Ayah 9:31فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے ساتھ اس لیے قتال کرنا ہے کیونکہ وہ واضح طور پر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں۔ یہودیوں نے اپنی جہالت کی بناء پر یہ عقیدہ بنایا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں جس کے دو سبب مفسرین بیان کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بعد یہودیوں پر بخت نصر نے حملہ کیا اور اس نے تورات کلی طور پر ختم کرنے کا حکم دیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ تورات دنیا میں بالکل ناپید ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے دین موسوی کی تجدید کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جنھوں نے وحی الہی کی روشنی میں تورات کو دوبارہ لکھوایا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عزیز (علیہ السلام) سو سال تک فوت رہے پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں زندہ فرمایا جب وہ اٹھے تو ان کے سامنے ان کے گدھے کو زندہ کیا اور جو کھانا حضرت عزیر کے ساتھ تھا وہ سو سال گزرنے کے باوجود اسی طرح ترو تازہ رہا جس کی تفصیل سورة البقرۃ : آیت 260 میں بیان کی گئی ہے اس معجزہ کی بناء پر یہودیوں نے عقیدتاً حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا اور ان کی دیکھا دیکھی عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور حضرت مریم [ کو اللہ کی بیوی قرار دیا جس کی تردید سورة المائدۃ : آیت 75 میں کی گئی ہے۔ گویا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے انبیاء کے معجزات دیکھ کر انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ یہ محض ان کی اعتقادی موشگافیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں غارت کرے۔ یہ کن ٹامک ٹوئیوں میں بھٹکے جا رہے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے راستے پر چل پڑے تو اس کی کوئی انتہا نہیں رہتی یہی کیفیت یہود و نصاریٰ کی تھی اور ہے کہ انھوں نے اپنے علماء، درویشوں اور بزرگوں کو رب کا درجہ دے دیا تھا بالخصوص عیسائیوں نے مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو خدائی مقام پر پہنچا یا حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ خالص ایک اللہ کی عبادت کریں جسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو اپنی ذات اور صفات کے لحاظ سے یکتا ہے اور وہ مبرا اور پاک ہے ان سے جن کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ عدی بن حاتم طائی جب مسلمان ہوئے تو انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے اس آیت کی تلاوت کرکے عرض کی اے اللہ کے رسول ! اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں نے اپنے علماء اور صلحاء کو رب بنا لیا ہے ہم نے تو کبھی انھیں رب نہیں بنایا۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
(قَالَ أَمَا إِنَّہُمْ لَمْ یَکُونُوا یَعْبُدُونَہُمْ وَلَکِنَّہُمْ کَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَہُمْ شَیْءًا اسْتَحَلُّوہُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَیْہِمْ شَیْءًا حَرَّمُوہُ )[ رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ، باب من سورة التوبۃ ]
” آپ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے لیکن جب کسی چیز کو ان کے لیے حلال کہتے تو وہ اس کو حلال گردانتے اور جب ان کے لیے حرام کہتے تو وہ اس کو حرام سمجھتے تھے۔ “
امام رازی اپنے استاد کے حوالے سے کہتے ہیں کہ میری نظر سے ایسے مقلدین گزرے ہیں جن کے سامنے ان کے مسلک کے خلاف قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں گئیں۔ تو انھوں نے ان کی طرف التفات نہ کیا الٹے حیرت سے میری طرف دیکھتے رہے کہ ان کے مسلک کے خلاف یہ کیسی آیات ہیں۔
مسائل
1۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
2۔ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا ہے۔
3۔ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔
4۔ مشرک اپنے عقیدہ کے بارے میں بلا دلیل بحث و مباحثہ کرتا ہے۔
5۔ شرک کرنے والا گمراہ ہوتا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے۔
6۔ علماء اور صلحاء کو خدائی درجہ نہیں دینا چاہیے۔
7۔ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے اور وہ مشرکوں کے شرک سے مبرا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ لوگوں کے بنائے ہوئے شریکوں سے پاک ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس چیز سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : 3)
2۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : 1)
3۔ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النمل : 63)
4۔ اللہ پیدا کرتا ہے اور مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (القصص : 68)
5۔ قیامت کے دن آسمانوں کو اللہ اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ( الزمر : 67)
6۔ کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے۔ اللہ پاک ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (الطور : 43)
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ7۔ انہوں نے کہا اللہ کی اولاد ہے اللہ اولاد سے پاک ہے بلکہ آسمان و زمین کی ہر چیز اسکے قبضہ قدرت میں ہے۔
(البقرۃ : 116)
8۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کا اسے علم نہیں ہے اللہ پاک ہے اور مشرکوں کے شرک سے بلند و
بالا ہے۔ (یونس : 18)
9۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں ہے اور شراکت داری سے پاک ہے۔ (مریم : 35)
Ayahs 9:32–33فہم القرآن
ربط کلام : دین حق کے خلاف مشرکین کی مذموم کوششیں۔
مشرکین توحید کا نوربجھانا اور قرآن کی روشنی کو مٹانا چاہتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اسے مکمل فرماکر قیامت تک غالب رکھے۔ کفار، مشرکین اور اہل کتاب پہلے دن سے ہی اس کوشش میں ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا۔ بیشک یہ کفار اور مشرکوں کے لیے کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ اس نے تو اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ دین اسلام تمام باطل ادیان پر غالب آجائے خواہ مشرکوں اور کفار کے لیے یہ بات کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ نور سے پہلی مراد اللہ کی توحید اور دوسری مراد قرآن مجید کی تعلیم اور رہنمائی ہے کیونکہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے نور قرار دیا ہے۔ (البقرہ : 257) میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ ایمانداروں کا خیر خواہ اور دوست ہے وہ انھیں ہر قسم کے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کفار کے دوست شیطان ہیں وہ ان کو نور سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں اس آیت سے پہلے آیۃ الکرسی اور دین کا تذکرہ ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کو کھول کر بیان کرتے ہوئے اسے دین اور ہدایت قرار دیا ہے سورة المائدۃ میں قرآن مجید کو نور اور روشن کتاب قرار دیا گیا ہے۔ کافر چاہتے ہیں کہ اللہ کی توحید کے چراغ اور قرآن مجید کی تعلیمات اور روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں پھونکوں کا لفظ لا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جس طرح سورج کی روشنی اور چاند کی ضیاء پاشیوں کو پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا۔ توحید اور اللہ کے دین کی روشنی سورج اور چاند کی روشنی سے کہیں بڑھ کر ہے جس طرح سورج اور چاند کی طرف منہ کرکے تھوکنے اور پھونکنے والا پاگل پن کا مظاہرہ کرتا ہے، کفار، مشرکین اور اہل کتاب کی کوششیں بھی ان کے اخلاقی دیوالیہ پن کا مظہر ہیں۔ سورة الاحزاب : آیت 46 اور 47 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی دعوت اور ذات کو چمکتے ہوئے سورج سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں انھیں اللہ کے بڑے فضل کی خوشخبری دیجیے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ تمام باطل ادیان پر دین اسلام کو غالب کردے ہدایت سے مراد وہ رہنمائی اور طریقہ ہے جس کی روشنی میں اللہ کے رسول ﷺ نے دین کا ابلاغ اور نفاذ فرمایا یہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے کیونکہ کوئی دین اور قانون کتنا ہی مفصل کیوں نہ ہو اس کے سمجھنے اور نفاذ کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے یہاں بالہدیٰ کا لفظ استعمال فرما کر واضح کردیا ہے کہ جس رب نے یہ دین نازل فرمایا ہے اسی نے ہی اپنے نبی ﷺ کی رہنمائی کا بندوبست کیا تاکہ اس کی منشا کے مطابق دین کی تشریح اور اس کا نفاذ کرے۔
” لِیُظْہِرَہٗ “ کا معنی ہے زبردست کشمکش جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دین آسانی کے ساتھ نافذ نہیں ہوگا جب تک کفار، مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ زبردست کشمکش اور معرکہ آرائی نہ ہوجائے چناچہ یہی کچھ ہوا کہ اس دین کے ابلاغ اور نفاذ کے لیے کئی معرکے برپا ہوئے اور نہ معلوم قیامت تک کتنے معرکے پیش آئیں گے۔ دین کے غلبہ سے پہلی مراد اس کا دلائل اور براہین کے ساتھ باطل نظریات اور ادیان پر غالب رہنا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ دین اپنی سچائی اور دلائل کے زور پر باطل ادیان پر غالب رہا اور رہے گا۔ جہاں تک اس کے سیاسی غلبے اور نفاذکا تعلق ہے اس کا دارومدار مسلمانوں کے اخلاص اور کردار پر ہے۔ جب مسلمان جان، مال کا ایثار کرکے دین کو غالب کرنا چاہیں گے تو یقیناً دین سیاسی طور پر بھی غالب رہے گا جس طرح کہ تقریباً ایک ہزار سال تک اس کا غلبہ رہا ہے اور قرب قیامت ایک دفعہ پھر اس کے غلبے کا دور آئے گا بیشک یہ بات کفار اور مشرکین کے لیے کتنی ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔ ان آیات سے پہلے اور بعد میں اہل کتاب کا ذکر ہے۔ لیکن درمیان میں رسول کی بعثت اور دین کے غلبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کافر اور مشرک جتنا چاہیں زور لگالیں رسول ﷺ کا میاب ہوں گے اور دین غالب آکر رہے گا۔
کفار اور مشرکین کے الفاظ استعمال فرما کر واضح کیا ہے کہ اہل کتاب کا کردار کفار اور مشرکین جیسا ہوچکا ہے۔
(عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ وَلَا یَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہٗ اللّٰہُ ہَذَا الدِّینَ بِعِزِّ عَزِیزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیلٍ عِزًّا یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ ) [ رواہ أحمد ]
” حضرت تمیم داری ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول معظم ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک دن رات کا سلسلہ جاری ہے اللہ تعالیٰ ہر کچے پکے مکان میں اس کو داخل کر دے گا۔ معزز کو عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلیل کرے گا۔ معزز کو اللہ تعالیٰ دین اسلام کے ساتھ عزت دے گا اور ذلیل کو مزید ذلت کفر سے ملے گی۔ “
(عَنْ أبی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکَنَّ أَنْ یَنْزِلَ فیکُمْ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیَکْسِرَ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلَ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ أَحَدٌ حَتّٰی تَکُون السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِنْ الدُّنْیَا وَمَا فیہَا) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! عنقریب تم میں عیسیٰ ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت میں آئیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے اور جزیہ ختم کریں گے مال و دولت کی اس قدر بہتات ہوگی کوئی اس کو لینے والا نہ ہوگا یہاں تک کہ ایک سجدہ کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ “
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ الْمَہْدِیُّ مِنِّی أَجْلَی الْجَبْہَۃِ أَقْنَی الْأَنْفِ یَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا کَمَا مُلِءَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا یَمْلِکُ سَبْعَ سِنِینَ ) [ رواہ ابو داؤد : کتاب المہدی ]
” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا مہدی میری اولاد سے ہوگا کشادہ پیشانی، اونچی ناک والا جو عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا جیسے وہ ظلم وستم سے بھری تھی اور وہ سات برس تک حکمران رہے گا۔ “
مسائل
1۔ کفار ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمن رہے ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اسلام کو پوری دنیا پر غالب کرے گا۔
3۔ مشرکین کی مخالفت اس دین کو غالب آنے سے نہیں روک سکے گی۔
تفسیر بالقرآن
” اللہ “ کا دین غالب آکر رہے گا :
1۔ وہ ذات جس نے رسولوں کو مبعوث کیا تاکہ دین اسلام تمام ادیان پر غالب آجائے۔ (الفتح : 28)
2۔ ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے اور خالصتادین اللہ کے لیے ہوجائے۔ (البقرۃ : 193)
Ayahs 9:34–35فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب نے اپنے علماء اور صلحاء کو خدائی کا درجہ دیا ہوا تھا ان صلحاء اور علماء نے اپنی مسند کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنالیا اس طرح دین کے داعی ہی دین کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوئے۔ ایسے پادری، درویش اور علماء ہمیشہ دین اسلام کے مخالف رہے ہیں اور ہر زمانے میں رہیں گے۔
یہودیوں کے علماء کا مدینہ، خیبر اور ان کے گرد و نواح پر اور پادریوں کا روم شام وغیرہ پر مذہبی تسلط تھا۔ عوام علماء اور صلحاء کے ظاہری رکھ رکھاؤ اور تقدس سے بڑے مرعوب تھے جس وجہ سے لوگ سمجھتے تھے کہ اگر اتنے بڑے صلحاء، بڑے بڑے مربی اور پوپ، پادری، نامور علماء اسلام قبول نہیں کر رہے تو کوئی ایسی بات ہے جو اسلام کے بارے میں ان کی نفرت کا سبب ہے۔ اس تسلط کو توڑنے اور لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ایمانداروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے صاحب ایمان لوگو ! یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء اور صلحاء سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کی اکثریت دین کے پردے میں لوگوں سے ناجائز طریقے سے مال بٹورنے اور جمع کرنے کے ساتھ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہودیوں کے علماء اور عیسائیوں کے صلحا کے مال جمع کرنے کے کئی طریقے تھے۔
1۔ فتویٰ فروشی۔
2۔ حکام اور امراء کا تقرب حاصل کرکے مفادات اٹھانا۔
3۔ سرکاری مناصب پر فائز ہو کر مراعات حاصل کرنا۔
4۔ مذہبی بحث چھڑ جانے کی صورت میں کسی کے غلط مؤقف کی ناجائز تائید کرکے شہرت حاصل کرنا۔
5۔ دولت اور شہرت کی خاطر خود کو بدلنے کے بجائے تورات اور انجیل میں تبدیلیاں کرنا۔
6۔ معاشرے کے مؤثر اور بڑے لوگوں کو شرعی سزا سے بچانے کے لیے دین کی غلط تاویلات کرنا۔
7۔ دین کو صرف ملازمت کے طور پر اختیار کرنا۔
8۔ سیاسی برتری اور لیڈری کے شوق میں فرقہ پرستی کو ہوا دینا۔
بظاہر تو ان علماء اور صلحاء کا اوڑھنا بچھونا، رہنا سہنا، گفتار اور کردار دین ہی کی ترجمانی کرتا تھا لیکن حقیقت میں ظاہری لبادہ کے سوا کچھ نہیں تھا اس طرح ان لوگوں نے بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں اور سرمایہ جمع کیا جس پر انھیں وعید سنائی جا رہی ہے کہ جس سونا اور چاندی کو انفاق فی سبیل اللہ کی بجائے اکٹھا کر رہے ہو۔ اس کو قیامت کے دن جہنم کی آگ میں تپاکر تمہاری جبینوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا اور جہنم کے ملائکہ سزا دیتے ہوئے کہیں گے یہ وہی مال ہے جس کو تم اپنے لیے جمع کرتے تھے لہٰذا آج اس کا ذائقہ چکھتے رہو اور تمہیں مزید عذاب کی خوشخبری بھی دی جاتی ہے۔ ناجائز مال پر خوش ہونے کی بجائے تمہیں آخرت کے بارے میں فکر کرنی چاہیے تھی۔ یہاں یہودیوں کے علماء اور عیسائیوں کے صلحاء کے گھناؤنے کردار کا ذکر کرنے کے بعد عام اصول یہ بیان کیا ہے کہ مال جمع کرنے کی بجائے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ سونا اور چاندی کا اس لیے خصوصی ذکر کیا کہ ہمیشہ دنیا کے مال و اسباب میں یہ سرفہرست رہے ہیں۔
سابقہ دور میں سونا یا چاندی کو کرنسی کے لیے معیار ٹھہرایا گیا ہے۔ پہلے دور میں کاغذ کے نوٹوں کی بجائے چاندی، سونے کے سکے ہوتے تھے۔ یاد رہے حبر کی جمع احبار اور راہب کی جمع رہبان ہے۔
کنز کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کا اجتماعی موقف ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ دی جائے وہ کنز میں شمار نہیں ہوگا۔
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی چاندی سونے کا مالک ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا مگر وہ قیامت کے دن ایسا ہوگا کہ اس چاندی، سونے کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ انھیں جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا، پھر مال دار کی پیشانی اور کروٹیں اس سے داغی جائیں گی اور اس کی پیٹھ۔ جب تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گی تو پھر گرم کی جائیں گی پچاس ہزار برس کے دن میں اس کو یہی عذاب ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے بارے میں جنت اور جہنم کا فیصلہ ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ اونٹوں کا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو اونٹ والا اپنے اونٹوں کا حق ادا نہیں کرتا اور اس کے حق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دودھ دو ہے جس دن کو پانی پلائے جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ برابر زمین پر اوندھا لیٹا یا جائے گا اور وہ اونٹ نہایت فربہ ہو کر آئیں گے ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے گا اور اس کو اپنے پاؤں سے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے جب ان میں پہلا روندتا ہوا چلا جائے گا پچھلا آجائے گا یوں ہی عذاب ہوتا رہے گا تمام دن جو پچاس ہزار برس کا ہوگا یہاں تک کہ فیصلہ ہوجائے لوگوں کا پس وہ دیکھے گا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف پھر عرض کی اے رسول اللہ ﷺ ! اور گائے بکری کا کیا حال ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی گائے بکری والا ایسا نہیں جو اس کی زکوٰۃ نہ دیتا ہو مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا ایک پٹ پر صاف زمین پر اور ان گائے بکریوں میں سب آئیں گی کوئی باقی نہ رہے گی اور ایسی ہوں گی کہ ان میں سینگ مڑی ہوئی نہ ہوں گی نہ بےسینگ کی نہ سینگ ٹوٹی اور آکر اس کو ماریں گی۔ اپنے سینگوں سے اور روندیں گی اپنے کھروں سے جب اگلی اس پر سے گزر جائے گی پچاس ہزار برس کے دن پھر یہاں تک کہ فیصلہ ہوجائے بندوں کا پھر اس کی راہ کی جائے جنت یا دوزخ کی طرف پھر عرض کی کہ اے رسول اللہ اور گھوڑے ؟ آپ نے فرمایا گھوڑے تین طرح پر ہیں ایک اپنے مالک پر بار ہے یعنی وبال ہے دوسرا اپنے مالک کا عیب ڈھانپنے والا ہے تیسرا اپنے مالک کا ثواب کا سامان ہے اب اس وبال والے گھوڑے کا حال سنو جو باندھا ہے اس لیے کہ لوگوں کو دکھلاوے اور لوگوں میں بڑ مارے اور مسلمانوں سے عداوت کرے سو یہ اپنے مالک کے حق میں وبال ہے اور وہ جو عیب ڈھانپنے والا ہے وہ گھوڑا ہے کہ اس کو اللہ کی راہ میں باندھا ہے (یعنی جہاد کے لیے) اور اس کی سواری میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ اس کے گھاس چارہ میں کمی کرتا ہے تو وہ اس کا عیب ڈھانپنے والا ہے اور جو ثواب کا سامان ہے اس کا کیا کہنا وہ گھوڑا ہے کہ باندھا اللہ کی راہ میں اہل اسلام کی مدد اور حمایت کے لیے کسی چراگاہ یا باغ میں پھر اس نے جو کھایا اس چراگاہ یا باغ سے اس کی گنتی کے موافق نیکیاں اس کے مالک کے لیے لکھی گئیں اور اس کی لید اور پیشاب تک نیکیوں میں لکھا گیا اور جب وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک دو ٹیلے پر چڑھ جاتا ہے تو اس کے قدموں اور اس کی لید کی گنتی کے موافق نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جب اس کا مالک کسی ندی پر لے جاتا ہے اور وہ گھوڑا اس میں سے پانی پی لیتا ہے اگرچہ مالک کا پلانے کا ارادہ بھی نہ تھا تب بھی اس کے لیے ان قطروں کے موافق نیکیاں لکھی جاتی ہیں جو اس نے پیے ہیں۔ پھر عرض کی کہ اے اللہ کے رسول گدھے کا حال فرمائیے آپ نے فرمایا گدھوں کے بارے میں میرے اوپر کوئی حکم نہیں اترا بجز اس آیت کے جو بےمثل اور جمع کرنے والی ہے۔ (فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہُ وَمَن یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہُ ) ۔ جس نے ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اسے دیکھے گا یعنی قیامت کے دن اور جس نے ذرہ برابر بدی کی وہ بھی اسے دیکھے گا۔ “
[ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ ]
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ آتَاہ اللّٰہُ مَالًا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہُ مُثِّلَ لَہٗ مَالُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَہٗ زَبِیبَتَانِ یُطَوَّقُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُ بِلِہْزِمَتَیْہِ یَعْنِی بِشِدْقَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا مَالُکَ أَنَا کَنْزُکَ ثُمَّ تَلَا لَا یَحْسِبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ ۔۔ الْآیَۃَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول مکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کو مال عنایت کرے وہ اس کی زکوٰ ۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی اس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے اسے مال دار کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا جو اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا میں تمہارا مال ہوں، میں تمہارا خزانہ ہوں، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لَا یَحْسِبَنَّ الَّذِینَ یَبْخَلُونَ الْآیَۃَ )
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا وَإِنَّ اللّٰہَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِینَ بِمَا أَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِینَ فَقَالَ یَا أَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنْ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صالِحًا إِنِّی بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیمٌ وَقَالَ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیل السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَا رَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنَّی یُسْتَجَابُ لِذَلِکَ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب ]
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک مال ہی قبول کرتا ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے جو کہ اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اے رسولو ! پاکیزہ مال سے کھاؤ اور نیک عمل کرو بلاشبہ جو تم کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اور یہی ارشاد ایمان والوں کے لیے ہے ! پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ جو میں نے تم کو عنایت کی ہیں۔ پھر ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا جو کہ دور دراز کا سفر کرتا ہے اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں وہ اپنے ہا تھوں کو آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! اے میرے رب ! اس کا کھانا اس کا پینا اس کا لباس حرام ہے اسکی پرورش بھی حرام مال سے ہوئی تو اسکی دعا کیسے قبول کی جائے گی۔ “
حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں سونے کی پازیب پہنتی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا یہ کنز ہے ؟ آپ نے فرمایا جو مال زکوٰۃ کی حد تک پہنچ گیا اور اس کی زکوٰۃ ادا کردی گئی وہ کنز نہیں ہے۔ (ابو داؤد)
مسائل
1۔ یہود و نصاریٰ کے علماء کی اکثریت حرام خور ہے۔
2۔ یہود و نصاریٰ کے علماء دین کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
3۔ ناجائز طریقہ سے کمایا ہوا مال جہنم کی آگ بن جائے گا۔
4۔ زکوٰۃ نہ دینے اور ناجائز مال کمانے والوں کے لیے جہنم کی خوشخبری ہے۔
تفسیر بالقرآن
حرام کھانے والے لوگ :
1۔ لوگوں کا مال ناجائز طریقہ سے کھانا حرام ہے۔ (البقرۃ : 188)
2۔ اے لوگو ! آپس میں اپنے مال کو حرام طریقہ سے نہ کھاؤ۔ (النساء : 29)
3۔ یتیموں کے مال کے ساتھ اپنا مال بدنیتی سے ملا کر کھانا حرام ہے۔ (النساء : 2)
4۔ جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے۔ (الانعام : 121)
5۔ یتیموں کا مال ظلم سے کھانا حرام ہے۔ (النساء : 10)
6۔ اللہ کی آیات کو فروخت کرنے والے اپنے پیٹوں میں آگ بھر تے ہیں۔ (البقرۃ : 174)
7۔ تمہارے اوپر مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ کے نام دی ہوئی چیز حرام ہے۔ (النحل : 115)
8۔ وہ لوگ اسے حرام قرار نہیں دیتے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قراردیا ہے۔ (التوبۃ : 29)
9۔ اے ایمان والو ! اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو ۔ (المائدۃ : 87)
10۔ انہوں نے اللہ کے حلال کردہ رزق کو حرام ٹھہرایا۔ (الانعام : 140)
11۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور باطنی فحاشی کو حرام قرار دیا ہے۔ (الاعراف : 33)
Ayah 9:36فہم القرآن
ربط کلام : حرمت والے مہینے میں قتال ممنوع ہے۔ یہود و نصاریٰ اور ان کے علماء کا کردار اور انجام ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ مشرکین مکہ کی طرف ہوچکا ہے۔
اسلامی سال کی تقویم اور تقسیم کسی انسان کے حساب و کتاب کا نتیجہ نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ نے اس دن سے ہی ماہ، سنین اور ایام متعین فرما دیے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تھا۔ گویا کہ زمین و آسمان کی پیدائش کے ساتھ ہی لیل و نہار اور سال کی تقویم شروع کردی گئی اور اسی وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے سال کے بارہ مہینے مقرر فرمائے ہیں جن میں چار مہینے محترم قرار دیے گئے۔ جن کے ناموں کی تصریح کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب کا مہینہ ہے گویا کہ اسلامی سال کا گیا رہواں، بارہواں، پہلا مہینہ محرم اور ساتواں مہینہ رجب حرمت والے ہیں۔
یاد رہے کہ اسلامی جنتری اور کیلنڈر قمری حساب پر مرتب ہوتا ہے اور اسلامی عبادات کے شمار اور حساب کا دارومدار بھی چاند کے حساب پر رکھا گیا ہے جب مسلمان سیاسی اعتبار سے دنیا میں غالب تھے تو ان کے حساب و کتاب کا معیار قمری مہینہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن جب سے یہ سیاسی اعتبار سے پسپا ہوئے تو ان کا تہذیب و تمدن اور حساب و کتاب کا شمار اور معیار بھی پسپائی اختیار کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ آج عام مسلمان ہی نہیں بلکہ دینی طبقہ بھی اپنی تقویم کو فراموش کرچکا ہے۔ حالانکہ ہماری زندگی کے لمحات اور ایام شمسی حساب سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قمری حساب پر مشتمل ہیں۔ سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے اس لیے محترم قرار دیے گئے تاکہ معاشرے میں امن وامان، اخلاق اور بہتر کردار کی بنیادیں مستحکم رہ سکیں۔ اور دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مسلمان امن وامان کے ساتھ حج کرسکیں چوتھا مہینہ رجب اس لیے مقرر کیا گیا۔ کہ حضرت ابراہیم کے زمانے سے رجب کے مہینہ میں لوگ عمرہ ادا کرتے تھے البتہ نبی اکرم ﷺ نے عمرہ رمضان المبارک میں ادا کرنا حج کے ثواب کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہی بنیادوں پر اسے دین قیم قرار دیتے ہوئے حکم فرمایا کہ ان مہینوں میں خاص طور پر اپنے آپ پر ظلم نہ کیا کرو۔ عرب جہالت کے باوجود ان مہینوں کا اس قدر احترام کرتے کہ اگر کسی کے باپ کا قاتل اس کے سامنے آجاتا تو وہ غیرت انتقام سے آگ بگولہ ہوجاتا مگر اس کو یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی تلوار کو نیام سے باہر نکال سکے۔
لیکن قریش مکہ نے اسلام دشمنی میں آکر ملت ابراہیم کی اخلاقی قدروں اور حرمت والے مہینوں کی پاسداری کا لحاظ چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے ان مہینوں میں تغیر و تبدل کردیا۔ حرمت والے مہینوں کی پرواہ کیے بغیر وہ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر نقصان پہنچانے سے دریغ نہ کرتے۔ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ اگر کفار اور مشرکین ان مہینوں میں تم پر یلغار کریں تو تمہیں بھی انھیں منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کی حرمتوں کا خیال رکھنے والا ہے اور کون نہیں رکھتا۔ لیکن یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظلم سے بچنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
(عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ؓ عَنْ النَّبِیِّ ﷺ قَال الزَّمَانُ قَدْ اسْتَدَارَ کَہَیْءَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَاثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِی بَیْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی سبع ارضین ]
” حضرت ابو بکرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا بیان نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا زمانہ گھوم کر بالکل اپنی اصل جگہ آگیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینوں کا ہے اس میں سے چار حرمت والے ہیں تین مہینے متواتر ہیں۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم جبکہ رجب جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔ “
مسائل
1۔ زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت ہی سال کے بارہ مہینے تھے ان میں ذی القعدہ، ذوالحجہ محرم اور رجب حرمت والے مہینے ہیں۔
2۔ دین ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔ 3۔ حرمت والے مہینوں میں بالخصوص ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
4۔ کافر حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنا چاہیں تو مسلمانوں کو ان کے مقابلہ کی اجازت ہے۔
5۔ اللہ تعالیٰ ظلم سے بچنے اور گناہوں سے پرہیز کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
Ayah 9:37فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ مضمون جاری ہے۔
مشرکین اور کفار نے جس طرح اپنی اغراض کی خاطر دین ابراہیم کے دوسرے مسائل کو تبدیل کردیا تھا اسی طرح انھوں نے اپنے مفاد کے پیش نظر حرمت والے مہینوں کو بھی تبدیل کردیا تھا۔ جس کی مؤرخین نے دو وجوہات بیان فرمائی ہیں۔
1۔ ان مہینوں میں اپنے دشمن کو کمزور سمجھتے تو حرمت والے مہینے کی پرواہ کیے بغیر اس پر حملہ کردیتے۔
2۔ قمری مہینوں کے حساب سے حج کا موسم تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ جس سے مناسک حج کی ادائیگی میں دقت محسوس کرتے اور اس کے ساتھ ان کی تجارت پر بھی منفی اثرات پڑتے تھے کیونکہ حج کے موقع پر دنیا کے کونے کونے سے تاجر آتے اور شدت موسم کی وجہ سے کچھ لوگ ان دنوں آنے سے کتراتے۔ ان وجوہات کی بنا پر انھوں نے ” نسیء “ کا من ساختہ اصول بنایا نسیء کا معنیٰ ہے مؤخر کرنا یعنی اگر حرمت والے مہینوں میں انھیں مار دھاڑ اور جنگ وجدال کی ضرورت پیش آتی تو وہ ان مہینوں میں قتل و غارت اور جنگ وجدال کرلیتے اور اس کے بدلے میں سال کے کسی اور مہینے کو محترم مہینہ قرار دے لیتے۔ اس طرح اپنے فائدے کی خاطر اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حرمت والے مہینوں کو تبدیل کردیتے۔ ان کی من ساختہ تقویم سے سال کا کیلنڈر تیار ہوتا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حج ذوالحجہ میں ہونے کی بجائے بارہ مہینوں میں تبدیل ہوتا رہتا۔ ان کی اس حرکت کو اللہ تعالیٰ نے کفر پر کفر کرنے کے مترادف قرار دیا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا اور اس حرکت پر نادم ہونے کی بجائے یہ سمجھ کر مطمئن ہوجاتے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حرمت والے چار مہینے پورے کردیے ہیں اور ان کی حرمت کو قائم رکھا ہے۔ اس لیے ہمارا حج بھی ملت ابراہیم کے مطابق ادا ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی حج مقبول ہوتا ہے۔ جسے اس کے مقرر کردہ مناسک اور ایّام میں ادا کیا جائے۔ حج کے ایّام تبدیل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی حرمتیں پامال کرنے کے باوجود ان کا عقیدہ تھا کہ ہم نیک کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ حج ہر موسم میں آئے تاکہ مسلمان مشقت کے عادی ہوں۔ جس سے ان کو دشمن کا مقابلہ کرنے کی تربیت حاصل ہو اور وہ اپنے رب کے مقررہ کردہ اصول کے پابند رہتے ہوئے اس کے تقاضے پورے کریں۔ دوسری حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ تمام ممالک کے لیے حج کا موسم یکساں رہے۔
یہاں تک کفار کا بنایا ہوا ” نسی “ کا اصول تھا۔ یہ عقیدہ اور تصور شیطان کا پیدا کردہ ہے تاکہ انسان ایک رسم اور بدعت کو دین اور ثواب سمجھ کر کرے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا عمل مردود اور گناہ ہی رہتا ہے بدعت و رسومات پر عمل کرنے والے لوگ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کے دین کے ساتھ کفر کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے دین اور ثواب سمجھ کر کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ اور انھیں ہدایت نہیں دیتا۔ کفار کے بنائے ہوئے نسئی کے اصول اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے قانون کے مطابق حجۃ الوداع کا حج ٹھیک اس مہینہ اور ایام میں آیا جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا تھا۔
اسی موقعہ پر آپ نے یہ الفاظ ادا فرمائے :
(عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَال الزَّمَانُ قَدْ اسْتَدَارَ کَہَیْءَتِہِ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَاثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِی بَیْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق ]
” حضرت ابو بکرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا بیان نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا زمانہ گھوم کر بالکل اپنی اصل جگہ پر آگیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینوں کا ہے اس میں سے چار حرمت والے ہیں تین مہینے متواتر ہیں۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم جبکہ رجب جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔ “
مسائل
1۔ نسیء پر عمل کرنا کفر کرنے کے مترادف ہے۔
2۔ دین میں رد و بدل کرنا پرلے درجے کا کفر ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال اور اس کے حلال کو حرام کرنا گمراہی ہے۔
4۔ شیطان برے اعمال اور بدعات کو خوبصورت اور دین بنا کر پیش کرتا ہے۔
تفسیر بالقرآن
شیطان کن لوگوں کے اعمال خوبصورت بناتا ہے :
1۔ ظالموں کے دل سخت ہوگئے اور شیطان ان کے اعمال کو مزین کرکے دکھاتا ہے۔ (الانعام : 43)
2۔ اکثر مشرکین کے لیے قتل اولاد کا عمل مزین کردیا۔ (الانعام : 137)
3۔ شیطان نے اللہ کے راستہ سے روکنے والوں کے برے اعمال کو مزین کردیا اور کہا تم ہی غالب ہو گے۔
(الانفال : 48)
4۔ اللہ نے آپ ﷺ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے شیطان نے ان کے بد اعمال کو مزین کردیا۔ (النحل : 63)
5۔ اللہ کے علاوہ سورج کو سجدہ کرنے والوں کے برے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (النمل : 24)
6۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : 38)
7۔ ہر گروہ کے بد اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کردیا۔ (الانعام : 109)
8۔ شیطان نے کہا میں ضرور ان کے اعمال ان کے سامنے مزین کر کے پیش کروں گا اور انہیں گمراہ کرونگا۔ (الحجر : 39)
9۔ حد سے تجاوز کرنے والوں کے اعمال ان کے لیے مزین کیے جاتے ہیں۔ (یونس : 12)
10۔ کفار کے اعمال ان کے لیے مزین کیے جاتے ہیں۔ (الانعام : 122)
11۔ انہوں نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ان کے لیے برے اعمال مزین کر دئیے گئے۔ (التوبۃ : 37)
12۔ کفار کے لیے ان کی تدابیر کو مزین کردیا گیا تو انہوں نے اللہ کی راہ سے روکنا شروع کردیا۔ (الرعد : 33)
13۔ وہ شخص جس کے لیے برے اعمال مزین کردئیے گئے اور وہ انہیں اچھے اعمال تصور کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ
کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے۔ (فاطر : 8)
Ayahs 9:38–39فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز، جہاد کی تحریص۔
اس سورة کا مرکزی مضمون قتال فی سبیل اللہ اور اس کے متعلقات ہیں لہٰذا قتال فی سبیل اللہ کا خطاب پھر شروع ہوتا ہے۔ اس خطاب کا پس منظر اور شان نزول یہ ہے کہ جب مکہ فتح ہوا اور سرزمین حجاز کے بڑے بڑے قبائل بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو مدینہ سے دور دراز کے لوگوں کے سامنے اسلام کی حقانیت واضح ہونے لگی۔ جس بنا پر شام، روم اور دیگر ممالک کے لوگوں نے مسلمانوں کے تہذیب و تمدن اور دین اسلام کی روشن تعلیمات کی طرف توجہ دینا شروع کی۔ جس سے ان ممالک کے حکمرانوں کو شدید خطرہ محسوس ہوا۔ خاص کر اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی قوت سلطنت رومہ نے محسوس کیا کہ اسلام کی پیش قدمی کو روکنا چاہیے۔ چناچہ روم کے فرمانروا ہرقل نے مملکت اسلامیہ پر حملہ کرنے کی سرگرمیاں تیز کردیں۔ ان کی سرگرمیوں کو دیکھ کر مدینہ کے منافق بھی پھر سے حوصلہ پکڑنے لگے۔ اس صورتحال پر قابو پانے اور رومیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ رومیوں کو پیش قدمی کا موقعہ دینے کی بجائے ان کے گھر جا کر سبق سکھانا چاہیے اس کے لیے آپ نے خلاف معمول ایک مہینہ پہلے رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا حالانکہ اس سے پہلے آپ جہاد کے لیے توریہ کی پالیسی اختیار کیا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اگر مدینہ کے شمال کی طرف پیش قدمی کرنا ہوتی تو آپ جنوب کے علاقے کی باتیں کرتے تاکہ مدینہ کے منافق اور دیگر لوگ دشمن کو خبردار نہ کردیں لیکن اس مرتبہ آپ نے دو ٹوک الفاظ میں رومیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب فصلیں کٹنے پہ آئی ہوئی تھیں اور دوسری طرف گرمی کا عالم یہ تھا کہ گھر سے باہر نکلتے وقت آدمی کا چہرہ جھلس جاتا تھا۔ حالانکہ دشمن کے خلاف جنگ کے وقت کا تعین کرتے ہوئے موسم اور قوم کے داخلی حالات کو ہمیشہ مد نظر رکھا جاتا ہے لیکن حالات تاخیر کی اجازت نہیں دیتے تھے جس بنا پر آپ نے کھلی جنگ کا اعلان کیا ان حالات میں اس جنگ کو کچھ صحابہ اپنے آپ پر بوجھ محسوس کرنے لگے۔ اس اعصابی دباؤ اور ذہنی بوجھ کو دور کرنے کے لیے خطاب کا انداز ایسا اختیار کیا گیا جو پہلے کسی غزوۂ کے لیے اختیار نہیں کیا چناچہ حکم ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین کے ساتھ چمٹے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیا پر راضی ہوئے جا رہے ہو۔ یاد کرو کہ دنیا کے مال و اسباب کی آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ؟ دنیا کی زندگی نہایت مختصر اور اس کا سامان ناپائیدار اور معمولی ہے اس کے باوجود اگر تم نے دنیا کو مقدم جانا اور اللہ کے راستے میں نکلنے سے فرار اختیار کیا تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں اذیت ناک عذاب دے گا۔ تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اس انتباہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب جہاد کا اعلان عام ہوجائے تو پھر کسی فرد کو پیچھے رہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی جہاد فرض کفایہ کے بجائے فرض عین ہوجایا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں جو مسلمان پیچھے رہے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دینے کا اعلان کرتا ہے۔ عام طور پر دنیا کی سزا دشمن کے ہاتھوں ہوا کرتی ہے کیونکہ دشمن کے مقابلے میں نہ نکلنے والی قوم ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنا سب کچھ کھو بیٹھتی ہے۔
(عَنْ ابْنِ عُمَرَ ؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ إِذَا تَبَایَعْتُمْ بالْعِینَۃِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِیتُمْ بالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِہَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعُہُ حَتّٰی تَرْجِعُوا إِلٰی دینِکُمْ )
[ رواہ ابوداؤد : کتاب البیوع، باب فی النہی عن العینۃ ]
” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں جب تم تجارت عینہ کیا کرو گے گائے کی دم کو پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی پر راضی ہو کر جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا۔ وہ اس وقت تک تم پر مسلط رہے گی جب تک تم واپس دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے۔ “
(عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَثَلُ الْمُجَاہِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّاءِمِ الْقَاءِمِ الْقَانِتِ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَلَا صَلٰوۃٍ حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاہِدُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ ) [ متفق علیہ ]
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اس شخص کی طرح ہے ‘ جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور ہمہ وقت حالت قیام میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے۔ روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔ حتّٰی کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا مجاہد واپس لوٹ آئے۔
مسائل
1۔ جب جہاد کا اعلان ہو تو اس پر لبیک کہنا چاہیے۔
2۔ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے وعید ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر بالقرآن
کن لوگوں کو دردناک عذاب ہوگا :
1۔ منافقوں کے دلوں میں بیماری ہے۔ ان کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 7)
2۔ نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 104)
3۔ اللہ کی آیات چھپانے اور فروخت کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 174)
4۔ زیادتی کرنے والے کو دردناک عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 178)
5۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر۔ انبیاء کو قتل کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 21)
6۔ اللہ کے عہد اور قسموں کو فروخت کرنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 77)
7۔ ایمان کے بدلے کفر کو خریدنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 177)
8۔ اللہ کے احکام کو پس پشت ڈالنے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ (آل عمران : 187 )
Ayah 9:40فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، مکہ کے نازک ترین حالات بتلا کر اللہ تعالیٰ کی نصرت کی یاد دہانی۔
اس سے پہلی آیات میں مسلمانوں کو جھنجوڑا گیا ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلنے کی بجائے زمین کے ساتھ چمٹے جا رہے ہو اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔ اللہ تو وہ ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد فرمائی جب اہل مکہ نے اسے مکہ سے نکال دیا تھا اور وہ غار میں پناہ گزیں ہوئے اور آپ کا ساتھی گھبرانے لگا تو آپ نے فرمایا گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر سکون و اطمینان نازل فرمایا اور آپ کی مدد ایسے لشکروں کے ساتھ کی جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اس طرح کفار کی منصوبہ بندی ناکام رہی اور اللہ تعالیٰ کا حکم غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت مضمر ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے چالیس سال نبوت سے پہلے اور تیرہ سال نبوت کے بعد مکہ میں بسر کیے۔ تیرہ سال پیغمبر انہ زندگی میں آپ نے بےپناہ کوشش فرمائی کہ مکہ کے لوگ توحید خالص کے قائل ہوجائیں لیکن اہل مکہ باطل عقیدہ چھوڑنے کی بجائے دن بدن آپ کے دشمن ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے آپ کے ساتھیوں اور آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس صورتحال میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی رہنمائی فرمائی لیکن آپ کو ہجرت کرنے کا براہ راست حکم نہیں آیا تھا جس وجہ سے آپ مکہ میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ کفار نے جب یہ دیکھا کہ نبی کے ساتھی ایک ایک کرکے مکہ چھوڑ چکے ہیں تو انھوں نے غنیمت سمجھا کہ آپ کو ختم کردیا جائے اس کے لیے دارالندوہ میں اجلاس ہوا۔ جس میں طویل بحث کے بعد یہ پاس کیا گیا کہ تمام قبائل میں سے ایک ایک آدمی رات کے وقت بیک وقت محمد ﷺ کے گھر کا گھیراؤ کرے اور آدھی رات کے وقت یکبارگی حملہ کرکے اسے ختم کردیا جائے اگر بنی ہاشم خون بہا کا مطالبہ کریں تو انھیں سب مل کر ادا کردیں گے۔ جب انھوں نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق رات کو آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا تو آپ نے اپنی چار پائی پر حضرت علی ؓ کو لیٹنے کا حکم دیا اور خود سورة یٰس کی تلاوت کرتے ہوئے مکان کے چاروں طرف مٹی پھینکی جس سے کفار کچھ وقت کے لیے اندھے ہوگئے اور آپ بسلامت نکل کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ غار ثور میں تین دن کے لیے پناہ گزین ہوئے۔ ان ایام میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب کفار ڈھونڈتے ہوئے غار کے دہانے پر پہنچ گئے۔ جن کو حضرت ابوبکر ؓ دیکھ کر آہستگی کے ساتھ نبی اکرم ﷺ سے عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول کفار تو ہمارے سر پر آپہنچے ہیں۔ اس پر آپ نے حضرت ابوبکر کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار کو نامراد کیا اور اپنے حکم اور تدبیر کو غالب فرمایا۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ فرماکر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کا محتاج نہیں کیونکہ اس نے اپنے رسول کی اس وقت مدد فرمائی تھی جب اس کے ساتھ صرف ایک ہی ساتھی تھا اس ساتھی سے مراد سب کے نزدیک حضرت ابوبکرصدیق ؓ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی جلوت اور خلوت کا ساتھی ہونے کا شرف بخشا اس شرف میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔
بعض نادان دوست صحابہ کرام ؓ کی دشمنی میں آکر کہتے ہیں کہ ابوبکر خود نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جانے پر مصر تھے آپ نے مجبوراً اسے ساتھ لیا تھا تاکہ ہجرت کا یہ راز افشاں نہ ہوجائے۔ یہ ایسی غلط بیانی ہے جس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ اور الزام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو پہلے ہجرت کی اجازت اس لیے نہیں دی تھی کہ تاکہ اللہ کا حکم آنے پر ابوبکر ؓ کو ساتھ لے کر ہجرت کی جائے۔ اس واقعہ سے حضرت ابوبکر ؓ پر آپ کے اعتماد کا بےپناہ ثبوت ملتا ہے۔ جس کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا۔
(عن عاءِشَۃَ ؓ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ ۔۔ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَدْ أُرِیتُ دَارَ ہِجْرَتِکُمْ رَأَیْتُ سَبْخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ بَیْنَ لَابَتَیْنِ وَہُمَا الْحَرَّتَانِ فَہَاجَرَ مَنْ ہَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِینَۃِ حینَ ذَکَرَ ذَلِکَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ وَرَجَعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ بَعْضُ مَنْ کَانَ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَتَجَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ مُہَاجِرًا فَقَالَ لَہٗ رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی رِسْلِکَ فَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یُؤْذَنَ لِی قَالَ أَبُو بَکْرٍ ہَلْ تَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِی أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَہُ عَلٰی رَسُول اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیَصْحَبَہُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَیْنِ کَانَتَا عِنْدَہُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ )
[ رواہ البخاری : کتاب الحوالات، باب جوار ابی بکر فی عہد النبی ﷺ وعقدہ ]
” حضرت عائشہ ؓ ام المومنین بیان کرتی ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو خواب میں تمہاری ہجرت کا مقام بتایا گیا میں نے ایک کیا ری زمین کھجوروں والی دیکھی جو کالی پتھریلی زمینوں کے بیچ میں ہے یعنی مدینہ کے دونوں پتھریلے کنارے یہ سن کر جس نے ہجرت کی اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کر گئے تھے وہ بھی مدینہ آگئے اور ابوبکر صدیق ؓ نے بھی ہجرت کی تیاری کی تب آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا ذرا ٹھہرو میں سمجھتا ہوں مجھے بھی خدا کی طرف سے ہجرت کی اجازت ملے گی ابوبکر ؓ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کو امید ہے کہ اجازت ملے گی آپ نے فرمایا ہاں اس لیے ابوبکر ؓ رکے رہے کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہی ہجرت کریں گے اور اونٹنیوں کو چار مہینے تک ببول کے پتے کھلائے تاکہ وہ تیز بھاگنے لگیں۔
مسائل
1۔ اللہ تعالیٰ نے غار میں رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کی دستگیری فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہمیشہ غالب رہتی ہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے موقعہ پر بھی کفار کو ذلیل کیا۔
4۔ اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔
تفسیر بالقرآن
اللہ تعالیٰ ہی مسلمانوں کا مددگار اور خیر خواہ ہے :
1۔ اے ایماندار و تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط کر دے گا۔ (محمد : 7)
2۔ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کی مدد کی جب کفار نے آپ کو گھر سے نکالا۔ (التوبۃ : 40)
3۔ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو پھر تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ (آل عمران : 160)
4۔ نہیں ہے کوئی بھی جماعت جو اللہ کے سوا تمہاری مدد کرسکے۔ (الکہف : 43)
5۔ نہیں ہے اللہ کے سوا کوئی مسلمانوں کی مدد کرنے والا۔ (الشوریٰ : 46)
6۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ (الحشر : 8)
Ayah 9:41فہم القرآن
ربط کلام : ہجرت کا واقعہ یاد دلوا کر اب پھر جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہے۔
ہجرت کے موقع پر نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ کا نکلنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو اپنے نبی کو اس سے پہلے بھی ہجرت کرنے کا حکم دے سکتے تھے لیکن اس نے اپنی قدرت کاملہ کا نمونہ دکھانے کے لیے یہ کیا کہ جب کفار متحد ہو کر انتہائی قدم اٹھا چکے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بسلامت نکال کر یہ ثابت کر دکھایا کہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اسی پس منظر کی روشنی میں مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ کا حکم سمجھ کر تمہیں اس کے راستے میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نکل کھڑے ہونا چاہیے۔ بیشک تم دشمن کے مقابلہ میں طاقتور ہو یا کمزور، تھوڑے ہو یا زیادہ ہلکے ہو یا بوجھل جب اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے تو اس کے راستے میں نکلنا ہی بہتر ہے بشرطیکہ تم اس کی حقیقت جان سکو۔ غزوۂ تبوک کے حالات سے واضح ہوتا ہے اگر دشمن حملہ آور ہونے کی کوشش کرے تو پھر اس کے ساتھ افرادی اور جنگی سازو سامان کا موازنہ کرنے کی بجائے اس کے مقابلہ میں نکلنا ہی بہتر اور فرض ہوجا تا ہے۔
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِنِ الْاَنْصَارِیِّ ؓ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ بِنَاقَۃٍ مَخْطُوْمَۃٍ فَقَالَ ھٰذِہٖ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَکَ بِھَا ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ سَبْعُ ماءَۃِ نَاقَۃٍ کُلُّھَا مَخْطُوْمَۃٌ۔ (مسلم)
حضرت ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص لگام والی اونٹنی لا کر کہنے لگا یہ اللہ کے لیے ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن تجھے اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گی اور وہ سب لگام والی ہونگی۔ (مسلم)
مسائل
1۔ مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکلنا چاہیے۔
2۔ مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنا لازم ہے۔