اور اس کے رب کی قربت کا آخری زینہ ہے۔ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنا حرام اور شرک ہے۔ خواہ سجدہ کسی کی تعظیم کے لیے کیا جائے اور اس میں کوئی تسبیح نہ پڑھی جائے۔ (عَنْ مَّعْدَانَ ابْنِ طَلْحَۃَ ؓ قَالَ لَقِےْتُ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَقُلْتُ اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ اَعْمَلُہُ ےُدْخِلُنِیَ اللّٰہُ بِہِ الْجَنَّۃَ فَسَکَتَ ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ عَلَےْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ لِلّٰہِ فَاِنَّکَ لَا تَسْجُدُ لِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَکَ اللّٰہُ بِھَا دَرَجَۃً وَّحَطَّ عَنْکَ بِھِمَا خَطِےْءَۃً قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِےْتُ اَبَا الدَّرْدَآءِ فَسَاَلْتُہُ فَقَالَ لِیْ مِثْلَ مَا قَالَ لِیْ ثَوْبَانُ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ ] ” حضرت معدان بن طلحہ ؓ کہتے ہیں میں نے نبی محترم ﷺ کے غلام حضرت ثوبان ؓ سے عرض کی کہ مجھے ایسا عمل بتلائیے جس سے مجھے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمادیں۔ وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے پھر سوال کیا تب بھی آپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ تیسری دفعہ میرے عرض کرنے پر فرمایا کہ میں نے یہی سوال رسول محترم ﷺ سے عرض کیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا ثوبان تجھے کثرت کے ساتھ اللہ کے حضور سجدے کرنے چاہئیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سجدے کرے گا تو اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند اور تیرے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ جناب معدان ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ابودرداء ؓ سے ملاقات کی اور ان سے یہی سوال عرض کیا اور انہوں نے بھی مجھے وہی جواب عنایت فرمایا جو حضرت ثوبان ؓ نے دیا تھا۔ “ 7، 8۔ امر بالمعروف و نھی عن المنکر : امت محمدیہ کے وجود کی اہمیت و ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید نے متعدد مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ اے مسلمانو ! اللہ نے تمہیں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے لیے بنایا ہے جس کا جامع مفہوم یہ ہے کہ نیکی پر عمل پیرا ہونا اور دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنا، برائی سے بچنا اور دوسروں کو برائی سے بچنے کا حکم دینا۔ امر بالمعروف طاقت اور قوت کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کام کو اجتماعی طور پر کرنے سے صحیح نتائج حاصل ہوتے ہیں اس لیے یہ کام حکومت وقت کا فریضہ قرار پایا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنْ رَّسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ رَّاٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ، فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ، وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان ] ” حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی محترم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا، تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکے۔ اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر کم از کم دل سے نفرت کرے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ “ 9۔ اَلْحَافِظُوْنَ : حفاظت کرنے والے مومنوں اور مجاہدوں کی یہاں آخری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں انفرادی طور پر وہ حدود اللہ کے قریب بھی نہیں پھٹکتے کہ کہیں ان سے حدود اللہ کی خلاف ورزی نہ ہوجائے اور اجتماعی طور پر مسلمان حدود اللہ کا نفاذ کرتے ہیں۔ حدود اللہ سے مراد شریعت کے وہ قانون اور ضابطے ہیں جن کی حفاظت کا مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر حکم دیا گیا ہے۔ (عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَا مِنْ نَّبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّتِہٖ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ فِیْ اُمَّتِہٖ حَوَارِیُّوْنَ وَاَصْحٰبٌ یَّأْخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَےَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ یَّقُوْلُوْنَ مَالَا ےَفْعَلُوْنَ وَےَفْعَلُوْنَ مَا لَا ےُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِےَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَّمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَےْسَ وَرَآءَ ذَالِکَ مِنَ الْاِےْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب کون النھی عن المنکر من الایمان ] ” حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیاء بھیجے ان کی امت میں ان کے خاص مددگار ہوا کرتے تھے۔ جو اس نبی کے طریقے پر گامزن رہتے اور اس کا حکم مانتے اور پھر ان کے بعد نالائق لوگ آئے وہ جو کچھ کہتے تھے اس پر خود عمل نہیں کرتے تھے بلکہ ایسے کام کرتے جن کی انہیں اجازت نہیں تھی جس نے ایسے لوگوں کو ہاتھ سے روکا وہ مومن ہے اور ان کو زبان سے روکنے والا ایمان دار ہوگا حتی کہ ان کو دل سے برا جاننے والا بھی مومن ہے۔ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ “ (عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَہُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَایَعْلَمُھُنَّ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اِتَّقٰی الشُّبُھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہِ وَعِرْضِہِ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُھَاتِ وَقَعَ فِی الحَرَامِ کَالرَّاعِی یَرْعٰی حَوْلَ الحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یَرْتَعَ فِیْہِ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمَی اَلَا وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ مَحَارِمُہُ اَلَا وَاِنَّ فِیْ الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ اَلاَ وَہِیَ الْقَلْبُ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ] ” حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا کہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے جو ان مشتبہات سے بچا رہا۔ اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچالیا اور جو شخص مشتبہات میں پڑگیا وہ حرام کا مرتکب ہوا۔ اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی محفوظ چراگاہ کے اردگرد اپنے جانور چراتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ اس چراگاہ میں چرنے لگیں۔ سنو ! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کی گئی چیزیں ہیں۔ خبردار ! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب تک وہ درست ہوگا تمام جسم درست رہے گا۔ جب اس میں خرابی واقع ہوگی تو سارا جسم فساد زدہ ہوجائے گا۔ سنو ! وہ لوتھڑا دل ہے۔ “ (عَنِ ابِنْ عُمَرَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِنْ حُدُود اللَّہِ خَیْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فِی بلاَدِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ )[ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الحدود، باب اقامۃ الحدود ] ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کو قائم کرنا زمین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے چالیس راتیں بارش نازل کرنے سے بہتر ہے۔ “ مسائل 1۔ ایمان کے تقاضے پورے کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے۔ 2۔ مومن ہر قسم کے گناہ سے توبہ کرتے ہیں۔ 3۔ مومن اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ 4۔ مومن اللہ کی حمدو ثنا بیان کرتے ہیں۔ 5۔ مومن روزے رکھتے ہیں۔ 6۔ مومن اللہ کے حضور رکوع کرتے ہیں۔ 7۔ مومن اپنے رب کی بارگاہ میں سجدے کرتے ہیں۔ 8۔ مومن نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ 9۔ مومن اللہ تعالیٰ کی حدود وقیود کی حفاظت کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن متقین کے چند اوصاف : 1۔ توبہ کرنا، عبادت کرنا، حمد کرنا، روزے رکھنا، رکوع و سجود کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا۔ (التوبۃ : 112) 2۔ اللہ، آخرت کے دن، فرشتوں، کتابوں اور انبیاء پر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ کی محبت کے لیے یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور گردنوں کے آزاد کرانے کے لیے مال خرچ کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ وعدے کی پاسداری کرتے، تنگی، بیماری اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی اپنے ایمان میں سچے اور یہی متقین ہیں۔ (البقرۃ : 177) 3۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا، اللہ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرنا، قرآن مجید اور سابقہ کتب سماویہ پر ایمان لانا اور آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ : 3۔ 4) 4۔ متقین تنگی اور فراخی میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پی جاتے اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ (آل عمران : 134) 5۔ یقینا ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ (المو منون : 1) 6۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔ (المومنون : 2)
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

” نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں جائز نہیں اس کے بعد کہ ان پر واضح ہوگیا کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ رشتہ دار ہوں، بلاشبہ وہ جہنمی ہیں۔ “ (113)

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کی صفات بیان کرنے سے پہلے جہاد و قتال کے ذکر کے دوران فرمایا تھا کہ مومنوں سے ان کی جان و مال کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جب مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے خلاف جہاد کرنے کا حکم ہے تو پھر مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا کیا معنی ؟ اسی سورة کی آیت 80 میں منافقین کے حق میں استغفار سے منع کیا گیا ہے اور اب مشرکین کے حق میں استغفار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبوت کے آٹھویں سال جناب ابو طالب شدید بیمار ہوئے اور ان کے جانبر ہونے کی کوئی امید باقی نہ رہی۔ نزع کے وقت رسول کریم ﷺ اپنے چچا ابو طالب کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے آپ کو احساس ہوا کہ چچا کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ جب آپ ان کے سرہانے کے قریب خالی جگہ پر بیٹھنے لگے تو ابو جہل جو اپنے ساتھیوں سمیت جناب ابو طالب کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ رسول محترم کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کر ابو طالب کے قریب خالی جگہ پر جا بیٹھا تاکہ نبی اکرم ﷺ اپنے چچا سے کوئی خاص بات نہ کرسکیں۔ اس صورت حال میں نبی اکرم ﷺ نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر اپنے محسن چچا کو مخاطب فرماتے ہوئے توجہ دلائی کہ چچا اگر اب بھی آپ میرا کلمہ طیبہ پڑھ لیں تو میں قیامت کے روز اللہ کے حضور آپ کی سفارش کروں گا۔ قریب تھا کہ جناب ابو طالب کلمہ شہادت پڑھ لیتے مگر ابوجہل اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے اسے غیرت دلانے کے انداز میں کہا کیا آپ آخری وقت باپ دادا کے دین سے منحرف ہوجائیں گے ؟ جناب ابو طالب نے نہایت نحیف آواز میں کہا کہ نہیں میں اپنے باپ دادا کے عقیدہ پر مرنا پسند کرتا ہوں۔ انہی الفاظ کے ساتھ ان کی روح پرواز کرگئی۔ اس پر رسول محترم نہایت رنجیدہ خاطر ہو کر اپنے گھر تشریف لائے۔ آپ کو اس حالت میں چچا کے مرنے کا انتہائی صدمہ ہوا بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی طرف سے اپنے چچا سے وعدہ کیا تھا کہ میں بہرحال آپ کے لیے استغفار کی دعا کروں گا۔ اس پس منظر میں یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی اور آپ کے ساتھیوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کریں بیشک مشرک ان کے کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔ مشرکوں کے لیے ابدی جہنم ہے شرک اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں غیروں کو شریک کرنے کا نام ہے۔ یہ جرم اللہ تعالیٰ سے غداری کے مترادف ہے غدّار کو کوئی بھی معاف نہیں کیا کرتا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَھْوَنُ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا اَبُوْطَالِبٍ وَھُوَمُتَنَعِّلٌ بِنَعْلَیْنِِِِ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب أھون أھل النار عذابا ] ” حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا، دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوئے ہوگا جس کی وجہ سے اس کا دماغ ابل رہا ہوگا۔ “ مسائل 1۔ نبی اکرم ﷺ کو مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی اجازت نہ تھی۔ 2۔ کسی مسلمان کی شان نہیں کہ وہ مشرک کے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ 3۔ ایمان کے مقابلہ میں رشتہ داری کی کوئی حیثیت نہیں۔ 4۔ مشرک یقیناً جہنمی ہے۔ تفسیر بالقرآن مشرک اور منافق کے لیے دعائے مغفرت کرنے کی ممانعت : 1۔ نبی اور مومنین کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ (التوبۃ : 113) 2۔ آپ منافقین کے لیے بخشش طلب کریں یا نہ کریں اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ (المنافقون : 6) 3۔ آپ منافق کے لیے ستر بار بھی مغفرت طلب کریں اللہ اسے نہیں بخشے گا۔ (التوبۃ : 80) 4۔ منافقین میں سے جو مرے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں اور نہ ہی آپ ان کی قبر پر کھڑے ہوں۔ (التوبۃ : 84) 5۔ ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا وعدے کی بنیاد پہ کی تھی۔ جب ان کے لیے واضح ہوگیا کہ وہ جہنمی ہے تو انہوں نے برأت کا اظہار کردیا۔ (التوبۃ : 114)
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

” اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش طلب کرنا صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کرچکے تھے پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بیشک ابراہیم بہت آہ زاری کرنے والے اور حوصلہ مند تھے۔ “ (114)

فہم القرآن ربط کلام : مشرک کے حق میں دعا نہ کرنے کی ٹھوس دلیل اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک بات کی وضاحت۔ یہودو نصارٰی اور عربوں میں یہ بات معروف تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد دین حنیف پر نہیں تھے اس کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے استغفار کی دعا کی تھی۔ جس کی اس طرح وضاحت کی جارہی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اس کے حق میں استغفار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی خیر خواہ، نرم خو اور مہربان طبیعت کے مالک اور بڑے حوصلہ مند، حلیم الطبع تھے۔ جس بنا پر انھوں نے اپنے باپ کی زیادتیوں کے باوجود از راہ ہمدردی اور پدرانہ آداب کے تحت وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کے لیے دعائے مغفرت کروں گا۔ قرآن مجید اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) پر واضح ہوگیا کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے سورة الممتحنہ آیت 4 میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ لوگو ! تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) بہترین نمونہ ہیں لیکن ان کا اپنے باپ کے ساتھ استغفار کرنے کا وعدہ کرنا تمہارے لیے دلیل اور نمونہ نہیں ہوسکتا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو عدواً للہ قرار دیا گیا ہے جس کا صاف معنیٰ ہے کہ مشرک اللہ کا دشمن ہوتا ہے اور کسی مومن کا یہ عقیدہ اور اس کی غیرت یہ گوارا نہیں کرسکتی کہ وہ اللہ کے دشمن کی سفارش اللہ کے سامنے پیش کرے یہ عقل حیا اور دینی غیرت کے منافی بات ہے اس لیے نبی آخر الزمان ﷺ اور تمام مسلمانوں کو مشرک کے حق میں استغفار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا انجام : (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ یَلْقٰی اِبْرَاھِیْمُ اَبَاہُ اٰزَرَ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ وَعَلٰی وَجْہِ اٰزَرَ قَتَرَۃٌ وَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ اِ بْرَاھِیْمُ اَلَمْ اَقُلْ لَّکَ لَاتَعْصِنِیْ فَیَقُوْلُ لَہٗ اَبُوْہُ اَ لْیَوْ مَ لَا اَعْصِیْکَ فَیَقُوْلُ اِبْرَاھِیْمُ یَارَبِّ اِنَّکَ وَعَدْتَّنِیْ اَنْ لَّا تُخْزِیَنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ فَاَیُّ خِزْیٍ اَخْزٰی مِنْ اَبِیْ الْاَبْعَدِ فَََیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِنِّی حَرَّمْتُ الْجَنَّۃَ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ثُمَّ یُقَالُ لِاِبْرَاھِیْمَ اُنْظُرْ مَا تَحْتَ رِجْلَیْکَ فَیَنْظُرُ فَاِذَاھُوَ بِذِیْخٍ مُتَلَطِّخٍٍ فَیُؤْخَذُبِقَوَاءِمِہٖ فَیُلْقٰی فِیْ النَّارِ ) [ رواہ البخاری : باب قول اللہ (واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد آزر سے ملیں گے اس کے چہرے پر سیاہی اور گردو غبار ہوگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے فرمائیں گے۔ کیا میں نے تمہیں دنیا میں نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا ؟ ان کے والد جواب دیں گے آج کے دن میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس پر ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کے حضور عرض کریں گے اے میرے پروردگار ! بیشک آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ حشر کے دن آپ مجھ کو رسوا نہیں کریں گے اب اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہوسکتی ہے کہ میرا باپ ذلیل ہواجا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ‘ بلا شبہ میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے پھر ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا جائے گا اپنے قدموں کی طرف دیکھو۔ وہ دیکھیں گے تو آپ کا باپ گندگی میں لتھڑا ہوا بجو ہوگا ‘ جس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ “ مسائل 1۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وعدہ کی بنیاد پر اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی۔ 2۔ مشرک اللہ کا دشمن ہوتا ہے۔ 3۔ عقیدہ توحید کے ساتھ دشمنی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے براءت کا اعلان کیا۔ 4۔ حضرت ابراہیم نہایت نرم دل انسان تھے۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : 1۔ ابراہیم نرم دل اور بردبار تھے۔ (التوبۃ : 114) 2۔ ابراہیم نہایت راست باز نبی تھے۔ (مریم : 41) 3۔ بیشک ابراہیم بڑے حلیم، بڑے خیر خواہ اور نرم دل تھے۔ (ہود : 75) 4۔ ابراہیم ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ (الصٰفت : 111) 5۔ ابراہیم معبودان باطل کے انکاری اور براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : 4) 6۔ ابراہیم کو اللہ نے ابتداء سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا۔ (الانبیاء : 51)