9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsفہم القرآن

Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

” کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑوگے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ہی پہلے تم سے ابتدا کی کیا تم ان سے ڈرتے ہو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔ “ (13)

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اب پھر قتال فی سبیل اللہ کی تاکید کی جارہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال کیوں نہیں کرتے ؟ جب کہ بار بار عہد شکنی کرنے کے علاوہ انھوں نے آپ ﷺ کو مکہ سے نکالا اور پھر اس کے بعد مدینہ پر حملہ آور ہو کر جنگ میں پہل کی یہاں تک کہ منافقین کے ساتھ مل کر نبی اکرم ﷺ کو مدینہ سے بھی نکالنے کا منصوبہ بنایا ایسی صورت میں ان کے ساتھ قتال فی سبیل اللہ کا معرکہ ضرور ہونا چاہیے لیکن تمہاری کیفیت یہ ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے کفار سے زیادہ ڈرتے ہیں حالانکہ تمہیں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنا چاہیے بشرطیکہ تم صدق دل کے ساتھ ایمان لانے والے ہو۔ جو مسلمان ہو کر کفار سے ڈرتے ہیں وہ غالب آنا تو درکنار کبھی کفار کے خلاف قتال کرنے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتے۔ اللہ سے ڈرنے سے مسلمان کو بیک وقت دو فائدے پہنچتے ہیں۔ اس کے کردار میں نیکی، للہیت کا اضافہ ہوتا ہے اور دشمن کے مقابلے میں بہادر ثابت ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ مسلمان اپنے سے دس گنا زیادہ طاقت ور کے ساتھ ٹکرانے میں ہچکچاہٹ نہیں سمجھتے تھے۔ سورة آل عمران 139 میں ایمان کا صلہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ سر بلند رکھے گا۔ مسائل 1۔ معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی اجازت ہے۔ 2۔ ایمان داروں کو ہر حال میں اللہ سے ڈرنا چاہیے۔
Ayahs 9:14–15

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

” ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔ (14)

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول کرے گا اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ “ (15)

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے کفار اور مشرکین سے قتال کرنے کے اسباب بیان کیے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ تمہیں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے لہٰذا تم اللہ کے راستے میں لڑو۔ اللہ تعالیٰ ضرور کفار اور مشرکوں کو تمہارے ہاتھوں ذلیل کرے گا۔ مسلمانوں کو قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہوئے چار خوشخبریاں سنائی گئی ہیں جس میں پہلی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ تم دشمن کے مقابلے میں میدان کا رزار میں اترو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں انھیں عبرت ناک سزا دے کر دنیا میں ہی ان کو ذلیل و خوار کرے گا تمہاری ان کے مقابلے میں اس قدر مدد فرمائے گا جس سے تمہارے سینے ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ ماضی کے حوالے سے جو تمہارے دل میں ان کے بارے میں غصہ اور طیش ہے تم اس قدر ان کو مارو گے وہ بھی جاتا رہے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باقی ماندہ کفار مسلمانوں کی کامیابی اور اپنی ذلت اور رسوائی دیکھ کر انشرح صدر کے ساتھ اسلام کی حقانیت تسلیم کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں تائب ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرما دے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے توبہ قبول کرتا ہے وہ لوگوں کے ظاہری اور باطنی حالات سے آگاہ ہے۔ اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوتی ہے۔ یہ قتال فی سبیل اللہ کا نتیجہ تھا کہ فتح مکہ کے بعد نہ صرف سرزمین حجاز پر اسلام کا پھریرا بلند ہوا بلکہ اس سے مشرق و مغرب اور شمال وجنوب میں اسلام کی پیش قدمی کے لیے راستے ہموار ہوئے اور نہایت قلیل عرصہ میں کافر اور مشرک دین کے سامنے سرنگوں ہوئے۔ مسائل 1۔ قتال فی سبیل اللہ کا ایک مقصد یہ ہے کہ دشمن ذلیل ہوجائے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ جہاد و قتال میں مسلمانوں کی مدد کرتا ہے۔ 3۔ فتح اور کامیابی مجاہد کے لیے دل کا سکون اور سینے کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے ہر کام اور حکم میں بیشمار حکمتیں ہوتی ہیں
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

” یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیے جاؤ گے، حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور نہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے سوا کسی کو راز دار بنایا اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ “ (16)

فہم القرآن ربط کلام : قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو سکون اور سینوں کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ یہ بھی آزمانا چاہتا ہے کہ مسلمان کس حد تک کفار کے بارے میں اپنے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں۔ دنیا کی زندگی ہر شخص کے لیے آزمائش اور امتحان گاہ کی حیثیت رکھتی ہے بالخصوص جب کوئی شخص حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کئی قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ دنیا والوں پر ظاہر کیا جائے کہ اللہ اور اس کے رسول کا کلمہ پڑھنے والا کس حد تک ایمان میں پکا اور اپنے مشن میں سچا ہے جس طرح مسلمان کی انفرادی طور پر آزمائش کی جاتی ہے۔ اسی طرح ہی ان کو اجتماعی آزمائشوں کے ذریعے آزمایا جاتا ہے۔ اجتماعی آزمائشوں میں سب سے بڑی آزمائش اللہ کی رضا کی خاطر اپنے اعزاء و اقرباء سے جنگ کرنا ہے جو کفر اور شرک کی بناء پر اپنے رب کے باغی بن چکے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں پہ آزمائش اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی فوج قرار دیتا ہے۔ دنیا کی کونسی فوج ہے جس کے لیے آزمائش کا اہتمام نہ کیا گیا ہو۔ فوج کو پرکھنے اور ایک خاص معیار پر لانے کے لیے لاکھوں، کروڑوں ڈالر اور بیشمار اسلحہ ضائع کرکے آپس میں نقلی جنگیں کروائی جاتی ہیں تاکہ دشمن کے مقابلے میں جنگی تیار یوں کا اندازہ اور فوج کا مورال پرکھا جاسکے۔ مجاہد بھی کفار اور مشرکین کے ساتھ مقابلہ اور مقاتلہ اسی صورت میں کرسکتا ہے۔ جب اس کے دل میں کفار اور مشرکین کے بارے میں کاروباری مفادات، معاشرتی تعلقات اور خونی رشتوں سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اور جان نثاری کا جذبہ پیدا ہوجائے۔ یہاں قتال فی سبیل اللہ کا یہی مقصد بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے لیے نازل ہوئی جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے اور ابھی تک مشرک اعزاء و اقرباء کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے جہاں تک سابقون الاولون مسلمانوں کا تعلق ہے انھوں نے بدرا وراحد میں یہ ثابت کردیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ذات اور ان کی بات پر کسی شخص اور مفاد کو مقدم نہیں سمجھتے اسی لیے ان کی تعریف میں کہا گیا کہ ” جو لوگ اللہ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں آپ انھیں ہرگز نہ پائیں گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں کے ساتھ محبت رکھتے ہوں خواہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے، بھائی اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان راسخ کردیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ان کی خصوصی مدد کرتا ہے اور انھیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ راضی ہوگا اور وہ بھی اپنے رب سے خوش ہوں گے یہ اللہ کی جماعت ہے اور لوگو ! کان کھول کر سنو کہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب اور کامران ہونے والی ہے۔ (المجادلۃ، آیت : 22) “ مسائل 1۔ ایمان کے لیے آزمائش شرط ہے۔ 2۔ مومن وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو سب سے مقدم جانتا ہو۔ 3۔ کافر اور مشرک کے ساتھ دلی محبت نہیں ہونی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے عمل کو جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کن لوگوں سے دلی دوستی کرنا جائز نہیں : 1۔ کافروں سے دوستی نہیں کرنی چاہیے۔ (النساء : 89) 2۔ مومنوں کے علاوہ کسی کو دوست نہیں بنانا چاہیے۔ (النساء : 144) 3۔ یہود و نصاریٰ سے دوستی جائز نہیں۔ (المائدۃ : 51) 4۔ دین کو مذاق کرنے والوں سے دوستی جائز نہیں۔ (المائدۃ : 57) 5۔ ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والوں سے دوستی جائز نہیں۔ (التوبۃ : 23) 6۔ اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہیں کرنا چاہیے۔ (الممتحنۃ : 1)
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

” نہیں لائق مشرکوں کے لیے کہ وہ اللہ کی مسجدیں آبادکریں کیونکہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ “ (17)

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور کفار کے ساتھ اس لیے بھی قتال کرنے کا حکم ہوا۔ تاکہ ان سے حرم ہمیشہ کے لیے خالی کروالیا جائے۔ سورۃ التوبہ کے تعارف میں عرض کیا تھا کہ اس کی اکثر آیات فتح مکہ کے موقع پر نازل ہوئیں اس لیے قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیتے ہوئے مشرکین مکہ کی اس حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے جس بناء پر وہ پوری دنیا میں بالخصوص سرزمین عرب میں معزز اور محترم جانے جاتے تھے۔ لوگوں کی نظروں میں یہ اللہ کے گھر کے متولی اور خدمت گار تھے جس وجہ سے ان کا احترام کیا جاتا تھا لوگ سمجھتے کہ ان میں کوئی خاص خوبی نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ انھیں کیونکر اپنے گھر کا متولی اور خدمت گار بناتا۔ اس بنا پر لوگ انھیں مقدس اور محترم سمجھتے تھے اور مکہ والے بھی اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ اور مسجد حرام کے متولی اور حجاج کرام کے خادم ہیں لہٰذا ہم مسلمانوں سے افضل اور اعلیٰ ہیں۔ اہل مکہ اور لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ مشرکین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں کیونکہ ان کا قول و فعل ان پر گواہ ہے کہ وہ مسجد حرام اور بیت اللہ کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کرنے والے ہیں۔ جب کہ بیت اللہ اور مسجد حرام کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنا ہے اور اسی مقصد کے لیے ہی مساجد بنائی جاتی ہیں۔ جب کافر اللہ تعالیٰ کو نہیں مانتا اور مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا پھر انھیں یہ حق کیونکر دیا جاسکتا ہے کہ وہ مسجد حرام اور دیگر مساجد کے متولی بن کر رہیں انھیں تو مسجد میں آنے کی بجائے بتوں، مزاروں اور آتش کدوں میں جا کر ہی خوار ہونا چاہیے۔ لہٰذا انھیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجد حرام یا کوئی اور مسجد تعمیر کریں اور اس کی تولیت یا خدمت و خطابت کے ذریعے لوگوں سے مراعات اور احترام حاصل کریں۔ ان کے اعمال ضائع ہوئے اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے جہنم رسید ہوں گے۔ لہٰذا مساجد کو وہی لوگ تعمیر کریں اور وہی انھیں آباد کریں جو اللہ اور آخرت پر خالصتاً ایمان رکھتے ہوئے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرنے والے ہیں اگر ایسے لوگوں سے کوئی چوک ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی رہنمائی کرے گا غیر اللہ سے ڈرنے سے مراد حقیقی اور دائمی خوف ہے جو صرف مشرک کے دل میں ہوا کرتا ہے کیونکہ مشرک بتوں، مزارات اور یہاں تک کہ درختوں سے ڈرتا اور کانپتا ہے یہی وجہ ہے کہ بیشمار شرک کرنے والے مزارات اور بت خانوں میں لگے ہوئے درختوں سے پتہ توڑنے کی جرأت نہیں کرتے کہ کہیں بت یا قبر والا ناراض نہ ہوجائے ان کے مقابلے میں مواحد صرف اللہ تعالیٰ کا خوف ہی دل میں بٹھائے رکھتا ہے کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں ہدایت کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرے اگر وہ کسی دوسرے کا خوف اپنے دل میں محسوس کرے گا تو حقیقت سمجھنے کے باوجود اسے اپنانے سے خوف زدہ رہے گا۔ (عَنْ عَاءِشَۃَ ؓ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُول اللّٰہِ ابْنُ جُدْعَانَ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَصِلُ الرَّحِمَ وَیُطْعِمُ الْمِسْکِینَ فَہَلْ ذَاکَ نَافِعُہُ قَالَ لَا یَنْفَعُہٗ إِنَّہٗ لَمْ یَقُلْ یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْ لِی خَطِیءَتِی یَوْمَ الدِّینِ ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان ] ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! ابن جدعان زمانہء جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلایا کرتا تھا کیا اس کو اس کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، کیونکہ اس نے یہ نہیں کہا تھا کہ اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطائیں معاف کرنا۔ “ گویا کہ وہ آخرت کا منکر تھا۔ مسائل 1۔ مشرکین کو بیت اللہ میں داخل ہونے کا کوئی حق نہیں۔ 2۔ مشرک کو کسی مسجد کا متولی نہیں ہونا چاہیے۔ 3۔ شرک اور کفر سے آدمی کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن مشرک انتہائی ذلیل ہوتا ہے : 1۔ مشرک پلید ہوتا ہے۔ (التوبۃ : 28) 2۔ مشرکوں کو لائق نہیں کہ مسجد حرام کے قریب آئیں۔ (التوبۃ : 17) 3۔ مشرکوں کے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ (الانعام : 88) 4۔ مشرکوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الفتح : 6) 5۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72)
Ayah 9:18

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

” اللہ کی مسجدیں تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا۔ امید ہے یہ لوگ ہدایت پانے والوں سے ہوں گے۔ “ (18)

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت میں مشرکین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ مساجد کے متولی نہیں ہوسکتے یہاں وضاحت کی گئی کہ مساجد کے متولی حضرات کے کیا اوصاف ہونے چاہئیں۔ روئے زمین پر اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ اور مقام مسجد ہے جس کو ذکر وفکر اور اللہ کے حضور سجدہ گاہ بنایا گیا ہے۔ نبی محترم ﷺ نے اس زمین کے ٹکرے کو اللہ کے باغوں میں سے ایک باغ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لوگو ! اللہ کے باغوں میں داخل ہو کر خوب سیر ہو کر کھایا کرو۔ لوگوں نے پوچھا اللہ کے باغ کون سے ہیں اور ان میں کھانا پینا کیسا ؟ آپ ﷺ فرماتے ہیں مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور روح کے لیے ذکرواذکار تازہ پھل کھانے کے مترادف ہیں۔ (مشکوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلاۃ) جس طرح گلشن وباغیچے کو صاف ستھر ارکھا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق مسجد روح و نفس اور جسم وجان کے لیے روحانی اور خدائی باغ ہیں۔ انہیں تو ہر حال میں پاک صاف اور ستھرارکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی تعمیر کرنے والے دو پیغمبروں سے یہی وعدہ لیاتھا کہ میرے گھر کو ہر طرح سے پاک صاف رکھنا۔ (وَعَھِدْنَآ اِآٰی اِبْرٰھِےْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ) [ البقرۃ : 125] ” ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے وعدہ لیا تھا کہ میرے گھر کو طواف ‘ رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔ “ اللہ کے گھر کی ظاہری صفائی یہ ہے کہ اسے گردوغبار ‘ جنگ وجدال اور فتنہ و فساد سے پاک رکھا جائے۔ پہلے پارے میں ارشاد ہے کہ جو لوگ مسجدوں کے ماحول کو خراب اور ان میں فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں ان کے لیے مسجدوں میں ایسی کڑی نگرانی کا ماحول اور اخلاقی دباؤ ہونا چاہیے کہ وہ مسجد میں شرارت کرتے ہوئے خوف محسوس کریں۔ مسجدوں میں سکون اور ان میں آنے والے تب ہی ذوق وشوق کے ساتھ آئیں گے کہ مساجد میں صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ ساتھ پر سکون ماحول پیدا کیا جائے۔ مسجدوں میں بےوجہ گفتگو اور شوروغوغا نمازیوں کے سکون اور عبادت کے ذوق وشوق کو تباہ کردیتا ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے مسجد میں دو آدمیوں کو بلند آواز میں باتیں کرتے ہوئے سنا تو ان کو ہلکی سی ڈانٹ پلاتے ہوئے فرمایا کہ تم دیہاتی ہو اور تمہیں مسجد کے آداب کا علم نہیں اگر تم مدینے کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا۔ (مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ) اخلاقیات عالم کا مسلمہ اصول ہے کہ جب کوئی شخص دوسرے کے گھر جائے تو وہ اپنی عزت اور دوسرے کے احترام کی خاطر لڑائی جھگڑے حتیٰ کہ آواز اونچی کرنے سے بھی کتراتا ہے۔ مسجد تو رب ذوالجلال کا گھر ہے۔ اللہ کی سطوت وجبروت اور اس کے گھر کا احترام یہ ہے آدمی ہر اعتبار سے وقار اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ جو شخص اللہ کے گھر کا احترام نہیں کرتا اس کے بارے میں یہ انتباہ ہے : ( لَھُمْ فِیْ الْدُنْیَا خِزْیٌ وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (البقرۃ : 114) ” وہ دنیا وآخرت میں ضرور ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے۔ “ مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی سمع وطاعت کی تربیت گاہ ‘ رحمت خداوندی کا مرکز اور اس کی تجلیات کی جگہ ہے۔ اس لیے یہاں آنے والے کو یہ تعلیم دی گئی کہ مسجد میں دایاں قدم رکھتے ہی اللہ کی رحمتوں کے حصول کے لیے یہ دعا کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہوا جائے۔ (اِنَّمَایَعْمُرُ مَسٰجِدَاللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ ) [ التوبۃ : 18] ” بیشک مساجد کی تعمیر میں وہی لوگ حصہ لیتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ “ مسجد کا ما حول جس قدر پر سکون، صفائی اور اخلاق کے اعتبار سے صاف ستھراہو گا اسی قدرنما زی حضرات کو روحانی اور نفسیاتی فا ئدہ اور سکون وقرار حا صل ہوگا۔ مسجد میں دل جمعی کے ساتھ بیٹھنا اور فکر و نظر کی یکسوئی کے ساتھ اللہ کا گھر سمجھ کر اس کی با رگاہ میں حا ضری کا تصور لیے ہوئے ٹھہرے رہنا بےپناہ روحانی اور نفسیاتی فوائد سے بھر پور عمل ہے۔ اس گئے گذرے دور میں کوئی شخص اس نیت و ارادے کے ساتھ بیٹھ کر اندازہ کرسکتا ہے کہ جو سکون مسکن دواؤں ‘ راحت بخش فضاؤں اور طعام و قیام کی لذتوں سے حا صل نہیں ہوتا، وہ اللہ کے گھر میں چند لمحے گذا رنے سے اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ آدمی کی بےچینی اور مضطرب طبیعت میں قرار و اطمینان کے جھونکے اس کی طبیعت کو ڈھارس بندھاتے اور اس کی روح کو بہلا رہے ہوتے ہیں۔ اس سکون و اطمینان اور روحانی اثرات کا تسلسل فقط اس دنیا تک ہی نہیں بلکہ اسکے نتا ئج لامتنا ہی مستقبل پر اس طرح مرتب ہوں گے کہ محشر کے دن سورج کی شدت و حرارت کی وجہ سے پسینے میں شرابور لوگ تپش اور گرمی کی بنا پر اس طرح دکھائی دیں گے جیسے کوئی بھا ری نشہ استعمال کرنے کے بعد لڑکھڑا رہا ہوتا ہے۔ اس ہولناک موقع پر عرش معلی سے سات قسم کے لوگوں کے لیے اعلان ہوگا۔ کہ فلاں، فلاں لوگ میرے عرش کے سائے میں آجائیں ان میں ایک طبقہ وہ ہوگا جو مسجد میں پروقار اور مکمل اطمینان کیساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ (مشکوٰۃ : باب المساجد و مواضع الصلاۃ) دیکھنے والوں کے لیے یہ سچائی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ جو افسران یا اثر ورسوخ اور سماجی لحاظ سے بڑے لوگ مسجدوں میں پا نچ وقت حا ضری کی سعادت سے سرفراز ہوتے ہیں ‘ چند لوگوں کو چھوڑ کر ایسے افسران اور سر کردہ حضرات میں وہ رعونت اور تکبر نہیں پا یا جاتا جو مسجدوں سے دور رہنے والے اعلی حکام اور بڑے لوگوں میں پا یا جاتا ہے۔ ایسے افراد تک عوام کی رسائی ہزار پا بندیوں کے باوجود آج بھی بہت آسان دکھائی دیتی ہے۔ مسجدوں میں حاضری کی وجہ سے انکے رویہ میں شفقت اور محبت کا پہلو غا لب رہتا ہے۔ جب تک اقتدار میں شریک لوگ مسجد میں آیا کرتے تھے اس وقت تک عوام اور حکام کے درمیان اتنا بعد نہیں تھا۔ اس لیے ہم جس قدر بھی مسجدوں کے ساتھ وا بستگی پیدا کریں گے اسی قدر روحانی اور معاشرتی ترقیوں کو پانا ہمارے لیے آسان ہوگا۔ مسجد میں داخل ہونے کی دعا : (اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ) [ مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ ] ” اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجیے۔ “ مسجد سے نکلنے کی دعا : (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ ) [ مشکوٰۃ : باب المساجد ومواضع الصلاۃ ] ” اے اللہ ! میں آپ کے فضل کا طلب گار ہوں۔ “ آداب : اس رحمت گاہ کی تعمیر اور اسے ہر انداز سے آباد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اس بشارت سے سرفراز فرمایا ہے : مسائل 1۔ ایمان دار اور متقی لوگ ہی مساجد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ 2۔ مساجد کو آباد کرنا ہدایت یافتہ لوگوں کی نشانی ہے۔
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

” کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس جیسا بنالیا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (19)

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ ہر قسم کے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود سمجھتے تھے کہ وہ حرم کے موروثی وارث اور حجاج کرام کے خدام ہیں اس لیے ہماری تولیت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر مؤاخذہ کرتے ہوئے حرم کے متولی کے اوصاف کا ذکر ضروری سمجھا گیا ہے۔ مسجد حرام اور دیگر مساجد کی تولیت کا استحقاق رکھنے والوں کے اوصاف بیان کرنے کے بعد مشرکین مکہ کے حوالے سے واضح کیا جا رہا ہے کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ حجاج کرام کی خدمت کرنا، انھیں زمزم پلانا، مسجد حرام کی تولیت اور تعمیر کرنا نیک کام ہیں۔ بیشک یہ عظیم کام ہیں لیکن ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر نہیں ہوسکتے۔ مسجد حرام کی تعمیر و ترقی، حجاج کو زمزم پلانا اور ان کی خدمت کرنے کا انھی لوگوں کو اجر ملے گا جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے یعنی توحید خالص کا عقیدہ اپنانے اور آخرت کی جوابدہی پر ایمان رکھنے کے ساتھ اپنے مال اور نفس کے ساتھ دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنے والے ہوں۔ جو لوگ ان اوصاف سے تہی دامن ہوں بیشک وہ مسجد حرام کی خدمت اور حجاج کرام کو چلو بھر بھر کر پانی پلائیں اور ان کے لیے اپنے مکان خالی کردیں یا صبح و شام انھیں کھانا کھلائیں اگر ان کے عقیدہ میں شرک کی آمیزش ہوگی تو ان کا کوئی عمل بھی اللہ کی بارگاہ میں مستجاب نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشرک اور مواحد برابر نہیں ہوسکتے مشرک ظالم ہوتا ہے اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اختیارات اور اس کی صفات کو دوسروں میں تصور کرتا ہے جو پرلے درجے کی بےانصافی اور زیادتی ہے لہٰذا مشرک ظالم ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (عن عُمَر بن الْخَطَّابِ ؓ قَالَ لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَاب النَّبِیِّ ﷺ فَقَالُوا فُلَانٌ شَہِیدٌ فُلَانٌ شَہِیدٌ حَتّٰی مَرُّوا عَلٰی رَجُلٍ فَقَالُوا فُلَانٌ شَہِیدٌ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ کَلَّا إِنِّی رَأَیْتُہُ فِی النَّارِ فِی بُرْدَۃٍ غَلَّہَا أَوْ عَبَاءَ ۃٍ ثُمَّ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْہَبْ فَنَادِ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ أَلَا إِنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ) [ رواہ أحمد ] ” حضرت عمربن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں خیبر کے دن نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگ آئے انہوں نے کہا فلاں شہید ہے فلاں بھی شہید ہے یہاں تک کہ انہوں نے کسی آدمی کا تذکرہ کیا کہ فلاں بھی شہید ہے تو رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں اس کو مال غنیمت میں سے چرائی گئی چادر میں لپٹا دیکھ رہا ہوں جو کہ جہنم کی آگ سے جلائی جارہی ہے پھر رسول مکرم ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب لوگوں میں اعلان کردو جنت میں صرف مومنین ہی داخل ہوں گے عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں میں نے وہاں سے اٹھ کر لوگوں میں اعلان کردیا جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ “ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَغْزُ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہُ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ ) [ رواہ مسلم : کتاب الامارۃ، باب ذم من مات لم یغز ولم یحدث بہ نفسہ ] ” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا جو کوئی اس حالت میں فوت ہوا کہ اس نے نہ کبھی جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کے دل میں اس کی خواہش پیدا ہوئی بلاشبہ وہ نفاق کی ایک علامت پر مرا۔ “ مسائل 1۔ مسجد حرام کی خدمت اور حجاج کو زمزم پلانا ایمان باللہ، ایمان بالآخرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر نہیں ہوسکتے۔ 2۔ مشرک ظالم ہوتا ہے اور ظلم کرنے والے کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔ 3۔ جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کو دوسرے لوگوں پر فضیلت بخشی گئی ہے۔ 4۔ کسی کو ہدایت نہ ملنا بہت بڑی بدبختی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا : 1۔ اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ : 108) 2۔ اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (القصص : 50) 3۔ اللہ تعالیٰ کفار کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدۃ : 67) 4۔ اللہ تعالیٰ جھوٹے اور ناشکرے کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الزمر : 3)
Ayahs 9:20–22

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

” جو لگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا اللہ کے نزدیک درجات میں زیادہ بڑے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (20)

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب انہیں اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بہت رضامندی اور ایسے باغوں کی خوش خبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں۔ (21)

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

جن میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں بیشک اللہ ہی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ “ (22)

فہم القرآن ربط کلام : مسجد حرام کی تعمیر و ترقی اور حجاج کی خدمت کا ایمان اور کردار کے ساتھ موازنہ کرنے کے بعد حقیقی ایمان کے تقاضے بیان کیے گئے ہیں۔ ایمان صرف فکر اور عقیدہ کا نام نہیں یہ اس وقت تک مکمل اور اکمل نہیں ہوتا۔ جب تک اس کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔ اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس نظریے کی خاطر ہر اس بات اور عمل کو چھوڑ دے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ ہجرت کا حقیقی اور جامع مفہوم بیان کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے کہ جو ہر اس کام کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ دوسرا مرکزی اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اس دعوت کے لیے اپنا مال اور جان کھپانے کی کوشش کرے جس کا اس نے کلمہ پڑھ کر اقرار اور اظہار کیا ہے اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا کسی ظالم کا ظلم اور عادل کا عدل اس راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اہل علم نے جہاد کی چار اقسام بیان کی ہیں : 1۔ جہاد بالنفس : سب سے پہلے انسان اپنی خواہشات اور جذبات کے خلاف جہاد کرے تاآنکہ اس کا نفس اللہ اور اس کے رسول کی غلامی میں رہنے پر راضی ہوجائے۔ ایک غزوۂ سے واپسی پر آپ نے صحابہ ؓ کو فرمایا کہ جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف آؤ۔ صحابہ نے استفسار کیا کہ جہاد اکبر کیا ہے آپ نے فرمایا اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا۔ 2۔ جہاد باللسان : نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ یہ وہ جہاد ہے کہ جب تک اس کے تقاضے پورے نہ ہوجائیں اس وقت تک قتال فی سبیل اللہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی کے پیش نظر صحابہ ؓ کا معمول تھا کہ جب ایسے لوگوں کے ساتھ ان کا سامنا ہوتا جن تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی تھی صحابہ قتال فی سبیل اللہ سے پہلے انھیں دو باتوں کی دعوت دیتے تھے۔ اسلام قبول کرو یا جزیہ دینے کے لیے تیار ہوجاؤ جب لوگ انکار کرتے تو پھر ان کے ساتھ قتال فی سبیل اللہ کیا جاتا۔ اس لحاظ سے پہلے جہاد باللسان ہے پھر جہاد بالسیف۔ مکہ میں نبی اکرم ﷺ کی تبلیغ کو جہاد اکبر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی کفار کے خلاف جہاد جاری رکھو۔ یہ بہت بڑا جہاد ہے۔ (الفرقان : 52) اہل علم نے جہاد بالقلم کو بھی اس جہاد میں شامل کیا ہے۔ 3۔ جہاد بالمال : قرآن مجید میں متعدد مقامات پر جہاد بالمال کا پہلے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ مال کے بغیر اسلحہ اور مجاہدین کی ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں۔ جہاد فی السیف سے پہلے جہاد بالمال کی ضرورت پیش آتی ہے۔ 4۔ جہاد بالسیف : اس سے مراد میدان کار زار میں دشمن کے خلاف برسرپیکار ہونا ہے جو لوگ اس جہاد میں حصہ لیں گے وہ دنیا میں کامیاب اور آخرت میں ان کے رب نے انھیں اپنی رحمت، خوشنودی اور ہمیشہ ہمیش جنت میں داخلے کی بشارت دی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے اجر عظیم ہوگا۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِیمَانِ الْکَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَلَا نُکَفِّرُہُ بِذَنْبٍ وَلَا نُخْرِجُہُ مِنْ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ وَالْجِہَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِی اللّٰہُ إِلٰی أَنْ یُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِی الدَّجَّالَ لَا یُبْطِلُہُ جَوْرُ جَاءِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ وَالْإِیمَان بالْأَقْدَارِ ) [ رواہ ابو داؤد : کتاب الجہاد باب فی الغزو مع أئمۃ الجوار ] ” حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول معظم ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں 1 جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس سے ہاتھ روک لینا۔ 2 کسی کے گناہ کی وجہ سے اسے کافر نہ قرار دینا۔ اس کی عملی غلطی سے دائرہ اسلام سے خارج قرار نہ دینا۔ 3 اور جہاد جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اس وقت سے لے کر میری امت کے دجال سے لڑنے تک جاری رہے گا۔ اسے کسی ظالم کا ظلم اور عادل کا عدل نہیں روک سکے گا اور ایمان تقدیر کے مطابق ہے۔ “ (عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فِی سَبِیل اللّٰہِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِیًا فِی أَہْلِہِ فَقَدْ غَزَا) [ رواہ الترمذی : کتاب الجہاد باب فضل من جہز غازیا ] ” حضرت زید بن خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول مکرم ﷺ نے فرمایا جس نے کسی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کا سامان مہیا کیا بلاشبہ اس نے خود جہاد کیا۔ جس نے کسی مجاہد کے گھر کی خیر خواہی کی گویا اس نے بھی جہاد کیا۔ “ مسائل 1۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ کے راستے میں مال اور جان کے ساتھ جہاد کیا جائے۔ 2۔ مجاہدین دنیا میں کامیاب اور آخرت میں اجر عظیم پائیں گے۔ 3۔ مجاہدین ہمیشہ ہمیش جنت میں رہیں گے۔ تفسیر بالقرآن کامیاب ہونے والے لوگ : 1۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں، مومنات سے ہمیشہ کی جنت اور اپنی رضا مندی کا وعدہ فرمایا ہے یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 72، 89، 100) 2۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جنت کے بدلے ان کے مال و جان خرید لیے ہیں، یہ بڑی کامیابی ہے۔ (التوبۃ : 111) 3۔ اے اللہ نیک لوگوں کو برائی سے بچا جو برائی سے بچ گیا اس پر تیرا رحم ہوا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ (المومن : 9) 4۔ ان کا جہنم کے عذاب سے بچنا اللہ کے فضل سے ہوگا اور یہی کامیابی ہے۔ (الدخان : 57) 5۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہ ظاہر کامیابی ہے۔ (الجاثیۃ : 30) 6۔ مومنوں کے لیے ہمیشہ کی جنت ہے جس میں پاک صاف مکان ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ (الصف : 12) 7۔ جس کو آگ کے عذاب سے بچا دیا گیا اور جنت کا داخلہ مل گیا وہ کامیاب ہے۔ (آل عمران : 185)
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھتے ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا وہی لوگ ظالم ہیں۔ (23)

فہم القرآن ربط کلام : جہاد کا حق تب ادا ہوسکتا ہے جب مومن اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور اسی کی خاطر کسی سے دشمنی رکھے۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں یہ بات بار بار باور کروائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ قلبی محبت نہیں رکھنی چاہیے۔ جس کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان اور مسلمانوں کو ہر چیز سے مقدم سمجھا جائے یہی امت کو متحد اور منظم رکھنے کا آخری اور بنیادی اصول ہے۔ اس کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! اگر تمہارے والدین اور بھائی ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے ہوں تو انھیں بھی اپنا رشتہ دار اور خیر خواہ مت سمجھو اگر تم نے اس حکم کے باوجود ان سے قلبی دوستی اور رشتے ناطے قائم رکھے تو پھر تم بھی ظالموں کے ساتھ شمار کیے جاؤ گے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر یہ بات سرور دو عالم ﷺ کی زبان سے کہلوائی گئی ہے کہ آپ واشگاف اعلان فرمائیں کہ اے مسلمانو ! اگر تمہارے والدین، بیٹے، بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے رشتے دار اور جو مال تم کماتے ہو، تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مسلمان نافرمان ہیں۔ جنکی وہ کبھی رہنمائی نہیں کرتا۔ مال عزت کا باعث اور زندگی گزارنے کا مستحکم ذریعہ ہے مال کی بڑھوتری کے لیے تجارت لازمی چیز
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

فرمادیں اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرویہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ “ (24)

ہے مکان صرف سر چھپانے کی جگہ ہی نہیں غور کیا جائے تو انسان کی حقیقی دنیا ہی اس کا مکان ہوا کرتا ہے۔ باقی جہاں چلنے، پھرنے اٹھنے بیٹھنے اور کاروبار کے لیے ہے۔ زندگی میں گھر کی ہر آدمی کو خواہش ہوتی ہے کہ اس کی رہائش گاہ بہتر سے بہتر اور آرام دہ ہوحتی کہ پرندے رات کے وقت اپنے گھونسلے اور کیڑے مکوڑے اپنی بل کی طرف پلٹتے ہیں۔ اس کے لیے تَرْضَوْنَھَا کا لفظ استعمال فرمایا کہ جنھیں تم نہایت پسند کرتے ہو یہ مکانات اور سب کی سب چیزیں اور رشتے ناطے جو تمہیں ایک سے ایک بڑھ کر محبوب اور پسند ہیں اگر یہ اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر تمہیں عزیز ہیں تو اللہ کے عذاب کا انتظار کرو۔ (عَنْ ثَوْبَانَ ؓ مَوْلَی رَسُول اللّٰہِ ﷺ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یُوشِکُ أَنْ تَدَاعَی عَلَیْکُمْ الْأُمَمُ مِنْ کُلِّ أُفُقٍ کَمَا تَدَاعَی الْأَکَلَۃُ عَلٰی قَصْعَتِہَا قَالَ قُلْنَا یَا رَسُول اللّٰہِ أَمِنْ قِلَّۃٍ بِنَا یَوْمَءِذٍ قَالَ أَنْتُمْ یَوْمَءِذٍ کَثِیرٌ وَلَکِنْ تَکُونُونَ غُثَاءً کَغُثَاء السَّیْلِ یَنْتَزِعُ الْمَہَابَۃَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّکُمْ وَیَجْعَلُ فِی قُلُوبِکُمْ الْوَہْنَ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْوَہْنُ قَالَ حُبُّ الْحَیَاۃِ وَکَرَاہِیَۃُ الْمَوْتِ ) [ رواہ احمد ] ” حضرت ثوبان جو رسول اکرم ﷺ کے غلام تھے فرماتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا وہ وقت قریب ہے کہ تم پر جماعتیں ہر افق سے ٹوٹ پڑیں گئی جس طرح کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ثوبان کہتے ہیں ہم نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اس وقت قلت میں ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تم اس وقت کثیر تعداد میں ہوگے لیکن تمہاری مثال پانی کی جھاگ کی طرح ہوگی تمہارے دشمن کے دل سے تمہارا رعب اٹھالیا جائے گا اور تمہارے دلوں میں وھن پیدا ہوجائے گا ہم نے پوچھا وھن کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔ “ اگر یہ چیزیں تمہیں اللہ، اس کا رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے محبوب ہیں تو پھر حکم کا انتظار کرو۔ مفسرین نے یہاں حکم سے مراد اللہ کا عذاب لیا ہے یعنی پھر تم پر اللہ کا عذاب نازل ہو کر رہے گا جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں پہلی صورت یہ ہوگی کہ دشمن نظریاتی اور حربی اعتبار سے تم پر غالب آئے گا۔ یہاں دنیا کی آٹھ بڑی نعمتوں کا ذکر کیا ہے جن پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے ان میں سے کوئی ایک چیز انسان کے پاس نہ ہو زندگی اجیرن محسوس ہوتی ہے۔ والدین سلسلۂ انسانی کی بقا کا ذریعہ ہیں بیویاں تخلیق انسانی کا وسیلہ بیٹے، بھائی، رشتہ دار درجہ بدرجہ انسان کے لیے معاون اور قوت کا باعث ہیں۔ مال اور کاروبار زندگی گزارنے کا ذریعہ، مکان جائے قیام ہے۔ مسائل 1۔ مسلمان کو کسی کافر اور مشرک کے ساتھ قلبی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ بیشک وہ والدین اور قریبی عزیزہی کیوں نہ ہوں۔ 2۔ کفار اور مشرکین کے ساتھ رشتے ناطے اور قلبی دوستی رکھنے والے مسلمان ظالم ہیں۔ 3۔ اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ دنیا کی ہر چیز سے عزیز تر ہونے چاہییں۔ 4۔ جو مسلمان اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے دنیا کے رشتے اور دوسری چیزوں کو مقدم جانتے ہیں وہ فاسق ہیں۔ تفسیر بالقرآن فاسق کی نشانیاں : 1۔ فاسق اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ (البقرۃ : 99) 2۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہوسکتے۔ (السجدۃ : 18) 3۔ جو اقرار کرنے کے بعد بدل جائیں وہی فاسق ہیں۔ (آل عمران : 82) 4۔ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔ (المائدۃ : 47) 5۔ غلط اطلاعات فراہم کرنے اور ان کی تشھیر کرنے والے فاسق ہیں۔ (الحجرات : 6) 6۔ اللہ کی اطاعت سے منہ موڑنے والے فاسق ہیں۔ آل عمران : 82) 7۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : 47)
Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

” بلاشبہ اللہ نے بہت سی جگہوں میں تمہاری مدد فرمائی اور حنین کے دن بھی جب تمہاری کثرت نے تمہیں خود پسند بنا دیا وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین تنگ ہوگئی باوجود اس کے کہ وہ فراخ تھی پھر تم پیٹھ پھیر کر پلٹے۔ “ (25) ”

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول اور ایمان والوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔ اور وہ لشکر اتارے جن کو تم نہیں دیکھ سکتے تھے اور ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے کفر کیا اور یہی کافروں کی سزا ہے۔ (26)

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے گا توبہ قبول کرے گا اور اللہ بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ “ (27)

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ دین کی سربلندی کے لیے کسی کا محتاج نہیں اگر وہ چاہے تو غائبانہ اسباب سے اپنے دین کو سربلند رکھ سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے ہجرت کے وقت نبی ﷺ کی حفاظت کا بندوبست فرمایا تھا۔ اس سے پہلے والدین، بیٹے، بھائی، بیویاں، رشتے دار اور سب چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں ناچیز سمجھنے کا حکم دیا تھا۔ جس سے مسلمان ذہنی دباؤ میں آکر اپنے آپ کو تھوڑے اور کمزور سمجھنے لگے۔ اس فکری دباؤ کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ فکر مند ہونے کے بجائے وہ مواقع یاد کیجیے جب اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ حالانکہ تم افرادی قوت اور جنگی سازو سامان کے اعتبار سے کفار کے مقابلے میں تھوڑے تھے۔ اس لیے تمہیں بہر حال اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کو تمام رشتوں اور ہر چیز سے مقدم رکھنا ہوگا۔ جہاں تک افرادی قوت اور کثرت کا تعلق ہے تم حنین میں پہلے غزوات سے زیادہ تھے۔ تمہاری تعداد 12000 سے زیادہ تھی۔ اس کے باوجود دشمن کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور زمین وسعت و کشادگی کے باوجود تمہارے لیے تنگ ہوگئی تم پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے حالانکہ اس سے پہلے تمہیں اپنی عددی کثرت پر بڑا ناز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکون اور اعتماد نازل فرماکر ملائکہ کی فوج بھیجی تاکہ کفار کو ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے۔ تمہارے پیٹھ پھیر کر بھاگنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تم پر کرم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے فضل و کرم فرماتا ہے اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ فتح مکہ کے متصل بعد حنین کا معرکہ ہوا جس میں مسلمانوں کی تعداد اہل حنین سے زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ ہی فتح مکہ کی وجہ سے مسلمانوں کا مورال نہایت ہی اعلیٰ درجے پر تھا جس کی وجہ سے نووارد مسلمانوں اور کچھ جوانوں نے ایک دوسرے سے اس بات کا اظہار کیا کہ آج ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ ان جذبات کے ساتھ مسلمان حنین کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ لیکن ہوا یہ کہ اہل حنین نے راستے میں سحری کے وقت مسلمانوں پر شب خون مارا اور اس قدر اچانک اور یکبارگی حملہ کیا کہ مسلمانوں کے چھکے چھوٹ گئے جس کا جدھر منہ آیا بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس صرف چند صحابہ باقی رہ گئے۔ اس نازک اور اچانک صورتحال کے باوجود آپ نہایت ثابت قدمی اور زبردست دلیری کے ساتھ یہ اعلان کر رہے تھے۔ اَنَا النَّبِیُ لَا کَذَبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطْلِبْ کہ میں اللہ کا سچا نبی اور سردار عبدالمطلب کا بیٹا ہوں اس لیے میدان چھوڑ کر نہیں بھاگ سکتا۔ اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے اپنے چچا عباس ؓ کو فرمایا کہ بدر، احد اور بیعت رضوان میں شرکت کرنے والوں کو آواز دیجیے۔ حضرت عباس ؓ آواز پر آواز دینے لگے اِلَیَّ عِبَاد اللّٰہِ اِلَیَّ عِبَاد اللّٰہِ اے اللہ کے بندو کہاں بھاگے جا رہے ہو اللہ کے رسول تو اپنی جگہ پر کھڑے اور ڈٹے ہوئے ہیں۔ پلٹ آؤ پلٹ آؤ صحابہ واپس آئے تو اللہ کے رسول نے اس طرح صف بندی اور منصوبہ بندی فرمائی کہ اہل حنین کے چھ ہزار قیدی بنا لیے کہ چالیس ہزار کے قریب بھیڑ بکریاں اور چوبیس ہزار اونٹ ہاتھ آئے۔ قیدیوں کو اہل حنین اور آپ کی سوتیلی بہن شیما کی سفارش پر چھوڑ دیا گیا اور بھیڑ بکریاں اور اونٹ مجاہدین میں تقسیم کردیے گئے۔ تفصیل کے لیے سیرت کی مستند کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔ (عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ؓ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُول اللّٰہِ ﷺ یَوْمَ حُنَیْنٍ قَالَ لَکِنَّ رَسُول اللّٰہِ ﷺ لَمْ یَفِرَّ إِنَّ ہَوَازِنَ کَانُوا قَوْمًا رُمَاۃً وَإِنَّا لَمَّا لَقِینَاہُمْ حَمَلْنَا عَلَیْہِمْ فَانْہَزَمُوا فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلٰی الْغَنَاءِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بالسِّہَامِ فَأَمَّا رَسُول اللّٰہِ ﷺ فَلَمْ یَفِرَّ فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ وَإِنَّہُ لَعَلٰی بَغْلَتِہِ الْبَیْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْیَانَ اخِذٌ بِلِجَامِہَا وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد، باب من قاد دابۃ فی الحرب ] ” حضرت ابو اسحاق بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے براء بن عازب ؓ سے پوچھا کیا تم لوگ حنین کے دن رسول مکرم ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے ؟ انہوں نے کہا لیکن رسول اکرم ﷺ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگے تھے۔ ہوازن قبیلے کے لوگ تیر انداز تھے جب ہمارا اور ان کا آمنا سامنا ہوا تو ہم نے ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔ مسلمان مال غنیمت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان لوگوں نے تیر اندازی شروع کردی مگر رسول معظم ﷺ نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی تھی بلاشبہ میں نے انہیں دیکھا اور وہ اپنے سفید خچر پر تھے اور ابو سفیان اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی ﷺ فرما رہے تھے میں جھو ٹا نبی نہیں ہوں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ “ مسائل 1۔ اللہ کی مدد کے بغیر عددی کثرت اور حربی قوت کام نہیں دیتی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے حنین کی شکست کو فتح میں تبدیل کردیا۔ 3۔ اللہ تعالیٰ نے حنین کے موقع پر اپنے رسول اور مومنوں پر سکون اور اعتماد نازل فرمایا۔ 4۔ حنین میں مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے نازل کیے گئے جن کو مسلمانوں نے نہیں دیکھا تھا۔ تفسیر بالقرآن کفار کی سزا : 1۔ اگر کفار تم سے لڑیں تم بھی ان سے لڑو کافروں کی یہی سزا ہے۔ (البقرۃ : 191) 2۔ اللہ اسی طرح سزا دیتا ہے کفار کو۔ (الفاطر : 36) 3۔ اللہ نے کفار کو ان کے کفر کی وجہ سے سزا دی۔ (السباء : 17) 4۔ کفار کی سزا ہمیشہ کی آگ ہے۔ (فصلت : 19) 5۔ اللہ کی آیات اور رسولوں کے ساتھ مذاق کی سزا جہنم ہے۔ (الکہف : 106) 6۔ اللہ کفار کو ان کے چہروں کے بل اوندھا کرکے اٹھائے گا یہ کفار کی سزا ہے۔ (الاسراء : 97 تا 98) 7۔ اے کفار آج عذر نہ کرو جو کچھ تم نے کیا تھا اس کی سزا تمہیں مل گئی۔ (التحریم : 7) 8۔ کفار صبر کریں یا نہ کریں ان کی سزا جہنم ہے۔ (الطور : 15 تا 16)
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! بات یہ ہے کہ مشرک ناپاک ہیں، پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں اور اگر تم مفلسی سے ڈرتے ہو اگر اللہ نے چاہا تو وہ جلد ہی تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔ “ (28)

فہم القرآن ربط کلام : مشرک فکری اور اعتقادی طور پر پلید ہوتا ہے۔ اسی لیے انبیاء اور موحدّین کی مخالفت کرتا ہے جب یہ عقیدہ توحید کے مخالف ہے تو اسے بیت اللہ میں داخلے کا کوئی حق نہیں پہنچتا کیونکہ بیت اللہ تو اللہ کی وحدت کا ترجمان ہے۔ اس سورة کی ابتداء میں مشرکین کو الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ تم چار مہینے سے زیادہ حدود حرم میں نہیں رہ سکتے سوائے ان لوگوں کے جن کا مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے معاہدہ کی مدت باقی ہے۔ جونہی معاہدہ کی مدت پوری ہوگی انھیں بھی حدود حرم سے نکل جانا ہوگا۔ اس کے بعد مشرکین مکہ کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ تمہارے ساتھ کوئی عہد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تم نے بار بار عہد شکنی کی ہے پھر یہ ارشاد ہوا کہ مشرکین کو ہرگز حق نہیں پہنچتا کہ وہ بیت اللہ کی تولیت اور مساجد کی تعمیر و ترقی کی ذمہ داری سنبھالیں۔ ان احکام کے نفاذ کے رد عمل میں جو مشکلات اور مسائل پیدا ہوئے تھے ان کا تفصیلی حل بتایا گیا اور اس دوران مسلمانوں کی اعتقادی اور اخلاقی تربیت کے احکامات جاری کرتے ہوئے مشرکین کے کردار کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا۔ اب دو ٹوک انداز میں مشرک کی اعتقادی اور اخلاقی نجاستوں اور خباثتوں کے پیش نظر اس کی حیثیت بتلائی جا رہی ہے کہ مشرک نجس اور پلید ہوتا ہے اس لیے اس سال کے بعد انھیں ہمیشہ کے لیے حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہاں پھر مسلمانوں کو اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر یہ لوگ حدود حرم میں داخل نہیں ہو سکیں گے تو ہمیں اس کا معاشی نقصان اٹھانا پڑے گا جس پر تسلی دی جا رہی ہے تمہیں معیشت کی تنگی کا خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہیے یقین رکھو کہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے فضل سے دولت مند کر دے گا یقیناً اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ ہر آیت کے آخری الفاظ اس کے مفہوم کی جامع ترجمانی کرتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے علیم اور حکیم ہونے کی صفات اس لیے بیان فرمائیں کہ وہ اپنے ہر حکم کے نتائج کو جانتا اور اس کی حکمتوں سے باخبر ہے لہٰذا مسلمانوں کو اپنے رب کے احکام پر مکمل یکسوئی اور بےفکری کے ساتھ من و عن عمل کرنا چاہیے وہی غربت اور تونگری کا مالک ہے۔ چناچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حدود حرم سے مشرکین کے دیس نکالا کے باوجود اس وقت سے لے کر آج تک مکہ کی منڈیوں میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوئی جہاں تک مشرک کے نجس ہونے کا تعلق ہے اس نجاست سے مراد جسمانی نجاست نہیں بلکہ اس سے مراد اعتقادی، اخلاقی اور کردار کی نجاست ہے جس کی وجہ سے مشرک اور غیر مسلم کو حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کو بھی حرم قرار دیا اور اس کی حدود متعین فرمائیں مکہ اور مدینہ مسلمانوں کا روحانی مرکز ہیں۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ انھیں کفر و شرک سے پاک رکھا جائے جیسا کہ ہر حکومت اپنی مملکت کے دارالخلافہ کے معاملات میں زیادہ حساس ہوتی ہے اور وہ اس کے معاملات پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کا دارالخلافہ ہر اعتبار سے سازشوں سے پاک رہے۔ (قَالَ عَلِیٌّ ُ مَا عِنْدَنَا کِتَابٌ نَقْرَؤُہُ إِلَّا کِتَاب اللّٰہِ غَیْرَ ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ قَالَ فَأَخْرَجَہَا فَإِذَا فیہَا أَشْیَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ قَالَ وَفِیہَا الْمَدِینَۃُ حَرَمٌ مَا بَیْنَ عَیْرٍ إِلٰی ثَوْرٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج ] ” حضرت علی ؓ فرماتے ہیں میرے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں جس کو میں پڑھوں مگر یہ صحیفہ ہے۔ راوی کہتے ہیں انھوں نے اسے نکالا تو اس میں کچھ جراحی اور اونٹ کے دانت تھے کہتے ہیں اس میں لکھا ہوا تھا کہ مدینہ عیرمقام سے لے کر ثور تک حرم ہے۔ “ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے امام مالک کا نقطۂ نظریہ ہے کہ مشرک کو کسی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ دوسرے آئمہ کا خیال ہے کہ حرمین کے سوا دوسری مساجد میں کسی اہم ضرورت کے پیش نظر مشرک اور کافر داخل ہوسکتا ہے۔ (قَالَ إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلَا یَحِلُّ لامْرِءٍ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ بِہَا دَمًا وَلَا یَعْضِدَ بِہَا شَجَرَۃً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُول اللّٰہِ ﷺ فِیہَا فَقُولُوا إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِہِ وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی فیہَا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ ثُمَّ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بالْأَمْسِ وَلْیُبَلِّغْ الشَّاہِدُ الْغَاءِبٍ )[ رواہ البخاری : کتاب العلم، باب یبلغ العلم الشاہد الغائب ] ” رسول معظم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرم قرار دیا ہے اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا۔ کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس میں کسی کا خون بہائے۔ اور نہ ہی اس کا کوئی درخت کاٹا جائے۔ تو اگر کوئی شخص یہ بات کہے رسول اللہ ﷺ کے قتال کے بارے میں تو تم یہ کہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کچھ دیر کے لیے اجازت دی تھی۔ تم میں سے کسی کو بھی یہ اجازت نہیں اور مجھے بھی دن کے کچھ حصے میں اجازت دی گئی اس کی حرمت پہلے کی طرح ہی لوٹ آئی ہے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ دوسرے لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔ “ مسائل 1۔ مشرک پلید ہوتا ہے اس لیے اسے حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ 2۔ غربت اور تونگری اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ 3۔ رزق حلال کی کشادگی اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر حکم کی حکمت اور اس کے نتائج کو جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مال و اولاد کی حیثیت : 1۔ مال اور اولاد دنیا کی نمائش ہیں باقی رہنے والے نیک اعمال ہیں۔ (الکہف : 46) 2۔ قیامت کے روز مال اولاد کام نہیں آئے گی۔ (الشعراء : 88) 3۔ جان لو کہ مال، اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں۔ (الانفال : 28) 4۔ اے ایمان والو تمہیں مال اور اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ (المنافقون : 9) 5۔ مال اور اولاد تمہارے لیے آزمائش ہے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ (التغابن : 15) 6۔ اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرنا بہترین تجارت ہے۔ (الصف : 11) 7۔ اللہ نے مومنین سے ان کے مال اور جان جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ (التوبۃ : 111)
Ayahs 9:29–30

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

” لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ ذلیل ہوں۔ “ (29)

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

” اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کے مونہوں کی باتیں ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی مشابہت کر رہے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا اللہ انہیں غارت کرے، کدھربہکائے جارہے ہیں۔ (30)

فہم القرآن ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ کے مسائل کے دوران دیگر مسائل کا تذکرہ ہوا۔ اب پھر قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں سے پہلی مراد مشرک، دوسرے اہل کتاب اور کفار ہیں۔ کیونکہ مشرک اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہیں رکھتا جس طرح اللہ پر بلا شرکت غیر ایمان لانا فرض ہے اور یہی صورت مشرک کی آخرت کے متعلق ہوتی ہے۔ بظاہر آخرت کو مانتا ہے لیکن وہ آخرت کے دن کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے حاکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ آخرت میں فلاں اور فلاں بزرگ ہمیں چھڑوا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات ماننے پر مجبور ہوگا۔ اس حوالے سے مشرک نہ صرف دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی اس کا یہی اعتقاد ہوگا حدیث شریف میں آیا ہے کہ محشر کے میدان میں ایک مرحلہ ایسا آئے گا جب اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موقع دیں گے کہ وہ دنیا میں جس جس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے تھے ان کے پاس جانا چاہیں تو چلے جائیں۔ مشرک اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے معبودوں اور باطل خداؤں کے پاس چلے جائیں گے بخاری کتاب التفسیر سورة النساء تیسری وجہ مشرکوں کے ساتھ قتال کرنے کی یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے باطل دین کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے ساتھ بھی قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔ کیونکہ انھی جرائم کا ارتکاب وہ بھی کرتے ہیں لہٰذا ان کے خلاف بھی قتال فی سبیل اللہ ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دینے کی ذلت گوارا کریں۔ یہاں یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ ان کے خلاف قتال کرو یہاں تک وہ دین حق قبول کرلیں بلکہ جزیہ قبول کرنے کا ذکر کیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ خوش دلی سے دین قبول نہیں کرتے تو انھیں اسی حال پر رہنے دیجیے مگر اسلامی حکومت کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انھیں جزیہ ادا کرنا ہوگا۔ جزیہ ادا کرنے کی اہل علم نے مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ جن میں بنیادی اور مرکزی یہ وجہ ہے کہ اسلامی حکومت ان کے حقوق پورے کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے اس لیے ان سے معمولی جزیہ بطور ٹیکس وصول کیا جائے گا تاہم عورتیں، بچے، بوڑھے اور معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہاں تک کہ دشمن کے خلاف جنگ ہو تو اسلامی حکومت ان کو جنگ میں شریک ہونے پر مجبور نہیں کرسکتی یاد رہے حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں نہایت ہی معمولی جزیہ مقرر کیا تھا اس کے باوجود شام کے علاقے میں جب مسلمانوں نے فوجی حکمت عملی کے تحت حمص کا علاقہ چھوڑا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ جو اس محاذ کے کمانڈر تھے انھوں نے تمام جرنیلوں کو حکم دیا کہ جو جزیہ غیر مسلموں سے وصول کیا گیا ہے اس کی ایک ایک پائی واپس کی جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا جس پر غیر مسلموں کا رد عمل تھا کہ وہ تورات اور انجیل کو ہاتھوں میں اٹھا کر آسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے یہ دعا کر رہے تھے جب تک ہم زندہ ہیں مسلمانوں کے سوا کوئی اور لوگ یہاں نہ آنے پائیں گے۔ یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کردیے اور ہر جگہ پہرہ بٹھادیا۔ عیسائیوں نے نہایت حسرت سے کہا خدا کی قسم تم رومیوں کی نسبت کہیں بڑھ کر ہم کو محبوب ہو۔ (الفاروق) یہاں ” صَاغِرْوُنَ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی ذلیل اور چھوٹا ہونا ہے۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام اپنی غیر مسلم رعایا کو ذلیل کرکے رکھنا پسند کرتا ہے حالانکہ اس کا یہ مفہوم نہیں اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے رسول کی غلامی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے تو اللہ اور اس کے رسول کے باغیوں کو اسلامی مملکت میں دندنا کر پھرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے البتہ انھیں ایک شہری اور انسان ہونے کے ناطے سے پورے تحفظ اور مکمل حقوق دیے جائیں گے۔ مسائل 1۔ اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں سے قتال کرنا چاہیے۔ 2۔ دین حق کو نہ ماننے والوں سے بھی قتال کرنا چاہیے۔